Al-Maaida 5:117

Al-Maaida · from ayah 117

5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ ۚ— وَكُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ ۚ— فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ ؕ— وَاَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ۟مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِىۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبَّكُمۡ‌ۚ وَكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ‌ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِىۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

I said not to them except what You commanded me - to worship Allah, my Lord and your Lord. And I was a witness over them as long as I was among them; but when You took me up, You were the Observer over them, and You are, over all things, Witness.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 16 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:117

میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو، تو ہی ان پر مطلع رہا۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں نے ان لوگوں سے اس کے سوا کوئی بات نہیں کہی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، اور وہ یہ کہ : اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ اور جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، میں ان کے حالات سے واقف رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگران تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ ا لله کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا ر ا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا، اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میں نے انہیں سوائے اس (بات) کے کچھ نہیں کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم (صرف) اﷲ کی عبادت کیا کرو جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا(بھی) رب ہے، اور میں ان (کے عقائد و اعمال) پر (اس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمہارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں نے تو انہیں صرف وہی کچھ کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی اور جب تک میں ان میں موجود رہا ان پر نگراں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے واپس بلا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔ اور تو تو ساری چیزوں پر شاہد ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں تو ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی اور میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں موجود رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران رہا اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے ہی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میں نے تو ان سے بس وہی کچھ کہا جس کا آپ نے مجھے حکم فرما رکھا تھا، کہ تم سب اللہ ہی کی بندگی کرو (اے لوگو !) جو کہ رب ہے میرا بھی، اور تمہارا بھی، اور میں ان کی پوری طرح نگرانی کرتا رہا جب تک کہ میں ان کے درمیان موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے (اے میرے مالک) اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران (و نگہبان) تھا، اور تو ہر چیز سے پوری طرح آگاہ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا بجز اس کے کہ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ میرے اور اپنے پروردگار اللہ کی پرستش کرو۔ میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگران ہے اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگر وہی کچھ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا (اور وہ یہی بات تھی) کہ بندگی کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر نگران رہا جب تک ان میں موجودرہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو (اس کے بعد) تو ہی نگران تھا ان پر اور یقیناً تو ہرچیز پر گواہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ میں اسی وقت تک ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا جب آپ نے مجھے واپس بلالیا تو پھر ان کی خبر رکھنے والے آپ ہی تھے اور آپ ہر چیز سے خبردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I said to them nothing except what You commanded me, that is: 'Serve Allah, my Lord and your Lord.' I watched over them as long as I remained among them; and when You did recall me, then You Yourself became the Watcher over them. Indeed, You are Witness over everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I have not said to them anything but what You have ordered me to say, that is, _Worship Allah, my Lord and your Lord‘ and I was a witness over them as long as I was with them. But when You recalled me, You were the One watching over them. You are a witness over everything.

— Muhammad Taqi Usmani

I have not said to them anything but what You have ordered me to say, that is, _Worship Allah, my Lord and your Lord‘ and I was a witness over them as long as I was with them. But when You recalled me, You were the One watching over them. You are a witness over everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Never did I say to them ought except what You (Allah) did command me to say: `Worship Allah, my Lord and your Lord.' And I was a witness over them while I dwelled amongst them, but when You took me [up], You were the Watcher over them, and You are a Witness to all things."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I spake unto them only that which Thou commandedst me, (saying): Worship Allah, my Lord and your Lord. I was a witness of them while I dwelt among them, and when Thou tookest me Thou wast the Watcher over them. Thou art Witness over all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I said not to them except what You commanded me - to worship Allah, my Lord and your Lord. And I was a witness over them as long as I was among them; but when You took me up, You were the Observer over them, and You are, over all things, Witness.

— Saheeh International

"I did not tell them anything except what You commanded me to tell them. I told them that they must worship God who is everyone's Lord. I watched them as long as I was among them until You raised me to Yourself and You Yourself had also watched over them; You are Omnipresent.

— Muhammad Sarwar

I did not say to them aught save what Thou didst enjoin me with: That serve Allah, my Lord and your Lord, and I was a witness of them so long as I was among them, but when Thou didst cause me to die, Thou wert the watcher over them, and Thou art witness of all things.

— Muhammad Habib Shakir

I spake not unto them aught save that for which Thou badest me: worship Allah, mine Lord and your Lord. I was a witness over them so long as abode amongst them: then when Thou tookest up Thou hast been the Watcher. And over everything Thou art a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

"Never said I to them aught except what Thou didst command me to say, to wit, 'worship Allah, my Lord and your Lord'; and I was a witness over them whilst I dwelt amongst them; when Thou didst take me up Thou wast the Watcher over them, and Thou art a witness to all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:117

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–118

روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 116–120

سورة الْمَآىِٕدَة 130 عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ”مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–117

خلاصہ تفسیر اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ (قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ سے کفار نصاریٰ کے سنانے کے لئے) فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ابن مریم (ان لوگوں میں جن کا عقیدہ تثلیث کا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو شریک الوہیت مانتے تھے تو) کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو (یعنی عیسیٰ ؑ کو) اور میری ماں (حضرت مریم علیہما السلام) کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے دو تو عیسیٰ ؑ عرض کریں گے کہ (توبہ توبہ) میں تو (خود اپنے عقیدہ میں) آپ کو (شریک سے) منزّہ سمجھتا ہوں (جیسا کہ آپ واقع میں بھی منزّہ (پاک) ہیں ایسی حالت میں) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 116–118

تفسیر آیات 116 تا 118:۔ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِيْ بِهٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

117۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ نے توحید و عبادت رب کی یہ دعوت عالم شیر خوارگی میں بھی دی، جیسا کہ سورة مریم میں ہے اور عمر جوانی و کہولت میں بھی۔ 117۔ 2 توفیتنی کا مطلب ہے جب تو نے مچھے دنیا سے اٹھالیا جیسا کہ اس کی تفصیل سورة آل عمران کی آیت 55 میں گزر چکی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پیغمبروں کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا جاتا ہے یا جن کا مشاہدہ وہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ جب کہ عالم الغیب وہ ہوتا ہے جسے بغیر کسی کے بتلائے ہر چیز کا علم ہوتا ہے اور اس کا علم ازل سے ابد تک پر محیط ہوتا ہے۔ یہ صفت علم اللہ کے سوا کسی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 116–120

79: عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم ؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–118

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔ یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 میں نے آپ کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کیا۔ اپنی الوہیت کی تعلیم تو کیسے دے سکتا تھا اس کے بالمقابل میں نے ان کو صرف تیری بندگی کی طرف بلایا اور کھول کھول کر بتلا دیا کہ میرا اور تمہارا سب کا رب (پروردگار) وہ ہی ایک خدا ہے جو تنہا عبادت کے لائق ہے۔ چناچہ آج بھی بائیبل میں صریح نصوص اس مضمون کی بکثرت موجود ہیں۔ 1 نہ صرف یہ کہ میں نے مخلوق کو تیری توحید اور عبودیت کی طرف دعوت دی، بلکہ جب تک ان کے اندر قیام پذیر رہا، برابر ان کے احوال کی نگرانی اور خبر گیری کرتا رہا کہ کوئی غلط عقیدہ یا بےموقع خیال قائم نہ کرلیں البتہ ان میں قیام کرنے کی جو مدت آپ کے علم میں مقدر تھی، جب وہ پوری کر کے آپ نے مجھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 117 مَا قُلْتُ لَہُمْ الاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ ج وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ ج ان کی دیکھ بھال کرتا رہا ‘ نگرانی کرتا رہا۔ یہاں لفظ شہید نگران کے معنوں میں آیا ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ ط واضح رہے کہ یہاں بھی تَوَفَّیْتَنِیْ موت کے معنوں میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سورة آل عمران آیت 55 اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کی تشریح مدنظر رہے۔ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدٌ تو ہرچیز پر نگران ہے ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

168 انبیاء کو بھی غیب کا علم نہیں :۔ تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں خود بھی تیری بندگی اور عبادت کروں اور لوگوں سے بھی تیری ہی بندگی اور عبادت کراؤں اور اسے میں بجا لاتا رہا اور جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا اس وقت تک تو میں نے تیرے حکم کا پوری طرح دھیان رکھا البتہ میرے بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں۔ بعد کے حالات تو تو ہی جانتا ہے کہ ان لوگوں نے کب اور کس طرح یہ غلط روش اختیار کی تھی اور کیوں کی تھی ؟ قیامت کے دن انبیاء کی اپنی امت کے اعمال سے بیخبر ی :۔ سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک خطبہ کے دوران فرمایا لوگو ! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن، بےختنہ حشر (جمع) کیے جاؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

356 ۔ موجودہ انجیلیں بھی باوجود اپنی تثلیثی شرک کے اس توحیدی تعلیم کو مٹا نہ سکیں :۔ ” یسوع نے اس سے کہا، اے شیطان دور ہو، کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر، تب ابلیس اس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اس کی خدمت کرنے لگے “ (متی۔ 4: 10، 1 1) ” یسوع نے جواب میں اس سے کہا۔ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر، اور صرف اسی کی عبادت کر “ (لوقا۔ 4:8) (آیت) ” ان اعبدوا “۔ میں ان مفسرہ ای کے مرادف ہے۔ ان مفسرۃ بمعنی ای (مدارک) ان مفسرۃ (کبیر) حضرت کا یہ کلام آپ کی کمال عبدیت اور انتہائی عبودیت پر دلالت کررہا ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے اس پیام توحید کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–117

آیت نمبر 116 تا 120 ترجمہ : اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی قوم کو سرزنش کرنے کیلئے فرمائیگا، کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نپتے ہوئے عرض کریں گے آپ تو ہر اس چیز (یعنی) شریک وغیرہ سے پاک ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں، اور میرے لئے کسی طرح ایسی بات کہنا لائق نہیں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں (بحق) لیس کی خبر ہے اور (لی) تبیین کیلئے (زائد) ہے اگر میں نے (یہ بات) کہی ہوگی تو آپ کو اس کا علم ہوگا اس لئے کہ تو تو میرے دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ . میں نے ان سے نہیں کہی مگر وہی بات جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ مَااَمَرْتُ کے بجائے مَاقُلتکہنے میں یہ نکتہ ہے کہ حکم دینا (درحقیقت) رب کا کام ہے اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ربوبیت کی آمیزش اور شائبہ سے بھی اپنے کو الگ رکھنا چاہتے تھے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے پہلے ً شرک کی تمہید قائم کی اس کے بعد آئندہ فقرہ میں پیام توحید اور نفی شرک کی صراحت کردی۔ ان ابعدوا اللہ ربی وربکم کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب یعنی کسی کو (عبادت میں) اللہ کا شریک نہ بناؤ کیونکہ وہی میرا بھی خالق ہے جو تمہارا خالق ہے (اور میں تمہارا خالق نہیں) یہ فقرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(117) میں نے جو کچھ اوامرو نہی ان کو کہے ہیں آپ اسے بخوبی جانتے ہیں اور جو کچھ ان لوگوں کے حق میں رسوائی اور توفیق ہے میں تو اس کو نہیں جانتا، میں نے ان سے دنیا میں صرف یہی کہا کہ اس ذات کی عبادت اور اطاعت کرو جو میرا بھی اللہ ہے اور تمہارا بھی اور جب تک ان میں موجود رہا تیرے احکام کے پہنچانے پر باخبر رہا اور جب ان کے درمیان سے آپ نے مجھے اٹھالیا تو آپ ہی ان کے احوال سے باخبر رہے، آپ تو میری باتوں اور ان کی باتوں سب ہی کو جاننے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي : اس آیت سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ فوت ہوچکے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عیسیٰ ؑ یہ بیان قیامت کے دن دیں گے جب وہ زمین پر آنے کے بعد اپنی عمر پوری کر کے فوت ہوچکے ہوں گے۔ اگر اصرار کیا جائے کہ ”تَوَفَّيْتَنِي“ سے مراد پہلا وقت ہے، جب انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے، ایک موت، جیسے : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) [ الزمر : 42 ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔“ دوسرے نیند، جیسے :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 117 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ماقلت لھم الا ما امرنی بہ یعنی میں نے دنیا میں انہیں توحید کا حکم دیا۔ (آیت) ان اعبدوا اللہ ان کا اعراب میں کوئی محل نہیں ہے یہ ان مفسرہ ہے جیسے (آیت) وانطلق الملامنھم ان امشوا (ص : 6) میں، ان مفسرہ ہے اور اس کا محل نصب میں ہونا بھی جائز ہے ماذکرت لھم الا عبادۃ اللہ یعنی میں نے ان کو نہیں یاددلایامگر اللہ کی عبادت۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل جر میں ہو یعنی بان اعبدوا اللہ۔ نون کو ضمہ دینا اولی ہے، کیونکہ وہ کسرہ کے بعد ضمہ کو عرب ثقیل سمجھتے ہیں اور التقاء ساکنین کی اصل پر کسرہ بھی جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) وکنت علیھم شھیدا جو میں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 116–117

(1) امام ترمذی نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر القاء کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ قول نازل فرمایا کہ لفظ آیت واذ قال اللہ عیسیٰ ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ آیت القاء کی یعنی لفظ آیت سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (ساری آیت) (2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم سے فرمایا لفظ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا قُلْتُ [ نہیں کہا میں نے ] لَهُمْ [ ان سے ] اِلَّا [ مگر ] مَآ [ وہی ] اَمَرْتَنِيْ [ تو نے حکم دیا مجھے ] بِهٖٓ [ جس کا ] اَنِ [ کہ ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۚ [ اور جو تمہارا رب ہے ] وَكُنْتُ [ اور میں تھا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] شَهِيْدًا [ معائنہ کرنے والا ] مَّا دُمْتُ [ جب تک میں رہا ] فِيْهِمْ ۚ [ ان میں ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَوَفَّيْتَنِيْ [ تو نے لیے لیا مجھے ] كُنْتَ اَنْتَ [ تو تو ہی تھا ] الرَّقِيْبَ [ نگران ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] واَنْتَ [ اور تو ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] شَهِيْدٌ [ معائنہ کرنے والا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

گمراہوں کی تردید بعض گمراہ لوگ ایسے نکلے ہیں جو لفظ (فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ) سے اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی۔ اور یہ لوگ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء یعنی آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے منکر ہیں۔ یہ لوگ آیت قرآنیہ (بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) کے اور بیسیوں حدیثوں کے منکر ہیں۔ جن میں سیدنا عیسیٰ کا قیامت سے پہلے آسمانوں سے اترنا اور اس دنیا میں رہنا طبعی وفات پانا مذکور ہے اول تو لفظ توفی ضروری نہیں کہ موت ہی کے لئے استعمال ہو۔ قرآن مجید میں نیند کے لئے استعمال ہوا ہے۔ سورۂ انعام میں ہے (وَ ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بالَّیْلِ وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–118

ذکر مخاطبت رب العزت باعیسی (علیہ السلام) دریوم قیامت برائے تنبیہ نصاری حیاری بربطلان عقیدہ الوہیت۔ قال اللہ تعالی، واذ قال اللہ یعیسی بن مریم۔۔ الی۔۔۔ انت العزیز الحکیم۔ ربط) ۔ اوپر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ چلا آرہا ہے اور یہ اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت میں ہوگی اولا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو بلا کر اپنے وہ عظیم الشان انعامات و احسانات یاد دلائیں گے جو ان پر اور ان کی والدہ پر مبذول ہوئے بعد ازاں نصاری کے عقیدہ باطلہ یعنی عقیدہ الوہیت مریم کے متعلق دریافت کیا جائے گا جس سے مقصودیہ بتلانا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمیشہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور شرک سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

183 لفظ شَھِیْدٌ کی پوری تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں حاشیہ 272 کے تحت ص 70 پر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–117

ربط آیات گزشتہ رکوع قیامت کے دن محاسبے کے عمل کی تمہید پر مشتمل تھا ، اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا ، تو تمام انبیاء اور رسل عاجزی کا اظہار کریں گے۔ پھر مثال کے طور پر مسیح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو دراصل ان کو معبود ماننے والوں کے لئے سخت ڈانٹ ہے کہ جب قیامت کو محاسبے کا وقت آئیلا تو مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ماننے والے ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اسی دنیا میں اپنے عقیدہ کی درستگی کرلیں اور مسیح (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہہ کر شرک میں مبتلا نہ ہوں۔ اسی سابقہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِيْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ۝ 0ۚ وَكُنْتُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْہِمْ۝ 0ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْہِمْ۝ 0ۭ وَاَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝ 117 أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–117

ترکیب : اذقال اس کا عامل اذکر ہے۔ اتخذونی بمعنی صیرونی ہو کر دو مفعول چاہتا ہے اول ی اور امی دوم الٰہین من دون اللہ اس کی صفت ان اقول فاعل یکون لی خبر۔ تفسیر : یہ وہ کلام ہے کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت کے روز کیا جاوے گا جس پر وہ عاجزی سے کہیں گے کہ میں ہرگز ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں نے تو خاص تیری ہی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا اور اپنی زندگی بھر یہی کہتا رہا۔ پھر میرے بعد کی تجھے خبر ہے۔ اب آپ کو اختیار ہے اگر عذاب کرے تو تیرے بندے ہیں اور معاف کرے تو تو بڑا حکیم ‘ زبردست ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ آج کے دن سچوں کا سچ کام آوے گا کہ ان کے لئے روحانی اور جسمانی جاودانی بہشت ملے گی جس میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 116–117

وَاِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَاَنْتَ قُلْتَ لِنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ق بِحَقٍّ طصہ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلآَ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ج وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدُٗ ۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 116–118

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے بڑے جلال کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے عیسائیوں کو یہ تبلیغ کی تھی کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھرکانپتے ہوئے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے اپنے رب کے حضور التجا کریں گے کہ اے رب ذوالجلال والاکرام میں وہ بات کہنے کی کس طرح جرأت کرسکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے اختیار نہ تھا۔ الٰہی اگر میں نے یہ بات ان لوگوں کو کہی ہوتی میرے الفاظ اور میرے دل کی حالت کو آپ جانتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جوابِ عیسوی : آیت 117: مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖ ۔ (میں نے وہی کہا جو آپ نے مجھے حکم دیا) یعنی میں نے انکو حکم نہیں دیا مگر اس بات کا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا۔ پھر جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کی وضاحت و تفسیر کی اور کہا۔ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ ۔ اَنْ مفسرہ ہے بمعنی ای۔ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا نگران رہا۔ مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ اتنی مدت جتنا میں ان میں رہا۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْرقیب حفیظ کو کہتے ہیں۔ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ میرے قول و فعل اور انکے قول وفعل کے متعلق۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 117 تفسیر :( ماقلت نھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم) تنہا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو (وکنت علیھم شھیدًا مدمت فیھم فلماً توفیتی) اپنی طرف اٹھا لیا (کنت انت الرقیب علیھم) ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ( وانت علی کل شیء شہید)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–120

(116 ۔ 120) ۔ یہاں سے آخر سوہ تک اللہ تعالیٰ نے نصاری کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور نگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو ان کے آسمان پر چلے جان کے بعد تثلث اور شرک کی باتیں جو نصارٰی نے اپنے دین میں پھیلالیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو دنیا میں اس قسم کی خرابیاں رفع کرنے کی غرض سے بھیجا اور نبی آخر الزمان نے نصاریٰ کے علماء اور بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 111–120

آیت 111 یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 108–120

قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔ قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔ پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

313 حضرت عیسیٰ کا اعلان بندگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ کہیں گے کہ میں نے تو ان لوگوں سے وہی کچھ کہا جس کا آپ نے مجھے حکم وارشاد فرمایا تھا کہ تم سب لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو جو کہ سب کا رب ہے۔ سو اس کے بندے ہونے میں ہم سب ایک برابر ہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ مجھے اس نے نبوت و رسالت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ شرف وحی سے نوازا ہے اور منصب نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور بس۔ ورنہ اس کی خدائی کے کسی شائبے کا بھی مجھ میں پائے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ہمارے حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ارشاد فرمایا گیا کہ یوں کہو ۔ { قُلْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–118

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی گواہی، اللہ سے رحم کی درخواست تشریح : اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان اور جو بھی بات چیت ہوگی وہ صرف اس لیے بیان کی جا رہی ہے کہ عیسائیوں نے جو بھی غلط عقائد بنا رکھے ہیں ان پر ان کو آگاہ کر کے ٹھیک واقعات اور حالات سے واقف کیا جائے پھر جب بھی مخاطب کیا گیا تو ان کے اصلی نام سے یعنی عیسیٰ بن مریم کہا گیا تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ عیسیٰ ایک انسان تھے اور ان کی ولادت انسانوں کی طرح ہوئی ان کی والدہ بھی ایک انسان ہی تھیں یہ سب اللہ کے پیدا کئے ہوئے بھلا اللہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اللہ تعالیٰ کا علیم وخبیر اور عظیم و حکیم ہونے کا ثبوت بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–120

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 116 تا 120 ۔ اسرارو معارف : پھر اسی بھرے میدان میں سوال ہوگا اے عیسیٰ ! کیا آپ نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی اللہ کے علاوہ دو الہ مان لیں ، یعنی جو کچھ ہم دین سمجھ کر کرتے ہیں اس پر انبیاء کی شہادت ہوگی اگر انہوں نے ذمہ داری قبول فرمائی کہ ان کا یہ فعل میری کسی ہدایت کے مطابق تھا یا کسی حکم کی تائید کرا تھا۔ جیسے آپ ﷺ کے زمانے میں نہ دینی مدارس تھے نہ نصاب نہ یہ موجودہ کتب حدیثیں لوگوں کے پاس متفرق تھیں کسی کے پاس لکھی ہوئی اور اکثر زبانی مگر پڑھنے پڑھانے علم حاصل کرنے کا حکم موجود ہے اب ان کتب یا مدارس میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

یعنی صرف اللہ ہی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے !12 لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے ایک موت جیسے اللہ یتوفی الا نفس حین موتھا (الزمر) دوسرے خواب جیسے ھو الذی یوفکم بالیل (انعام) تیسرے رفع جیسا کہ اس آیت میں ہے (دیکھئے آیت عمران آیت 55 والسنا آیت 158 (ترجمان نواب) 13 یعنی ان میں میری مو جو دگی کے وقت بھی تو ہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھیہ تو ہی شہید ہے شھید اسمائے حسنیٰ سے ہے اور شہید بمعنی رویت وعلم بھی ہوسکتا ہے۔ اور شہادت یا عتبار کلام بھی مراد ہوسکتی ہے ( رازی) مگر دوسرے کو حق کے مطلق شہید یا شاہد کا لفظ جب کوئی خاص قرینہ نہ ہو) شبہات باالکلا کے معنی میں ہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 117–120

(5:117) توفیتنی۔ تو نے مجھے اٹھالیا۔ تو نے مجھے قبض کیا۔ تو نے مجھے وفات دی۔ توفیت توفی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ توفی کے اصل معنی لغت میں کسی چیز کو کامل طور پر قبضہ میں لینے کے ہیں۔ جیسے نیند کی حالت میں ہوش کو پورے طور پر اٹھا لیا جاتا ہے یا موت کے وقت روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ توفی کا استعمال موت کے لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس کے حقیقی اور لغوی معنی نہیں ہیں بلکہ مرادی اور تعبیری معنی ہیں۔ الرقیب علیہم۔ الرقیب۔ نگہبان۔ خبر رکھنے والا۔ محافظ۔ راہ دیکھنے والا۔ کنت کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 116–118

آیت نمبر 116 تا 118 لغات القرآن : ءانت (کیا تو نے) ۔ قلت (تو نے کہا تھا) ۔ اتخذونی (مجھے بنا لو) ۔ امی (میری ماں) ۔ الھین (دونوں معبود ) ۔ سبحنک (تیری ذات پاک ہے۔ بےعیب ہے) ۔ مایکون (نہیں ہے) ۔ لیس (نہیں ہے) ۔ لا اعلم (میں نہیں جانتا) ۔ امرتنی (تو نے مجھے حکم دیا تھا) ۔ مادمت (جب تک میں رہا) ۔ حی (زندہ) ۔ فلما (پھر جب) ۔ توفیت (تو نے اٹھالیا) ۔ الرقیب (نگران، نگہبان) ۔ ان تعذب (اگر تو نے عذاب دیا) ۔ عبادک (تیرے بندے) ۔ ان تغفر (اگر تو نے معاف کردیا) ۔ تشریح : یہ سوالات قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جب کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔ یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–120

قیامت کی عدالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت یہاں سے آخر تک نصاریٰ کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور کگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو۔ ان کے آسمان پر چلے جانے کے بعد شرک وغیرہ کی باتیں جو نصاریٰ نے اپنے دین کے اندر پھیلائیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو دنیا میں اسی قسم کی خرابیاں رفع کرنے کو بھیجا اور نبی آخر الزماں ﷺ نے نصاریٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 114–118

[63] یعنی اپنے تہوار کا دن۔ عید اس خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 117–120

میسح کی تعلیم : (ف 1) ان آیات میں قیامت کا ذکر ہے مسیح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا ، کیا تم نے کہا تھا کہ مجھے اور میری مان کو خدا مانو ، آپ فرمائیں گے ، اللہ مجھے کیونکر اختیار ہے کہ باطل کی تلقین کروں ، میں نے تو ان کو ہمیشہ توحید ہی کی طرف بلایا ہے ، اور میں جب تک ان میں رہا ، اسی کی دعوت دی جب تونے مجھے اٹھا لیا ، اس وقت تو نگہبان تھا ، اور تو سب کچھ جانتا ہے ۔ یہاں تک معذرت ہے اس کے سفارش ہے کیونکہ مسیح (علیہ السلام) خوب جانتے ہیں کہ میرے آسمان پر جانے کے بعد لوگوں میں غلط کے عقائد رائج ہوگئے تھے ، فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اگر انہیں سزا دے تو تیرے بندے ہی تو ہیں ، اور بخشدے تو کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-117 میں نے تو ان لوگوں سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے ان سے کہنے کا حکم دیا تھا اور وہ یہی کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں جب تک ان میں رہا ان کے احوال اور ان کے حالات سے باخبر رہا اور ان کی حالت پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھ کو ان میں سے اٹھا لیا تو تو ہی ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور ان پر نگراں حال تھا اور تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز سے باخبر ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 116–120

ف 2۔ یعنی قیامت میں۔ 3۔ نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحد ہوں اور نہ باعتبار واقع کے کہ آپ واحد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میں نے ان کو یعنی بنی اسرائیل کو وہی کچھ کہا جو کچھ کہنے کا تو نے مجھے حکم دیا : 266: سبحان اللہ ! کیا شان ہے بارگاہ خداوندی میں ادب و تعظیم کی اور اللہ کے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) کی کسر نفسی کی۔ عرض کرتے ہیں میرے خدا ! میں نے تو انہیں وہی کچھ کہا جس کے کہنے کا تو نے مجھے حکم فرمایا۔ میں نے تو انہیں صاف صاف اور باربار کہا تھا کہ تم صرف رب العزت کی عبادت کرو جو میرا بھی مالک و پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ تو احکم الحاکمین ہے اب تو ہی بتا کہ تو نے مجھے یہی کچھ کہنے کا حکم نہیں دیا تھا ؟ موجودہ انجیلیں بھی باوجود اپنے تثلیثی شرک کے جو ان کے شارحین نے ان میں بھر دیا اس توحید تعلیم کو مٹا نہ سکیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–117

Commentary Important Notes 1. In the first verse (116), the question asked and the answer given by Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) establishes that Allah alone has the full knowledge of everything, therefore, He is not asking Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) because He does not know. In fact, the purpose is to admonish his people who call them Christians that the one they are taking to be god is himself confessing to his servitude quite contrary to the belief they hold - and that he is free of all their accusations. (Ibn Kathir) 2. About the sentence: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّ‌قِيبَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–120

130. The Christians were not content merely with deifying Jesus and the Holy Spirit. They even turned Mary, the mother of Jesus, into a full-fledged object of worship. The Bible does not contain even the remotest suggestion that Mary was in any way either divine or superhuman. During the first three centuries after the Messiah, such a concept was totally alien to Christian thinking. Towards the end of the third century of the Christian era, however, some theologians of Alexandria employed, for the first time, the expression 'Mother of God' in connection with Mary. Subsequently, belief in…

Read the full tafseer →