محمد ﷺ مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں !
اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو حضرت عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، (فترۃ) کی اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے، بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی، بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی، کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی ﷺ کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 41
اس موقع پر یہ فقرہ نہایت بلیغ و لطیف ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو خدا پہلے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجنے پر قادر تھا اسی نے محمد ﷺ کو اس خد مت پر مامور کیا ہے اور وہ ایسا کرنے پر قادر تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس بشیر و نذیر کی بات نہ مانی تو یاد رکھو کہ اللہ قادر و توانا ہے۔ ہر سزا جو وہ تمہیں دینا چاہے بلا مزاحمت دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ ہمارے رسول (محمد ﷺ آپہنچے جو کہ تم کو (شریعت کی باتیں) صاف صاف بتلاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کہ رسولوں (کے آنے کا) سلسلہ (مدت سے) موقوف تھا (اور شرائع سابقہ مفقود اور گم ہوچکی تھیں اور انبیاء کا سلسلہ عرصہ دراز تک بند رہنے سے ان گم شدہ شرائع کے دوبارہ دریافت ہونے کا امکان بھی نہ رہا تھا۔ اس لئے اب کسی رسول کے آنے کی ضرورت شدید تھی تو ایسے وقت آپ کا تشریف لانا بڑی نعمت اور غنیمت سمجھنا چاہیے) تاکہ تم (قیامت میں) یوں نہ کہنے لگو (کہ دین کے معاملہ میں غلطی اور کوتاہی میں ہم اس لئے معزور ہیں کہ) ہمارے پاس (کوئی رسول جو کہ) بشیر اور نذیر (ہو جس سے ہم کو دین کا صحیح…
Read the full tafseer →يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
" فترۃ " کا مفہوم : " فترۃ " اس وقفہ کو کہتے ہیں جو ایک چیز کے ظہور کے بعد اس کے دوسرے ظہور سے پہلے واقع ہوتا ہے۔ مثلاً باری کے بخار کے دو حملوں کے درمیان جو وقفہ ہوگا اس کو فترۃ کہیں گے۔ آیت میں اس سے مراد وہ وقفہ ہے جو دو نبیوں کی بعثت کے درمیان ہوتا ہے۔
اہل کتاب کو تنبیہ : یہ اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ اپنی کتاب کی جن چیزوں کو تم نے چھپایا یا ضائع کردیا ان…
Read the full tafseer →19۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد رسول اللہ کے درمیان جو تقریباً 570 یا 60 سال کا فاصلہ ہے یہ زمانہ فترت کہلاتا ہے۔ اہل کتاب کو کہا جا رہا ہے کہ اس فترت کے بعد ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اب تم یہ بھی نہ کہہ سکو گے کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر و نذیر پیغمبر ہی نہیں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18: یہ بات یہود و نصاری بھی مانتے تھے کہ وہ محتلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے، لہذا بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے، البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون…
Read the full tafseer →(آیت) ” یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ما جآء نا من بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیر ونذیر واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (19)
اے اہل کتاب ‘ یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا اور دین کی واضح تعلیم دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا تاکہ تم یہ بات کہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ۔ سو دیکھو اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔۔۔۔۔۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “
اس فیصلہ کن مقابلے کی وجہ سے اب اہل کتاب کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی کہ یہ رسول امی انکی طرف نہیں بھیجا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ :
(آیت) ” یاھل الکتب…
Read the full tafseer →9 یعنی ہمارے احکام و شرائع نہایت توضیح کے ساتھ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ اس رکوع کے شروع سے " بنی اسرائیل " (یہود و نصاریٰ ) کے مختلف قسم کی شرارتوں اور حماقتوں کو بیان فرما کر یہ بتلایا تھا کہ اب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا جو تمہاری غلط کاریوں کو واضح کرتا ہے اور تم کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس پر متنبہ فرمایا کہ اب نور ہدایت کی طرف جانا دو چیزوں پر موقوف ہے۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرو اور مخلوق و خالق کے تعلق کے متعلق غلط عقیدے مت جماؤ۔ (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ) 5 ۔ المائدہ :17) سے…
Read the full tafseer →آیت 19 یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورٌ محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان چھ سو برس ایسے گزرے ہیں کہ اس دوران دنیا میں کوئی نبی ‘ کوئی رسول نہیں رہا۔ اس وقفے کو اصطلاح میں ’ فترت ‘ کہا جاتا ہے۔ پھر حضور ﷺ کی بعثت ہوئی اور پھر اس کے بعد تاقیام قیامت رسالت کا دروازہ بند ہوگیا۔
اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلاَ نَذِیْرٍز فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
سورۃ النساء میں یہی بات اس انداز سے بیان ہوچکی ہے : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ…
Read the full tafseer →5 اہل کتاب کو نبی آخر الزمان کا انتظار :۔ بنی اسرائیل میں بیک وقت ایک ہی زمانہ میں متعدد انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ دینی قیادت بھی انہیں کے پاس ہوتیتھی اور دنیوی قیادت بھی۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کی بعثت کا سلسلہ بند ہوا اور مسلسل چھ سو سال تک بند رہا۔ اس کے بعد نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے یہود اس نبی کے انتظار میں رہا کرتے اور مشرکین سے کہا کرتے کہ جب نبی آخر الزماں آئے گا تو ہم اس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر تم پر فتح حاصل کریں گے۔ مگر جب نبی آخر الزمان تشریف لائے تو یہود نے انہیں دی ہوئی بشارات کے مطابق ٹھیک طرح پہچان لیا۔ پھر صرف اس بنا پر آپ کی نبوت کا انکار کردیا کہ آپ بنی سرائیل…
Read the full tafseer →87 ۔ اور دنیا صدہا سال سے وحی تازہ کی نعمت سے محروم تھی) (آیت) ” رسولنا “۔ ہمارے یہ رسول جن کی آمد آمد تم اہل کتاب مدت سے سن رہے تھے، انجیل میں بار بار ذکر ” وہ نبی “ The Prophet کا یہود کی زبان سے آتا ہے۔ اس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہیں کہ ایک متعارف نبی کا آنا مدتوں سے مسلم چلا آرہا تھا۔ (آیت) ” یمین لکم “ تمہیں صاف صاف احکام شریعت بتاتے رہتے ہیں، (آیت) ” علی فترۃ من الرسل “۔ کی تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ علی حین فترۃ من الرسل، ای جاء کم علی حین فترۃ من ارسال الرسل (کشاف) ای علی فتور من الارسال (کبیر) فترۃ کے لفظی معنی انقطاع عمل یا سکون کے ہیں۔ ای سکون والاصل فیھا انقطاع العمل عما کان علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…
Read the full tafseer →یاہل الکتب قد جآء کم رسولنا اے اہل کتاب ہمارا پیغمبر یقیناً تمہارے پاس آچکا یعنی محمد۔
یبین لکم جو کھول کھول کر تم سے (ہدایت کے علامات اور دین کے احکام) بیان کر رہا ہے۔ علامات ہدایت اور شرائع دین مفعول ہے جس کو ظاہر الفہم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے یا یوں کہا جائے کہ مفعول کی ضرورت ہی نہیں ہے اس وقت ترجمہ اس طرح ہوگا جو تمہارے سامنے اظہار کر رہا ہے۔
علی فترۃ من الرسل ایسے وقت میں کہ رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا۔ عَلٰی فَتْرَۃٍکا تعلق جَآءَ کُمْ سے ہے ‘ یعنی رسول مکرم ایسے وقت آئے کہ مدت سے پیغمبر نہیں آئے تھے اور وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔
ان تقولوا ما جآء نا من بشیر ولا نذیر فقد جآء کم…
Read the full tafseer →(19) جب رسولوں کا سلسلہ کچھ عرصہ کیلئے بند ہوگیا تو خاتم النبین محمد ﷺ اوامرو نواہی خداوندی تمہارے پاس لے کر آئے تو تاکہ قیامت کے دن تم بہانے بناتے ہوئے یوں نہ کہو کہ جنت کی بشارت اور دوزخ سے ڈرانے والا کوئی نبی و رسول ہمارے پاس نہیں آیا۔
یقیناً رسول اکرم ﷺ تمہارے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ رسولوں کے بھیجنے پر اور جو رسولوں کی دعوت قبول کرے اس کو ثواب دینے پر اور انکار کرنے والے سخت سزا دینے پر قادر ہیں۔
Read the full tafseer →يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا۔۔ : یعنی ایک مدت سے رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ منقطع ہوچکا تھا، عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں ابن مریم ؑ کا تمام لوگوں سے زیادہ حق دار یا تمام لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واذکر فی الکتاب مریم) : 3442 ] بقول سلمان فارسی ؓ ان کی بعثت پر بھی 600 سال گزر چکے تھے۔ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب اسلام سلمان الانصاری : 3948 ] اور کوئی نبی نہیں آیا تھا، پھر آخری نبی رسول کریم ﷺ مبعوث…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 19۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یاھل الکتب قد جآء کم رسولنا “۔ یعنی محمد ﷺ (2) (ایضا)
(آیت) ” یبین لکم “ ان کی حجت کو ختم کرنے کے لیے تاکہ کل تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا (آیت) ” علی فترۃ من الرسل، فترۃ “۔ کا معنی ہے سکون، کہا جاتا ہے۔ فتری الشی، چیز سکون کرگئی، بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” علی فترۃ “۔ انبیاء کے درمیان انقطاعی دور، یہ ابو علی اور اہل علم کی ایک جماعت سے مروی ہے، یہ رمانی نے حکایت کیا ہے، فرمایا : اس میں اصل، اس عمل کا انقطاع ہے جس پر پہلے تھا یہ عربوں کے اس قول سے ہے، فتر عن عملہ وفترتہ عنہ “۔ وہ اپنے عمل سے رک گیا اور میں نے اسے روک دیا، اسی سے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی ہے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ ان کو اس سے رغبت دلائی اور ان کو ڈرایا تو انہوں نے انکار کردیا تو معاذ بن جبل، سعد بن عتادہ اور عقبہ بن وہب ؓ نے ان سے کہا اے یہود کی جماعت اللہ سے ڈرو، اللہ کی قسم تم البتہ جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں تم ہم کو ان کے آ نے سے پہلے بتلایا کرتے تھے اور ہم کو ان کی صفات بیان کیا کرتے تھے۔ رافع بن حریملہ اور وھب بن یہود نے کہا ہم نے تم کو کوئی بات نہیں کہی۔ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے بعد کوئی کتاب نہیں اتاری۔ اور نہ کسی بشر اور نذیر کو ان کے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ : اپنے اہل کتاب ] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ : تمہارے پاس آچکا ہے ] [ رَسُوْلُنَا : ہمارا رسول ] [ يُبَيِّنُ : وہ کھولتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ عَلٰي فَتْرَةٍ : وفقہ پر ] [ مِّنَ الرُّسُلِ : رسولوں کے ] [ اَنْ : کہ (کہیں)] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ مَا جَاۗءَنَا : نہیں آیا ہمارے پاس ] [ مِنْۢ بَشِيْرٍ : کوئی بھی بشارت دینے والا ] [ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ: اور نہ ہی کوئی خبردار کرنے والا ] [ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ : تو آچکا ہے تمہارے پاس ] [ بَشِيْرٌ: ایک بشارت دینے والا ] [ وَّنَذِيْرٌ ۭ: اور خبر دار کرنے والا ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر ایک چیز پر ] […
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ ) کہ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا جو واضح طور پر تمہیں بتاتا ہے اور اس کی آمد ایسے وقت میں ہوئی جبکہ رسولوں کے آنے کا سلسلے (مدت دراز سے) موقوف تھا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے نبیوں کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری تھا ایک نبی وفات پا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی مبعوث ہوجاتا تھا لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد سلسلہ نبوت منقطع ہوگیا تھا انہوں نے بشارت دی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ احمد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا…
Read the full tafseer →اظہار نعمت واتمام حجت بہ بعثت محمد یہ ﷺ ۔
قال تعالیٰ یا اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔
ربط) اوپر کی آیتوں میں یہود ونصاری کو خطاب تھا اب اس آیت میں بھی انہی کو خطاب اور تنبیہ ہے اور مقصود اظہار نعمت اور اتمام حجت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بعد شریعت محرف ہوچکی تھی اور روئے زمین سے ہدایت گم ہوچکی تھی لہذا ضرورت تھی کہ اللہ ایسے پیغمبر کو بھیجیں جو لوگوں پر راہ حق کو ظاہر کردے اور لوگوں پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے علاوہ ازیں تم بھی افسوس کیا کرتے تھے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ ان کی تربیت پاتے اب مدت کے بعد تم کو رسول کی صحبت میسر آئی غنیمت جانو اور اللہ قادر ہے کہ اگر تم اس رسول کی دعوت کو قبل نہ…
Read the full tafseer →47 یَا اَھْلَ الْکِتَابِ الخ یہ بعد عہد کی وجہ سے یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ الخ گذشتہ کا اعادہ ہے اور اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اہل کتاب کی اس قدر خباثتوں اور دینی خیانتوں اور غداریوں کے باوجود ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کیوں نہیں کردیا گیا۔ فترۃ کے معنی انقطاع کے ہیں یعنی ہمارا رسول اس وقت آیا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے بعد رسولوں کی آمد کا سلسلہ کئی صدیوں کے لیے منقطع ہوچکا تھا۔ اَنْ تَقُوْلُوْا یہاں اَنْ سے پہلے لام تعلیل اور اَنْ کے بعد لائے نفی مقدر ہے۔ اصل میں تھا لِئَلَّا تَقُوْلُوْا روح ج 6 ص 104 جیسا کہ سورة نساء کے آخر میں فرمایا یُبَیِّنُ اللہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ربط آیات
گذشتہ آیت میں اللہ ن عیسائیوں کے عقیدہ عنیبت کا ر ۔۔ فرمایا تھا نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینہ خدا سمجھ کر حلولی اور اتحادی عقیدہ کے قائل ہیں ۔ مگر ذات خداوندی اس چیز سے پاک ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) یا کسی دیگر شخصیت میں حلول کرے ‘ وہ کسی روپ میں ظاہر نہیں ہوتا ‘ لہٰذا عقیدہ عینیت سخت کا فرانہ عقیدہ ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ چاہے تو عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ ان کی والدہ اور روئے زمین پر بسنے والی ساری مخلوق کو یکدم ہلاک کردے ‘ اس کو کون روک سکتا ہے بہر حال اللہ نے یہود و نصاری دونوں گروہوں کی تردید فرمائی کہ دونوں گمراہی اور شرک میں مبتلا ہیں۔
اس سے پہلے یہودیوں…
Read the full tafseer →يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُـبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ 0ۡفَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ 0ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 19ۧ
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ترکیب : نحن الخ جملہ مقولہ ہے قالت الیہود الخ کا ‘ علی فترۃ موصوف من الرسل اس کی صفت مجموعہ حال ہے ضمیر یبین سے اور ممکن ہے کہ لکم کی ضمیر سے حال ہو۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہود و نصاریٰ کی عہد شکنی کا بیان تھا جس سبب سے ان پر آسمانی بلائیں نازل ہوئیں۔ یہاں یہ بات ظاہر کی جاتی ہے کہ جس قوم پر سے خدا کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو اس کی عقل میں بھی فتور آجاتا ہے۔ وہ نقصان کی صورت میں نفع ڈھونڈھتی ہے۔ وہ نافرمانی اور سرکشی کرکے جس کا بدلہ سخت عذاب ہے نہ صرف انعام کا ہی مستحق سمجھتی ہے بلکہ وہ خدا کے بیٹے اور محب ہونے کی بھی مدعی ہوجاتی ہے۔ جس کے سبب غرور میں آکر خدا کے احکام اور اس کے فرستادوں سے…
Read the full tafseer →یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآئَنَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ ز فَقَدْ جَآئَکُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 19)
(اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول ‘ رسولوں کے وقفے کے بعد تمہارے لیے دین کو واضح کرتا ہوا آگیا ہے ‘ مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا تو آیا ہی نہیں ‘ دیکھ لو ! ایک بشیر و نذیر تمہارے پاس آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
اس آیت کریمہ میں ایک جملہ استعمال ہوا ہے عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِرسولوں کے ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
یہاں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنھیں بطور نعمت اور احسان کے اس بات کی یاد دہانی کروائی جا رہی ہے کہ اے اہل کتاب اپنے ماضی کو ذرا جھانک کر دیکھو۔ جب تم مایوس ہو کر کہا کرتے تھے اب ہماری رہنمائی کے لیے قیامت تک کوئی پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔
اہل کتاب بالخصوص یہودیوں نے انبیاء (علیہ السلام) پر جو مظالم ڈھائے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک ان میں انبیائے کرام کی بعثت کا سلسلہ منقطع کردیا ” فترۃ “ کا معنی ہوتا ہے تسلسل کو روکنا یا ایک خاص مدت کے لیے کسی کام میں وقفہ پیدا کرنا۔ اس سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی مدت اور وقفہ…
Read the full tafseer →فترت رسل کا زمانہ :
آیت 19 : یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا (اے اہل کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارے رسول آئے) یعنی محمد ﷺ یُبَیِّنُ لَکُمْ (وہ کھول کھول کر یعنی احکام بیان کرتے ہیں) الشرائع کو ظاہر ہونے کی وجہ سے حذف کردیا۔ یا وہ چیز مراد ہے جن کو تم چھپاتے ہو۔ اور اس کو حذف کیا کیونکہ پہلے گزر چکا۔ یا مبین کو مقدر مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ تمہارے سامنے اظہار کر رہے ہیں۔ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ (انقطاع رسل کے زمانہ میں) یہ جاء کم سے متعلق ہے یعنی وہ تمہارے پاس اس وقت میں آئے کہ مدت سے پیغمبر نہ آئے تھے۔ اور وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 20, 19, 18
تفسیر :(وقالت …واحباء ہٗ ) (اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے) بعض نے کہا نصاریٰ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ شفقت اور رشتہ داری میں ہمارے باپ کی طرح ہیں اور ہم قرب او مرتبہ میں اس کی اولاد کی طرح ہیں اور ابراہیم نخعی (رح) نے فرمایا کہ یہود نے تورات میں لکھا ہوا پایا کہ اے میرے علماء کی اولاد تو انہوں نے احباری کے لفظ کو ابکاری سے تبدیل کردیا۔ اسی وجہ سے خود کو اللہ کا بیٹا کہنے لگا اور بعض نے کہا انباء اللہ کا معنی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے یبٹے ہیں۔ (قل فلم یعذبکم بذنوبکم) ( تو پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر) یعنی اگر…
Read the full tafseer →ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے یہود کو اسلام لانے کی رغبت دلائی اور یہود نے اس سے انکار کیا تو ان کا یہ انکار دیکھ کر معاذ بن جبل ؓ ‘ سعد بن عبادہ ؓ اور عقبہ بن وہب ؓ نے یہود سے کہا کہ خدا سے ڈرو بلا شک تم جانتے ہو کہ یہ نبی برحق ہیں اور ان کے نبی ہونے سے پہلے خود تم لوگ ان کے نبی ہونے کی خبر ہم کو دیا کرتے تھے اور ان کے اوصاف بیان کرتے تھے۔ یہ سن کر رافع بن حرملہ نے کہا کہ ہم نے تم سے کبھی اس طرح کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ ہمار اکہنا تو یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی اللہ نے نہیں بھیجا۔ تورات کے بعد کوئی کتاب اللہ نے نہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انہیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا (علی فترۃ من الرسل) ” رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد “ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کئے جائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کردی تاکہ وہ یہ نہ کہیں (ما جآء نا من بشیر ولا نذیر) ” کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا “ (فقد جآء کم بشیر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
قول باری ہے (وقالت ایھود و النصاری نحن ابناء اللہ واحباء ہ) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ بات یہودیوں کی ایک جماعت نے کہی تھی جب حضور ﷺ نے انہیں اللہ کی سزائوں سے ڈرایا تھا، انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ آپ ہمیں نہ ڈرائیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔
سدی کا قول ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ لالہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کو یہ وحی بھیجی تھی کہ تمہارا بیٹا درحقیقت وہی ہوگا جو سب سے پہلے پیدا ہوگا یعنی وہ تمہاری طرح ہوگا اور تم سب سے قریب ہوگا۔ حسن کہتے ہیں کہ یہودیوں نے آیت میں مذکورہ اس معنی کی بنا پر کہی تھی کہ بیٹا…
Read the full tafseer →57 بعثت پیغمبر کے احسان عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آگئے تمہارے پاس ہمارے رسول جو کھول کر بیان کرتے ہیں تمہارے لیے ہمارے احکام ایسے وقت میں جبکہ رسولوں کا آنا بند تھا نبی آخر الزمان کی بعثت و تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے۔ـ اور خاص کر ایسے میں جبکہ تم لوگ نور ہدایت کے خاص طور پر زیادہ محتاج تھے۔ پس ہمارے اس احسان کی قدر کرو اور اس کو اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت سمجھ کر اپناؤ کہ یہ حقِّ نعمت تم پر واجب ہے۔ اور اس سے منہ موڑنا کفران نعمت ہے جس کا انجام بہت برا اور بڑا بھیانک ہے کہ شکر نعمت، نعمت میں اضافے، بڑھوتری…
Read the full tafseer →یہود ونصارٰی کو جزاو سزا کی خبر
تشریح : یہود و نصارٰی کو پھر خبردار کیا جارہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لا کر سیدھی راہ اختیار کرلو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، اس لیے اس نے نیک کاموں پر جنت کی خوش خبری دینے والا اور برے کاموں پر جہنم کے عذاب سے ڈرانے والا پیغمبر سیدنا محمد ﷺ بھیج دیا ہے اگر تم ان پر ایمان نہ لاؤ گے تو پھر یاد رکھو جزا وسزا دینے والا تمہیں معاف نہ کرے گا۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔
اسرار و معارف :
پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی ایک مدت سے رسولوں کی آمد کا یہ سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) بن اسرائیل کے آخری نبی تھے انکی بعثت پر بھی تقریبا چھ سال گزر چکے تھے اور کوئی نبی نہیں آیا تھا پھر آخری نبی آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اس آیت پر حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول نہیں آیا تھا سو فرمایا کہ تم افسوس کرتے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ تربیت ان کی پاتے، اب بعد مدت تم و رسول کی صحبت میسر ہوئی غنیمت جانو اور اللہ تعالیٰ قادر ہے اگر تم قبول کر وگے اور خلق کھڑی کر دیگا تم سے بہتر۔ یہ جیسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قوم نے جہاد کرنا پسند نہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(5:19) علی فترۃ من الرسل۔ فترۃ اسم فعل۔ مصدر۔
دھیما ہوجان۔ سست ہوجانا۔ کسی نبی کی شریعت کا دھیما پڑجانا۔ اور آئندہ نبی کا اس وقت تک مبعوث نہ ہونا۔ دونوں کے درمیانی وقفہ کو فترۃ کہتے ہیں۔ جب کوئی چیز چلتے چلتے رک جائے تو کہتے ہیں کہ فترا لشیٔ اور اگر کوئی کام پہلے بڑی سرگرمی سے ہو رہا ہو اور پھر وہ بند ہوجائے تو اس کے لئے بھی فتر کا استعمال ہوتا ہے۔ اور دو نبیوں کے درمیانی زمانہ کو فترۃ کہتے ہیں اور یہاں یہی مراد ہے۔ یعنی نبیوں کے مدتوں تک آنے کے بعد۔ ان۔ مادا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
آیت نمبر 15 – 19
لغات القرآن : یبین (وہ کھولتا ہے۔ واضح کرتا ہے) ۔ تخفون (تم چھپاتے ہو) ۔ یعفوا (وہ معاف کرتا ہے) ۔ نور (روشنی۔ چمک) ۔ مبین (واضح۔ کھلا ہوا) ۔ رضوان (رضا۔ خوشنودی) ۔ سبل السلام (سلامتی کے راستے) ۔ اذن (اجازت ) ۔ یملک (مالک ہے) ۔ یھلک (وہ ہلاک کرتا ہے ۔ ہلاک کرے گا) ۔ ام (ماں) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) ۔ ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) ۔ احباء (محبوب۔ چہیتے) ۔ لم یعذب (وہ عذاب کیوں دے گا ؟ ) ۔ ذنوب (ذنب) ۔ (گناہ) ۔ یغفر (وہ معاف کردے گا) ۔ المصیر (ٹھکانا۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ فترۃ (سلسلہ کا بند ہو جانا۔ ڈھیلا اور سست پڑجانا) ۔ بشیر (خوش خبری دینے والا) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : نبی…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک قریب چھ سو برس کی مدت نبی سے خالی رہی۔ اس کے بعد حضور کے تشریف لانے کی منت کا ظہار فرمایا جاتا ہے کہ نہایت حاجت کے وقت تم پر اللہ کی عظیم نعمت بھیجی گئی۔ اب تم کو یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ ہمارے پاس تنبیہ کرنے والے تشریف نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[18] یعنی تورات و انجیل۔
[19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔
[20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔
[21] مراد ہدایت ہے۔
[22] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →(ف 1) فترۃ کے معنی السکون بعد الحدۃ کے ہیں ، یعنی مسیح (علیہ السلام) تک دمادم رسو آتے رہے اور تقریبا ساڑھے چھ سو سال تک پھر کسی کو خلعت بعثت سے نہیں نوازا گیا ، مقصد یہ تھا کہ عالم انسانیت پر پوری تاریکی چھا جائے اور لوگ بےچینی اور اضطراب کے ساتھ اس آفتاب نبوت کا انتظار کریں جو ایک دم آکر کفر وحبل کی تاریکیوں کو روشنی ونور سے بدل دے ۔
Read the full tafseer →ف 1 اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا یہ رسول یعنی محمد ﷺ جو تم کو ہمارے احکام صاف اور واضح طور پر بتاتا ہے ایسے وقت آیا ہے اور یہ رسول تمہارے پاس ایسے وقت میں پہنچا ہے جبکہ ایک عرصہ سے رسولوں کی تشریف آوری کا سلسلہ موقوف اور بند تھا تاکہ تم قیامت میں عذر کے طور پر یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا یعنی قیامت میں اپنی نافرمانی کے متعلق یہ عذر نہ پیش کرسکو کہ اے پروردگار ! ہمارے پاس کوئی رسول تو آیا ہی نہیں جو ہم کو شریعت کے احکام بتاتا اور ہم تیری اطاعت کرتے لہٰذا ! تم کو مطلع کیا جاتا ہے کہ تمہارے پاس اب وہ رسول آ پہونچا جو بشیر بھی ہے اور نذیر بھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 5۔ عیسیٰ کے اور حضور ﷺ کے درمیان جو زمانہ ہے وہ زمانہ فترت کا کہلاتا ہے امام بخاری نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا کہ یہ زمانہ چھ سو سال کا ہے اور اس درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے۔
Read the full tafseer →ایک مدت سے رسالت کا سلسلہ بند تھا اور اب رسالت بنی اسماعیل پر تمام کی جا رہی ہے :
85: سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری نبی سیدنا مسیح (علیہ السلام) تھے اور ان کے بعد ایک مدت جوتقریباً سارھے پانچ صد سال سے بھی متجاوز ہے کے بعد رسالت کا سلسلہ بھی بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں جاری کرنے کے بعد تا قیامت بند کرنے کا اعلان جاری کیا جا رہا ہے اب نہ ہی کوئی نیا رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی نیا پیغام۔ فترت کیا ہے ؟ فترت کے لفظی معنی سست ہونے ، ساکن ہونے اور کسی کام کو معطل کرنے کے ہیں اور مراد اس سے یہ ہے کہ ایک مدت تک سلسلہ وحی بندرہا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کے درمیانی…
Read the full tafseer →Commentary
The word, "fatrah" in: عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ (after a gap between Messengers) literally means to slacken, to become dormant or to suspend or to terminate an activity. Leading authorities in Tafsir have given this very meaning of fatrah in this verse. It signifies the suspension of the coming of prophets for a certain interval of time which is the period of time in between Sayyidna ` Isa and the Last of the Prophets, Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ .
Verification of the Gap
According to Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ there is a period of one thousand and seven hundred…
Read the full tafseer →41. In the present context this sentence is extremely eloquent and subtle. It signifies that the same God who had sent warners and bearers of glad tidings to men in the past has now sent Muhammad (peace be on him) with the same task. At the same time it also means that they {should not treat the message of this warner and bearer of glad tidings lightly. They should bear in mind that if they disregard the injunctions of God, He can chastise them as He wills, for He is All-Powerful and All-Mighty.
Read the full tafseer →