Explained with ayahs 119–120
موحدین کے لیے خوش خبریاں
حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہوگا، فی الواقع رب کی رضامندی زبر دست چیز ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضامندی کا اظہار کرے گا، پھر فرماتا ہے یہ ایسی بےمثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی، جیسے اور جگہ ہے اسی کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
سورة الْمَآىِٕدَة 130
عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ”مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
ربط آیات
اوپر دونوں رکوع میں قیامت کے دن اعمال و احوال کا حساب و کتاب اور سوال و جواب کا ذکر ہے، اب آگے اس تفتیش و محاسبہ کا نتیجہ ذکر کیا جاتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
(ان تمام مکالمات مذکورہ کے بعد) اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ یہ (قیامت کا دن) وہ دن ہے کہ جو لوگ (دنیا میں باعتبار عقائد و اعمال اور اقوال کے) سچے تھے (کہ وہ سچا ہونا اب ظاہر ہو رہا ہے، جن میں انبیاء جن سے خطاب ہو رہا ہے اور مومنین جن کے ایمان کی انبیاء و ملائکہ سب شہادت دیں گے، سب داخل ہیں، اور اس میں اشارہ تصدیق رسل و تصدیق عیسیٰ ؑ کی طرف بھی ان مخاطبات میں ہوگیا، غرض یہ سب حضرات جو دنیا میں سچے تھے) ان کا سچا ہونا (آج) ان کے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
تفسیر آیات 119 تا 120:۔ قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْهِنَّ ۭ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
" صدق " کے لفظ پر ہم آل عمران آیات 17 کی تفسیر میں بحث کرچکے ہیں۔ یہاں " صادقین " سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اپنے قول وقرار اور عہد و میثاق میں پورے راست باز ثابت ہوئے، اس میں انہوں نے کوئی تبدیلی اور تحریف نہیں کی، زندگی کے تمام نشیب و فراز میں عزم و جزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
119۔ 1 حضرت ابن عباس ؓ نے اس کے معنی یہ بیان فرمائے ہیں، وہ دن ایسا ہوگا کہ صرف توحید ہی موحدین کو نفع پہنچائے گی، یعنی مشرکین کی معافی اور مغفرت کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
79: عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم ؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 119۔
” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے “ یہ اللہ کی بات ہے اور جھوٹوں کی اس شرمندگی پر یہ خوب تصرہ ہے ۔ انہوں نے یہ افتراء باندھا اور یہ افتراء بھی اولوا لعزم رسولوں میں ایک معزز رسول پر باندھا ۔ اور مسئلہ الوہیت اور بندگی میں یہ افتراء باندھا جس کی اساس پر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس کی اساس پر دنیا میں سچائی قائم ہے اور تمام مخلوقات قائم ہے ۔
” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کیلئے ان کی سچائی مفید ہوگی ۔ “ اس عظیم منظر اور شاہی دربار کے سوال و جواب کے آخر میں یہ رب العالمین کا فیصلہ ہے ۔ تمام جہان کے لوگوں کی موجودگی میں اس منظر کے مکالے کے یہ آخری الفاظ ہیں اور…
Read the full tafseer →3 جو لوگ اعتقاداً اور قولاً و عملاً سچے رہے ہیں (جیسے حضرت مسیح علیہ السلام) ان کی سچائی کا پھل آج ملے گا۔
4 بڑی کامیابی حق تعالیٰ کی رضاء ہے اور جنت بھی اسی لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضائے الہٰی ہے۔
Read the full tafseer →رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
یہ ہے باہمی رضا مندی کا آخری مقام ‘ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
Read the full tafseer →170 سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے :۔ اللہ تعالیٰ جواب فرمائیں گے آج عدل و انصاف کا دن ہے آج تو سچ اور سچی بات ہی کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور سب سے سچی بات کلمہ توحید ہے یعنی جن لوگوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھا ہو پھر زندگی بھر راست بازی کے ساتھ اس پر قائم رہے ہوں۔ انہی کی نجات ہوسکتی ہے۔ انہیں ہی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اور طرح طرح کے انعامات سے نوازا جائے گا۔ ایسے لوگوں سے اللہ راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ اور چونکہ مقام رضائے الٰہی جنت ہی ہے۔ یہ انہیں بہرحال حاصل ہوجائے گی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →360 ۔ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد اوپر کے سب مکالمات ومخاطبات کے بعد ہوگا۔ (آیت) ” صدقین “۔ وہ ہیں جو دنیا میں عقائد صحیحہ و اعمال پر قائم رہے ہوں۔ المعنی ان صدقھم فی الدنیا ینفعھم فی القیامۃ (کبیر) اس کے تحت میں انبیاء کے علاوہ عام مومنین بھی داخل ہیں۔
361 ۔ (آیت) ” یہ بڑی کامیابی یا فوز عظیم کس چیز کو کہا گیا ہے ! جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اشارہ پوری آیت کی جانب، یعنی نعمت جنت اور نعمت رضوان الہی سب کی جانب ہے۔ الجمھور علی ان قولہ ذلک عائد الی جملۃ ما تقدم من قولہ لھم جنات الی قولہ ورضواعنہ (کبیر) لیکن امام رازی (رح) نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ (آیت) ” الفوز العظیم “۔ کا تعلق صرف رضوان الہی سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
اِن تعذبھم فاِنّھُم عبادک
مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے اسلئے کہ تو فَعَّال لِّما یُرید بھی ہے، اور تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ” لایُسئلُ عما یفعلُ وھم یسئلون “ اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہوگی، لوگوں سے ان کے کاموں کی باز پرس ہوگی، گویا آیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کی عاجزی و بےبسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی، پھر ان دونوں باتوں کے حوالہ سے عفو و مغفرت کی التجا بھی سبحان اللہ ! کسی عجیب وبلیغ آیت ہے، اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ ایک رات نبی ﷺ پر نوافل میں اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسی…
Read the full tafseer →قال اللہ ہذا یوم ینفع الصدقین صدقہم اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ رساں ہوگی یوم یا منصوب ہے خواہ اس کو قال کا مفعول فیہ قرار دیا جائے یعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) کا یہ کلام قیامت کے دن ہوگا خواہ ہذا کو مبتدا اور اس کی خبر کو محذوف قرار دیا جائے یعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) نے جو کچھ کہا وہ حق ہے اللہ یہ بات قیامت کے دن فرمائے گا اس صورت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قول کی تصدیق اور امت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے مزید سرزنش ہوگی۔ خواہ یوں کہا جائے کہ ہذا مبتدا ہے اور یوم حقیقت میں خبر مرفوع تھا مگر چونکہ اس کی اضافت مبنی کی طرف ہے اس لئے فتح پر مبنی ہوگیا۔ اس پر…
Read the full tafseer →(119) اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ وہ دن ہے کہ مومنوں کا ان کا ایمان اور مبلغوں کو ان کی تبلیغ اور وعدوں میں سچے رہنے والوں کو ان کی سچائی کام آئے گی، ان حضرات کے لیے ایسے باغات ہوں گے جہاں درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ہیں اور یہ اس قدر ثواب و انعامات اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہیں۔
یہ خلود فی الجنت (جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا) اور رضوان بہت بڑی کامیابی ہے کہ جنت مل گئی اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ ہوگئے ،
Read the full tafseer →قَال اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ: سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور کفر کرنا ہے اور سب سے بڑا سچ اور انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ یعنی مشرکین کی معافی اور بخشش کی کوئی صورت نہ ہوگی، البتہ توحید والوں کو ان کی توحید ضرور نفع پہنچائے گی، خواہ کتنے گناہ گار ہوں۔ چناچہ ابوذر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ صبح تک اس آیت کو نماز میں پڑھتے رہے : (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
آیت نمبر 119 و 120
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم یعنی دنیا میں جو ان کا صدق تھا، رہا آخرت میں تو اس میں صدق نفع نہیں دے گا۔ دنیا میں صدق، اس میں احتمال ہے کہ عمل میں اللہ کے لیے صدق ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے بارے کذب اور جھوٹ کو ترک کیا۔ اس دن میں انہیں صدق نفع دے گا اگرچہ صدق ہر دن نفع دیتا ہے، یہ اس لیے فرمایا : کیونکہ اس میں جزا کا وقوع ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد آخرت میں ان کا صدق ہے۔ یہ انبیاء کرام کی شہادت دینا ہے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۔ اور جو اپنے نفسوں پر اعمال کی صحیح صحیح گواہی دیں گے، اس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم سے مراد ہے کہ اس دن موحدین کو ان کی توحید نفع دے گی۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم یعنی یہ فیصلہ ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کی گزارش کا۔ اور یہ قیامت کے دن کا ہوگا۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ کلام کرنے والے قیامت کے دن کلام کریں گے اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے دشمن ابلیس۔ وہ کہیں گے۔ لفظ آیت ان اللہ وعدکم وعد الحق (سے لے کر) لفظ آیت الا ان دعوتکم فاستجبتم لی…
Read the full tafseer →قَالَ اللّٰهُ [ کہا اللہ نے ] هٰذَا [ یہ ] يَوْمُ [ دن ہے ] يَنْفَعُ [ (کہ ) نفع دے گا ] الصّٰدِقِيْنَ [ سچوں کو ] صِدْقُهُمْ ۭ [ ان کا سچ ] لَهُمْ [ انہی کے لیے ہے ] جَنّٰتٌ [ ایسے باغات ہیں ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے دامن سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] فِيْهَآ [ اس میں ] اَبَدًا ۭ [ ہمیشہ ] رَضِيَ [ راضی ہوا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَنْهُمْ [ ان سے ] وَرَضُوْا [ اور وہ راضی ہوئے ] عَنْهُ ۭ [ اس سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ عظیم کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →قیامت کے دن سچائی نفع دیگی
(قَال اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی جو حضرات صادق فی الا ایمان صادق فی الاعمال، صادق فی الاخبار تھے جن میں حضرات انبیاء (علیہ السلام) اور ان میں سے ہر ایک کی امت اجابت ہوگی۔ ان کا سچ ان کو نفع دے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ (لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) (ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی، ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے) (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ) (اللہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
نتیجہ مخاطبات ومحاسبات مذکورہ۔
قال اللہ تعالی، ھذا یوم ینفع الصادقین۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں قیامت کے دن اعمال وحوال کی تفتیش اور محاسبہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس تفتیش اور محاسبہ کا ذکر کرتے ہیں کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) جواب سے فارغ ہوجائیں گے اور نصارائے کاذبین سے اظہار تبری اور بیزاری کے بعد جب ان کا معاملہ اور فیصلہ اللہ کے ارادہ اور مشیت کے سپرد کردیں گے تو اس وقت اللہ یہ فرمائیں گے یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا سچوں سے مراد انبیاء کرام اور انکے متبعین ہیں یعنی جو لوگ دنیا میں عقائد اور اعمال کے اعتبار سے سچے تھے آج قیامت کے دن ان کا صدق ان کو نفع سے گا اور…
Read the full tafseer →185 یہ ایمان والوں، توحید کو ماننے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
ربط آیات
قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کا ذکر ہو رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ محاسبہ کرتے ہوئے پوچھے گا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا اللہ کے علاوہ ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) بیزاری کا اظہار کریں گے اور عرض کریں گے۔ اے پروردگار ! تیری ذات پاک ہے۔ میرے لائق یہ ہرگز نہیں کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ اور اگر بالفرض میں نے ایسی بات کی ہوگی تو تیرے علم میں ہے کیونکہ تو میرے دل کی بات کو جانتا ہے مگر میں تیرے دل کی بات کو نہیں جانتا۔ نیز یہ بھی کہ تمام پوشیدہ باتوں کو تو ہی جانتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →قَالَ اللہُ ہٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُہُمْ 0ۭ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا 0ۭ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ 0ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 119
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
2 ؎ تجھے کوئی منع نہیں کرسکتا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ اللہ ُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ط لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاط رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہٗ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔
(المائدہ : 119)
” اللہ فرمائے گا : آج سچوں کو ‘ ان کی سچائی کے نفع پہنچانے کا دن ہے۔ ان کے لیے باغ ہوں گے ‘ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ‘ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘ یہی بڑی کامیابی ہے “۔
مطلب یہ ہے کہ آج کا دن تو راست بازوں کی فتح مندیوں اور کامرانیوں کے ظہور کا دن ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدومیثاق کو پوری طرح…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عیسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت اور فریاد کے باوجود اللہ تعالیٰ مشرکوں کے بارے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فریاد قبول نہ کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج کے دن سچے شخص کو اس کی سچائی کا فائدہ پہنچے گا۔ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی ہے اے عیسیٰ جو کچھ تم نے کہا سچ کہا کہ واقعی تو اور تیری والدہ نے لوگوں کو شرک کی دعوت نہیں دی تھی لہٰذا تجھے مطمئن رہنا چاہیے آج ہر شخص کو فائدہ پہنچے گا جو سچ پر قائم رہا اور سچ کی دعوت دیتا رہا۔
ان آیات کے سیاق وسباق سے یہ حقیقت بالکل واضح اور نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں صدق سے مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے کیونکہ توحید کے بغیر دنیا کی…
Read the full tafseer →سچائی ہر دو جہان میں کام دینے والی ہے :
آیت 119: قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُہُمْ ۔ (اللہ فرمائیں گے ‘ یہ ایسا دن ہے جس دن سچوں کو ان کا سچ فائدہ دے گا) یوم کا مرفوع ہے۔ اور مضاف ہے اس طرح کہ یہ مل کر ہٰذَا کی خبر بنتی ہے۔ یعنی اللہ فرمائیں گے۔ ہذا یوم ینفع الصادقین فیہ صدقہم المستمر فی دنیاہم وٰاخرتہم یہ ایسا دن ہے کہ اس میں سچے لوگوں کو ان کا مسلسل سچ دنیا اور آخرت میں فائدے دے گا۔ یہ جملہ مبتداء اور خبر مل کر مفعولیت کی وجہ سے محل نصب میں ہے جیسا کہ تم کہو۔ قال زید عمرو منطلق (عمرو منطلق مقولہ محل نصب میں ہے۔ یَوْمَ کا نصب نافع نے پڑھا۔ اس طرح کہ یہ ظرف ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
آیت نمبر 120, 119
تفسیر : (قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم) نافع نے یوم کو میم کے زبر سے پڑھا ہے اور یہ اصل میں ” فی یوم “ تھا فی کو حذف کرکے یوم کو زبر دیا گیا اور باقی حضرات نے یوم کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” ھذا “ کی خبر ہے یعنی سچوں کو دنیا میں نفع دے گا ان کا سچ آخرت میں او اگ وہ جھوٹ بولیں گے تو اللہ تعالیٰ انکے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے اعضاء بول پڑیں گے جس کی وجہ سے وہ رسوا ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے کہ صادقین سے مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین کو ان کا ایمان نفع دے گا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو گفتگو کرنے والے غلطی نہ کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
(116 ۔ 120) ۔ یہاں سے آخر سوہ تک اللہ تعالیٰ نے نصاری کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور نگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو ان کے آسمان پر چلے جان کے بعد تثلث اور شرک کی باتیں جو نصارٰی نے اپنے دین میں پھیلالیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو دنیا میں اس قسم کی خرابیاں رفع کرنے کی غرض سے بھیجا اور نبی آخر الزمان نے نصاریٰ کے علماء اور بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →319 سچائی کے نفع دینے کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی کام دے گی اور وہ اس کا پھل پائیں گے۔ اور ان کے لئے انکے صدق و صفا کے بدلے میں جنت کی ایسی بےمثال کامیابی اور دائمی نعمتوں سے سرفرازی ہوگی جس کا اس دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ پس جو لوگ زندگی بھر حق و صدق کی راہ پر رہے ہوں گے وہ اس روز اپنی اس سچائی کا پھل ابدی کامیابی کی صورت میں پائیں گے۔ سو حساب و کتاب اور عدل و انصاف کا وہ دن سچوں اور راست بازوں کے لئے کامیابیوں اور فائز المرامیوں کا دن ہوگا۔ اور اس روز کھرا کھوٹا نکھر…
Read the full tafseer →اللہ کا فیصلہ
تشریح : اللہ جل شانہ قیامت کے دن فرمائے گا کہ آج صادقین (سچے لوگوں) کی سچائی کا پھل ان کو جنت کی صورت میں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ “ ( التوبہ)
اس لیے اللہ رب العزت سچے، مخلص، دیانتدار اور پاکباز لوگوں سے بہت خوش ہوتا ہے۔ رب رحیم کی خوشنودی جس کو حاصل ہوجائے اس کو اور کیا چاہیے۔ اس کی رضا حاصل کرنا جنت حاصل کرنے سے بھی بڑی خوش نصیبی اور برکت والی بات ہے۔ ملازم اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ بیوی خاوند کی خوشنودی چاہتی ہے۔ اولاد والدین کی خوشنودی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 116 تا 120 ۔
اسرارو معارف :
پھر اسی بھرے میدان میں سوال ہوگا اے عیسیٰ ! کیا آپ نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بھی اللہ کے علاوہ دو الہ مان لیں ، یعنی جو کچھ ہم دین سمجھ کر کرتے ہیں اس پر انبیاء کی شہادت ہوگی اگر انہوں نے ذمہ داری قبول فرمائی کہ ان کا یہ فعل میری کسی ہدایت کے مطابق تھا یا کسی حکم کی تائید کرا تھا۔ جیسے آپ ﷺ کے زمانے میں نہ دینی مدارس تھے نہ نصاب نہ یہ موجودہ کتب حدیثیں لوگوں کے پاس متفرق تھیں کسی کے پاس لکھی ہوئی اور اکثر زبانی مگر پڑھنے پڑھانے علم حاصل کرنے کا حکم موجود ہے اب ان کتب یا مدارس میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی دنیا میں جو لوگ اپنے ایمان و خلوص میں سچے تھے ان کا یہ صدق وخلوص آج (قیا مت کے دن ان کے کام آئے گا۔ ( قرطبی)2 اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کوئی وقعت نہیں رکھتی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
(5:117) توفیتنی۔ تو نے مجھے اٹھالیا۔ تو نے مجھے قبض کیا۔ تو نے مجھے وفات دی۔ توفیت توفی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
توفی کے اصل معنی لغت میں کسی چیز کو کامل طور پر قبضہ میں لینے کے ہیں۔ جیسے نیند کی حالت میں ہوش کو پورے طور پر اٹھا لیا جاتا ہے یا موت کے وقت روح پورے طور پر قبض کرلی جاتی ہے۔ توفی کا استعمال موت کے لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس کے حقیقی اور لغوی معنی نہیں ہیں بلکہ مرادی اور تعبیری معنی ہیں۔
الرقیب علیہم۔ الرقیب۔ نگہبان۔ خبر رکھنے والا۔ محافظ۔ راہ دیکھنے والا۔ کنت کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
آیت نمبر 119 تا 120
لغات القرآن : ینفع (نفع دے گا) ۔ الصدقین (سچ بولنے والے) ۔ ؓ (اللہ راضی ہوگیا) ۔ الفوز العظیم (بڑی کامیابی) ۔
تشریح : جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اشارے ہی اشارے میں اپنی امت کیلئے سفارش کی تھی اسی طرح اللہ نے بھی اشارے ہی اشارے میں جواب دے دیا کہ جنت صرف اہل صدق کے لئے ہے۔ اہل کذب کیلئے نہیں ۔ اس کے لئے ہے جو اللہ کو اللہ مانتے ہیں۔ ان کئ لئے نہیں جو غیر اللہ کو بھی اللہ مانتے ہیں جنت ان کے لئے ہے جو توحید والے ہیں۔ ان کے لئے نہیں جو تثلیث والے ہیں۔ ” اللہ ان سے راضی ہوا چونکہ وہ اللہ سے راضی رہے “ ۔ اس چھوٹے سے جملہ کے اندر معانی اور مطالب کے سات سمندر ٹھاٹھیں مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
قیامت کی عدالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت
یہاں سے آخر تک نصاریٰ کے الزام دینے اور قائل کرنے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں رہے نصاری کو توحید سکھاتے رہے اور کگرانی کرتے رہے کہ سوا توحید کے اور کوئی بدعت اور نئی بات ان کی امت میں پیدا نہ ہو۔ ان کے آسمان پر چلے جانے کے بعد شرک وغیرہ کی باتیں جو نصاریٰ نے اپنے دین کے اندر پھیلائیں اور ان باتوں کو اللہ کا حکم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم خیال کرتے ہیں اور باوجود یکہ اللہ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو دنیا میں اسی قسم کی خرابیاں رفع کرنے کو بھیجا اور نبی آخر الزماں ﷺ نے نصاریٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
[46] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة توبہ حاشیہ 46 صفحہ 453۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
میسح کی تعلیم :
(ف 1) ان آیات میں قیامت کا ذکر ہے مسیح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا ، کیا تم نے کہا تھا کہ مجھے اور میری مان کو خدا مانو ، آپ فرمائیں گے ، اللہ مجھے کیونکر اختیار ہے کہ باطل کی تلقین کروں ، میں نے تو ان کو ہمیشہ توحید ہی کی طرف بلایا ہے ، اور میں جب تک ان میں رہا ، اسی کی دعوت دی جب تونے مجھے اٹھا لیا ، اس وقت تو نگہبان تھا ، اور تو سب کچھ جانتا ہے ۔
یہاں تک معذرت ہے اس کے سفارش ہے کیونکہ مسیح (علیہ السلام) خوب جانتے ہیں کہ میرے آسمان پر جانے کے بعد لوگوں میں غلط کے عقائد رائج ہوگئے تھے ، فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اگر انہیں سزا دے تو تیرے بندے ہی تو ہیں ، اور بخشدے تو کیا…
Read the full tafseer →-119 اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی نفع دے گی اور ان کا سچ ان کے کام آئے گا ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ صادقین ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اس سے خوش یہ جنت میں داخل ہونا اور ایک کا دور سے سے راضی ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
ف 2۔ یعنی قیامت میں۔
3۔ نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحد ہوں اور نہ باعتبار واقع کے کہ آپ واحد ہیں۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کی دبے لفظوں کی گئی اپیل کا جواب پوری وضاحت کے ساتھ :
269: عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو دبے لفظوں اپیل کی تھی اس کا انداز بھی بڑا پیارا تھا اللہ تعالیٰ نے جواب بھی اس پیار کے ساتھ دیا جو رب العزت کو اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ان کی اپیل کا واضح الفاظ میں جواب دیا اور فرمایا ” آج وہ دن ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی سچائی ہی کام آئے گی۔ “ ” ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ 1ؕ“ اس جملہ کو بار بار پڑھو اور ان الفاظ پر گہری نظر ڈالو ” آج وہ دن ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی سچائی ہی کام آئے گی “ اور سچا بننے میں جتنی کوشش کرسکتے ہو کرلو اور ’۔ جھوٹ بول کر جان بچانا فرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
The Linkage of Verses
The first two sections (Ruku`) appearing earlier describe some of the happenings on the day of Qiyamah such as the reckoning, the questions and their answers. Mentioned now is the outcome of the probe and reckoning of that fateful day.
Commentary
Notes
1. Verse 119 opens with the words: قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ (Allah said, "This is a day the truth of the truthful shall bring benefit to them). Generally, what is according to what has happened is called truth while that which is not according to what has happened is referred to as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
130. The Christians were not content merely with deifying Jesus and the Holy Spirit. They even turned Mary, the mother of Jesus, into a full-fledged object of worship. The Bible does not contain even the remotest suggestion that Mary was in any way either divine or superhuman. During the first three centuries after the Messiah, such a concept was totally alien to Christian thinking. Towards the end of the third century of the Christian era, however, some theologians of Alexandria employed, for the first time, the expression 'Mother of God' in connection with Mary. Subsequently, belief in…
Read the full tafseer →