شکاری کتے اور شکار
چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ) 6۔ الانعام :119) یعنی تمام حرام جانوروں کا بیان تفصیل سے تمہارے سامنے آچکا ہے یہ اور بات ہے کہ تم حالات کی بناء پر بےبس اور بےقرار ہوجاؤ۔ تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں، سورة اعراف میں آنحضرت ﷺ کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ طیب…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 18
اس جواب میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔ مذہبی طرز خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیت کے شکار ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کو حرام سمجھتے ہیں جب تک کہ صراحت کے ساتھ کسی چیز کو حلال نہ قرار دیا جائے۔ اس ذہنیت کی وجہ سے لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلط ہوجاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیاء اور جائز کاموں کی فہرست مانگتے ہیں اور ہر کام اور ہر چیز کو اس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنوع تو نہیں۔ یہاں قرآن اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے۔ پوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ انہیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ ان کے سوا ہر چیز کو وہ حرام سمجھیں۔ جواب میں قرآن نے…
Read the full tafseer →ربط آیات
پہلی آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اسی معاملہ کے متعلق ایک سوال کا جواب ہے۔ بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے شکاری کتے اور باز سے شکار کرنے کا حکم دریافت کیا تھا، اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے۔
خلاصہ تفسیر
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (کُتے اور باز کے شکار کئے ہوئے جانوروں میں سے) کیا کیا جانور ان کے لئے حلال کئے گئے ہیں (یعنی جتنے حلال شکار ذبح سے حلال ہوجاتے ہیں۔ کیا کتے اور باز کے شکار کرنے سے وہ سب حلال رہتے ہیں یا ان میں سے کچھ مخصوص جانور حلال ہوتے ہیں یا مطلقاً کوئی حلال نہیں ہوتا اور جو حلال ہوتے ہیں تو کیا اس کے لئے کچھ شرط بھی ہے) آپ (جواب میں) فرما دیجئے…
Read the full tafseer →يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔
سھائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار کا حکم : يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ۔ سوال قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق اختصار کے ساتھ نقل ہوا ہے لیکن جواب بتا رہا ہے کہ سوال سدھائے اور سکھلائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار سے متعلق ہے کہ اگر وہ شکار پکڑیں اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے…
Read the full tafseer →4۔ 1 اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو حلال ہیں۔ ہر حلال طیب ہے اور ہر حرام خبیث۔
4۔ 2 جوارح جارح کی جمع ہے جو کا سب کے معنی میں ہے۔ مراد شکاری کتا، باز، چیتا، شکرا اور دیگر شکاری پرندے اور درندے ہیں۔ مکلبین کا مطلب ہے شکار پر چھوڑنے سے پہلے ان کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو۔ سکھانے کا مطلب ہے جب اسے شکار پر چھوڑا جائے۔ تو دوڑتا ہوا جائے۔ جب روک دیا جائے تو رک جائے اور بلایا جائے تو واپس آجائے۔
4۔ 3 ایسے سدھارے ہوئے جانوروں کا شکار کیا ہوا جانور دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے۔ ایک یہ کہ اسے شکار کے لئے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لی گئی ہو۔ دوسری یہ کہ شکاری جانور شکار کر کے اپنے مالک کے لئے رکھ چھوڑے اور…
Read the full tafseer →8: شکاری جانوروں مثلاً شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے حلال جانوروں کا شکار کرکے انہیں کھانا جن شرائط کے ساتھ جائز ہے ان کا بیان ہورہا ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ شکاری جانور کو سدھالیا گیا ہو جس کی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جس جانور کا شکار کرے خود نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے روک رکھے، دوسری شرط یہ ہے کہ شکار کرنے والا شکاری کتے کو کسی جانور پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے یعنی بسم اللہ پڑھے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 4 تا 5۔
یہ سوال ان لوگوں کی طرف سے ہے ایمان لائے اور یہ اس بارے میں ہے کہ ان کے لئے کیا کیا حلال ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت امت مختارہ کی نفسیانی کیفیت کیا تھی ۔ یہ امت جو پہلی مرتبہ خطاب الہی کا اعزاز پا رہی تھی اس کے اس سوال سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نفوس طیبہ کے اندر ہر وقت احتیاط اور خدا ترسی کے جذبات موجزن تھے اور وہ ان تمام کاموں کے بارے میں حرج محسوس کرتے تھے جو دور جاہلیت میں معمول بہ تھے ان کے دل میں یہ خوف رہتا تھا کہ کہیں اسلام نے ان چیزوں کو حرام قرار نہ دے دیا ہو ‘ اس لئے یہ امت ہر وقت پوچھنے پر مجبور تھی کہ آیا کوئی درپیش بات جائز…
Read the full tafseer →5 پچھلی آیات میں بہت سی حرام چیزوں کی فہرست دی گئی تو قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حلال چیزیں کیا کیا ہیں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ حلال کا دائرہ تو بہت وسیع ہے۔ چند چیزوں کو چھوڑ کر جن میں کوئی دینی یا بدنی نقصان تھا دنیا کی تمام ستھری اور پاکیزہ چیزیں حلال ہی ہیں اور چونکہ شکاری جانور سے شکار کرنے کے متعلق بعض لوگوں نے خصوصیت سے سوال کیا تھا۔ اس لئے آیت کے اگلے حصہ میں اس کو تفصیلاً بتلا دیا گیا۔
6 شکاری کتے یا باز وغیرہ سے شکار کیا ہوا جانور ان شروط سے حلال ہے (1) شکاری جانور سدھا ہوا ہو (2) شکار پر چھوڑا جائے (3) اسے اس طریقہ سے تعلیم دی گئی ہو جس کو شریعت نے معتبر رکھا ہے یعنی کتے کو…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
اسے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی۔
Read the full tafseer →22 ہر چیز کی اصل اباحت ہے :۔ اس آیت میں کھانے پینے کی اشیاء کی حلت و حرمت کے متعلق ایک عظیم الشان اصول دیا گیا ہے جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کی اصل اباحت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء دو شرطوں کے ساتھ تمہارے لیے حلال ہیں ایک یہ کہ وہ چیز پاکیزہ اور صاف ستھری ہو گندی باسی۔ سڑی ہوئی اور بدبودار نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کے متعلق شریعت میں یہ صراحت نہ ہو کہ وہ حرام ہے اس طرح حرام اشیاء کا دائرہ بہت محدود ہوجاتا ہے اور حلال اشیاء کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ جبکہ اس آیت کے نزول سے پہلے عموماً یہی سمجھا جاتا تھا کہ حلال صرف وہ چیز ہوسکتی ہے جس کے متعلق شریعت…
Read the full tafseer →21 ۔ (کتے اور باز کے شکار کیے ہوئے جانوروں میں سے) یہ سوال کرنے والے منکرین نہ تھے مومینن و صحابہ ہی تھے۔ اور حلت و حرمت اشیاء کے سلسلہ میں اس مسئلہ کا حل بھی ضروری تھا۔ یسئلک یا محمد اصحابک ما الذی احل لھم (ابن جریر) (آیت) ” لھم یعنی مسلمانوں پر۔ صحابہ کا اصل سوال یہ تھا کہ شکاری جانوروں (مثلا کتے اور باز) کے ذریعہ سے شکار کیے ہوئے جانوروں میں سے کون کون حلال ہیں ؟ آیا سب ہی حلال جانور اس طریق شکار کے بعد بھی حلال رہتے ہیں، یا کچھ مخصوص جانور حلال رہ جاتے ہیں، اور وہ بھی مخصوص شرائط کے ماتحت ؟ اللہ حضرات صحابہ پر بیشمار رحمتیں نازل کرے، امت کے کام کی کیسی کیسی چیزیں خدا اور رسول اللہ ﷺ سے…
Read the full tafseer →ربط آیات : یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلّ لَھُمْ ، سابقہ آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا اس آیت میں اسی معاملہ کے متعلق ایک سوال کا جواب ہے بعض صحابہ کرام کے رسول اللہ ﷺ سے شکاری کتے اور باز سے شکار کرنے کا حکم دریافت کیا تھا اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے۔
شان نزول : مستدرک حاکم، ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابو رافع کی شان نزول کی روایت ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے، اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس آکر دروازہ پر رک گئے، آنحضرت نے اس کا سبب معلوم کیا تو جواب دیا، جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتے نہیں آتے، تلاش سے معلوم ہوا کہ گھر میں کتے کا…
Read the full tafseer →یسالونک ما ذآ احل لہم لوگ آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا حلال کیا گیا ہے۔
ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ابو رافع ؓ کو کتوں کو قتل کردینے کا حکم دے کر بھیجا اور وہ (قتل کرتے کرتے) بالائی مدینہ تک پہنچ گئے تو عاصم ؓ بن عدی اور سعد ؓ بن حتم اور عویمر ؓ بن ساعدہ خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے کیا حلال کیا گیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
محمد بن کعب قرظی کی روایت سے ابن جریر نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کردینے کا جب حکم دیاتو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس گروہ (یعنی کتوں) میں کیسے (کتنے پالنے) ہمارے لئے حلال…
Read the full tafseer →(4) اے محمد ﷺ زید بن مہلل طائی اور عدی بن حاتم طائی یہ دونوں شکاری تھے، شکار کے بارے میں آپ سے دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ کل حلال جانور ذبح شدہ اور جن شکاری جانوروں کی تم اس طرح سکھلائی کرو جیسا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ جب کتا شکار کو پکڑے تو اس کو نہ کھائے۔
تو ایسے سکھلائے ہوئے کتے جو تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو ان کو کھالو اور شکار کے ذبح کرنے یا کتے کے چھوڑنے پر اللہ کا نام بھی لیا کرو اور مردار کے کھانے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوں کہ وہ سخت عذاب دینے والے ہیں، یا یہ کہ جس وقت وہ حساب لیتے ہیں تو پھر بہت جلدی کرلیتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”یسئلونک ماذا احل لہم“۔…
Read the full tafseer →يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭ۔۔۔۔ چوپاؤں کا حکم تو فرما دیا، پھر لوگوں نے اور چیزوں کے متعلق پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک عظیم الشان اصول بیان فرما دیا، جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے : ”ہر چیز کی اصل اباحت ہے۔“ یعنی کھانے پینے کی تمام طیبات یعنی ستھری چیزیں حلال ہیں، سو رسول اللہ ﷺ نے جو چیزیں حرام فرمائیں معلوم ہوا وہ ستھری نہیں، جیسے کچلی والے درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے، یا جن کا نام لے کر حرام قرار دے دیا، باقی سب حلال ہیں۔ اس قاعدے سے حرام اشیاء کا دائرہ تنگ ہوگیا اور حلال اشیاء کا دائرہ وسیع ہوگیا۔
وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ۔۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 4۔
اس آیت میں اٹھارہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یسئلونک “۔ یہ آیت حضرت عدی بن حاتم اور حضرت زید بن مہلہل کے سبب نازل ہوئی اور یہ زید الخیل ہے جس کا نام رسول اللہ ﷺ نے زید الخیر رکھا تھا ان دونوں صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم کتوں اور بازوں کے ساتھ شکار کرتے ہیں، کتے گائیوں، جنگلی گدھوں اور ہر نوں کو پکڑتے ہیں پھر کچھ تو ذبح کرلیے جاتے ہیں اور بعض کو کتے مار ڈالتے ہیں ہم ان کو ذبح نہیں کرسکتے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام کیا ہے پس ہمارے لیے کیا حلال ہوگا ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (1) (الجامع لا سباب النزول جلد 1، صفحہ 124۔
مسئلہ نمبر…
Read the full tafseer →(1) ابو رافع ؓ سے روایت کی ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ جبرئیل نے اندر آنے میں دیر لگائی آپ نے (دروازہ پر لٹکی ہوئی) چادر کو اٹھایا اور باہر آگئے اور جبرئیل (علیہ السلام) سے فرمایا ہم نے تجھ کو اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے فرمایا ہاں لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا کوئی تصویر ہو صحابہ ؓ نے دیکھا اچانک گھر کے ایک حصہ میں کتے کا چھوٹا بچہ تھا۔ ابو رافع (رح) نے فرمایا مجھے حکم فرمایا کہ مدینہ کے تمام کتوں کو ماردوں میں نے ایسا ہی کیا وہ لوگ آئے اور پوچھا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ان جانوروں میں سے جن…
Read the full tafseer →[ يَسْـــَٔلُوْنَكَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ مَاذَآ : وہ کیا ہے جو ] [ اُحِلَّ : حلال کی گئی ] [ لَهُمْ ۭ: ان کے لیے ] [ قُلْ : آپ کہہ دیجئے ] [ اُحِلَّ : حلال کیا گیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الطَّيِّبٰتُ ۙ: پاکیزہ (چیزوں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ عَلَّمْتُمْ : تم نے سکھایا ] [ مِّنَ الْجَوَارِحِ : درندوں میں سے ] [ مُكَلِّبِيْنَ : شکار کے لیے سدھانے والا ہوتے ہوئے ] [ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ : تم لوگ سکھاتے ہو ان کو ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ عَلَّمَكُمُ : سکھایا تم کو ] [ اللّٰهُ ۡ: اللہ نے ] [ فَكُلُوْا : تو تم لوگ کھاو ] [ مِمَّآ : اس میں سے جو ] [ اَمْسَكْنَ : انھوں نے تھاما…
Read the full tafseer →پاکیزہ چیزوں اور جوارح معلمہ کے شکار کی حلت
اس آیت میں اول تو یہ بتایا کہ تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردیں گئیں۔
پاکیزہ چیزیں اور خبیث چیزیں کیا ہیں ؟
صاحب روح المعانی الطیبات کا مطلب بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ای مالم تستخبثہ الطباع السلیم ولم تنفرعنہ یعنی پاکیزہ چیزیں وہ ہیں جن کو طبائع سلیمہ خبیث نہیں سمجھتیں اور جن سے نفرت نہیں کرتیں۔ اس کے عموم میں ہر پاکیزہ چیز کا حلال ہونا اور ہر خبیث چیز کا حرام ہونا داخل ہے۔ اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس کی طبیعت پاکیزہ ہوگی وہی پاکیزہ چیزوں میں رغبت کرے گا اور خبیث چیزوں سے اسے نفرت ہوگی۔ بہت سے ملکوں میں ایسے انسان بستے ہیں جو ہر چیز کو کھا جاتے ہیں…
Read the full tafseer →قال تعالی۔ یسئلونک ماذا احل لھم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ سریع الحساب۔
ربط) دین کامل کا ایک علامت یہ ہے کہ اس میں حلال و حرام کی پوری تفصیل ہوگذشتہ آیت میں حرام چیزوں کی تفصیل تھی اب قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ حلال کیا کیا چیزیں ہیں تو اب جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ حلال دائرہ بہت وسیع ہے چند چیزوں کو چھوڑ کر جن میں دینی یا دنیوی روحانی یا جسمانی نقصان تھا ان کے علاوہ دنیا کی تمام پاکیزہ حلال ہیں اور چونکہ شکار کے متعلق بعض لوگوں نے خصوصیت سے سوال کیا تھا اس لیے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس کا جواب دیا گیا لوگ آپ سیدریافت کرتے ہیں کہ کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی عد بن حاتم اور زیدی بن مہلہل نے رسول…
Read the full tafseer →19 اس میں تین اقوال ہیں۔ 1 ۔ امام زہری کہتے ہیں کہ صحابہ کرام اکثر آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کرتے تھے کہ ان کے لیے کونسی چیزیں حلال ہیں اور کونسی حرام تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 2 ۔ عدی بن حاتم اور زید ابن مہلہل نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم کتوں اور بازوں سے شکار کرتے ہیں۔ بعض جانوروں کو ہم زندہ پالیتے اور ذبح کرلیتے ہیں۔ اور بعض ہمارے پہنچنے سے پہلے مرجاتے ہیں۔ ان میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی جو اصل سوال کے جواب سے زائد پر مشتمل ہے۔۔ 3 ۔ یہ آیت ابتدائے سورت یعنی اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ سے متعلق ہے اس میں اجمال تھا یہاں اس کی تفصیل ہے۔ یہ آخری قول سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون بیان فرمایا اور واضح کیا کہ حرام کردہ چیزیں ان کے لیے جسمانی یا روحانی طور پر مضر ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دین اور شریعت کی تکمیل کا اعلان فرمایا جو کہ قیامت تک کے لیے قابل عمل ہے۔ اللہ جل شانہ نے نعمت کا ذکر بھی کیا کہ اس نے دین کے تمام فرائض اور قوانین پورے کردیے ہیں۔ نیز یہ کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر بھی دنیا میں غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔ پھر حلت و حرمت کے قانون میں ہی فرمایا کہ اس نے اپنی کمال مہربانی سے اضطراری حالت میں حرام چیزوں کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے ۔ گویا مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے اگر ممنوع چیز بھی بھی کھا پی لی جائے تو…
Read the full tafseer →يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ 0ۭ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ 0ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللہُ 0ۡفَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہِ 0۠ وَاتَّقُوا اللہَ 0ۭ اِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 4
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز…
Read the full tafseer →ترکیب : وما بمعنی الذی والتقدیر صید۔ ما علمتم من الجوارح حال ہے ہائے محذوفہ یا ما سے جوارح جمع جارحۃ ای الکواسب یعنی شکار کرنے والے جانور جیسا کہ کتا اور باز مکلبین بالتخفیف والتشدید حال ہے ضمیر علمتم سے۔ تعلمونہن جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور ضمیر مکلبین سے حال بھی ہوسکتا ہے۔ طعام الذین مبتدا احل لکم خبر وطعامکم مبتداء حل لہم خبر والمحصنت معطوف ہے الطیبات پر اذا آتیتموھن ظرف ہے حل کا محصنین حال ہے ضمیر مرفوع آتیتموھن سے۔ غیر صفت ہے محصنین کی ولامتخذی اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : شکاری کتوں کے شکار کا ذکر : یہ بھی پہلی آیت کا تتمہ ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب کی قومیں باوجود یکہ بعض چیزوں کو پاک اور…
Read the full tafseer →یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ ط قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ لا وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللہ ُ ز فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیْہِ ص وَاتَّقُوا اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (المائدہ : 4)
” تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں ؟ کہہ دیجئے کہ تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں اور ان سدھے ہوئے شکاری جانوروں کا شکار جو شکار پر چھوڑے جاتے ہیں۔ تم ان کو اس طریقہ پر سکھاتے ہو جو تمہیں اللہ نے سکھایا ہے۔ تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حرام کے بعد حلال کی وضاحت۔
سابقہ آیات میں حرام کی ایک فہرست پڑھی گئی ہے اس لیے سوال پیدا ہوا کہ یہ چیزیں تو حرام ہیں لیکن حلال کونسی ہیں ؟ اس کے بارے میں وضاحت نازل ہوئی کہ تمہارے لیے ہر طیب چیز حلال کردی گئی ہے۔ سابقہ مذاہب میں یہ تھا کہ جو چیزیں ان کے مذہب میں حلال تھیں ان کے سوا باقی سب حرام تھا۔ دین اسلام نے اس کے خلاف فارمولا پیش فرمایا کہ حرام کے علاوہ تمام چیزیں اس شرط پر حلال ہیں کہ وہ پاک ہوں۔ پاک کے بارے میں اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ جو شریعت کے کسی اصول کے تحت حرام نہ ہوں اور اسے فطرت سلیم کھانا پسند کرے۔ وہ جانور بھی حلال ہوگا جو شکاری کتے کے ذریعے شکار کیا…
Read the full tafseer →حلال شکار کا بیان :
آیت 4 : یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
یَسْئَلُوْنَکَ (اس میں قول کا معنی پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد ماذا احل لہم وارد ہوا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ (وہ آپ کو کہتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا کیا چیزیں حلال ہیں) مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ ۔ ماذا احل لنا نہیں کہا۔ کہ ان کے قول کی حکایت بنے۔ کیونکہ یسئلونک خود غائب کے صیغہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
تفسیر : ” یسئلونک ماذا احل لھم “ (وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی)
آیت مبارکہ کا شان نزول
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عدی بن حاتم ؓ اور زید بن المھلھل ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ زید وہ صحابی ہیں جن کا نام زید الخیل تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کا نام زید الخیر رکھ دیا۔ ان دو حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایسی قوم ہیں جو کتوں اور بازوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو ہمارے لیے ان کے شکار سے کیا حلال ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کتوں کے مارنے کا حکم دیا تو صحابہ ؓ نے عرضا کیا یا رسول اللہ ! اس…
Read the full tafseer →مستدرک حاکم ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابو رافع کی شان نزول کی روایت ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت کے پاس آن کر دروازہ پر رک گئے گھر کے اندر نہیں آئے آنحضرت نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا جس گھر میں کتاب ہو اس گھر میں فرشتے نہیں آتے پھر تلاش سے معلوم ہوا کہ گھر میں کتہ کا پلا تھا آنحضرت نے اس کو نکلوا دیا اور کتوں کے مارنے کا حکم دیا۔ اسی ذدیل میں بعض صحابیوں نے کتے کے شکار کا حکم آنحضرت سے پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ کتوں کے مارنے کا حکم سن کر صحابہ نے پحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ اس لئے…
Read the full tafseer →آیت 4
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : یسئلونک ماذا احل) ” آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں۔ “ یعنی ان کے لئے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ (قل احل لکم الطیبت) ” کہہ دیجیے ! تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں “ (طبیات) سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا…
Read the full tafseer →شکاری جانوروں کے بارے میں حکم
قول باری ہے وماعلمتم من الجوار۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیا ن کی، انہیں یعقوب بن غیلان عمانی نے، انہیں ہناد بن السری نے ، انہیں یحییٰ بن زکریا، انہیں ابراہیم بن عبید نے انہیں ابان بن صالح نے قعقاع بن حکیم سے انہوں نے سلمی سے انہوں نے حضرت ابورافع ؓ سے کہ حضور ﷺ نے مجھے کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا ہے ان میں سے کس قسم کے رکھنا ہمارے لئے حلال ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد ہوا قل احل لکم الطیبات وما علمتم من الجوارح۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی…
Read the full tafseer →18 حِلّتِ شکار کے بارے میں سوال کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے کہ کیا حلال ہے ان کے لیے "۔ یعنی کتے اور باز وغیرہ کے ذریعے کئے گئے شکار میں سے کیا حلال ہے ؟۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ حضرت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل وغیرہ بعض حضرات نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ہم شکار کرنے والے لوگ ہیں۔ کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو ان میں سے کس جانور کا شکار ہمارے لئے حلال ہے ؟ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن التاویل، خازن، معارف وغیرہ) ۔ سو یہ سوال اگرچہ اپنے الفاظ اور قرآن حکیم کے اپنے معروف اسلوب کے مطابق عام ہے لیکن اس بارے واردشدہ…
Read the full tafseer →حلال چیزوں کے بارے میں
تشریح : حلال و حرام کی وضاحت ہوچکی ہے یہاں دوبارہ یہ پوچھا جارہا ہے جو شکار شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے کیا جائے اس کا کیا حکم ہے ؟ تو اللہ رب العزت نے فرمایا جو بھی تمہیں پاکیزہ لگے کھاؤ اور شکاری جانوروں سے شکار کرانے کی وضاحت اس طرح کردی۔
-1 جانور کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو کہ شکار کو صرف تمہارے لیے پکڑرکھے۔
-2 شکار کے لیے تم خود اس کو چھوڑ دو ۔
-3 ایسے سدھاؤ کہ شکار کیا ہوا جانور یا پرندہ خود نہ کھائے۔ تمہارے بلانے پر واپس آجائے۔
-4 شکاری جانور کو بسم اللہ کہہ کر چھوڑو۔ اس کے علاوہ ایک شرط یہ بھی کہ جانور شکار کو زخمی کر دے کہ اس کا کچھ خون بہ جائے اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 5 ۔
اسرار و معارف :
ایفائے عہد :
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو عہد کرو اسے پورا کرو ، عقد کا معنی معاہدہ ہے جو ہمیشہ دو انسانوں دو جماعتوں دو ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ عہد تو یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مفسرین کرام نے مختلف معانی مراد لئے ہیں مگر نتیجے کے اعتبار سے سب ایک ہیں اور سارے معاہدے اس میں آجاتے ہیں۔ وہ عہد جہالت اور قبل اسلام کے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد کے نکاح کو بھی عقد اسی لیے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان اللہ کے نام پر معاہدہ ہوتا ہے اس لے کر تجارت کے متعلق ہوں یا لین دین کے بارے جنگ اور صلح کا معاہدہ ہو یا کسی بھی موضوع پر اسے اپنی طرف سے پورا کرنے کی پوری…
Read the full tafseer →ف 10 مواشی کا حکم تو فرمادیا۔ پھر لوگون نے اور چیزوں کو پوچھا تو فرمایا ستھر چیزیں تم کو حلال ہیں۔ سو حضرت ﷺ جو چیزیں منع فرمائیں معلوم ہوا کہ وہ ستھری نہیں جیسے پھاڑنے والا جانور مثلا شیر چیتا باز یا چیل اور اس میں داخل ہوئے مردرار خوار سارے کو 3 وغیرہ اور جسئے گدھا اور خچر اور جیسے کیڑے کے مثلا چوہا وغیرہ (از موضح)11 شکاری جا نور سے ہر وہ درندہ یا پرندہ مراد ہے جس کا شکار کے لیے رکھا اور سدھا یا جاتا ہے اور اس کے سدھائے ہوئے ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ شکار پر چھوڑا جائے تو اس کو پانے مالک کے لیے پکڑے اگر وہ شکار پکڑ کر خود کھانے لگے تو اس کا شکار کھانا درست نہیں ہے اور یہی معنی مما امسکن کے…
Read the full tafseer →(5:4) علمتم۔ باب تفعیل تعلیم سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے سکھلایا۔ تم نے تعلیم دی۔
الجوارح۔ شکاری جانور۔ زخمی کرنے والے۔ جاریۃ کی جمع جس کے معنی شکاری جانور کے ہیں۔ خواہ وہ پرندہ ہو از قسم باز، عقاب وغیرہ۔ یا درندہ از قسم کتا وغیرہ۔ یہ جرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں زخمی کرنا۔
وما علمتم من الجوارح کا عطف الطیبات پر ہے اور ماعلمتم من الجوارح کا عطف مضاف محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے کہ و (لا حل لکم صید) ما علمتم من الجوارح اور ان شکاری جانوروں کا کیا ہوا شکار بھی تمہارے لئے حلال ہے جنہیں تم نے سکھلایا اور سدھایا ہے۔
مکلبین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مکلب واحد۔ تکلیب (تفعیل) مصدر۔ شکاری جانور کو شکار کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
لغات القرآن : احل، حلال کیا گیا۔ الطیبت، (طیبۃ) ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھری چیزیں۔ علمتم، تم نے پڑھایا۔ سکھایا۔ الجوارح، (جارحۃ) ۔ جانور جو چھپ کر شکار کر دبوچ لے۔ زخمی کرنے والے۔ مکلبین، (تکلیب) ۔ شکار پر جھپٹنے والے تعلمون، تم سکھاتے ہو۔ سیدھاتے ہو۔ امسکن، وہ روکیں۔ پکڑیں۔ اذکروا، یادرکھو۔ (پڑھو) ۔ سریع الحساب، جلد حساب لینے والا ہے۔
تشریح : کتا، شکرہ اور شکاری جانوروں کے ذریعہ شکار پکڑنا اور کھانا جائز ہے شرط یہ ہے کہ (1) پکڑا ہوا جانور حلال اور پاکیزہ ہو (2) شکاری جانور کو شکار پکڑنا سکھایا گیا ہو (3) شکاری جانور نے شکار پکڑ کر مالک کے لئے رکھا ہو یعنی خود نہ کھایا ہو۔ شکرہ اور باز کے…
Read the full tafseer →شکاری جانوروں کا ذکر شان نزول : یہ آیت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل کے حق میں نازل ہوئی جن کا نام حضور ﷺ نے زید الخیر رکھا تھا ۔ ان دونوں صاحبوں نے عرض کیا :'' رسول اللہ ! ہم لوگ کتے اور باز کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو کیا ہمارے لئے حلال ہے ۔ '' اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے باز یا کتے وغیرہ کو شکار کی غرض سے پالا ہے ، اور وہ سدھایا ہوا ہے، تو جائز ہے ۔ کوئی شکاری جانور شکار پر چھوڑا تو اس کا شکار چند شرطوں سے حلال ہے ۔ (1) شکاری جانور مسلمان کا ہو اور سکھایا ہوا ہو (2) اس نے شکار کو زخم لگاکر مارا ہو (3) شکاری جانور بسم اللہ اللہ اکبر کہ کر چھوڑا ہو (4) اگر شکاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[11] جن کی حرمت قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔
[12] یعنی شکاری جانور کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہو، اس کے بعد اگر شکار زندہ ملے تو پھر اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کرلینا چاہئے۔ اگر زندہ نہ ملے تو اس کے بغیر ہی وہ حلال ہوگا کیونکہ شکاری جانور چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا جا چکا تھا۔ تیر کا شکار بھی اسی حکم میں داخل ہے۔
Read the full tafseer →شکار :
(ف 2) مقصد یہ ہے ہر پاکیزہ چیز جو ذوق سلیم پر گراں نہ گزرے اور اخلاقی وبدنی مضرتوں سے خالی ہو ۔ حلال ہے ، (آیت) ” مما علمکم اللہ “ کہہ کر شکار کی فضیلت بیان کی ہے ۔
(آیت) ” واتقوا اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ شکار بلا ضرورت مستحسن نہیں کیونکہ اس سے قساوت قلبی کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں کیونکہ اس سے قساوت قلبی کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ، یوں حاجت و ضرورت کے مطابق بہترین ورزش ہے جس سے حوصلہ وجرات کے جذبات پیدا ہوتے ہیں صحابہ ؓ اجمعین میں متعدد لوگ شکار سے ذوق رکھتے تھے ، عدی بن حاتم ؓ کو جو ایک مشہور شکاری ہیں ، حضور ﷺ فرماتے ہیں :۔
” جب کتے کو شکار کے لئے دوڑاؤ تو بسم اللہ کہہ لو ، اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 3 اے پیغمبر لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کیا چیز حلال کی گئی ہے آپ فرما دیجیے کہ تمہارے سب پاکیزہ ستھری اور حلال چیزیں حلال رکھی گئی ہیں اور ان شکاری جانوروں کا شکار بھی تمہارے لئے حلال ہے جن شکاری جانوروں کو تم نے شکار پر دوڑانے کو خاص طور پر سدھایا ہو ، جس کی شکل یہ ہے کہ تم ان شکاری جانوروں کو اس طریقہ پر شکار کرنا سکھائو جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تعلیم کردیا ہے ۔ یعنی شریعت کے موافق ان کو شکار کرنا سکھائو اور شکار پر سدھائو تو ایسے شکاری جانور جس شکار کو تمہارے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور شکاری جانور کو شکار پر دوڑاتے اور چھوڑتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 6۔ یعنی جو جانور باوجود واجب الذبح ہونے کے بلاذبح شرعی کے مرجائے۔
1۔ اسی طرح اس کے سب اجزائ۔
2۔ یعنی منخنقہ سے ما اکل السبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے جس کو دم نکلنے سے پہلے قاعدہ کلیہ شرعیہ کے مطابق ذبح کر ڈالو وہ اس حرمت سے مستثنی ہے۔
3۔ گوزبان سے غیر اللہ کے نامز نہ کرے کیونکہ مدار حرمت کا نیت خبیثہ پر ہے اس کا ظہور کبھی قول سے ہوتا ہے کہ نامز کرے کبھی فعل سے ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پر ذبح کرائے۔
4۔ آج کے دن سے مراد خاص دن نہیں بلکہ وہ زمانہ مع زمانہ متصل ماقبل ومابعد کے مراد ہے پس اگر اس کے بعد بھی کسی حکم کا نازل ہونا ثابت ہو تو اکمال بمعنی تکمیل احکام پر اعتراض لازم نہیں آتا۔
5۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →آپ (علیہ السلام) سے حلال چیزوں کے متعلق دریافت کرتے ہی کہہ ساری طیب چیزیں حلال ہیں :
32: ” اے پیغمبراسلام ! کچھ لوگ آپ (علیہ السلام) سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا چیزیں ان کے لئے حلال ہیں ؟ “ جب حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا تو بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ نو ہوئیں حرام چیزیں ۔ اب فرمایئے کہ حلال کیا کیا چیزیں ہیں ؟ چیزیں سو ہوں یا ہزار جب ان میں سے حرام کو جو تھوڑی تعداد میں تھیں بیان کردیا تو یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ علاوہ ازیں سب حلال ہیں۔ گویا سوال کوئی زیادہ معقول نہیں تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو معقول جواب سنا دیا کہ تم کہہ دو ” کہ جتنی چیزیں ہیں سب کی سب حلال ہیں۔…
Read the full tafseer →Lawful and unlawful animals were mentioned in preceding verses. An answer to a question on the same subject appears in the present verse. Some Companions had asked the Holy Prophet ﷺ about the rule governing hunting with the help of a trained dog and falcon. Given in this verse is an answer to that question.
Commentary
To make an animal lawful when hunted through a dog or falcon, four conditions have been mentioned in the question and its answer appearing above. These are:
1. The dog or falcon should be taught, trained and disciplined. The functional principle given here is that the dog…
Read the full tafseer →18. There is a certain subtlety in how the query is answered. Religious- minded people often fall into a prohibitionist mentality by tending to regard as unlawful everything not expressly declared as lawful. This makes them excessively fastidious and over-suspicious, and inclined to ask for a complete list of all that is lawful and permitted. The Qur'an's response to this question seems to be aimed, in the first place, at the reform of this mentality. The questioners want a list of what is lawful so they can treat everything else as prohibited, but the Qur'an provides them with a list of what…
Read the full tafseer →