عصبہ اور کلالہ کی وضاحت ! مسائل وراثت
حضرت براء ؓ فرماتے ہیں سورتوں میں سب سے آخری سورت سورة برأت اتری ہے اور آیتوں میں سب سے آخری آیت (یستفتونک) اتری ہے، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں " میں بیماری کے سبب بیہوش پڑا تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے، آپ نے وضو کیا اور وہی پانی مجھ پر ڈالا، جس سے مجھے افاقہ ہوا اور میں نے کہا حضور ﷺ وارثوں کے لحاظ سے میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے بٹے گی ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت فرائض نازل فرمائی (بخاری و مسلم) اور روایت میں بھی اسی آیت کا اترنا آیا ہے۔ پس اللہ فرماتا ہے کہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں یعنی کلالہ کے بارے میں۔ پہلے یہ بیان گذر…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 219
یہ آیت اس سورة کے نزول سے بہت بعد نازل ہوئی ہے۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی سب سے آخری آیت ہے۔ یہ بیان اگر صحیح نہ بھی ہو تب بھی کم از کم اتنا تو ثابت ہے کہ یہ آیت سن 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ اور سورة نساء اس سے بہت پہلے ایک مکمل سورة کی حیثیت سے پڑھی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے اس آیت کو ان آیات کے سلسلہ میں شامل نہیں کیا گیا جو احکام میراث کے متعلق سورة کے آغاز میں ارشاد ہوئی ہیں، بلکہ اسے ضمیمہ کے طور پر آخر میں لگا دیا گیا۔
سورة النِّسَآء 220
کَلَالہ کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض کی رائے میں کَلَالہ وہ شخص ہے جو لا ولد بھی ہو اور جس کے باپ اور دادا بھی…
Read the full tafseer →ربط آیات
شروع سورت کے ذرا بعد میراث کے احکام مذکور تھے، پھر وہاں سے تقریباً ایک پارہ کے بعد دوسرے احکام کے ساتھ حکم میراث کی طرف پھر عود ہوا تھا، اب ختم سورت پر پھر عود ہے، اسی کی طرف شاید تین جگہ اس کے متفرق کردینے میں حکمت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے میراث کے باب میں بہت ظلم تھا، پس سورت کے اول میں، وسط میں، آخر میں اس کے ذکر فرمانے سے مخاطبین کا اہتمام بلیغ اس بات میں مفہوم ہوگا جس سے وہ بھی زیادہ اہتمام کریں۔
خلاصہ تفسیر
لوگ آپ سے (میراث کلالہ کے باب میں یعنی جس کے نہ اولاد ہو نہ ماں باپ ہوں) حکم دریافت کرتے ہیں آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے باب میں حکم دیتا ہے (وہ یہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیت 176:۔
آخری آیت بطور ضمیمہ : اوپر والی آیت پر یہ سورة تمام ہوئی۔ اب آگے ایک آیت بطور ضمیمہ لگا دی گئی ہے جو ابتدائے سورة کے بیان کردہ احکامِ وراثت کے ایک خاص مسئلے کی وضاحت کے لیے بعد میں نازل ہوئی۔ اس کے آخر میں " کذلک یبین اللہ " کے الفاظ سے اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ یہ توضیحی آیت ہے جو بعد میں توضیح کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کے ضمیمے کی مثال سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ آیت کی تلاوت فرمائیے۔
يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ۭاِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَهٗٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ اِنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →176۔ 1 کلالہ کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ جس کا باپ ہو نہ بیٹا یہاں پھر اس کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں نے کلالہ اس شخص کو قرار دی ہے جس کا صرف بیٹا نہ ہو۔ یعنی باپ موجود ہو۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ کلالہ کی پہلی تعریف ہی صحیح ہے کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث ہی نہیں ہوتی۔ باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ بیٹے کے ساتھ جس کا باپ بھی نہ ہو۔ یعنی بیٹے کی نفی تو نص سے ثابت ہے اور باپ کی نفی اشارۃ النص سے ثابت ہوجاتی…
Read the full tafseer →96: کلالہ اس شخص کو کہتے ہیں جس کے انتقال کے وقت نہ اس کا باپ دادا زندہ ہو نہ کوئی بیٹا یا پوتا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 176۔
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اس سورة کا آغاز خاندانی تعلقات کی استواری سے ہوا تھا ۔ افراد خاندان کے درمیان تعلقات کی درستی سے ہوا تھا اور اس کے درمیان بعض اہم اجتماعی معاملات کا بیان بھی ہوا تھا ۔ اب یہ آخری سبق میراث کلالہ کے بارے میں ۔ حضرت ابوبکر ؓ اور دوسرے اصحاب کے مطابق کلالہ وہ ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے والدین ہوں ۔
کلالہ کے بارے میں بعض احکام سورة کے آغاز میں بیان میراث کے وقت آگئے تھے ۔ مثلا یہ کہ اگر کلالہ کے عصبات نہ ہوں اور اس کی میراث کے حقدار صرف ماں کی طرف سے بہن بھائی ہوں ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔
(آیت) ” وان کان رجل یورث کللۃ اوامراۃ ولہ…
Read the full tafseer →2 شروع سورت میں آیت میراث میں کلالہ کی میراث کا ذکر گزر چکا ہے۔ اس کے بعد جو بعض صحابہ ؓ نے اس کے متعلق زیادہ تفصیل پوچھنی چاہی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلالہ کے معنی ہیں کمزور اور ضعیف۔ یہاں وہ شخص مراد ہے جس کے وارثوں میں باپ اور اولاد میں سے کوئی نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا کیونکہ اصلی وارث والد اور ولد ہی ہیں جس کے یہ نہیں تو اس کے حقیقی بھائی بہن کو بیٹا بیٹی کا حکم ہے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو یہی حکم سوتیلوں کا ہے جو کہ باپ میں شریک ہوں ایک بہن ہو تو آدھا اور دو بہنیں ہوں تو دو تہائی اور اگر بھائی اور بہن دونوں ہیں تو مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو اکہرا ملے گا اور اگر فقط بھائی ہوں بہن…
Read the full tafseer →اس آخری آیت میں پھر ایک استفتاء ہے۔ آیت 12 میں قانون وراثت کے ضمن میں ایک لفظ آیا تھا کلالہ ‘ یعنی وہ مرد یا عورت جس کے نہ تو والدین زندہ ہوں اور نہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اگر اس کے بہن بھائی ہوں تو اس کی وراثت کا حکم یہ ہے۔ لیکن وہ حکم لوگوں پر واضح نہیں ہوسکا تھا۔ لہٰذا یہاں اس حکم کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ آیت 12 کے حکم کو صرف اخیافی بہن بھائیوں کے ساتھ مخصوص مان لینے کے بعد اس توضیحی حکم میں کلالہ کی وراثت کا ہر پہلو واضح ہوجاتا ہے۔
آیت 176 یَسْتَفْتُوْنَکَط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْْکَلٰلَۃِ ط اِنِ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٓٗ اُخْتٌ…
Read the full tafseer →233 یہ آیت آپ کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی جس وقت سورة نساء مکمل ہوچکی تھی۔ اس میں کلالہ کی میراث کے ایک دوسرے پہلو کا ذکر ہے جس کے متعلق صحابہ کرام نے آپ سے استفسار کیا تھا۔ چونکہ کلالہ کی میراث کا حکم اسی سورة کی آیت نمبر 12 میں مذکور ہے اور باقی احکام میراث بھی اسی سورة کی آیت نمبر 11، 12 میں بیان ہوئے ہیں۔ اس لیے اس آیت کو بھی بطور تتمہ اسی سورة کے آخر میں شامل کیا گیا۔ واضح رہے کہ کسی بھی سورة کی آیات میں ربط اور ان کی ترتیب توقیفی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے وحی الٰہی کی روشنی میں سب آیات کو اپنے مناسب مقام پر رکھا ہے۔
234 کلالہ کی میراث کی تقسیم :۔ اولاد تین قسم کی ہوتی ہیں (1) عینی…
Read the full tafseer →450 ۔ کلالہ وہ ہے جس کے نہ اولاد ہو، اور نہ والدین زندہ ہوں۔
451 ۔ اور یہ بہن حقیقی یا عینی ہو، یا علاتی یعنی باپ کی طرف سے ہو، اخیافی یعنی صرف ماں کی طرف سے بہن کا حکم سورة کے شروع (آیت 12) میں آچکا ہے۔
452 ۔ اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہوا تو اسے ملے گا، ورنہ خود اسی بہن پر لوٹ آئے گا) چچا، چچا زاد بھائی وغیرہ عصبات میں داخل ہیں، ادائے قرض اجرائے وصیت پر بہرحال مقدم ہے۔
453 ۔ (اور والدین بھی نہ ہوں)
454 ۔ اور بقیہ ایک تہائی عصبہ کو ملے گا ورنہ بہ طور رد پھر انہیں بہنوں کو مل جائے گا، بہنیں اگر دو سے زائد ہوں، تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔
455 ۔ یعنی بھائی کو دہرا اور بہن کو اکہرا حصہ ملے گا، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
آیت نمبر 172 تا 176
ترجمہ : حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام سے تم جن کی الوہیت کا عقدہ رکھتے ہو اللہ کا بندہ ہونے سے عار و انکار ہرگز ممکن نہیں اور نہ اللہ کے مقرب فرشتوں کو بندہ ہونے سے عار و انکار ہوسکتا ہے، اور یہ بہترین (طریقہ) استطر اد ہے (یعنی طریقہ تردید ہے) یہ ان لوگوں پر رد کرنے کیلئے ذکر کیا گیا ہے جو فرشتوں کی الوہیت یا اللہ کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسا کہ ماقبل (کے جملہ سے) مذکورہ عقیدہ رکھنے والے (نصاری) پر رد کیا ہے، (یہاں) مقصودِ خطاب نصاری ہی ہیں، اور جو بھی اس کی عبادت سے ننگ وعار (سرتابی و انکار) کرے گا تو اللہ آخرت میں ان سب کو گھیر کر اپنے حضور حاضر کرے گا، سو جن…
Read the full tafseer →یستفتنوک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ کلالہ کے معنی کی تحقیق شروع سورت میں ہوچکی ہے۔ نسائی نے ابوالزبیر کے طریق سے حضرت جابر ؓ کا بیان نقل کیا ہے۔ جابر ؓ نے فرمایا میں بیمار ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنی بہنوں کے لئے ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں فرمایا (ان کے ساتھ) بھلائی کرو میں نے عرض کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں فرمایا (ان کے ساتھ) بھلائی کرو ‘ یہ فرمانے کے بعد تشریف لے گئے پھر (کچھ دیر کے بعد) تشریف لائے اور فرمایا میرے خیال میں تم اس بیماری سے نہیں مرو…
Read the full tafseer →(176) یہ آیت جابر بن عبداللہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک بہن ہے اس کے مرنے پر مجھے کیا حصہ ملے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت میراث نازل فرمائی کہ محمد ﷺ آپ سے کلالہ کی میراث کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کلالہ کی میراث بیان فرماتا ہے، کلالہ وہ ہے، جس کے نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ ہوں، اگر کوئی شخص مرجائے جس کے نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ ہو اور ایک عینی یا علاتی بہن ہو تو اس بہن کو مرنے والے کے کل ترکہ میں سے آدھا ملے گا اور اگر یہ کلالہ بہن مرجائے تو وہ شخص اس بہن کے تمام ترکہ کا وارث ہوگا،
اور اگر علاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ: سورت کی ابتدا تقویٰ کے حکم کے بعد اموال کے احکام سے ہوئی تھی، اب آخر میں انھی احکام کے ساتھ سورت کا اختتام ہے۔ درمیان سورت میں مخالفین سے مجادلہ اور ان کی تردید ہے۔ (رازی) کلالہ پر بحث اس سورت کی آیت (11) میں گزر چکی ہے۔ جابربن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں اس وقت بیمار اور بےہوش تھا، آپ نے وضو کیا، پھر وضو کے بچے ہوئے پانی سے مجھ پر چھینٹے مارے، یا فرمایا : ”اس پر چھینٹے مارو۔“ جس سے مجھے ہوش آگیا، میں نے عرض کی کہ میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے تقسیم ہوگی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، المرض، باب وضوء العائد للمریض : 5676۔ مسلم…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 176۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت براء بن عازب ؓ نے فرمایا : یہ آخری آیت ہے جو قرآن سے نازل ہوئی، اسی طرح مسلم کی کتاب میں ہے (1) (صحیح مسلم کتاب الفرائض جلد، 2، صفحہ 35، ایضا صحیح بخاری، باب میراث الاخوات والاخوۃ حدیث نمبر 6247، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور یہ آیت نازل ہوئی جب کہ نبی مکرم ﷺ حجۃ الوداع کی تیاری کررہے تھے اور یہ حضرت جابر ؓ کے سبب نازل ہوئی، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے کہا : میں بیمار تھا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ میری عیادت کے لیے تشریف لے آئے، مجھ پر غشی طاری تھی رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا، پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہوگیا۔…
Read the full tafseer →(1) ابن سعد واحمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میں مریض تھا اس حال میں کہ میری عقل ٹھکانے نہیں تھی آپ نے وضو فرمایا پھر مجھ پر پانی ڈالا تو مجھے عقل آگئی میں نے عرض کیا میرا کلالہ کے سوا کوئی وارث نہیں تو میراث کیسے تقسیم ہوگی تو یہ آیت فرائض (میراث) نازل ہوئی۔
(2) ابن سعد وابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے لفظ آیت ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔
(3) ابن راھویہ وابن مردویہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →[ یَسْتَفْتُوْنَکَ : یہ لوگ فتویٰ مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یُـفْتِیْکُمْ : فتویٰ دیتا ہے تم کو ] [ فِی الْْکَلٰلَۃِ : کلالہ (کے بارے) میں ] [ اِنِ : اگر ] [ امْرُؤٌ : ایک مرد ] [ ہَلَکَ : ہلاک ہوا ] [ لَـیْسَ : نہیں ہے ] [ لَـہٗ : اس کی ] [ وَلَـدٌ : کوئی اولاد ] [ وَّلَـہٓٗ : اور اس کی ] [ اُخْتٌ : ایک بہن ہے ] [ فَلَہَا : تو اس کے لیے ہے ] [ نِصْفُ مَا : اس کا آدھا جو ] [ تَرَکَ : اس نے چھوڑا ] [ وَہُوَ : اور وہ مرد (یعنی بھائی) ] [ یَرِثُـہَـآ : وارث ہوگا اس عورت کا (یعنی بہن کا) ] [ اِنْ : اگر ] [ لَّـمْ یَکُنْ : نہ ہو ] [ لَّـہَا : اس عورت کی ] […
Read the full tafseer →حقیقی اور علاتی بہن بھائی کی میراث کے مسائل
اس آیت پر سورة نساء ختم ہوگئی سورة نساء کے پہلے رکوع میں یتیموں کے حقوق اور اموال کی نگہداشت کا حکم فرمایا تھا۔ اور اجمالی طور پر مرنے والوں کی میراث جاری کرنے کا حکم تھا۔ اور دوسرے رکوع میں اولاد اور ماں باپ اور شوہر بیوی کے حصے بیان فرمائے جو انہیں میراث میں پہنچتے ہیں پھر وہیں کلالہ کی میراث کا ذکر فرمایا۔ کلالہ اس کو کہتے ہیں جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع ہوں۔ یعنی نہ ماں باپ ہو، نہ دادا اور نہ اولاد ہو اور نہ بیٹے کی اولاد ہو۔ ایسا شخص اگر مرجائے اور اس نے بہن بھائی چھوڑے ہوں تو ان کو جو میراث ملے گی اس کا کچھ بیان سورة نساء کے رکوع 2 میں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–176
خطاب خاص باہل کتاب باعتاب نصیحت مآب۔
قال تعالیٰ یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیما۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات اور معاندانہ سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے ہیں اور ان کے قبائح وفضائح سب کے سامنے کھول دیے جنہیں وہ چھپاتے تھے پس جب نبی ﷺ کو نبوت ثابت ہوگئی تو اس کے بعد ایک خطاب عام فرمایا اور تمام بنی آدم کو دین حق اور رسالت محمدیہ کی تصدیق کی دعوت دی اب خطاب عام کے بعد پھر اہل کتاب کو خطاب خاص فرماتے ہیں اور گوعنوان عام ہے مگر اصل مقصود بالخطاب، نصاری ہیں جس میں ان کو اس کی نصیحت ہے کہ اپنے عقائد فاسدہ سے باز آکر خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اگر انحراف کریں گے تو…
Read the full tafseer →115 یہ سورت کا خاتمہ ہے اور احکام رعیت میں سے حکم وراثت پر تنویر ہے یعنی مسئلہ کلالہ پر چونکہ کلالہ کی بعض صورتیں گذشتہ آیت میں مذکور نہ تھیں اس لیے ان کے بارے میں لوگوں نے سوال کیا تو اس کے جواب میں تفصیلی شقوں کے ساتھ یہ آیت نازل ہوئی۔ نیز آیت کی ابتداء میں احکام کا بیان تھا اس لیے خاتمہ میں بھی احکام بیان کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس سورت کا اصلی مقصد بیان احکام ہے اور اس سورت کا ربط آل عمران سے یہ بھی ہے کہ اس میں عدم اعتقاد عبادت و پکار کے اعتبار سے شرک کی نفی تھی یہاں عدم اعتقاد احکام کے اعتبار سے شرک کی نفی ہے یہی وجہ ہے احکام میراث کی مخالفت اور قتل عمد پر خلود فی النار کی وعید…
Read the full tafseer →ربط آیات
سورۃ نساء جن مضامین پر مشتمل ہے ، ان میں انسانی حقوق کو اولیت حاصل ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے کمزور طبقات یعنی یتیم بچوں اور عورتوں کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس میں معاشرتی حقوق اور نکاح کے مسائل بیان ہوئے ہیں محرمات نکاح کا ذکر ہے اور پھر حقوق ہی کے ضمن میں وراثت جیسا اہم مسئلہ تفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ سورة کی ابتداء میں بھی وراثت کے احکام آئے ہیں اور یہ آخری آیت بھی اس یہ مسئلہ سے تعلق رکھتی ہے م سئلہ وراثت کا یہ اہم جزو پہلے حصے میں بیان ہونے سے رہ گیا تھا ، جو اس آخری حصے میں سمجھا دیا گیا ہے۔ سورة کے درمیانی حصہ میں بعض دیگر مسائل بھی آگئے ہیں۔ ان میں توحید ، کفر اور…
Read the full tafseer →يَسْتَـفْتُوْنَكَ 0ۭ قُلِ اللہُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَۃِ 0ۭ اِنِ امْرُؤٌا ہَلَكَ لَيْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَكَ 0ۚ وَہُوَيَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّہَا وَلَدٌ 0ۭ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ 0ۭ وَاِنْ كَانُوْٓا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّنِسَاۗءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ 0ۭ يُـبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا 0ۭ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 176ۧ
استفتا
الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ…
Read the full tafseer →1 ؎ کلالہ وہ مرد یا عورت کہ جو نہ ماں باپ چھوڑے نہ اولاد صرف بہن بھائی وارث چھوڑے ایسی صورت میں اگر بھائی مرجاوے تو اس کی ایک بہن کو آدھا ترکہ اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو سب کو دو تہائی اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو مرد کو دوچند عورت سے اور اگر بہن مرجائے تو سب بھائی کا ہے بشرطیکہ اس کا شوہر نہ ہو۔ 12 منہ
ترکیب : فی الکلالۃ متعلق ہے یفتی سے امر مرفوع بسبب فعل کے کہ جس کی تفصیل ھلک کر رہا ہے۔ لیس لہ ولد جملہ ھلک سے حال ہے اسی طرح ولہ اخت فلہا الخ جواب ان۔
تفسیر : جس طرح اس سورة کے اول میں احکام بیان فرمائے گئے ہیں اسی طرح اس کو تمام بھی مسائل ہی پر کیا تاکہ اول کو آخر کے ساتھ ربط…
Read the full tafseer →یَسْتَفْتُوْنَکَ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ط اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ج وَھُوَ یَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ یَکنْ لَّہَا وَلَدٌ ط فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ط وَاِنْ کَانُوْٓا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآئً فَلِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط یُبَبِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ع
” اے پیغمبر لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے کلالہ (کی میراث) کے بارے میں۔ اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہوجائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی ابتدا معاشرہ کے پسماندہ طبقہ یعنی یتیموں کے مالی حقوق سے ہوئی تھی اور اس کا اختتام بھی معاشرتی اعتبار سے کمزور افراد کے مالی تحفظ سے کیا گیا ہے۔
سورۃ النساء کی ابتدا میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دیتے ہوئے یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب اس سورة کا اختتام خاندانی لحاظ سے کمزور ترین انسان کے متعلقہ مسائل سے کیا جا رہا ہے۔ جسے قرآن نے کلالہ کے نام سے متعارف کروایا ہے۔
کلالہ کی تعریف :
کلالہ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا، دادی اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ بیشک اس کے بہن بھائی ہوں کلالہ ہی…
Read the full tafseer →کلالہ کا حکم :
آیت 176 : یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ( لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتے ہیں) ۔
واقعہ جابر :
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیمار تھے۔ رسول اللہ ﷺ عیادت کیلئے تشریف لائے۔ تو انہوں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ﷺ ! میں کلالہ ہوں۔ میں اپنے مال کا کیا کروں ؟ تو یہ آیت اتری : اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ ( اگر کوئی آدمی مرجائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو)
نحو : امرؤ مرفوع ہے اس مضمر کی وجہ سے کہ ظاہر جس کی تفسیر ہے اور لیس لہ ولد یہ صفت کی وجہ سے مرفوع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ان ہلک امرؤ غیر ذی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 176۔:
(آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ اس آیت کا نزول حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے بارے میں ہوا فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا ، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، مجھے کوئی ہوش نہ تھا آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور آپ ﷺ نے وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا ، مجھ کو ہوش آگئی ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میری میراث کا وارث کون ہے ؟ میں تو ” کلالۃ “ ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کلالۃ کا معنی ماقبل میں ذکر کیا گیا ، اس آیت کا حکم ابتداء سورة میں گزر چکا ہے اس آیت میں حقیقی بھائی ، باپ ، ماں شریک یا صرف علاتی ، بہن بھائی…
Read the full tafseer →صحیحین اور نسائی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ان کے باب میں اتری ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بیمار تھا آنحضرت میری خبر کو تشریف لائے میں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میں اپنی بہنوں کو تیرے حصہ مال کی وصیت کرتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں کلالہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ کلالہ وہ شخص ہے کہ جس کے وارثوں میں باپ نہ ہو بیٹا 1 امام بخاری نے کلالہ کے معنی جو بیان کئے ہیں جمہور صحابہ تابعین اور ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے اسی کے موافق حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فیصلہ بھی کیا ہے اور اس قول کی تائید میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی صحیحین کی حدیث سے بھی…
Read the full tafseer →آیت 176
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے (قل اللہ یفتیکم فی الکلۃ) ” کہہ دیجیے ! اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے “ (کلالہ) سے مراد وہ میت ہے جس کی صلب سے کوئی اولاد ہو، نہ کوئی پوتا پوتی، نہ باپ ہو نہ دادا۔ اس لئے فرمایا : (ان امروا ھلک لیس لہ ولد) ” اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو۔ “ یعنی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو، نہ صلبی بیٹا ہو اور نہ بیٹے کا بیٹا ہو۔۔۔ اور اسی طرح نہ اس کا باپ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بھائی اور بہنیں اس کے وارث بنیں گے کیونکہ اس پر علماء کا اجماع…
Read the full tafseer →قول باری ہے یبین اللہ لکم ان تصلوا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو) آیت کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان تضلوا بمعنی لئلا تضلوا، ہے یعنی ” تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو “۔ یہاں حرف لا اسی طرح محذوف ہے جس طرح قسم کی صورت میں محذوف ہوتا ہے مثلاً آپ کہیں ” واللہ ابرح قاعداً ۔ (بخدا میں تو بیٹھا ہی رہوں گا) اس قول میں اصل ترکیب کے لحاظ سے فقرہ یوں ہے ۔” واللہ لاابرح قاعداً ۔ شاعر کا قول ہے۔ تاللہ یبقی علی الایامرذوحید۔ بخدا، زمانے کی گردشوں کے مقابلے میں تو جنگلی بیل بھی باقی نہیں رہتا (انسان کی کیا حقیقت ہے) یہاں یبقی کے معنی لایبقی کے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت کا…
Read the full tafseer →459 " کلالہ " کی میراث کے بارے میں سوال اور اس کا جواب : کہ اس کی میراث کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ " کلالہ " وہ شخص ہوتا ہے جس کی نہ کوئی اولاد ہو، اور نہ ہی اس کے ماں باپ میں سے کوئی موجودہو۔ یعنی اس کے اصول و فروع میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو۔ اور اس کا اطلاق وارث اور مورث دونوں پر ہوتا ہے۔ اس کی میراث سے متعلق کچھ احکام کا ذکر اس سورة کریمہ کے شروع میں بھی کیا گیا ہے اور کچھ کا ذکر اب یہاں فرمایا جا رہا ہے جو کہ بعض صحابہ کرام ۔ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرضوان ۔ کے پوچھنے پر ذکر وبیان فرمائے گئے۔ شروع والی آیت کریمہ چونکہ جاڑوں کے دنوں میں نازل ہوئی تھی اس لئے اس کو آیت الشتاء کہا جاتا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →میراث کے باقی احکام
تشریح : اس آیت میں کلالہ کے بارے میں تفصیلاً دوبارہ بتایا جارہا ہے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ ﷺ نے ان کو جواب تب دیا جب اس مسئلہ کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ کلالہ وہ ہوتا ہے جس کا نہ باپ زندہ ہو نہ کوئی اولاد ہو، صرف بھائی بہن ہوں۔ تو ان کو میراث اس طرح ملے گی۔ اگر میت کی فقط ایک بہن ہے تو وہ اس کے ترکہ میں سے آدھا مال پائے گی، یعنی بہن کا حصہ جب میت کا ترکہ باپ اور اولاد نہ ہو بیٹی کے برابر ہے۔ اگر بہن مرگئی اور وارث صرف بھائی ہے تو بھائی کو بہن کا سارا مال مل جائے گا۔ اگر بھائی نے دو یا دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
رکوع نمبر 24 ۔ آیات 9172 تا 177:
اسرار و معارف :
خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو تو اللہ کا بندہ بننے پہ فخر ہے زمینی زندگی تو خود اس پہ گواہ ہے اپنی آسمانی زندگی میں بھی انہیں بندگی پہ کوئی عار نہیں اور نہ مقرب فرشتوں کو بلکہ سب کو اللہ کا بندہ بننے ، اس کا حکم ماننے اور اس کے ارشادات کی تعمیل سے اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر ہے اور اس کی غلامی ہی سب کے لیے باعث عزت و وقار ہے اور یہ جن لوگوں کو تم گمراہ پاتے ہو اور انہیں اللہ کریم کے آگے جھکتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اظہار تکبر کرتے ہیں کام میں بھی کلام میں بھی اکڑفوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سب کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
ف 5 سورت کی ابتدا احکام اموال سے ہوئی تھی اب آخرت انہی احکام کے ساتھ سورت کے ختم کیا جارہا ہے درمیان سورت میں مخالفین سے مجادلہ اور ان کی تردید ہے (رازی) کلالہ پر بحث آیت 11 میں گزر چکی ہے، بخاری ومسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہوا اور بیہوش تھا َ نبی ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور وضو سے بچے ہوئے پانی کے میرے منہ پر چھینٹے دیئے۔ جس میں مجھ ہوش آگیا میں نے عرض کی میں کلالہ میری میراث کیسے تقسیم ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر)6 بعض علمانے اس سے استدلال کیا ہے کہ جن کی اولاد نہ ہو خواہ اس کا باپ زندہ یہ ہو اسے کلالہ کہ جائے…
Read the full tafseer →(4:176) یستفتونک۔ استفتاء (استفعال) مضارع جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ آپ سے فتوی چاہتے ہیں۔ آپ سے مسئلہ معلوم کرتے ہیں ۔ آپ سے حکم پوچھتے ہیں ۔ اس کے بعد فی الکلۃ محذوف کردیا گیا۔
یفتیکم۔ وہ تم کو فتویٰ دیتا ہے حکم دیتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
الکلۃ۔ وہ لوگ جو منقطع الطرفین ہوں۔ یعنی نہ اس کے والدین ہوں اور نہ ان کی اولاد ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ کلالہ وہ میت ہے جس کی نہ اولاد ہو نہ باپ بعض اہل لغت نے لکھا ہے کو کلالہ اس وارث کو کہتے ہیں جو میت کا نہ باپ ہو نہ اولاد۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کلالہ اولاد کے علاوہ دوسرے وارثوں کو کہتے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 176
لغات القرآن : ھلک، ہالک ہوگیا، مرگیا۔ کانتا، دونوں ہوں۔ اثنتین، دو ۔ الثلثن، دوتہائی۔
تشریح : اس آیت سے اسلام کی دو عظیم شانیں نظر آتی ہیں۔ نمبر ایک تقسیم میراث ہے۔ اسلام امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر نہیں بنانا چاہتا۔ وہ دولت کا پھیلاؤ چاہتا ہے جس کی ایک اہم شکل ہے کسی کی دولت کو اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثا میں تقسیم کردینا۔ کچھ اس طرح کہ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور کسی کو شکایت نہ ہو۔ اور عورتوں کو بھی مراث میں پورا پورا حق ملے۔ دوسری شان اس آیت سے یہ ظاہر ہے کہ اگرچہ بات ہو رہی ہے تقسیم میراث کی جو بڑا خشک اور بےمزہ مسئلہ ہے لیکن طرز بیان وہی ادیبانہ شان لئے ہوئے…
Read the full tafseer →شان نزول : حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ میں بیمار تھا تو آنحضرت ﷺ مع حضرت صدیق اکبر ؓ کے عیادت کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت جابر ؓ بیہوش تھے ۔ حضرت نے وضو فرما کر آب وضو ان پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا ۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور ﷺ تشریف فرما ہیں ۔ عرض کیا :” یا رسول اللہ ! میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں “ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (بخاری و مسلم) ابو داود کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا :” اے جابر ! میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے “ مسئلہ : بزرگوں کا آب وضو تبرک ہے اور اس کو حصول شفاء کے لئے استعمال کرنا سنت ہے ۔ مریضوں کی عیادت سنت ہے ۔ آنحضرت…
Read the full tafseer →[108] کلالہ کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 15 صفحہ 22 6 میں گزر چکی ہے۔
[109] کلالہ کی میراث کا حکم جو اس سورت کی آیت 12 صفحہ 176 میں مذکور ہے تین صورتوں میں سے صرف ایک صورت کے لئے تھا (ملاحظہ ہو حاشیہ 16 صفحہ 226) یہاں احکام بقیہ دو صورتوں کے بارے میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
(ف 2) اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس پیکر نور اور برہان نشان کتاب کو مانتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں کے سزاوار ہیں اور جن کے لئے اللہ کی آغوش فضل واہے اور جو صراط مستقیم پر گامزن ہیں ، مگر یاد رہے کہ ایمان کے ساتھ اعتصام شرط ہے ، یعنی استقلال اور عزم کے ساتھ جوش عمل ۔
حل لغات :
برھان : واضح دلیل ۔
کلالۃ : بوجھ مرد یا عورت جس کا وارث اصلی موجود نہ ہو یعنی جس کے ماں باپ یا اولاد نہ ہو ۔
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر ! لوگ آپ سے کلالہ کی میراث کا حکم دریافتک رتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے وہ حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے جس کے کوئی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے ماں باپ ہوں یعنی اس کے اصول و فروغ نہ ہوں اور اس کے ایک حقیقی یا علاقی بہن ہو تو اس بہن کو اس شخص کے مال متروکہ میں سے نصف ملے گا اور وہ بھائی اس لاولد بہن کے تمام مال کا وارث ہوگا یعنی جس عورت کے اصول و فروع نہ ہوں اور وہ مرجائے تو اس کے تمام مال کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر مذکورہ بالا شخص یعنی کلالہ کی بجائے ایک بہن کے دو بہنیں ہوں تو ان دونوں بہنوں کو اس میت کے مال متروکہ میں سے دو…
Read the full tafseer →ف 1۔ سبب اس آیت کے نزول کا استفتاء حضرت جابر ؓ کا ہے کہ اس وقت صرف ان کی بہنیں وراث تھیں رواہ النسائی۔ اور لباب میں ابن مردویہ سے حضرت عمر ؓ کا سوال کرنا بھی نقل ہے۔
2۔ کلالہ یعنی جس کے نہ اولاد ہو نہ ماں باپ ہوں۔
3۔ چونکہ سورت ہذا میں یہاں تک اصول و فروع کثیرہ کی تفصیل ہے اس لیے آخر میں ایک مجمل عنوان سے متام تر تفصیل کو مکرر یاد دلاکر اپنی منت اور احسان بیان شرائع میں رعایت حکمت ان شرائع میں ذکر فرما کر سورت کو ختم فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →کلالہ کیا ہے اور اس کا حکم کیا ؟
278ـ: کلالہ کا ذکر اس سورت النساء کی آیت 12 میں گزر چکا ہے اور اس کی تعریف بھی وہاں بیان کردی گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس آیت میں جو فرق ہوا ہے وہ صرف احیافی بہن بھائی ہونے کی وجہ سے ہے آیت 12 میں جس بہن بھائی کا ذکر ہے وہ اخیافی تسلیم کیے گئے ہیں اور زیر نظر آیت میں بہن بھائی سے مراد علاتی اور حقیقی بہن بھائی ہیں۔ اخیافی وہ جو صرف ماں کی طرف سے بہن بھائی ہوں اور علاتی وہ جو ماں کی طرف سے الگ لیکن باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں اور حقیقی وہ جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ہوں۔ دونوں جگہ پر کلالہ سے مراد وہ میت ہے جس کے والدین میں کوئی بھی زندہ نہ ہو اور اولاد بھی…
Read the full tafseer →A little after the beginning of Surah al-Nis-a', there appeared some injunctions relating to inheritance. Then, after a considerable gap, the text returned to the injunction of inheritance alongwith others. Now, at the end of the Surah, the text reverts to the subject once again. Perhaps the wisdom behind this scattering of the subject at three different places could be the consideration of prevailing injustice in matters of inheritance before the advent of Islam. By taking it up in the beginning, then in the middle,. and finally in the end. it was hoped that the addressees would be gradually…
Read the full tafseer →219. This verse was revealed long after the revelation of the rest of this surah. According to certain traditions, this verse was the very last Qur'anic verse to be revealed. (For these traditions, see Ibn Kathir's comments on this verse - Ed.) Even if this is disputed, it shows at least that this verse was revealed in 9 A.H., whereas the Muslims had been reciting the present surah, al-Nisa, for quite some time before that. It was for this reason that this verse was not included among the verses relating to inheritance mentioned at the beginning of the surah, but was attached to it at the end…
Read the full tafseer →