Al-Maaida 5:35

Al-Maaida · from ayah 35

5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۟يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ الۡوَسِيۡلَةَ وَجَاهِدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِهٖ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, fear Allah and seek the means [of nearness] to Him and strive in His cause that you may succeed.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:35

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

مسلمانو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راه میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح حاصل ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف قرب تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے حضور باریابی کے لیے ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوسکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اسی کے تقرب کے طالب بنو اور اس کی راہ میں برابر سرگرم کار رہو تاکہ فلاح پاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، تم ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے، اور قرب ڈھونڈتے رہا کرو اس کے حضور رسائی کے لئے اور جہاد کرو تم لوگ اس کی راہ میں تاکہ تم فلاح پاسکو

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔ اور اس کا قرب تلاش کرو۔ اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو۔ تاکہ (ہر طرح) فلاح پاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی جناب میں اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب حاصل کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم (ہر طرح) فلاح پائو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Fear Allah and seek the means to come near to Him, and strive hard in His way; maybe you will attain true success.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, fear Allah and seek means of nearness to Him, and carry out Jihad in His way, so that you may succeed.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, fear Allah and seek means of nearness to Him, and carry out Jihad in His way, so that you may succeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Have Taqwa of Allah and seek the Wasilah to Him, and strive hard in His cause, so that you may be successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Be mindful of your duty to Allah, and seek the way of approach unto Him, and strive in His way in order that ye may succeed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, fear Allah and seek the means [of nearness] to Him and strive in His cause that you may succeed.

— Saheeh International

Believers, have fear of God. Find the means to reach Him and strive hard for His cause so that you may have everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! be careful of (your duty to) Allah and seek means of nearness to Him and strive hard in His way that you may be successful.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! fear Allah and seek approach unto Him and strive hard in His way, that haply ye may fare well.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Do your duty to Allah, seek the means of approach unto Him, and strive with might and main in his cause: that ye may prosper.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–37

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد، حضرت وائل، حضرت حسن، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–37

سورة الْمَآىِٕدَة 58 یعنی ہر اس ذریعہ کے طالب اور جویاں رہوں جس سے تم اللہ کا تقرب حاصل کرسکو اور اس کی رضا کو پہنچ سکو۔ سورة الْمَآىِٕدَة 59 اصل میں لفظ جاھِدُوْ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض ”جدوجہد“ سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خدا کی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، جو تم کو پوری طرح خدا کی بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدوجہد کرو۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–36

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کے احکام کی مخالفت) سے ڈرو (یعنی معاصی چھوڑدو) اور (اطاعت کے ذریعہ) خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو (یعنی اطاعات ضروریہ کے پابند رہو) اور تم (پورے) کامیاب ہوجاؤ گے (اور کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے) یقینا جو لوگ کافر ہیں اگر (بالفرض) ان (میں سے ہر ایک) کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں (جس میں تمام دفائن و خزائن بھی آگئے) اور (انہی چیزوں پر کیا منحصر ہے بلکہ) ان چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ اس کو دے کر روز قیامت کے عذاب سے چھوٹ جاویں تب بھی وہ چیزیں ہرگز ان سے قبول نہ کی جاویں گی (اور عذاب سے نہ بچیں گے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اسی کے تقرب کے طالب بنو اور اس کی راہ میں برابر سرگرم کار رہو تاکہ فلاح پاؤ

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ ' اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو ' کا مطلب ہوگا ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوجائے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں ' وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں، اسی طرح جن باتوں سے روکا گیا ہو ان کا ترک بھی قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کو عطا فرمایا جائے گا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لئے یہ دعائے وسیلہ کرے گا وہ میری شفاعت کا مستحق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 35–38

29: وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ 30: جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں ؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 35 تا 37۔ اسلامی نظام نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے اور اسے ہر پہلو سے گھیرتا ہے ۔ اسلامی نظام انسانی شخصیت کے باطن کی اصلاح بھی ضروری سمجھتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع استعمال کرکے اسے اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور معصیت کردگار سے روکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مقصد اولیں اصلاح فرد ہے اور ایک فرد کو ہر قسم کے انحراف سے بچانا مطلوب ہے ۔ اور سزا دہی کا نظام بھی ایک فرد بشر کی اصلاح ہی کا ایک ذریعہ ہے ۔ سزا دہی اصل مقصد ہے ہی نہیں ۔ ذرا اس سبق پر غور کیجئے کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے ۔ اس سبق میں جا بجا اشارات ہیں ۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 " وسیلہ " کی تفسیر ابن عباس ؓ ، مجاہد، ابو وائل، حسن وغیر ہم اکابر سلف نے قربت سے کی ہے تو وسیلہ ڈھونڈھنے کے معنی یہ ہونگے کہ اس کا قرب وصول تلاش کرو۔ قتادہ نے کہا " ای تقربو الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ " خدا کی نزدیکی حاصل کرو اس کی فرمانبرداری اور پسندیدہ عمل کے ذریعہ سے ایک شاعر کہتا ہے۔ اذا عفل الواشون عدنا لو صلنا وعاد التصافی بیننا والوسائل اس میں یہ ہی معنی قرب و اتصال کے مراد ہے اور جو حدیث میں آیا ہے کہ " وسیلہ " جنت میں ایک نہایت ہی اعلیٰ منزل ہے جو دنیا میں سے کسی ایک بندہ کو ملے گی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اذان کے بعد میرے لئے خدا سے وہ ہی مقام طلب کیا کرو تو اس مقام کا نام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ یہاں لفظ وسیلہ قابل غور ہے اور اس لفظ نے کافی لوگوں کو پریشان بھی کیا ہے۔ لفظ وسیلہ اردو میں تو ذریعہ کے معنی میں آتا ہے ‘ یعنی کسی تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ بنا لینا ‘ سفارش کے لیے کسی کو وسیلہ بنا لینا۔ لیکن عربی زبان میں وسیلہ کے معنی ہیں قرب۔ بعض الفاظ ایسے ہیں جن کا عربی میں مفہوم کچھ اور ہے جبکہ اردو میں کچھ اور ہے۔ جیسے لفظ ذلیل ہے ‘ عربی میں اس کے معنی کمزور جبکہ اردو میں کمینے کے ہیں۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں : وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ ج آل عمران : 123 یعنی اے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 وسیلہ کی تعریف اور اس کی تلاش :۔ جو بھی ذریعہ یا سبب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جائے اسے وسیلہ کہتے ہیں اور وسیلہ کی دو ہی جائز صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنی دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ بنایا جائے اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر کے زمانہ میں جب قحط پڑتا تو سیدنا عباس کے وسیلے سے دعا کرتے اور کہتے : یا اللہ پہلے ہم تیرے پاس اپنے پیغمبر کا وسیلہ لایا کرتے تو تو پانی برساتا تھا۔ اب اپنے پیغمبر کے چچا کا وسیلہ لائے ہیں، ہم پر بارش برسا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر بارش ہوجاتی (بخاری کتاب الاستسقائ۔ باب سوال الناس الامام) اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

129 ۔ یعنی اس کے احکام کی نافرمانی سے ڈرو اور بچو، تقوی ہی ایسی چیز ہے جو جاہ ومال کی ہر حرص بیجا سے بچا سکتا ہے۔ 130 ۔ (طاعتوں کے ذریعہ سے) وسیلۃ کے معنی قرب کے ہیں۔ اہل لغت اور تابعین سب سے یہی معنی مروی ہیں۔ یعنی بالوسیلۃ القربۃ (ابن جریر) توسلت الی فلان بکذا بمعنی تقربت الیہ (ابن جریر) الوسیلۃ القربۃ التی یبتغی ان یطلب بھا (قرطبی) الوسیلۃ ھی القربۃ عن ابی وائل والحسن و مجاھد وقتادہ وعطاء والسدی وابن زید وعبداللہ بن کثیر (قرطبی) الوسیلۃ القربۃ الزلفۃ یقال توسل الی ھکذا ای تقرب (ابن قتیبہ) اور قرب کا بہترین زریعہ احکام الہی کی تعمیل ہے۔ اطلبوا الیہ القرب فی الدرجات بالاعمال الصالحۃ (ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 35 تا 43 ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، اور اس کی اطاعت کے ذریعہ اس کا قرب تلاش کرو جو تم کو اس کا مقرب بنا دے اور اس کی راہ میں ان کے دین کو سربلند کرنے کیلئے جدوجہد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ، خوب سمجھ لو ان لوگوں کیلئے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی اگر ان کے قبضہ میں زمین کی ساری دولت ہو اور اتنی ہی اور۔ اس سب کو قیامت کے دن کے عذاب کے عوض میں دینا چاہیں تو بھی ان سے قبول نہ ہوگی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی، وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور ان کیلئے دائمی عذاب ہوگا، اور چور خواہ مرد ہو یا عورت الف لام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرو اور اس کے تقرب کے جویاں رہو۔ الوسیلہ سے مراد تقرب الٰہی ہے۔ حاکم نے حضرت حذیفہ ؓ : کا یہی قول بیان کیا ہے۔ فریانی ‘ عبد بن حمید۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی بھی یہی تفسیر نقل کی ہے میں کہتا ہوں تقرب سے مراد ہے۔ تقرب ذاتی جوہر (جسمانی مادی) کیفیت سے بالاتر ہے۔ قاموس میں ہے ‘ تقرب شاہی ‘ مرتبہ ‘ درجہ ‘ قربت ‘ وسیلہ کے یہ سب معانی ہیں۔ واسل کے معنی ہے راغب۔ صحاح میں ہے وسیلہ ‘ وصیلہ سے خاص ہے۔ وسیلہ کا معنی ہے کسی چیز تک رغبت کے ساتھ پہنچنا اور وصیلہ کا معنی ہے وابستہ ہوجانا۔ اوّل کے اندر رغبت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(35) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو اوامر خداوندی میں اس سے ڈرو اور اعلی درجات کو طلب کرو یا یہ کہ اعمال صالحہ کے ذریعے قرب خداوندی طلب کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے نجات حاصل پاؤ اور مطمئن ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ۔۔ : یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے (کیونکہ اللہ کے قرب کے حصول کے لیے اب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا کوئی وسیلہ نہیں) اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو (وہ) قبول نہیں۔ (موضح) لفظ ”الوَسِیْلَۃٌ“ یہ ”تَوَسَّلْتُ إِلَیْہِ“ سے ”فَعِیْلَۃٌ“ کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع ”وَسَاءِلُ“ آتی ہے، اس کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اللہ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ اللہ کا تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد (سرتوڑ کوشش خصوصاً…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–36

آیت نمبر : 35 تا 36۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ “۔ وسیلہ سے مراد قربت ہے، ابو وائل، حسن، جاہد، قتادہ، عطا، سدی، ابن زید، عبداللہ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، یہ توسلت الیہ سے فعیلۃ کے وزن پر ہے یعنی میں نے ان کا قول حاصل کیا (1) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 272) عشرہ نے کہا : ان جال لھم الیک وسیلۃ ان یاخذوک تکحی وتخضبی : وسیلۃ کی جمع الوسائل ہے شاعر نے کہا : اذا غفل الواشون عدنا لوصبنا وعاد التصا فی بیننا والوسائل : کہا جاتا ہے : اسی سے ہے سلت، اسال یعنی میں نے طلب کیا، وھما یستاولان یعنی ہر ایک شخص اپنے ساتھی سے طلب کرتا ہے، اصل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید، الفریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیت وابتغوا الیہ الوسیلۃ سے قربت مراد ہے۔ (2) حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وابتغوا الیہ الوسیلۃ سے قربت مراد ہے۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے قتادہ سے کہ لفظ آیت وابتغوا الیہ الوسیلۃ سے مراد ہے کہ اللہ کی طرف قرب حاصل کرو اور اس کی اطاعت کے ساتھ اور اپنے عمل کے ساتھ جس سے وہ راضی ہو۔ (4) عبد بن حمید نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت الیہ الوسیلۃ کے بارے میں فرمایا کہ ” وسیلہ “ ایمان میں ہے (کہ ایمان میں وسیلہ تلاش کرو) (5) امام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اتَّقُوا : تو لوگ تقوی کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ کا ] [ وَابْتَغُوْٓا : اور تلاش کرو ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ الْوَسِيْلَةَ : قربت کو ] [ وَجَاهِدُوْا : اور تم جدوجہد کرو ] [ فِيْ سَبِيْلِهٖ : اس کی راہ میں ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ] وس ل (ض) ۔ وسیلۃ ۔ کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنا (مفردات القرآن ) اللہ تک تقرب حاصل کرنا ۔ (المنجد) وسیلۃ اسم ذات بھی ہے ۔ تقرب ۔ قربت ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ترکیب : وابتغو کا مفعول الوسیلۃ ہے ۔ الیہ اور سبیلہ کی ضمیریں اللہ کے لیے ہیں ۔ لو، شرطیہ ہے ۔ مثلہ اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم ان آیات میں اول اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا اور اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنے کا حکم دیا ہے تمام طاعات فرائض، واجبات، سنن و نوافل یہ سب اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہیں۔ قال النبی ان اللّہ قال من اٰذی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشی احب الی مما افتر ضتہ والا یزال عبدی یتقرب الی بالنو افل حتی احببتہ (الحدیث) (صحیح بخاری ص 963) پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا اور اس سب کو ذریعہ کامیابی بتایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–37

خطاب باہل ایمان۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنوا اتقواللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مقیم۔ آیت۔ ربط) اب ان آیات میں اہل ایمان سے خطاب ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح شرارت نہ کرنا تم کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچو اور اعمال صالحہ کو تقرب الٰہی کا ذریعہ اور وسیلہ بناؤ بنی اسرائیل کی طرح بزدلی نہ دکھاؤ اور اس کے بعد آخرت میں کافروں کی جو بری حالت ہوگی وہ بیان کی تاکہ مسلمانوں کو عبرت ہو اور وہ ان جیسے افعال نہ اختیار کریں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ تم خدا سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو اس لیے کہ اللہ کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ ہے اور زمین میں فساد ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

62 یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ یعنی اللہ سے ڈرو اور نیک اعمال سے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور جہاد کرو اور اللہ کی حدود قائم رکھو یہ کام تقرب خداوندی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اَلْوَسِیْلۃَ یہ فَعِیْلَۃٌ کے وزن پر ہے اور اس سے مراد ہر وہ عبادت و قربت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوسکے خواہ وہ نماز روزہ ہو یا زکوۃ و حج یا جہاد و اقامت حدود، ابو وائل، حسن، مجاہد، قتادہ، عطاء، سدی، ابن زید اور عبداللہ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ الوسیلۃ ھی القربۃ (قرطبی ج 6 ص 159) ۔ یعنی وسیلہ کے معنی عبادت کے ہیں۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ ھی فعیلۃ بمعنی ما یتوسل بہ و یتقرب الی اللہ عز و جل من…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–37

ربط آیات بنی اسرائیل کے نقض عہد کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا۔ ایک بیٹے نے ظلم وتعدی کی اور دوسرے کو ناحق قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حفاظت جان کی تعلیم دی اور فرمایا کہ ایک انسانی جان کا قتل پوری نسل انسانی کے قتل کے برابر ہے اور ایک جان کی حفاظت تمام انسانی سوسائٹی کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ پھر اللہ نے فساد فی الارض کی مذمت بیان فرمائی اور اس کی ایک قسم ڈکیتی کی سزا کا ذکر کیا۔ اس دورس کے بعد فساد فی الارض کی دوسری قسم سرقہ کا بیان ہوگا تاہم درمیان میں اہل ایمان سے خطاب کرکے بعض چیزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ بنی اسرائیل میں پائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْہِ الْوَسِيْلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِيْ سَبِيْلِہٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝ 35 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–37

ترکیب : الیہ الوسیلۃ ممکن ہے کہ ابتغوا سے متعلق ہو اور جائز ہے کہ خود الوسیلۃ سے کیونکہ یہ بمعنی المتوسل بہ ہے الذین کفروا صلہ موصول اسم ان لو ان شرط الخ جواب مجموعہ خبران۔ تفسیر : اس پہلی آیت میں ان مفسدوں اور باغیوں کی مذمت تھی جو خدا سے لڑتے تھے اور رسول اور قرآن کے حکم سے جو خدا تعالیٰ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ اور حبل المتین ہے چھوڑ کر دائرہ اطاعت سے باہر ہوتے تھے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں رسوائی اور خواری ہے۔ اس مقام پر ان کے برخلاف اس وسیلہ الٰہی کو اختیار کرکے ہر ایک قسم کی نیکی اور بھلائی کرنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور اس کے برخلاف کرنے میں آخرت کا انجامِ بد بتایا جاتا ہے۔ واضح ہو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–37

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 34) ” مگر جو لوگ تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔ اگر یہ باغی لوگ اور یہ بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد حکومت کی دسترس میں آنے سے پہلے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلیں تو پھر ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر ان کو یہ سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ بلکہ ان کے ساتھ رحم اور مروت کا معاملہ ہوگا۔ البتہ ان لوگوں نے جو دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ‘ یہ اگر خود اس کا اعتراف کرلیں یا اس کے گواہ موجود ہوں تو پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی طرح خدا کی نافرمانی اور اس سے دور ہونے کی بجائے اس کی قربت تلاش کرو۔ زمین میں دنگا فساد کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی قوت و طاقت استعمال کرو اس طرح تم کامیاب ہو گے۔ وسیلہ کی حقیقت : اردو میں وسیلہ کا معنی ہے ذریعہ اور واسطہ جس سے بیشمار مسلمانوں کو قرآن کے لفظ وسیلہ کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جبکہ قرآن مجید میں اس کا معنی اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنا ہے۔ ادھر ادھر کے واسطوں کے ذریعے نہیں بلکہ تقوٰی اور نیکی کے کاموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ حدیث میں وسیلہ کا معنی مقام علیا ہے جس پر فائز ہو کر نبی کریم ﷺ قیامت کے دن رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 35 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو) پس اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایذاء نہ پہنچائو۔ قربِ الٰہی کا ذریعہ : وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ (اس کی طرف سے وسیلہ تلاش کرو) ہر وہ قرابت عبادت، جس سے قرب حاصل کیا جائے۔ یا وہ وابستگی یا دیگر مرتبہ و درجہ یہ دراصل ان چیزوں کے لئے استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو طاعات و ترک منہیات کی قسم سے ہے۔ اور ان سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 35–38

آیت نمبر 38, 37, 36, 35 تفسیر : (یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اور طل کرو ( الیہ الوسیلۃ) اس تک وسیلہ) یعنی قرب کا ذریعہ یہ فعیلتہ کے وزن پر ہے تو سل الی فلان سے لیا گیا ہے یعنی فلاں کی طرف قریب ہوگیا اس کی جمع وسائل آتی ہے ( وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون اور جہاد کرو اس کے راستہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو) (ان الذین کفروا لوان لھم ما فی الارض جمیعاً و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیمۃ ماتقبل منھم جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سارا ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–37

(35 ۔ 37) ۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو دنیا کے تھوڑے سے مال و متاع کے لالچ میں پھنس کر مرتد ہوگئے تھے اور راہزنی کرنے لگے تھے۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کو ان آیتوں میں اس طرح کے خیالات سے روکا اور فرمایا کہ ہر ایمان دار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایمان دار شخص ہاتھ سے پیر سے جان سے مال سے زبان سے غرض جس طرح ہو سکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں لگا رہے تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار 2 ؎ پا سکیں پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں ہیں یہی باتیں ایسی ہیں جن سے عقبیٰ میں انسان کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے فِیْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت 33 اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کردیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 34–37

قول باری ہے (الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم۔ مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے) ۔ آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کے لئے استثناء ہے جو قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں اس جملے کے ذریعے انہیں ان لوگوں سے نکال دیا گیا ہے جن پر اللہ نے حد واجب کردی اس لئے کہ استثناء میں بعض افراد کو اس مجموعے سے خارج کردیا جاتا ہے جس میں یہ افراد شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ قول باری ہے (الا آل لوط انا لمنجوھم اجمعین الا امراتہ آل لوط کے سوا، ہم ان سب کو بچا لینے والے ہیں مگر اس کی بیوی) اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

90 تقویٰ و پرہیزگاری کی عظمت شان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزو فلاح کی اصل اور اساس ہے۔ پس تم لوگ بچتے رہا کرو اپنے اس خالق ومالک کی ہر نافرمانی سے کہ اتقاء کا اصل معنیٰ بچنا ہی ہے۔ اور اس کی نافرمانی و ناراضگی سے بچ گئے تو ہر ظلم و فساد سے بچ گئے۔ اور اس کے نتیجے میں تم لوگ اپنے رب کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ گئے۔ سو تقویٰ اصل و اساس ہے ہر خیر اور حقیقی فوزو فلاح کی ۔ فَوَفِّقْنَا اللَّھُمَّ تَقْواکَ وَخُذُ بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّک وَرِضَاک۔ بہرکیف تقویٰ و پرہیزگاری ایک اہم مقصد اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی اصل و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

کامیابی کی ضمانت ” قربِ الٰہی اور جہاد “ تشریح : اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ جہاں عذاب اور سزا کا بیان ہوتا ہے تو وہاں ساتھ ہی نجات اور انعام کی خوش خبری بھی ضرور دی جاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قرب کس طرح حاصل کیا جائے۔ یہاں وسیلہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عربی لحاظ سے قرب ہے جب کہ اردو میں اس کا مطلب ہے ذریعہ۔ نیک لوگوں کی نصیحتوں پر عمل کرنا اچھی بات ہے ان کا ادب کرنا اور ان کو عزت و احترام دینا ثواب کا کام ہے مگر ان سے حاجت مانگنا شرک ہے۔ اسی طرح جہاد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے عام طور پر اللہ کی راہ میں دشمنوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–43

رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔ اسرار و معارف : ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔ وسیلہ کی تحقیق : اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو وہ قبول نہیں (موضح) لفظ وسیلتہ توست الیہ سے فعیلتہ کے وزن پر ہے اس کی جمع ہے رسائل آتی ہے اس سے مراد ہر وہ نیکی یا عبارت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور وسیلتہ جنت میں ایک بلند درجہ بھی ہے جو نبی ﷺ کے لے مخصوص ہے حدیث میں ہے یہ جس نے میری لیے وسلیہ کی دعا کی اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی (قرطبی) یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور اس خوشی فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنا آپ کو اللہ تعالیٰ کا محبوب سمجھتے تھے جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزرچکا ہے اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–37

(5:33) ینفوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نفی مصدر (باب ضرب) نفی ینفی۔ ینفوا ان کو نکال دیا جائے۔ نفی الرجل من بلدہ۔ آدمی کو اس کے شہر سے شہر بدر کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 35 لغات القرآن : ابتغوا (تم تلاش کرو) ۔ الوسیلۃ (وسیلہ ۔ نزدیکی ) وسیلہ جنت کا ایک مقام بھی ہے ) ۔ جاھدوا (تم جہاد کرو۔ کوشش کرو) ۔ تشریح : ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو اس کے بعد جرائم چھوڑ کر وہ طریقے اختیار کرو جن سے اللہ خوش ہو اور اس تک قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ڈھونڈوجن میں سب سے بڑا ذریعہ جہاد ہے ۔ جہاد کروگے تو دین ودنیا میں فلاح پاؤ گے ۔” اللہ کا تقویٰ اختیار کرو “ سورة مائدہ کی پچھلی آیات میں مسلسل آرہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا اہم ہے ۔” اس تک پہنچنے کا وسیلہ ڈھونڈو “ ۔ یہاں وسیلہ سین سے ہے صاد سے نہیں ۔ ص سے وصیلہ کے معنی ہیں کوئی چیز بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–37

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ ہر ایماندار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایماندار شخص ہاتھ سے پیر سے، جان سے، مال سے، زبان سے غرض جس طرح ہوسکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں ل گا رہے۔ تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پاسکیں ۔ پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں یہ ایسی ہیں جن سے عقبیٰ کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے ۔ نیک کام خالص راہ خدا کی نیت سے کیا جاوے تو بارگاہ الہی میں قبول ہوتا ہے۔ وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو دنیا کے تھوڑے سے مال ومتاع کے لئے ایسے کام کرتے ہیں جس سے وہ عقبیٰ کو ہاتھ سے دے کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 35–37

[30] اصل میں لفظ '' وسیلہ '' استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی قرب کے ہیں۔ اہل لغت اور تابعین سے یہی معنی مروی ہیں اور قرب کا بہترین ذریعہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

وسیلہ کیا ہے : (ف 3) اس آیت میں دعوت اتقاء ہے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ تم تمام کے تمام متقی اور خدا ترس بن جاؤ اور خدا کے ہاں تقرب وتزلف کے تمام وسائل ڈھونڈو اور کوشش کرو کہ تمہیں اس کے حریم قدس تک رسائی ہوجائے اور وہ تمہیں اپنا پیارا اور محبوب بنا لے ، مگر سوال یہ ہے کہ وہ وسائل وذرائع کیا ہیں جو اس بارگاہ جلال تک ہم گنہ گاروں کو پہنچا دیں اور جن کے حصول کے بعد ابدی حیات اور زندگی جاوید عطا ہو ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ سعی واقدام جو اعلاء حق کے لئے روبراء آئے اور بالخصوص جہاد فی سبیل اللہ کہ اس کے بعد خدا کی رضا کے دروازے از خود کھل جاتے ہیں ۔ حل لغات : مسرفون : مصدر اسراف ، زیادتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 35–36

ف 1 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت سے ڈرتے رہو یعنی معاصی اور گناہ ترک کرو اور اس کی جناب میں قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرو یعنی اس کے احکام اور طاعات ضروریہ بجا لائو اور ان طاعات ضروریہ میں سے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہو گے یعنی دنیا میں بھی سربلند اور ذی اقتدار ہو گے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرو گے اور دوزخ سے بچ جائو گے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو قبول نہیں (موضح القرآن) وسیلہ حصول مطلوب کے ذریعہ کو کہتے ہیں یہاں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 6۔ وہ کامیابی اللہ کی رضامندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کو قرب الٰہی حاصل کرنے کی ترغیب اور اچھے اعمال کرنے کا حکم : 111: پچھلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت میں بےباک ہوچکے تھے اور ان کی اس بیباکی کے باعث اللہ اور اسکے رسول سے برسر پیکار جنگ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے مخالفت کیا کی ہے کہ دراصل اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ شروع کردیا اور مخالفت کا ٹھیکہ لے لیا ہے پھر ان احکام الٰہی کے مخالفین کی مختلف سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے اور سخت وعیدیں سنائی گئیں اور آخر کار انکے ایسے اعمال سے توبہ کی رغبت دلا دی گئی تاکہ باغی قسم کے لوگ بغاوت میں بڑھتے ہی نہ چلے جائیں اب زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–36

Commentary In verses previous to those cited above, the Islamic Prescribed Punishment of robbery and rebellion, as well as the details of injunctions relating to them, were mentioned while the Prescribed Punishment for theft is coming up after three verses later. The three verses which appear in between talk about Taqwa (the fear of Allah), obedience to and the worship of Allah, inducement to Jihad (fighting or struggling in the way of Allah ) as well as the ruinous effects of disbelief, rejection, obstinacy and disobedience. A deeper look into this particular style of the Qur'an would reveal…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–37

58. People are urged to solicit all means which might bring them close to God and enable them to please Him. 59. The English imperative 'strive hard' does not do full justice to the actual word used in the Qur'an: jahidu. The verbal form mujahadah signifies and carries the nuance of doing something in defiance of, or in opposition to someone. The true sense of the Qur'anic injunction 'strive hard' in the way of Allah is that the Muslims ought to use all their strength and engage in vigorous struggle against those forces which either forcefully prevent them from living in obedience to God or…

Read the full tafseer →