Explained with ayahs 110–111
جناب مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ کو بنایا، پھر آپ کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت انکی طرف بیہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل ؑ کو اپنے نبی کی تائید پر مقرر کردیا، بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 127
یعنی حواریوں کا تجھ پر ایمان لانا بھی ہمارے فضل اور توفیق کا نتیجہ تھا، ورنہ تجھ میں تو اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اس جھٹلانے والی آبادی میں ایک ہی تصدیق کرنے والا اپنے بل بوتے پر پیدا کرلیتا۔۔ ضمناً یہاں یہ بھی بتادیا کہ حواریوں کا اصل دین اسلام تھا نہ کہ عیسا ئیت۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب کہ میں نے حواریین کو (انجیل میں تمہاری زبانی) حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول (عیسیٰ علیہ السلام) پر ایمان لاؤ انہوں نے (جواب میں تم سے) کہا کہ ہم (خدا اور رسول یعنی آپ پر) ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم (خدا کے اور آپ کے) پورے فرمانبردار ہیں، وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب کہ حواریین نے (حضرت عیسیٰ ؑ سے) عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) کیا آپ کے رب ایسا کرسکتے ہیں (یعنی کوئی امر مثل خلاف حکمت ہونے وغیرہ کے اس سے مانع تو نہیں) کہ ہم پر آسمان سے کچھ کھانا (پکا پکایا) نازل فرمادیں آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو (مطلب یہ کہ تم تو ایمان دار ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
تفسیر آیات 111 تا 115:۔ وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا…
Read the full tafseer →111۔ 1 حَوَارِیِّیْنَ سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار ہیں جو ان پر ایمان لائے ان کے ساتھی اور مددگار بنے۔ ان کی تعداد 21 بیان کی جاتی ہے۔ وحی سے مراد وہ وحی نہیں ہے جو بذریعہ فرشتہ انبیاء ؑ پر نازل ہوتی تھیں بلکہ یہ وحی الہام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض لوگوں کے دلوں میں کردی جاتی تھی، جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ حضرت مریم ؑ کو اسی قسم کا الہام ہوا جسے قرآن نے وحی سے ہی تعبیر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
76: تشریح کے لیے دیکھئے سورة بقرہ (87:2)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔
یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
3 " کرسکتا ہے " اس لئے کہا کہ آپ کی رعایت اور دعا سے ہمارے لئے بطور " خرق عادت " نہ معلوم ایسا کرے یا نہ کرے۔
4 یعنی آسمان کی طرف سے بےمحنت روزی پہنچ جایا کرے۔ یہ ضرور نہیں کہ وہ خوان جنت ہی کا ہو۔
5 یعنی ایماندار بندہ کو لائق نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائشیں کر کے خدا کو آزمائے خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو، روزی ان ہی ذرائع سے طلب کرنا چاہیے جو قدرت نے اس کی تحصیل کے لئے مقرر فرما دیئے ہیں بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان و اعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کو رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ…
Read the full tafseer →آیت 111 وَاِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَبِرَسُوْلِیْ ج
ان کے دل میں ڈال دیا ‘ الہام کردیا ‘ ان کی طرف وحی کردی۔ یہ وحئ خفی ہے۔ ظاہر ہے حواریوں کی طرف وحی جلی تو نہیں آسکتی تھی جو خاصۂ نبوت ہے۔ لیکن جیسا کہ شہد کی مکھی کے لیے وحی کا لفظ آیا ہے النحل : 68 یا جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو وحی کی فصلت : 12 یہ وحئ خفی کی مثالیں ہیں۔
Read the full tafseer →160 عیسائیوں کے مختلف نام۔۔ حواری کون تھے ؟ یہ حواری ہی دراصل سیدنا عیسیٰ کی امت تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان کہا۔ عیسائی یا ناصری یا مسیحی نہیں کہا۔ یہ الفاظ بہت بعد کی پیداوار ہیں۔ اور ان کیلئے یہ نام ان کے دشمنوں یعنی یہود نے ان کیلئے تجویز کیے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) ناصرہ بستی میں پیدا ہوئے اور یہ بستی فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھی۔ اس لحاظ سے یہود انہیں ناصری یا گلیلی بدعتی فرقہ کہتے تھے اور مسیحی بھی دشمنوں کا رکھا ہوا نام تھا جسے بعد میں عیسائیوں نے نہ صرف گوارا کرلیا بلکہ بعد میں اس نسبت پر فخر کرنے لگے اور آج تک مسیحی کہلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسلمان یا انصار یا…
Read the full tafseer →344 ۔ یا یہ کہ ” ہم پورے مسلم ہیں۔ “ ” مسلم “۔ کا لفظ کوئی نوپیدا اصطلاح نہیں، انبیاء کے ماننے والے تو ہمیشہ اور ہر نبی کے دور میں میں مسلم ہی کہلائے ہیں۔ (آیت) ” واذاوحیت الی الحوارین “۔ حواری۔ پر حاشیہ سورة آل عمران میں گزر چکا۔ وحی کا اطلاق عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ وحی کے معنی قلب میں القاء یا الہام کے بھی ہوتے ہیں۔ الوحی کل شی دللت بہ من کلام او کتاب او اشارۃ اور سالۃ (ابن قتیبہ) والوحی فی کلام العرب معناہ الالھام۔۔۔ اے الھمتھم وقذفت فی قلوبھم (قرطبی) المراد بذلک الوحی الالھام والالقاء فی القلب (کبیر) قیل المراد بالوحی الیھم الھامہ تعالیٰ ایاھم (روح) عن السدی یقول قذفت فی قلوبھم (ابن…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَوْ حَیْتُ الی الحواریین، حَوَاریین، حَوَارِیٌّ کی جمع ہے، یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے کہ چونکہ ان کے کپڑے سفید تھے اس واسطے یہ لوگ حواری کہلائے، ابن ابی حاتم نے ضحاک سے نقل کیا ہے کہ حواری نبطی زبان میں دھوبی کو کہتے ہیں، ان کی تعداد بارہ تھی یہاں وحی سے مراد وحی تشریعی نہیں ہے بلکہ یہاں اشارہ اور الہام کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →واذا اوحیت الی الحواریین اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا۔ اس کا عطف اذ کففت پر ہے وحی کرنے سے اس جگہ مراد ہے دل میں ڈالنا۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ : کا اور ابوالشیخ نے سدی کا یہی قول بیان کیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک وحی سے مراد ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی حکم بھیجنا۔
ان امنوا بی وبرسولی کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ۔ اَنْمصدریہ ہے یا اوجیت کی تفسیر ہے۔
قالوا امنا تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے۔
واشہد باننا مسلمون اور (اے عیسیٰ ) آپ گواہ رہیں کہ ہم مخلص ہیں۔
Read the full tafseer →(111) اور جس وقت میں نے حواریین کو جن کو تعداد بارہ تھی، ایمان لانے کا حکم دیا کہ ہم پر اور حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آؤ اور آپ اے عیسیٰ ؑ اس پر گواہ رہیے اور ان میں سے بھی ایک نے ایک پر شہادت دی کہ ہم کامل مومن اور فرما نبردار ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ۔۔ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ ؑ پر احسان تھا کہ حواریوں کو ان کا مخلص ساتھی اور مددگار بنادیا۔ حواری کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں۔ یہاں ”اوحینا“ کا معنی انبیاء والی وحی نہیں بلکہ الہام ہے، جو غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس پر بھی وحی کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے فرمایا : (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى) [ القصص : 7 ] ”اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔“ حالانکہ قرآن مجید میں صاف آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا (کوئی عورت نبی نہیں ہوئی)۔ دیکھیے سورة انبیاء (7) اسی طرح فرمایا : (وَاَوْحٰى رَبُّكَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) واذاوحیت الی الحواریین ان امنوا بی وبرسولی اس آیت کے معانی میں کلام گزرچکی ہے کلام عرب میں وحی کا معنی الہام ہے، وحی کے کئی معانی ہیں۔ وحی بمعنی جبریل کو رسولوں کی طرف بھیجنا اور وحی بمعنی الہام جیسا کہ اس آیت میں ہے یعنی میں نے انہیں الہام کیا اور ان کے دل میں ڈال دیا۔ اسی سے یہ ارشاد ہے : (آیت) واوحی ربک الی النحل (النحل : 68) تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا۔ (آیت) واوحینا الی ام موسیٰ (القصص : 7) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں الہام کیا۔ وحی بمعنی نیند اور بیداری میں آگاہ کرنا بھی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اوحیت کا معنی ہے امرت…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذ اوحیت الی الحواریین سے مراد ہے کہ میں نے ان کے دلوں میں ڈال دیا۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذ اوحیت الی الحواریین سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں جو چیز ڈالی تھی وہ نبوت والی وحی نہیں تھی وحی دو قسم کی ہے۔ ایک وہ وحی ہوتی ہے جس کو فرشتے لے کر آتے ہیں اور ایک وہ وحی ہوتی ہے جو کسی بندے کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ [ اور جب ] اَوْحَيْتُ [ میں پوشیدہ پیغام بھیجا [ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ [ حواریوں کی طرف ] اَنْ [ کہ ] اٰمِنُوْا [ تم لوگ ! ایمان لاؤ ] بِيْ [ مجھ پر ] وَبِرَسُوْلِيْ ۚ [ اور میرے رسول پر ] قَالُوْٓا [ تو انہوں نے کہا ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] وَاشْهَدْ [ اور آپ گواہ رہیں ] بِاَنَّنَا [ اس پر کہ ہم ] مُسْلِمُوْنَ [ فرمابرداری کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
حواریوں کا سوال کرنا کہ مائدہ نازل ہو
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے ایک آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک نے بذریعہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ حکم دیا کہ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور اس کے رسول پر۔ ان لوگوں نے کہ ہم ایمان لائے اور آپ ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ ہوجائیں۔ لفظ اَوْحَیْتَ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وحی تو حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر آتی تھی پھر حواریوں پر کیسے وحی آئی جو نبی نہ تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ وحی کا اصل معنی ہے دل میں ڈال دینا جیسا کہ شہد کی مکھی کے لئے بھی لفظ اَوْحٰی وارد ہوا ہے۔ اَوْحَیْتَ کا معنی اگر یہ لیا جائے تو بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
قصہ نزول مائدہ۔
قال اللہ تعالی۔ واذا اوحیت الی۔۔۔۔ الی۔۔۔ العالمین۔
ربط) ۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے ایک خاص انعام اور خاص معجزہ کا ذکر فرمایا تھا جس سے یہود اور نصاری دونوں ہی کو تنبیہ مقصود ہے یعنی مائدہ کے نازل ہونے کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس کی طرف یہ سورت منسوب ہے یعنی سورة مائدہ کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اس پر آسمان سے مائدہ اتارا جو ان کی نبوت و رسالت کی آیت باہرہ اور حجت قاہرہ تھی اور اس بات کی بھی دلیل تھی کہ جس کے لیے یہ آسمانی رزق کا خوان اتارا جارہا ہے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے کہ من وسلوی کی طرح اس مائدہ سے خدا کا رزق کھائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
175 تمام انبیاء (علیہم السلام) کے اجمالی ذکر کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کیونکہ اس وقت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ان کو غیب دان اور کارساز ماننے والے نصاریٰ تھے جو اس وقت علم و دانش میں اور عبادت و رہبانیت میں مشہور و معروف تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نذریں نیازیں دیتے ان کی خاطر بکرے وغیرہ بلکہ بعض لوگ اپنے بیٹے بھی ذبح کردیتے تھے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے علم غیب اور الوہیت کی نفی فرمائی پہلے اِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسیٰ سے لے کر لَا اُعَذِّبُہٗ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ تک اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربطہ آیات
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اسے ایک مدت تک دنیا میں بھیج کر اپنے احکام کی تعمیل کا حکم دیا ہے۔ اب یہ ایک فطری امر ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال کی باز پرس بھی کرے جو وہ دنیا میں انجام دیتا رہا۔ یہی محاسبہ ہے جو اللہ جل جلالہ قیامت کے دن ہر شخص کے بارے میں کریں گے ، جس طرح کسی انسان کا اس دنیا میں آنا ایک قطعی امر ہے۔ اسی طرح اس کا محاسبہ بھی لازمی ہے۔ چناچہ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع فرمائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جس قوم کی طرف تمہیں مبعوث کیا گیا ، انہوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا۔ رسولوں کے اس اجمالی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيِّيْنَ اَنْ ٰاٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ 0ۚ قَالُـوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ 111
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی،
( و ح ی…
Read the full tafseer →(7) واذ اوحیت الی الحواریین جو لوگ حواریوں کی نبوت کے قائل ہیں وہ وحی سے وحی انبیاء مراد لیتے ہیں اور جو ان کو نبی نہیں سمجھتے تو بمعنی الہام یعنی القاء فی القلب خدا نے حواریوں کے دل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی توفیق پیدا کی سو وہ ایمان لائے۔ جیسا کہ انا جیل سے ثابت ہے۔
(8) اذ قال الحواریون یا عیسیٰ ابن مریم یہ اس وقت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دریائِ طہر یاس کے پاس دعا کی تو خدا نے پانچ روٹیوں اور دو تلی ہوئی مچھلیوں سے پانچ ہزار آدمیوں کو شکم سیر کردیا۔ یہ برکت دینا آسمان یعنی عالم غیب سے مائدہ نازل کرنا ہے جیسا کہ انجیل یوحنا کے 6 باب میں…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَوْ حَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ ج قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْھَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ ۔ (111)
” اور یاد کرو کہ جب حواریوں کے دل میں ‘ میں نے یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائو ‘ تو وہ بولے کہ ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں “۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مذہب اسلام تھا
” حَوَارِیُّوْنَ “ حواری کی جمع ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے ‘ جس کا معنی ہے ” ہمدرد ‘ خیر خواہ ‘ غمگسار اور مددگار “۔ یوں کہنا چاہیے کہ یہ ” انصار “ کا ہم معنی لفظ ہے۔ جس طرح مدینے کے مسلمان ‘ اسلام کی نصرت و تائید اور مسلمانوں کی ہر طرح کی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی یاد کرایا جائے گا۔
اس فرمان کا پس منظر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جب یہودیوں کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کی بنا پر کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر خاص کرم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے دل ہدایت کے لیے کھول دیے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ” اَوْحَیْتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے کہ اے عیسیٰ ! اللہ ہی نے تمہارے حواریوں کے دل میں القا کیا کہ آگے بڑھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ اور اس کے دست وبازو بن جاؤ۔
Read the full tafseer →آیت 111: وَاِذْ اَوْ حیْتُ میں نے الہام کیا۔ اِلَی الْحَوَارِّیِّیْنَ خواص یا چنے ہوئے۔ اَنْ ٰامِنُوْایعنی تم ایمان لائو۔ بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا وَاشْہَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُْوْنَ یعنی تم گواہ ہو کہ ہم اخلاص برتنے والے ہیں ان کے ساتھ۔ جنہوں نے اپنے چہروں کو سپرد کردیا ) ۔ فرمانبردار بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت نمبر 112, 111
تفسیر : (واذا او حیت الی الحوارین) یعنی ان کو الہام کیا اور ان کے دل میں ڈال دیا اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا حکم دیا اور ” الی صلۃ “ ہے اور حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص ساتھی کو کہتے ہیں۔ (ان امنوا بی وبرسولی) رسول سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) پر (قالوا) جب میں نے ان کو توفیق دی (امنا واشھد بافنا مسلمون) ۔
(اذ قال الحواریون یعیسیٰ ابن مریم ھل یستطیع) کسائی (رح) نے ” ھل تستطیع “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” ربک “ کو باء کے زبر کے ساتھ اور یہی حضرت علی ؓ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ابن عباس ؓ ، مجاہد (رح) کی قرأت ہے یعنی کیا آپ کو یہ طاقت ہے کہ اپنے رب سے دعا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
(110 ۔ 111) ۔ اوپر ذکر تھا کہ ہر امت کے نافرمان لوگوں کو قائل کرنے کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب رسولوں سے پوچھے گا کہ تم نے جو اپنی اپنی امتوں کو اللہ کی وحدانیت اور اس کے خالص عبادت کرنے کے احکام پہنچائے تو انہوں نے ان احکام پر کیا عمل کیا۔ ان آیتوں میں یہودونصاری کے قائل کرنے کے لئے خاص طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم (علیہا السلام) کا ذکر فرمایا پیدا ہوتے ہی حضرت مریم ( علیہ السلام) کی گود میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں سے یاتیں کیں اس کا ذکر سورة مریم میں آوے گا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس اولاہنے کا جواب دینے کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →297 لفظ وحی اپنے لغوی معنیٰ میں :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی قابل ذکر ہے جب میں نے حواریوں کے دل میں بات ڈالی۔ یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اپنے معروف معنوں میں نہیں بلکہ القاء والہام کے مفہوم میں ہے۔ کیونکہ وحی اپنے معروف معنیٰ و مفہوم کے اعتبار سے حضرات انبیاء ورسل ہی کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ البتہ اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے یہ غیر انبیاء کے لئے بھی ہوسکتی ہے، بلکہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر شہد کی مکھی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلٰی النَّحْلِ } ۔ (النحل : 68) ۔ سو اسی طرح یہاں بھی ہے کہ حواریوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ بات ڈال دی کہ وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور حواریوں کی فرمائش
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے باز پرس کی جائے گی تو قیامت کے دن کا یہ منظر بڑا ہولناک ہے اس میں وہ تمام بات چیت جو اللہ رب العزت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ آیات مذکورہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام حالات پہلے مختلف سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکے ہیں۔ اب سورت کے آخر میں ان تمام حالات کا ذکر جو کہ قیامت کو واقع ہوں گے۔ یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے نصارٰی اور اس سے بعد کے تمام نصارٰی کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–115
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 109 ۔ تا ۔ 115 ۔
اسرار و معارف :
سفارش : اور ہاں اسی پر خوش ہونا کہ باوجود گناہ کے گذارہ چل ہی رہا ہے یا لوٹ کا مال بہت جمع کرلیا ہے دانشمندی کی بات نہین اس لیے کہ ایک دن ایسا آ رہا ہے جب ساری مخلوق کو ایک وقت میں اور ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور یہ میدان حشر ہوگا دنیا اور اس کی زندگی اپنی لذتوں اور رنگینیوں سمیت ختم ہوچکی ہوگی کچھ لوگ تو وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا اور غلط کار تھے عقیدے میں کافر ، عمل میں بدکار ، کچھ دوسرے جنہوں نے عقیدے میں بھی حق کو اختیار کیا اور عمل میں بھی کھرے رہے دو اقسام اور بھی ہوں گی ایک قسم کافروں کی جو دل سے کافر تھے…
Read the full tafseer →ف 2 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں اور ان سے مراد حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے والے ہی ان کی تعداد بارہ تھی بائیبل میں عموما ان کے لیے لکھا ہے کہ یہ بھی بنی تھے اس صورت میں وحی کا لفظ معروف معنی میں استعمال ہوا ہے اور اگر یہ مان لیں کہ اوہ نبی نہیں تھے تو وحی کا لفظ صرف الہام کے معنی میں ہے جو غیر انبیا کو بھی ہوتا رہتا ہے (کبیر )
Read the full tafseer →(5:111) الحواریین۔ حواری جمع کا صیغہ اس کا مفرد حواری ہے جو حور سے مشتق ہے۔ جس کے معنی سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے ان کو سپیدی سے نسبت اس لئے دی گئی کہ ان کے کپڑے سفید تھے یا بقول بعض وہ دھوبی تھے اور کپڑے دھو کر صاف کیا کرتے تھے اور حواری نبطی زبان میں دھوبی کو کہتے ہیں۔
اوحیت۔ یہاں وحی سے مراد الہام ہے یعنی میں نے بذریعہ الہام ان کے دلوں میں ڈالا۔ اذاوحیت ۔۔ الایۃ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم نے حواریوں کے دل میں بذریعہ الہام یہ بات ڈال دی کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر دل سے ایمان لے آویں تو (انہوں نے تمہاری دعوت الی الحق سنکر اسے قبول کرلیا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
آیت نمبر 111 تا 115
لغات القرآن : اوحیت (میں نے وحی کی) ۔ الحواریین (الحواری) ۔ مددگار۔ دوست۔ صحابی) ۔ امنوابی (مجھ پر ایمان لاؤ) ۔ اشھد (تو گواہ رہنا) ۔ مسلمون (مسلم) ۔ فرماں بردار) ۔ ھل یستطیع (کیا طاقت ہے ؟ ) ۔ مآئدۃ (دستر خوان (جس میں ہر طرح کے کھانے ہوں) ۔ ناکل (ہم کھائیں گے) ۔ تطمئن (اطمینان ہوجائے گا) ۔ صدقت (تو نے سچ کہا) نکون (ہم ہوجائیں گے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ اللھم (اے میرے اللہ) ۔ انزل (اتاردے۔ نازل کر دے) ۔ عید (خوشی کا دن) ۔ ارزقنا (روزی دے دے) ۔ خیر الرازقین (بہترین رزق دینے والا) ۔ انی منزل (میں اتارنے والا ہوں) ۔ من یکفر (جو ناشکری کرے گا) ۔ اعذب (میں عذاب دوں گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ان آیتوں میں یہود و نصاریٰ کے قائل کرنے لئے خاص طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا ذکر فرمایا۔ جبکہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا حال دیکھ کر لوگوں نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو طرح طرح کے الزام دینے شروع کئے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے اس الزام کے جواب دینے کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کیا۔ اس پر وہ الزام دینے والے لوگ تعجب سے کہنے لگے کہ گھڑی دو گھڑی پیدا ہوئے بچہ سے ہم کیا بات چیت کریں گے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے معجزہ کے طور پر فورا ان لوگوں کو سمجھادیا کہ میں اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول ہوں، اور اس کا رسول ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[62] یعنی جبرائیل (علیہ السلام) سے۔
Read the full tafseer →مسیح کے حواری :
(ف 1) موجودہ اناجیل میں مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں کا جو تذکرہ ہے ، وہ نہایت قابل اعتراض ہے ۔
اناجیل میں لکھا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے تمام حواری غیر مخلص تھے ، اب مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے کے لئے جستجو ہوئی تو ایک حواری نے اپنی خدمات پیش کیں اور کہا جس سے میں زیادہ عقیدت کا اظہار کروں ، وہی مسیح ہے ، اس کو پکڑ لینا تعدیت اور انجیل روایات کے ماتحت مسیح (علیہ السلام) انہیں حواریوں کی وجہ سے گرفتار ہوئے اور صلیب پر لٹکائے گئے ۔
قرآن کہتا ہے مسیح (علیہ السلام) کے حواری پاکباز اور مخلص تھے ، جب حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ایمان وتائید کے لئے انہیں مخاطب کیا فورا آمادہ…
Read the full tafseer →-111 اور جب میں نے تیرے مخلص معتقدوں کو حکم دیا کہ مجھ پر اور میرے فرستادوں پر ایمان لائو یعنی انجیل میں یہ حکم دیا اور یا تیری زبانی ان کو کہلاتا اور یا ان کے دل میں توفیق ڈالی تو ا ن حواریوں یعنی مخلص شاگردوں نے کہا ہم ایمان لائے اور اے خدا تو ہمارا گواہ رہ کر ہم پورے فرمانبردار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 3۔ ان سب امور کا حضرت عیسیٰ کے لیے انعام ہونا تو ظاہر ہے لیکن حضرت مریم کے حق میں انعام ہونا اس طور پر ہے کہ ان سب امور سے آپ کا نبی ہوناثابت ہے اور آپ نے ان کی نزاہت کی خبر دی اور نبی کے اخبار سب صادق ہوتے ہیں پس ان کی نزاہت ثابت ہوگئی اور یہ بڑا انعام ہے اور والدہ پر جو انعام ہوا وہ عیسیٰ کو اس لیے یاد دلایا گیا کہ اصول پر انعام ہونا من وجہ فروغ پر بھی ہے کہ ایسے اصول کے فروع ہیں۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو فطری الہام کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ :
258: نبی و رسول بلاشبہ ملہم ہوتا ہے لیکن ہر ملہم نبی و رسول نہیں ہوتا ۔ یہ اس طرح ہے جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ دودھ بلاشبہ سفید ہوتا ہے لیکن ہر سفید چیز دودھ نہیں ہوتی۔ وحی والہام کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض اصناف انبیائے کرام اور رسل عظام کیلئے خاص تھیں لیکن بعض وہ بھی ہیں جو جانوروں ، پرندوں ، چرندوں ، درندوں ، حیوانوں اور شہد کی مکھیوں تک کے لئے خاص ہیں۔ انہی میں سے وہ فطری الہام بھی ہے جو نباتات و جمادات تک کو ہوتا ہے ۔ پھر یہ فطری الہام آخر انسانوں کو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ یقیناً ہوتا رہا ہے ، ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
A Particular Question Asked from Sayyidna ` Isa (علیہ السلام)
The first verse (109) referred to prophets in general where a question was asked and its reply was given. In the second verse (100), and after that, in all the nine verses appearing through the end of the Surah, the text talks about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، the last prophet of the Bani Isra'il, and mentions some blessings of Allah on him. A particular question asked from him on the Day of Resurrection (Al-Mahshar) along with its answer has also been mentioned which follows in verses coming next.
The purpose of the question…
Read the full tafseer →127. Jesus is being told that the faith of the disciples in him was also the result of God's grace and succour, for he, himself, did not have the power to produce even one man of faith in that land of disbelief. It is also made clear that the true religion of the disciples of Jesus was Islam.
Read the full tafseer →