ایک بےدلیل روایت اور وفائے عہد کی تاکید
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا ! آپ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا " جب تو قرآن میں لفظ آیت (یا ایھا الذین امنوا) سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہوجا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہوگا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہوگی۔ " حضرت زہری فرماتے ہیں " جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی ﷺ بھی شامل ہیں۔ " حضرت فیثمہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے (یا ایھا الذین امنوا) کے (یا ایھا المساکین) ہے۔ ایک روایت ابن عباس کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ جہاں کہیں لفظ آیت (یا ایھا…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 1
یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورة میں تم پر عائد کی جا رہی ہیں، اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں۔ اس مختصر سے تمہیدی جملہ کے بعد ہی اس بندشوں کا بیان شروع ہوجاتا ہے جن کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 2
”اَنعام“ (مویشی) کا لفظ عربی زبان میں اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری پر بولا جاتا ہے۔ اور ”بہیمہ“ کا اطلاق ہر چرنے والے چوپائے پر ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ انعام تمہارے لیے حلال کیے گئے، تو اس سے صرف وہی چار جانور حلال ہوتے جنہیں عربی میں ”انعام“ کہتے ہیں۔ لیکن حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ”مویشی کی قسم کے…
Read the full tafseer →سوت کا شان نزول اور خلاصہ مضامین
یہ سورة مائدہ کی ابتدائی آیت ہے۔ سورة مائدہ بالاتفاق مدنی سورة ہے اور مدنی سورتوں میں بھی آخر کی سورت ہے، یہاں تک کہ بعض حضرات نے اس کو قرآن کی آخری سورت بھی کہا ہے۔ مسند احمد میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ و اسماء بنت یزید منقول ہے کہ سورة مائدہ رسول کریم ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب کہ آپ سفر میں عضبا نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ نزول وحی کے وقت جو غیر معمولی ثقل اور بوجھ ہوا کرتا تھا حسب دستور اس وقت بھی ہوا۔ یہاں تک کہ اونٹنی عاجز ہوگئی۔ تو آپ ﷺ اس سے نیچے اتر آئے۔ یہ سفر بظاہر حجة الوداع کا سفر ہے جیسا کہ بعض روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ حجة الوداع ہجرت کے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ڛ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ۔
لفظ عقد کا مفہوم اور اس کی وسعت : اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ، عقد کا لفظ عہد و میثاق کے الفاظ کے مقابل میں عام ہے۔ اس میں قول قرار، قسم اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک، جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے، سب آگیا۔ چناچہ اس سورة میں میثاق شریعت کی پوری تاریخ بھی اس کے تمام نتائج و عواقب کے ساتھ بیان ہوئی ہے، قسم اور شہادت کی ذمہ داریاں بھی واضح کی…
Read the full tafseer →1۔ 1 عقود عقد کی جمع ہے جس کے معنی گرہ لگانے کے ہیں اس کا استعمال کسی چیز میں گرہ لگانے کے لیے بھی ہوتا ہے اور پختہ عہدوپیمان کرنے پر بھی۔ یہاں اس سے مراد احکام الٰہی جن کا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عاقل و بالغ ٹھہرایا ہے اور عہد و پیماں کرنے پر معاملات بھی ہیں جو انسان آپس میں کرتے ہیں۔ دونوں کا ایفا ضروری ہے۔
1۔ 2 بھیمہ چوپائے (چار ٹانگوں والے) جانور کو کہا جاتا ہے۔ اس کا مادہ بہم، ابہام ہے بعض کا کہنا ہے کہ ان کی گفتگو اور عقل وفہم میں چونکہ ابہام ہے اس لیے ان کو بہیمہ کہا کہا جاتا ہے انعام اونٹ، گائے بکری بھیڑ کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی چال میں نرمی ہوتی ہے یہ بھیمتہ الانعام نر اور مادہ…
Read the full tafseer →1: چوپایہ تو ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہے، لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں، یعنی گائے اونٹ، اور بھیڑ بکری یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں جیسے ہرن نیل گائے وغیرہ۔
2: ان حرام چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت نمبر 3 میں آ رہا ہے
3: مویشیوں کے مشابہ جانور مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں اور ان کا شکار بھی حلال ہے لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہوجاتا ہے۔
4: اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں، مثلاً یہ سوال…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 1۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو) ۔ زندگی کے بسر کرنے کے لئے کچھ ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خود انسان اور اس کے نفس کے درمیان جو تعلق ہے اسکے لئے بھی کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر ایک انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور پھر انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوق اور غیر زندہ اشیاء کے درمیان بھی تعلق کے ضابطے ہوتے ہیں ۔ لوگوں میں سے رشتہ داروں سے تعلقات ‘ غیر رشتہ داروں اور دور کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ خاندان اور قوم کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ جماعت کے ساتھ تعلقات اور پھر پوری امت کے ساتھ ایک فرد کا تعلق ‘ دشمنوں کے ساتھ تعلق ‘ دوستوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →9 ایمان شرعی دو چیزوں کا نام ہے صیحح معرفت اور تسلیم وانقیاد۔ یعنی خدا اور رسول کے جملہ ارشادات کو صحیح و صادق سمجھ کر تسلیم و قبول کے لئے اخلاص سے گردن جھکا دینا۔ اس تسلیمی جزء کے لحاظ سے ایمان فی الحقیقت تمام قوانین و احکام الٰہیہ کے ماننے اور جملہ حقوق ادا کرنے کا ایک مضبوط عہد و اقرار ہے گویا حق تعالیٰ کی ربوبیت کاملہ کا وہ اقرار جو عہد الست کے سلسلہ میں لیا گیا تھا جس کا نمایاں اثر انسان کی فطرت اور سرشت میں آج تک موجود ہے اسی کی تجدید و تشریح ایمان شرعی سے ہوتی ہے۔ پھر ایمان شرعی میں جو کچھ اجمالی عہد و پیمان تھا اسی کی تفصیل پورے قرآن و سنت میں دکھلائی گئی ہے۔ اس صورت میں دعویٰ ایمان…
Read the full tafseer →آیت 1 ‘ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ط۔
عقدہ گرہ کو کہتے ہیں جس میں مضبوطی سے بندھنے کا مفہوم شامل ہے۔ لہٰذا عُقُود سے مراد وہ معاہدے ہیں جو باقاعدہ طے پاگئے ہوں۔ معاہدوں اور قول وقرار کی اہمیت یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری پوری کی پوری سماجی و معاشرتی زندگی قائم ہی معاہدوں پر ہے۔ معاشرتی زندگی کا بنیادی یونٹ ایک خاند ان ہے ‘ جس کی بنیاد ایک معاہدے پر رکھی جاتی ہے۔ شادی کیا ہے ؟ مرد اور عورت کے درمیان ایک ساتھ زندگی گزارنے کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے انسانی معاشرے کی بلند وبالا عمارت کی بنیادی اینٹ رکھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق فریقین کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ فرائض۔ ایک…
Read the full tafseer →1 ایفائے عہد :۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ صراحت موجود ہے کہ یہود کی بدعہدیوں اور عہد شکنیوں کے باعث ان پر کئی ایسی چیزیں حرام کردی گئی تھیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں لہذا اس سورة میں حلت و حرمت کے احکام بیان کرنے سے پیشتر بطور تمہید اپنے معاہدات کو پورا کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے خواہ یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہوں یا لوگوں سے، بیع و شرا سے متعلق ہوں یا نکاح اور منگنی وغیرہ سے، اپنوں سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر مسلموں سے، صلح سے متعلق ہوں یا جنگ سے غرض ہر طرح کے معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عہد کو پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے جیسا کہ پہلے اس ضمن میں صحیح احادیث…
Read the full tafseer →2 ۔ (آیت) ” العقود “۔ عقد کا لفظ عام ہے۔ اور ہر عہد شرعی کو شامل، خواہ اس کا تعلق خالق سے خواہ مخلوق سے۔ العھود التی بینکم وبین اللہ اوبین الناس (ابن عباس ؓ والظاھر عموم العقود فی کل ربط یوافق الشرع سواء کان اسلام یا اور جاھلیا (بحر) عبادات کے علاوہ بھی جتنے عہد سیاسیات، تجارت، معاشرت وغیرہ معاملات واخلاقیات سے متعلق ہوسکتے ہیں، سب اس میں آگئے، قال الحسن یعنی بذلک عقود الدین وھو ماعقدہ المرء علی نفسہ من بیع وشراء اجارۃ وکراء ومناکحۃ و طلاق ومزارعۃ ومصالحۃ وتملیک وتخییر وعتق وتدبیر وغیر ذلک من الامور ماکان ذلک غٰر خارج عن الشریعتہ وکذلک ما عقدہ علی نفسہ للہ من الطاعات (قرطبی)
3 ۔ اور وہ ذکر…
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے ایمان والو ! معاہدوں کو پورا کرو یعنی ان محکم قول وقراروں کو پورا کرو جو تم نے اللہ سے اور انسانوں سے کئے ہیں، تمہارے لئے مویشی چوپایوں مثلاً اونٹ، گائے اور بکری (وغیرہ) کو ذبح کر کے کھانا حلال کردیا گیا ہے، مگر وہ جانور حلال نہیں کئے گئے جن کی حرمت تم کو آئندہ آیت حرمت علیکم المیتة میں بتائی جا رہی ہے یہ استثناء منقطع ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ متصل ہو، اور تحریم موت وغیرہ کے عارض ہونے کی وجہ سے ہے، لیکن حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھو یعنی جب تم محرم ہو، اور غیرَ ، کم (کی طرف لوٹنے والی) ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود . اے ایمان والو ! وعدوں کو پورا کرو۔ عقد مضبوط عہد۔ اصل میں دو چیزوں کا اتنا مضبوط اتصال ہے کہ دونوں کا الگ الگ ہونا دشوار ہو عقد کہلاتا ہے۔
زجاج نے کہا کہ عقد مضبوط ترین عہد کو کہتے ہیں۔ ” وفاء اور ایفاء “ وعدہ کے تقاضے کو ادا کرنا۔ وفاء سے زیادہ لفظ ایفاء میں قوت ہے کذا قال التفتازانی اللہ نے روز میثاق سے اب تک جن عہود کا پابند بندوں کو بنایا ہے وہ سب العقود میں داخل ہیں خواہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے کی صورت میں ہوں یا وہ وعدے ہوں جو محمد ﷺ پر ایمان لانے اور اوصاف محمدی کو ظاہر کرنے سے متعلق اہل کتاب سے لئے…
Read the full tafseer →(1) ان عہدوں کو پورا کرو جو تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے یا لوگوں کے درمیان ہیں۔
تمہارے لیے خشکی کے شکار مثلا نیل گائے، جنگلی گدھا اور ہرن وغیرہ حلال کیے گئے ہیں، ماسوا ان جانوروں کے جو کہ تم پر اس سورت میں حرام کیے گئے ہیں مگر اس شکار کو احرام یا حرم میں حلال مت سمجھنا جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں، حل وحرم میں حلال اور حرام کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا۔۔ : اس آیت میں پانچ احکام بیان ہوئے ہیں : 1 عقود اور عہود کا پورا کرنا۔ 2 چوپاؤں کا حلال ہونا۔ 3 کچھ چوپاؤں کا حرام ہونا، جن کا ذکر اس سورت کی دوسری اور تیسری آیت میں ہے۔ 4 محرم کے لیے اور حرم میں شکار کا حرام ہونا۔ 5 غیر محرم کے لیے غیر حرم میں شکار کا حلال ہونا۔
بِالْعُقُوْدِ ڛ : یہ ”عَقْدٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی گرہ لگانا ہے، عہد و پیمان کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ وہ بھی گرہ کی طرح پختہ کیا جاتا ہے، مراد شریعت کے احکام ہیں۔ دوسری جگہ عقد کو عہد سے بھی تعبیر کیا ہے، فرمایا : (وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ) [ البقرۃ : 40 ] ”اور تم میرا عہد پورا کرو۔“…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 1۔
اس آیت میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ علقمہ ؓ نے کہا : قرآن میں جو (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ آیا ہے وہ مدنی ہے جو (آیت) ” یایھا الناس “۔ آیا ہے وہ مکی ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 145 دارالکتب العلمیہ) یہ اکثر کے اعتبار سے ہے یہ پہلے گزر چکا ہے، یہ آیت ان آیات میں سے ہے قلت الفاظ کے باوجود معانی کی کثرت اور فصاحت پر کلام میں بصیرت رکھنے والے کے لیے ظاہر ہے، یہ آیت پانچ احکام اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔
(1) عہدوں کو پورا کرنے کا حکم :
(2) بےزبان جانوروں کا حلال کرنا۔
(3) اس کے بعد جو ہے اس کی استثنا۔
(4) احرام کی…
Read the full tafseer →(1) ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ لفظ آیت اوفوا بالعقود یعنی عہد و پیمان کو پورا کرو جو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا (اس کو حلال جانو) اور جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا (اس کو حرام جانو) اور جو (ا اللہ تعالیٰ نے) فرض فرمایا اور جو اللہ تعالیٰ نے سارے قرآن میں حدیں مقرر فرمائیں نہ دھوکہ کرو اور نہ وعدہ کو توڑو۔
(2) ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے لفظ آیت اوفوا بالعقود کے بارے میں روایت نقل کی کہ عقود سے مراد دور جاہلیت کا معاہدہ سے ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جاہلیت کے عہد و پیمان کو پورا کرو اور اسلام میں کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔
(3) عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوجو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَوْفُوْا : تو لوگ پورا کرو ] [ بِالْعُقُوْدِ : عہدوں کو ] [ ڛ اُحِلَّتْ : حلال کیا گیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ : بےزبان مویشیوں کو ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھ کر سنایا جائے گا تم کو ] [ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ : شکار کو حلال کرنے والے نہ ہوتے ہوئے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ حُرُمٌ ۭ: محترم (یعنی احرام میں ہو)] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ يَحْكُمُ : حکم دیتا ہے ] [ مَا : وہ جو ] [ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ]
ب ھ م
ثلاثی مجرد سے فعل…
Read the full tafseer →ایفائے عہد کا حکم اور چوپایوں اور شکاری جانوروں سے متعلقہ بعض احکام
سورۂ مائدہ کی ابتداء ایفائے عقود یعنی عہدوں کو پورا کرنے کے حکم سے ہے ارشاد فرمایا (یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) اے ایمان والو ! اپنے عہدوں کو پورا کرو۔ عہدوں کو پورا کرنا ایمانی تقاضا ہے اور بد عہدی ایمان کے خلاف ہے اس میں وہ عہد بھی داخل ہے جو بندوں نے اللہ سے کیا ہے، جب کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس نے یہ عہد کرلیا کہ میں اللہ کے تمام اوامر کو مانوں گا اور جو بھی احکام ہونگے ان سب پر عمل کروں گا اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے ان سب سے بچتا رہوں گا۔ خواہ اللہ کی کتاب قرآن مجید میں اوامر ونواہی…
Read the full tafseer →قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا وفو بالعقود۔
اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ پورا کرو ان عہدوں کو جو تم نے التزام احکام کے بارے میں اللہ سے باندھے ہیں خواہ وہ براہ راست اللہ سے متعلق ہوں یا بندوں سے متعلق ہوں یا دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے متعلق ہوں اس لیے کہ ایمان درحقیقت ایک معاہدہ التزام ہے کہ میں دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول کی تمام احکام کو صحیح او صادق سمجھ کر ان کو واجب الالتزام او لازم العمل تسلیم کرتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ دل وجان سے ان احکام کی تعمیل کروں گا پس یہ عہد التزام ایمان کی حقیقت ہے جس میں تمام احکام آگئے اور یہ ایمان درحقیقت عہد الست کی تجدید ہے جس میں حق ربوبیت…
Read the full tafseer →2 حصہ اول۔ 1 ۔ شرک فعلی کی نفی۔ 2 ۔ شرک اعتقادی (شرک فی التصرف) کی نفی
سورت کی ابتداء سے سورت کے پہلے حصے کی ابتداء ہوتی ہے یہ حصہ رکوع 6 میں وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ پر ختم ہوتا ہے اس حصے میں شرک کی دو قسموں یعنی شرک فعلی اور شرک اعتقادی کا رد ہے۔ شروع سے لیکر رکوع 3 میں وَ سَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ تک میں نفی شرک فعلی کا مضمون مذکور ہے اور اس کے متصل بعد یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَاء کُمْ رَسُوْلُنَا الخ سے لیکر حصہ اول کے آخر تک شرک فی التصرف کی نفی کا بیان ہے۔
3 العقود، عقد کی جمع ہے جس کے معنی اصل لغت میں مضبوطی سے گرہ باندھنے کے ہیں لیکن بطور…
Read the full tafseer →کوائف اس سورت کا نام سورة المائدۃ ہے ۔ اسکی ایک سو بیس آیات اور سولہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 48425 کلمات اور 12464 حروف پر مشتمل ہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء کی طرح کی طرح یہ بھی مدنی سورة ہے اس کا اکثر حصہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوا تاہم اس کی تیسری آیت کا حصہ حجہ الوداع کے موقع پر مکہ معظمہ میں نازل ہوا۔ (1)
مائدۃ کے علاوہ اس سورة کے اور بھی کئی نام ہیں اسے سورة العقود بھی کہا گیا ہے کیونکہ اس کی پہلی آیت میں عق کا لفظ آیا ہے جس کا معنی عہد پیمان ہے اور جس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ۔ ا س کا نام بھی ہے کیونکہ انسانوں کو عذاب الہٰی سے بچانے والی سورة ہے ۔ تاہم اس کا زیادہ معروف نام مائدۃ ہی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ 0ۥۭ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَہِيْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ 0ۭ اِنَّ اللہَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ 1
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک…
Read the full tafseer →ترکیب : احلت فعل مجہول بہیمۃ الانعام مفعول مالم یسم فاعلہ الا مایتلی محل نصب میں ہے بوجہ استثناء از بہمیۃ الانعام کے غیر حال ہے۔ ضمیر مجرور سے جو علیکم یالکم میں ہے۔ محلی اسم فاعل مضاف ہے مفعول کی طرف جو الصید ہے دراصل محلین تھا نون اضافت کی وجہ سے ساقط ہوگیا الصید مصدر ہے بمعنی مفعول۔
تفسیر : سورة نساء میں پیشتر احکام معاملات بیان ہوئے تھے جن کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس کے بعد کھانے پینے اور حلال و حرام چیزوں کے متعلق احکام بیان کرنا بھی عین حکمت تھا اور لطف یہ کہ اس سورة مائدہ میں کہ جس کا نام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر مائدہ یعنی دستر خوان یا نعمت نازل ہونے کے بیان سے مائدہ رکھا گیا حرام حلال…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ 5 ط اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلاَّ مَا یُتْلیٰ عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط اِنَّ اللہ َ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ۔ (المائدہ : 1)
” اے ایمان والو ! اپنے وعدوں کو پورا کرو۔ حلال کردیئے گئے ہیں تم پر مویشی قسم کے جانور ‘ مگر وہ جو (آگے) تمہیں بیان کیے جائیں گے۔ حلال نہ جانو شکار کو اس حالت میں جبکہ تم (حالت) احرام میں ہو۔ بیشک اللہ حکم دیتا ہے جس (چیز) کا وہ ارادہ کرتا ہے “۔
یہ سورة جیسا کہ تعارف میں واضح کیا جا چکا ہے عہد و میثاق کی سورة ہے۔ ظاہر ہے کہ عہد و میثاق صرف ان لوگوں سے لیا جاسکتا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة النساء کا آغاز عام لوگوں کے خطاب سے ہوا۔ سورة المائدۃ کا آغاز مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ایمان کا معنی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ذات اور ان کے احکام کو تسلیم کرنا۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ ” اے صاحب ایمان لوگو ! تمہارا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ایک عہد ہے۔ لہٰذا اس عہد کی پاسداری کرو۔ عقود عقد کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ” کسی سے پختہ عہد کرنا۔ “ اس کی تین اقسام ہیں۔
1۔ بندے کا اللہ تعالیٰ سے عہد۔ جو ایمان لانے کی صورت میں کرتا ہے۔
2۔ انسان کا اپنے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد کرنا۔
3۔ آدمی کا دوسرے کے ساتھ عہد کرنا۔
حاکم اور رعیت کا ایک دوسرے…
Read the full tafseer →عہد کی پابندی کا حکم :
تفسیر آیت 1 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ 1 اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ۔
(اے ایمان والو ! تم وعدوں کو پورا کرو۔ حلال کردیئے گئے تمہارے لئے چوپائے۔ سوائے ان کے جو تمہارے سامنے تلاوت کی جا رہی ہے۔ ( لیکن) شکار کو حلال نہ سمجھنا اس حالت میں کہ تم احرام میں ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے)
کہا جاتا ہے : وفٰی بالعہد۔ وا وفٰی بہ۔ کہ فلاں نے وعدہ پورا کیا۔ اس کے تقاضے کو ادا کیا۔ العقد۔ مضبوط عہد کو رسّی کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
تفسیر : اللہ تعالیٰ کا فرمان ( یایھا الذین امنوا اوفوابالعقود) عہد کو پورا کرو۔ امام زجاج (رح) فرماتے ہیں۔ عقود پختہ ترین عہد کو کہتے ہیں۔ عرب کے محاورات میں کہا جاتا ہے ” عاقدت فلانا و عقدت علیہ “ یعنی میں نے فلاں کو ازسرنو یہ (معاہدہ) لازم کیا اور اس (عقود) کی اصل یہ ہے کہ ایک شک کو دوسری کے ساتھ گرہ لگاکر جوڑ دینا جیسا کہ رسی کو رسی کے ساتھ گرہ لگا کر جوڑا جاتا ہے۔
اوفوابالعقود کی تفسیر۔ عقود (جو آیت میں مذکور ہیں ) کی تعیین میں مفسرین کے مختلف اقوامل ہیں۔
ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ خطاب اہل کتاب کو ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ” اے وہ لوگو ! جو پہلی کتب پر ایمان لائے ان عہدوں کو…
Read the full tafseer →1۔ مسند امام احمد اور طبرانی میں اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں سورة مائدہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس شان نزول کی روایت کی سند میں اسماء بنت یزید ؓ کا پردردہ شہر بن حوشب ایک راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف اور کثیر الارسال لکھا ہے۔ لیکن تقریب میں اس کو صدیق لکھا ہے 2 ؎۔ شہر بن حوشب کی یہ روایت اسماء بنت یزید سے ہے جو شہر بن حوشب کی پرورش کرنے والی ہیں اس لئے اس سند میں ارسال کا وہم بھی باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ تابعی بغیر ذکر صحابی کے آنحضرت ﷺ سے کوئی روایت کرے تو اس کو ارسال اور اس کی حدیث کو مرسل کہتے ہیں اس سند میں وہ بات نہیں ہے۔ عقیدہ عہد کو کہتے ہیں۔ اس میں علماء…
Read the full tafseer →آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا اور یہ ان معادوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہ ﷺ کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقابر کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے…
Read the full tafseer →پابندی عہد و معاہدہ
ارشاد باری ہے یایھا الذین امنوا اوفوابالعقود۔ اے ایمان لانے والو بندشوں کی پوری پابندی کرو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، مظرف، ربیع، ضحاک، سدی، ابن جریج اور ثوری کا قول ہے کہ اس مقام پر عقود سے عہود مراد ہے۔ معمہ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت میں کئے گئے معاہدے وغیرہ ہیں۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے حضور ﷺ سے آپ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے۔ لاحلف فی الاسلام داما حلف الجاھلیۃ فلم یزدہ الاسلام الاشدۃ۔ اسلام میں کوئی حلف ن ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں کئے گئے حلف کو اسلام نے اور مضبوط کردیا ہے) ۔ ابن عیینہ نے عاصم الاحوال سے نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت انس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے…
Read the full tafseer →1 عہود و مواثیق کی پابندی کا حکم : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ پورا کرو اپنے عہدوں کو۔ " عقود " دراصل جمع ہے " عقد " کی۔ جس کے معنیٰ آتے ہیں گانٹھنے، باندھنے اور گرہ لگانے کے۔ اور عہد و پیماں بھی چونکہ درحقیقت بندھن ہی ہوتے ہیں اس لئے یہاں ان کو " عقود " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو " عقود " سے مراد ہیں جملہ عہود۔ خواہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہوں یا تمہارے آپس میں ایک دوسرے کے درمیان۔ کہ لفظ کا عموم و اطلاق سب کو شامل ہے۔ بہرکیف ان سب کو پورا کرنا تم پر تمہارے ایمان و عقیدے کی بنا پر لازم و ضروری ہے۔ اس لئے ان کے پورا کرنے کا حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ذمہ داری پوری کرو
تشریح : ان آیات میں اخلاق و کردار کی خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو سب سے پہلے اپنے وعدوں کی طرف توجہ دینی چاہیے وہ ایسے کہ جو بھی وعدہ وہ کریں اس کو ضرور پورا کریں، وعدہ کو پورا نہ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے وعدہ میں کون کون سے وعدے آجاتے ہیں ؟ کبھی وعدہ خودانسان اپنے آپ سے کرتا ہے، کبھی دو انسانوں کے درمیان بھی وعدہ ہوتا ہے، کبھی ایک جماعت یا گروہ کا دوسرے گروہ سے ہوتا ہے، کبھی ایک ملک کا دوسرے ملک سے بھی ہوسکتا ہے انسان کا اللہ کے ساتھ بھی ایک وعدہ ہے۔ غرض دنیا کا کارو بار معاہدوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس میں ہم ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 5 ۔
اسرار و معارف :
ایفائے عہد :
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو عہد کرو اسے پورا کرو ، عقد کا معنی معاہدہ ہے جو ہمیشہ دو انسانوں دو جماعتوں دو ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ عہد تو یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مفسرین کرام نے مختلف معانی مراد لئے ہیں مگر نتیجے کے اعتبار سے سب ایک ہیں اور سارے معاہدے اس میں آجاتے ہیں۔ وہ عہد جہالت اور قبل اسلام کے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد کے نکاح کو بھی عقد اسی لیے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان اللہ کے نام پر معاہدہ ہوتا ہے اس لے کر تجارت کے متعلق ہوں یا لین دین کے بارے جنگ اور صلح کا معاہدہ ہو یا کسی بھی موضوع پر اسے اپنی طرف سے پورا کرنے کی پوری…
Read the full tafseer →ف 3 یہ عقد کی جمع ہے اور مراد احکام شریعت ہیں قرآن نے ان کو عھود بھی فرمایا ہے دیکھئے سورت بقرہ آیت 41 ( عام عہدو پیمان بھی مراد ہوسکتے ہیں یہ حکم اکک قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھا ہے اس کے بعد نیچے اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے (کبیر، ابن کثیر)4 بھمتہ الا نعام میں اضافت نیانیہ ہے یعنی ھیمہ جانوروں میں سے صرف انعام حلال ہیں ارانعام سے مرد اونٹ گائے۔ قربھیڑ بکری ہے، دیکھئے سورت نحل آیت 5، انعام 146، (کبیر، ابن کثیر)5 یعنی اس سورت کی تیسری آیت میں،6 حالت احرام میں شکار بھی م ممنوع ہے اور شکار کرنے والے کسی طریقے سے مدد کرنے کی بھی احادیث میں ممانعت آئی ہے اور حدود حرمین کے اندر بھی یہی حکم ہے دیکھئے…
Read the full tafseer →(5:1) اوفوا۔ تم پورا کرو۔ ایفاء سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایفاء وعدہ۔ وعدہ کا پورا کرنا ۔
عقود۔ قول و قرار۔ عہدو پیمان۔ عقد کی جمع۔ عقد کہتے ہیں ایک چیز کو ایک چیز میں مضبوطی سے باندھنا۔ اور گرہ لگانا۔ یہاں اس سے مراد وہ تمام تکالیف شرعیہ اور احکام دینیہ ہیں کن جن کی تعمیل بندوں پر لازمی اور ضروری ہے اور اسی میں داخل ہیں امانات اور معاملات کے جملہ عہدو پیمان کہ جن کا پورا کرنا واجب ہے۔ عقدہ۔ گرہ۔ معمہ۔ گنجلک امر۔
بھیمۃ الانعام۔ بہیمہ اصل میں اس جانور کو کہتے ہیں جس میں نطق نہ ہو۔ مالا نطق لہ (راغب) بےزبان جانور۔ عرف عرب میں درندوں اور پرندوں کو اگرچہ وہ بھی بےزبان ہیں بہیمہ نہیں کہا جاتا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
لغات القرآن : اوفوا، پورا کرو۔ العقود، (عقد) عہد، وعدہ، قول۔ بھیمۃ، چوپائے۔ الانعام، مویشی۔ جانور۔ یتلی، تلاوت کیا گیا، پڑھا گیا۔ محلی، (محل کی جمع) حلال جاننے والے۔ جائز کرلینے والے۔ الصید، شکار۔ حرم، (حرام کی جمع ہے) ، حالت احرام میں ہونا، ادب و احترام والے۔ یحکم، وہ فیصلہ کرتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال کی کسوٹی معاملات کو قرار دیا ہے۔ جو آدمی معاملات میں جنتا صحیح ہے اس کا دین بھی اسی قدر درست ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اے مومنو ! اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو معاہدات کی پابندی کرو۔ ان میں وہ معاہدات بھی شامل ہیں جو انسان نے روز ” الست “ اللہ سے کر رکھے تھے۔ جن کی…
Read the full tafseer →حلال اور حرام جانوروں کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اس میں حلال و حرام چیزوں کے جو احکام عہد کے طور پر قرآن شریف میں ہیں انہی احکام کو عقود کی تفسیر قرار دیا گیا ہے ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے حلال اور حرام کا ذکر فرمایا ہے جس کے معنی چوپائے مویشی کے ہیں مثلا اونٹ، گائے ، بکری، بھیڑ اور جنگلی شکار رکے کھانے کے قابل جانور جیسے نیل گائے، ہر ن یہ سب داخل ہیں ۔ انعام کے لفظ میں چوپائے درندے داخل نہیں، وہ حرام ہیں ۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ حاجیوں کو احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار حرام ہے ۔ ہاں دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں روا ہے ۔ اب آگے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور ارادہ ازلی…
Read the full tafseer →[1] یعنی احکام الٰہی کی اطاعت کا جو عہد کرچکے ہو اسے پورا کرو۔ اس میں قول وقرار اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے سب آگیا۔
[2] احرام وہ لباس ہے جو بےسلا ہوتا ہے اور حج وعمرہ کے لئے پہنا جاتا ہے اس لباس میں صرف ایک تہبند ہوتا ہے اور ایک چادر جو اوپر سے اوڑھی جاتی ہے اسے احرام اس لئے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جو عام حالات میں حلال ہیں، مثلاً حجامت، خوشبو کا استعمال، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضاء شہوت وغیرہ۔ انہی پابندیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی جانور کو ہلاک نہ کیا جائے، نہ…
Read the full tafseer →ایفائے عقد :
(ف 1) قرآن حکیم نے دائما ایمان وعمل کے معنی یہ بتائے ہیں کہ ادخلوا فی السلم کآفۃ “۔ یعنی کاملا متعقدات و اعمال کے لحاظ سے اسلام قبول کیا جائے ۔
اس آیت میں اسی حقیقت قیمہ کی طرف دعوت دی گئی ہے ۔
عقد کے معنی کسی مضبوط ذمہ داری کے ہیں جو انسانیت اخلاق عامہ اور خدا کی جانب سے مائد ہو مقصد یہ ہے کہ ہر فریضہ ووظیفہ کو ادا کیا جائے ۔
بات ایک ہے ، پیرایہ ہائے بیان مختلف ہیں ، کبھی فرمایا ۔ (آیت) ” اوفوا بعھد اللہ “ کبھی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولا تنقصوا ال ایمان “۔ اور کبھی کہا جاتا ہے ، (آیت) ” ان تؤدالامنت الی اھلھا “۔ یعنی مختلف طریقوں اور راہوں سے بتانا یہ مقصود ہے کہ دنیا ومذہبی…
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! اپنے قول وقرار اور عہد و پیماں کو پورا کرو چوپایوں کی قسم کے تمام جانور تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں یعنی اونٹ گائے بھیڑ بکری سے ملتے جلتے جانور جیسے ہرن اور نیل گائے وغیرہ سوائے ان چوپایوں کے جن کی حرمت آگے تم کو سنا دی جائے گی کہ وہ باوجود بہیمتہ الانعام ہونے کے حرام ہیں مگر ان میں سے جو شکار ہوں ان کو تم احرام کی حالت میں کسی وقت بھی حلال نہ سمجھو یعنی تم جب احرام باندھے ہوئے ہو تو جنگل کے کسی شکار کو حلال نہ جانو بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ (تیسیر)
عقد کے معنی ہیں دو چیزوں کو اس طرح ملانا اور ربط دینا کہ ان کو جدا کرنا مشکل ہوجائے۔ یہاں مراد ہے مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 4۔ اوپر کی سورت کے ختم پر فرمایا تھا کہ ہم شرائع کو تم سے بیان کرتے ہیں اس سورت کے شروع پر اس کا امر ہے کہ تم ہمارے ان بیان کیے ہوئے شرائع کی پوری پوری بجاآوری کرو یہ مناسبت تو دونوں سورتوں کے اختتام اور آغاز میں بھی دونوں کے اشتمال علی الشرائع سے ظاہر ہے اور خود اس سورت کے اجزاء میں ایک ارتباط بدیع ہے کہ اس کے اول کی آیت بمنزلہ متن کے ہے اور تمام سورت بمنزلہ اس کی شرح کے کیونکہ لفظ عقود بقول ابن عباس ؓ تمام شرائع کو عام اور شامل ہے اور سورت میں انہی شرائع کی تفصیل ہے پس اولا اجمالی اور کلی عنوان سے امتثال شرائع کا حکم فرماتے ہیں۔
5۔ جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ بجز ان بہائم کے جو کہ دوسرے…
Read the full tafseer →اہل ایمان کو مخاطب کر کے جو کچھ کہا گیا ہے اس کی تعمیل ضروری :
1: حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن مسعود (رح) سے کہا کہ آپ مجھے کوئی خاص نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا جب تو قرآن کریم میں لفظ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا ، سنے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہوجا کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہو ہا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہوگی۔ (ابن ابی حاتم) اس بات کے پیش نظر جی چاہتا ہے کہ قرآن کریم کے ان اوامرونواہی کو اس جگہ جمع کردیا جائے جو مسلمان کو مخاطب کر کے احکام دیئے گئے ہیں یا منع کیا گیا ہے ۔ اب دل لگا کر ان اوامرنواہی کو پڑھب اور جہاں تک ہو سکے ان کے مطابق عمل کرنے کی…
Read the full tafseer →Background of revelation and a summary of subjects
This is the initial verse of Surah al-Ma'idah. As agreed upon, Surah al-Ma'idah is a Madani (Madinite) Surah and also the last among all Madani Chapters (Surah) so much so that some revered elders have identified this as the last Surah of the Qur'an itself. On the authority of narrations from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar and Sayyidah Asma' bint Yazid ؓ ، it appears in the Musnad of Ahmad that Surah al-Ma'idah was revealed to the Holy Prophet ﷺ while in travel riding the she-camel named Adba'. As explained in the introduction to this Tafsir…
Read the full tafseer →1. People should abide by the limitations and prohibitions laid down in this surah and elsewhere in the law of God. This brief introductory statement is followed by an enunciation of those prohibitions which people are required to observe.
2. The Arabic word an'am (cattle) denotes camels, oxen, sheep and goats, whereas the word bahimah means all grazing quadrupeds. Had God said that an'am had been made lawful for them, this permission would have included only those animals to which the term an'am is applicable. But the terms in which the injunction is conveyed are bahimat al-an'am (all…
Read the full tafseer →