Explained with ayahs 112–115
نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی
یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
سورة الْمَآىِٕدَة 128
چونکہ حواریوں کا ذکر آگیا تھا اس لیے سلسلہ کلام کو توڑ کر جملہ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریک خدا یا فرزند خدا ہونے کا تصور نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملہ معترضہ کا کونسا موقع ہوگا ؟ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
معارف و مسائل
مومن کو معجزات کا مطالعہ نہیں کرنا چاہئے
(قولہ تعالی) قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ جب حواریوں نے عیسیٰ ؑ سے آسمان سے مائدہ کے اترنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دار بندہ کو لائق نہیں کہ وہ اس قسم کی فرمائشیں کرکے خدا کو آزمائے، اور اس سے خرق عادت کی چیزوں کا مطالبہ کرے، بلکہ اس کو چاہئے کہ روزی وغیرہ کو انہی ذرائع سے طلب کرے جو قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
تفسیر آیات 111 تا 115:۔ وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 1 مَائِدَۃً ایسے برتن (سینی پلیٹ یا ٹرے وغیرہ) کو کہتے ہیں جس میں کھانا ہو۔ اسی لئے دسترخواں بھی اس کا ترجمہ کرلیا جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی کھانا چنا ہوتا ہے۔ سورت کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں اس کا ذکر ہے۔ حواریین نے مزید اطمینان قلب کے لیے یہ مطالبہ کیا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے احیائے موتی کے مشاہدے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔
212۔ 2 یعنی یہ سوال مت کرو، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش کا سبب بن جائے کیونکہ حسب طلب معجزہ دکھائے جانے کے بعد اس قوم کی طرف سے ایمان میں کمزوری عذاب کا بن سکتی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ ؑ نے انہیں اس مطالبے سے روکا اور انہیں اللہ سے ڈرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
77: یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشاء ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ نے دعا فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔
اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ…
Read the full tafseer →6 یعنی آزمانے کو نہیں مانگتے بلکہ برکت کی امید پر مانگتے ہیں کہ غیب سے بےمحنت روزی ملتی رہے تاکہ اطمینان قلب اور دلجمعی سے عبادت میں لگے رہیں۔ اور آپ نے جو غیبی خبریں نعمائے جنت وغیرہ کے متعلق دی ہیں، ایک چھوٹا سا نمونہ دیکھ کر ان کا بھی یقین کامل ہوجائے۔ اور ایک عینی شاہد کے طور پر ہم اس کی گواہی دیں جس سے یہ معجزہ ہمیشہ مشہور رہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم خدا کے لئے تیس دن کے روزے رکھ کر جو کچھ طلب کرو گے وہ دیا جائے گا۔ حواریین نے روزے رکھ لئے اور مائدہ طلب کیا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا سے یہ ہی مراد ہے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 113 قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَءِنَّ قُلُوْبُنَا
یہ اس طرح کی بات ہے جیسی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہی تھی : رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط البقرہ : 260۔ اسی طرح کا مشاہدہ وہ بھی طلب کر رہے تھے۔
وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُوْنَ عَلَیْہَا مِنَ الشّٰہِدِیْنَ
تا کہ ہمیں آپ علیہ السلام کی کسی بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے اور ایسایقین کامل ہوجائے کہ پھر ہم جب آپ علیہ السلام کی جانب سے لوگوں کو تبلیغ کریں تو ہمارے اپنے دلوں میں کہیں شک وشبہ کا کوئی کانٹا چبھا ہو انہ رہ جائے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
161 یہ مکالمہ روز قیامت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس دنیا کا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جسے موقعہ کی مناسبت سے اور جملہ معترضہ کے طور پر یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
162 حواریوں کا خوان نعمت کا مطالبہ :۔ حواری جو اسلام لا چکے تھے وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ پوچھنے لگے کہ کیا تمہارے پروردگار میں اتنی قدرت ہے کہ ہم پر آسمان سے تیار شدہ کھانا نازل کرے اور اپنے اس مطالبہ کی انہوں نے تین وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ ہم فکر معاش کے دھندوں سے آزاد ہو کر یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکیں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں یہ یقین حاصل ہوجائے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل حقیقت ہے اور اللہ واقعی…
Read the full tafseer →347 ۔ حواری اپنی صفائی میں یہ تقریر کررہے ہیں کہ سوال سے ہماری غرض کوئی بےادبی نہیں مقصود صرف اس قدر تھا کہ (آیت) ” ناکل منھا۔ ہم اس آسمانی غذا سے کچھ کھائیں اور اس سے لذت و برکت حاصل کریں، اکل تبرک (روح) (آیت) ” وتطمئن قلوبنا “۔ اور اس خرق عادت کے مشاہدہ سے ہمارا ایمان اور ترقی حاصل کرے۔ بازدیاد الیقین کماقال عطاء (روح) (آیت) ” ونعلم “۔ اور ہم مشاہدہ کی مزید قوت کے ساتھ یقین حاصل کرلیں۔ علم مشاھدۃ وعیان علی ما قدمناہ (روح) (آیت) ” ان قدصدقتنا کہ آپ اپنے دعوی نبوت میں بالکل سچے ہیں۔ ای انہ قد صدقتنا فی ادعاء النبوۃ (روح) ونکون علیھا من الشھدین “۔ اور اس کے بعد ہم دوسروں کے سامنے بھی گواہی دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
اذ قال الحواریون یٰعیسیٰ ابن مریم الخ، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ جب حواریوں کی جانب سے اس آسمانی کھانے کی درخواست پیش ہوئی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ناگوار گزری، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو جس طرح روزی ملتی رہی ہے اسی پر قناعت کرو ایسے دسترخوان کی درخواست نہ کرو، اگر مطلوبہ دسترخوان نازل کردیا گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائیگی، قوم ثمود کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا، اس کے بعد حواریوں نے جب نیک ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی تو یہ دسترخوان اس شان کے ساتھ نازل ہوا کہ اس کا رنگ سرخ تھا اس کے اوپر نیچے بادل تھے وہ نظروں کے…
Read the full tafseer →قالوا کہنے لگے ہم نے مائدہ کی درخواست صرف اس لئے کی ہے کہ
نرید ان ناکل منہا ہم اس میں سے کھائیں۔
وتطمئن قلوبنا اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہو۔ دلیل سے تو قدرت کی ہمہ گیری کو مانتے ہی ہیں مشاہدہ دلیل کے ساتھ مل جائے گا تو علم شہودی کو کر اطمینان پیدا ہوجائے گا۔
ونعلم ان قد صدقتنا اور ہم جان لیں کہ (نبوت کے دعوے میں) آپ سچے ہیں یعنی ہمارا ایمان اور نبوت پر یقین بڑھ جائے۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ 30 روزے رکھو۔ 30 روزے رکھنے کے بعد اللہ سے جو کچھ مانگو گے ملے گا حسب الحکم انہوں نے 30 روزے رکھے اور پھر نزول مائدہ کی درخواست کی اور کہا ہم یقین رکھتے…
Read the full tafseer →(113) جس کی بنا پر عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
شمعون نے ان سے یہ کہہ دیا وہ بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح جو معجزات آپ دکھا رہے ہیں اس پر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور جب ہم اپنی قوم کے پاس لوٹین تو گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔
Read the full tafseer →قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا : یعنی ہم یہ معجزہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر نہیں مانگ رہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے کہا تھا : (لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ) [ البقرۃ : 55 ] ”ہم ہرگز تیرا یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔“ بلکہ چند امور کے پیش نظر طلب کر رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بھوکے ہیں یا برکت کے لیے کچھ کھانا چاہتے ہیں۔
وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا : یعنی ہمیں اس بات کا اطمینان ہوجائے (جو ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے) اور ہم عین الیقین کے درجے کا علم حاصل کرلیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور بنی اسرائیل کے سامنے آپ کے سچا رسول…
Read the full tafseer →آیت نمبر 113
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قالو انرید ان ناکل منھا۔ ان کی وجہ سے ناکل منصوب ہے۔
(آیت) وتطمئن قلوبنا ونعلم ان قد صدقتناونکون علیھا من الشھدین یہ تمام معطوف ہے انہوں نے اپنے سوال کا سبب بیان کیا جب انہیں سوال سے منع کیا گیا ناکل منھا میں دو وجہیں ہیں : (1) انہوں نے اپنی بھوک مٹانے کے لیے کھانے کا ارادہ کیا۔ یہ اس لیے تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نکلتے تھے تو ان کے پیچھے پانچ ہزار یا اس سے زیادہ آدمی ہوتے تھے، بعض تو ان میں آپ کے اصحاب ہوتے تھے اور بعض دیکھتے تھے اور استہزاء کرتے تھے۔ ایک دن آپ ایک علاقہ کی طرف نکلے تو ایک جنگل میں پہنچ گئے جہاں ان کے لیے کھانے پینے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(1) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حواری اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہنے سے زیادہ جاننے والے تھے وہ یوں کہیں کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے یوں کہا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے رب سے یہ سوال کرسکے۔
(2) امام حاکم (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد الرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ حوارین کے اس قول لفظ آیت ھل یستطیع ربک کے بارے میں پوچھا کہ یہ اس طرح ہے یا لفظ آیت او تستطیع ربک ہے تو انہوں نے فرمایا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ھل…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] نُرِيْدُ [ ہم چاہتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] نَّاْكُلَ [ ہم کھائیں ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَتَطْمَىِٕنَّ [ اور مطمئن ہوں ] قُلُوْبُنَا [ ہمارے دل ] وَنَعْلَمَ [ اور ہم جان لیں ] اَنْ [ کہ ] قَدْ صَدَقْتَنَا [ آپ نے سچ کہا ہے ہم سے ] وَنَكُوْنَ [ اور ہم ہوجائیں ] عَلَيْهَا [ اس پر ] مِنَ الشّٰهِدِيْنَ [ گواہی دینے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
حواریوں کا سوال کرنا کہ مائدہ نازل ہو
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے ایک آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک نے بذریعہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ حکم دیا کہ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور اس کے رسول پر۔ ان لوگوں نے کہ ہم ایمان لائے اور آپ ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ ہوجائیں۔ لفظ اَوْحَیْتَ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وحی تو حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر آتی تھی پھر حواریوں پر کیسے وحی آئی جو نبی نہ تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ وحی کا اصل معنی ہے دل میں ڈال دینا جیسا کہ شہد کی مکھی کے لئے بھی لفظ اَوْحٰی وارد ہوا ہے۔ اَوْحَیْتَ کا معنی اگر یہ لیا جائے تو بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
قصہ نزول مائدہ۔
قال اللہ تعالی۔ واذا اوحیت الی۔۔۔۔ الی۔۔۔ العالمین۔
ربط) ۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے ایک خاص انعام اور خاص معجزہ کا ذکر فرمایا تھا جس سے یہود اور نصاری دونوں ہی کو تنبیہ مقصود ہے یعنی مائدہ کے نازل ہونے کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس کی طرف یہ سورت منسوب ہے یعنی سورة مائدہ کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اس پر آسمان سے مائدہ اتارا جو ان کی نبوت و رسالت کی آیت باہرہ اور حجت قاہرہ تھی اور اس بات کی بھی دلیل تھی کہ جس کے لیے یہ آسمانی رزق کا خوان اتارا جارہا ہے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے کہ من وسلوی کی طرح اس مائدہ سے خدا کا رزق کھائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
178 یہ اِذْ اَیَّدْتُکَ سے بدل ہے یہاں سے لیکر رکوع 15 کے آخر تک نزول مائدہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کا ایک انعام تھا کیونکہ جب ان سے ان کی قوم نے آسمان سے دستر خوان اتارنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اللہ دعا کی تو اللہ نے ان کی دعا قبول فرما کر معجزانہ طور پر آسمان سے دسترخوان نازل فرمایا۔ جن حواریین نے مائدہ کا مطالبہ کیا تھا وہ مخلص مومن تھے اور ازدیاد یقین اور عینی مشاہدے کی خاطر اس معجزے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
179 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور اس معجزے کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ جب طلبیدہ اور منہ مانگے معجزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے تمام ابنیاء کو اکٹھا کرنے کا ذکر فرمایا کہ اللہ ان سے سوال کریگا کہ تمہاری دعوت کے نتیجے میں تمہاری قوموں نے کیا جواب دیا۔ تو انبیاء عاجزی کا اظہار کریں گے کہ مولانا کریم ! ہمیں کچھ علم نہیں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے میں ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان معجزات کو بیان فرمایا جو ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات تھے جو آپ پر اور آپ کی والدہ پر ہوئے۔ ان احسانات میں سے ایک بڑا احسان یہ تھا کہ اللہ نے آپ کو بنی اسرائیل کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی ناپاک سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ یہ بھی…
Read the full tafseer →قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْہَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْہَا مِنَ الشّٰہِدِيْنَ 113
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
1 ؎ حواریوں نے کہا امتحان مقصود نہیں بلکہ اس نعمت میں سے کھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ ہمارے اطمینان قلبی اور تیری تصدیق کا باعث ہوگا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ط قَالَ اتَّقُوا اللہ َ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ قَالُوْ نُرِیْدُ اَنْ نَّاکُلَ مِنْھَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لاَِّوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ ط وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ۔ قَالَ اللہ ُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ ج فَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی یاد کرایا جائے گا۔
اس فرمان کا پس منظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کی بنا پر کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر خاص کرم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے دل ہدایت کے لیے کھول دیے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ” اَوْحَیْتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے کہ اے عیسیٰ ! اللہ ہی نے تمہارے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ آگے بڑھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ اور اس کے دست وبازو بن جاؤ۔
Read the full tafseer →آیت 113: قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْکُلَ مِنْہَا۔ (ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں) یعنی بطور تبرک وَتَطْمَپنَّ قُلُوْبُنَا اور یقین میں اضافہ ہوجائے جیسے ابراہیم ( علیہ السلام) نے فرمایا : وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ 1 (البقرہ آیت : 360)
مشاہدئہ معجزہ اضافہ علم کیلئے :
وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا یعنی ہم کھلی آنکھوں آپ کی سچائی جان لیں۔ جیسا کہ ہم نے استدلال سے جانی ہے۔ وَنَکُوْنَ عَلَیْہَا مِنَ الشّٰہِدِیْنَاس کا جو ہم نے آنکھوں سے دیکھا۔ ان لوگوں کے لیے جو ہمارے بعد آئیں گے۔ اس بناء پر کہ سوال اضافہ علم کے لیے تھا۔ تعنت کی بناء پر نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
آیت نمبر 115, 114, 113
تفسیر : (قالوا نرید) یعنی ہم نے یہ سوال اس وجہ سے کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ (ان نکل منھا) بطور تبرک نہ کہ ضرورت کی وجہ سے تاکہ اللہ کی قدرت کا یقین ہوجائے ( وتطمین (پر سکون ہوجائیں) قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں یعنی ہمارا ایمان و یقین بڑھ جائے اور بعض نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ تیس دن روزے رکھیں جب وہ ان کے بعد افطار کریں گے تو اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا تو انہوں نے تیس دن بعد مائدہ کا سوال کیا اور کہنے لگے کہ ہم جان لیں کہ آپ اپنے اس قول میں سچے تھے کہ تس روزوں کے بعد جو کچھ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(112 ۔ 115) اوپر ان احسانات کا ذکر تھا جو احسانات عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں مریم (علیہا السلام) پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے انہی احسانات میں سے ایک احسان ان آیتوں میں ہے جو احسان اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کریں۔ قرآن شریف میں جس قدر مطلب ہے وہ یہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شرط سے اس خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →301 خوان سماوی کی طلب کی وجوہ کا ذکر وبیان : سو خوان سماوی سے کھانے کی خواہش دراصل اس کی برکات کی بنا پر تھی۔ کیونکہ آسمان سے اترنے والا یہ خوان بطور خاص خیر و برکت کا ذریعہ ہوگا۔ اس سے ہمارے ایمان و یقین میں قوت پیدا ہوگی۔ باطنی شفا و صحت حاصل ہوگی۔ اور تیری عبادت واطاعت کے شوق و جذبہ میں اضافہ ہوگا۔ (صفوہ و معارف وغیرہ) ۔ نیز جب ہم ضرورت کے موقع پر اس خوان سے کھائیں گے تو اس کا شکر ادا کریں گے جس سے ہم اس کی رحمت و عنایت سے مزید سرفراز ہوں گے۔ نیز جب ہم اس کے نزول کو دیکھیں گے تو ہمارا ایمان اور پختہ ہوجائے گا اور ہمارے اطمینان میں اور اضافہ ہوگا کہ نظر و استدلال کے ساتھ مشاہدہ کا علم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور حواریوں کی فرمائش
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے باز پرس کی جائے گی تو قیامت کے دن کا یہ منظر بڑا ہولناک ہے اس میں وہ تمام بات چیت جو اللہ رب العزت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ آیات مذکورہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام حالات پہلے مختلف سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکے ہیں۔ اب سورت کے آخر میں ان تمام حالات کا ذکر جو کہ قیامت کو واقع ہوں گے۔ یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے نصارٰی اور اس سے بعد کے تمام نصارٰی کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–115
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 109 ۔ تا ۔ 115 ۔
اسرار و معارف :
سفارش : اور ہاں اسی پر خوش ہونا کہ باوجود گناہ کے گذارہ چل ہی رہا ہے یا لوٹ کا مال بہت جمع کرلیا ہے دانشمندی کی بات نہین اس لیے کہ ایک دن ایسا آ رہا ہے جب ساری مخلوق کو ایک وقت میں اور ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور یہ میدان حشر ہوگا دنیا اور اس کی زندگی اپنی لذتوں اور رنگینیوں سمیت ختم ہوچکی ہوگی کچھ لوگ تو وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا اور غلط کار تھے عقیدے میں کافر ، عمل میں بدکار ، کچھ دوسرے جنہوں نے عقیدے میں بھی حق کو اختیار کیا اور عمل میں بھی کھرے رہے دو اقسام اور بھی ہوں گی ایک قسم کافروں کی جو دل سے کافر تھے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ہم یہ مائدہ محض معجزہ ہونے کی حثیت سے نہیں بلکہ چند امور کے پیش نظر طلب کر رہے ہیں جن کچھ کھانا چاہتے ہیں۔10 یعنی یہ کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی برکت کی امید پر مانگتے ہیں اور معجزہ ہمیشہ مشہور رہے آزمانے کو نہیں ( از موضح)11 یعنی بنی اسرائیل کے سامنے ہم آپ کے سچا رسول ہونے کی گواہی دے سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
(5:112) ہل یستطیع ربک۔ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ یستطیع مضارع واحد مذکر غائب استنطاع استفعال مصدر۔ حواری تو قبل ازیں دل میں مسلمان ہوچکے تھے اس لئے ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ کسی شک پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ کلام ما بعد وتطمئن قلوبنا سے واضح ہے۔ محض مزید اطمینان قلب اور تقویت ایمان کی خاطر انہوں نے مائدہ طلب کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ رب ارنی کیف تحی الموتی اور خدا تعالیٰ کے ارشاد اولم نؤمن پر فرمایا تھا۔ بلی ولکن لیطمئن قلبی (2:260) لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے۔
مائدۃ۔ کھانا جو دستر خوان پر چنا ہوا ہو۔ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
آیت نمبر 111 تا 115
لغات القرآن : اوحیت (میں نے وحی کی) ۔ الحواریین (الحواری) ۔ مددگار۔ دوست۔ صحابی) ۔ امنوابی (مجھ پر ایمان لاؤ) ۔ اشھد (تو گواہ رہنا) ۔ مسلمون (مسلم) ۔ فرماں بردار) ۔ ھل یستطیع (کیا طاقت ہے ؟ ) ۔ مآئدۃ (دستر خوان (جس میں ہر طرح کے کھانے ہوں) ۔ ناکل (ہم کھائیں گے) ۔ تطمئن (اطمینان ہوجائے گا) ۔ صدقت (تو نے سچ کہا) نکون (ہم ہوجائیں گے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ اللھم (اے میرے اللہ) ۔ انزل (اتاردے۔ نازل کر دے) ۔ عید (خوشی کا دن) ۔ ارزقنا (روزی دے دے) ۔ خیر الرازقین (بہترین رزق دینے والا) ۔ انی منزل (میں اتارنے والا ہوں) ۔ من یکفر (جو ناشکری کرے گا) ۔ اعذب (میں عذاب دوں گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے سے بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ سے کریں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ اس شرط پر خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اس دن کو عید منائیں، جس کا مطلب عیدمیلاد سے ہے اور اس کی تعظیم کریں خوشیاں منائیں، عبادت کریں، شکر بجالائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو ان لوگوں پر سخر عذاب آجاوے گا۔ چناچہ آسمان سے خوان نازل ہوا اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کفر کیا ان کی صورتیں مسخ کرکے سور بنا دئے گئے اور تین روز میں سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[62] یعنی جبرائیل (علیہ السلام) سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
مائدہ :
(ف 2) معجزہ طلبی کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوراق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوارق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر یہ ذہنیت اسے پسند نہیں کہ بات بات پر معجزہ طلب کیا جائے ، اسی لئے جب ان لوگوں نے مائدہ کے نزول کی خواہش کی تو (آیت) ” اتقوا اللہ “ کی تلقین کی گئی یعنی راسخ العقیدہ انسانوں کے لئے زیبا نہیں کہ عجائب پسندی اور کرشمہ آرائی کو مذہب کا احصل قرار دے لیں ،
نزول مائدہ کے لئے مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی ،…
Read the full tafseer →-113 ان حواریوں نے عرض کیا ہماری اس مانگ اور ہماری اس فرمائش کا صرف مقصد یہ ہے کہ ہم اس نازل شدہ خاون میں سے کچھ کھائیں بھی اور ہمارے قلوب کو اطمینان بھی ہو اور ہماری پختہ ایمانی میں یہ خوان زیداتی کا سبب ہو اور ہم اس امر کو اچھی طرح جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا یعنی اللہ تعالیٰ ہماری دعائوں کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور ہم اس مائدہ اور کھانے کے خوان پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں اور نزول مائد ہ پر گواہ رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
ف 4۔ مطلب یہ کہ تم تو ایماندار ہو اس لیے خدا سے ڈرو اور معجزات کی فرمائش سے کہ بےضرورت ہونے کی وجہ سے خلاف ادب ہے بچو۔
Read the full tafseer →انہوں نے کہا ہم نے راحت و آرام اور تیری باتوں کی تصدیق کے لئے یہ عرض کیا ہے :
260: ” انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل آرام پائیں۔ ” مطلب بالکل صاف ہے کہ حواریوں نے جب دیکھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے سوال سے رنجیدہ خاطر ہوئے ہیں کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا ” اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ “ تو انہوں نے اپنے سوال کی وجہ بتانی شروع کردی کہ اس سوال سے ہماری منشاء کیا ہے ؟ ہم چاہتے ہیں یعنی ہمارا شوق ہے کہ ہم اس میں سے کچھ کھائیں اس دیکھ کر اور کھا کر ہمارے دل مطمئن ہوں۔ اس طرح آپ کی صداقت کی ایک قوی دلیل ہم کو مل جائے اور اس آنکھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
Commentary
A True Believer Should Not Demand Miracles
When the disciples of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) asked him to make ` Ma'idah' (food-spread) come down from the heavens, he replied by saying: قَالَ اتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين (Fear Allah if you are believers). This tells us that it does not behove a faith-bearing servant of Allah that he should test Him by making such requests. Rather than demand what is supernatural, he should seek things, like sustenance, through sources naturally appointed for him.
The Better the Blessing, the Worse the Curse of Ingratitude
From the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
128. Since the disciples have been mentioned here, the continuity of the subject is interrupted momentarily in order to introduce another incident connected with the disciples. This clearly shows that those who had been directly instructed by Jesus considered him merely a human being and a slave of God; they had no conception of their master either being God or a partner of God or the son of God. Jesus had, rather, presented himself to them as a slave of God with no claims to divine authority.
One might feel inclined here to raise the question: What is the occasion for this parenthetical…
Read the full tafseer →