Explained with ayahs 112–115
نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی
یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
سورة الْمَآىِٕدَة 128
چونکہ حواریوں کا ذکر آگیا تھا اس لیے سلسلہ کلام کو توڑ کر جملہ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریک خدا یا فرزند خدا ہونے کا تصور نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملہ معترضہ کا کونسا موقع ہوگا ؟ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
معارف و مسائل
مومن کو معجزات کا مطالعہ نہیں کرنا چاہئے
(قولہ تعالی) قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ جب حواریوں نے عیسیٰ ؑ سے آسمان سے مائدہ کے اترنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دار بندہ کو لائق نہیں کہ وہ اس قسم کی فرمائشیں کرکے خدا کو آزمائے، اور اس سے خرق عادت کی چیزوں کا مطالبہ کرے، بلکہ اس کو چاہئے کہ روزی وغیرہ کو انہی ذرائع سے طلب کرے جو قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
تفسیر آیات 111 تا 115:۔ وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 1 مَائِدَۃً ایسے برتن (سینی پلیٹ یا ٹرے وغیرہ) کو کہتے ہیں جس میں کھانا ہو۔ اسی لئے دسترخواں بھی اس کا ترجمہ کرلیا جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی کھانا چنا ہوتا ہے۔ سورت کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں اس کا ذکر ہے۔ حواریین نے مزید اطمینان قلب کے لیے یہ مطالبہ کیا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے احیائے موتی کے مشاہدے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔
212۔ 2 یعنی یہ سوال مت کرو، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش کا سبب بن جائے کیونکہ حسب طلب معجزہ دکھائے جانے کے بعد اس قوم کی طرف سے ایمان میں کمزوری عذاب کا بن سکتی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ ؑ نے انہیں اس مطالبے سے روکا اور انہیں اللہ سے ڈرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
77: یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشاء ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ نے دعا فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔
اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
3 " کرسکتا ہے " اس لئے کہا کہ آپ کی رعایت اور دعا سے ہمارے لئے بطور " خرق عادت " نہ معلوم ایسا کرے یا نہ کرے۔
4 یعنی آسمان کی طرف سے بےمحنت روزی پہنچ جایا کرے۔ یہ ضرور نہیں کہ وہ خوان جنت ہی کا ہو۔
5 یعنی ایماندار بندہ کو لائق نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائشیں کر کے خدا کو آزمائے خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو، روزی ان ہی ذرائع سے طلب کرنا چاہیے جو قدرت نے اس کی تحصیل کے لئے مقرر فرما دیئے ہیں بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان و اعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کو رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ…
Read the full tafseer →قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ
مؤمنین کو ایسی دعائیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ایسے مطالبات آپ لوگوں کو زیب نہیں دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
161 یہ مکالمہ روز قیامت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اس دنیا کا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جسے موقعہ کی مناسبت سے اور جملہ معترضہ کے طور پر یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
162 حواریوں کا خوان نعمت کا مطالبہ :۔ حواری جو اسلام لا چکے تھے وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ پوچھنے لگے کہ کیا تمہارے پروردگار میں اتنی قدرت ہے کہ ہم پر آسمان سے تیار شدہ کھانا نازل کرے اور اپنے اس مطالبہ کی انہوں نے تین وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ ہم فکر معاش کے دھندوں سے آزاد ہو کر یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکیں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں یہ یقین حاصل ہوجائے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل حقیقت ہے اور اللہ واقعی…
Read the full tafseer →345 ۔ (آیت) ” یعیسی ابن مریم “۔ اس طرز خطاب سے صاف ظاہر ہے کہ حواری بھی آپ (علیہ السلام) کو ابن مریم ہی سمجھتے تھے۔ ابن اللہ کا کوئی شائبہ بھی ان کے خیال میں نہ تھا۔ (آیت) ” ھل یستطیع ربک “۔ حواری بہرحال صاحب ایمان تھے۔ سوال سے ان کی مراد بہ قول مفسر تھانوی (رح) یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی امر، مثلا اس کا خلاف حکمت ہونا، اس سے مانع تو نہیں ! المراد من ھذا الکلام استفھام ان ذلک ھل ھو جائز فی محکمۃ ام لا (کبیر) قیل ھذہ الاستطاعۃ علی ما تقتضیۃ الحکمۃ والارادۃ فکانھم قالوا ھل ارادۃ اللہ تعالیٰ و حکمتہ تعلقت بذلک اولا (روح) (آیت) ” مآئدۃ من السمآء “۔ مائدہ کے معنی طعام کے بھی ہیں اور خوان طعام کے بھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
اذ قال الحواریون یٰعیسیٰ ابن مریم الخ، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ جب حواریوں کی جانب سے اس آسمانی کھانے کی درخواست پیش ہوئی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ناگوار گزری، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو جس طرح روزی ملتی رہی ہے اسی پر قناعت کرو ایسے دسترخوان کی درخواست نہ کرو، اگر مطلوبہ دسترخوان نازل کردیا گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائیگی، قوم ثمود کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا، اس کے بعد حواریوں نے جب نیک ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی تو یہ دسترخوان اس شان کے ساتھ نازل ہوا کہ اس کا رنگ سرخ تھا اس کے اوپر نیچے بادل تھے وہ نظروں کے…
Read the full tafseer →اذ قال الحواریون یعیسی بن مریم ہل یستطیع ربک جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کیا آپ کا رب مان لے گا۔ یہ مفعول فیہ ہے اُذْکُرْ محذوف کا یا قالواکا۔ استطاعت کا معنی (یہاں) اطاعت ہے (مان لینا درخواست کے مطابق کردینا) جیسے استجاب بمعنی اَجَابَکے آیا ہے۔ فَاسْتَجَابَ لَہُمْ اللہ نے قبول کرلیا) ابن ابی حاتم نے عامر شعبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے ہل یستطع رَبُّککی تلاوت فرمانے کے بعد (اس کی تشریح میں) ہل یطیع ربک فرمایا تھا۔
آثار میں آتا ہے من اطاع اللّٰہ اطاعہ جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے اللہ اس کی درخواست مان لیتا ہے۔ کسائی کی قرأت میں ہل تستطیع رَبَّکََآیا…
Read the full tafseer →(112) اور حواریوں نے یعنی شمعون نے کہا کہ آپ کی قوم کہتی ہے کہ کیا آپ پروردگار سے اس چیز کے بارے میں دعا کرسکتے ہیں کہ آسمان سے کچھ کھانا نازل ہوجایا کرے، حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ سن کر شمعون سے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اگر اللہ پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ تم اس نعمت کی شکر گزاری نہیں کرو گے۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ۔۔ : حواری اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے، اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک و شبہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا۔ (ابن کثیر) اور یہ الفاظ کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے، ان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے، بلکہ مطلب یہ پوچھنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تو نہیں، یا اس میں کوئی مانع تو نہیں ؟ ”مائدہ“ وہ بڑا تھال جس پر کھانا رکھا ہو۔ اب اس تھال اور کھانے دونوں پر مائدہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ (راغب)
قَالَ اتَّقُوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) اذقال الحواریوں یعیسی ابن مریم اس کا اعراب پہلے گزرچکا ہے۔ (آیت) ھل یستطیع ربک کسائی، حضرت علی، حضرت ابن عباس ؓ ، سعید ابن جبیر اور مجاہد کی قراءت ھل تستطیع یعنی تا کے ساتھ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 259) اور ربک نصب کے ساتھ ہے۔ کسائی نے ھل کا لام کو لا میں ادغام کیا ہے باقی قراء نے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور ربک کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ قراءت پہلی قراءت سے زیادہ واضح ہے۔ سدی نے کہا : اس کا معنی ہے اگر تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرے تو کیا تیرا رب تیری دعا قبول کرے گا ؟ پس یستطیع بمعنی یطیع ہوگا جیسا کہ علماء نے کہا : استجاب معنی اجاب ہوتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(1) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حواری اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہنے سے زیادہ جاننے والے تھے وہ یوں کہیں کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے یوں کہا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے رب سے یہ سوال کرسکے۔
(2) امام حاکم (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد الرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ حوارین کے اس قول لفظ آیت ھل یستطیع ربک کے بارے میں پوچھا کہ یہ اس طرح ہے یا لفظ آیت او تستطیع ربک ہے تو انہوں نے فرمایا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ھل…
Read the full tafseer →اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] الْحَوَارِيُّوْنَ [ حواریوں نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَطِيْعُ [ قدرت رکھتا ہے ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] اَنْ [ کہ ] يُّنَزِّلَ [ وہ اتارے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ [ آسمان سے ] قَالَ [ انھوں نے کہا ] اتَّقُوا اللّٰهَ [ اللہ کا خوف کرو ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ مومن ]
م ی د (ض) ۔ میدا ۔ ہلنا ، لرزنا ۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ [ اور اس نے ڈالے زمین میں کچھ لنگر یعنی پہاڑ کہ کہیں وہ نہ لرزے تم کو لے کر ] 16: 15 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
حواریوں کا سوال کرنا کہ مائدہ نازل ہو
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے ایک آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک نے بذریعہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ حکم دیا کہ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور اس کے رسول پر۔ ان لوگوں نے کہ ہم ایمان لائے اور آپ ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ ہوجائیں۔ لفظ اَوْحَیْتَ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وحی تو حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر آتی تھی پھر حواریوں پر کیسے وحی آئی جو نبی نہ تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ وحی کا اصل معنی ہے دل میں ڈال دینا جیسا کہ شہد کی مکھی کے لئے بھی لفظ اَوْحٰی وارد ہوا ہے۔ اَوْحَیْتَ کا معنی اگر یہ لیا جائے تو بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
قصہ نزول مائدہ۔
قال اللہ تعالی۔ واذا اوحیت الی۔۔۔۔ الی۔۔۔ العالمین۔
ربط) ۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے ایک خاص انعام اور خاص معجزہ کا ذکر فرمایا تھا جس سے یہود اور نصاری دونوں ہی کو تنبیہ مقصود ہے یعنی مائدہ کے نازل ہونے کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس کی طرف یہ سورت منسوب ہے یعنی سورة مائدہ کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اس پر آسمان سے مائدہ اتارا جو ان کی نبوت و رسالت کی آیت باہرہ اور حجت قاہرہ تھی اور اس بات کی بھی دلیل تھی کہ جس کے لیے یہ آسمانی رزق کا خوان اتارا جارہا ہے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے کہ من وسلوی کی طرح اس مائدہ سے خدا کا رزق کھائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
178 یہ اِذْ اَیَّدْتُکَ سے بدل ہے یہاں سے لیکر رکوع 15 کے آخر تک نزول مائدہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کا ایک انعام تھا کیونکہ جب ان سے ان کی قوم نے آسمان سے دستر خوان اتارنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اللہ دعا کی تو اللہ نے ان کی دعا قبول فرما کر معجزانہ طور پر آسمان سے دسترخوان نازل فرمایا۔ جن حواریین نے مائدہ کا مطالبہ کیا تھا وہ مخلص مومن تھے اور ازدیاد یقین اور عینی مشاہدے کی خاطر اس معجزے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
179 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر واقعی تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور اس معجزے کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ جب طلبیدہ اور منہ مانگے معجزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے تمام ابنیاء کو اکٹھا کرنے کا ذکر فرمایا کہ اللہ ان سے سوال کریگا کہ تمہاری دعوت کے نتیجے میں تمہاری قوموں نے کیا جواب دیا۔ تو انبیاء عاجزی کا اظہار کریں گے کہ مولانا کریم ! ہمیں کچھ علم نہیں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے میں ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان معجزات کو بیان فرمایا جو ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات تھے جو آپ پر اور آپ کی والدہ پر ہوئے۔ ان احسانات میں سے ایک بڑا احسان یہ تھا کہ اللہ نے آپ کو بنی اسرائیل کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی ناپاک سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ یہ بھی…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ہَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَۃً مِّنَ السَّمَاۗءِ 0ۭ قَالَ اتَّقُوا اللہَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 112
عيسی
عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا
( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی…
Read the full tafseer →2 ؎ کیونکہ اس میں خدا کی قدرت کا امتحان ہے جو بڑی گستاخی ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ط قَالَ اتَّقُوا اللہ َ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ قَالُوْ نُرِیْدُ اَنْ نَّاکُلَ مِنْھَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لاَِّوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ ط وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ۔ قَالَ اللہ ُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ ج فَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی یاد کرایا جائے گا۔
اس فرمان کا پس منظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کی بنا پر کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر خاص کرم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے دل ہدایت کے لیے کھول دیے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ” اَوْحَیْتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے کہ اے عیسیٰ ! اللہ ہی نے تمہارے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ آگے بڑھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ اور اس کے دست وبازو بن جاؤ۔
Read the full tafseer →حواریوں کا مطالبہ :
آیت 112: اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ ۔ (جب حواریوں نے کہا) یعنی اذکروا اذ۔ اس وقت کو یاد کرو۔ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اے عیسیٰ بن مریم ! عیسیٰ منصوب ہے۔ کیونکہ اسکی حرکت ابن کی حرکت کے تحت ہے۔ مثلاً یا زید بن عمرو۔ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَکیا وہ کر دے گا۔ یا کیا تیرا رب تیری بات مانے گا۔ اگر تو اس سے سوال کرے۔ استطاع اور اطاع ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ جیسے استجاب اور اجاب ٗ ہل تستطیع ربک علی یعنی ہل تستطیع سوال ربک پس مضاف حذف کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس سے سوال کریگا بغیر کسی رکاوٹ کے جو تمہیں سوال سے باز کر دے۔ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا۔ قراءت : مکی اور بصری نے یُنْزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت نمبر 112, 111
تفسیر : (واذا او حیت الی الحوارین) یعنی ان کو الہام کیا اور ان کے دل میں ڈال دیا اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا حکم دیا اور ” الی صلۃ “ ہے اور حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص ساتھی کو کہتے ہیں۔ (ان امنوا بی وبرسولی) رسول سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) پر (قالوا) جب میں نے ان کو توفیق دی (امنا واشھد بافنا مسلمون) ۔
(اذ قال الحواریون یعیسیٰ ابن مریم ھل یستطیع) کسائی (رح) نے ” ھل تستطیع “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” ربک “ کو باء کے زبر کے ساتھ اور یہی حضرت علی ؓ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ابن عباس ؓ ، مجاہد (رح) کی قرأت ہے یعنی کیا آپ کو یہ طاقت ہے کہ اپنے رب سے دعا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(112 ۔ 115) اوپر ان احسانات کا ذکر تھا جو احسانات عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں مریم (علیہا السلام) پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے انہی احسانات میں سے ایک احسان ان آیتوں میں ہے جو احسان اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کریں۔ قرآن شریف میں جس قدر مطلب ہے وہ یہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شرط سے اس خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →299 { ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ } کا معنیٰ و مفہوم ؟ : سو حواریوں کے اس سوال کا مقصد جیسا کہ ترجمہ کے اندر بین القوسین کے الفاظ سے اشارہ کیا گیا ہے یہ تھا کہ کہیں ہماری یہ درخواست حکمت و مصلحت کے خلاف تو نہیں۔ یعنی ان کو حق تعالیٰ کی استطاعت اور قدرت الہٰی میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ تو کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس طرح کا سوال کرنے سے ان کا مقصود و مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری یہ درخواست پیش کرنے اور قبول کرنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ جیسا کہ عام محاورے میں کہا جاتا ہے کہ کیا جناب والا ہماری اس درخواست کو پورا فرماس کیں گے ؟ یا یہ کہ کیا ہم اپنی فلاں درخواست پیش کرسکتے ہیں ؟ یا جیسے گھر میں داخلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور حواریوں کی فرمائش
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے باز پرس کی جائے گی تو قیامت کے دن کا یہ منظر بڑا ہولناک ہے اس میں وہ تمام بات چیت جو اللہ رب العزت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ آیات مذکورہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام حالات پہلے مختلف سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکے ہیں۔ اب سورت کے آخر میں ان تمام حالات کا ذکر جو کہ قیامت کو واقع ہوں گے۔ یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے نصارٰی اور اس سے بعد کے تمام نصارٰی کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–115
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 109 ۔ تا ۔ 115 ۔
اسرار و معارف :
سفارش : اور ہاں اسی پر خوش ہونا کہ باوجود گناہ کے گذارہ چل ہی رہا ہے یا لوٹ کا مال بہت جمع کرلیا ہے دانشمندی کی بات نہین اس لیے کہ ایک دن ایسا آ رہا ہے جب ساری مخلوق کو ایک وقت میں اور ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور یہ میدان حشر ہوگا دنیا اور اس کی زندگی اپنی لذتوں اور رنگینیوں سمیت ختم ہوچکی ہوگی کچھ لوگ تو وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا اور غلط کار تھے عقیدے میں کافر ، عمل میں بدکار ، کچھ دوسرے جنہوں نے عقیدے میں بھی حق کو اختیار کیا اور عمل میں بھی کھرے رہے دو اقسام اور بھی ہوں گی ایک قسم کافروں کی جو دل سے کافر تھے…
Read the full tafseer →ف 7 حواری اللہ و رسول پر ایمان رکھتے تھے جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک کے طور پر نہ تھا بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا جیسا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا (ابن کثیر)8 کیونکہ ایسے معجزات تعین کے ساتھ طلب کرنا تحکم اور تعنت کے مترادف ہے ( کبیر) یا یہ کہ اپنے اند تقویٰ پیدا کرو اور اسے مائدہ کے حصول کا ذریعہ بنا و جیسے فرمایا : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا (الطلاق) یعنی جو اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرمایا ڈرو اللہ سے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
(5:112) ہل یستطیع ربک۔ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ یستطیع مضارع واحد مذکر غائب استنطاع استفعال مصدر۔ حواری تو قبل ازیں دل میں مسلمان ہوچکے تھے اس لئے ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ کسی شک پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ کلام ما بعد وتطمئن قلوبنا سے واضح ہے۔ محض مزید اطمینان قلب اور تقویت ایمان کی خاطر انہوں نے مائدہ طلب کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ رب ارنی کیف تحی الموتی اور خدا تعالیٰ کے ارشاد اولم نؤمن پر فرمایا تھا۔ بلی ولکن لیطمئن قلبی (2:260) لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے۔
مائدۃ۔ کھانا جو دستر خوان پر چنا ہوا ہو۔ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
آیت نمبر 111 تا 115
لغات القرآن : اوحیت (میں نے وحی کی) ۔ الحواریین (الحواری) ۔ مددگار۔ دوست۔ صحابی) ۔ امنوابی (مجھ پر ایمان لاؤ) ۔ اشھد (تو گواہ رہنا) ۔ مسلمون (مسلم) ۔ فرماں بردار) ۔ ھل یستطیع (کیا طاقت ہے ؟ ) ۔ مآئدۃ (دستر خوان (جس میں ہر طرح کے کھانے ہوں) ۔ ناکل (ہم کھائیں گے) ۔ تطمئن (اطمینان ہوجائے گا) ۔ صدقت (تو نے سچ کہا) نکون (ہم ہوجائیں گے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ اللھم (اے میرے اللہ) ۔ انزل (اتاردے۔ نازل کر دے) ۔ عید (خوشی کا دن) ۔ ارزقنا (روزی دے دے) ۔ خیر الرازقین (بہترین رزق دینے والا) ۔ انی منزل (میں اتارنے والا ہوں) ۔ من یکفر (جو ناشکری کرے گا) ۔ اعذب (میں عذاب دوں گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے سے بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ سے کریں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ اس شرط پر خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اس دن کو عید منائیں، جس کا مطلب عیدمیلاد سے ہے اور اس کی تعظیم کریں خوشیاں منائیں، عبادت کریں، شکر بجالائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو ان لوگوں پر سخر عذاب آجاوے گا۔ چناچہ آسمان سے خوان نازل ہوا اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کفر کیا ان کی صورتیں مسخ کرکے سور بنا دئے گئے اور تین روز میں سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[62] یعنی جبرائیل (علیہ السلام) سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
مائدہ :
(ف 2) معجزہ طلبی کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوراق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوارق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر یہ ذہنیت اسے پسند نہیں کہ بات بات پر معجزہ طلب کیا جائے ، اسی لئے جب ان لوگوں نے مائدہ کے نزول کی خواہش کی تو (آیت) ” اتقوا اللہ “ کی تلقین کی گئی یعنی راسخ العقیدہ انسانوں کے لئے زیبا نہیں کہ عجائب پسندی اور کرشمہ آرائی کو مذہب کا احصل قرار دے لیں ،
نزول مائدہ کے لئے مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی ،…
Read the full tafseer →-112 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ان حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے کیا تیرا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان نازل فرمائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر تم اہل ایمان ہو تو اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس قسم کی بےموقع فرمائشیں کرنے سے احتیاط بر تو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
ف 4۔ مطلب یہ کہ تم تو ایماندار ہو اس لیے خدا سے ڈرو اور معجزات کی فرمائش سے کہ بےضرورت ہونے کی وجہ سے خلاف ادب ہے بچو۔
Read the full tafseer →حواریوں کا سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایک لا یعنی سوال کا ذکر :
259: یہ وہی حواری تھے جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے تھے یا ان کے بعد نئے آنے والے لوگ تھے ؟ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا لیکن میرا انشراح اسی میں ہے کہ یہ بعد میں ایمان لانے والے نئے لوگ تھے جو دوسروں کی دیکھا دیکھی اس دعوت کے ساتھ منسلک ہوگئے تھے اور ذہن کے پختہ نہ تھے اس لئے جو ان کے منہ میں آیا انہوں نے کہہ دیا سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ سوال کرنے کے شوق میں بڑی سادگی کے ساتھ کہنے لگے کہ ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کیا تمہارا رب ایسا کرسکتا ہے کہ آسمانوں سے ہم پر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
Commentary
A True Believer Should Not Demand Miracles
When the disciples of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) asked him to make ` Ma'idah' (food-spread) come down from the heavens, he replied by saying: قَالَ اتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين (Fear Allah if you are believers). This tells us that it does not behove a faith-bearing servant of Allah that he should test Him by making such requests. Rather than demand what is supernatural, he should seek things, like sustenance, through sources naturally appointed for him.
The Better the Blessing, the Worse the Curse of Ingratitude
From the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
128. Since the disciples have been mentioned here, the continuity of the subject is interrupted momentarily in order to introduce another incident connected with the disciples. This clearly shows that those who had been directly instructed by Jesus considered him merely a human being and a slave of God; they had no conception of their master either being God or a partner of God or the son of God. Jesus had, rather, presented himself to them as a slave of God with no claims to divine authority.
One might feel inclined here to raise the question: What is the occasion for this parenthetical…
Read the full tafseer →