Al-Maaida 5:18

Al-Maaida · from ayah 18

5:18

وَقَالَتِ الْیَهُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ؕ— قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ؕ— بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ؕ— یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا ؗ— وَاِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ۟وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ وَالنَّصٰرٰى نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ‌ ؕ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ‌ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ‌ ؕ يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا‌ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But the Jews and the Christians say, "We are the children of Allah and His beloved." Say, "Then why does He punish you for your sins?" Rather, you are human beings from among those He has created. He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them, and to Him is the [final] destination.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:18

یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعﺚ اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وه جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے، زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہود و نصاری کہتے ہیں کہ : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (ان سے) کہو کہ پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم انہی انسانوں کی طرح انسان ہو جو اس نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہود اور نصارٰی نے کہا: ہم اﷲ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ آپ فرما دیجئے: (اگر تمہاری بات درست ہے) تو وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے؟ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) جن (مخلوقات) کو اﷲ نے پیدا کیا ہے تم (بھی) ان (ہی) میں سے بشر ہو (یعنی دیگر طبقاتِ انسانی ہی کی مانند ہو)، وہ جسے چاہے بخشش سے نوازتا ہے اور جسے چاہے عذاب سے دوچار کرتا ہے، اور آسمانوں اور زمین اور وہ (کائنات) جو دونوں کے درمیان ہے (سب) کی بادشاہی اﷲ ہی کے لئے ہے اور (ہر ایک کو) اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہود و نصاریٰ دونوں کہتے ہیں کہ : ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھئے کہ : (اگر یہی بات ہے تو) پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے ؟ بلکہ (حقیقت یہی ہے کہ) تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اس نے دوسرے انسان پیدا کیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ ہی کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہود اور نصاری نے دعوی کیا کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے جرموں پر سزا کیوں دیتا رہا ہے ؟ بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں بشر ہو۔ وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہود و نصاریٰ نے کہا کہ ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہو کہ پھر وہ تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے تمہارے گناہوں پر ؟ (سو نہیں ایسا نہیں) بلکہ تم بھی عام انسان ہو اس کی مخلوق میں سے وہ بخشش فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے، اور عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس ساری کائنات کی جو کہ ان دونوں کے درمیان میں ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، (سب کو)

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لڑکے اور اس کے چہیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے تو پھر خدا تمہیں گناہوں پر سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم (محض) بشر ہو مخلوقات میں سے۔ وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہی کی حکومت آسمانوں اور زمین پر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس (سب) پر بھی ہے اور اسی کی طرف واپسی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہودی اور نصرانی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے بڑے چہیتے ہیں (تو ان سے) کہیے کہ پھر وہ تمہیں عذاب کیوں دیتا رہا ہے تمہارے گناہوں کی پاداش میں ؟ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے (نعوذ باللہ) اور اس کے مقبول ترین لوگ ہیں۔ ان سے پوچھو پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ اصل میں تم بھی ویسے ہی انسان ہو، جیسے باقی تمام انسان اللہ نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی مالک ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Jews and the Christians say: 'We are Allah's children and His beloved ones.' Ask them: 'Why, then, does He chastise you for your sins?' You are the same as other men He has created. He forgives whom He wills and chastises whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and all that is between them. To Him is the eventual return.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Jews and the Christians say, :We are the sons of Allah and His favourites. Say, :Why then would He punish you for your sins? In fact, you are just human, among those He has created. He forgives whom He wills and punishes whom He wills. Unto Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth and what lies between them, and unto Him is the return.

— Muhammad Taqi Usmani

The Jews and the Christians say, :We are the sons of Allah and His favourites. Say, :Why then would He punish you for your sins? In fact, you are just human, among those He has created. He forgives whom He wills and punishes whom He wills. Unto Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth and what lies between them, and unto Him is the return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Jews and the Christians say: "We are the children of Allah and His loved ones." Say: "Why then does He punish you for your sins" Nay, you are but human beings of those He has created, He forgives whom He wills and He punishes whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and all that is between them; and to Him is the return (of all).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Jews and Christians say: We are sons of Allah and His loved ones. Say: Why then doth He chastise you for your sins? Nay, ye are but mortals of His creating. He forgiveth whom He will, and chastiseth whom He will. Allah's is the Sovereignty of the heavens and the earth and all that is between them, and unto Him is the journeying.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But the Jews and the Christians say, "We are the children of Allah and His beloved." Say, "Then why does He punish you for your sins?" Rather, you are human beings from among those He has created. He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them, and to Him is the [final] destination.

— Saheeh International

The Jews and Christians call themselves the beloved sons of God. (Muhammad), ask them, "Why does God punish you for your sins? In fact, you are mere human beings whom He has created. He forgives and punishes whomever He wants. To Him belongs all that is in the heavens, the earth, and all that is between them and to Him do all things return.

— Muhammad Sarwar

And the Jews and the Christians say: We are the sons of Allah and His beloved ones. Say: Why does He then chastise you for your faults? Nay, you are mortals from among those whom He has created, He forgives whom He pleases and chastises whom He pleases; and Allah's is the kingdom of the heavens and the earth and what is between them, and to Him is the eventual coming.

— Muhammad Habib Shakir

And the Jews and the Nazarenes say: we are the children of God and His loved ones. Say thou: wherefore then doth He torment you for your sins? Aye! ye are but men, part of those whom He hath created. He forgiveth whomsoever He will and tormenteth whomsoever He will. And Allah's is the dominion of the heavens and the earth and that which is in- between the twain, and unto Him in the return.

— Abdul Majid Daryabadi

(Both) the Jews and the Christians say: "We are sons of Allah, and his beloved." Say: "Why then doth He punish you for your sins? Nay, ye are but men,- of the men he hath created: He forgiveth whom He pleaseth, and He punisheth whom He pleaseth: and to Allah belongeth the dominion of the heavens and the earth, and all that is between: and unto Him is the final goal (of all)"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–18

اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْمَآىِٕدَة 39 عیسائیوں نے ابتداءً مسیح ؑ کی شخصیت کو انسانیت اور الوہیت کا مرکب قرار دے کر جو غلطی کی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے مسیح ؑ کی حقیقت ایک معما بن کر رہ گئی جسے ان کے علماء نے لفاظی اور قیاس آرائی کی مدد سے حل کرنے کی جتنی کوشش کی اتنے ہی زیادہ الجھتے چلے گئے۔ ان میں سے جس کے ذہن پر اس مرکب شخصیت کے جزو انسانی نے غلبہ کیا اس نے مسیح ؑ کے ابن اللہ ہونے اور تین مستقل خداؤں میں سے ایک ہونے پر زور دیا۔ اور جس کے ذہن پر جزو الوہیت کا اثر زیادہ غالب ہوا اس نے مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ کا جسمانی ظہور قرار دے کر عین اللہ بنادیا اور اللہ ہونے کی حیثیت ہی سے مسیح ؑ کی عبادت کی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–18

خلاصہ تفسیر اے اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (محمد ﷺ آئے ہیں (جن کے کمال علمی کا تو یہ حال ہے کہ) کتاب (کے مضامین) سے جن چیزوں کو تم چھپالیتے ہو، ان میں سے بہت سی باتوں کو (جن کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو ظاہراً تحصیل علوم نہ فرمانے کے باوجود خالص وحی کے ذریعہ واقف ہوکر) تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور (کمال علمی و اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ جن چیزوں کو تم نے چھپالیا تھا ان میں سے) بہت سے امور کو (جاننے اور باخبر ہونے کے باوجود اخلاقاً ان کے اظہار سے) درگزر فرماتے ہیں (جبکہ ان کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، صرف تمہاری رسوائی ہی ہوتی ہو۔ اور یہ کمال علمی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ اہل کتاب کا محبوب خدا ہونے کا زعم باطل : نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ۔ اس ٹکڑے پر تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بحث گزر چکی ہے۔ اہل کتاب کا یہی زعم باطل تھا جس نے ان کو عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے سب سے زیادہ بےپروا بنایا۔ انہوں نے گمان کیا کہ وہ خدا کے محبوبوں اور برگزیدوں کی اولاد ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یہودیوں نے حضرت عزیر کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ابن اللہ کہا اور اپنے آپ کو بھی ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے) اور اس کا محبوب قرار دے لیا۔ بعض کہتے ہیں یہاں ایک لفظ محذوف ہے یعنی اتباع ابناء اللہ ہم اللہ کے بیٹوں (عزیر و مسیح) کے پیروکار ہیں (دونوں مفہوموں میں سے کوئی سا بھی مفہوم مراد لیا جائے۔ اس سے ان کے تفاخر اور اللہ کے بارے میں بےجا اعتماد اظہار ہوتا ہے۔ جس کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں۔ 18۔ 2 اس میں ان کے مذکورہ تفاخر کا بےبنیاد ہونا واضح کردیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہوتے یا محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے تم جو چاہو کرو اللہ تم سے باز پرس نہیں کرے گا تو پھر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

18: یہ بات یہود و نصاری بھی مانتے تھے کہ وہ محتلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے، لہذا بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے، البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ (آیت) ” وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحبآؤہ “۔ (5 : 18) (یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ابوت (والد ہونا) کا عقیدہ اپنایا ‘ اگرچہ اس ابوت کے لئے وہ کئی تصورات کے قائل ہوں ‘ اس کا پر تو عقیدہ توحید پر بہرحال پڑتا ہے اور اللہ کی الوہیت اور مسیح کی عبدیت کے درمیان فیصلہ کن فرق کمزور پڑجاتا ہے اور جب تک اللہ اور بندوں کے درمیان واضح فرق نہ ہو اس وقت تک نہ عقائد درست ہو سکتے ہیں اور نہ زندگی درست راہ پر استوار ہو سکتی ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ وہ سمت متعین ہوجائے جس کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 شاید اپنے کو " بیٹے " یعنی اولاد اس لئے کہتے ہوں کہ ان کی " بائبل " میں خدا نے اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو اپنا پہلوٹا بیٹا اور اپنے کو اس کا باپ کہا ہے۔ ادھر نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو " ابن اللہ " مانتے ہیں تو اسرائیل کی اولاد اور حضرت مسیح کی امت ہونے کی وجہ سے غالباً ابناء اللہ کا لفظ اپنی نسبت استعمال کیا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ " بیٹا " کہنے سے مراد یہ ہو کہ ہم خدا کے خواص اور محبوب ہونے کی وجہ سے گویا اولاد ہی جیسے ہیں۔ اس صورت میں " ابــناء " کا حاصل وہ ہی ہوجائے گا جو لفظ " احبــاء " کا ہے۔ 5 چونکہ کسی مخلوق کا حقیقۃً " ابن اللہ " ہونا بالکل محال اور بد یہی البطلان ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ ط یعنی بیٹوں کی مانند ہیں ‘ بڑے لاڈلے اور پیارے ہیں۔ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ط اگر تم اللہ کی اولاد ہو ‘ اس کے بڑے چہیتے ہو ‘ تو کیا اسی لیے بخت نصر Nebukadnezar کے ہاتھوں اس نے تمہیں پٹوایا ‘ تمہارے چھ لاکھ افراد قتل کر وا دیے ‘ چھ لاکھ قیدی بنے ‘ تمہارا ہیکل اوّل بھی شہید کردیا گیا۔ پھر آشوریوں نے تمہاری سلطنت اسرائیل کو روند ڈالا۔ پھر یونانیوں کے ہاتھوں تمہارا استحاصل ہوا۔ پھر رومیوں نے تمہارے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور رومن جنرل طیطس Titus نے تمہارا دوسرا ہیکل بھی مسمار کردیا۔ کیا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 یعنی تم کوئی بالاتر مخلوق نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح ہی ہو۔ تمہاری بھی اللہ کے حضور ویسے ہی باز پرس ہوگی جیسے دوسرے لوگوں کی ہوگی پھر اللہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا اس کے گناہوں کے عوض اسے دھر لے گا اور جو کچھ وہ کرے وہ مختار کل ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے کوئی چیز اس کے آگے دم نہیں مار سکتی اور اس کے حضور سب کو پیش ہونا پڑے گا اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82 ۔ (اور اس لیے عام نوع انسان سے کہیں افضل و اشرف) (آیت) ’ نحن “۔ صیغہ جمع متکلم (ھم) سے مرادیہاں افراد نہیں بلکہ قوم یا ملت، مجموعہ افراد مراد ہے۔ یعنی یہود من حیث القوم اور نصاری بہ حیثیت ملت۔ موجود محرف اور مسخ شدہ بائبل تک میں اس قسم کے حوالے موجود ہیں :۔ ” خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے “۔ (خروج۔ 4:22) ” تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو “۔ (استثناء 14: 1) ” جب اسرائیل لڑکا تھا میں نے اس کو عزیز رکھا اور اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا “۔ (ہوسیع۔ 1 1: 1) (جیوش انسائیکلوپیڈیا) (جلد 6 ۔ صفحہ 15) میں بھی انہیں عقائد کی تکرار موجود ہے) ” جتنوں نیا سے قبول کیا، اس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالت الیہود والنصری نحن ابنوا اللہ واحبآوہ اور یہودی و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے ان کے اس قول سے مراد یہ تھی کہ اللہ باپ کی طرح ہم پر شفیق و مہربان ہے اور ہم اولاد کی طرح اس کے مقرب اور بلاواسطہ تعلق رکھنے والے ہیں۔ ابراہیم نخعی نے کہا یہودیوں نے توریت میں لکھا دیکھا تھا۔ اے میرے علماء کے بیٹو ! انہوں نے احبار کے لفظ کو ابکار کے لفظ سے بدل دیا (اور یوں کہنے لگے کہ اللہ نے ہم کو اپنی دوشیزاؤں کی اولاد قرار دیا ہے گویا ہمارا باپ صرف خدا ہے) اسی لئے وہ اپنے کو اللہ کی اولاد کہنے لگے۔ بعض علماء نے کہا ابنٰؤا اللّٰہ سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین پر ایسے قائم ہیں جیسا کہ اس کے بیٹے اور محبوب یا ہم مثل اولاد اور معشوقوں کے مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اولاد انبیاء ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے دریافت کیجیے کہ تم نے چالیس دن تک جو بچھڑے کی پوجا کرکے خدا کی نافرمانی کی جس کی خدا نے تمہیں سزا دی، اگر تم خدا کے بیٹے ہو تو پھر خدا نے کیوں تمہیں یہ سزا دی، کیا باپ اپنے بیٹے کو آگ میں جلا سکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہو، یہودیت اور نصرانیت سے جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والے ہیں اور جو اسی پر مرتا ہے، اسے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ۔۔ : اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب لوگ ہیں، چناچہ بائبل میں آج تک اس قسم کے حوالے موجود ہیں : ”خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔“ (خروج : 4: 22) ”تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو۔“ (استثناء : 14 : 22) اور انجیل میں ہے کہ مسیح ؑ نے نصاریٰ سے کہا : ”میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں۔“ اگرچہ بعض یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ بیٹے سے مراد پیارا اور محبوب ہے، مگر پھر بھی ان کا یہ فخر اور دوسروں پر برتری کا اظہار کہ ہم خاص حق کے مقرب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 18۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالت الیھود والنصری نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے یہود کی ایک قوم کو سزا سے ڈرایا تو انہوں نے کہا : ہم نہیں ڈرتے، کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (2) (اسباب النزول، صفحہ 128) ابن اسحاق نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس نعمان بن اضاء بحری بن عمرو اور شاس بن عدی آئے انہوں نے آپ سے بات چیت کی اور آپ نے بھی ان سے کلام کی، آپ ﷺ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا انہوں نے کہا : اے محمد ﷺ کیا آپ ہمیں ڈراتے ہیں ؟ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابن ابی، بحری بن عمرو اور شاس بن عدی کے پاس آئے ان سے آپ نے بات کی اور انہوں نے آپ سے بات کی اور ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے اے محمد ہم کو مت ڈرائیے اللہ کی قسم ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں جیسے نصاری کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحباوہ سے آخری آیت تک (واللہ اعلم) قولہ تعالیٰ لفظ آیت قل فلم یعذبکم ایک عورت کا اپنے بچے سے محبت کا ذکر (2) امام احمد نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَتِ : اور کہا ] [ الْيَھُوْدُ : یہودیوں نے ] [ وَالنَّصٰرٰى: اور نصاری نے ] [ نَحْنُ : ہم ] [ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ : اللہ کے بیٹے ہیں ] [ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ : اور اس کے چہیتے ہیں ] [ ۭقُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ فَلِمَ : پھر کیوں ] [ يُعَذِّبُكُمْ : وہ عذاب دیتا ہے تم کو ] [ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ : تمہارے گناہوں کے سبب سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ بَشَرٌ: ایک بشرہو ] [ مِّمَّنْ : اس میں سے جو ] [ خَلَقَ ۭ: اس نے تخلیق کیا ] [ يَغْفِرُ : وہ بخشتا ہے ] [ لِمَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيُعَذِّبُ : اور وہ عذاب دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہود و نصاریٰ کی گمراہی جنہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے پیارے ہیں ان آیات میں اول تو یہود و نصاریٰ کا ایک دعویٰ باطلہ نقل فرمایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں (والعیاذ اللہ) یہ بھی ان کے اپنے تراشیدہ باطل دعوؤں میں سے ایک دعویٰ ہے۔ شیطان انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے ایمان اور اعمال صالحہ سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے طرح طرح کی باتیں سمجھاتا ہے انہیں باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے یہود و نصاریٰ کو یہ سمجھایا کہ تم تو اللہ کی اولاد ہو اور اس کے محبوب ہو، تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ کیسے ہی اعمال کرو تمہارا سب کچھ معاف ہے۔ ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ابطال دعوائے اہل کتاب دربارہ قرب واختصاص خداوندی۔ قال تعالی۔ وقالت الیھود۔۔۔ الی۔۔۔ المصیر۔ ربط) گذشتہ آیات میں یہود ونصاری کے بعض قبائح کا بیان تھا اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ باوجود کفر وشرک اور معصیت میں ملوث ہونے کے دعوی یہ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور مقبول اور مقرب ہیں اور یہود اور نصاری کے ہر ایک فریق نے الگ الگ یہ کہا کہ ہم لوگ اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے علماء یہود سے کچھ گفتگو کی اور ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو اہوں نے یہ کہا کہ اے محمد آپ ہم کو خدا کے عذاب سے کیا ڈراتے ہو ہم تو اللہ کے بیٹے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45 وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰی الخ یہ یہود و نصاری کے ان علماء اور درویشوں پر شکوہ ہے جو خود بھی مشرک تھے اور عوام کو بھی شرک سکھاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ حضرت عزیر، حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہم السلام) کو خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں دوسری طرف عوام اور جہلائے قوم کے دلوں پر اپنے تقدس کا سکہ بٹھانے کے لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ وہ لوگ حضرت عزیر، اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کو الوہیت کا درجہ دیکر اپنے لیے بھی وہی مقام حاصل کرنا چاہتے تھے جیسا کہ آج کل کے گدی نشین اور پیر حضرت نبی علیہ الصلوۃ والسلام، شیخ عبدالقادر اور دیگر اولیاء کو اولہیت کا درجہ دے کر خود بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–19

ربط آیات گذشتہ آیت میں اللہ ن عیسائیوں کے عقیدہ عنیبت کا ر ۔۔ فرمایا تھا نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینہ خدا سمجھ کر حلولی اور اتحادی عقیدہ کے قائل ہیں ۔ مگر ذات خداوندی اس چیز سے پاک ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) یا کسی دیگر شخصیت میں حلول کرے ‘ وہ کسی روپ میں ظاہر نہیں ہوتا ‘ لہٰذا عقیدہ عینیت سخت کا فرانہ عقیدہ ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ چاہے تو عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ ان کی والدہ اور روئے زمین پر بسنے والی ساری مخلوق کو یکدم ہلاک کردے ‘ اس کو کون روک سکتا ہے بہر حال اللہ نے یہود و نصاری دونوں گروہوں کی تردید فرمائی کہ دونوں گمراہی اور شرک میں مبتلا ہیں۔ اس سے پہلے یہودیوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ۝ 0ۭ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ۝ 0ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ۝ 0ۭ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0ۭ وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ 0ۡوَاِلَيْہِ الْمَصِيْرُ۝ 18 هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–19

ترکیب : نحن الخ جملہ مقولہ ہے قالت الیہود الخ کا ‘ علی فترۃ موصوف من الرسل اس کی صفت مجموعہ حال ہے ضمیر یبین سے اور ممکن ہے کہ لکم کی ضمیر سے حال ہو۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں یہود و نصاریٰ کی عہد شکنی کا بیان تھا جس سبب سے ان پر آسمانی بلائیں نازل ہوئیں۔ یہاں یہ بات ظاہر کی جاتی ہے کہ جس قوم پر سے خدا کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو اس کی عقل میں بھی فتور آجاتا ہے۔ وہ نقصان کی صورت میں نفع ڈھونڈھتی ہے۔ وہ نافرمانی اور سرکشی کرکے جس کا بدلہ سخت عذاب ہے نہ صرف انعام کا ہی مستحق سمجھتی ہے بلکہ وہ خدا کے بیٹے اور محب ہونے کی بھی مدعی ہوجاتی ہے۔ جس کے سبب غرور میں آکر خدا کے احکام اور اس کے فرستادوں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

گزشتہ آیات میں قرآن کریم ہمیں اہل کتاب کے بار بار نقض عہد کی داستان سناتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود سے اپنی عبادت اور اطاعت کا عہد لیا تو انھوں نے اسے بار بار توڑا اور اس کی کئی مثالیں بیان فرمائیں۔ اسی طرح نصاریٰ سے بھی اسی طرح کا عہد لیا گیا تو اس کی ایک مثال گزشتہ آیت میں بیان کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ توحید جس پر پورے دین کا مدار ہے انھوں نے اسے ہی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔ قرآن پاک کا پڑھنے والا یہ پڑھ کر حیران ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ جیسی امتیں جن میں بار بار اللہ کے نبی اور رسول آئے اور ان میں کتابیں اترتی رہیں ‘ صحیفے نازل ہوتے رہے جس سے بار بار انھیں اللہ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اب عیسائیوں اور یہودیوں کو مشترکہ خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کی گمراہی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 116) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گو یا وہ آسمان سے گرا اور پر ندوں نے اسے نوچ ڈالا یا وہ تیز ہواؤں نے اسے کسی گہری کھڈ میں دے مارا۔ (الحج : 31) یہ شرک کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزء قرار دیا پھر آگے چل کر مذہبی تقدس کی دھاک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18 : وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّـآؤُہٗ (کہا یہود اور نصاریٰ نے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں) یعنی اس کے ہاں اسی طرح معزز ہیں جیسے بیٹا باپ کے ہاں یا اللہ تعالیٰ کے بیٹوں مسیح وعزیر کے حمایتی ہیں۔ جاس کہ عبداللہ بن زبیر ابو خبیب کے پیروکاروں کو الخبیبیون کہا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ مسیلمہ کذاب کا گروپ کہتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ابناء ہیں اور بادشاہ کے اقارب اور خدام کہا کرتے ہیں کہ : نحن ابناء الملوک۔ یا مضاف محذوف ہے نحن ابناء رسل اللہ۔ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ (کہہ دیں کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کے بدلے سزا کیوں دیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 18–20

آیت نمبر 20, 19, 18 تفسیر :(وقالت …واحباء ہٗ ) (اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے) بعض نے کہا نصاریٰ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ شفقت اور رشتہ داری میں ہمارے باپ کی طرح ہیں اور ہم قرب او مرتبہ میں اس کی اولاد کی طرح ہیں اور ابراہیم نخعی (رح) نے فرمایا کہ یہود نے تورات میں لکھا ہوا پایا کہ اے میرے علماء کی اولاد تو انہوں نے احباری کے لفظ کو ابکاری سے تبدیل کردیا۔ اسی وجہ سے خود کو اللہ کا بیٹا کہنے لگا اور بعض نے کہا انباء اللہ کا معنی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے یبٹے ہیں۔ (قل فلم یعذبکم بذنوبکم) ( تو پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر) یعنی اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن جریر ابی حاتم اور ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز اہل کتاب کے کچھ علماء آنحضرت ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کو طرح طرح کی نصیحت کی اور عذاب آخرت سے ڈرایا انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کی طرح ہم کو عذاب آخرت سے کیا ڈراتے ہو عام لوگوں اور ہم میں بڑا فرق ہے ہم عام مخلوقات کی طرح نہیں ہیں بلکہ خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ اور ان کے جواب کو یوں جھٹلایا کہ دنیا میں تو تم کو عام مخلوقات کی طرح تمہارے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ بہت لوگ تم نافرمانی سے سور اور بندر ہوگئے۔ تمام قوم کی بادشاہت نیست و نابود ہوگئی دن بدن ذلت و خواری بڑھتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 18 اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنا بریں یہ اعتضاد باطل ان میں در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق ای کنظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الووہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیرپیدا ہوئے۔ کیا انہوں آدم اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انہوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 18–19

قول باری ہے (وقالت ایھود و النصاری نحن ابناء اللہ واحباء ہ) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ بات یہودیوں کی ایک جماعت نے کہی تھی جب حضور ﷺ نے انہیں اللہ کی سزائوں سے ڈرایا تھا، انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ آپ ہمیں نہ ڈرائیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ لالہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کو یہ وحی بھیجی تھی کہ تمہارا بیٹا درحقیقت وہی ہوگا جو سب سے پہلے پیدا ہوگا یعنی وہ تمہاری طرح ہوگا اور تم سب سے قریب ہوگا۔ حسن کہتے ہیں کہ یہودیوں نے آیت میں مذکورہ اس معنی کی بنا پر کہی تھی کہ بیٹا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 " صاحبزادگی " کا مرض اور اس کے شاخسانے : سو یہود و نصاریٰ نے کہا کہ " ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں "۔ اس لئے ہمارے لئے وہ خاص حقوق ہیں جو اور کسی کو نہیں مل سکتے۔ یہاں تک کہ جنت میں بھی ہمارے سوا اور کوئی نہیں جاسکے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس زعم اور گھمنڈ کو اس طرح صریح لفظوں میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَارٰی } ۔ (البقرۃ : 111) سو یہ ہے " صاحبزادگی " اور اپنی بڑائی اور بزرگی کے دعویٰ و گھمنڈ کا وہ مرض جو قوموں کو بھی لاحق ہوا اور اشخاص و اَفراد کو بھی۔ اور اس خود ساختہ زعم اور گھمنڈ نے آگے طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–18

عیسائیوں کی گمراہی تشریح : جیسا کہ آیت میں یہود و نصارٰی کی تا ریخ اور ان کے اعمال و عقائد کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کا انجام بھی بتایا گیا ہے اور پھر بار بار خبردار کیا جارہا ہے کہ کفر، ہٹ دھرمی، نافرمانی اور بد عہدی سے بچو کیونکہ تم چاہے پیرزادے ہو چاہے کتنے ہی بڑے پیغمبر کی اولاد ہو لوٹ کر تم نے اللہ کے پاس ہی جانا ہے سزا اور جزا اپنے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہی ملے گی چاہے تم اپنے آپ کو اللہ کے مقبول ترین بندے سمجھو چاہے اپنے رسول کو اللہ یا اس کا بیٹا بنا دو اس پر دگنا اعذاب ہوگا۔ کیونکہ اس بحث میں پڑ کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے اللہ کے بیٹے ہیں، یا اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔ اسرار و معارف : پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ یہود کی ایک جماعت کو اسلام کی طرفک دعوت دی اور ان کو عذاب الہیٰ سے ڈارایا اس پر ہو کہنے لگے کہ تم ہمیں اللہ کے عذاب سے کیسے ڈراتے ہو ہم تو اللہ تعالیٰ ٰٗ کے بیٹ اور اس کے محبوب ہیں، چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انجیل میں ہے کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) نے نصاری ٰ سے کہا میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس جاتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کے ابنا اور احبا ہونے کے مدعی تھے بعض نے یہاں مضاف محذوف مانا ہے ای نحن ابنا رسل اللہ واحباہ، حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو دوسروں سے فائق سمجھتے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ ہمارے اسلاف کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:18) المصیر ۔ صار یصیر (ضرب) سے اسم ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا ، قرار گاہ۔ المصیر مصدر بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–19

آیت نمبر 15 – 19 لغات القرآن : یبین (وہ کھولتا ہے۔ واضح کرتا ہے) ۔ تخفون (تم چھپاتے ہو) ۔ یعفوا (وہ معاف کرتا ہے) ۔ نور (روشنی۔ چمک) ۔ مبین (واضح۔ کھلا ہوا) ۔ رضوان (رضا۔ خوشنودی) ۔ سبل السلام (سلامتی کے راستے) ۔ اذن (اجازت ) ۔ یملک (مالک ہے) ۔ یھلک (وہ ہلاک کرتا ہے ۔ ہلاک کرے گا) ۔ ام (ماں) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) ۔ ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) ۔ احباء (محبوب۔ چہیتے) ۔ لم یعذب (وہ عذاب کیوں دے گا ؟ ) ۔ ذنوب (ذنب) ۔ (گناہ) ۔ یغفر (وہ معاف کردے گا) ۔ المصیر (ٹھکانا۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ فترۃ (سلسلہ کا بند ہو جانا۔ ڈھیلا اور سست پڑجانا) ۔ بشیر (خوش خبری دینے والا) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔ تشریح : نبی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آنحضرت ﷺ کے ساتھ علمائے اہل کتاب کی بحث شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز اہل کتاب کے کچھ علماء آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے ان کو طرح طرح کی نصیحت کی اور عذاب آخرت سے ڈرایا، انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کی طرح ہم کو عذاب آخرت سے کیا ڈراتے ہو۔ عام لوگوں میں اور ہم میں بڑا فرق ہے۔ ہم عام مخلوقات کی طرح نہیں ہیں بلکہ ہم خدا کے بیٹے اور پیارے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو یوں جھٹلایا کہ دنیا میں تو تم کو عام مخلوقات کی طرح تمہارے کئے کی سزا مل رہی ہے۔ بہت سے لوگ تم میں سے سور اور بندر ہوگئے۔ تمام قوم کی بادشاہت نیست و نابود ہوگئی۔ دن بدن ذلت و خواری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–20

[18] یعنی تورات و انجیل۔ [19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔ [20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔ [21] مراد ہدایت ہے۔ [22] یعنی قرآن مجید۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں یہودونصاری کے پندار مذہبی کا ذکر ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے نہایت مقرب خیال کرتے ۔ اور اس وجہ سے اسلام کی برکات سے تمتع اندوز ہونے سے قاصر رہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم ہرگز کوئی امتیازی شان نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا جہان کی ذلتیں تمہارے شامل حال ہیں ، خدا کا تقرب علو عظمت کا مترادف ہے ، یہ ناممکن ہے کہ کوئی قوم خدا کے ہاں معزز ہو اور پھر دنیا میں اس کے لئے کوئی نعمت نہ ہو اور وہ حقارت وغلامی کی زندگی بسر کرے ۔ حل لغات : ابنآء اللہ ۔ خدا کے بیٹے ۔ احبآؤہ : اسکے دوست ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 اور یہود و نصاریٰ دونوں اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے دریافت کے لئے کہ ایسا ہے تو اچھا یہ تو بتائو کہ تم کو تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں کرتا ہے ؟ اور تم کو قیامت میں تمہارے گناہوں کے عوض سزا کیوں دے گا ؟ جو کچھ تم کہتے ہو یہ بات نہیں ہے بلکہ تم بھی ان عام آدمیوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے ایک معمولی آدمی ہو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بخش دے اور وہ جس کو چاہے سزا دے اور خاص اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی اور ان چیزوں پر بھی اور جو ان دونوں آسمان و زمین کے مابین ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو بوجہ اس کے کہ انبیاء کی اولاد واشیاع ہیں بہ نسبت دوسرے لوگوں کے گواہ ہمارے ہی مذہب کے کیوں نہ ہوں اللہ کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ ہم سے باوجود عصیان کے بھی اوروں کے برابر ناخوش نہیں ہوتے جیسے باپ کے ساتھ اولاد کو خصوصیت ہوتی ہے کہ اگر وہ نافرمانی بھی کرے تب بھی اس کے قلب پر وہ اثر نہیں ہوتا جیسا کہ کسی غیر آدمی کے اس کی نافرمانی کرنے سے ہوتا ہے اللہ اس کا رد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب کی یہ گمراہی کہ انہوں نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور نجات یافتہ ہیں : 82: یہود ونصاریٰ کی اس گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کس دھڑلے سے یہ بات کہہ دی کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ یہ بات دونوں گروہوں کے نام سے منسوب کی گئی ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہی اس گمراہی میں مبتلا تھے۔ رہی یہ بات کہ یہ نظریہ پوری قوم کا تھا ، اکثریت کا تھا یا قوم کے احبارو رہبان کا ۔ ان ساری باتوں کا احتمال موجود ہے اور قرآن کریم نے ان میں سے کسی گروہ یا ان کی کسی خاص تعداد یا مخصوص لوگوں کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں ! دوسری جگہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم نے احبارو رہبان کو ارباباً من…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

Commentary Refuted here in this verse is only one saying of the Christians - which is the belief of a sect among them - that Sayyidna Masih (علیہ السلام) is God. But, the argument employed in the refutation virtually covers the false beliefs of all sects against the inalienable principle of Tauhid, that is the Oneness of Allah. This may be a belief in a son of God or a belief in one of the three Gods - the argument refutes all of them. That Sayyidna Masih (علیہ السلام) and his blessed mother have been mentioned here jointly could be because of two wise considerations. Firstly, it is the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

39. The original mistake committed by the Christians in declaring Jesus to be a combination of human and divine essences turned Jesus into a mystery for them, and the more the Christian scholars tried to solve this mystery by resorting to conjecture and rhetorical extravagance the more involved the whole matter became. Those who were more impressed by the humanity of Jesus stressed his being the son of God and considered him to be one of the three gods. Those who were more impressed by the divinity of Jesus considered him to be none other than God, stressing that he was the human incarnation…

Read the full tafseer →