Explained with ayahs 17–18
اللہ وحدہ شریک ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة الْمَآىِٕدَة 39
عیسائیوں نے ابتداءً مسیح ؑ کی شخصیت کو انسانیت اور الوہیت کا مرکب قرار دے کر جو غلطی کی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے مسیح ؑ کی حقیقت ایک معما بن کر رہ گئی جسے ان کے علماء نے لفاظی اور قیاس آرائی کی مدد سے حل کرنے کی جتنی کوشش کی اتنے ہی زیادہ الجھتے چلے گئے۔ ان میں سے جس کے ذہن پر اس مرکب شخصیت کے جزو انسانی نے غلبہ کیا اس نے مسیح ؑ کے ابن اللہ ہونے اور تین مستقل خداؤں میں سے ایک ہونے پر زور دیا۔ اور جس کے ذہن پر جزو الوہیت کا اثر زیادہ غالب ہوا اس نے مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ کا جسمانی ظہور قرار دے کر عین اللہ بنادیا اور اللہ ہونے کی حیثیت ہی سے مسیح ؑ کی عبادت کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (محمد ﷺ آئے ہیں (جن کے کمال علمی کا تو یہ حال ہے کہ) کتاب (کے مضامین) سے جن چیزوں کو تم چھپالیتے ہو، ان میں سے بہت سی باتوں کو (جن کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو ظاہراً تحصیل علوم نہ فرمانے کے باوجود خالص وحی کے ذریعہ واقف ہوکر) تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور (کمال علمی و اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ جن چیزوں کو تم نے چھپالیا تھا ان میں سے) بہت سے امور کو (جاننے اور باخبر ہونے کے باوجود اخلاقاً ان کے اظہار سے) درگزر فرماتے ہیں (جبکہ ان کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، صرف تمہاری رسوائی ہی ہوتی ہو۔ اور یہ کمال علمی…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
پال کے عقیدے کی اصل روح : اب یہ نصاری کے نقض عہد کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے تمام عہدومیثاق کی جو جڑ ہے یعنی توحید، اسی پر کلہاڑا رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ کے بجائے مسیح ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے۔ موجودہ مسیحیت جس کا بانی پال ہے، اصلاً تو…
Read the full tafseer →17۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور ملکیت تامہ کا بیان فرمایا ہے۔ مقصد عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد وابطال ہے۔ حضرت عیسیٰ کے عین اللہ ہونے کے قائل پہلے تو کچھ ہی لوگ تھے یعنی ایک ہی فرقہ۔ یعقوبیہ کا یہ عقیدہ تھا لیکن اب تمام عیسائی الوہیت مسیح کے کسی نہ کسی انداز سے قائل ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں اب عقیدہ تثلیث یا اقانیم ثلاثہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال قرآن نے اس مقام پر تصریح کردی کہ کسی پیغمبر اور رسول کو الٰہی صفات سے متصف قرار دینا کفر صریح ہے۔ اس کفر کا ارتکاب عیسائیوں نے، حضرت مسیح کو اللہ قرار دے کر کیا، اگر کوئی اور گروہ یا فرقہ کسی اور پیغمبر کو بشریت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
17: مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا ؛ لیکن آنحضرت ﷺ نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی، بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود و نصاری کی رسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، آنحضرت ﷺ نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” لقد کفرا لذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم ، (قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر (17)
” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے ۔ اے نبی ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔
حضرت…
Read the full tafseer →12 یعنی مسیح کے علاوہ خدا کوئی اور چیز نہیں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ نصاریٰ میں سے " فرقہ یعقوبیہ " کا ہے جس کے نزدیک مسیح کے قالب میں خدا حلول کئے ہوئے ہے (معاذاللہ) یا یوں کہا جائے کہ جب " نصاریٰ " حضرت مسیح کی نسبت " الوہیت " کے قائل ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی زبان سے اقرار کرتے جاتے ہیں یعنی خدا ایک ہی ہے تو ان دونوں دعو وں کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مسیح کے سوا کوئی خدا نہ ہو۔ بہرحال کوئی صورت لی جائے اس عقیدہ کے کفر صریح ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
1 یعنی اگر فرض کرو خدائے قادر وقہار یہ چاہے کہ حضرت مسیح اور مریم اور اگلے پچھلے کل زمین پر بسنے والوں کو اکٹھا کر کے ایک دم میں ہلاک…
Read the full tafseer →آیت 17 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے ہاں جودو عقیدے رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ ہی مسیح علیہ السلام ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ خدا خود ہی انسانی شکل میں ظہور کرلیتا ہے۔ اس عقیدے کو God Incarnate کہا جاتا ہے ‘ یعنی اوتار کا عقیدہ جو ہندوؤں میں بھی ہے۔ جیسے رام چندر جی ‘ کرشن جی مہاراج ان کے ہاں خدا کے اوتار مانے جاتے ہیں۔ چناچہ عیسائیوں کا فرقہ Jacobites خاص طور پر God Incarnate کے عقیدے کا سختی سے قائل رہا ہے ‘ کہ اصل میں اللہ ہی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل میں دنیا…
Read the full tafseer →45 نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد :۔ یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰ کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہوگئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گیا لہذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی…
Read the full tafseer →76 ۔ اس عقیدہ کو جو کھلا ہوا شرک ہے، خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن مجید ” نصرانیت سے تعبیر نہیں کرتا، نہ ایسے لوگوں کو نصاری یا اہل الکتب سے موسوم کرتا ہے۔ ان کا ذکر تو (آیت) ” الذین قالوا انا نصری “۔ کے تحت میں ابھی اوپر آچکا ہے، اب جن لوگوں کا ذکر ہے، ان کے لیے تو کھلا ہوا اور قطعی حکم تکفیر ہی کا ہے۔ (آیت) ” لقد کفر الذین “۔ الخ، مسیحت موجودہ کی متعدد شاخوں کے عقیدے تو کھلے ہوئے مشرکانہ ہیں، مثلا Monarchianism Docetism , Sabellanism وغیرہا۔ ان کے لیے ملاحظہ ہوراقم سطور کی تفسیر انگیریزی، اردو میں ان کی اصطلاحوں کے ترجمے بھی دشوار ہیں۔ اب رہی وہ مسیحیت جو مسلک جمہور کے مطابق ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…
Read the full tafseer →لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم جن لوگوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے وہ قطعاً کافر ہوگئے۔ یہ قول فرقۂ یعقوبیہ کا تھا جو اللہ اور مسیح کے اتحاد کا قائل تھا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اتحاد کا صراحتہً قائل کوئی بھی نہ تھا لیکن فرقۂ یعقوبیہ باوجود توحید کا قائل ہونے کے عقیدہ رکھتا تھا کہ مسیح کے اندر الوہیت تھی اسلئے انکے عقیدہ پر اتحاد لازم آتا تھا ‘ اس گروہ کی جہالت واضح کرنے اور عقیدہ کی خرابی ظاہر کرنے کیلئے نتیجۂ عقیدہ کو عقیدہ کی شکل میں ذکر فرما دیا (یعنی زبان سے اگرچہ وہ اللہ کو واحد کہتے تھے مگر مسیح کے اندر الوہیت ہونے کے قول پر اللہ کا مسیح ہونا ہی لازم آتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(16) اور اللہ تعالیٰ روشن چیز یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے جو حلال و حرام کو بیان کرتے ہیں اور سلامتی کا راستہ یعنی دین اسلام بتلاتے ہیں اور سلام اللہ تعالیٰ کا نام بھی ہے اور ان کو اپنے حکم اور توفیق اور کرامت سے کفر سے ایمان کی طرف لاتے ہیں اور پھر دین اسلام کے قبول کرنے کے بعد ان کو ثابت قدمی عطا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا۔۔ : یعنی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور مسیح ایک ہی چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پرانے زمانے میں یہ صرف نصرانیوں کے ایک فرقے یعقوبیہ کا عقیدہ تھا، مگر اس زمانے میں نصرانیوں کے جو تین فرقے پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب اگرچہ تثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح ؑ کو الٰہ (خدا) ماننا ہے، گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح کے ایک چیز ہونے کے قائل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔ (المنار) مسلمانوں میں الحمد للہ توحید الٰہی پر قائم لوگ کثرت سے موجود ہیں، مگر کئی ایسے گمراہ بھی ہیں جنھوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 17۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “۔ سورة النساء کے آخر میں اس کا بیان گزر چکا ہے، اس کلام کی دلالت میں نصاری کا کفر ثابت ہوا یہ ان کے اس قول کی وجہ سے تھا کہ (آیت) ” ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو مسیح بن مریم ہے دین کی جہت سے کیونکہ اگر انہوں نے یہ حکایت کی جہت سے کہا ہوتا اس بات کا انکار کرتے ہوئے تو وہ کافر نہ ہوتے۔
(آیت) ” قل فمن یملک من اللہ شیئا “۔ یعنی اللہ کے امر سے۔ (آیت) ” یملک “۔ کا معنی یقدر ہے، یہ عربوں کے قول : ملکت علی فلان امرہ “ ، یعنی میں اس پر قادر ہوا، یعنی کوئی اللہ کے امر کو روکنے پر قادر ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(1) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) نے فرمایا کہ جب سموئل بن صوریا نے یہ بتلایا کہ نبی ﷺ نے رجم کے بارے میں سچ فرمایا ہے جو ان کی کتاب میں موجود ہے اور اس نے کہا ہم اس (حکم) کو چھپاتے تھے تو وہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب اور وہ سفید رنگ کا نوجوان تھا لمبے قد کا فدک والوں میں ہے۔
توراۃ اور قرآن کریم کی مشترکہ باتیں
(2) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت یبین لکم کثیرا یعنی بہت باتوں کو تمہارے لئے محمد ﷺ نے بیان فرمایا…
Read the full tafseer →[ لَقَدْ كَفَرَ : یقینا کفر کیا ہے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اِنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ هُوَ الْمَسِيْحُ : مسیح ہی ہیں ] [ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ: جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں ] [ قُلْ : آپ کہیے ] [ فَمَنْ : تو کون ] [ يَّمْلِكُ : اختیار رکھتا ہے ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (اس کے مقابلہ پر ] [ شَـيْـــًٔـا : کچھ بھی ] [ اِنْ : اگر ] [ اَرَادَ : وہ ارادہ کرے ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّهْلِكَ : وہ ہلاک کرے ] [ الْمَسِيْحَ : مسیح کو ] [ ابْنَ مَرْيَمَ : جو بی بی مریم کے بیٹے ہیں ] [ وَاُمَّهٗ : اور ان کی والدہ کو ] [ وَمَنْ : اور اس کو جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں…
Read the full tafseer →نصاریٰ کا کفر جنہوں نے مسیح ابن مریم کو معبود بنایا
اس کے بعد نصاری کی گمراہی بیان فرمائی ان میں سے ایک فریق کہتا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے ان کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور روئے زمین کے تمام افراد کو ہلاک کرنا چاہئے تو انہیں کون بچا سکتا ہے چونکہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہما السلام) کی موت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کو اللہ نے موت دی ہے اس لئے ان سے سوال کر کے خود ان پر حجت قائم کی گئی جسے موت آجائے وہ کیسے خدا ہوسکتا ہے۔ (اور لفظ اِنْ اَرَدَ اس لیے فرمایا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ابھی تک زندہ ہیں…
Read the full tafseer →ابطال عقیدہ الوہیت عیسیٰ علیہ السلام۔
قال تعالی، لقد کفرالذین۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیت یعنی ویھدیھم الی صراط مستقیم میں سیدھے راستے کا ذکر فرمایا اور صراط مستقیم وہ متعدل راہ ہے جو افراط وتفریط کے ٹھیک درمیان میں ۃ و اب اس آیت میں نصاری کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد فرماتے ہیں کہ شرک اور تثلیث کی راہ صراط مستقیم سے بہت دور ہے چناچہ فرماتے ہیں بلاشبہ اور قطعا کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ وہی مسیح ہے جو مریم کا بیٹا ہے اس آیت میں فرقہ حلولیہ کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کے جسم یا روح میں حلول کرسکتا ہے نصاری اگرچہ صراحۃ اس کے قائل نہیں لیکن اگر حقیقت کی…
Read the full tafseer →42 لَقَدْ کَفَرَ الخ یہ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلُنَا الخ سے متعلق ہے۔ اے اہل کتاب ہمارا آخری رسول تمہارے پاس آچکا ہے۔ جو ان سچی باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے جنہیں تم چھپاتے تھے۔ من جملہ ان کے ایک بات یہ تھی کہ جو لوگ غیر خدا مثلاً حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ وہ عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح میں حلول کیے ہوئے ہے یا اللہ تعالیٰ بشکل مسیح دنیا میں آیا ہے (شاہ عبد القادر) ایسے لوگ یقینا بلا شبہ کافر ہیں۔ یہ ان عیسائیوں کے خیال کا رد ہے جو حضرت مسیح میں اللہ تعالیٰ کے حلول کے قائل ہیں۔ یعنی یعقوبی فرقہ (روح جلد 6 ص 98) لیکن حضرت شیخ فرماتے…
Read the full tafseer →رابطہ آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے نقض عہد کا ذکر کیا اور دونوں گروہوں کو دنیا میں دی گئی سزا سے آگاہ کیا یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ نقض عہد کے نتیجے میں ملعون ٹھہرے۔ سنگدل بنے ‘ انہوں نے کتاب الٰہی میں تحریف کی اور جو نصیحت انہیں کی گئی اس کو فراموش کردیا۔ اسی طرح نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ وہ بھی نصیحت کو بھول گئے جس کے نتیجے میں ان کے درمیان عداوت دشمنی اور کینہ ڈال دیا گیا۔ پھر ان کو اشارتا یہ جتلا دیا کہ ایک دن آنے والا ہے۔ جس دن اس دنیا میں کی گئی کار گزاری کی سزا انہیں بھگتنا ہوگی ۔ پھر فرمایا اگر دنیا کی لعنت اور آخرت کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ہُوَالْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ 0ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللہِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّہْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا 0ۭ وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا 0ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ 0ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 17
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اس کے بعد تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے خطاب کرکے فرماتا ہے قدجاء کم رسولنا الخ کہ تمہارے پاس ہمارا وہ رسول آچکا جو تم پر ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے کہ جن کو تم چھپایا کرتے تھے یعنی آنحضرت ﷺ کے ظہور کے متعلق اور نیز رجم وغیرہ احکام کے متعلق اور جن باتوں کے ظاہر کرنے میں کچھ حرج نہیں ان میں تم سے درگذر کرتا ہے یا یوں کہو کہ احکام فطرت اور ملت میں جس قدر تم نے تحریفات کر رکھی ہیں وہ سب کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو نور اور قرآن کو کتاب مبین بیان فرما کر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ قرآن نے جو کچھ مذہب انبیاء میں تحریفات واقع ہوگئی تھیں سب کی اصلاح کردی ہر بات کو جس کی ضرورت تھی بیان کردیا…
Read the full tafseer →لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ط وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ط یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 17)
(بےشک کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح ابن مریم ہے۔ (اے نبی ا ! ان سے کہہ دیجئے کہ) کون اللہ سے کچھ بھی اختیار رکھتا ہے کہ اگر وہ ارادہ کرے کہ وہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم اور اس کی ماں کو اور جتنے زمین میں ہیں ‘ ان سب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یکے بعد دیگرے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں رسول کریم ﷺ کی تشریف آوری اور کتاب مبین کا مقصد بیان کرنے کے بعد اب پھر عیسائیوں کے عقیدہ کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قرآن مجید یہ حقیقت منکشف کرتا ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو وہ اس قدر ژود نگاہی اور کج فکری کا شکار ہوتی ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی کہ اس کے نظریات میں کس قدر تضاد اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال میں عیسائی مبتلا ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا مکمل ہوتا ہے غور فرمائیں کہ عیسائی ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدت کا دعویٰ کرتے…
Read the full tafseer →مذہب نصاریٰ
آیت 17 : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم اللہ ہیں وہ بیشک کافر ہیں) اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کو پختہ کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ وہی مسیح ہے نہ کہ کوئی دوسرا، ایسا کہنے والے پکے کافر ہوگئے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نصاریٰ میں ایک فرقہ ایسا تھا جو ایسا کہتے تھے۔ یا یہ کہ ان کا مذہب اس حد تک پہنچا دیتا ہے جہاں انہوں نے اعتقاد کیا۔ کہ وہ (مسیح) پیدا کرتے ٗ زندہ کرتے اور مارتے ہیں (اس سے خود لازم آتا ہے کہ جب وہ مسیح میں خدائی صفات مانتے ہیں تو گویا خود ان کو خدا مانتے ہیں۔ خواہ زبان سے نہ کہیں) قُلْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 17, 16, 15
تفسیر :(یاھل الکتاب) ( اے کتاب والو ! ) یہاں دونوں اہل کتاب کو خطاب ہے۔ ( یاھل الکتب قد جاء کم ومولنا یبئن لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب) ( تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے) یعنی تورات و انجیل میں جو باتیں چھپاتے ہو جیسے نبی کریم ﷺ کی صفات اور رجم کی آیت وغیرہ ۔ ( ویعفواعن کثیر) ( اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے) یعنی بہت ساری چیزیں جو تم چھپاتے ہو ان سے درگزر کرتا ہے اور کوئی مواخذہ نہیں کرتا۔ ( قدجاء کم من اللہ نور وکتب مہین) ( بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی) یعنی محمد ﷺ اور بعض نے کہا…
Read the full tafseer →اوپر گزرچکا ہے کہ نصاریٰ کے چند فرقے ہیں ان میں سے فرقہ یعقوبیہ وغیرہ کا اعتقاد ہے کہ گیہوں کے کھانے سے آدم (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اس کے اثر سے اولاد آدم ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کی سزا وار ہوگئی اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت میں اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین پر آیا اور یہود کے ہاتھوں سے سولی پر چڑھا تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ اس قتل کی سزا سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرا کہ یہود کی کیا حقیقت ہے جو وہ اللہ کے ساتھ گستاخی کرسکیں وہ تو صاحب قدرت ہے۔ کہ یہود اور تمام دنیا کی مخلوقات کو ایک دم میں چاہے تو ہلاک کر دیوے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16
جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا اور وہ یہ کہ آپ ﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتی کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہشمند کے لئے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، تو ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امور…
Read the full tafseer →کفر کی تشریح
قول باری ہے (لقد کفوالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح بن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم، یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے، اے محمد ﷺ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے) ۔
ان لوگوں کو کفر کا نشان اس لئے لگ گیا کہ انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی تھی کہ وہ اسے اپنا دین سمجھتے تھے، انہیں اس کا اعتقاد تھا اور اس کی صحت کا اقرار کرتے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ یہ بات دوسرے لوگوں کے عقیدے کی حکایت کے طور پر کہتے اور خود اس کا انکار کرتے تو کافر قرار نہ دیئے…
Read the full tafseer →51 حلول مسیح کا عقیدہ قطعی اور کھلا کفر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا کافر ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح بن مریم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح میں حلول فرما لیا۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کی شکل میں خود جلوہ افروز ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز یہ کہ عیسیٰ خدائی صفات و اختیارات کا حامل و مظہر ہے کہ وہ حاجت روا، مشکل کشا اور غیب داں ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ اس طرح کی شرکیات میں آج امت مسلمہ کے بھی بہت سے کلمہ گو مبتلا وگر فتار ہیں۔ اور وہ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی انہی باتوں کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں۔ پیغمبر کو حاجت روا، مشکل کشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
عیسائیوں کی گمراہی
تشریح : جیسا کہ آیت میں یہود و نصارٰی کی تا ریخ اور ان کے اعمال و عقائد کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کا انجام بھی بتایا گیا ہے اور پھر بار بار خبردار کیا جارہا ہے کہ کفر، ہٹ دھرمی، نافرمانی اور بد عہدی سے بچو کیونکہ تم چاہے پیرزادے ہو چاہے کتنے ہی بڑے پیغمبر کی اولاد ہو لوٹ کر تم نے اللہ کے پاس ہی جانا ہے سزا اور جزا اپنے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہی ملے گی چاہے تم اپنے آپ کو اللہ کے مقبول ترین بندے سمجھو چاہے اپنے رسول کو اللہ یا اس کا بیٹا بنا دو اس پر دگنا اعذاب ہوگا۔ کیونکہ اس بحث میں پڑ کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے اللہ کے بیٹے ہیں، یا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔
اسرار و معارف :
پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی خدا اور مسیح ( علیہ السلام) ایک چیز ہیں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے زمانہ قدیم میں یہ صرف عیسائیوں کے ایک فرقے یعقوب کا عقیدہ تھا مگر اس زمانہ میں عیسائیوں کے جو تین فرقے پرر ٹسٹنٹ کیتھو لک اور آرتھو ڈیکس پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب کے سب اگرچہ ثلیث کے قائل ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیح لوہیت ہے گویا وہ سب کے سب خدا اور مسیح ( علیہ السلام) کے ایک چیز ہونے کے کر قائل ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب پر کافر ہونے کا حکم لگایا ہے (المنار)5 وہ مالک کل ارمختار ہے اور سب چیزوں پر اے قدرت اور تفوق حاصل ہے وہ چاہے تو سب کی آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے اگر مسیح ( علیہ السلام) خدا ہوتے کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(5:16) سبل السلام۔ سلامتی کی راہیں۔ یھدی کا مفعول ہے۔ اور یھدی بہ میں ضمیر ہ کتب مبین کی طرف راجع ہے۔
باذنہ ۔ بتوفیقہ ۔ وبارادتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
آیت نمبر 15 – 19
لغات القرآن : یبین (وہ کھولتا ہے۔ واضح کرتا ہے) ۔ تخفون (تم چھپاتے ہو) ۔ یعفوا (وہ معاف کرتا ہے) ۔ نور (روشنی۔ چمک) ۔ مبین (واضح۔ کھلا ہوا) ۔ رضوان (رضا۔ خوشنودی) ۔ سبل السلام (سلامتی کے راستے) ۔ اذن (اجازت ) ۔ یملک (مالک ہے) ۔ یھلک (وہ ہلاک کرتا ہے ۔ ہلاک کرے گا) ۔ ام (ماں) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) ۔ ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) ۔ احباء (محبوب۔ چہیتے) ۔ لم یعذب (وہ عذاب کیوں دے گا ؟ ) ۔ ذنوب (ذنب) ۔ (گناہ) ۔ یغفر (وہ معاف کردے گا) ۔ المصیر (ٹھکانا۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ فترۃ (سلسلہ کا بند ہو جانا۔ ڈھیلا اور سست پڑجانا) ۔ بشیر (خوش خبری دینے والا) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : نبی…
Read the full tafseer →اوپرگزر چکا ہے کہ نصاری کے چند فرقے ہیں ان میں سے فرقہ یعقوبیہ وغیرہ کا یہ اعتقاد ہے کہ گیہوں کے کھانے سے حضرت آدم نے جو اللہ کی نافرمانی کی اس کے اثر سے اولاد آدم میں بھی نافرمانی اور گنہگاری کی جرات پیدا ہوگئی ۔ جس سے اولاد آدم ہیمشہ کے لئے دوزخ میں رہنے کی سزاوار ہوگئی۔ اس لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت میں اللہ تعالیٰ زمین پر آیا اور یہود کے ہاتھوں کے ہاتھوں سولی پر چڑھا تاکہ بنی آدم کے گناہوں کا کفارہ اس قتل کی سزا سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹہرایا کہ یہود کی کیا حقیقت ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ ایسی گستاخی کرسکیں، وہ تو صاحب قدرت ہے کہ یہود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[18] یعنی تورات و انجیل۔
[19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔
[20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔
[21] مراد ہدایت ہے۔
[22] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کو اقنوم اور خدا ماننا نرا وہم اور کفر ہے کوئی سمجھ دار انسان اس عقیدے کو قبول نہیں کرسکتا ، کیونکہ خدا ساری دنیا کا مالک ہے ، چاہے تو چشم زدن میں مسیح (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کے ماننے والے تمام لوگوں کو تباہ کر دے اس کی شان جلالی کے سامنے کون ہے جواب کشائی کرسکے ۔
کیا اس کے بنائے ہوئے قانون ہمہ گیر نہیں ؟ کیا یہ درست نہیں کہ مسیح (علیہ السلام) بھی باوجود دعوئے پیغمبری ومصطفائی کے اس کے بنائے ہوئے تمام قاعدوں کا پابند ہے ، جو مسیح (علیہ السلام) ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے کھاتا اور پیتا ہے اور سارے حوائج بشری سے متصف ہے اور جو ہمہ…
Read the full tafseer →ف 2 بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے یوں کہا کہ مسیح ابن مریم عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ تو وہی عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرمائیے اگر یہ بات ہے جو تم کہتے ہو تو اچھا بتائو اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو جن کو تم عین خدا کہتے ہو اور ان کی والدہ کو اور ان سب لوگوں کو روئے زمین پر آباد ہیں ہلاک کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کے ارادے سے روک سکے اور کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے اور کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے کس کا کچھ بس چل سکتا ہے۔
ہم نے عرض کیا تھا کہ نصاریٰ کے بیشمار فرقے ہیں انہی فرقوں میں سے کسی فرقے کا یہ عقیدہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر یہود و نصاری کے بعض بعض قبائح مذکور تھے آگے ان میں سے ایک امر مشترک کا مع اس کے ابطال کے بیان ہے یعنی دونوں فریق باوجود کفر و معصیت کے اپنے مقرب اور مقبول عنداللہ ہونے کے مدعی تھے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کے کفر میں کیا شک ہے جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ بنا لیا :
79: لاریب مسیح (علیہ السلام) اللہ کے رسول اور نبی تھے اور مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ونبی ماننے والے مسیح یا نصاریٰ کہلائے لیکن زیر نظر آیت پر ذرا غور کر کے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن کریم نے اس کھلے شرک کا عقیدہ رکھنے والوں کو اور اس عقیدہ کو ” نصرانیت “ سے تعبیر نہیں کیا نہ ایسے لوگوں کو نصاریٰ یا اہل کتاب کے نام سے موسوم کیا ہے بلکہ ان کا ذکر باجود ان کی بداعتدالیوں کے : ” الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى “ کے تحت اوپر آچکا ہے ۔ زیر نظر آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لئے تو کھلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
Commentary
Refuted here in this verse is only one saying of the Christians - which is the belief of a sect among them - that Sayyidna Masih (علیہ السلام) is God. But, the argument employed in the refutation virtually covers the false beliefs of all sects against the inalienable principle of Tauhid, that is the Oneness of Allah. This may be a belief in a son of God or a belief in one of the three Gods - the argument refutes all of them.
That Sayyidna Masih (علیہ السلام) and his blessed mother have been mentioned here jointly could be because of two wise considerations. Firstly, it is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
39. The original mistake committed by the Christians in declaring Jesus to be a combination of human and divine essences turned Jesus into a mystery for them, and the more the Christian scholars tried to solve this mystery by resorting to conjecture and rhetorical extravagance the more involved the whole matter became. Those who were more impressed by the humanity of Jesus stressed his being the son of God and considered him to be one of the three gods. Those who were more impressed by the divinity of Jesus considered him to be none other than God, stressing that he was the human incarnation…
Read the full tafseer →