Explained with ayahs 110–111
جناب مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ کو بنایا، پھر آپ کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت انکی طرف بیہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل ؑ کو اپنے نبی کی تائید پر مقرر کردیا، بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 125
ابتدائی سوال تمام رسولوں سے بحیثیت مجموعی ہوگا۔ پھر ایک ایک رسول سے الگ الگ شہادت لی جائے گی جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بتصریح ارشاد ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ ؑ سے جو سوال کیا جائے گا وہ یہاں بطور خاص نقل کیا جارہا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 126
یعنی حالت موت سے نکال کر زندگی کی حالت میں لاتا تھا۔
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ ؑ سے خصوصی سوال و جواب
پہلی آیت میں تو عام انبیاء (علیہم السلام) کا حال اور ان سے سوال و جواب کا تذکرہ تھا، دوسری آیت میں اور اس کے بعد ختم سورت تک کی نو آیات میں خصوصیت سے بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ؑ کا تذکرہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے مخصوص انعامات کی کچھ تفصیل کا بیان ہے، اور محشر میں ان سے ایک خصوصی سوال اور اس کے جواب کا ذکر ہے جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔
حاصل اس سوال و جواب کا بھی بنی اسرائیل اور تمام مخلوق کو یہ ہولناک منظر دکھلانا ہے کہ اس میدان میں جب روح اللہ اور کلمة اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کی امت نے جو آپ کو خدا کا شریک بنایا، تو وہ ساری عزت و عظمت اور عصمت…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۚ وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِيْ وَتُبْرِئُ الْاَكْـمَهَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِيْ ۚ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِيْ ۚ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ…
Read the full tafseer →110۔ 1 اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 87 میں گزرا۔
110۔ 2 گود میں اسوقت کلام کیا، جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے اس نومولود (بچے) کو لے کر اپنی قوم میں آئیں اور انہوں نے اس بچے کو دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا اور اس کی بابت استفسار کیا تو اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ نے شیر خوارگی کے عالم میں کلام کیا اور بڑی عمر میں کلام سے مراد، نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد دعوت تبلیغ ہے۔
110۔ 3 اس کی وضاحت سورة آل عمران کی آیت نمبر 48 میں گزر چکی ہے۔
110۔ 4 ان معجزات کا ذکر بھی مذکورہ سورت کی آیت نمبر 49 میں گزر چکا ہے۔
110۔ 5 یہ اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
76: تشریح کے لیے دیکھئے سورة بقرہ (87:2)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔
یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →8 غالباً یہ پورا رکوع آنے والے رکوع کی تمہید ہے۔ احسانات یاد دلاکر وہ سوال ہوگا جو آئندہ رکوع میں مذکور ہے۔
9 اول تو اولاد پر احسان کرنا من وجہ ماں پر احسان ہے۔ دوسرے ظالم لوگ جو تہمت مریم صدیقہ پر لگاتے تھے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی برات و نزاہت کے لئے برہان مبین بنادیا اور تولد مسیح سے پہلے اور بعد عجیب و غریب نشانات حضرت مریم کو دکھلائے جو ان کی تقویت و تسکین کا باعث ہوئے۔ یہ احسانات بالواسطہ ان پر تھے۔
1 گود میں جو کلام کیا اس کا ذکر سورة مریم میں آئے گا (اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ ) 19 ۔ مریم :30) تعجب ہے کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے "…
Read the full tafseer →آیت 110 اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ
اب روز قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خاص پیشی کا منظر ہے۔ دنیا میں ان کی پرستش کی گئی ‘ ان کو اللہ کا بیٹا بنایا گیا ‘ ثالث ثلاثۃ قرار دیا گیا۔ لہٰذا اب آنجناب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ‘ اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے جب اللہ ان کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم :
اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَالِدَتِکَ 7 اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ
جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے تمہاری تائید کی
تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْْمَہْدِ وَکَہْلاً ج۔
تم شیر خوارگی کی عمر میں بھی لوگوں سے…
Read the full tafseer →158 یعنی پہلے تمام انبیاء سے اجتماعی طور پر پوچھا جائے گا کہ ان کی قوم نے انہیں کیا جواب دیا تھا یا ان کی دعوت کو کس حد تک قبول کیا تھا پھر ہر نبی سے الگ الگ یہی سوال ہوگا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوال و جواب کو بالخصوص اس لیے ذکر کیا گیا کہ آپ کی امت نے مستقلا " کئی خدا بنا لیے تھے۔
159 سوال و جواب سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے احسانات کا تذکرہ کیا ہے یہ احسانات قرآن کریم میں جا بجا مذکور ہیں۔ ان میں اکثر اس مقام پر یک جا کر کے ذکر کیے گئے ہیں۔ اور وہ حسب ذیل ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کے عیسیٰ اور ان کی والد پر احسانات :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے بڑا احسان اور ان کی سب…
Read the full tafseer →336 ۔ انعامات کا سرچشمہ صرف وہی ذات تبارک وتعالیٰ ہے، مسیح (علیہ السلام) اس کے صرف ایک انعام پائے ہوئے معزز ومقرب بندے ہیں، اور والدہ مسیح (علیہ السلام) اس کی صرف ایک انعام پائی ہوئی معزز ومقرب بندی۔ (آیت) ” عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) سے یاد دلادیا گیا کہ وہی جو ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں، نہ کہ ابن اللہ۔ (آیت) ” وعلی والدتک “۔ اس طریق تخاطب سے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اللہ کی اولاد میں ہونا بھی ایک نعمت وشرف ثابت ہوتا ہے۔
337 ۔ مختلف انبیاء کی امتیازی شانیں بھی مختلف رہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان امتیازی یہ تھی کہ آپ کو حضرت جبرئیل (علیہ…
Read the full tafseer →یُکلّمُ الناسَ فی المھد وکَھْلاً ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گود میں اس وقت کلام کیا تھا جب حضرت مریم اس نومولود کو لیکر اپنی قوم میں آئیں اور انہوں نے اس بچہ کو دیکھ کر تعجب کا اظہار اور اس کی بابت استفسار کیا تو اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شیرخوارگی کے عالم میں کلام کیا۔
فائدہ : عالم طفولیت میں کلام کرنے کا معجزہ ہونا تو ظاہر ہے اسلئے کہ کوئی بچہ ماں کی گود میں بڑوں کی طرح بولنے لگے تو یہ اس کا امتیاز اور اعجاز ہوگا، اب رہا ادھیڑ عمر میں کلام کرنا تو یہ نہ کوئی قابل تعجب بات ہے اور نہ قابل ذکر اسلئے کہ بڑے ہو کر ہر آدمی کلام کرتا ہی ہے، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →اذ قال اللہ جب اللہ نے فرمایا۔ یہ یوم یجمع سے بدل ہے یعنی اس روز پیغمبروں سے جواب طلبی کر کے کافروں کو سرزنش کی جائے گی اور پیغمبروں کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر کئے گئے تھے جن کو بعض لوگوں نے جادو قرار دیا تھا اور علامت نبوت ماننے سے انکار کردیا تھا اور بعض نے نشان الوہیت سمجھ کر پیغمبروں کو معبود بنا رکھا تھا ان معجزات کو شمار کر کے کافروں کو توبیخ کی جائے گی۔
یا اذ قالمفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے یعنی یاد کرو۔
یعیسی بن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اے عیسیٰ بن مریم ! میرے اس احسان کو یاد کر جو تیرے اوپر اور تیری ماں پر تھا۔ نعمت کا لفظ اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی جمع کے ہیں کیونکہ اس سے…
Read the full tafseer →(110) اور اسی روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمائے گا کہ میرا انعام جو نبوت اسلام اور عبادت کی صورت میں ہوا، اس کو یاد کرو اور جب کہ جبریل مطہر کے ساتھ تمہیں تائید دی اور لوگوں سے کلام کرنے میں تقویت ملی کہ آپ پنگھوڑے میں کہہ رہے تھے، کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور تیس سال کے بعد تمہیں تقویت دی کہ تم نے اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا اور جب کہ آپ کو تمام آسمانی کتب یا یہ کہ بولنا اور حکماء کی حکمت یا حلال و حرام کی تعلیم دی اور توریت کی جب کہ آپ اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اور انجیل کی وہاں سے نکلنے کے بعد تعلیم دی اور جب کہ تم مٹی کے پرندہ جیسی تصویر بناتے تھے اور پھر میرے حکم سے اس میں پھونک…
Read the full tafseer →چونکہ پیغمبروں سے سوال امتوں کے سرکش لوگوں کو ڈانٹنے اور ملامت کرنے کے لیے ہوگا اور سب سے زیادہ ملامت کے لائق نصاریٰ ہوں گے جنھوں نے عیسیٰ ؑ کو معبود بنا لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد ثابت کی تھی (جس سے اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے) اس بنا پر تمام پیغمبروں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ پر اپنے انعامات ذکر فرمائیں گے اور پھر ان سے سوال ہوگا، اس سے مقصد نصرانیوں کی تردید ہے۔ (کبیر)
اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ : یعنی جبریل ؑ کو تمہاری مدد کے لیے مقرر کردیا تھا۔ پہلا احسان یہ ذکر فرمایا۔
وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ : یہاں ”تَخْلُقُ“ کا لفظ صرف ظاہری شکل و صورت بنانے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 110
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) اذقال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک یہ قیامت کے دن کی صفت ہے گو یا فرمایا : اس دن کو یاد کرو جمع فرمائے گا اللہ تعالیٰ رسولوں کو اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح کہے گا۔ یہ مہدوی کا قول ہے۔ عیسیٰ کا رفع کے مقام پر ہونا بھی جائز ہے اس بنا پر کہ ابن مریم دوسرامنادی ہو اور محل نصب میں ہونا بھی جائز ہے، کیونکہ اس قسم کا منادی منصوب ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : یا حکم بن المنذر بن الجارود اور دوسرے اسم میں رفع جائز نہیں، جب وہ مضاف ہو۔ محمد بن احمد بن عبد الطوال نحوی کے نزدیک جا ئز ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت)…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم، ابن عساکر اور ابن مردویہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو انبیاء کو اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر عیسیٰ کو بلایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے اور ان کو اپنے قرب سے نوازیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لفظ آیت یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک (الایہ) پھر فرمائیں گے لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (الایہ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس بات کا انکار کریں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا۔ تو وہ کہیں گے ہاں عیسیٰ نے ہم کو ایسے ہی حکم کیا تھا تو…
Read the full tafseer →اِذْ [ جب ] قَالَ [ کہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ [ اے عیسیٰ ابن مریم ] اذْكُرْ [ آپ یاد کریں ] نِعْمَتِيْ [ میری نعمت کو ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ [ اور آپ کی والدہ پر ] اِذْ [ جب ] اَيَّدْتُّكَ [ میں تقویت دی آپ کو ] بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ [ روح القدس ] تُكَلِّمُ [ آپ کلام کرتے تھے ] النَّاسَ [ لوگوں سے ] فِي الْمَهْدِ [ گہوارے میں ] وَكَهْلًا ۚ [ اور ادھیڑ عمری کی حالت میں ] وَاِذْ [ اور جب ] عَلَّمْتُكَ [ میں نے علم دیا آپ کو [ الْكِتٰبَ [ کتاب کا ] وَالْحِكْمَةَ [ اور حکمت کا ] وَالتَّوْرٰىةَ [ اور تورات کا ] وَالْاِنْجِيْلَ ۚ [ اور انجیل کا ] وَاِذْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
قیامت کے دن رسولوں سے اللہ جل شانہ کا سوال
ان دو آیات میں سے پہلی آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ جل شانہ قیامت کے دن اپنے رسولوں سے سوال فرمائے گا۔ (جنہیں مختلف امتوں کی طرف دنیا میں مبعوث فرمایا تھا) کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا۔ وہ حضرات جواب میں عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں بیشک آپ غیبوں کے خوب جاننے والے ہیں۔ بظاہر اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔ لہٰذا ان کا یہ جواب دینا کہ ” ہمیں کچھ خبر نہیں “ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے اس کے کئی جواب ہیں جن کو مفسرین کرام نے اکابر سلف سے نقل کیا ہے۔
ایک جواب یہ ہے کہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
خاتمہ احکام سورت برتذکیر آخرت وذکر انعامات و احسانات۔
خداوند انام برعیسی (علیہ الصلوۃ والسلام) برائے اثبات عبدیت و اثبات ورسالت۔
قال اللہ تعالیٰ یوم یجمع اللہ الرسل۔۔۔ الی۔۔۔ سحرمبین۔
ربط) ۔ قرآن مجید میں اللہ کی یہ عادت ہے کہ شرائع اور احکام بیان کرنے کے بعد یا تو اپنی ذات وصفات یا انبیاء کرام کے احوال یا قیامت کے احوال بیان فرماتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور آخرت کا تذکرہ اور استحضار امتثال احکام میں ممد اور معاون ہو اس لیے ختم سورت پر قیامت کا حال ذکر فرمایا کہ اس دین تمام انبیاء مجتمع ہوں گے اور ان کی قوموں اور امتوں کی زجر اور توبیخ کے لیے انہی کے سامنے علی روس الاشہاد سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
175 تمام انبیاء (علیہم السلام) کے اجمالی ذکر کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کیونکہ اس وقت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ان کو غیب دان اور کارساز ماننے والے نصاریٰ تھے جو اس وقت علم و دانش میں اور عبادت و رہبانیت میں مشہور و معروف تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نذریں نیازیں دیتے ان کی خاطر بکرے وغیرہ بلکہ بعض لوگ اپنے بیٹے بھی ذبح کردیتے تھے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے علم غیب اور الوہیت کی نفی فرمائی پہلے اِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسیٰ سے لے کر لَا اُعَذِّبُہٗ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ تک اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربطہ آیات
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اسے ایک مدت تک دنیا میں بھیج کر اپنے احکام کی تعمیل کا حکم دیا ہے۔ اب یہ ایک فطری امر ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال کی باز پرس بھی کرے جو وہ دنیا میں انجام دیتا رہا۔ یہی محاسبہ ہے جو اللہ جل جلالہ قیامت کے دن ہر شخص کے بارے میں کریں گے ، جس طرح کسی انسان کا اس دنیا میں آنا ایک قطعی امر ہے۔ اسی طرح اس کا محاسبہ بھی لازمی ہے۔ چناچہ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع فرمائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جس قوم کی طرف تمہیں مبعوث کیا گیا ، انہوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا۔ رسولوں کے اس اجمالی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰي وَالِدَتِكَ 0ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ 0ۣ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَہْدِ وَكَہْلًا 0ۚ وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَالتَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ 0ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَہَيْئَۃِ الطَّيْرِ بِـاِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْہَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِيْ وَتُبْرِئُ الْاَكْـمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِـاِذْنِيْ 0ۚ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِـاِذْنِيْ 0ۚ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْہُمْ اِنْ ہٰذَآ…
Read the full tafseer →1 ؎ روح القدس سے مراد اکثر کے نزدیک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں بعض کہتے ہیں ایک اور معزز فرشتہ ہے۔ 12 منہ
(2) واذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل کتاب کا بیان توریت و انجیل ہے سو حضرت عیسیٰ ان دونوں 1 ؎ کتابوں کو اور حکمت الہیٰہ اسرار و رموز کو جانتے تھے جیسا کہ لوقا کی انجیل کے 4 باب 16۔ 17 سے ثابت ہے۔
(3) واذا تخلق الخ مٹی کے جانور بنا کے ان میں پھونکنا اور ان کا زندہ ہو کر اڑ جانا۔ یہ معجزہ بھی آپ کا انجیل طفولیت میں موجود ہے۔
(4) وتبریٔ الا کمۃ والا برص باذنی اندھوں اور کوڑھیوں کا شفا دینا بھی لوقا کے 17۔ 18 باب میں مذکور ہے۔
(5) واذتخرج الموتی باذنی مردہ کا زندہ کرنا بھی لوقا…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ مہ اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ قف تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلاً ج وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالاِْنْجِیْلَ ج وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ بِاذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ج وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ ج وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عیسائیوں کے باطل عقیدہ اور برے اعمال کی وجہ سے یہ وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس انداز سے سوال فرمائے گا کہ جس کا ایک ایک لفظ جلالت و تمکنت سے لبریز ہوگا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور بےچارگی کا مجسمہ بنے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو انعامات یاد کرائیں گے کہ میں نے تیری والدہ کو خصوصی کفالت و تربیت سے نوازتے ہوئے زمانے کی عورتوں میں معزز اور محترم ٹھہرایا۔ ان کے لیے بےموسم پھولوں کا انتظام کیا جب ان کی پاک دامنی پر حرف آیا تو تجھ جیسے نو مولود سے ان کی برأت کا اس طرح…
Read the full tafseer →تذکرئہ انعامات :
آیت 110 : اِذْ قَالَ اللّٰہُ یہ یوم یجمع سے بدل ہے۔ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی وَالِدَتِکَ ۔ (اے عیسیٰ بن مریم ! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر کیں) یعنی جب اس کو پاک اور تمام جہان کی عورتوں میں اس کو چنا۔ اِذْ اَیَّدْتُّکَاس میں عا ملنعمتی ہے ایدتک کا معنی میں نے تمہیں قوت دی۔ بِرُوْحِ الْقُدُسِجبرئیل کے ساتھ ان کی مدد کی۔ تاکہ ان پر حجت ثابت ہوجائے۔ یا اس کلام کے ساتھ جس سے دین زندہ ہو۔ اور اس کی اضافت القدس کی طرف اس لیے ہے کیونکہ وہ پاکیزگی کا سبب ہیں۔ گناہ کی چنگاریوں سے۔ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ یہ حال ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
آیت نمبر 110, 109
تفسیر : (یوم یجمع اللہ الرسل) اور وہ قیامت کا دن (فیقول) ان پیغمبروں کو (ماذا اجبتم) یعنی تمہاری امت نے تمہیں کیا جواب دیا تھا اور جب تم نے ان کو میری توحید اور اطاعت کی طرف بلایا تو تمہاری قوم نے کیا جواب دیا ؟ (قالو الا علم لنا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو علم ہے آپ کو اس سے زیادہ علم ہے اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سوال کی حکمت معلوم نہیں کیونکہ آپ کو تو اس کا ہم سے زیادہ علم ہے اور ابن جریج کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمارے بعد انہوں نے دین میں کیا باتیں ایجاد کیں اور ان کا نجام کیا ہوا اس کا ہمیں علم نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ آگے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
(110 ۔ 111) ۔ اوپر ذکر تھا کہ ہر امت کے نافرمان لوگوں کو قائل کرنے کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب رسولوں سے پوچھے گا کہ تم نے جو اپنی اپنی امتوں کو اللہ کی وحدانیت اور اس کے خالص عبادت کرنے کے احکام پہنچائے تو انہوں نے ان احکام پر کیا عمل کیا۔ ان آیتوں میں یہودونصاری کے قائل کرنے کے لئے خاص طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم (علیہا السلام) کا ذکر فرمایا پیدا ہوتے ہی حضرت مریم ( علیہ السلام) کی گود میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں سے یاتیں کیں اس کا ذکر سورة مریم میں آوے گا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس اولاہنے کا جواب دینے کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →آیت 110
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا (ماذا اجبتم) ” تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ “ یعنی اس بارے میں تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا ؟ (قالو لاعلم لنا) ” وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں۔ “ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب ! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے (انک انت علامہ الغیوب) ” تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔ “ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔ (اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک و علی والدتک) ” جب کہا اللہ نے، اے عیسیٰ ابن مریم ! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →289 حضرت عیسیٰ کا خصوصی ذکر اور اس میں پنہاں درسہائے عبرت و بصیرت : حضرات انبیائے کرام کے عمومی ذکر کے بعد اب یہ حضرت عیسیٰ ۔ (علیہ السلام) ۔ کا بطور خاص ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ آنجناب کی محبت کے غلو میں آپ ﷺ کے پیروکاروں نے خاص طور پر بہت شرک کیا۔ یہاں تک کہ ان بدبختوں نے اپنے دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ انہوں نے آپ ﷺ کو خدا، خدا کا بیٹا، عالم غیب، متصرف فی الامور، یہاں تک کہ زندگی و موت کا مالک و مختار بھی مان لیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسی بناء پر یہاں سے اب حضرت عیسیٰ کا ذکر علیحدہ اور مستقل طور پر فرمایا جا رہا ہے تاکہ واضح ہوسکے کہ آنجناب کے بارے میں آپ کی امت نے کیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور حواریوں کی فرمائش
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے باز پرس کی جائے گی تو قیامت کے دن کا یہ منظر بڑا ہولناک ہے اس میں وہ تمام بات چیت جو اللہ رب العزت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ آیات مذکورہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام حالات پہلے مختلف سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکے ہیں۔ اب سورت کے آخر میں ان تمام حالات کا ذکر جو کہ قیامت کو واقع ہوں گے۔ یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے نصارٰی اور اس سے بعد کے تمام نصارٰی کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–115
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 109 ۔ تا ۔ 115 ۔
اسرار و معارف :
سفارش : اور ہاں اسی پر خوش ہونا کہ باوجود گناہ کے گذارہ چل ہی رہا ہے یا لوٹ کا مال بہت جمع کرلیا ہے دانشمندی کی بات نہین اس لیے کہ ایک دن ایسا آ رہا ہے جب ساری مخلوق کو ایک وقت میں اور ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور یہ میدان حشر ہوگا دنیا اور اس کی زندگی اپنی لذتوں اور رنگینیوں سمیت ختم ہوچکی ہوگی کچھ لوگ تو وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا اور غلط کار تھے عقیدے میں کافر ، عمل میں بدکار ، کچھ دوسرے جنہوں نے عقیدے میں بھی حق کو اختیار کیا اور عمل میں بھی کھرے رہے دو اقسام اور بھی ہوں گی ایک قسم کافروں کی جو دل سے کافر تھے…
Read the full tafseer →ف 12 چونکہ پیغمبروں سے سوال امتوں کے سرکش لوگوں کی زجر وتوبیخ کے لیے ہوگا اور سب سے زیادہ ملامت کے لائق نصاری ٰج ہو نگے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو الوہیت کا مقام دے دیا تھا اور اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد ثابت کی تھی تعالیٰ اللہ عن ذالک اس بنا پر تمام پیغمبروں کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ اپنے انعامات بیان فرمائیں گے اور اور پھر ان سے سوال ہوگا اس سے مقصد عیسائیوں کی تردید ہے (کبیر )
1 یعنی حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو تمہاری نصرت و تائید کے لیے مقرر کردیا تھا۔6 یہاں خلق کا لفظ صر ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ حدیث میں کہ…
Read the full tafseer →(5:110) ایدتک۔ میں نے تیری مدد کی۔ ایدت تائید (تفعیل) سے بمعنی مدد دینا۔ قوت دینا۔ ایدن ماضی کا صیغہ واحد متکلم ک ضمیر مفعول۔
بروح القدس۔ جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ۔ روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں یا روح القدس سے مراد پاک مقدس روح ہے کیونکہ ارواح اپنی ماہیت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ کچھ روحیں مقدس پاک۔ نوارانی اور مشرف ہیں اور کچھ ارواح خبیث، مکدر اور آلودہ ہیں یہاں مراد کہ ہم نے ایک پاک۔ صاف۔ مقدس مطہر روح سے نوازا۔
المھد۔ اسم۔ گہوارہ۔ مراد شیرخوارگی کا زمانہ۔ یا ماں کی گود میں۔ فی المھد۔ بحالت طفولیت۔
کھلا۔ ادھیڑ عمر کا آدمی جس کے کچھ بال کالے اور کچھ سفید ہوگئے ہوں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
آیت نمبر 109 تا 110
لغات القرآن : یجمع (وہ جمع کرے گا) ۔ ماذا (کیا ؟ ) ۔ اجبتم (تمہیں جواب دیا گیا) ۔ لاعلم لنا (ہمیں معلوم نہیں ہے) ۔ علام الغیوب (غیب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا) ۔ والدۃ (ماں) ۔ ایدت (میں نے مدد کی۔ تائید کی) ۔ روح القدس (پاک روح) ۔ جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ۔ تکلم (کلام کرے گا) ۔ المھد (گود۔ پالنا) ۔ کھلا (سمجھ داری کی عمر۔ ادھیڑ عمر) ۔ علمت (میں نے سکھایا) ۔ الحکمۃ (حکمت اور عقل و سمجھ کی باتیں) ۔ تخلق (تو بناتا ہے) ۔ الطین (مٹی) ۔ کھیئۃ (جیسے شکل) ۔ الطیر (پرندہ) ۔ اذنی (میری اجازت) ۔ تنفخ (تو پھونک مارتا ہے) ۔ تبری (تو اچھا کرتا ہے) ۔ الاکمہ (پیدائشی اندھا) الابرص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ان آیتوں میں یہود و نصاریٰ کے قائل کرنے لئے خاص طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا ذکر فرمایا۔ جبکہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا حال دیکھ کر لوگوں نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو طرح طرح کے الزام دینے شروع کئے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے اس الزام کے جواب دینے کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کیا۔ اس پر وہ الزام دینے والے لوگ تعجب سے کہنے لگے کہ گھڑی دو گھڑی پیدا ہوئے بچہ سے ہم کیا بات چیت کریں گے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے معجزہ کے طور پر فورا ان لوگوں کو سمجھادیا کہ میں اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول ہوں، اور اس کا رسول ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
[62] یعنی جبرائیل (علیہ السلام) سے۔
Read the full tafseer →(ف 1) مھد وکھل : چونکہ متقابل ہیں اس لئے اطراف میں انتہا مقصود ہے ، یعنی عہد طفولیت میں اور عمر کے آخری حصے میں مسیح گفتگو فرمائیں گئے ، گفتگو سے مراد تبلیغ و اشاعت ہے ۔
(ف 2) میسح (علیہ السلام) کے معجزات ہیں کوڑھی اور اندھے کو اچھا کرنا مقصود ہے ، بلکہ ملا حدہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کوڑھی اور اندھوں کو آزاد بخشتے تھے ، یہ عربیت کے منافی ہے قرآن کے الفاظ سے اس مفہوم کی تائید نہیں ہوتی ” رجل باریٌ کے معنے تندرست آدمی کے ہوتے ہیں ، آزاد کے ۔
نعمت حیات :
(ف 3) آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو جب یہودیوں نے مار ڈالنا چاہا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نعمت حیات سے…
Read the full tafseer →-110 جب اس دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم میرے وہ احسان یاد کر جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کئے ہیں وہ وقت یاد کر جب ایک پاک روح کے ساتھ میں نے تیری تائید کی اور تیری مدد فرمائی تو ماں کی گود میں جب بالکل بچہ تھا لوگوں سے کالم کرتا تھا اور بڑی عمر کا ہو کر بھی کلام کرتا تھا یعنی جب پنگورے میں تھا اور جب پوری عمر کا ہوگیا دونوں حالتوں میں لوگوں سے یکساں کلام کرتا تھا اور یاد کر جب میں نے تجھ کو کتابت اور لکھنا سکھایا اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھائیں اور توریت و انجیل کی تجھ کو تعلیم دی یعنی کتابت سکھائی یا توریت و انجیل کے علاوہ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 3۔ ان سب امور کا حضرت عیسیٰ کے لیے انعام ہونا تو ظاہر ہے لیکن حضرت مریم کے حق میں انعام ہونا اس طور پر ہے کہ ان سب امور سے آپ کا نبی ہوناثابت ہے اور آپ نے ان کی نزاہت کی خبر دی اور نبی کے اخبار سب صادق ہوتے ہیں پس ان کی نزاہت ثابت ہوگئی اور یہ بڑا انعام ہے اور والدہ پر جو انعام ہوا وہ عیسیٰ کو اس لیے یاد دلایا گیا کہ اصول پر انعام ہونا من وجہ فروغ پر بھی ہے کہ ایسے اصول کے فروع ہیں۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) کی امت کے سامنے میدان حشر میں ان پر کئے گئے احسانات کا ذکر :
250: زیر نظر آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو مخاطب فرما کر ان کی قوم کے سامنے جن میں افراط وتفریط سے کام لینے والے دونوں گروہ موجود ہوں گے ارشاد فرمائے گا کہ ” اے مریم کے بیٹے عیسیٰ میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر جو انعام کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ اس ایک ہی فقرہ میں مسیح (علیہ السلام) کی امت کے افراط سے کام لینے والے لوگوں کو ابطال ہوگیا کہ تم نے جس ” مسیح “ کو ” اللہ “ اللہ کا بیٹا “ اور ” اللہ کا تیسرا حصہ “ قرار دیا تھا وہ تو سوائے اس کے کہ اللہ کا ایک منعم بندہ ہوا اور کچھ بھی نہیں تھا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
A Particular Question Asked from Sayyidna ` Isa (علیہ السلام)
The first verse (109) referred to prophets in general where a question was asked and its reply was given. In the second verse (100), and after that, in all the nine verses appearing through the end of the Surah, the text talks about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، the last prophet of the Bani Isra'il, and mentions some blessings of Allah on him. A particular question asked from him on the Day of Resurrection (Al-Mahshar) along with its answer has also been mentioned which follows in verses coming next.
The purpose of the question…
Read the full tafseer →125. The initial question would be addressed to all Prophets as such. Then each of them would be called upon to bear witness separately, as stated in several places in the Qur'an. In this connection the question that will be addressed to Jesus is specifically mentioned here.
126. That is, with God's command Jesus brought people to life from the state of death.
Read the full tafseer →