Al-Maaida 5:20

Al-Maaida · from ayah 20

5:20

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ۖۗ— وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۟وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۡۢـبِيَآءَ وَجَعَلَـكُمۡ مُّلُوۡكًا  ۖ وَّاٰتٰٮكُمۡ مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], when Moses said to his people, "O my people, remember the favor of Allah upon you when He appointed among you prophets and made you possessors and gave you that which He had not given anyone among the worlds.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:20

یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی اُس نے تم میں نبی پیدا کیے، تم کو فرماں روا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یاد کرو موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاه بنا دیا اور تمہیں وه دیا جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم اپنے اوپر (کیا گیا) اﷲ کا وہ انعام یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء پیدا فرمائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ (کچھ) عطا فرمایا جو (تمہارے زمانے میں) تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنادیا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا جبکہ اس نے تم میں سے کئی نبی پیدا کیے اور کئی بادشاہ بنائے اور تمہیں وہ کچھ دیا جو اقوام عالم میں سے کسی کو نہ دیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میرے ہم قومو ! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا، اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے، کہ اے میری قوم، یاد کرو تم لوگ اللہ کے اس انعام (و احسان) کو جو اس نے تم پر فرمایا، جب کہ اس نے پیدا فرمائے تمہارے اندر کی، اور بادشاہ بنایا تم لوگوں کو، اور تمہیں وہ کچھ عنایت فرمایا جو اس نے دنیا جہاں میں کسی کو نہیں دیا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ اے میری قوم ! اللہ کا وہ احسان تم اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تمہارے اندر نبی پیدا کیے اور تمہیں خود مختار کیا۔ اور تمہیں وہ یاد جو دنیا جہاں میں کسی (قوم) کو بھی نہیں دیا گیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب کہا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کے اس انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے جب اس نے تمہارے اندر نبی اٹھائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو تمام جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں بادشاہت عطا کی اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

Remember when Moses said to his people: 'My people, remember Allah's favour upon you when He raised Prophets amongst you and appointed you rulers, and granted to you what He had not granted to anyone else in the world.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Recall) when Musa said to his people, :O my people, remember the blessing of Allah upon you when He made prophets from among you, made you kings and gave you what He did not give to anyone in the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

(Recall) when Musa said to his people, :O my people, remember the blessing of Allah upon you when He made prophets from among you, made you kings and gave you what He did not give to anyone in the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when Musa said to his people: "O my people! Remember the favor of Allah to you: when He made Prophets among you, made you kings and gave you what He had not given to any other among the nations (Al-`Alamin)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remember) when Moses said unto his people: O my people! Remember Allah's favour unto you, how He placed among you prophets, and He made you kings, and gave you that (which) He gave not to any (other) of (His) creatures.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], when Moses said to his people, "O my people, remember the favor of Allah upon you when He appointed among you prophets and made you possessors and gave you that which He had not given anyone among the worlds.

— Saheeh International

When Moses told his people, "Recall God's favors to you. He made Messengers and Kings out of your own people and gave you what He had not given to others-

— Muhammad Sarwar

And when Musa said to his people: O my people! remember the favor of Allah upon you when He raised prophets among you and made you kings and gave you what He had not given to any other among the nations.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time Musa said unto his people: O my people! remember the favour of Allah on you when he made amongst you prophets and made princes, and vouchsafed unto you that which he vouchsafed not to anyone in the world.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember Moses said to his people: "O my people! Call in remembrance the favour of Allah unto you, when He produced prophets among you, made you kings, and gave you what He had not given to any other among the peoples.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 42 یہ اشارہ ہے بنی اسرائیل کی اس عظمت گذشتہ کی طرف جو حضرت موسیٰ ؑ سے بہت پہلے کسی زمانہ میں ان کو حاصل تھی۔ ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر ان کی قوم میں پیدا ہوئے۔ اور دوسری طرف حضرت یوسف ؑ کے زمانہ میں اور ان کے بعد مصر میں ان کو بڑا اقتدار نصیب ہوا۔ مدت دراز تک یہی اس زمانہ کی مہذب دنیا کے ساب سے بڑے فرماں روا تھے اور انہی کا سکہ مصر اور اس کے نواح میں رواں تھا۔ عموماً لوگ بنی اسرائیل کے عروج کی تاریخ حضرت موسیٰ ؑ سے شروع کرتے ہیں، لیکن قرآن اس مقام پر تصریح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل زمانہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر۔ اور وہ وقت بھی ذکر کے قابل ہے جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (یعنی بنی اسرائیل) سے (اول ترغیب جہاد کی تمہید میں یہ) فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو کہ تم پر ہوا ہے، یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں بہت سے پیغمبر بنائے (جیسے حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑ اور خود حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ وغیرہم اور کسی قوم میں پیغمبروں کا ہونا ان کا دنیوی اور دینی شرف ہے۔ یہ تو نعمت معنوی دی) اور (حسیِّ نعمت یہ دی کہ) تم کو صاحب ملک بنایا (چنانچہ فرعون کے ملک پر ابھی قابض ہوچکے ہو) اور تم کو (بعض بعض) وہ چیزیں دی ہیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیں (جیسا دریا میں راستہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

آگے کا مضمون۔ آیات 20 تا 26:۔ بنی اسرائیل کو تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی : اب آگے یہود کی ابتدائی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے ایک طرف یہ حقیقت روشنی میں آتی ہے کہ یہ قوم ابتدء ہی سے خدا کے عہد اور اس کے حقوق و فرائض کے معاملے میں نہایت بودی اور نکمی رہی ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ خدا نے ابتدا ہی سے اس کی بدعہدیوں اور نالائقیوں پر اس کو سزا بھی ہمیشہ نہایت عبرت انگیز دی ہے اس وجہ سے آخرت کے عذاب سے محفوظ ہے : اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 20۔ 21:۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 بیشتر انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں جن کا سلسلہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ختم کردیا گیا اور آخری پیغمبر بنو اسماعیل سے ہوئے۔ اسی طرح متعدد بادشاہ بھی بنی اسرائیل میں ہوئے اور بعض نبیوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ملوکیت (بادشاہت) سے نوازا، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبوت کی طرح ملوکیت (بادشاہت) بھی اللہ کا انعام ہے، جسے علی الاطلاق برا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر ملوکیت بری چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بادشاہ بناتا نہ اس کا ذکر انعام کے طور پر فرماتا، جیسا کہ یہاں ہے آج کل مغربی جمہوریت کا کا بوس اس طرح ذہنوں پر مسلط ہے اور شاطران، مغرب نے اس کا افسوں اس طرح پھونکا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

18: یہ بات یہود و نصاری بھی مانتے تھے کہ وہ محتلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے، لہذا بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے، البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔ یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 موضح القرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کا وطن چھوڑ نکلے اللہ کی راہ میں اور ملک شام میں آکر ٹھہرے اور مدت تک ان کے اولاد نہ ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تیری اولاد بہت پھیلاؤں گا اور زمین شام ان کو دوں گا اور نبوت، دین، کتاب اور سلطنت ان میں رکھوں گا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت وہ وعدہ پورا کیا۔ بنی اسرائیل کو فرعون کی بیگار سے خلاص کیا اور اس کو غرق کیا اور ان کو فرمایا کہ جہاد کرو عمالقہ سے، ملک شام فتح کرلو۔ پھر ہمیشہ وہ ملک شام تمہارا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ شخص بارہ قبائل بنی اسرائیل پر سردار کئے تھے ان کو بھیجا کہ اس ملک کی خبر لاویں وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ واقعہ آ رہا ہے جب آپ علیہ السلام مصر سے اپنی قوم کو لے کر نکلے ‘ صحرائے سینا میں رہے ‘ آپ علیہ السلام کو کوہ طور پر بلایا گیا اور تورات دی گئی۔ اس کے بعد انھیں حکم ہوا کہ فلسطین میں داخل ہوجاؤ اور وہاں پر آباد مشرک اور کافر قوم جو فلسطی کہلاتے تھے کے ساتھ جنگ کرو اور انہیں وہاں سے نکالو ‘ کیونکہ یہ ارض مقدس تمہارے لیے اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ اس لیے کہ ان کے جد امجدّ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا تعلق اسّ خطہ سے تھا۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں منتقل ہوئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 بنی اسرائیل کے انبیاء جو بادشاہ بھی تھے :۔ بنی اسرائیل مصر میں نہایت ذلت سے غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تو انہیں عظیم سلطنت بھی عطا فرمائی تھی۔ مصر اور اس کے گرد و نواح کے ممالک میں آپ ہی کی فرمانروائی تھی اس زمانہ میں بنی اسرائیل کو عزت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہوئی اور دینی اور دنیوی قیادت سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا، لیکن بعد میں اپنی نافرمانیوں کی بنا پر وہ عزت ان سے چھین لی گئی تاآنکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جس وقت مبعوث ہوئے تو بنی اسرائیل مصر میں لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود فرعون کے تحت محکومانہ اور نہایت ذلت کی زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

91 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا وہ زمانہ ہے کہ جب بنی اسرائیل مصریوں کی غلامی ومحکومی سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی سے نقل و حرکت کررہے ہیں، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک ہی وقت میں ان کے دینی پیغمبر بھی تھے اور دنیوی لیڈر بھی، انہیں آمادہ کررہے ہیں، کہ اپنے وطن فلسطین چلو، ظالم وغاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکال دو اور خود اس پر حکمرانی کرو۔ تازہ ترین تاریخی اور اثری تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 ؁ ق۔ م کا ہے، اور فلسطین پر اسرائیل کی فوج کشی کا زمانہ 1400 ؁ ق۔ م کا۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا زمانہ اسی درمیانی مدت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 تا 26 ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قال موسیٰ لقومہ اور (یاد کرو) جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) سے کہا تھا۔ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اے میری قوم والو ! اللہ کے احسان کو یاد کرو جو تم پر اللہ نے کیا ہے۔ اذ جعل فیکم انبیآء جب کہ تمہارے اندر اس نے انبیاء بنائے اور انبیاء کے ذریعہ سے تم کو ہدایت اور عزت عطا فرمائی ‘ جتنے پیغمبر بنی اسرائیل سے پیدا ہوئے اتنے کسی قوم میں نہیں ہوئے۔ وجعلکم ملوکا اور تم کو یعنی تم میں سے یا تمہارے اندر بادشاہ بنائے۔ فرعون کے بعد بنی اسرائیل میں بکثرت بادشاہ ہوئے۔ آخر جب حضرت یحییٰ کو قتل انہوں نے قتل کردیا اور حضرت عیسیٰ کے قتل کے درپے ہوگئے تو سلسلۂ ملوکیت ختم ہوا۔ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) اس وقت کو یاد کرو جب تم لوگ فرعون کے غلام تھے، اس اللہ نے فرعون سے نجات دے کر تمہیں صاحب ملک بنایا اور وادی تیہ میں تمہیں ”من وسلوی“ جیسی آسمانی نعمت دی، جو دنیا میں کسی اور نبی کی امت کو نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ : اس آیت کا تعلق (وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ) [ المائدۃ : 12 ] کے ساتھ ہے، یعنی ان سے عہد لیا اور موسیٰ ؑ نے ان انعامات الٰہی کو یاد دلا کر ارض مقدس واپس لینے کے لیے جہاد کا حکم دیا۔ اس وقت وہاں عمالقہ (جبارین) کی حکومت تھی، لیکن بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور عمالقہ کے ساتھ جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ (کبیر) يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے، ایک یہ کہ ان میں جلیل القدر انبیاء مبعوث فرمائے، جیسے اسحاق، یعقوب، یوسف اور موسیٰ ؑ۔ دوسری یہ کہ ان سب (بنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر : 20 تا 26۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت واذقال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں نبی بنایا اور تم کو مالک بنایا لوگوں کی گردنوں کا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو نے شک اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ (2) امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذقال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا کے بارے میں فرمایا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے نبی اسرائیل پہلے لوگ تھے کہ ان کے لئے خادم بنائے گئے بنو آدم میں سے اور دوسرے لوگوں کے مالک بنے۔ (3) امام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ] [ مُوْسٰى: موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم سے ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم !] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : اپنے اوپر ] [ اِذْ جَعَلَ : جب اس نے بنائے ] [ فِيْكُمْ : تم لوگوں میں سے ] [ اَنْۢبِيَاۗءَ : انبیاء ] [ وَجَعَلَكُمْ : اور بنایا تم لوگوں کو ] [ مُّلُوْكًا : بادشاہ ] [ ڰ وَّاٰتٰىكُمْ : اور اس نے دیا تم لوگوں کو ] [ م :َّا : وہ جو ] [ لَمْ يُؤْتِ : اس نے نہیں دیا ] [ [ اَحَدًا : کسی ایک کو ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ : تمام عالموں میں سے ] ج ب ر : (ن) جبرا۔ (1) زبردستی یا دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنا ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔ قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49 وَ اِذْ قَالَ مُوْسیٰ الخ جہاد نہ کرنے کی صورت میں ذلت اٹھانے کا پہلا نمونہ۔ یعنی جب تم نے اہل کتاب کو ان کے مشرکانہ عقائد کی بنا پر صاف صاف کافر کہہ دیا تو اب خاموشی سے نہیں بیٹھنا ہوگا۔ بلکہ اب وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے اور تمہیں بھی جوابا ان سے جہاد کرنا ہوگا۔ اگر تم نے اپنی جان کی حفاظت کیلئے ان سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو جس طرح بنی اسرائیل نے دشمن سے جہاد نہ کرنے کی وجہ سے ذلت اٹھائی تھی اسی طرح تم بھی ذلیل ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–23

ربط آیات پہلے اہل کتاب کے دونوں گروہوں یہودو نصاریٰ کا رد فرمایا اور نصیحت کے طور پر یہ بات کہ دی کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول اور اس کی کتاب آگئی ہے۔ اگر تم خرابی سے نکلنا چاہتے ہو تو اس کا اتباع کرو۔ اس سے پہلے یہ بھی واضح فرمایا تھا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دل سخت ہوگئے پھر انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کا ارتکاب کیا۔ نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ ان کی طرف سے ترک نصیحت کے جرم میں ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی کا بیج بو دیا اور وہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ اہل کتاب کی انہی خصلتوں کے پیش نظر اس سورة کی ابتداء میں اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا اوفوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا۝ 0ۤۖ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۝ 20 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] نعم النِّعْمَةُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–26

ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟ ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا ق وَّ اٰتٰکُمْ مَّالَمْ یُوْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (المائدہ : 20) (اور یاد کرو ! جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میرے ہم قومو ! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا) بنی اسرائیل پر اللہ کے تین عظیم احسان اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل پر تین احسانات کا ذکر فرمایا۔ 1 پہلا احسان یہ کہ ” اس نے تم میں انبیاء اٹھائے “۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : اب پھر یہودیوں کو خطاب ہوتا ہے۔ اپنی قوم کا مزاج دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارض مقدّس میں داخل ہونے کا حکم دینے سے پہلے انھیں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ماضی کی عزت رفتہ اور اقتدار یاد دلا کر حکم دیا کہ میری قوم ارض مقدس کی طرف پیش قدمی کرو۔ اس کے ساتھ ہی خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے فتح کو یقینی بنا دیا ہے یہاں دوسرے انعامات کے ساتھ بالخصوص دو انعام کا نام لے کر یہ احساس دلایا کہ یہ مقدس زمین انبیاء کی سرزمین ہے اور یہاں تمہارے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال تک حکومت کی ہے اور تمہیں وہ کچھ عنایت فرمایا تھا جو دنیا میں تم سے پہلے کسی کو نہیں دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 20 : وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْچبِیَآئَ (اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو کہ اے میری قوم ! یاد کرواللہ کی ان نعمتوں کو جو تم پر کیں۔ جب بنائے تم میں انبیائ) جعل فیکم انبیاء اس لیے فرمایا کیونکہ کسی امت میں اتنے نبی مبعوث نہیں کیے گئے جتنے بنی اسرائیل میں آئے۔ خوشحالی کی نعمت : وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا (اور تمہیں بادشاہ بنایا) یہ اس لئے فرمایا کہ ان کو فرعون کے بعد اس کے ملک کا مالک بنایا۔ اور جبابرہ کے بعد سرزمین فلسطین کا مالک بنایا۔ اور ان میں کثرت سے بادشاہ ہوئے۔ جیسے انبیاء کثرت سے ہوئے۔ بعض نے کہا کہ الملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 18–20

آیت نمبر 20, 19, 18 تفسیر :(وقالت …واحباء ہٗ ) (اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے) بعض نے کہا نصاریٰ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ شفقت اور رشتہ داری میں ہمارے باپ کی طرح ہیں اور ہم قرب او مرتبہ میں اس کی اولاد کی طرح ہیں اور ابراہیم نخعی (رح) نے فرمایا کہ یہود نے تورات میں لکھا ہوا پایا کہ اے میرے علماء کی اولاد تو انہوں نے احباری کے لفظ کو ابکاری سے تبدیل کردیا۔ اسی وجہ سے خود کو اللہ کا بیٹا کہنے لگا اور بعض نے کہا انباء اللہ کا معنی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے یبٹے ہیں۔ (قل فلم یعذبکم بذنوبکم) ( تو پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر) یعنی اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (وجعلکم ملوکا اور تمہیں ملوک یعنی فرمانروا بنایا) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ زید بن اسلم اور حسن کا قول ہے کہ ملک اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا اپنا گھر بیوی اور نوکر چاکر ہوں، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ملک اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس اتنی پونجی اور اتنا سامان ہو جس کی وجہ سے وہ کام کرنے کی تکلیف اٹھانے اور معاش کے لئے مشقتیں برداشت کرنے سے بچ جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ انہیں من و سلویٰ (بنی اسرائیل کو ان کی دشت گردی کے دوران ملنے والی خدائی خوراک) سر پر سایہ کرنے والے بادل اور بارہ چشمے بہانے والے چٹان کی بنا پر ملوک قرار دیا گیا۔ دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ مال و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 نبوت کی نعمت قدرت کی سب سے بڑی نعمت : سو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے سامنے اس نعمت عظمی کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ای میری قوم یاد کرو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے جن کے ذریعے اس نے تم لوگوں کو نور نبوت سے سرفراز فرمایا جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ کیونکہ نبوت و رسالت کی نعمت ہی وہ نعمت ہے جو انسان کو اس کے مقصد حیات سے آگہی بخشتی اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ پر ڈالتی ہے۔ اور اس کے بغیر انسان سراسر اندھیروں میں ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نہ اس کو اپنے مقصد وجود و تخلیق کا کوئی اتہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–21

یہود پر اللہ کے احسانات تشریح : ان آیات میں رکوع کے آخر تک اللہ تعالیٰ یہود کو اپنے دیے گئے وہ تمام انعامات یاد دلاتے ہیں اور حکم دیا کہ اب نبی اکرم ﷺ پر ایمان لاکر سیدھی راہ اختیار کرلو اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو بھی خبر دار کرتے ہیں کہ اگر تم نے گمراہی اختیار کی تو یہود کی طرح لعنت کردیے جاؤ گے۔ یہود پر جو انعامات، رحمتیں اور برکتیں اللہ تعالیٰ نے کیں ان کی تفصیل گزر چکی ہے۔ مختصراً یہاں بھی بیان کی گئی ہے۔ تمام نبی بنی اسرائیل ہی میں پیدا کیے گئے، پھر ان کو حکومت بھی دی گئی۔ مصر میں ان کو بڑا اقتدار ملا۔ مصر سے نکل کر شام ان کے نام کردیا اور فرمایا کہ جاکر اسے فتح کرلو۔ سیدنا ابراہیم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–26

رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26: اسرار و معارف : بنی اسرائیل کا بگاڑ : دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اس کا تعلق آیت : ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل کے ساتھ ہے یعنی ان سے عہد لیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو انعامات الہیٰ یاددلا کر جبارین (عمالقہ) سے جنگ کا حکم دیا لیکن اسرائیل نے عہد شکنی کی اور عمالقہ کے ساتھ جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ (کبیر) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین نعمتوں کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے یعنی ان سے جلیل القدر انبیا مبعوث کئے جیسے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) ، حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ، حضرت یوسف ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) دوم یہ کہ ان کو آزادی اور حکومت دی اور توحید کا علمبر دار بنایا جبکہ دوسری تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں (کبیر، قر طبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 19–20

(5:19) علی فترۃ من الرسل۔ فترۃ اسم فعل۔ مصدر۔ دھیما ہوجان۔ سست ہوجانا۔ کسی نبی کی شریعت کا دھیما پڑجانا۔ اور آئندہ نبی کا اس وقت تک مبعوث نہ ہونا۔ دونوں کے درمیانی وقفہ کو فترۃ کہتے ہیں۔ جب کوئی چیز چلتے چلتے رک جائے تو کہتے ہیں کہ فترا لشیٔ اور اگر کوئی کام پہلے بڑی سرگرمی سے ہو رہا ہو اور پھر وہ بند ہوجائے تو اس کے لئے بھی فتر کا استعمال ہوتا ہے۔ اور دو نبیوں کے درمیانی زمانہ کو فترۃ کہتے ہیں اور یہاں یہی مراد ہے۔ یعنی نبیوں کے مدتوں تک آنے کے بعد۔ ان۔ مادا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر 20 تا 26 لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–26

مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–20

[18] یعنی تورات و انجیل۔ [19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔ [20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔ [21] مراد ہدایت ہے۔ [22] یعنی قرآن مجید۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

نبوت اور بادشاہت : (ف 2) یہ واقعہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو کہ بنی اسرائیل ہمیشہ سے بزدل اور دون ہمت ہیں ۔ ان کی طرف سے اگر گرمجوشی کا اظہار نہیں ہوا تو مضائقہ نہیں آپ بدستور دعوت وتبلیغ کے فرائض ادا کئے جائیں ۔ اس آیت میں بتایا ہے کہ نبوت وبادشاہت اللہ کے زبردست انعام ہیں جن سے بنی اسرائیل کو افتخار بخشا گیا ، مگر یہ ہیں کہ پستی اور ذلت پر قانع ہیں ، حرکت واقدام کی صلاحیتیں قطعا مفقود ہیں اور نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض وبرکات سے استفادہ کریں ۔ نبوت کا مقصد دراصل دنیا میں صحیح اور عادلانہ بادشاہت کا قیام ہے ، ایک نبی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ افراد واشخاص کی تمام مخفی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر کئے تھے اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں ب ہت سے پیغمبر پیدا کئے اور تم کو صاحب ملک اور فرماں رواں بنایا اور تم کو بعض بعض چیزیں ایسیع طا فرمائیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں عطا کیں یعنی اقوام عالم میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمائیں۔ (تیسیر) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل اطمینان کے ساتھ مصر پر قابض ہوچکے تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

ف 5۔ عیسیٰ کے اور حضور ﷺ کے درمیان جو زمانہ ہے وہ زمانہ فترت کا کہلاتا ہے امام بخاری نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا کہ یہ زمانہ چھ سو سال کا ہے اور اس درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اسی طرح پیغام دیا تھا اور انہیں احسان الٰہی یاد دلایا تھا : 88: زیر نظر جو تقریر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے نقل ہوئی اس تقریر کا وہ زمانہ ہے جب نبی اسرائیل مصریوں کی غلامی ومحکومی سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی سے نقل و حرکت کر رہے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک ہی وقت میں ان کے دینی پیغمبر بھی تھے اور دنیوی لیڈر بھی۔ وہ انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ اپنے وطن فلسطین چلو ، ظالم اور غاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکالو اور خود اس پر حکمرانی کرو۔ تازہ ترین تاریخی اور اثری تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 ق م کا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Previous to the verses cited above, a pledge was mentioned in which the Bani Isra'il were bound to obey Allah and His Messenger. Mentioned along with it was their customary breach of trust, and its punishment. Taken up in the verses appearing above there is a particular event which shows such a breach. That event goes back to the time when Pharaoh and his army were drowned in the sea and Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his people, the Bani Isra'il, once delivered from the slavery of the Pharaoh, became the masters of Egypt. Then, to bless them with His added reward, and to let…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42. This refers to the glory the Israelites enjoyed before the time of Moses. There had appeared among them such great Prophets as Abraham, Isaac, Jacob and Joseph. Moreover, from the time of Joseph they were able to achieve very considerable power and authority in Egypt. For a considerable period they were the greatest rulers of the civilized world, reigning supreme in Egypt and the surrounding territories. People are generally inclined to regard the time of Moses as the starting point for the rise of the Israelites. The Qur'an, however, states categorically that the truly glorious period of…

Read the full tafseer →