0
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 5
ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ”شعار“ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم، سکے، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہیں۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
ربط آیات
سورة مائدہ کی پہلی آیت میں معاہدات کے پورا کرنے کی تاکید تھی۔ ان معاہدات میں سے ایک معاہدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام کی پابندی کی جائے۔ اس دوسری آیت میں اس معاہدہ کی دو اہم دفعات کا بیان ہے۔ ایک شعائر اللہ کی تعظیم اور ان کی بیحرمتی سے بچنے کی ہدایت، دوسرے اپنے اور غیر دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ اور ظلم کا بدلہ ظلم سے لینے کی ممانعت۔
اس آیت کے نزول کا سبب چند واقعات ہیں۔ پہلے ان کو سن لیجئے تاکہ آیت کا مضمون پوری طرح دلنشیں ہوسکے۔ ایک واقعہ حدیبیہ کا ہے جس کی تفصیل قرآن نے دوسری جگہ بیان فرمائی ہے۔ وہ یہ کہ ہجرت کے چھٹے سال میں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ۭوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
شعائر کا احترام : لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ ، بقرہ آیت 158 کے تحت " شعائر اللہ "…
Read the full tafseer →2۔ 1 شعائر شعیرۃ کی جمع ہے اس سے مراد حرمات اللہ ہیں (جن کی تعظیم و حرمت اللہ نے مقرر فرمائی ہے) بعض نے اسے عام رکھا ہے اور بعض کے نزدیک یہاں حج و عمرے کے مناسک مراد ہیں یعنی ان کی بےحرمتی اور بےتوقیری نہ کرو۔ اسی طرح حج عمرے کی ادائیگی میں کسی کے درمیان رکاوٹ مت بنو، کہ یہ بےحرمتی ہے۔
2۔ 2 (اشھر الحرام) مراد حرمت والے چاروں مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) کی حرمت برقرار رکھو اور ان میں قتال مت کرو بعض نے اس سے صرف ایک مہینہ مراد یعنی ماہ ذوالحجہ (حج کا مہینہ) مراد لیا ہے۔ بعض نے اس حکم کو فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ مانا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں دونوں احکام اپنے اپنے دائرے…
Read the full tafseer →5: صلح حدیبیہ کے واقعے میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو حرم میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا، مسلمانوں کو طبعی طور پر اس واقعے پر سخت غم وغصہ تھا اور یہ احتمال تھا کہ اس غم وغصہ کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے دشمن سے کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھے جو شریعت کے خلاف ہو، اس آیت نے متنبہ کردیا کہ اسلام میں ہر چیز کی حدود مقرر ہیں اور دشمن کے ساتھ بھی کوئی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →قابل ذبح جانوروں میں تحریم وتحلیل ‘ مختلف چیزوں میں سے حلال و حرام مختلف جگہوں میں حلال و حرام ‘ مختلف اوقات میں حلال و حرام کی یہ حدود وقیود سب کی سب عقود ہیں۔ یہ تمام عقود اور عہد و پیمان ایمان کی بنیاد پر قائم ہیں اس لئے جو لوگ ایمان لائے ہیں ‘ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حلال و حرام کی بابت تمام ہدایات اللہ سے اخذا کریں اور اس معاملے میں غیر اللہ سے کچھ نہ لیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بیان کے آغاز ہی میں کہا گیا کہ عقود اور بندشوں کی پوری طرح پابندی کرو اب اس کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ (آیت) ” احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یتلی علیکم) (تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال…
Read the full tafseer →2 یعنی جو چیزیں حق تعالیٰ کی عظمت و معبودیت کے لئے علامات اور نشانات خاص قرار دی گئی ہیں ان کی بےحرمتی مت کرو۔ ان میں حرم، محترم بیت اللہ شریف، جمرات، صفا ومروہ، ہدی، احرام، مساجد، کتب سماویہ وغیرہ تمامی حدود و فرائض اور احکام دینیہ شامل ہیں۔ آگے ان نشانیوں میں سے بعض مخصوص چیزوں کو جو مناسک سے متعلق ہیں ذکر فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں بھی محرم کے بعض احکام ذکر کئے گئے تھے۔
3 ادب والے مہینے چار ہیں مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (توبہ رکوع 5) ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب ان کی تعظیم و احترام یہ ہے کہ دوسرے مہینوں سے بڑھ کر ان میں نیکی اور تقویٰ کو لازم پکڑے اور شرو فساد سے بچنے کا…
Read the full tafseer →آیت 2 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ وَلا الشَّہْرَ الْحَرَامَ
یعنی اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو اپنی خواہش کے مطابق حلال مت کرلیا کرو۔
وَلاَ الْہَدْیَ
یعنی قربانی کے وہ جانور جو حج یا عمرے پر جاتے ہوئے لوگ ساتھ لے کر جاتے تھے۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ وہ حج یا عمرے پر جاتے وقت قربانی کے جانور ساتھ لے کر جاتے تھے۔ یہاں ان جانوروں کی بےحرمتی کی ممانعت بیان ہو رہی ہے۔
وَلاَ الْقَلَآءِدَ اور نہ ان جانوروں کی بےحرمتی ہونے پائے جن کی گردنوں میں پٹے ڈال دیے گئے ہوں
یہ پٹے قلادے علامت کے طور پر ڈال دیے جاتے تھے کہ یہ قربانی کے جانور ہیں اور کعبے کی طرف جا رہے…
Read the full tafseer →6 شعائر کا مفہوم :۔ شعائر، شعیرہ کی جمع ہے۔ یعنی امتیازی علامت۔ ہر مذہب اور ہر نظام کی امتیازی علامات کو شعائر کہا جاتا ہے۔ مثلاً اذان نماز باجماعت اور مساجد مسلمانوں کے، گرجا اور صلیب عیسائیوں کے، تلک، زنار، چوٹی اور مندر ہندوؤں کے کیس۔ کڑا اور کرپان سکھوں کے۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کے اور سرکاری جھنڈے، قومی ترانے، فوج اور پولیس کے یونیفارم وغیرہ حکومتوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ جن کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی کئی شعائر ہیں۔
7 حرمت کے مہینے :۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر بیشمار ہیں جن میں سے چند ایک کے نام اس آیت میں آگئے ہیں۔ ان کی توہین یا بےحرمتی سے انسان گنہگار…
Read the full tafseer →6 ۔ (اپنے زعم وپندار میں) (آیت) ” فضلا من ربھم ورضوانا “۔ مشرکین عرب بھی اس وقت حج وعمرہ کی نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتے رہتے تھے، فضل سے مراد تو ان کی منفعت دنیوی ہوسکتی ہے۔ (حج کے موقع پر تجارت بھی خوب زوروں پر ہوتی تھی) رضوان سے مراد ان کے حسب پندار رضاء الہی ہے، قال فیہ جمھور المفسرین معناہ یبتغون الفضل والا رباح فی التجارۃ ویبتغون مع ذلک رضوانہ فی ظنھم وطمعھم (قرطبی) (آیت) ” شعآئر اللہ۔ شعآئر۔ جمع شیعرہ کی ہے، مراد اعلام الہی ہیں یعنی وہ چیزیں جن کے ادب واحترام کے تحفظ کے لیے اللہ نے کچھ احکام مقرر کردیئے ہیں۔ جمیع معالم دین اللہ (جصاص) ان احکام وآداب کی خلاف ورزی کرنا ان شعائر کی بےحرمتی…
Read the full tafseer →شان نزول : یٰایَّھَا الذین آمنوا لا تُحِلُّوْا شَعائر اللہ، (الآیۃ) ابن جریر نے عکرمہ اور سدی سے روایت کی ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ آکر مسلمان ہوگیا تھا اور اپنے وطن جا کر پھر مرتد ہوگیا، اس واقعہ کے ایک سال بعد اس نے حج کا قصد کیا صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو لوٹ لیں، آپ نے فرمایا یہ کیونکر ہوسکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے ارادہ سے جا رہا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین خود کو ملت ابراہیمی کا پابند سمجھ کر حالت شرک میں بھی حج کیا…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تحلوا شعائر اللہ اے ایمان والو ! بےحرمتی نہ کرو ‘ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی۔
حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے فرمایا ‘ شعائر سے مراد ہیں حج کے مناسک اور مواقف یعنی کعبہ کا طواف صفا اور مروہ کے درمیان سعی۔ عرفہ اور مزدلفہ میں قیام ‘ کنکریاں مارنا اور وہ تمام امور جو حاجی کرتا ہے جیسے احرام طواف ‘ سرمنڈوانا ‘ قربانی کرنا وغیرہ۔ شعائر کو حلال قرار دینے سے مراد ہے ان کی پرواہ نہ کرنا ان کی توہین کرنا حاجیوں کے ان اعمال میں رکاوٹ پیدا کرنا ‘ مشرکین حج کرتے اور قربانی کے جانورکعبہ کو بھیجا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ان کو لوٹنا چاہا تو ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی۔
شعائر جمع ہے شعیرۃ…
Read the full tafseer →(2) تمام آداب اور مناسک حج کو اپنے لئے حلال مت کرو اور نہ بےادبی کرو حرمت والے مہینے کی اور نہ اس قربانی کے جانور کو پکڑو جو بیت اللہ روانہ کیا جارہا ہے اور حرمت والے مہینے آنے کے لیے جن جانوروں کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہیں ان کو بھی مت پکڑو اور نہ ان لوگوں کو تنگ کرو جو بیت اللہ کے ارادہ سے جارہے ہوں اور وہ یمامہ کے حاجی بکر بن وائل کی قوم اور شرع بن ضہبہ کے تاجر ہیں اور وہ تجارت کے ذریعے روزی اور حج کی وجہ سے اپنے رب کی رضا کے طالب ہوں یا یہ کہ وہ تجارت کے ذریعے روزی اور حج کی وجہ سے اپنے رب کی رضا کے طالب ہوں یا یہ کہ وہ تجارت کے ذریعے اپنے رب کے فضل اور رضا کے طالب ہوں اور جس وقت تم ایام…
Read the full tafseer →لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : ”شَعَائرِ“ یہ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے جو ”فَعِیْلَۃٌ“ بمعنی ”مُفْعَلَۃٌ“ ہے، یعنی ہر وہ چیز جس پر نشان لگایا گیا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو، مراد وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق ہو اور اس خاص تعلق کی بنا پر ان کی تعظیم کی جاتی ہو۔ بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ اس سے مراد اللہ کے تمام اوامرو نواہی ہیں اور بعض نے حج و عمرہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں مراد لی ہیں۔ ”لَا تُحِلُّوْا“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو اور ان کی بےحرمتی نہ کرو۔
وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ : ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 2۔
اس آیت میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا تحلوا شعآئر اللہ “۔ یہ مومنین کو خطاب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے امور میں حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔ الشعائر فعیلۃ کے وزن پر شعیرۃ کی جمع ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 145 دارالکتب العلمیہ)
ابن فارس نے کہا : واحد کو شعارۃ کہا جاتا ہے یہ احسن ہے۔ الشعیرۃ اس جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کے لیے پیش کیا جاتا ہے، اور اشعار سے مراد یہ ہے کہ اس کی کہ ان کو چیر دیا جائے تاکہ اس سے خون بہہ جائے جان لیا جائے کہ یہ ہدی ہے، اشعار کا معنی احساس کے طریق سے آگاہ کرنا ہے کہا جاتا ہے : اشعر ھدیۃ، یعنی اس نے ہدی کے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے ناسخ میں ابن عباس ؓ نے لفظ آیت لا تحلوا شعائرا اللہ کے بارے میں فرمایا کہ مشرکین بیت حرام کا حج کرتے تھے، ہدی کے جانور لاتے تھے اور قابل احترام علامت کی تعظیم کرتے تھے۔ اپنے حجوں میں جانور ذبح کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ان پر لوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ اور فرمایا لفظ آیت ولا الشھر الحرام یعنی تمہارے لئے اس میں لڑائی لڑنا حلال نہیں اور لفظ آیت ولا امین البیت الحرام یعنی جو بیت اللہ کی طرف رخ کرتا ہے اور مومن اور مشرکین اکٹھے حج کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ مومنین کو منع کیا کو وہ کسی کو بیت اللہ کے حج سے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تُحِلُّوْا : تم لوگ حلال مت کرو (بےادبی کے لیے)] [ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ : اللہ کی علامتوں کو ] [ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ : اور نہ ہی محترم مہینے کو ] [ وَلَا الْهَدْيَ : اور نہ ہی قربانی کے جانور کو ] [ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ : اور نہ ہی پٹے (والوں ) کو ] [ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ : [ اور نہ ہی ارادہ کرنے والوں کو ] [ الْبَيْتَ الْحَرَامَ : اس محترم گھر کا ] [ يَبْتَغُوْنَ : جو تلاش کرتے ہیں ] [ فَضْلًا : فضل کو ] [ مِّنْ رَّبِّهِمْ : اپنے رب (کی طرف ) سے ] [ وَرِضْوَانًا ۭ: اور (اس کی ) رضاکو ] [ وَاِذَا : اور جب ] […
Read the full tafseer →لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہَ کا سبب نزول
اس کے بعد فرمایا (یٰٓأَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتُحِلُّوْا شَعَآءِرَاللّٰہِ ) (الایۃ) اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں مفسرین نے حضرت عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ شریح بن ضبیعہ کندی یمامہ سے مدینہ منورہ آیا یمامہ ایک علاقہ کا نام ہے اس نے اپنے ساتھیوں کو جو گھوڑوں پر سوار تھے مدینہ منورہ کے باہر چھوڑ دیا اور تنہا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا میں لَا الہ اِلَا اللّٰہکی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں ٗ کہنے لگا کہ یہ تو اچھی بات ہے مگر میرے چند امراء ہیں میں ان کے بغیر…
Read the full tafseer →حکم دوم شعائر دین اسلام
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو۔۔۔۔ الی۔۔۔ العقاب۔
ربط) گزشتہ آیت میں احلال بہیمۃ الانعام کے لیے غیر محلی الصید کی قید ذکر فرمائی کہ جو کہ احرا اور حرم اور محترم کی تعظیم میں مخل تھی اس لیے اب آئندہ آیت میں شعائر دین کی بےحرمتی کی ممانعت فرماتے ہیں ہیں جو معنی شعائر دین کے احترام کا حکم ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے دین کے احترام اور ادب کو پوری طرح ملحوظ رکھو لہذا تم اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو یعنی جن چیزوں کو اللہ نے اپنے دین کی نشانی قرار دیا ہے جیسے کعبۃ اللہ اور صفا اور مروہ اور حجر اسود اور عرفات اور منی مزدلفہ اور قربانی…
Read the full tafseer →8 یہ تیسرا دعویٰ ہے یہاں اللہ کی نذروں، نیازوں اور بیت اللہ کی منتوں کی حرمت و عزت قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شَعَائِرُ اللہ الصفا والمروۃ والھدی والبدن کل ھذا من شعائر اللہ (ابن جریر ج 6 ص 31) حضرت شیخ نے فرمایا شعائر اللہ ما کان معلما بقربان یتقرب بہ الی اللہ من صلوۃ او دعاء او ذبیحۃ او غیرھا۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ قال بعضھم الشعائرھی الھدایا تطعن فی اسنامھا و تقلد لیعلم انہ ھدی (کبیر ج 3 ص 521) ۔ وَلَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ الف لام جنس کا ہے اور اس سے مراد چار عزت والے مہینے ہیں جن میں جنگ و قتال ممنوع تھا۔ یعنی رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام۔ وَلَا الْھَدْیَ یہ ھَدْیَۃ کی جمع ہے…
Read the full tafseer →سورة بقرہ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ اجتماعی زندگی میں انسانیت کی فلاح کا مدارسی پر ہے۔ شریعت کے تما احکام اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہدو پیمان ہیں جن کی پابندی لازمی ہے۔ چناچہ اللہ نے حلت و حرمت کے مسائل بیان فرمائے ہیں کہ تمہارے لیے بہیمتہ الانعام کو حلال قرار دیا گیا ہے اور ان کے علاوہ وہ جانور حرام ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ البتہ احرام کی حالت میں حلال جانور کا شکار بھی نہیں کرسکتے جب تک کہ احرام سے باہر نہ نکل جائو۔ اس تمہید کے بعد آگے حرام جانوروں اور اشیاء کا ترتیب وار بیان آرہا ہے اہل ایمان کے لیے حلت و حرمت کی پابندی نہایت ضروری ہے اور اسی کو ایفائے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللہِ وَلَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا 0ۭ وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا 0ۭ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا 0ۘ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى 0۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ 0۠ وَاتَّقُوا اللہَ 0ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 2
شَعَاۗىِٕرَ
ومَشَاعِرُ الحَجِّ : معالمه الظاهرة للحواسّ ، والواحد مشعر، ويقال…
Read the full tafseer →ترکیب : ولا القلائد معطوف ہے والا الہدی پر ای لا تحلوا القلائد جمع قلادۃ 1 ؎ اور مراد قلادہ پہنے والے جانور ہیں نہ صرف قلادوں کی تحریم مراد ہے۔ ولا آمین اے ولا تحلوا اقتال آمین ای قاصدین البیت الحرام۔ یبتغون موضع حال میں ہے ضمیر آمین سے یجرمنکم 1 ؎ پٹہ جو جانوروں کے گلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ 12 منہ
: حرم اور احرام میں حلال جانوروں کے شکار کی ممانعت مذکور ہوئی تھی اس لئے اسی مناسبت سے اور جو جو افعال حرم احرام کے منافی اور اخلاف ادب ہیں ان کو بھی منع فرماتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ ان آیات میں اول تو عموماً جملہ ارکان و فرائض و احکام شرعی خصوصاً احکامِ حج کی بجا آوری کی تاکید ‘ مخالفت کی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللہِ وَلَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْھَدْیَ وَلَا الْقَلَآئِدَ وَلَآ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رِضْوَانًا ط وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ط وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْ م وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰیص وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ص وَاتَّقُوا اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (المائدہ : 2)
(اے ایمان والو ! اللہ کے شعائر (علامات) کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ (بےحرمتی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ حرمت و حلت کے سلسلہ میں انسان حد سے زیادہ حساس واقع ہوا ہے۔ اس لیے پھر ” یَاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ کے خطاب سے حرمت و حلت کے مسائل کی تفسیر بیان کی جار ہی ہے۔
جس کا مفہوم یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو۔ اپنے ایمان کو تازہ اور پختہ کرو اور حرمتوں کا احترام کرو حرمتوں کے لیے ” شعائر اللّٰہ “ کا لفظ استعمال کیا تاکہ ان کی اہمیت کا مزید احساس پیدا ہو شعائر ” شعیر ۃ “ کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے کہ دین کی ایسی علامت جس سے دین یا اس کے کسی رکن کی شناخت اور تکریم واضح ہوتی ہو۔ شعائر اللہ میں سے چار کا یہاں…
Read the full tafseer →آیت 2 :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تُحِلُّوْا شَعَآپرَ اللّٰہِ (اے ایمان والو ! بےحرمتی نہ کرو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی) شعائر جمع شعیرۃ ہے۔ اس چیز کو کہتے ہیں جن کو بطور علامت مقرر کیا جائے۔ یعنی حج کے مقامات پر عبادات کی علامات۔ رمی کے مقامات۔ مطاف۔ سعی اور وہ افعال جو حجاج کی علامات ہوں۔ جن سے وہ پہچانے جائیں۔ جیسے احرام ٗ طواف ٗ سعی ٗ حلق ونحر وغیرہ۔ وَلَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ (اور نہ ماہ حرام کی) اس سے مراد حج کے مہینے ہیں وَلَا الْہَدْیَ (اور نہ ہدی) اس سے مراد وہ جانور جو بیت اللہ کی طرف بطور ہدیہ بھیجا جاتا ہے۔ اور اس سے حج کے احکام میں قرب الٰہی حاصل کیا جاتا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
” لاتحلوا شعائر اللہ “ کا شان نزول
تفسیر : (یایھا الذین امنو لاتحلوا شعائر اللہ ) یہ آیت حطم کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا نام شریح بن صبیعۃ البکری تھا۔ یہ مدینہ آیا اور اپنے گھڑ سوار ساتھیوں کو مدینہ سے باہر چھوڑ آیا اور تنہا حضور ل (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی آپ ﷺ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس بات کی گواہی کی طرف کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی طرف۔ اس نے کہا یہ بہت اچھی بات ہے مگر میرے کچھ سردار ہیں، میں ان کے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ شاید میں اسلام لے…
Read the full tafseer →ابن جریر میں عکرمہ اور سدی سے روایت ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ میں آن کر مسلمان ہوگیا تھا اور اپنے وطن میں جا کر پھر مرتد ہوگیا اور اس قصہ کے ایک سال کے بعد اس شخص نے حج کا قصہ کیا۔ صحابہ ؓ نے آنحضرت سے سے درخواست کی کہ اگر آپ جازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو ہم لوٹ لیویں۔ آپ نے فرمایا یہ کیونکرہو سکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے اردہ سے جا رہا ہے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند جان کر حالت شرم میں بھی حج کیا کرتے تھے اور سورة براءۃ کے نازل…
Read the full tafseer →آیات 2
(یا یھا الذین امنوا لاتحلوا شعآئر اللہ) ” اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانت پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے (ولا الشھر الحرام) ” اور نہ ادب کے مہینے کی۔ “ یعنی حرتم کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا…
Read the full tafseer →قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتجلواشعائر اللہ۔ اے ایمان والو ! خدا پرستی کی نشانیوں کو بےحرمت نہ کرو) اس آیت کی تفسیر میں سلف سے کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ شعائر سے مراد مناسک حج ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ صفاء مروہ قربانی کے جانور سب شعائر میں داخل ہیں۔ عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کے فرائض ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لئے مقرر کئے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اللہ کا سارا دین شعائر اللہ ہے کیونکہ قول باری ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یہ تعظیم دلوں کی پرہیز گاری میں سے ہے) آیت میں شعائر اللہ سے اللہ کا دین مراد ہے۔…
Read the full tafseer →5 " شعائر اللہ " سے مراد اور اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب : " شعائر اللہ " سے مراد وہ خاص چیزیں ہیں جو اسلام کی خاص نشانیاں اور اس کی علامتیں قرار پاتی ہوں۔ اور ان سے اسلام کی عظمت و خصوصیت اور اس کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہو۔ جیسے اذان، نماز، حج، عمرہ اور قربانی وغیرہ۔ ( معارف ازکاندھلوی، محاسن التاویل للدمشقی، جامع البیان للحسینی وغیرہ) ۔ اسی لئے حضرت حسن بصری نے اسلام کے جملہ احکام و شرائع کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ نیز فرمایا گیا ۔ " شعائر اللّٰہ مَحَارِمُہُ " ۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی " شعائر اللہ " سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کو اللہ پاک نے حرام فرمایا ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ذمہ داری پوری کرو
تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو سب سے پہلے اپنے وعدوں کی طرف توجہ دینی چاہیے وہ ایسے کہ جو بھی وعدہ وہ کریں اس کو ضرور پورا کریں، وعدہ کو پورا نہ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے وعدہ میں کون کون سے وعدے آجاتے ہیں ؟ کبھی وعدہ خودانسان اپنے آپ سے کرتا ہے، کبھی دو انسانوں کے درمیان بھی وعدہ ہوتا ہے، کبھی ایک جماعت یا گروہ کا دوسرے گروہ سے ہوتا ہے، کبھی ایک ملک کا دوسرے ملک سے بھی ہوسکتا ہے انسان کا اللہ کے ساتھ بھی ایک وعدہ ہے۔ غرض دنیا کا کارو بار معاہدوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس میں ہم ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 5 ۔
اسرار و معارف :
ایفائے عہد :
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو عہد کرو اسے پورا کرو ، عقد کا معنی معاہدہ ہے جو ہمیشہ دو انسانوں دو جماعتوں دو ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ عہد تو یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مفسرین کرام نے مختلف معانی مراد لئے ہیں مگر نتیجے کے اعتبار سے سب ایک ہیں اور سارے معاہدے اس میں آجاتے ہیں۔ وہ عہد جہالت اور قبل اسلام کے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد کے نکاح کو بھی عقد اسی لیے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان اللہ کے نام پر معاہدہ ہوتا ہے اس لے کر تجارت کے متعلق ہوں یا لین دین کے بارے جنگ اور صلح کا معاہدہ ہو یا کسی بھی موضوع پر اسے اپنی طرف سے پورا کرنے کی پوری…
Read the full tafseer →ف 7 شعائر یہ شعیرہ (یا سعارۃ) کی جمع ہے اوشعیرہ (نعیلہ) یعنی مشعرۃ (مفعلہ) ہے یعنی وہ چیز جس پر نشان لگایا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو اس سے مراد شریعت کے جملہ اور نواہی ہیں۔ ان کو حلال نہ سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو یا بےحرمتی نہ کرو۔ بعض نے مناسک حج بھی مراد لیے ہیں (کبیر)8 یہ چار مہینے میں ذوالقعدۃ ذوالحجہ۔ محرم اور رجب مطلب یہ کہ ان میں جنگ کر کے ان کی بےحرمتی نہ کرو تفصیل کے لیے سورت توبہ 36 ۔ (کبیر)9 بدیٰ خانہ کعبہ کی نیاز کے جانور یعنی جو قربانی کے جانور خانہ کعبہ بھیجے جائیں ان کو راستے میں مت روکو، یہ جانور گو شعائر اللہ کے تحت ہی آجاتے تھے لیکن ان کے مزید احترام…
Read the full tafseer →(5:2) لا تحلوا۔ فعل نہی۔ تحلوا۔ احلال (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے احلال عہد و پیمان سے آزاد ہونا۔ احل الشیء کسی چیز کو حلال کرلینا۔ اس کے متعلق حدود اور بندشوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلینا۔ اس کا احترام (جو حدود اور بندشوں سے مستلزم ہے) نہ کرنا ۔ بےحرمتی کرنا ۔ (حسنین محمد مخلوف مفتی الدیار المصریہ السابق۔ اپنی کتاب کلمات القرآن۔ تفسیر و بیان میں لا تحلوا کا معنی لا تنتھکوا لکھتے ہیں۔ انتہک الشیئ۔ بےعزتی کرنا۔ بیحرمتی کرنا۔
شعائر۔ شعیرۃ کی جمع ہے شعیرۃ برازن فعیلۃ بمعنی منفعلۃ بمعنی مشعرۃ ہے مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ اور اشعار کے معنی علم میں لانے کے ہیں۔ ہر وہ شی جو کسی چیز کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
لغات القرآن : لاتحلوا، حلال نہ سمجھو۔ شعآئر، (شعیرۃ) کی جمع ہے، عبادت کی نشانیاں، نام زد چیزیں۔ الشھر الحرام، عزت والا مہینہ۔ الھدی، نیاز کعبہ، حرم کو بھیجا جانے والا جانور۔ القلآئد، (قلادۃ) ، پٹہ۔ ہار (قربانی کے جانور کا ہار) امین، (ام) ۔ کعبہ کا رادہ کرکے چلنے والے۔ البیت الحرام، عزت و احترام کا گھر (کعبۃ اللہ) ۔ حللتم، تم نے حلال کرلیا (احرام کھول دیا) ۔ اصطادوا، تم شکار کرو۔ لایجرمن، تمہیں مجرم نہ بنا دے۔ شنان، دشمنی۔ تعتدوا، تم زیادتی کرتے ہو۔ تعاونوا، تم ایک دوسرے کی مدد کرو۔ البر، نیکی، بھلائی۔ الاثم، گناہ۔ العدوان، حد سے آگے نکل جانا، سرکشی اختیار کرنا۔ العقاب، عذاب۔…
Read the full tafseer →شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص شریح بن ہند مدینہ میں آکر مسلمان ہوگیا تھا، اور اپنے وطن میں جاکر مرتد ہوگیا اور اس قصہ کے ایک سال کے بعد اس نے حج کا قصد کیا ۔ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ ی سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو شریح بن ہند کے ساتھ جو نیاز کعبہ کے جانور اور تجارت کا مال ہے اس کو ہم لوٹ لیں ۔ آپ نے فرمایا : '' یہ کیونکر ہوسکتا ہے وہ تو نیاز کے جانور لے کر حج کے ارادہ سے جارہا ہے ، '' اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ احرام باندھنا ، قربانی کے جانوروں کا ساتھ لینا ، احرام کے مہینوں میں حج کے ارادہ سے سفر کرنا، پہچان کے لئے قربانی کے جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال دینا یہ…
Read the full tafseer →[3] ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا کسی طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا شعار کہلائے گی کیونکہ وہ اس کے لئے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ یہاں اللہ کے شعائر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اس کی عظمت و معبودیت کے لئے خاص علامات اور نشانات قرار دی گئی ہیں۔ ان میں کعبہ، صفاء، مروہ، مساجد وغیرہ شامل ہیں۔
[4] قرآن مال و دولت کو اللہ کے فضل سے تعبیر دیتا ہے۔ اس لئے یہاں مقصود کاروبار، تجارت اور اس کا فائدہ ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں شعائر اللہ کی تفصیل بیان کی ہے یعنی ارض حرم میں ہر نوع کی تکلیف وضرار ممنوع ہے ، اس لئے اگر شکار کی ضرورت محسوس ہو تو اس وقت جائز ہے جب فرائض حج سے فارغ ہوجاؤ ۔
(آیت) ” یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا “۔ سے مراد حجاج بیت اللہ ہیں ، کیونکہ ان کے مقاصد میں اتنہا درجے کی وسعت ہوتی ہے وہ جہاں خدا کی رضا و محبت حاصل کرنے کے لئے ارض بابرکت کا سفر اختیار کرتے ہیں وہاں مال و دولت کا حصول بھی ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔
کسب وتجارت کو فضل سے تعبیر کرنا زبردست ترغیب ہے کہ مسلمان اس کو حاصل کرنے میں ازحد کوشاں رہیں ، حتی کہ عین اس زمانے میں جب وہ مناسک حج ادا کر رہے ہوں ‘ تجارت وتمول کے اسباب…
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! شعائر الٰہی کو حلال نہ کرلو، یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نشانات کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی بےحرمتی کرو۔ یعنی رجب، ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم ان مہینوں کا ادب ملحوظ رکھو اور نہ اس قربانی کے جانور کی بےحرمتی کرو جو حرم میں قربانی کرنے کے لئے لے جایا جا رہا ہوں اور نہ ان قربانی کے جانوروں کی بےحرمتی کرو جن کے گلے میں قلاوہ یعنی چمڑے کے پٹے یا کوئی اور چیز علامت کے طور پر پڑی ہوئی ہو اور نہ ان لوگوں کی بےحرمتی کرو جو بیت الحرام یعنی کعبہ کی زیارت کے ارادے سے جا رہے ہوں اور ان کی حالت یہ ہو کہ وہ اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا مندی کے طالب ہوں۔ (تیسیر)
شعائر یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 4۔ اوپر کی سورت کے ختم پر فرمایا تھا کہ ہم شرائع کو تم سے بیان کرتے ہیں اس سورت کے شروع پر اس کا امر ہے کہ تم ہمارے ان بیان کیے ہوئے شرائع کی پوری پوری بجاآوری کرو یہ مناسبت تو دونوں سورتوں کے اختتام اور آغاز میں بھی دونوں کے اشتمال علی الشرائع سے ظاہر ہے اور خود اس سورت کے اجزاء میں ایک ارتباط بدیع ہے کہ اس کے اول کی آیت بمنزلہ متن کے ہے اور تمام سورت بمنزلہ اس کی شرح کے کیونکہ لفظ عقود بقول ابن عباس ؓ تمام شرائع کو عام اور شامل ہے اور سورت میں انہی شرائع کی تفصیل ہے پس اولا اجمالی اور کلی عنوان سے امتثال شرائع کا حکم فرماتے ہیں۔
5۔ جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ بجز ان بہائم کے جو کہ دوسرے…
Read the full tafseer →مسلمانوں کو حکم کہ شعائر اللہ کی بےحرمتی نہ کرو :
7: شعائر اللہ کیا ہیں ؟ ” شعائر “ جمع ہے شعیرۃ کی اور ” شعیرۃ “ کسی چیز کی خصوصی علامت کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی پر ستش کی مخصوص علامتیں جن میں غیر الہ کی پرستش کا کوئی شائبہ تک نہیں ہے اور جو علامتیں نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنی اصلی حالت پر بحال رکھی ہیں سب شعائر اللہ کہلاتی ہیں جیسے بیت اللہ کا طواف ، صفا ومرہ کے درمیان سعی ، عرفہ اور مزدلفہ کا قیام۔ منی میں قربانی اور کنکریاں وغیرہ پھینکنا سب شعائر اللہ ہیں۔ اسی طرح احرام کا باندھنا ، محرم کا شکا رنہ کرنا ، حرم کے اندر شکار نہ کرنا وغیرہ سب شعائر اللہ ہیں۔
یہ سب اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی…
Read the full tafseer →Linkage of Verses
The first verse of Surah al-Ma'idah emphasized the fulfillment of contracts. Included among these contracts is the contract or pledge to abide by the restrictions of the lawful and the unlawful as ordained by Allah Almighty. The second verse cited here describes two important articles of this contract. The first relates to the sanctity of the signs, symbols or hallmarks of Allah with the specific instruction to stay away from desecrating them. The second article recommends an even-handed dispension of justice to everyone, your own or not your own, friend or foe, which has…
Read the full tafseer →5. Whatever characteristically represents either a particular doctrine, creed, way of thought or conduct is recognized as its symbol. For example, official flags, uniforms of the armed forces, coins, notes and stamps are symbols used by governments so that their subjects - in fact all those who live within their sphere of influence - treat them with proper respect. Cathedrals, altars and crosses are symbols of Christianity. A special bunch of hair on the head, a special kind of bead-rosary and the temple are symbols of Hinduism. A turban, bracelet and Kirpan (a special dagger kept by the…
Read the full tafseer →