Explained with ayahs 20–26
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت
حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة الْمَآىِٕدَة 43
اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔
سورة الْمَآىِٕدَة 44
حضرت موسیٰ ؑ کی یہ تقریر اس موقع کی ہے جب مصر سے نکلنے کے تقریباً دو سال بعد آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے دشت فاران میں خیمہ زن تھے۔ یہ بیابان جزیرہ نمائے سینا میں عرب کی شمالی اور فلسطین کی جنوبی سرحد سے متصل واقع ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بذریعہ موسیٰ ؑ قوم عمالقہ سے جہاد کرکے ملک شام فتح کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ ملک شام کی زمین اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ دی ہے۔ اس لئے کہ فتح یقینی ہے۔
اس آیت متذکرہ میں اس کا بیان ہے کہ اس کے باوجود بنی اسرائیل نے اپنی معروف سرکشی اور کج طبعی کی وجہ سے اس حکم کو بھی تسلیم نہ کیا۔ بلکہ موسیٰ ؑ سے کہا کہ اے موسیٰ اس ملک پر تو بڑے زبردست قوی لوگوں کا قبضہ ہے۔ ہم تو اس زمین میں اس وقت تک داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں قابض ہیں۔ ہاں وہ کہیں اور چلے جاویں تو بیشک ہم وہاں جاسکتے ہیں۔
واقعہ اس کا…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰي يَخْرُجُوْا مِنْهَا ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت : " قوماً جبارین " جبار کے معنی قدر آور، زور آور، تگڑے اور طاقت ور کے ہیں۔ عربی میں جبار کھجور کے ان درختوں کو بھی کہتے ہیں بہت اونچے ہوں۔ تورات میں ان کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ " وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب قد آور ہیں اور ہواں ہم نے بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور…
Read the full tafseer →22۔ 1 بنو اسرائیل عمالقہ کی بہادری کی شہرت سے مرعوب ہوگئے تھے اور پہلے مرحلے پر ہی ہمت ہار بیٹھے۔ اور جہاد سے دست بردار ہوگئے۔ اللہ کے رسول حضرت موسیٰ ؑ کے حکم کی کوئی پروا کی اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت پر یقین کیا وہاں جانے سے صاف انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
19: مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے ؛ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو انبیاء کرام مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا، اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے، جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا، فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنا رکھا تھا، جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جاکر آباد ہوں، اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے، لہذا اس حکم کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جاکر عمالقہ سے جہاد…
Read the full tafseer →(آیت) ” قَالُوا یَا مُوسَی إِنَّ فِیْہَا قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22)
” انہوں نے جواب دیا ” اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ‘ ہم وہاں ہر گز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل آئے تو ہم داخل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ ‘
یہاں آکر یہودیوں کی اصل سامنے آتی ہے وہ بالکل ننگے ہوجاتے ہیں اور ان پر بالکل مہین سا پردہ بھی نہیں رہتا ۔ یہ اس لئے کہ اب وہ ایک حقیقی خطرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ اب وہ کسی قسم کی ظاہر داری بھی نہ کرسکتے تھے ۔ نہ وہ جھوٹی بہادری کا مظاہرہ اور بڑھکیں مار…
Read the full tafseer →4 یعنی بہت قوی ہیکل تنومند اور پر رعب۔
5 یعنی مقابلہ کی ہمت ہم میں نہیں ہاں بدون ہاتھ پاؤں ہلائے پکی پکائی کھا لیں گے آپ معجزہ کے زور سے انہیں نکال دیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ ق
ہم فلسطین میں کیسے داخل ہوجائیں ؟ یہاں تو جو لوگ آباد ہیں وہ بڑے طاقت ور ‘ گراں ڈیل اور زبردست ہیں۔ ہم ان کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →53 وفد کی رپورٹ اور جہاد سے انکار :۔ لیکن ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جب فلسطین کے علاقہ کا دورہ کر کے واپس آئے، تو اس کی رپورٹ خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دینے کی بجائے ہر ایک کو وہاں کے حالات بتانا شروع کردیئے۔ اور وہ رپورٹ یہ تھی کہ فلسطین کا علاقہ واقعی بڑا زرخیز و شاداب ہے۔ وہاں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں لوگوں کی معاشی حالتاچھی ہے لیکن وہ لوگ بڑے طاقتور، زور آور اور قدآور ہیں۔ ہم ان کے مقابلہ میں ٹڈے معلوم ہوتے تھے اور وہ بھی ہمیں ٹڈے ہی سمجھتے تھے۔ لہذا ان لوگوں پر فتح حاصل کرنا ہماری بساط سے باہر ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے…
Read the full tafseer →96 ۔ یہ قوم عمالقہ کی تھی، جو ایک بڑی زور آور اور جنگ آزما قوم تھی، بنی اسرائیل کی پرانی حریف توریت اور تاریخ اسرائیل اس کی خونریزیوں کی داستان سے رنگین ہے، توریت میں اس قوم پر بنی اسرائیل کی زبان سے یہ الفاظ ادا کئے گئے ہیں :۔ ” ہمیں زور نہیں کہ ہم ان لوگوں پر چڑھیں، کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں “۔ (گنتی۔ 13:32) ” یہ زمین جس کی جاسوسی میں ہم گئے تھے، ایک زمین ہے جو اپنے بسنے والوں کو نگلتی ہے۔ اور سب لوگ جنہیں ہم نے وہاں دیکھا اور ہم اپنی نظروں میں ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے اور ایسے ہی اہم ان کی نظروں میں تھے۔ “ (گنتی۔ 13:33) (آیت) ” جبارین “۔ جبار کا اطلاق بڑے ڈیل ڈول والوں، کلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20 تا 26
ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…
Read the full tafseer →قالوا یموسی ان فیہا قوما جبارین بنی اسرائیل نے کہا موسیٰ اس زمین پر تو بڑے قدر آور طاقتور لوگ ہیں۔ جبار بروزن فعال جبر کا معنی ہے لوگوں سے زبردستی کام لینا جابر اور جبار زبردستی دوسروں سے اپنی منشاء کے مطابق کام لینے والا جبرہ علی الامر (یعنی مجرد) اور اجبرہ علیہ (یعنی ثلاثی مزید باب افعال) دونوں ہم معنی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے جبار اس کو کہتے ہیں جس پر کوئی زبردستی نہ کرسکے اور اس کا مقابلہ ممکن نہ ہو۔ نَخْلَۃٌ جَبَارَۃٌ کھجور کا وہ طویل درخت کہ ہاتھ کی رسائی سے باہر ہو۔
میں کہتا ہوں ان کی جباریت یا تو درازی قامت کی وجہ سے تھی۔ جیسا کہ مذکورۂ بالا قصہ سے معلوم ہوتا ہے یا فوج کی کثرت ‘ مال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) اور سرزمین دمشق، فلسطین اور اردن کے بعض حصوں میں داخل ہو، جو سرزمین اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے اور اسے تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی میراث بنایا ہے اور پیچھے واپس مت چلو کیوں کہ عذاب خداوندی کی بنا پر جس کی وجہ سے تم سے من وسلوی چھین لیاجائے گا اور تم بہت بڑے نقصان میں پڑجاؤ گے، بنی اسرائیل نے کہا وہاں تو بہت زبردست قوی لوگ ہیں، ہم ایسے علاقے میں نہیں جائیں گے اور زبردست لوگوں سے ڈرنے والے بارہ آدمی تھے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ۔۔ : ایمان کمزور ہونے کی وجہ سے انھوں نے کہا کہ وہاں بڑے زبردست جنگ جو (جبارین) لوگ رہتے ہیں، جن کے مقابلے کی ہم میں طاقت نہیں۔ جب تک وہ لوگ آپ کے معجزے کی بدولت وہاں سے نہ نکل جائیں، ہم ہرگز وہاں داخل نہیں ہوں گے، اگر وہ خود بخود نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہوجائیں گے۔
”جَبَّارِيْنَ“ سے بڑے ڈیل ڈول والے، بہت اسلحے والے جنگ جو مراد ہیں، مگر جس انداز سے بعض تفسیروں میں ان لوگوں کا نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ سب ایسی اسرائیلی روایات ہیں جنھیں ایک معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا، خصوصاً عوج بن عنق کا افسانہ جس کے متعلق حافظ ابن کثیر ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر : 20 تا 26۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(1) امام ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے لفظ آیت ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ان کے ایسے جسم اور ایسی صورتیں تھیں کہ ان کے علاوہ کسی کی نہیں تھیں۔
(2) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت قالوا یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم سے زیادہ لمبے تھے جسم کے لحاظ سے اور سخت قوت والے تھے۔
(3) امام ابن عبد الحکم نے فتوح مصر میں ابو ضمرہ (رح) سے روایت کیا موسیٰ کی قوم سے ستر آدمیوں نے عمالیق میں سے ایک آدمی کے موزوں کے نیچے سایہ حاصل کیا۔
(4) امام بیہقی نے شعب الایمان میں…
Read the full tafseer →[ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسیٰ ] [ اِنَّ : کہ ] [ فِيْهَا : اس میں ہے ] [ قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ: ایک زبر دست قوم ] [ وَاِنَّا : اور ہم ] [ لَنْ نَّدْخُلَهَا : ہرگز داخل نہیں ہوں گے اس میں ] [ حَتّٰي : یہاں تک کہ ] [ يَخْرُجُوْا : وہ لوگ نکلیں ] [ مِنْهَا ۚ: اس سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ يَّخْرُجُوْا : وہ لوگ نکلیں ] [ مِنْهَا : اس سے ] [ فَاِنَّا؛توہم ] [ دٰخِلُوْنَ : داخل ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا
ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔
قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…
Read the full tafseer →51 قَالُوْا یٰمُوْسیٰ الخ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ ارض مقدسہ پر تو ایک بڑی طاقتور اور جابر قوم عمالقہ کا قبضہ ہے ہم تو اس میں قدم بھی نہیں رکھیں گے اور نہ ہم میں ان کے مقابلے کی تاب ہے۔ ہاں اگر وہ خود بخود ہی اس سرزمین کو خالی کردیں اور نکل کر کہیں چلے جائیں تو ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
پہلے اہل کتاب کے دونوں گروہوں یہودو نصاریٰ کا رد فرمایا اور نصیحت کے طور پر یہ بات کہ دی کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول اور اس کی کتاب آگئی ہے۔ اگر تم خرابی سے نکلنا چاہتے ہو تو اس کا اتباع کرو۔ اس سے پہلے یہ بھی واضح فرمایا تھا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دل سخت ہوگئے پھر انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کا ارتکاب کیا۔ نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ ان کی طرف سے ترک نصیحت کے جرم میں ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی کا بیج بو دیا اور وہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ اہل کتاب کی انہی خصلتوں کے پیش نظر اس سورة کی ابتداء میں اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا اوفوا…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْہَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ 0ۤۖ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَا حَتّٰي يَخْرُجُوْا مِنْہَا 0ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْہَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ 22
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
جبر
أصل الجَبْر : إصلاح الشیء بضرب من القهر،
والجبّار في صفة الإنسان يقال لمن يجبر نقیصته بادّعاء منزلة من التعالي لا يستحقها، وهذا لا يقال إلا علی طریق الذم، کقوله عزّ وجل : وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15]
( ج ب ر ) الجبر
اصل میں جبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنے کے ہیں ۔ الجبار انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟
ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ ق صلے وَ اِنَّا لَن نَّدْخُلَھَا حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْھَا ج فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنَّا دَاخِلُوْنَ (المائدہ : 22)
(وہ بولے کہ اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں۔ ہم اس میں نہیں داخل ہونے کے ‘ جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے)
” غلامی “ بنی اسرائیل کی بزدلی کی اصل وجہ
بنی اسرائیل کی یہ حالت دیکھ کر اور ان کی روداد پڑھ کر آدمی کو حیرت ہوتی ہے کہ ایک قوم جو اللہ کے نبی پر ایمان لا چکی ہے اور مسلسل اس پر اللہ کی نعمتیں برس رہی ہیں ‘ وحی الٰہی اتر رہی ہے اور آنے والے مستقبل کے لیے انھیں ایک قائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت عملی کے تحت قوم کے سرداروں کو فلسطین کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ان کی فوجی طاقت کا جائزہ لے کر مجھے رپورٹ دینا لیکن یاد رکھنا یہ خبر بنی اسرائیل یعنی عوام کو نہیں پہنچنا چاہیے۔ اس کے باوجود بارہ میں سے دس لیڈروں نے موسیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو صورت حال بتلائی کہ جس سر زمین کی طرف ہمیں پیش قدمی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے کڑیل جوان، جنگ جو اور بہادر لوگ ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں چناچہ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →بزدلی کی انتہائ :
آیت 22 : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ (کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے بڑے زبردست آدمی ہیں) اَلْجَبَّار یہ فعال کے وزن پر ہے۔ یہ جبرہ علی الامر سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی اجبرہ علیہ ہے مجبور کرنا۔ جبار اس سرکش کو کہتے ہیں۔ جو لوگوں کو اپنی مرضی پر مجبور کرے۔
وَ اِنَّا لَنْ نَّدْ خُلَہَا (ہم اس میں ہرگز قتال سے داخل نہ ہونگے)
حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْہَا (یہاں تک کہ وہ بغیر لڑائی کے نکل نہ جائیں)
فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَا (پس اگر وہ اس سے بلا قتال نکل گئے )
فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ (تو ہم پھر اس علاقہ میں داخل ہونگے)
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
تفسیر : (قالو یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین) (بولے اے موسیٰ ! وہاں ایک قوم ہے زبردست) اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ سردار جاسوسی کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور اپنے مشاہدہ کی خبردی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ان کی خبر کو چھپالو اور لشکر میں کسی کو خبر نہ دو یہ لوگ بزدل پڑجائیں گے تو ان سرداروں میں سے ہر ایک نے اپنے قریبی دوستوں اور چچا زاد بھائیوں کو خبر کردی۔ صرف دو آدمیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔ ان میں سے ایک یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف (علیہم السلام) اور دوسرے کالب بن یوقنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بہنوئی تھے جو حضرت مریم موسیٰ علیہ اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…
Read the full tafseer →لفظ جبار کی تشریح
قول باری ہے (ان فیھا قوما جبارین۔ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں) ایک قول یہ ہے کہ لفظ جبار راحبار علی الامر “ کسی بات پر مجبور کرنا) سے نکلا ہے۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی پر پلستر چڑھانے کو ” جبر العظم “ اس لئے کہتے ہیں کہ پلستر یا جبیرہ کے ذریعے اس ہڈی کو ٹھیک ہوجانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
خون رائیگاں جانے اور خونبہا لازم نہ ہونے کو جبار کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کے اندر بھی زبردستی کے معنی پائے جاتے ہیں۔ لمبے کھجور کے درخت کو جس تک ہاتھ نہ پہنچ سکے جبارۃ کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ بھی جبار انسان کی طرح ہوتا ہے۔ جبار انسان اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو لوگوں کو اپنے مقصد اور مطلب پر مجبور…
Read the full tafseer →63 قوت ایمانی سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کی اس دردمندانہ اپیل کے جواب میں کہا کہ اے موسیٰ اس سرزمین میں بڑے سخت لوگ رہتے ہیں۔ ہم وہاں ہرگز قدم نہیں رکھیں گے۔ جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو اس صورت میں ہم وہاں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ سو یہ نمونہ ہے غلامی کی پسی ہوئی اور ایمان کی کمزور قوم کی پست ہمتی اور کور ذوقی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قوت ایمانی سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ایمان و یقین کی قوت اور اس کی پختگی و مضبوطی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے کہ اسی قوت ایمانی کی بنا پر انسان سبقت الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26:
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کا بگاڑ :
دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…
Read the full tafseer →ف 6 قوت ایمانی کے کمزور ہونے کی وجہ سے اپنی مرعبیت کا اظہار کر رہے ہیں ؎( یہ اطلاع فارس کے مقام پر پیش کی گئی) لیکن جس انداز سے بعض تفسیری روایات میں ان لوگوں (جبارین کا نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ تمام اسرائیلی روایات ہیں جن کو ایک معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا خصوصا عوج بن عنق کا فسانہ جس کے متعلق حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ سب من گھڑت افسانے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ حدیث میں ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اور اس کے بعد سے لوگ برابر گھٹ رہے ہیں۔ (بخاری مسلم پھر عوج بن عنق کا قد تین ہزار تین سو تنتیس ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے (ابن کثیر)7 یعنی ان کو آپ معجزانہ طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(5:21) لا ترتدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت پھرو۔ تم مت لوٹ جاؤ۔ ارتداد (افتعال) ۔ پھرجانا۔ لوٹ جانا۔
علی ادبارکم ادبار جمع دبر کی ہے بمعنی پیٹھ۔ پیٹھ دے کر پھرجانا۔ پیٹھ پھیرنا۔
فتنقلبوا۔ ن اول الذکر فعل کے انجام کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ تنقلبوا۔ تم پھرو گے۔ تم لوٹوگے۔ یعنی پیٹھ پھیر کر مڑ نہ جاؤ ورنہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ تم خسارہ کھانے والے بن کر لوٹو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر 20 تا 26
لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Read the full tafseer →(ف 2) بنی اسرائیل چونکہ کئی سال تک غلام رہے تھے اس لئے تاب مقاومت جاتی رہی تھی ، جب انہوں نے دیکھا کہ رایما کے رہنے والے ہم سے زیادہ زور آور اور قوی ہیں تو لڑنے سے انکار کردیا ۔
بات یہ ہے کہ غلامی کے اثرات دیر تک قوموں اور نسلوں کو متالم بنائے رکھتے ہیں اور عرصہ تک احساس آزادی بیدار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کی ترغیب وترتیب کے ان میں جرات اقدام پیدا نہیں ہوئی ۔
Read the full tafseer →ف 4 بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حکم سن کر جواب دیا کہ اے موسیٰ ! اس سر زمین میں تو بڑے زبردست اور زور آور قد آور لوگ رہتے ہیں اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو اس سر زمین میں ہرگز قدم بھی نہ رکھیں گے ہاں ! اگر وہ زبردست اور زور آور لوگ اس سر زمین میں کس طرح نکل جائیں اور کہیں چلے جائیں تو بیشک ہم وہاں داخل ہوجائیں گے۔ (تیسیر)
جہاد کے یہاں لوگوں نے مختلف معنی کئے ہیں ہم نے تیسیر میں سب معنی کی رعایت رکھی ہے اور یہ ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ ان باروں سرداروں میں سے جن کو بطور جاسوس دریافت حال کے لئے بھیجا گیا تھا دس سرداروں نے تمام واقعات بیان کردیئے تھے اور عمالقہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام) کو نقد بنقد جواب کہ ہم یہ جہاد نہیں کرسکتے :
90: اس آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا جواب ہے جو قوم بنی اسرائیل کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کو رو در رو سنایا گیا کہ اس ملک میں ایسے جبار ، قد آور اور طاقت ور لوگ موجود و قابض ہیں اور ہم ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کیلئے تیار نہیں۔ ہاں ! اگر وہ قدرت کے کسی معجزے سے جو تیرے ہاتھ پر ظاہر ہوجائے کہ وہ خود بخود یہاں سے نکل جائیں تو بلاشبہ ہم اس علاقہ میں داخل ہوجائیں گے۔ اس جگہ قرآن کریم میں لفظ جبارین کا استعمال ہوا ہے اور جبار کے معنی قد آور ، زور آور ، طاقتور اور تگڑے کے ہیں عربی زبان میں جبار…
Read the full tafseer →Looking at verse 22 which begins with the words: قَالُوا يَا مُوسَىٰ (They said, 0 Musa ...), it will be recalled that, in the verse previous to it (21), Allah Ta` ala had commanded the Bani Isra'il through Sayyidna Musa (علیہ السلام) that they should wage a Jihad against the Amalkites and conquer Syria given along with it was the good news that the land of Syria has been destined for them, therefore, their victory is certain.
The present verse (22) tells us that, despite the Divine command and assurance, the Bani Isra'il, because of their well-known contumacy and crookedness, just did not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
45. This could have two meanings: either that two of those who feared the high-handed people of the Promised Land made that statement or that two of those who feared God did so. (However, most Qur'anic commentators subscribe to the latter meaning - Ed.)
Read the full tafseer →