Explained with ayahs 116–118
روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی
جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
سورة الْمَآىِٕدَة 130
عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ”مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ (قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ سے کفار نصاریٰ کے سنانے کے لئے) فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ابن مریم (ان لوگوں میں جن کا عقیدہ تثلیث کا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو شریک الوہیت مانتے تھے تو) کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو (یعنی عیسیٰ ؑ کو) اور میری ماں (حضرت مریم علیہما السلام) کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے دو تو عیسیٰ ؑ عرض کریں گے کہ (توبہ توبہ) میں تو (خود اپنے عقیدہ میں) آپ کو (شریک سے) منزّہ سمجھتا ہوں (جیسا کہ آپ واقع میں بھی منزّہ (پاک) ہیں ایسی حالت میں) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
تفسیر آیات 116 تا 118:۔ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِيْ بِهٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي…
Read the full tafseer →116۔ 1 یہ سوال قیامت والے دن ہوگا اور مقصد اس سے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنالینے والوں کی زجر و توبیخ ہے کہ جن کو تم معبود اور حاجت روا سمجھتے تھے، وہ تو اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح ؑ کے ساتھ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی اللہ (معبود) بنالیا ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ من دون اللہ اللہ کے سوا معبود وہی نہیں ہیں جنہیں مشرکین نے پتھر یا لکڑی کی مورتیوں کی شکل میں بنا کر ان کی پوجا کی جس طرح کہ آج کل کے قبر پرست علماء اپنے عوام کو یہ باور کرا کے مغالطہ دیتے ہیں بلکہ وہ اللہ کے نزدیک بندے بھی من دون اللہ میں شامل ہیں جن کی لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
79: عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم ؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔
اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔
یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا…
Read the full tafseer →5 پچھلا رکوع حقیقت میں اس رکوع کی تمہید تھی۔ پچھلے رکوع کی ابتدا میں ( يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ) 5 ۔ المائدہ :109) فرما کر آگاہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تمام مرسلین سے ان کی امتوں کے مواجہ میں علی رؤس الاشہاد سوال و جواب ہوں گے پھر ان میں سے خاص حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جن کو کروڑوں آدمیوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے کہ ان سے بالخصوص اس عقیدہ باطلہ کی نسبت دریافت کیا جائے گا لیکن اول وہ عظیم الشان احسانات اور ممتاز انعامات یاد دلائیں گے جو ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ پر فائض…
Read the full tafseer →اب یہ اس پیشی کا آخری منظر ہے اور اس کا انداز بہت سخت ہے۔
Read the full tafseer →166 مریم کی خدائی کی آغاز کب ہوا ؟ سیدہ مریم کو خدائی مقام عطا کرنا اور اس کی پوجا پاٹ کا عقیدہ، عقیدہ تثلیث سے بھی بعد کی پیداوار ہے۔ عقیدہ تثلیث میں خدا یہ تھے۔ اللہ، عیسیٰ اور روح القدس اور یہ عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں سرکاری طور پر رائج ہوا۔ جبکہ سیدہ مریم کے خدا ہونے کا عقیدہ پانچویں صدی عیسوی کی ایجاد ہے۔ سیدہ مریم کو مادر خدا ہونے کے لقب سے نوازا گیا اور یہ عقیدہ اتنا عام ہوا کہ پہلے تین خداؤں پر چھا گیا۔ سیدہ مریم کو دیوی کا درجہ دے کر ان کے مجسمے اور تصویریں بنائی گئیں جو آج تک عیسائیوں کے گرجوں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور عیسائی حضرات اس کے آگے سر نیاز خم کرتے ہیں۔ عیسائی حکومتوں کے…
Read the full tafseer →351 ۔ (قیامت کے دن) قال قتادۃ وابن جریج و اکثر المفسرین انما یقول لہ ھذا یوم القیامۃ (قرطبی) الجمھور علی ان ھذا السؤال یکون فی یوم القیامۃ (مدارک) قال سائر المفسرین انما یقول اللہ لہ ھذا القول یوم القیامۃ (معالم)
352 ۔ مسیح پرستی تو خیر موجودہ مسیحیت کے مرادف ہی ہے۔ لیکن مریم پرستی بھی مسیحی دنیا کا کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں، دعائیں اس ” خدائی کنواری “ کو مخاطب کرکے کی جاتی ہیں، نذریں نیازیں ان کے نام پر کی جاتی ہیں۔ کیتھولک گرجاؤں میں قد آدم تصویریں ان کی لگی ہوتی ہیں جن کے آگے مراسم پرستش بجالائے جاتے ہیں۔ مریم پرستی پر مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ سوال سے مقصود ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
آیت نمبر 116 تا 120
ترجمہ : اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی قوم کو سرزنش کرنے کیلئے فرمائیگا، کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نپتے ہوئے عرض کریں گے آپ تو ہر اس چیز (یعنی) شریک وغیرہ سے پاک ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں، اور میرے لئے کسی طرح ایسی بات کہنا لائق نہیں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں (بحق) لیس کی خبر ہے اور (لی) تبیین کیلئے (زائد) ہے اگر میں نے (یہ بات) کہی ہوگی تو آپ کو اس کا علم ہوگا اس لئے کہ تو تو میرے دل…
Read the full tafseer →واذا قال اللہ اور جب اللہ نے فرمایا۔ یا۔ فرمائے گا۔ سدی نے کہا جب اللہ نے عیسیٰ کو آسمان کی طرف اٹھایا تو اس وقت یہ بات فرمائی تھی کیونکہ قالماضی کا صیغہ ہے اور لفظ اذ کی وضع بھی ماضی ہی کے لئے ہے (اس قول پر اوّل ترجمہ صحیح ہوگا) باقی اہل تفسیر کا قول ہے کہ اللہ یہ بات قیامت کے دن فرمائے گا (اس تشریح پر دوسرا ترجمہ صحیح ہوگا جمہور کا ترجمہ یہی ہے) اس کلام کی غرض کافروں کو تنبیہ و سرزنش کرنا ہے۔ دیکھو اللہ نے فرمایا (یوم یجمع اللہ الرسل) دوسری آیت میں آیا ہے (ہذا یوم وینفع الصادقین صدقہم) ان دونوں آیتوں میں روز قیامت مراد ہے رہا اذکا ماضی کے لئے وضع ہونا اور صیغۂ ماضی کا ذکر ہونا تو اگر مستقبل…
Read the full tafseer →(116) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے کفار نصاری کو سنانے کے لیے یہ فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ؑ کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود بنا لو تو حضرت عیسیٰ ؑ بارگاہ الہی میں عرض کریں گے کہ میں تو شرک سے اپنے آپ کو پاک سمجھتا ہوں میرے لیے تو کسی بھی صورت میں یہ مناسب نہیں تھا کہ میں شرک کی ایسی بات کہتا۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔۔ : اس کا تعلق اوپر کی آیت : (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ) کے ساتھ ہے، گویا پہلے بطور تمہید عیسیٰ ؑ پر اپنے انعامات شمار کیے اور اب اصل مقصد شروع ہو رہا ہے۔ یہ سوال قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ آگے چل کر آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ) اس خطاب سے مقصود عیسیٰ ؑ کو ڈانٹنا نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ڈانٹنا مقصود ہوگا جنھوں نے مسیح ؑ اور ان کی والدہ کو معبود بنا لیا۔ تاکہ وہ جان لیں کہ انھوں نے جس مسیح اور اس کی ماں کو معبود اور حاجت روا بنایا وہ تو خود اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 116
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) واذقال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت لناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ۔ اس گفتگو کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے۔ قتادہ، ابن جریح اور اکثر مفسرین نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قیامت کے روز فرمائیں گے۔ سدی اور قطرب نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمایا جب انہیں آسمان کی طرف اٹھایا اور نصاری نے آپ کے متعلق کہا جو کچھ کہا، ان علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے (آیت) ان تعذبھم فانھم عبادک اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ کیونکہ اذ کلام عرب میں ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلاقول اصح ہے اس پر دلیل ماقبل کلام ہے (آیت) یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
(1) امام ترمذی نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر القاء کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ قول نازل فرمایا کہ لفظ آیت واذ قال اللہ عیسیٰ ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ آیت القاء کی یعنی لفظ آیت سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (ساری آیت)
(2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم سے فرمایا لفظ…
Read the full tafseer →وَاِذْ [ اور جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اللہ نے اے عیسیٰ ابن مریم ] ءَ [ کیا ] اَنْتَ [ آپ نے ] قُلْتَ [ کہا تھا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں سے ] اتَّخِذُوْنِيْ [ تم لوگ بنا لو مجھ کو ] وَاُمِّيَ [ اور میری والدہ کو ] اِلٰــهَيْنِ [ دوالہ ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] سُبْحٰنَكَ [ تیری پاکیزگی ہے ] مَا يَكُوْنُ [ نہیں تھا ] لِيْٓ [ میرے لئے ] اَنْ [ کہ ] اَقُوْلَ [ میں کہوں ] مَا [ اس کو ] لَيْسَ [ نہیں ہے جس کا ] لِيْ ۤ [ مجھے ] بِحَقٍّ ڲ [ کوئی حق ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُ قُلْتُهٗ [ میں نے کہا ہوتا اسے ] فَقَدْ [ تو یقینا ] عَلِمْتَهٗ ۭ […
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ جل شانہ کا دوسرا خطاب
قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو اللہ جل شانہ کا سوال ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی سوال ہے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو۔ یہ سوال قیامت کے دن اس وقت ہوگا جبکہ میدان قیامت میں اولین و آخرین سب جمع ہوں گے۔
نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے کے مدعی ہیں ان کے سامنے سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے اپنے کو اور اپنی والدہ کو معبود بنانے کی دعوت تھی اور تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنالو۔ وہ برملا سب کے سامنے جواب دیں گے کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
ذکر مخاطبت رب العزت باعیسی (علیہ السلام) دریوم قیامت برائے تنبیہ نصاری حیاری بربطلان عقیدہ الوہیت۔
قال اللہ تعالی، واذ قال اللہ یعیسی بن مریم۔۔ الی۔۔۔ انت العزیز الحکیم۔
ربط) ۔ اوپر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ چلا آرہا ہے اور یہ اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت میں ہوگی اولا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو بلا کر اپنے وہ عظیم الشان انعامات و احسانات یاد دلائیں گے جو ان پر اور ان کی والدہ پر مبذول ہوئے بعد ازاں نصاری کے عقیدہ باطلہ یعنی عقیدہ الوہیت مریم کے متعلق دریافت کیا جائے گا جس سے مقصودیہ بتلانا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمیشہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور شرک سے…
Read the full tafseer →181 یہ بعد عہد کی وجہ سے پہلے وَاِذْ قَالَ کا اعادہ ہے اور ظرف کا متعلق قَالَ مؤخر ہے یعنی قَالَ سُبْحٰنَکَ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے انعامات گنوا کر ان سے اصل سوال پوچھے گا۔ ءَ اَنْتَ قُلْتَ الخ یعنی تیرے بعد تیری امت نے تجھ کو اور تیری والدہ کو معبود بنا لیا تھا وہ تم دونوں کو غیب دان اور کارساز سمجھ کر حاجات میں غائبانہ پکارتے اور تمہارے نام کی نذریں منتیں دیتے تھے کیا تو ہی نے ان انعامات کے ہوتے ہوئے ان کو یہ تعلیم دی تھی کہ تم مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود اور کارساز بنا لینا اور حاجات میں پکارنا۔
182 یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے سوال مذکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ربط آیات
گزشتہ رکوع قیامت کے دن محاسبے کے عمل کی تمہید پر مشتمل تھا ، اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا ، تو تمام انبیاء اور رسل عاجزی کا اظہار کریں گے۔ پھر مثال کے طور پر مسیح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو دراصل ان کو معبود ماننے والوں کے لئے سخت ڈانٹ ہے کہ جب قیامت کو محاسبے کا وقت آئیلا تو مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ماننے والے ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اسی دنیا میں اپنے عقیدہ کی درستگی کرلیں اور مسیح (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہہ کر شرک میں مبتلا نہ ہوں۔
اسی سابقہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــہَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ 0ۤ بِحَقٍّ 0ۭ۬ اِنْ كُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ 0ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ 0ۭ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 116
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ترکیب : اذقال اس کا عامل اذکر ہے۔ اتخذونی بمعنی صیرونی ہو کر دو مفعول چاہتا ہے اول ی اور امی دوم الٰہین من دون اللہ اس کی صفت ان اقول فاعل یکون لی خبر۔
تفسیر : یہ وہ کلام ہے کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) سے قیامت کے روز کیا جاوے گا جس پر وہ عاجزی سے کہیں گے کہ میں ہرگز ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں نے تو خاص تیری ہی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا اور اپنی زندگی بھر یہی کہتا رہا۔ پھر میرے بعد کی تجھے خبر ہے۔ اب آپ کو اختیار ہے اگر عذاب کرے تو تیرے بندے ہیں اور معاف کرے تو تو بڑا حکیم ‘ زبردست ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ آج کے دن سچوں کا سچ کام آوے گا کہ ان کے لئے روحانی اور جسمانی جاودانی بہشت ملے گی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَاِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَاَنْتَ قُلْتَ لِنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ق بِحَقٍّ طصہ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلآَ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ج وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدُٗ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے سامنے بڑے جلال کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کرے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے عیسائیوں کو یہ تبلیغ کی تھی کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھر تھرکانپتے ہوئے ہونٹوں اور لڑکھڑاتی زبان سے اپنے رب کے حضور التجا کریں گے کہ اے رب ذوالجلال والاکرام میں وہ بات کہنے کی کس طرح جرأت کرسکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے اختیار نہ تھا۔ الٰہی اگر میں نے یہ بات ان لوگوں کو کہی ہوتی میرے الفاظ اور میرے دل کی حالت کو آپ جانتے ہیں جس…
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے خصوصی سوال :
آیت 116 : وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ (اور جب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں کو کہا کہ وہ تمہیں اور تمہاری ماں کو اللہ کے سواء دو معبود بنالیں) جمہور اس بات پر ہیں کہ یہ سوال عیسیٰ ( علیہ السلام) سے قیامت کے دن ہوگا۔ اس کی دلیل آیت کا سیاق وسباق ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان کو اس وقت کیا گیا۔ جب ان کو آسمان پر اٹھایا گیا اس کی دلیل اِذْہے۔ قَالَ سُبْحٰنَکَتو پاک ہے اس بات سے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ مَایَکُوْنُ لِیْٓ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 116
تفسیر : (واذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ)
اذقال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم والا قول کب ہوا
مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ قول کب ہوگا ؟ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھایا اس وقت یہ کہا کیونکہ ” اذ “ ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور تمام مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہیں گے کیونکہ آگے اللہ تعالیٰ نے کہا ( یوم یجمع اللہ الرسل) اور اس کے بعد کہا ( یوم ینفع الصادقین) تو ان دو سے بالاتفاق قیامت کا دن مراد ہے تو یہاں بھی ایسے ہے اور ” اذ “ کھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
(116 ۔ 120) ۔ یہاں سے آخر سوہ تک اللہ تعالیٰ نے نصاری کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور نگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو ان کے آسمان پر چلے جان کے بعد تثلث اور شرک کی باتیں جو نصارٰی نے اپنے دین میں پھیلالیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو دنیا میں اس قسم کی خرابیاں رفع کرنے کی غرض سے بھیجا اور نبی آخر الزمان نے نصاریٰ کے علماء اور بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →307 بلاغت کلام کا ایک خاص اسلوب : یعنی " قال " ماضی کا صیغہ " یقول " ۔ مستقبل ۔ کے معنیٰ میں ہے۔ اور تحقق وقوع کے لئے اس کو ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جو کہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے۔ یعنی یہ امر اتنا یقینی اور اس قدر پختہ ہے کہ گویا کہ یہ ہوچکا ہے۔ اور ماضی کو مستقبل کے معنیٰ میں استعمال کرنا اور ماضی بول کر مستقبل مراد لینا بلاغت کلام کا ایک عام اور معروف اسلوب ہے جو دنیا کی ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے۔ اور خود ہمارے روز مرہ کے محاورے میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ بہرکیف مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کا ماضی کے صیغے سے ذکر کرنا ان کی قطعیت اور یقینی حیثیت کے اظہار وبیان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی گواہی، اللہ سے رحم کی درخواست
تشریح : اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان اور جو بھی بات چیت ہوگی وہ صرف اس لیے بیان کی جا رہی ہے کہ عیسائیوں نے جو بھی غلط عقائد بنا رکھے ہیں ان پر ان کو آگاہ کر کے ٹھیک واقعات اور حالات سے واقف کیا جائے پھر جب بھی مخاطب کیا گیا تو ان کے اصلی نام سے یعنی عیسیٰ بن مریم کہا گیا تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ عیسیٰ ایک انسان تھے اور ان کی ولادت انسانوں کی طرح ہوئی ان کی والدہ بھی ایک انسان ہی تھیں یہ سب اللہ کے پیدا کئے ہوئے بھلا اللہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اللہ تعالیٰ کا علیم وخبیر اور عظیم و حکیم ہونے کا ثبوت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 116 تا 120 ۔
اسرارو معارف :
پھر اسی بھرے میدان میں سوال ہوگا اے عیسیٰ ! کیا آپ نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی اللہ کے علاوہ دو الہ مان لیں ، یعنی جو کچھ ہم دین سمجھ کر کرتے ہیں اس پر انبیاء کی شہادت ہوگی اگر انہوں نے ذمہ داری قبول فرمائی کہ ان کا یہ فعل میری کسی ہدایت کے مطابق تھا یا کسی حکم کی تائید کرا تھا۔ جیسے آپ ﷺ کے زمانے میں نہ دینی مدارس تھے نہ نصاب نہ یہ موجودہ کتب حدیثیں لوگوں کے پاس متفرق تھیں کسی کے پاس لکھی ہوئی اور اکثر زبانی مگر پڑھنے پڑھانے علم حاصل کرنے کا حکم موجود ہے اب ان کتب یا مدارس میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو…
Read the full tafseer →ف 5 اس کا تعلق اوپر کی آیت واذقال اللہ یعیسی ابن مریم 1) کے ساتھ ہے گویا پہلے طور پر تمہید حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اپنے انعامات شمار کئے ہیں اور اب اصل مقصد شروع ہوا ہے یہ مخاطبہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھانے کے بعد یہ مکالمہ ہوچکا ہے مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ ابتدا میں آیت کہ ما یحبع اللہ الرسول اور اخر میں ھذا یوم ینفع الصاد قین صدقھم سے جن سے تینا قیامت کا دن مراد ہے۔ ، ( کبیر، قرطبی) اس غرض بھی نصاریٰ کو تو بیح ہے، ( ابن کثیر )
6 تیرا کوئی شریک نہیں پھر بھلا میں اور عمیری وعدہ تیرے شریک کیسے ہوسکتے ہیں۔7 یعنی میں تو تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
(5:112) ہل یستطیع ربک۔ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ یستطیع مضارع واحد مذکر غائب استنطاع استفعال مصدر۔ حواری تو قبل ازیں دل میں مسلمان ہوچکے تھے اس لئے ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ کسی شک پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ کلام ما بعد وتطمئن قلوبنا سے واضح ہے۔ محض مزید اطمینان قلب اور تقویت ایمان کی خاطر انہوں نے مائدہ طلب کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ رب ارنی کیف تحی الموتی اور خدا تعالیٰ کے ارشاد اولم نؤمن پر فرمایا تھا۔ بلی ولکن لیطمئن قلبی (2:260) لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے۔
مائدۃ۔ کھانا جو دستر خوان پر چنا ہوا ہو۔ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
آیت نمبر 116 تا 118
لغات القرآن : ءانت (کیا تو نے) ۔ قلت (تو نے کہا تھا) ۔ اتخذونی (مجھے بنا لو) ۔ امی (میری ماں) ۔ الھین (دونوں معبود ) ۔ سبحنک (تیری ذات پاک ہے۔ بےعیب ہے) ۔ مایکون (نہیں ہے) ۔ لیس (نہیں ہے) ۔ لا اعلم (میں نہیں جانتا) ۔ امرتنی (تو نے مجھے حکم دیا تھا) ۔ مادمت (جب تک میں رہا) ۔ حی (زندہ) ۔ فلما (پھر جب) ۔ توفیت (تو نے اٹھالیا) ۔ الرقیب (نگران، نگہبان) ۔ ان تعذب (اگر تو نے عذاب دیا) ۔ عبادک (تیرے بندے) ۔ ان تغفر (اگر تو نے معاف کردیا) ۔
تشریح : یہ سوالات قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جب کہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔ یہ سوال و جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
قیامت کی عدالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت
یہاں سے آخر تک نصاریٰ کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور کگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو۔ ان کے آسمان پر چلے جانے کے بعد شرک وغیرہ کی باتیں جو نصاریٰ نے اپنے دین کے اندر پھیلائیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو دنیا میں اسی قسم کی خرابیاں رفع کرنے کو بھیجا اور نبی آخر الزماں ﷺ نے نصاریٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[63] یعنی اپنے تہوار کا دن۔ عید اس خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
مائدہ :
(ف 2) معجزہ طلبی کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوراق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوارق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر یہ ذہنیت اسے پسند نہیں کہ بات بات پر معجزہ طلب کیا جائے ، اسی لئے جب ان لوگوں نے مائدہ کے نزول کی خواہش کی تو (آیت) ” اتقوا اللہ “ کی تلقین کی گئی یعنی راسخ العقیدہ انسانوں کے لئے زیبا نہیں کہ عجائب پسندی اور کرشمہ آرائی کو مذہب کا احصل قرار دے لیں ،
نزول مائدہ کے لئے مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی ،…
Read the full tafseer →-116 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم سے فرمائے گا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے ان لوگوں یعنی نصاریٰ سے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مجھ کو اور میری ماں کو دوم عبود قرار دو یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دو معبود اور بنائو اور دو خدا اور تسلیم کرو اور مجھ کو اور ایک میری ماں کو نصاریٰ کو یہ عقیدہ تو نے تعلیم کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے اے خدا میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں بھلا میں ایسی بات کس طرح کہہ سکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ۔ مجھے ہرگز یہ زیبا نہیں کہ میں کوئی ایسی بات زبان سے نکالوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ ہو اگر میں نے کوئی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
ف 2۔ یعنی قیامت میں۔
3۔ نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحد ہوں اور نہ باعتبار واقع کے کہ آپ واحد ہیں۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) سے جو سوال و جواب کا سلسلہ چل رہا تھا اس کا بقیہ حصہ :
263: آیت 109 سے سلسلہ سوال و جواب جو چل رہا تھا جس کا تعلق ” جمع ہونے کے دن “ سے تھا یعنی قیامت کے دن سے اور اس سوال کا تعلق بھی اس مقام سے ہے اور یہی قول مفسرین کا بھی ہے یعنی یہ سوال و جواب بھی قیامت کے روز ہوگا۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی تھی کہ سوال ہمشہ اس لئے نہیں کیا جاتا کہ سائل کو اس چیز کا علم نہیں اور وہ اس سوال سے ایک غیر معلوم چیز کو جاننا چاہتا ہے بلکہ سوال دوسرے فوائد کیلئے بھی ہوتا ہے۔ اس جگہ بھی اس استفسار سے مقصود یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان کروڑوں آدمیوں کو اپنی فحش غلطی پر آگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
Commentary
Important Notes
1. In the first verse (116), the question asked and the answer given by Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) establishes that Allah alone has the full knowledge of everything, therefore, He is not asking Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) because He does not know. In fact, the purpose is to admonish his people who call them Christians that the one they are taking to be god is himself confessing to his servitude quite contrary to the belief they hold - and that he is free of all their accusations. (Ibn Kathir)
2. About the sentence: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
130. The Christians were not content merely with deifying Jesus and the Holy Spirit. They even turned Mary, the mother of Jesus, into a full-fledged object of worship. The Bible does not contain even the remotest suggestion that Mary was in any way either divine or superhuman. During the first three centuries after the Messiah, such a concept was totally alien to Christian thinking. Towards the end of the third century of the Christian era, however, some theologians of Alexandria employed, for the first time, the expression 'Mother of God' in connection with Mary. Subsequently, belief in…
Read the full tafseer →