Explained with ayahs 116–118
روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی
جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
سورة الْمَآىِٕدَة 130
عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ”مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ یعنی آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بیجا سختی نہیں کرسکتے، اس لئے اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہوگی، اور فرض کیجئے معاف کردیں تو یہ معافی بھی ازراہ عجز نہ ہوگی، کیونکہ آپ عزیز (زبردست اور غالب) ہیں، اس لئے کوئی مجرم آپ کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا، کہ اس پر آپ قابو نہ پاسکیں، اور چونکہ حکیم (حکمت والے) ہیں، اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یونہی بےموقع چھوڑ دیں، بہر حال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے وہ بالکل حکیمانہ اور قادرانہ ہوگا۔ حضرت مسیح ؑ کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہوگا جہاں کفار کے حق میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
تفسیر آیات 116 تا 118:۔ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِيْ بِهٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي…
Read the full tafseer →118۔ 1 یعنی مطلب یہ کہ یا اللہ ! ان کا معاملہ تیری مشیت کے سپرد ہے اس لئے کہ تو فعال لما یرید بھی ہے جو چاہے کرسکتا ہے اور تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہے (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ 23) 21:23 اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہوگی لوگوں سے ان کے کاموں کی باز پرس ہوگی۔ گویا آیت میں اللہ کے سامنے بندوں کی عاجزی وبے بسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی اور پھر ان دونوں باتوں کے حوالے سے عفو و مغفرت کی التجا بھی سبحان اللہ ! کیسی عجیب وبلیغ آیت ہے اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ ایک رات نبی ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
79: عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم ؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔
اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔
یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا…
Read the full tafseer →2 یعنی آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بیجا سختی نہیں کرسکتے اس لئے اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہوگی اور فرض کیجئے معاف کردیں تو یہ معافی بھی ازراہ عجز وسفہ نہ ہوگی۔ چونکہ آپ عزیز (زبردست اور غالب) ہیں اس لئے کوئی مجرم آپ کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا کہ آپ اس پر قابو نہ پاسکیں۔ اور چونکہ " حکیم " (حکمت والے) ہیں۔ اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یونہی بےموقع چھوڑ دیں۔ بہرحال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے وہ بالکل حکیمانہ اور قادرانہ ہوگا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہوگا جہاں کفار کے حق میں کوئی شفاعت اور استدعاء رحم وغیرہ نہیں…
Read the full tafseer →آیت 118 اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ج۔
تجھے ان پر پورا اختیار حاصل ہے ‘ تیری مخلوق ہیں۔
وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
یہ بہترین انداز ہے۔ معافی کی درخواست بھی ہے ‘ جس میں بہت خوبصورت انداز میں شفقت و رأفت کا اظہار ہے ‘ جو نوع انسانی کے لیے انبیاء کی شخصیت کا خاصہّ ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مقام عبدیت یہی ہے۔ تو اے اللہ ! تیرا ہی اختیار ہے اور تو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ اگر تو انہیں معاف فرمانا چاہے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا ‘ کوئی جواب طلبی نہیں کرسکتا کہ تو نے کیسے معاف کردیا ! اب آ رہا ہے کہ اس پوری پیشی کا ڈراپ…
Read the full tafseer →169 پھر عیسیٰ (علیہ السلام) نہایت حکیمانہ انداز میں ان کی سفارش کریں گے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انہیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں اور اگر انہیں معاف ہی فرما دے تو تیری شان غفاری کے کیا کہنے۔ بہرحال تو ہر چیز پر اور ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔ تیری حکمت انہیں عذاب کی متقاضی ہے تو بھی تو مختار ہے اور معاف فرما دے تو بھی مختار ہے۔
Read the full tafseer →358 ۔ (اور تو ان کا مالک ومختار ہے، تو جو چاہے ان کے ساتھ سزا کا معاملہ کرے، میں دخل دینے کی مجال نہیں رکھتا)
359 ۔ تو ان کی مغفرت ہی کردینا چاہے تو کون روک سکتا ہے۔ تو سب پر غالب، (آیت) ” العزیز “۔ ہے تیرا ارادہ سب پر حاکم ومقتدر لیکن تو اسی کے ساتھ (آیت) ” الحکیم “۔ بھی تو ہے، تیرا کوئی فیصلہ خلاف حکمت ہو نہیں سکتا، تو کرے گا وہی جو تیرے آئین حکمت ومصلحت کے مطابق ہوگا۔ میں ایک بندہ ہو کر اس میں دخل دینے والا کون ؟ یعنی انت قادر علی ما ترید، حکیم فی کل ما تفعل لا اعتراض لا حد علیک فمن انا والخوض فی احوال الربوبیۃ (کبیر) واضح رہے کہ یہ ساری گفتگو قیامت میں ہوگی۔ جہاں کافروں اور منکران دین حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
اِن تعذبھم فاِنّھُم عبادک
مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے اسلئے کہ تو فَعَّال لِّما یُرید بھی ہے، اور تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ” لایُسئلُ عما یفعلُ وھم یسئلون “ اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہوگی، لوگوں سے ان کے کاموں کی باز پرس ہوگی، گویا آیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کی عاجزی و بےبسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی، پھر ان دونوں باتوں کے حوالہ سے عفو و مغفرت کی التجا بھی سبحان اللہ ! کسی عجیب وبلیغ آیت ہے، اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ ایک رات نبی ﷺ پر نوافل میں اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسی…
Read the full tafseer →ان تعذبہم فانہم عبادک اگر تو ان کو عذاب دے (تو بےجا نہیں) وہ تیرے بندے ہیں۔ مالک حقیقی جیسا چاہے ‘ اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا پھر انہوں نے تیرے علاوہ دوسروں کی پوجا کی باوجودیکہ تو نے ان کو پیدا کیا اور دوسروں کے گن گائے حالانکہ تو نے ان کو پرورش کیا اور نعمت عطا فرمائی۔ (اس صورت میں تو سزا دینا خلاف عدل ہو ہی نہیں سکتا) ۔ (1) [ ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ قربان رات آپ نے نماز کے اندر قیام کی حالت میں قرآن کی ایک آیت (بار بار) اتنی پڑھی کہ اگر ہم میں سے کوئی ایسا کرتا تو ہم اس پر غصہ کرتے فرمایا میں…
Read the full tafseer →(118) چناچہ جب اس مائدہ کا نزول ہوگیا اور اس میں سے کھانا شروع کیا تو یہ یہودی اب اس کو جھوٹ اور جادو بتانے لگے حضرت عیسیٰ ؑ نے عرض کیا پروردگار ان کی ان باتوں پر جس کی وجہ سے یہ ہلاک کردینے کے مستحق ہیں، تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو معاف فرما دے تو آپ عزیز اور حکیم ہیں۔
Read the full tafseer →اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ۔۔ : اس آیت کے مطابق عیسیٰ ؑ نہایت حکیمانہ طریقے سے ان کی سفارش کریں گے۔ پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انھیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں، نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں اور اگر تو انھیں معاف ہی فرما دے تو تو ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ ابوذر ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ ساری رات صبح تک (نماز میں) اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے۔“ [ نسائی، الافتتاح، باب تردید الآیۃ : 1011 ]
Read the full tafseer →آیت نمبر 118
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک یہ بھی شرط اور جواب شرط ہیں اور (آیت) وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم یہ بھی شرط اور جواب شرط ہیں۔ نسائی نے حضرت ابو ذر سے روایت کیا ہے فرمایا نبی مکرم ﷺ ایک آیت کو ساری رات قیام میں پڑھتے رہے حتی کے صبح ہوگئی (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم (2) (مسند احمد حدیث نمبر 21387) ، اس آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے مہربانی اور لطف طلب کرنے کے لیے کہا : جس طرح ایک سردار اپنے غلام کے لیے رحمت طلب کرتا ہے، اسی وجہ سے فانھم عصوک نہیں کہا۔ بعض…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، احمد، نسائی، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور ایک آیت پڑھی تو اس کے ساتھ رکوع سجدہ کرتے ہوئے صبح کردی۔ (وہ آیت یہ تھی) لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک جب صبح ہوتی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ برابر اس آیت کو پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا تھا تو وہ مجھ کو دے دی گئی۔ اگر اللہ نے چاہا ہر اس آدمی کو پہنچے گی جس نے شرک نہ کیا ہوگا۔
(2) امام ابن ماجہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک آیت پڑھتے ہوئے (ساری رات) قیام فرمایا اسے…
Read the full tafseer →اِنْ تُعَذِّبْهُمْ [ اگر تم عذاب دے ان کو ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک یہ لوگ ] عِبَادُكَ ۚ [ تیرے بندے ہیں ] وَاِنْ تَغْفِرْلَهُمْ [ اور اگر تو بخش دے ان کو ] فَاِنَّكَ اَنْتَ [ تو بیشک تو ہی ] الْعَزِيْزُ [ بالا دست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بارگاہ خداوندی میں یہ بھی عرض کریں گے کہ (اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ) (اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں) (وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (اور آپ ان کی مغفرت فرما دیں تو آپ عزیز و حکیم ہیں) مطلب یہ ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ عدل و حکمت پر مبنی ہے یہ آپ کے بندے ہیں۔ اگر آپ ان کو عذاب دیں تو آپ کو اس کا بھی اختیار ہے اور اگر آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو یہ بھی حکمت کے موافق ہوگا۔ آپ عزیز ہیں غالب ہیں جسے عذاب دینا چاہیں وہ کہیں بچ کر نہیں جاسکتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ عرض کرنا اللہ کی قدرت اور عزت و حکمت اور شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
ذکر مخاطبت رب العزت باعیسی (علیہ السلام) دریوم قیامت برائے تنبیہ نصاری حیاری بربطلان عقیدہ الوہیت۔
قال اللہ تعالی، واذ قال اللہ یعیسی بن مریم۔۔ الی۔۔۔ انت العزیز الحکیم۔
ربط) ۔ اوپر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ چلا آرہا ہے اور یہ اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت میں ہوگی اولا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو بلا کر اپنے وہ عظیم الشان انعامات و احسانات یاد دلائیں گے جو ان پر اور ان کی والدہ پر مبذول ہوئے بعد ازاں نصاری کے عقیدہ باطلہ یعنی عقیدہ الوہیت مریم کے متعلق دریافت کیا جائے گا جس سے مقصودیہ بتلانا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمیشہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور شرک سے…
Read the full tafseer →184 اس کی جزا محذوف ہے اور فَاِنَّہُمْ عِبَادُ اس کی دلیل ہے ای لم یلحقک بتعذیبہم اعتراض لانک المالک المطلق لھم (روح ص۔۔۔ ج 8) ۔ اسی طرح اِنْ تَغْفِرْ کی جزا بھی محذوف ہے ای لم یلحقک عجز بذلک و لا استقباح فانک القوی القادر علی جمیع المقدورات (روح) یعنی اگر تو ان کو عذاب دینا چاہے تو اس پر مجھے تجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ تیرے بندے ہیں اور تو ان کا مالک علی الاطلاق ہے اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو ایسا کرسکتا ہے تو اس سے عاجز نہیں اور نہ اس میں کوئی قباحت ہے کیونکہ تو قادر مطلق ہے اور تمام مقدورات تیری مشیت وقدرت کے تحت داخل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
ربط آیات
قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کا ذکر ہو رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ محاسبہ کرتے ہوئے پوچھے گا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا اللہ کے علاوہ ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) بیزاری کا اظہار کریں گے اور عرض کریں گے۔ اے پروردگار ! تیری ذات پاک ہے۔ میرے لائق یہ ہرگز نہیں کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ اور اگر بالفرض میں نے ایسی بات کی ہوگی تو تیرے علم میں ہے کیونکہ تو میرے دل کی بات کو جانتا ہے مگر میں تیرے دل کی بات کو نہیں جانتا۔ نیز یہ بھی کہ تمام پوشیدہ باتوں کو تو ہی جانتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُكَ 0ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 118
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
2 ؎ تجھے کوئی منع نہیں کرسکتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →عرض کیا :
اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ج وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔
(اگر تو ان کو عذاب دے ‘ تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے ‘ تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے)
جنت انعام کر کہ دوزخ میں جلا
وہ رحم ترا ہے یہ عدالت تیری
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے بڑے جلال کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے عیسائیوں کو یہ تبلیغ کی تھی کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھرکانپتے ہوئے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے اپنے رب کے حضور التجا کریں گے کہ اے رب ذوالجلال والاکرام میں وہ بات کہنے کی کس طرح جرأت کرسکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے اختیار نہ تھا۔ الٰہی اگر میں نے یہ بات ان لوگوں کو کہی ہوتی میرے الفاظ اور میرے دل کی حالت کو آپ جانتے ہیں جس…
Read the full tafseer →مغفرت و سزا دونوں تیرے اختیار میں ہیں :
آیت 118: اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَاِنَّک اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (اگر آپ عذاب دیں تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دیں تو تو زبردست حکمت والا ہے) زجاج نے کہا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے جانا کہ ان میں کچھ ایمان لائے اور بعض ان میں کفر پر قائم رہے۔ پس ان کے متعلق ان تعذبہم فرمایا یعنی اگر تو ان میں سے جو کافر ہوئے ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ جن کو تو جانتا ہے کہ انہوں نے تیری آیات کا انکار کیا تیرے انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کی اور تو اس سلسلے میں عدل کرنے والا ہے۔ انہوں نے حجت کے لازم ہوچکنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 118
تفسیر : (ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم)
شبہ اور اس کا ازالہ
اگر یہ اعتراض ہو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے کافر ہونے ک باوجود ان کی مغفرت کا مطالبہ کیسے کردیا۔
جواب 1 ۔ مطلب یہ ہے ہے کہ اگر کفر پر قائم ہونے کی حالت میں عذاب دے اور اگر ایمان لانے کے بعد ان کی مغفرت کردے۔ یہ جواب سدی (رح) کے قول پر درست ہے کہ یہ سوال قیامت کے دن سے پہلے ہوچکا کیونکہ قیامت میں ایمان نفع نہ دے گا۔
جواب 2 ۔ یہ دیا گیا کہ یہ قول دو جماعتوں کے متعلق ہے اگر ان میں سے کافروں کو آپ عذاب دیں اور مغفرت کریں ان کی جو ان میں سے ایمان لائے اور کہا گیا ہے کہ یہ مغفرت کو طلب کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
(116 ۔ 120) ۔ یہاں سے آخر سوہ تک اللہ تعالیٰ نے نصاری کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور نگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو ان کے آسمان پر چلے جان کے بعد تثلث اور شرک کی باتیں جو نصارٰی نے اپنے دین میں پھیلالیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو دنیا میں اس قسم کی خرابیاں رفع کرنے کی غرض سے بھیجا اور نبی آخر الزمان نے نصاریٰ کے علماء اور بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →317 اللہ مختار کل ہے جو چاہے کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ اب اگر آپ ان کو عذاب دیں تو بھی دے سکتے ہیں کہ یہ اس کے مستحق اور مجرم و قصور وار ہیں۔ اس لئے آپ اے ہمارے خالق ومالک ان کو سزا اور جو چاہیں سزا دے سکتے ہیں کہ آپ مالک و مختار بھی ہیں۔ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کو اس کا پورا حق بھی ہے اور کلی اختیار بھی کہ یہ بہرحال آپ کے بندے ہیں۔ سو اس سے حضرت عیسیٰ کی شان عبدیت کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بھی۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی معرفت کا کہ اس سے سرفرازی کے بعد انسان اس مالک الملک کے حضور سراپا عجز و انکسار بن جاتا ہے۔ اور یہی تقاضا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی گواہی، اللہ سے رحم کی درخواست
تشریح : اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان اور جو بھی بات چیت ہوگی وہ صرف اس لیے بیان کی جا رہی ہے کہ عیسائیوں نے جو بھی غلط عقائد بنا رکھے ہیں ان پر ان کو آگاہ کر کے ٹھیک واقعات اور حالات سے واقف کیا جائے پھر جب بھی مخاطب کیا گیا تو ان کے اصلی نام سے یعنی عیسیٰ بن مریم کہا گیا تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ عیسیٰ ایک انسان تھے اور ان کی ولادت انسانوں کی طرح ہوئی ان کی والدہ بھی ایک انسان ہی تھیں یہ سب اللہ کے پیدا کئے ہوئے بھلا اللہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اللہ تعالیٰ کا علیم وخبیر اور عظیم و حکیم ہونے کا ثبوت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 116 تا 120 ۔
اسرارو معارف :
پھر اسی بھرے میدان میں سوال ہوگا اے عیسیٰ ! کیا آپ نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی اللہ کے علاوہ دو الہ مان لیں ، یعنی جو کچھ ہم دین سمجھ کر کرتے ہیں اس پر انبیاء کی شہادت ہوگی اگر انہوں نے ذمہ داری قبول فرمائی کہ ان کا یہ فعل میری کسی ہدایت کے مطابق تھا یا کسی حکم کی تائید کرا تھا۔ جیسے آپ ﷺ کے زمانے میں نہ دینی مدارس تھے نہ نصاب نہ یہ موجودہ کتب حدیثیں لوگوں کے پاس متفرق تھیں کسی کے پاس لکھی ہوئی اور اکثر زبانی مگر پڑھنے پڑھانے علم حاصل کرنے کا حکم موجود ہے اب ان کتب یا مدارس میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو…
Read the full tafseer →ف 14 یعنی تعذیب وغفران دونوں پر تجھے پوری قدرت حاصل ہے کہ ان سے جو سلوک کرنا چاہے کرے اور تیرا کو کام بھی حکمت سے خالی نہیں ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگوں کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ ھو ال اصحابی فرمائیں گے مگر آپ کو بتایا جائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے مرنے کے بعد انہوں نے دین کو بد ل ڈالا تو یہ سن کر آنحضرت بھی یہی عرض کریں گے وکنت علیھم شھیدا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض فاسق لوگوں کی بھی سفاعت ہوگی ( قرطبی، رازی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
(5:117) توفیتنی۔ تو نے مجھے اٹھالیا۔ تو نے مجھے قبض کیا۔ تو نے مجھے وفات دی۔ توفیت توفی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
توفی کے اصل معنی لغت میں کسی چیز کو کامل طور پر قبضہ میں لینے کے ہیں۔ جیسے نیند کی حالت میں ہوش کو پورے طور پر اٹھا لیا جاتا ہے یا موت کے وقت روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ توفی کا استعمال موت کے لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس کے حقیقی اور لغوی معنی نہیں ہیں بلکہ مرادی اور تعبیری معنی ہیں۔
الرقیب علیہم۔ الرقیب۔ نگہبان۔ خبر رکھنے والا۔ محافظ۔ راہ دیکھنے والا۔ کنت کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
آیت نمبر 116 تا 118
لغات القرآن : ءانت (کیا تو نے) ۔ قلت (تو نے کہا تھا) ۔ اتخذونی (مجھے بنا لو) ۔ امی (میری ماں) ۔ الھین (دونوں معبود ) ۔ سبحنک (تیری ذات پاک ہے۔ بےعیب ہے) ۔ مایکون (نہیں ہے) ۔ لیس (نہیں ہے) ۔ لا اعلم (میں نہیں جانتا) ۔ امرتنی (تو نے مجھے حکم دیا تھا) ۔ مادمت (جب تک میں رہا) ۔ حی (زندہ) ۔ فلما (پھر جب) ۔ توفیت (تو نے اٹھالیا) ۔ الرقیب (نگران، نگہبان) ۔ ان تعذب (اگر تو نے عذاب دیا) ۔ عبادک (تیرے بندے) ۔ ان تغفر (اگر تو نے معاف کردیا) ۔
تشریح : یہ سوالات قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جب کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔ یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
قیامت کی عدالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت
یہاں سے آخر تک نصاریٰ کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور کگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو۔ ان کے آسمان پر چلے جانے کے بعد شرک وغیرہ کی باتیں جو نصاریٰ نے اپنے دین کے اندر پھیلائیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو دنیا میں اسی قسم کی خرابیاں رفع کرنے کو بھیجا اور نبی آخر الزماں ﷺ نے نصاریٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[63] یعنی اپنے تہوار کا دن۔ عید اس خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
میسح کی تعلیم :
(ف 1) ان آیات میں قیامت کا ذکر ہے مسیح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا ، کیا تم نے کہا تھا کہ مجھے اور میری مان کو خدا مانو ، آپ فرمائیں گے ، اللہ مجھے کیونکر اختیار ہے کہ باطل کی تلقین کروں ، میں نے تو ان کو ہمیشہ توحید ہی کی طرف بلایا ہے ، اور میں جب تک ان میں رہا ، اسی کی دعوت دی جب تونے مجھے اٹھا لیا ، اس وقت تو نگہبان تھا ، اور تو سب کچھ جانتا ہے ۔
یہاں تک معذرت ہے اس کے سفارش ہے کیونکہ مسیح (علیہ السلام) خوب جانتے ہیں کہ میرے آسمان پر جانے کے بعد لوگوں میں غلط کے عقائد رائج ہوگئے تھے ، فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اگر انہیں سزا دے تو تیرے بندے ہی تو ہیں ، اور بخشدے تو کیا…
Read the full tafseer →-118 اگر تو ان کو سزا دے اور ان کو عذاب کرنا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور تو ان کو عذاب کرسکتا ہے اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے اور ان کو بخشش دے اور ان کو م عاف کر دے تو یقینا تو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے یعنی تیرے کام میں کوئی مداخلت کرنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
ف 2۔ یعنی قیامت میں۔
3۔ نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحد ہوں اور نہ باعتبار واقع کے کہ آپ واحد ہیں۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دینے کے بعد اپنی طرف سے دبے لفظوں میں اپیل دائر کردی :
268: جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے پوری کائنات کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اسی طرح ہر نبی اپنی قوم کے لئے رحمت الٰہی تھا۔ یہی بات سیدنا مسیح (علیہ السلام) سے معرض وجود میں آئی پوری قوم بلکہ دنیائے انسانیت کے سامنے کئے گئے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب پیش کہ نے کے بعد اس قوم کے لئے جس نے ساری زندگی آپ کو تنگ رکھا اور آپ کو اٹھائے جانے کے بعد الٰہ و معبود بنا لیا۔ ان ساری زیادتیوں کے بعد آپ اللہ تعالیٰ سے اس قوم کے لئے اپیل دائر کرتے نظر آرہے ہیں فرمایا اے خدا ! میں نے جو کچھ قوم کو کہا تھا وہ میں…
Read the full tafseer →1. As for the statement beginning with the words: إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ (If You punish them, they are Your slaves ... ) appearing in the last verse (118), it means that Allah does not bring undue hardship on His servants, therefore, if punishment does come to them, it will only be just, right and wise. And should He forgive them, then, this forgiveness too will not be a matter of not being able to do otherwise - because He is Mighty, fully-capable and overpowering, from whose reach and control no wrong-doer can escape. And since He is Wise too, therefore, it is also not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
130. The Christians were not content merely with deifying Jesus and the Holy Spirit. They even turned Mary, the mother of Jesus, into a full-fledged object of worship. The Bible does not contain even the remotest suggestion that Mary was in any way either divine or superhuman. During the first three centuries after the Messiah, such a concept was totally alien to Christian thinking. Towards the end of the third century of the Christian era, however, some theologians of Alexandria employed, for the first time, the expression 'Mother of God' in connection with Mary. Subsequently, belief in…
Read the full tafseer →