Al-Maaida 5:3

Al-Maaida · from ayah 3

5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّیَةُ وَالنَّطِیْحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ ۫— وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ؕ— ذٰلِكُمْ فِسْقٌ ؕ— اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ؕ— اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ؕ— فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ— فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Prohibited to you are dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah, and [those animals] killed by strangling or by a violent blow or by a head-long fall or by the goring of horns, and those from which a wild animal has eaten, except what you [are able to] slaughter [before its death], and those which are sacrificed on stone altars, and [prohibited is] that you seek decision through divining arrows. That is grave disobedience. This day those who disbelieve have despaired of [defeating] your religion; so fear them not, but fear Me. This day I have perfected for you your religion and completed My favor upon you and have approved for you Islam as religion. But whoever is forced by severe hunger with no inclination to sin - then indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:3

تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گھلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کر لیا اور وہ جو کسی آستا نے پر ذبح کیا گیا ہو نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو یہ سب افعال فسق ہیں آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کر دی گئی ہیں اُن کی پابند ی کرو) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر اُن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کردیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو۔ اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھالیا ہو، الا یہ کہ تم (اس کے مرنے سے پہلے) اس کو ذبح کرچکے ہو، اور وہ (جانور بھی حرام ہے) جسے بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم جوے کے تیروں سے (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو۔ یہ ساری باتیں سخت گناہ کی ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے مغلوب ہونے) سے ناامید ہوگئے ہیں، لہذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا (لہذا اس دین کے احکام کی پوری پابندی کرو) ہاں جو شخص شدید بھوک کے عالم میں بالکل مجبور ہوجائے (اور اس مجبوری میں ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے) بشرطیکہ گناہ کی رغبت کی بنا پر ایسا نہ کیا ہو، تو بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم پر حرام ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا، اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے اور گلا گھٹنے والا جانور اور جسے چوٹ لگی ہو اور گرنے والا اور جسے سینگ لگا ہو اور جسے درندے نے کھایا ہو، مگر جو تم ذبح کرلو، اور جو تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ساتھ قسمت معلوم کرو۔ یہ سراسر نافرمانی ہے۔ آج وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے دین سے مایوس ہوگئے، تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا، پھر جو شخص بھوک کی کسی صورت میں مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ کسی گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم پر (یہ چیزیں) حرام کی گئی ہیں مردار، خون، سؤر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام سے مشہور کردی جائے۔ نیز وہ جانور جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا سینگ کی ضرب سے مرگیا ہو نیز وہ جانور جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، الا یہ کہ (ابھی وہ زندہ ہو اور) تم اسے ذبح کرلو۔ نیز وہ جانور بھی جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز ہر وہ چیز بھی حرام ہے جس میں فال کے تیروں سے تم اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے پوری طرح مایوس ہوگئے ہیں۔ لہذا ان سے مت ڈرو، صرف مجھی سے ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے بحیثیت دین، اسلام کو پسند کیا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک کے مارے (ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کو کھانے پر) مجبور ہوجائے بشرطیکہ وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ یقینا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جس کو کسی درندے نے کھایا ہو بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کرلیا ہو اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعے سے، یہ سب باتیں فسق ہیں۔ اب یہ کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے تو ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اب میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ پس جو بھوک میں مضطر ہو کر، بغیر گناہ کی طرف مائل ہوئے، کوئی حرام چیز کھالے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حرام کردیا گیا تم پر مردار، خون، سور کا گوشت، اور ہر اس چیز کو جس کو غیر اللہ (کی تعظیم و خوشنودی) کے لئے نامزد کردیا گیا ہو اور جو جانور مرجائے گلا گھٹنے سے، یا چوٹ لگنے سے، یا مرجائے گر پڑنے سے، یا سینگ لگنے سے، اور جس کو پھاڑ ڈالے کوئی درندہ، مگر (ان میں اسے) جس کو تم ذبح کرلو، نیز جسے ذبح کیا گیا ہو آستانوں پر، ف اور یہ کہ تم باہم حصے معلوم کرو جوے کے تیروں سے، کہ یہ سب گناہ ہیں، ف آج کے دن مایوس ہوگئے کافر لوگ تمہارے دین (کے مٹنے اور مغلوب ہونے) سے پس تم لوگ ان سے نہیں ڈرنا بلکہ خاص مجھ ہی سے ڈرتے رہنا، آج میں نے مکمل کردیا تمہارے لئے تمہارے دین کو، اور پورا کردیا تم پر اپنے انعام کو، اور پسند کرلیا تمہارے لئے اسلام کو (ہمشہ کے) دین کے طور پر، پھر جو کوئی مجبور ہوگیا (اور اس نے ان ممنوعہ چیزوں میں سے کچھ کھالیا) بشرطیکہ اس کا کسی گناہ کی طرف میلان نہ ہو، تو (اس پر کوئی گناہ نہیں کہ) بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

تم پر حرام کئے گئے ہیں مردار اور خون اور سؤر کا گوشت ۔ اور جو جانور غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو۔ اور جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور جو کسی ضرب سے مرجائے اور جو اونچے سے گر کر مرجائے اور جو کسی کے سینگ سے مرجاے اور جس کو درندے کھانے لگیں سوا اس صورت کے کہ تم اسے ذبح کرڈالو اور جو جانور استھانوں پر بھینٹ چڑھایا جائے۔ اور نیز یہ کہ قرعہ کے تیروں۔ سے تقسیم کیا جائے یہ سب گناہ (کے کام) ہیں۔ آج کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بہ طور دین کے پسند کرلیا۔ ہاں جو کوئی بھوک کی شدت سے بیقرار ہوجائے گناہ کی طرف رغبت کئے بغیر۔ سو اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

حرام کیا گیا تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر پکارا گیا اللہ کے سوا کسی اور کا نام اور وہ جانور جو گلا گھٹنے سے مرگیا ہو اور چوٹ لگنے سے جس جانور کی موت واقع ہوگئی ہو اور جو جانور کسی اونچی جگہ سے گر کر مرگیا ہو اور جو جانور کسی دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے ہلاک ہوگیا ہو اور جسے کھایا ہو کسی درندے نے مگر یہ کہ جسے تم (زندہ پا کر) ذبح کرلو اور وہ جانور جو کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو یہ تمام گناہ کے کام ہیں اب یہ کافر لوگ تمہارے دین سے مایوس ہوچکے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پر اتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا اور تمہارے لیے میں نے پسند کرلیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے لیکن جو شخص بھوک میں مضطر ہوجائے (اور کوئی حرام شے کھالے) (بشرطیکہ) اس کا گناہ کی طرف کوئی رُجحان نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم پر حرام کیا گیا مردار، خون، سؤر کا گوشت، وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر مشہور کیا گیا ہو، جو گلاگھٹ کر مرگیا، چوٹ کھا کریابلندی سے گر کر مرگیا، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے درندے نے پھاڑا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا ہو، اور وہ کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، حرام ہے اور یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں (فال نکالنے) کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ تمام کام گناہ ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر مکمل کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا (لہٰذا حرام و حلال کی پابندی کرو،) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر کوئی چیز کھالے، بغیر اس کے کہ گناہ کا خیال اس کے دل میں ہو۔ تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Forbidden to you are carrion, blood, the flesh of swine, the animal slaughtered in any name other than Allah's, the animal which has either been strangled, killed by blows, has died of a fall, by goring or that devoured by a beast of prey - unless it be that which you yourselves might have slaughtered while it was still alive - and that which was slaughtered at the altars. - You are also forbidden to seek knowledge of your fate by divining arrows. All these are sinful acts. This day the unbelievers have fully despaired of your religion. Do not fear them; but fear Me. This day I have perfected for you your religion, and have bestowed upon you My bounty in full measure, and have been pleased to assign for you Islam as your religion. (Follow, then, the lawful and unlawful bounds enjoined upon you.) As for he who is driven by hunger, without being wilfully inclined to sin, surely Allah is All-Forgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Prohibited for you are: carrion, blood, the flesh of swine, and those upon which (a name) other than that of Allah has been invoked (at the time of slaughter), animal killed by strangulation, or killed by a blow, or by a fall, or by goring, or that which is eaten by a beast unless you have properly slaughtered it; and that which has been slaughtered before the idols, and that you determine shares through the arrows. (All of) this is sin. Today those who disbelieve have lost all hope of (damaging) your faith. So, do not fear them, and fear Me. Today, I have perfected your religion for you, and have completed My blessing upon you, and chosen Islam as Din (religion and a way of life) for you. But whoever is compelled by extreme hunger, having no inclination towards sin, 8 then Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Prohibited for you are: carrion, blood, the flesh of swine, and those upon which (a name) other than that of Allah has been invoked (at the time of slaughter), animal killed by strangulation, or killed by a blow, or by a fall, or by goring, or that which is eaten by a beast unless you have properly slaughtered it; and that which has been slaughtered before the idols, and that you determine shares through the arrows. (All of) this is sin. Today those who disbelieve have lost all hope of (damaging) your faith. So, do not fear them, and fear Me. Today, I have perfected your religion for you, and have completed My blessing upon you, and chosen Islam as Din (religion and a way of life) for you. But whoever is compelled by extreme hunger, having no inclination towards sin, 8 then Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Forbidden to you (for food) are: Al-Maytah (the dead animals), blood, the flesh of swine, and that which has been slaughtered as a sacrifice for other than Allah, and that which has been killed by strangling, or by a violent blow, or by a headlong fall, or by the goring of horns ـand that which has been (partly) eaten by a wild animal ـunless you are able to slaughter it (before its death) - and that which is sacrificed (slaughtered) on An-Nusub (stone altars). (Forbidden) also is to make decisions with Al-Azlam (arrows) (all) that is Fisq (disobedience and sin). This day, those who disbelieved have given up all hope of your religion; so fear them not, but fear Me. This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion. But as for him who is forced by severe hunger, with no inclination to sin (such can eat these above mentioned animals), then surely, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Forbidden unto you (for food) are carrion and blood and swineflesh, and that which hath been dedicated unto any other than Allah, and the strangled, and the dead through beating, and the dead through falling from a height, and that which hath been killed by (the goring of) horns, and the devoured of wild beasts, saving that which ye make lawful (by the death-stroke), and that which hath been immolated unto idols. And (forbidden is it) that ye swear by the divining arrows. This is an abomination. This day are those who disbelieve in despair of (ever harming) your religion; so fear them not, fear Me! This day have I perfected your religion for you and completed My favour unto you, and have chosen for you as religion al-Islam. Whoso is forced by hunger, not by will, to sin: (for him) lo! Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Prohibited to you are dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah, and [those animals] killed by strangling or by a violent blow or by a head-long fall or by the goring of horns, and those from which a wild animal has eaten, except what you [are able to] slaughter [before its death], and those which are sacrificed on stone altars, and [prohibited is] that you seek decision through divining arrows. That is grave disobedience. This day those who disbelieve have despaired of [defeating] your religion; so fear them not, but fear Me. This day I have perfected for you your religion and completed My favor upon you and have approved for you Islam as religion. But whoever is forced by severe hunger with no inclination to sin - then indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

It is unlawful for you to consume the following as food: an animal that has not been properly slaughtered, blood, pork, an animal slaughtered and consecrated in the name of someone other than God, an animal killed by strangulation or a violent blow, an animal killed by falling down, an animal which has been gored to death, an animal partly eaten by a wild beast before being properly slaughtered, an animal which has been sacrificed on the stone blocks (which pagans worshipped), and any flesh divided by casting superstitious and gambling arrows (a pagan tradition), which is a sin. Today, the unbelievers have lost hope about your religion. Do not be afraid of them but have fear of Me. On this day I have perfected your religion, completed My favors to you, and have chosen Islam as your religion. If anyone not (normally) inclined to sin is forced by hunger to eat unlawful substances instead of proper food, he may do so to spare his life. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Forbidden to you is that which dies of itself, and blood, and flesh of swine, and that on which any other name than that of Allah has been invoked, and the strangled (animal) and that beaten to death, and that killed by a fall and that killed by being smitten with the horn, and that which wild beasts have eaten, except what you slaughter, and what is sacrificed on stones set up (for idols) and that you divide by the arrows; that is a transgression. This day have those who disbelieve despaired of your religion, so fear them not, and fear Me. This day have I perfected for you your religion and completed My favor on you and chosen for you Islam as a religion; but whoever is compelled by hunger, not inclining willfully to sin, then surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Forbidden unto you are the deadmeat, and blood, and the flesh of the swine, and that over which is invoked the name of other than Allah, and the strangled, and the felled, and the tumbled, and the gored, and that which wild animals have devoured, unless ye have cleansed, and that which hath been slaughtered on the altars, and that ye seek a division by means of the divining arrows: all that is an abomination. To- day those who disbelieve have despaired of your religion; wherefore fear them not, and fear Me. To-day I have perfected for you your religion, and have completed My favour upon you, and am well-pleased with Islam as your religion. Then whosoever is driven to extreme hunger not inclining to sin, verily then Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Forbidden to you (for food) are: dead meat, blood, the flesh of swine, and that on which hath been invoked the name of other than Allah; that which hath been killed by strangling, or by a violent blow, or by a headlong fall, or by being gored to death; that which hath been (partly) eaten by a wild animal; unless ye are able to slaughter it (in due form); that which is sacrificed on stone (altars); (forbidden) also is the division (of meat) by raffling with arrows: that is impiety. This day have those who reject faith given up all hope of your religion: yet fear them not but fear Me. This day have I perfected your religion for you, completed My favour upon you, and have chosen for you Islam as your religion. But if any is forced by hunger, with no inclination to transgression, Allah is indeed Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:3

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 9 یعنی وہ جانور جو طبعی موت مر گیا ہو۔ سورة الْمَآىِٕدَة 10 یعنی جس کو ذبح کرتے وقت خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو، یا جس کو ذبح کرنے سے پہلے یہ نیت کی گئی ہو کہ یہ فلاں بزرگ یا فلاں دیوی یا دیوتا کی نذر ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 171)۔ سورة الْمَآىِٕدَة 11 یعنی جو جانور مذکورہ بالا حوادث میں سے کسی حادثے کا شکار ہوجانے کے باوجود مرا نہ ہو بلکہ کچھ آثار زندگی اس میں پائے جاتے ہوں، اس کو اگر ذبح کرلیا جائے تو اسے کھایا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حلال جانور کا گوشت صرف ذبح کرنے سے حلال ہوتا ہے، کوئی دوسرا طریقہ اس کو ہلاک کرنے کا صحیح نہیں ہے۔ یہ ”ذبح“ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر تم پر (یہ جانور وغیرہ) حرام کئے گئے ہیں مردار (جانور جو کہ باوجود واجب الذبح ہونے کے بلاوجہ شرعی مر جاوے) اور خون (جو بہتا ہو) اور خنزیر کا گوشت (اسی طرح اس کے سب اجزاء) اور جو جانور کہ (بقصد قربت) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرجاوے اور جو کسی ضرب سے مر جاوے اور جو اونچے سے گر کر مر جاوے (مثلاً پہاڑ سے یا کنوئیں میں) اور جو کسی کی ٹکر سے مرجاوے اور جس کو کوئی درندہ (پکڑ کر) کھانے لگے (اور اس کے صدمہ سے مرجاوے) لیکن (منخنقہ سے ما اکل السبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے) جس کو تم (دم نکلنے سے پہلے قاعدہ شرعیہ کے مطابق) ذبح کر ڈالو (وہ اس حرمت سے مستثنیٰ ہے)۔ اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یہاں سے ان محرمات کا ذکر شروع ہو رہا ہے جن کا حوالہ سورت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ آیت کا اتنا حصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ دیکھیے آیت نمبر 173۔ 3۔ 2 گلا کوئی شخص گھونٹ دے یا کسی چیز میں پھنس کر خود گلا گھٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں مردہ جانور حرام ہے۔ 3۔ 3 کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کیے مرگیا۔ زمانہ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھالیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کردیا۔ بندوق کا شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر کوئی بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

6: جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اسی طرح ایک اور طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے۔ اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان دونوں اقوال میں کس قدر فرق ہے زمین و آسمان کا فرق : اب یہاں مویشیوں میں سے حلال جانوروں کے کھانے کے اجازت عامہ سے بعض ایسی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو حلال نہیں ہیں ۔ (آیت) ” حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّہِ بِہِ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَکَّیْْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِکُمْ فِسْقٌ الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن دِیْنِکُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 اس آیت سے جن چیزوں کا کھانا حرام ہوا ان میں اول میتہ (مردار جانور) ہے جو واجب الذبح جانور ذبح کئے بدون خود اپنی موت سے مرجائے اس کا خون اور حرارت غلیظ یہ گوشت ہی میں محتقن اور جذب ہو کر رہ جاتی ہے جس کی سمیت اور گندگی سے کئی قسم کے بدنی اور دینی مضار لاحق ہوتے ہیں (ابن کثیر) شاید اسی تعلیل پر متنبہ فرمانے کے لئے میتہ (مردہ جانور) کے بعد دم (خون) کی حرمت مذکور ہوئی اس کے بعد حیوانات کی ایک خاص نوع (خنزیر) کی تحریم کا ذکر کیا۔ جس کی بےانتہا نجاست خوری اور بےحیائی مشہور عام ہے شاید اسی لئے شریعت حقہ نے دم (خون) کی طرح اس کو نجس العین قرار دیا ان تین چیزوں کے ذکر کے بعد جن کی ذوات میں مادی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وہ جانور جو خود اپنی موت مرگیا ہو وہ حرام ہے۔ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ یعنی وہ جانور جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے نامزد ہے ‘ اور غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ وَالْمُنْخَنِقَۃُ ُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَآ اَکَلَ السَّبُعُ یعنی اَلْمَیْتَۃکی یہ پانچ قسمیں ہیں۔ کوئی جانور ان میں سے کسی سبب سے مرگیا ‘ ذبح ہونے کی نوبت نہیں آئی ‘ اس کے جسم سے خون نکلنے کا امکان نہ رہا ‘ بلکہ خون اس کے جسم کے اندر ہی جم گیا اور اس کے گوشت کا حصہ بن گیا تو وہ مردار کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 حلت وحرمت کی علت :۔ حلت و حرمت کے قانون میں شریعت نے صرف اس بات کو ملحوظ نہیں رکھا کہ حرام چیزوں کے طبی لحاظ سے جسم انسانی پر کیا مفید یا مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہوتی تو سب سے پہلے سنکھیا اور دوسرے زہروں کا نام لیا جاتا، بلکہ زیادہ تر اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان حرام اشیاء کے انسان کے اخلاق پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طہارت اور پاکیزگی سے ان کا کس قدر تعلق ہے نیز ایسی تمام چیزیں بھی حرام قرار دی گئیں جنہیں نیت کی گندگی اور عقیدہ کی خباثت حلال سے حرام بنا دیتی ہے۔ لہذا یہ ضروری نہیں کہ جو چیز اللہ نے حرام کی ہے اس کی حکمت بہرحال انسان کی سمجھ میں آجائے۔ 12 اس آیت میں جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 1 ۔ آیت نمبر ایک میں (آیت) ” الا ما یتلی “۔ گزر چکا ہے، اب اسی کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔ (آیت) ” المیتۃ “۔ یعنی وہ جانور جو بلا ذبح شرعی مرجائے (آیت) ” الدم “۔ دم مسفوح یعنی بہتا ہوا خون مراد ہے (آیت) ” لحم الخنزیر “۔ اسی میں سورة کی چربی وغیرہ اس کے جسم کے دوسرے اجزاء بھی شامل ہیں۔ اکلہ نجس وانما خص اللحم لانہ معظم المقصود (مدارک) فانہ قد تناول شحمہ وعظمہ وسائر اجزاۂ ولا خلاف بین الفقہاء فی ذلک (جصاص) سؤر کے گوشت کی جسمانی مضرتوں سے طبی لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ اخلاقی وروحانی نقصانات کا ذکر ہی کیا۔ 12 ۔ (بہ خیال تقرب اور بہ نیت عبادت) حرمت کا اصل مدار ذابح کی نیت پر ہے۔ اور یہ غیر اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 3 تا 5 ترجمہ : تمہارے لئے مردار اور بہنے والا خون (حرام کردیا گیا ہے) جیسا کہ سورة انعام میں مذکور ہے، اور خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر (بوقت ذبح) غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو بایں صورت کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، کا کھانا حرام کردیا گیا ہے اور گلا گھٹ کر مرا ہوا جانور اور چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور اور اوپر سے گر کر مرا ہوجانور، اور وہ جانور جو دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور وہ جانور کہ جس میں سے درندہ نے کھالیا ہو (کھانا حرام کردیا گیا ہے) الا یہ کہ تم نے اس کو ذبح کرلیا ہو (تو وہ حرام نہیں ہے) اور وہ جانور جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو نصب، نصاب کی جمع ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حرمت علیکم المیتۃ حرام کردیا گیا ہے تم پر مردار۔ یہاں سے مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْکی تفصیل شروع کی گئی ہے۔ میتہوہ مردار جس کی روح خود (بغیر کسی بیرونی سبب کے) بدن سے نکلی ہو۔ ابن مندہ نے کتاب الصحابہ میں کہا ہے کہ حضرت حیان بن ابجر نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ایک ہانڈی میں مردار کا گوشت تھا ‘ میں اس کے نیچے آگ جلا رہا تھا کہ تحریم میۃ کی آیت نازل ہوئی میں نے فوراً ہانڈی الٹ دی۔ میں نے اس جگہ یہ حدیث ” الباب النقول فی اسباب النزول “ کے اتباع میں نقل کی ہے۔ ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ سورة مائدہ کی اس آیت کے نزول کے وقت حضرت حیان کے اس واقعہ کا ہونا ناممکن ہے کیونکہ آیات احکام کی سب سے آخری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) اللہ کی طرف سے جو جانور حلال کیے گئے ہیں، ان میں سے مردار جانوروں کا گوشت کھانا تم پر حرام کردیا گیا ہے اور بہتا ہوا خون بھی اور جو جانور دانستہ (ارادے سے) غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جانور جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور وہ جانور جو لکڑی کی زد سے مرجائے اور وہ جانور جو پہاڑ سے گر کر یا کنوئیں میں گر کر مرجائے اور وہ جانور جو کسی کی ٹکر سے مرجائے اور جو کسی جانور کے پکڑنے سے مرجائے البتہ جن کو دم نکلنے سے پہلے شریعت کے مطابق ذبح کرڈالو اور جو جانور غیر اللہ کے مقامات پر ذبح کیا جائے اور وہ گوشت بھی حرام ہے جو بذریعہ قرعہ کے تیروں کے تقسیم کیا جائے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ) شروع کی آیت میں جن جانوروں کے حرام ہونے کے بیان کا وعدہ ”سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے“ کے ساتھ کیا گیا تھا اس آیت میں ان کا ذکر ہے۔ الْمَيْتَةُ : مردار میں سے مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کردیے گئے ہیں، مردار تو مچھلی اور ٹڈی ہیں (کیونکہ ان میں دم مسفوح نہیں ہوتا) اور خون جگر اور تلی ہیں۔“ [ أحمد : 2؍97 ح : 5725۔ ابن ماجہ : 3314، و صححہ الألبانی فی الصحیحۃ : 1118 ] حرام خون اور لحم خنزیر کی تفصیل سورة انعام (145) میں ہے۔ وَالْمُنْخَنِقَةُ : گلا گھٹنے والا جانور، خواہ خود بخود رسی وغیرہ سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 2۔ اس آیت میں چھبیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” حرمت علیکم المیتہ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ اس کلام سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) (آیت) ” المنخنقۃ “ وہ جانور جو دم گھٹنے سے مر جائے، خنق کا معنی ہے دم گھٹنا خواہ اس کے ساتھ عمل کسی آدمی نے کیا ہو یا اس کے لیے عمل کسی پہاڑ میں ہوا ہو یا دو لکڑیوں کے درمیان ہوا ہو وغیرہ قتادہ نے ذکر کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بکری وغیرہ کا گلہ دباتے تھے جب وہ مر جاتی تھی تو اسے کھاتے تھے، حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والموقوذۃ “…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اسے صحیح قرار دیا) ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کے پاس بھیجا کہ میں ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاؤں اور ان پر شعائر اسلام کو پیش کروں میں ان کے پاس آیا اس درمیان کہ ہم اسی طرح تھے کہ خون کا ایک پیالہ لایا گیا تو وہ سب اکٹھے ہوگئے تاکہ اس کو کھائیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا آجاؤ اے محمدی (یہ ان کا تخلص تھا) آؤ اور کھاؤ۔ میں نے کہا افسوس ہے تم پر میں تمہارے پاس ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو اس چیز کو تم پر حرام قرار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ حکم نازل فرمایا کہنے لگے وہ کیا ہے ؟ تو میں نے ان پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ حُرِّمَتْ : حرام کیا گیا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَيْتَةُ : مردار کو ] [ وَالدَّمُ : اور خون کو ] [ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ : اور سور کے گوشت کو ] [ وَمَآ : اور اس کو ] [ اُهِلَّ : پکارا گیا ] [ لِغَيْرِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا ] [ بِهٖ : جس کو ] [ وَالْمُنْخَنِقَةُ : اور گلا گھٹ کر مرنے والے کو ] [ وَالْمَوْقُوْذَةُ : اور چوٹ سے مارے ہوئے کو ] [ وَالْمُتَرَدِّيَةُ : اور گڑھے میں گرنے والے کو ] [ وَالنَّطِيْحَةُ : اور سینگ مارے ہوئے کو ] [ وَمَآ : اور اس کو ، جس کو ] [ اَ كَلَ : کھایا ] [ السَّبُعُ : درندے نے ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جس کو ] [ ذَكَّيْتُمْ ۣ : اچھی طرح ذبح کیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جن جانوروں کا کھانا حرام ہے ان کی تفصیلات گزشتہ آیت میں بتایا تھا کہ بہیمتہ الانعام تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ساتھ یہ بھی فرمایا (اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ) کہ ان حلال جانوروں میں جو جانور حرام ہیں وہ تمہیں بتا دیئے جائیں گے، چناچہ اس آیت میں ان جانوروں کا ذکر ہے جو زندہ ہونے کی صورت میں شرعی طریقے پر ذبح کر لئے جائیں تو ان کا کھانا حلال ہوجاتا ہے لیکن جب ان میں بعض صفات ایسی پیدا ہوگئیں جن کی وجہ سے حرمت آگئی تو ان کا کھاناحلال نہ رہا۔ میتہ (مردار) ان میں اول میتہ کی حرمت کا ذکر فرمایا، میتہ ہر وہ جانور ہے جو شرعی طریقے پر ذبح کئے بغیر مرجائے خواہ یوں ہی اس کی جان نکل جائے خواہ کسی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم سوم تفصیل محرمات۔ قال تعالی، حرمت علیکم المیتتہ۔۔۔ الی۔۔۔ فسق۔ ربط) شروع سورت میں الا مایتلی علیکم سے جن چیزوں کی تحریم کی طرف اجمالی اشارہ تھا اب اس آیت میں ان محرمات کو تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ وہ بہیمنہ الانعام جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے وہ بعض احوال میں حرام ہوجاتے ہیں اور اس حالت میں ان کا استعمال ممنوع ہے لہذا تم کو چاہیے کہ ان محرمات سے بچو تاکہ اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب سے محفوظ رہو جیسا کہ گذشتہ آیت میں حکم دیا تھا واتقواللہ ان اللہ شدید العقاب۔ اور حرام سے بچنے کا نام تقوی اور پرہیزگاری ہے اب آئندہ آیت میں ان محرمات کی تفصیل فرماتے ہیں جن کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11 یہ چوتھا دعویٰ ہے اس میں غیر اللہ کی نذر و نیاز اور دیگر محرمات کا ذکر ہے ان کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام ہیں ان کی حرمت باقی رکھو اور انہیں مت کھاؤ اَلْمَیْتَۃُ وہ حلال چوپایہ جو شرعی ذبح کے بغیر مرجائے۔ وَالدَّمُ بہتا ہوا خون جو ذبح کے وقت نکلتا ہے۔ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ ۔ خنزیر کا گوشت۔ خنزیر نجس العین ہے اور اس کے تمام اجزاء نجس اور ناپاک ہیں اور ان سے انتفاع جائز نہیں۔ گوشت کی تخصیص صرف اس لیے کی گئی ہے کہ جانور کا مقصودی حصہ گوشت ہی ہوتا ہے جب گوشت حرام ہے تو باقی اجزاء بطریق اولیٰ حرام ہوں گے۔ انما خص اللحم بالذکر مع کونہ نجسا بجمیع اجزائہ بالنص والاجماع لانہ معظم المقصود من الحیوان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات ایفائے عہد کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کا قانون بیان فرمایا کہ کہ تمہارے لیے مویشی حلال کیے گئے ہیں سوائے ان کے جو آپ کو پڑھ کر سنائے جائینگے اب آج کے درس میں انہی جانوروں اور اشیا کا ذکر ہے جو اللہ نے حرام قراردی ہیں۔ قانون و حرمت کو انسانی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ انسانی ترقی کے لیے اس قانون پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے ، کیونکہ انسان قانون کا پابند ہے اور یہی پابندی اس کے لیے ترقی کا زینہ ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی اتباع ہو 2 ، اور شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ یہ قانون اللہ تعالیٰ نے اس پہلے سورة بقرہ میں بھی بیان فرمایا ہے۔ اس سورة میں بھی آگیا ہے اور پھر آگے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّيَۃُ وَالنَّطِيْحَۃُ وَمَآ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ۝ 0ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ۝ 0ۭ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ۝ 0ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ۝ 0ۭ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝ 0ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَۃٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ۝ 0ۙ فَاِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : حرمت فعل مجہول المیتۃ مفعول مالم یسم فاعلہ والدم اور لحم الخنزیر اور ما اھل اور المنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع وما ذبح وان تستقسموا سب اس پر معطوف ہیں فمن اضطر شرط ہے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے غیر حال ہے فان اللّٰہ جواب شرط اور عائد محذوف ہے اے لہ۔ تفسیر : میتۃ کی بحث چار پایا : یہاں سے ان حرام چیزوں کا بیان شروع ہوتا ہے کہ جن کا پہلی آیت الا مایتلی علیکم میں بیان کرنے کا اشارہ فرمایا تھا اور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو حلال چیزوں سے مستثنیٰ کی گئی تھیں اور وہ گیارہ چیزیں ہیں : (1) المیتۃ یعنی مردار بیضاوی فرماتے ہیں والمیتۃ فارقۃ الروح من غیر تزکیۃ کہ میۃ اس جانور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

حُرِّمَتُ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ قف وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْابِالْاَزْلَامِ ط ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ط اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْامِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ ط اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِاِّثْمٍ لا فَاِنَّ اللہ َ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حرام و حلال کی مزید تفصیل۔ دین کے معانی : دین اسلام اپنے کام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے نام کے دامن میں بھی پوری جامعیت اور دنیا وآخرت کے معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے چناچہ دین کا معنی ہے (1) تابع دار ہونا (2) دوسرے کو اپنا تابع فرمان بنانا (3) مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا۔ (4) قانون (5) مکمل ضابطۂ حیات (6) جزاء وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی لفظ دین بولا جاتا ہے۔ ذیل میں چند حوالے ملاحظہ فرمائیں۔ اطاعت : (اِنَّآ اَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدَّےْنَ ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّےْنُ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اہلِ جاہلیت کے ماکولات : آیت 3 : پھر اہل جاہلیت کے ماکولات کو بیان فرمایا۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ (تم پر مردار کو حرام کیا گیا) یعنی ایسے چوپائے جو اپنی موت مرجائیں۔ وَالدَّمُ (اور خون) یعنی بہنے والا خون جو بوقت ذبح نکلتا ہے۔ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ (اور خنزیر کا گوشت) خنزیر تمام نجس ہے گوشت کو اس لیے خاص کیا۔ کیونکہ اصل مقصود وہی ہے۔ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ (اور وہ جانور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو) اور وہ اہل جاہلیت کا قول ہے کہ بوقت ذبح کہتے تھے باسم اللات والعزّٰی۔ وَالْمُنْخَنِقَۃُ (اور وہ جس کا گلادبایا گیا ہو) یعنی اس قدر اس کا گلا دبایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 3 تفسیر :(حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ) (یعنی وہ جانور جن کو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا نام لیا گیا ہو۔ ) (والمنخنقۃ) یعنی ایسا جانور جس کا گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اہل جاہلیت بکری کو گلا گھونٹ کر مارتے تھے اور کھاتے تھے (اور لکڑی سے مارا ہوا جانور) یعنی ایسا جانور جس کو لکڑی سے قتل کیا گیا ہو۔ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں لوگ جانور کو لاٹھی سے مارتے تھے جب وہ مرجاتا تو اس کو کھالیتے تھے۔ (والمتردیۃ) (اونچی جگہ سے گرنے والا جانور) یعنی وہ جانور جو بلند جگہ سے لڑھک گیا ہو یا کنویں میں گر کر مرگیا ہو ( والنطیحۃ)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

یہ اوپر گزر چکا ہے کہ یہ آیت اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ کی تفسیر ہے اس میں سے وہ چوپائے حرام ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے مردہ اور وہ جانور جو بغیر ذبح اور شکار کے اپنی موت سے مرجاوے۔ سورة بقرہ میں مسند امام احمد، ابن ماجہ اور مستدررک حاکم وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث گزرچکی ہے 3 ؎ کہ مردار جانوروں میں سے دو مردار جانور مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں۔ اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن زید بن اسلم کو بعض علماء نے اگرچہ ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے عبد اللہ بن زید کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے 4 ؎۔ اس حدیث کی سند کا صحیح ہونا تسلیم کر کے ابو زرعہ وغیرہ نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث موقوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد : جس کا اس نے اس آیت کریمہ (الا مایتلی علیکم) (امائدہ :1/5) میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لئے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ پر یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کردیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ” مردار “ کو حرار قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زگندی سے محروم ہوگیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

تین چیزیں صریحاً حرام ہیں قول باری ہے حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر، تم پر مردار خون اور سور کا گوشت حرام کردیا گیا ہے) تا آخر آیت ۔ میتہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کی روح ذبح کے عمل کے بغیر نکل چکی ہو کیونکہ حلال جانور کے گوشت کی اباحت کے لئے ہم پر ذبح کی شرط عائد کی گئی ہے۔ خون اگر بہایا گیا ہو تو وہ حرام ہوگا کیونکہ قول باری ہے قل لااجدفیما اوحی الی محرماً علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ اودماً مفوحاً ۔ آپ ﷺ انسے کہہ دیں کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو الایہ کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو) تا آخر آیت۔ جگر اور تلی یہ دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 نذر و نیاز کے بارے میں اہم اور بنیادی تعلیم : یعنی غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کی حرمت اور کلمہ " مَا " کے عموم و شمول کا بیا ن۔ یعنی " مَا " کا کلمہ عام ہے جو کہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کی ہر شکل کو شامل ہے۔ خواہ وہ کوئی جانور ہو یا کوئی غلہ اور شیرینی اور مٹھائی وغیرہ۔ کیونکہ کلمہ " مَا " کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ اور اصل یہی ہے کہ لفظ کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا جائے۔ الا یہ کہ ایسا کرنا متعذر ہو یا کوئی قرینہئِ صارفہ ایسا پایا جاتا ہو جس کی بنا پر ظاہر اور متبادر معنیٰ مراد نہ لیا جا سکتا ہو۔ اور یہاں ایسی کوئی بھی بات موجود نہیں۔ اور دوسرے اس لئے کہ غیر اللہ کے نام کے ذبیحے کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حرام چیزوں کا ذکر اور دین کا مکمل ہونا تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا تو اس آیت میں ان کی وضاحت کردی ہے مطلب یہ ہے کہ صرف صحت کے لحاظ سے نقصان دہ جانوروں کو ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ایسے جانوروں کا گو شت کھانے سے بھی منع کیا گیا ہے جو اخلاق و کردار کو خراب کرتا ہو، روحانی پاکیزگی کو ختم کرتا ہو، مثلاً سؤر کا گوشت کچھ ایسے اجزا اپنے اندر رکھتا ہے جو انسان میں بےحیائی، لاپروائی اور سستی پیدا کرتا ہے اسکی تفصیلات پہلے بیان کی جاچکی ہیں، پھر ایسا جانور جو کسی پیر، فقیر کے نام پر مشہور کردیا جائے یا اس کی نذرونیاز کے طور پر ذبح کیا جائے یا ذبح کرتے ہوئے بجائے اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 5 ۔ اسرار و معارف : ایفائے عہد : ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو عہد کرو اسے پورا کرو ، عقد کا معنی معاہدہ ہے جو ہمیشہ دو انسانوں دو جماعتوں دو ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ عہد تو یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مفسرین کرام نے مختلف معانی مراد لئے ہیں مگر نتیجے کے اعتبار سے سب ایک ہیں اور سارے معاہدے اس میں آجاتے ہیں۔ وہ عہد جہالت اور قبل اسلام کے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد کے نکاح کو بھی عقد اسی لیے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان اللہ کے نام پر معاہدہ ہوتا ہے اس لے کر تجارت کے متعلق ہوں یا لین دین کے بارے جنگ اور صلح کا معاہدہ ہو یا کسی بھی موضوع پر اسے اپنی طرف سے پورا کرنے کی پوری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس سے معلوم ہوا کہ غیر خدا کے نام پر جانور ذبح ہو یا غیر خدا کی تعظیم میں وہ مردار ہے (موضح) مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت 173)3 مثلا کسی ایسے آلہ سے قتل کردیا جائے جو تیز نہ ہو اور نہ اسے شرعی طریقہ ہی سے ذبح کیا گیا ہو۔ زمانہ جاہلیت میں جانور کو لاٹھی سے مارتے جب وہ مرجاتے تو اس کا گوشت کھالیتے اسی کو قرآن نے المو قوذۃ فرماکر قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر)4 یہ مستثنی ٰ متصل ہے یعنی جو جانور مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا شکار ہو مگر ابھی اس میں جان باقی ہو اور تم اسے شرعی قاعدے سے ذبح کرلو تو وہ حرام نہیں رہتا اسے کھان جائز ہے بض نے اسے مستثنی ٰ منقطع مانا ہے یعنی مذکورہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:3) اہل ۔ اہلال (افعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ پکارا گیا۔ ہلال نیا چاند۔ اہل۔ نیا چاند نکلا۔ نیا چاند دیکھتے وقت آواز لگانا پکارنا۔ حاجیوں کا لبیک کہنا۔ اہل بذکر اللہ۔ اس نے (کام کرتے وقت) اللہ کا نام لے کر پکارا۔ اہل ب کسی جانور کو ذبح کرنے سے پہلی اللہ کا نام لے کر پکارنا۔ اہل لغیر اللہ پکارا گیا غیر اللہ کے لئے۔ اس میں وہ جانور بھی شامل ہے جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر پکارا جائے۔ اور وہ جانور بھی جو اللہ کے سوا کسی غیر کی نذر سے نامزد کردیا گیا ہو۔ خواہ بوقت ذبح بسم اللہ بھی پڑھی جاوے۔ المنخنقۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ انخناق (افعال) مصدر۔ گلا گھونٹ کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 3 لغات القرآن : المیتۃ، مردار جانور۔ مرا ہوا۔ الدم، خون۔ اھل، پکارا گیا۔ نام لیا گیا۔ لحم الخنزیر، سور کا گوشت۔ المخنقۃ، گلا گھونٹ دیا گیا۔ الموقوذۃ، چوٹ کھا کر مارا گیا۔ چوٹ سے مرا ہوا۔ المتردیۃ، کسی اور نچی جگہ سے گر کر مر گیا ہو۔ النطیحۃ، سینگ مارا گیا ہو۔ ٹکر سے مر گیا ہے۔ السبع، درندہ۔ ذکیتم، تم نے ذبح کرلیا۔ ذبح، ذبح کیا گیا۔ النصب، عبادت کی جگہیں۔ تستقسموا، تم تقسیم کرو، تم قسمت معلوم کرو۔ الازلام، (زلم) پانسے کے تیر۔ ذلکم، ان سب میں۔ فسق، گناہ۔ یئس، مایوس ہوگیا (مایوس ہوگئے) ۔ لا تخشوا، تم نہ ڈرو۔ اخشون، مجھ سے ڈرو (اخشونی میں ” ی “ گر گئی) ۔ اکملت، میں نے مکمل کردیا۔ اتممت،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

گیارہ چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر کیا گیا ہے (1) مردار۔ (2) بہنے والا خون جو بعد ذبح کے رگوں میں سے نکلتا ہے ۔ (3) سور کا گوشت اور اس کے تمام اجزاء یعنی بال تک (4) وہ جانور جس کے ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو ۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے ۔ مگر وہ جانور جن سے اولیاء کی ارواح کو ثواب پہنچانا منظور ہو ان کو غیر وقت ذبح میں اولیاء کے ناموں کے ساتھ نامزد کیا جائے مگر ذبح ان کا فقط اللہ کے نام پر ہو ۔ اس وقت کسی دوسرے کا نام نہ لیا جاوے وہ حلال ہے ۔ (5) گلا گھونٹ کر مارا ہواجانور (6) وہ جانور جو لاٹھی پتھر ڈھیلے یاگولی وچھرے یعنی بغیر دھار دار چیز سے مارا گیا ہو ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] آستانے سے مراد وہ مقامات ہیں جن کو لوگ متبرک سمجھ کر اللہ کے سوا دوسروں کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں خواہ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مورت ہو یا نہ ہو۔ [6] یعنی تمہارا دین ایک مستقل نظام بن چکا ہے اور خود اپنی حاکمانہ طاقت کے ساتھ نافذ و قائم ہے اور کفار اب مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ اسے مٹا سکیں گے۔ [7] دین کو کامل کردینے سے مراد اس کو ایک ایسا نظام حیات بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کسی حال میں بھی اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ [8] اصل الفاظ ہیں آیت (وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ ۝) 5 ۔ المآئدہ :3) یعنی ہم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں حرام اشیاء کا تذکرہ ہے تفصیل گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے ، خون اس لئے حرام ہے کہ ذوق سلیم اسے گوارا نہیں کرتا ، نیز وحشت وبربریت پیدا کرتا ہے اور مضر صحت بھی ہے سؤر ندارد مہیج اور بداخلاقی کا موجب ہے نیز اس سے ایک مرض تشحم پیدا ہوتا ہے جس سے عام طور پر فوری موت واقع ہوجاتی ہے ، (آیت) ” وما اھل بہ لغیر اللہ “ سے نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ۔ منخنقہ اور موقوذہ وغیرہ میں خون اچھی طرح سے نہیں بہتا ۔ شرک کے تھان اور جوئے کے تیروں سے متعلقہ گوشت چونکہ قمار بازی اور شرک کی تائید ہے اس لئے ممنوع ہے ، غرضیکہ تمام حرام چیزیں صرف تعبدی طور پر ہی حرام نہیں ، بلکہ خاص خاص وجوہ کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اے مسلمانو ! تم پر وہ مرا ہوا جانور جو بغیر ذبح کے اپنی موت سے مرجائے اور بہتا ہوا خون اور سئور کا گوشت حرام کردیا گیا ہے اور وہ جانور بھی جو تقرب کی نیت سے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نامزد کردیا گیا ہو اور وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور نیز وہ جو کسی ضرب اور چوٹ سے مرجائے اور وہ بھی جو بلندی سے گر کر مرجائے اور وہ جانور بھی جو کسی دوسرے جانور کی ٹکر اور سینگ مارنے سے مرجائے اور وہ جانور بھی جس کو کوئی درندہ کھالے اور وہ مرجائے مگر ہاں وہ جانور اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کو تم ان کے مرنے سے پہلے پہلے شرعی طریقہ پر ذبح کرلو۔ یعنی منخنقہ سے لیکر ما اکل السبع تک جان جانوروں کو مرنے سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 6۔ یعنی جو جانور باوجود واجب الذبح ہونے کے بلاذبح شرعی کے مرجائے۔ 1۔ اسی طرح اس کے سب اجزائ۔ 2۔ یعنی منخنقہ سے ما اکل السبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے جس کو دم نکلنے سے پہلے قاعدہ کلیہ شرعیہ کے مطابق ذبح کر ڈالو وہ اس حرمت سے مستثنی ہے۔ 3۔ گوزبان سے غیر اللہ کے نامز نہ کرے کیونکہ مدار حرمت کا نیت خبیثہ پر ہے اس کا ظہور کبھی قول سے ہوتا ہے کہ نامز کرے کبھی فعل سے ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پر ذبح کرائے۔ 4۔ آج کے دن سے مراد خاص دن نہیں بلکہ وہ زمانہ مع زمانہ متصل ماقبل ومابعد کے مراد ہے پس اگر اس کے بعد بھی کسی حکم کا نازل ہونا ثابت ہو تو اکمال بمعنی تکمیل احکام پر اعتراض لازم نہیں آتا۔ 5۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حلال جانور اگر طبعی موت مر گیا تو مردار ہے جس کا کھانا حرام ہے : 16: مردار کیا ہے ؟ وہ حلال جانور جیسے اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری وغیرہ اگر بلاذبح کئے طبعی موت مر جائیں تو ان کو مردار کہتے ہیں جن کا کھانا حرام ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اسلام نے ان جانوروں اور ان کی مثل دوسرے حلال جانوروں کا مسنوح خون طریقہ اسلامی کے مطابق نکالنا ضروری قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ طبعی موت مرجانے سے وہ دم مسفوح نہیں نکلتا اس لئے اس کو مردار کہا گیا ہے کہ مردار حرام ہے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ دم مسفوح کیا ہے ؟ وہ بہنے والاخون ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن جانوروں میں فطری طور پر بہنے والا خون نہں۔ ہوتا اگر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary This is the third verse of Surah al-Ma'idah where a number of fun damental and subsidiary injunctions and rulings have been described. The first problem relates to lawful and unlawful animals. As for animals whose meat is harmful for human beings - whether physically, to it may pose the danger of disease in the human body, or spiritually, for it may hold the danger of spoilage in human morals or its many emotional states - these the Qur'an has classed as evil declaring them to be unlawful. Then there are animals which have no physical or spiritual harmfulness, these the Qur'an has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9.'Carrion' signifies the animal which has died a natural death. 10. This refers to the practice of pronouncing the name of anyone or anything other than God and dedicating the animal, as an offering, to either a holy personage, god or goddess before slaughtering. (For details see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, n. 171.) 11. It is lawful to eat the flesh of an animal which may have suffered from any of the above-mentioned accidents providing it was still alive until slaughtered. This verse also makes it clear that the flesh of an animal becomes lawful only by slaughtering…

Read the full tafseer →