Al-Maaida 5:21

Al-Maaida · from ayah 21

5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤی اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ ۟يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ الَّتِىۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O my people, enter the Holy Land which Allah has assigned to you and do not turn back [from fighting in Allah 's cause] and [thus] become losers."

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:21

اے برادران قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو کہ پھر نقصان میں جا پڑو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے میری قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے، اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو، ورنہ پلٹ کر نامراد جاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو کہ نقصان پر پلٹو گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میری قوم! (ملکِ شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اﷲ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر (پیچھے) نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اس نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے میری قوم ! اس پاک سر زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر رکھی ہے اور پیچھے نہ ہٹو ورنہ نقصان اٹھا کر لوٹو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے ہم قومو ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پیٹھ پیچھے نہ پھر ورنہ نامرادوں میں سے ہو کر رہ جاؤگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے میری قوم، داخل ہوجاؤ تم شام و فلسطین کی) اس مقدس سرزمین میں، جس کو اللہ نے لکھ رکھا ہے تمہارے لئے، اور مت لوٹو تم الٹے پاؤں، کہ اسکے نتیجے میں تم ہوجاؤ خسارے والے،

— مولانا اسحاق مدنی

اے میری قوم ! اس زمین مقدس میں داخل ہوجاؤ جسے اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور پچھلے پیروں واپس نہ ہو ورنہ بالکل خسارہ میں پڑجاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(تو) اے میری قوم کے لوگو ! اب داخل ہوجاؤ اس ارض مقدس (فلسطین) میں جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں کے َ بل واپس نہ پھرنا (اگر ایسا کروگے) تو ناکام و نامراد پلٹو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے قوم ! اس پاک سر زمین میں داخل ہوجا ؤجو تمہارے لیے اللہ نے مقرر کردی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

My people! Enter the holy land which Allah has ordained for you; and do not turn back for then you will turn about losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O my people, enter the Holy Land which Allah has destined for you, and do not turn back, lest you should turn losers.

— Muhammad Taqi Usmani

O my people, enter the Holy Land which Allah has destined for you, and do not turn back, lest you should turn losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my people! Enter the Holy Land which Allah has assigned to you and turn not back; for then you will be returned as losers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my people! Go into the holy land which Allah hath ordained for you. Turn not in flight, for surely ye turn back as losers:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O my people, enter the Holy Land which Allah has assigned to you and do not turn back [from fighting in Allah 's cause] and [thus] become losers."

— Saheeh International

Enter the sacred promised land which God has designated for you. Do not return to disbelief lest you become lost".

— Muhammad Sarwar

O my people! enter the holy land which Allah has prescribed for you and turn not on your backs for then you will turn back losers.

— Muhammad Habib Shakir

O my people! enter the holy land which Allah hath prescribed for you and turn not back to your rearward for then ye become losers.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my people! Enter the holy land which Allah hath assigned unto you, and turn not back ignominiously, for then will ye be overthrown, to your own ruin."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة الْمَآىِٕدَة 43 اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔ سورة الْمَآىِٕدَة 44 حضرت موسیٰ ؑ کی یہ تقریر اس موقع کی ہے جب مصر سے نکلنے کے تقریباً دو سال بعد آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے دشت فاران میں خیمہ زن تھے۔ یہ بیابان جزیرہ نمائے سینا میں عرب کی شمالی اور فلسطین کی جنوبی سرحد سے متصل واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس پہلی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کا جو قول نقل فرمایا گیا ہے۔ یہ تمہید تھی اس حکم کے بیان کرنے کی جو اگلی آیت میں اس طرح ارشاد ہوا ہے۔ (آیت) يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ یعنی اے میری قوم تم اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے حصہ میں لکھ رکھی ہے۔ ارض مقدسہ سے کونسی زمین مراد ہے ؟ ارض مقدسہ سے کونسی زمین مراد ہے ؟ اس میں مفسرین کے اقوال بظاہر متعارض ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ بیت المقدس مراد ہے۔ بعض نے شہر قدس اور ایلیا کو ارض مقدسہ کا مصداق بتلایا ہے۔ بعض نے شہر اریحا کو جو نہر اردن اور بیت المقدس کے درمیان دنیا کا قدیم ترین شہر تھا اور آج تک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

آگے کا مضمون۔ آیات 20 تا 26:۔ بنی اسرائیل کو تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی : اب آگے یہود کی ابتدائی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے ایک طرف یہ حقیقت روشنی میں آتی ہے کہ یہ قوم ابتدء ہی سے خدا کے عہد اور اس کے حقوق و فرائض کے معاملے میں نہایت بودی اور نکمی رہی ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ خدا نے ابتدا ہی سے اس کی بدعہدیوں اور نالائقیوں پر اس کو سزا بھی ہمیشہ نہایت عبرت انگیز دی ہے اس وجہ سے آخرت کے عذاب سے محفوظ ہے : اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 20۔ 21:۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب ؑ کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف ؑ کے امارات مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت مصر میں ہی رہے، جب تک کہ موسیٰ ؑ انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر تیار نہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–22

19: مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے ؛ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو انبیاء کرام مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا، اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے، جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا، فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنا رکھا تھا، جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جاکر آباد ہوں، اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے، لہذا اس حکم کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جاکر عمالقہ سے جہاد…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔ یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی خدا نے پیشتر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیری اولاد کو یہ ملک دونگا وہ و عدہ ضرور پورا ہونا ہے۔ خوش قسمت ہونگے وہ لوگ جن کے ہاتھوں پر پورا ہو۔ 3 یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں بزدلی اور پست ہمتی دیکھ کر غلامی کی زندگی کی طرف مت بھاگو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ زمین تمہیں ملے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 فلسطین کا حال معلوم کرنے والا وفد :۔ جب فرعون بحر قلزم میں غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے پار اتر گئے تو ان لوگوں کی یہ ہجرت ان کے آبائی وطن فلسطین کی طرف بتائی گئی تھی جو سیدنا ابراہیم سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب وغیر ہم کی تبلیغ کا مرکز رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ ان مہاجرین کو ساتھ لے جا کر فلسطین پر چڑھائی کرو تو بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور اس طرح ان کا آبائی وطن ان کو واپس مل جائے گا۔ چناچہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو جہاد کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارت بھی دی مگر ان لوگوں نے یہ سوچا کہ پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94 ۔ (لوح محفوظ میں، یا اپنے علم میں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موقع ترغیب پر فرما رہے ہیں کہ وہ زمین تو تمہارے لیے مقدر ہو ہی چکی ہے، ذرا سی ہمت و کوشش کرو تو ابھی ملی جاتی ہے۔ (آیت) ” الارض المقدسۃ “۔ مقدس سرزمین سے مراد شام ہے۔ فلسطین (کنعان) اسی کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ ھی الشام (ابن جریر، عن قتادۃ) الارض المقدسۃ دمشق و فلسطین وبعض الاردن۔ (ابن جریر عن ابن عباس ؓ توریت میں ان وعدوں کی صراحتیں موجود ہیں۔” دیکھو میں نے یہ زمین جو تمہارے آگے ہے تمہیں عنایت کی داخل ہو اور اس زمین کو جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کی کہ تم کو اور تمہارے بعد تمہاری نسل کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 تا 26 ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ اے میری قوم والو ! پاک سر زمین میں داخل ہوجاؤ۔ مجاہد کے نزدیک ارض مقدس سے مراد طور اور حوالی طور ہے۔ ضحاک کے نزدیک ایلیا اور بیت مقدس ‘ عکرمہ (رح) اور سدی کے نزدیک اریحا۔ کلبی کے نزدیک دمشق فلسطین اور اردن کا کچھ حصہ اور قتادہ ؓ کے نزدیک پورا ملک شام۔ حضرت کعب کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب (یعنی توریت) میں پڑھا تھا کہ شام اللہ کی زمین کا خزانہ ہے اور شام کے رہنے والے اللہ کے بندوں میں خزانہ ہیں۔ مقدسہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ارض مذکور انبیاء کی قرار گاہ اور اہل ایمان کا مسکن ہے۔ التی کتب اللہ لکم یعنی جس میں داخل ہونا اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا اور فرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور سرزمین دمشق، فلسطین اور اردن کے بعض حصوں میں داخل ہو، جو سرزمین اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے اور اسے تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی میراث بنایا ہے اور پیچھے واپس مت چلو کیوں کہ عذاب خداوندی کی بنا پر جس کی وجہ سے تم سے من وسلوی چھین لیاجائے گا اور تم بہت بڑے نقصان میں پڑجاؤ گے، بنی اسرائیل نے کہا وہاں تو بہت زبردست قوی لوگ ہیں، ہم ایسے علاقے میں نہیں جائیں گے اور زبردست لوگوں سے ڈرنے والے بارہ آدمی تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ۔۔ : مراد شام ہے، فلسطین (کنعان) اسی کے ایک علاقے کا نام ہے، کیونکہ یہیں سے بنی اسرائیل مصر گئے تھے اور یہی ان کی آبائی میراث تھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی تھی۔ تورات میں اس وعدے کی صراحتیں موجود ہیں : ”دیکھو میں نے اس ملک کو تمہارے سامنے کردیا ہے، پس جاؤ اور اس ملک کو اپنے قبضہ میں کرلو جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادا ابرہام، اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ اسے ان کو اور ان کے بعد ان کی نسل کو دے گا۔“ (استثناء، باب : 8) موسیٰ ؑ کا بنی اسرائیل سے یہ خطاب اس موقع پر ہے جب وہ مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں خیمہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر : 20 تا 26۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت الارض المقدسۃ سے مراد ہے برکت والی۔ (2) امام ابن منذر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کہ وہ زمین جو عریش کے درمیان سے لے کر فرات تک ہے۔ (3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت الارض المقدسۃ سے شام کی (کی زمین) مراد ہے۔ (4) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت التی کتب اللہ لکم یعنی اللہ تعالیٰ تم کو اس کا حکم فرماتے ہیں۔ (5) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم اس طرح دیا جس طرح ان کو زکوٰۃ کا حج کا اور عمرہ کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ ادْخُلُوا : تم لوگ داخل ہوجاؤ] [ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ : پاک کی ہوئی زمین میں ] [ الَّتِيْ : جس کو ] [ كَتَبَ : لکھا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَلَا تَرْتَدُّوْا : اور مت پھرجانا ] [ عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ : اپنی پیٹھوں پر ] [ فَتَنْقَلِبُوْا : ورنہ ہو جاؤگے ] [ خٰسِرِيْنَ : نقصان اٹھانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔ قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50 یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرضَ الْمُقَدَّسَۃَ الخ حضرت ابن عباس، ابن زید اور سدی کا قول ہے کہ ارض مقدسہ سے بیت المقدس مراد ہے اسے ارض مقدسہ (پاک زمین) اس لیے کہا گیا کہ وہ قدیم سے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مسکن چلا آرہا تھا اور شرک کی نجاست سے پاک تھا۔ ووصفت تلک الارض بذالک لانھا مطہرۃ من الشرک حیث جعلت مسکن الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام (روح ص 106 ج 6) اَلَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ وہ تمہارا مسکن ہوگا۔ کتب فی اللوح المحفوظ انھا مسکن لکم (مدارک ج 1 ص 216) لیکن پیچھے نہ ہٹنا ورنہ دین و دنیا کا خسارہ اٹھاؤ گے۔ ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات پہلے اہل کتاب کے دونوں گروہوں یہودو نصاریٰ کا رد فرمایا اور نصیحت کے طور پر یہ بات کہ دی کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول اور اس کی کتاب آگئی ہے۔ اگر تم خرابی سے نکلنا چاہتے ہو تو اس کا اتباع کرو۔ اس سے پہلے یہ بھی واضح فرمایا تھا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دل سخت ہوگئے پھر انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کا ارتکاب کیا۔ نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ ان کی طرف سے ترک نصیحت کے جرم میں ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی کا بیج بو دیا اور وہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ اہل کتاب کی انہی خصلتوں کے پیش نظر اس سورة کی ابتداء میں اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا اوفوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ 21؀ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–26

ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟ ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللہ ُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 21) (اے میرے ہم قومو ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ ‘ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پیٹھ پیچھے نہ پھرو۔ ورنہ ! نامرادوں میں سے ہو کر رہ جاؤ گے) کوہِ سینا پر بنی اسرائیل کی پرورش ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بحرقلزم سے نکلے اور جزیرہ نما سینا میں داخل ہوئے ‘ آپ کی منزل کوہ سینا تھی ‘ جسے ہم ” کوہ طور “ کہتے ہیں۔ آپ اس کے دامن میں جا کر ٹھہرنا چاہتے تھے۔ یہ صحرا ایسا نہیں تھا کہ سرے سے اس میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : اب پھر یہودیوں کو خطاب ہوتا ہے۔ اپنی قوم کا مزاج دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارض مقدّس میں داخل ہونے کا حکم دینے سے پہلے انھیں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ماضی کی عزت رفتہ اور اقتدار یاد دلا کر حکم دیا کہ میری قوم ارض مقدس کی طرف پیش قدمی کرو۔ اس کے ساتھ ہی خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے فتح کو یقینی بنا دیا ہے یہاں دوسرے انعامات کے ساتھ بالخصوص دو انعام کا نام لے کر یہ احساس دلایا کہ یہ مقدس زمین انبیاء کی سرزمین ہے اور یہاں تمہارے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال تک حکومت کی ہے اور تمہیں وہ کچھ عنایت فرمایا تھا جو دنیا میں تم سے پہلے کسی کو نہیں دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدس و شام کی سرزمین میں داخلے کا حکم : آیت 21 : یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ (اے میری قوم اس متبرک ملک میں داخل ہو) المقدسہ سے مراد پاکیزہ یا مبارکہ اور وہ سرزمین بیت المقدس و شام ہے۔ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ (کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے) کَتَبَکا معنی ہے قسمت میں کردیا۔ یا تمہارے نام لگا دیا۔ یا لوح محفوظ میں لکھ دیا۔ کہ وہ تمہارا مسکن بنے گی۔ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ (اور تم اپنی پشت پھیر کر مت لوٹو شکست کھا کر) جبابرہ کے خوف سے بزدلی اختیار کر کے یا اپنے دین میں پشت پھیر کر مت لوٹو (یعنی دین کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرو) ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 21 تفسیر : (یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ) (اے قوم ! داخل ہو پاک زمین میں جو مقرر کردی ہے اللہ نے تمہارے واسطے) ارض مقدسہ کی تعیین میں مفسرین کے اقوال ارض مقدس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ طور اور اس کے اردگرد کا علاقہ ہے۔ اور صحاک (رح) فرماتے ہیں ایلیاء اور بیت المقدس ہے۔ اور عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اریحاء ہے۔ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ دمشق، فلسطین اور اردن کا کچھ حصہ ہے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مکمل شام ہے۔ کعب فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کی اتاری ہوئی کتاب میں پایا کہ شام اس زمین میں اللہ کا خزانہ ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ارض مقدس قول باری ہے (یا قوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد سرزمین بیت المقدس ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ سرزمین طور ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ ارض شام ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد دمشق ہے۔ فلسطین اور اردن کے کچھ حصے ہیں۔ مقدسہ مطہرہ کو کہتے ہیں اس لئے کہ تقدیس کے معنی تطہیر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ارض مقدس اس لئے کہا کہ اسے بہت سی شرکیات سے پاک رکھا گیا تھا اور اس سرزمین کو انبیاء اور اہل ایمان کا مسکن اور جائے قرار بنادیا گیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

61 ارض مقدس اور اس کی بعض عظیم الشان نعمتوں کا ذکر : سو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم داخل ہوجاؤ تم لوگ اس مقدس سرزمین میں۔ یعنی سرزمین شام و فلسطین میں جس کو اللہ نے تم لوگوں کے لیے لکھ رکھا ہے۔ سو ارض فلسطین بڑی مقدس اور مبارک سرزمین ہے۔ جس میں اللہ پاک کے کتنے ہی پیغمبر تشریف لائے اور انہوں نے دنیا کو نور وحی و رسالت سے منور و روشناس فرمایا۔ اور ان معنوی اور روحانی نعمتوں کے علاوہ اس سرزمین کو بیشمار ظاہری اور حسی نعمتوں سے بھی نوازا گیا۔ یہاں تک کہ اس کو شہد اور دودھ کی سرزمین ۔ " ارض العسل و الحلیب " ۔ کہا جانے لگا۔ سو حضرت موسیٰ ﷺ نے اپنی قوم کو اسی مقدس سرزمین میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–21

یہود پر اللہ کے احسانات تشریح : ان آیات میں رکوع کے آخر تک اللہ تعالیٰ یہود کو اپنے دیے گئے وہ تمام انعامات یاد دلاتے ہیں اور حکم دیا کہ اب نبی اکرم ﷺ پر ایمان لاکر سیدھی راہ اختیار کرلو اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو بھی خبر دار کرتے ہیں کہ اگر تم نے گمراہی اختیار کی تو یہود کی طرح لعنت کردیے جاؤ گے۔ یہود پر جو انعامات، رحمتیں اور برکتیں اللہ تعالیٰ نے کیں ان کی تفصیل گزر چکی ہے۔ مختصراً یہاں بھی بیان کی گئی ہے۔ تمام نبی بنی اسرائیل ہی میں پیدا کیے گئے، پھر ان کو حکومت بھی دی گئی۔ مصر میں ان کو بڑا اقتدار ملا۔ مصر سے نکل کر شام ان کے نام کردیا اور فرمایا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔ سیدنا ابراہیم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–26

رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26: اسرار و معارف : بنی اسرائیل کا بگاڑ : دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تمہارے دادا حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ اسے آپ کی اولاد میں سے اہل ایمان کی وارث بناوں گا (ابن کثیر) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) جبل لبنان پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھوْ ! جہاں تک تمہاری نظر پہنچے گی وہ ارض مقدس ہے اور تیری ذریت کی میراث ہے۔ کبیر)5 حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا بنی اسرائیہ سے یہ خطاب س موقع پر ہے جب وہ مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں خمیہ زن تھے اران پر من وسلویٰ اتررہا تھا۔ (ابن کثیر) تاریخی اور اثرمی تحقیقات کے مطابق خروج کا زمانہ 440 ق م ہے اور فلسطین پر فوج کشی کا زمانہ 400 ق م ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(5:21) لا ترتدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت پھرو۔ تم مت لوٹ جاؤ۔ ارتداد (افتعال) ۔ پھرجانا۔ لوٹ جانا۔ علی ادبارکم ادبار جمع دبر کی ہے بمعنی پیٹھ۔ پیٹھ دے کر پھرجانا۔ پیٹھ پھیرنا۔ فتنقلبوا۔ ن اول الذکر فعل کے انجام کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ تنقلبوا۔ تم پھرو گے۔ تم لوٹوگے۔ یعنی پیٹھ پھیر کر مڑ نہ جاؤ ورنہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ تم خسارہ کھانے والے بن کر لوٹو گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر 20 تا 26 لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–26

مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–27

[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت جہاد دی اور فرمایا کہ اگر خزاں وناکامی سے بچنا چاہتے ہو تو مقام رایما میں بےدریغ داخل ہوجاؤ ، مقصود یہ تھا کہ قوم میں بادشاہت وملوکیت کے جذبات پیدا ہوں اور وہ حاکمانہ زندگی بسر کرنا سکھیں ، (آیت) ” کتب اللہ لکم ُ “ سے مراد فرضیت جہاد ہے ، وعدہ نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اے میری قوم تم اس مقدس سر زمین اور متبرک ملک میں داخل ہو جائو کہ اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے اور دیکھو پیٹھ پھیر کر واپس مت ہو اور وطن کی طرف مت لوٹو ورنہ یاد رکھو تم سخت خسارے میں جا پڑو گے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت ابراہیم اپنے باپ کا وطن چھوڑ نکلے اللہ کی راہ میں اور ملک شام میں آ کر ٹھہرے اور مدت تک ان کو اولاد نہ ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت فرمائی کہ تیری اولاد بہت پھیلائوں گا اور زمین شام ان کو دوں گا اور نبوت اور دین اور کتاب اور سلطنت ان میں رکھوں گا پھر حضرت موسیٰ کے وقت وہ وعدہ پورا کیا بنی اسرائیل کو فرعون کی بیگار سے خلاص کیا اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–25

ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو مقدس سر زمین کے دوبارہ حاصل کرنے کی تجویزدی : 89: جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بلاشبہ اللہ کے نبی تھے لیکن ساتھ ہی قوم بنی اسرائیل کے سیاسی راہنما بھی تھے اس لئے کہ ہر نبی نے اپنی خدا داد صلاحیتوں اور پیغام الٰہی کی روشنی میں قوم کو اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دی اس طرح گویا یہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا دوسرا جزاء ہے اور اس تقریر کا اصل موضوع یہ ہے کہ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں غرق ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے نجات پا کر حکومت مصر کے مالک بن گئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The saying of Sayyidna Musa (علیہ السلام) in the first verse (20) was his introductory remark to the Divine command which appears in the following verse (21) in the words: يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْ‌ضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ (0 my people, enter the Holy Land which Allah has destined for you ...). Which land is the Holy Land? Apparently, commentators differ about it. Some say that it means Baytul-Maqdis (Jerusalem). Some identify the city of Quds and Eliah as fitting the description of the Holy Land. Still others point out to the city of Ariha which was located…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43. This signifies Palestine which had been the homeland of Abraham, Isaac and Jacob. After their exodus from Egypt, God ordered the Israelites to go forth to Egypt and conquer it. 44. This statement of Moses refers to the second year after they had come out of Egypt when he and his people lived in tents in the wilderness of Paran. This desert lies in the Sinai peninsula adjacent to the northern borders of Arabia and the southern borders of Palestine.

Read the full tafseer →