Explained with ayahs 112–115
نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی
یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
سورة الْمَآىِٕدَة 128
چونکہ حواریوں کا ذکر آگیا تھا اس لیے سلسلہ کلام کو توڑ کر جملہ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریک خدا یا فرزند خدا ہونے کا تصور نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملہ معترضہ کا کونسا موقع ہوگا ؟ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
جب نعمت غیر معمولی بڑی ہو تو ناشکری کا وبال بھی بڑا ہوتا ہے
(قولہ تعالی) فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب نعمت غیر معمولی اور نرالی ہوگی تو اس کی شکر گزاری کی تاکید بھی معمولی سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئے، اور ناشکری پر عذاب بھی غیر معمولی اور نرالا آئے گا۔
مائدہ آسمان سے نازل ہوا تھا یا نہیں ؟ اس بارے میں مفسرین حضرات کا اختلاف ہے جمہور نزول کے قائل ہیں، چناچہ ترمذی کی حدیث میں عمار بن یاسر ؓ سے منقول ہے کہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے (یعنی بعض نے) خیانت کی، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
تفسیر آیات 111 تا 115:۔ وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا…
Read the full tafseer →114۔ 1 اسلامی شریعتوں میں عید کا مطلب یہ نہیں رہا کہ قومی تہوار کا ایک دن ہو جس میں تمام اخلاقی قیود اور شریعت کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بےہنگم طریقے سے طرب و مسرت کا اظہار کیا جائے، چراغاں کیا جائے اور جشن منایا جائے، جیسا کہ آجکل اس کا یہی مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہاں بھی حضرت عیسیٰ ؑ نے اس دن عید منانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم تعریف و تمجید اور تکبیر وتحمید کریں۔ بعض اہل بدعت اس عید مائدہ سے عید میلاد کا جواز ثابت کرتے ہیں حالانکہ اول تو یہ ہماری شریعت سے پہلے کی شریعت کا واقعہ ہے جسے اگر اسلام برقرار رکھنا چاہتا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
77: یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشاء ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ نے دعا فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔
اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ…
Read the full tafseer →1 یعنی وہ دن جس میں مائدہ آسمانی نازل ہو، ہمارے اگلے پچھلے لوگوں کے حق میں عید ہوجائے کہ ہمیشہ ہماری قوم اس دن کو بطور یادگار تہوار منایا کرے۔ اس تقریر کے موافق تکون لنا عیداً کا اطلاق ایسا ہوا جیسا کہ آیۃ " اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُم " کے متعلق بخاری میں یہود کا یہ مقولہ نقل کیا ہے انکم تَقْرَعُونَ اٰیۃ لَوَنَزَلَتْ فِیْنَا لاَ تَّخَذْ نَا ھَا عِیْداً جس طرح آیۃ کو عید بنانے کا مطلب اس کے یوم نزول کو عید بنانا ہے (کما ہو مصرح فی الروایات الاخر) اسی پر مائدہ کے عید ہونے کو بھی قیاس کرلو کہتے ہیں کہ وہ خوان اترا اتوار کو جو نصاریٰ کے یہاں ہفتہ کی عید ہے جیسے مسلمانوں کے یہاں جمعہ۔
2…
Read the full tafseer →آیت 114 قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآءِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ ج
آسمان سے ‘ خاص تیرے ہاں سے کھانے سے بھرے ہوئے دستر خوان کا نازل ہونا یقیناً ہمارے لیے جشن کا موقع ہوگا ‘ ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے ایک یادگار واقعہ اور تیری طرف سے ایک خاص نشانی ہوگا۔
Read the full tafseer →164 لیکن حواری سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے پر بھی اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے۔ آخر عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے حضور ان لوگوں کا یہ مطالبہ پیش کردیا اور دعا کی کہ ان لوگوں کے لیے غیب سے رزق عطا فرما، جو سب اگلوں پچھلوں کے لیے ایک یادگار خوشی کا دن قرار پائے۔ اور یہ ایسا معجزہ ہوگا جسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →348 ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا لیا کہ حواریوں کی غرض فاسد نہیں تو اب ان کے فرمائشی معجزہ کے لئے حضرت حق سے دعا ومناجات کی۔
349 ۔ دعا کے الفاظ (آیت) ” اللھم ربنا، ورزقنا، وانت خیرالرزاقین “۔ کس کس طرح عقیدۂ الوہیت و ربوبیت والے ہیں، خوب خیال کرلیا جائے۔ (آیت) ” اللھم “۔ اور۔ ربنا۔ دونوں میں الوہیت و ربوبیت کا مکرر انتساب حق تعالیٰ کی جانب حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ہے۔ (آیت) ” عیدا “۔ عید کہتے ہیں خوشی کو جو بار بار لوٹ کر آتی رہے۔ یعنی اپنے تہوار کا دن منالیں۔ العید السرور العائد (کشاف) یستعمل العید فی کل یوم فیہ مسرۃ (راغب) ای یکون یوم نزولھا عیدا (مدارک) (آیت) ” لاولنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
آیت نمبر 116 تا 120
ترجمہ : اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی قوم کو سرزنش کرنے کیلئے فرمائیگا، کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود قرار دے لو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نپتے ہوئے عرض کریں گے آپ تو ہر اس چیز (یعنی) شریک وغیرہ سے پاک ہیں جو آپ کی شایان شان نہیں، اور میرے لئے کسی طرح ایسی بات کہنا لائق نہیں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں (بحق) لیس کی خبر ہے اور (لی) تبیین کیلئے (زائد) ہے اگر میں نے (یہ بات) کہی ہوگی تو آپ کو اس کا علم ہوگا اس لئے کہ تو تو میرے دل…
Read the full tafseer →قال عیسیٰ بن مریم اللہم ربنا پھر عرض کیا اے اللہ اے ہمارے رب۔ رَبَّنَا مکرر ندا ہے۔ اللّٰہم کی صفت نہیں ہے نہ بدل ہے کیونکہ اللّٰہمنہ موصوف ہوتا ہے نہ مبدل منہ علامہ تفتازانی نے اس کی صراحت کی ہے۔
انزل علینا مآئدۃ من السمآء ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما دے۔
نکون لنا عیدا جو ہمارے لئے ایک خوشی کی بات ہوجائے۔
لاولنا واخرنا یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے۔ سدی نے کہا یعنی ہمارے زمانہ والوں کے لئے اور آئندہ لوگوں کے لئے خوشی کا دن ہوجائے ہم اس کو تہوار کا دن بنا لیں جو خوشی غم کے بعد آئے اس کو سرور کہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا عید خوشی کے دن کو کہتے ہیں کیونکہ اس میں آدمی رنج سے خوشی کی طرف…
Read the full tafseer →(114) چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ نے آسمان سے کھانا نازل ہونے کی دعا کی یا یہ کہ کھانے کی برکت کی دعا کی کہ ہم میں جو موجودہ زمانہ میں ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں، ان کے لیے ایک خوشی کی چیز ہوجائے تاکہ ہم آپ کی عبادت کریں اور یہ اتوار کا دن تھا اور یہ ایک معجزاتی نشانی ہوجائے، مومنین کے لیے باعث اطمینان قلب اور کفار پر حجت لازم ہونے کے لیے پروردگار ہر نعمت ہمیں عطا کیجیے، آپ سب عطا کرنے والوں سے اچھے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ۔۔ : یہ انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ دعا ہے کہ ”اللھم“ (اے اللہ !) کے ساتھ ”ربنا“ (اے ہمارے پالنے والے !) بھی ملایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ ؑ نہ اللہ تھے، نہ اللہ کے بیٹے، نہ اللہ کے اختیار رکھنے والے، ان کے حواری بھی ان میں سے کسی چیز کے قائل نہ تھے، ورنہ وہ عیسیٰ ؑ سے دعا کیوں کرواتے اور عیسیٰ ؑ بھی اتنی عاجزی کے ساتھ دعا کیوں کرتے، بلکہ ان کے حواری خود ان سے مائدہ کا مطالبہ کرتے اور وہ خود ہی پورا کردیتے۔
تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا : علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ وہ دسترخوان اتوار کے دن اترا، کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 114
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قال عیسیٰ ابن مریم اللھم ربناسیبویہ کے نزدیک اللھم کی اصل یا اللہ ہے دومیم آخر میں یا کا بدل ہیں اور ربنادوسرا منادی ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 261 ) ۔ سیبویہ اس کے علاوہ کوئی صورت جائز قرار نہیں دیتے۔ نعت ہونا جائز نہیں، کیونکہ اصوات مشابہ ہوتی ہیں اس کی وجہ سے جو اس کو لاحق ہوتی ہے۔ (آیت) انزل علینا مائدۃ، مائدہ اس دسترخوان کو کہتے ہیں جس پر کھاناچنا ہواہو۔ اور جس پرکھانانہ ہو اسے خوان کہا جاتا ہے۔ یہ ماد عبدہ سے فاعلۃ کا وزن ہے جب غلام کھانا کھلائے۔ المائدہ جو دیا گیا ہو۔ اسی سے رؤبۃ کا قول ہے، اخفش نے اس کو پڑھا : نھدی رؤس المترفین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(1) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حواری اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہنے سے زیادہ جاننے والے تھے وہ یوں کہیں کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے یوں کہا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے رب سے یہ سوال کرسکے۔
(2) امام حاکم (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد الرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ حوارین کے اس قول لفظ آیت ھل یستطیع ربک کے بارے میں پوچھا کہ یہ اس طرح ہے یا لفظ آیت او تستطیع ربک ہے تو انہوں نے فرمایا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ھل…
Read the full tafseer →قَالَ [ کہا ] عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ [ عیسیٰ ابن مریم نے ] اللّٰهُمَّ [ اے اللہ ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اَنْزِلْ [ تواتار ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مَاۗىِٕدَةً [ ایک چنا ہوا دسترخوان ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] تَكُوْنُ [ وہ ہوجائے گا ] لَنَا [ ہمارے لیے ] عِيْدًا [ خوشی کا دن ] لِّاَوَّلِنَا [ ہمارے پہلوں کے لئے ] وَاٰخِرِنَا [ اور ہمارے پچھلوں کے لئے ] وَاٰيَةً [ اور ایک نشانی ] مِّنْكَ ۚ [ تیری طرف سے ] وَارْزُقْنَا [ اور تو عطا کر ہم کو ] وَاَنْتَ [ اور تو ] خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ [ سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
حواریوں کا سوال کرنا کہ مائدہ نازل ہو
یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے ایک آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک نے بذریعہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ حکم دیا کہ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور اس کے رسول پر۔ ان لوگوں نے کہ ہم ایمان لائے اور آپ ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ ہوجائیں۔ لفظ اَوْحَیْتَ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وحی تو حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر آتی تھی پھر حواریوں پر کیسے وحی آئی جو نبی نہ تھے۔
اصل بات یہ ہے کہ وحی کا اصل معنی ہے دل میں ڈال دینا جیسا کہ شہد کی مکھی کے لئے بھی لفظ اَوْحٰی وارد ہوا ہے۔ اَوْحَیْتَ کا معنی اگر یہ لیا جائے تو بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
قصہ نزول مائدہ۔
قال اللہ تعالی۔ واذا اوحیت الی۔۔۔۔ الی۔۔۔ العالمین۔
ربط) ۔ ان آیات میں اللہ نے حضرت عیسیٰ پر اپنے ایک خاص انعام اور خاص معجزہ کا ذکر فرمایا تھا جس سے یہود اور نصاری دونوں ہی کو تنبیہ مقصود ہے یعنی مائدہ کے نازل ہونے کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس کی طرف یہ سورت منسوب ہے یعنی سورة مائدہ کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اس پر آسمان سے مائدہ اتارا جو ان کی نبوت و رسالت کی آیت باہرہ اور حجت قاہرہ تھی اور اس بات کی بھی دلیل تھی کہ جس کے لیے یہ آسمانی رزق کا خوان اتارا جارہا ہے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے کہ من وسلوی کی طرح اس مائدہ سے خدا کا رزق کھائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
180 یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ سے مائدہ اتارنے کی التجا کی قَالَ اللہُ اللہ نے فرمایا میں ایک بار چھوڑ میں بار بار مائدہ اتارنے کو تیار ہوں لیکن یاد رکھومائدہ اترنے کے بعد جو شخص انکار کرے گا اسے ایسا سخت عذاب دوں گا کہ دنیا میں ایسا سخت عذاب کسی اور کو نہیں دوں گا۔ چنانہ مائدہ اتارا گیا جن کو اللہ نے توفیق دی ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور جنہوں نے اس کے بعد کفر کیا اللہ نے ان کو دنیا میں خنزیر بنا دیا اور آخرت میں بھی ان کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب مائدہ اترنے کے بعد کفر کرنے پر سخت عذاب کی دھمکی نازل ہوئی تو انہوں نے کہا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ربط آیات
مسیح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے ہونے والے انعامات کا ذکر ہو رہا ہے گزشتہ درس میں آپ کے حواریوں کا تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف پھیر دیا ، وہ ایمان لائے اور آپ کے معاون بن گئے۔ پھر انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ نزول مائدہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا اور تنبیہ کی کہ اہل ایمان کو اس قسم کی فرمائش نہیں کرنی چاہئے۔ حواریوں نے اپنے مطالبہ کی وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک و شبہ نہیں اور نہ ہی ہم اللہ تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں بلکہ ہم تو متبرک کھانا اس لئے کھانا چاہتے…
Read the full tafseer →قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَۃً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَۃً مِّنْكَ 0ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 114
«اللهم»
قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا .
مائدَةُ
: الطَّبَق الذي عليه الطّعام، ويقال لكلّ واحدة منها [ مائدة ] ، ويقال : مَادَنِي يَمِيدُنِي، أي : أَطْعَمِني، وقیل : يُعَشِّينى، وقوله تعالی: أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] قيل : استدعوا طعاما، وقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
1 ؎ حواریوں نے کہا امتحان مقصود نہیں بلکہ اس نعمت میں سے کھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ ہمارے اطمینان قلبی اور تیری تصدیق کا باعث ہوگا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ط قَالَ اتَّقُوا اللہ َ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ قَالُوْ نُرِیْدُ اَنْ نَّاکُلَ مِنْھَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لاَِّوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ ط وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ۔ قَالَ اللہ ُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ ج فَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس کی یوں وضاحت ہے۔
(یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا أَنْصَار اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْٓ إِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَار اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاءِفَۃٌ مِّنمْ بَنِی إِسْرَاءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّآءِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ )[ الصف : 14]
” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا کون مددگار ہے ؟ تو حوا ریوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں…
Read the full tafseer →نزولِ مائدہ کی دعا اور قبولیت :
آیت 114: قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآپدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا (عیسیٰ بن مریم نے عرض کی اے اللہ ! اے ہمارے ربّ ! تو ہم پر آسمان سے مائدہ اتار جو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہو) اس کی اصل یا اللہ ہے پس یاء کو حذف کردیا اور اس کے عوض میم لگا دی رَبَّنَایہ ندائے ثانی ہے۔ یعنی اسکے نزول کا دن ہمارے لیے عید کا دن بن جائے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا۔ اسی وجہ سے نصاریٰ نے اس کو عید بنایا۔ العید لوٹنے اور خوشی کو کہتے ہیں۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ یوم عید پس اسکا معنی یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے سرور و خوشی کا باعث ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
آیت نمبر 115, 114, 113
تفسیر : (قالوا نرید) یعنی ہم نے یہ سوال اس وجہ سے کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ (ان نکل منھا) بطور تبرک نہ کہ ضرورت کی وجہ سے تاکہ اللہ کی قدرت کا یقین ہوجائے ( وتطمین (پر سکون ہوجائیں) قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں یعنی ہمارا ایمان و یقین بڑھ جائے اور بعض نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ تیس دن روزے رکھیں جب وہ ان کے بعد افطار کریں گے تو اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا تو انہوں نے تیس دن بعد مائدہ کا سوال کیا اور کہنے لگے کہ ہم جان لیں کہ آپ اپنے اس قول میں سچے تھے کہ تس روزوں کے بعد جو کچھ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
(112 ۔ 115) اوپر ان احسانات کا ذکر تھا جو احسانات عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں مریم (علیہا السلام) پر اللہ تعالیٰ نے فرمائے انہی احسانات میں سے ایک احسان ان آیتوں میں ہے جو احسان اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کریں۔ قرآن شریف میں جس قدر مطلب ہے وہ یہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شرط سے اس خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–120
آیت 111
یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القا کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انہوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ” ہم ایمان لائے، گواہ رہئے کہ ہم مسلمان ہیں “ پس انہوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
قول باری ہے (ذلک ادنیٰ ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک گواہی دیں گے) یعنی واللہ اعلم … یہ طریقہ اس بات سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور نہ ہی اس میں کوئی رد و بدل کریں گے۔
قول باری ہے (او یخافوا ان تردد ایمان بعد ایمانھم، ای کم از کم اس بات کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے گی) یعنی جب یہ دونوں قسم کھائیں کہ ہم نے نہ تو کوئی چیز چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی رد و بدل کیا ہے۔
پھر میت کا کوئی سامان ان کے پاس سے برآمد ہوجائے تو اس صورت میں ورثاء کی قسم ان کی قسموں سے اولیٰ قرار دی جائے گی…
Read the full tafseer →303 پیغمبر کا کام اللہ کے حضور دعا کرنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا، جس طرح کہ آج کے اہل بدعت کا شرکیہ عقیدہ ہے۔ کیونکہ جو مختار کل ہوتا ہے وہ دعا نہیں کیا کرتا بلکہ وہ حکم صادر کرتا ہے۔ پیغمبر کا کام تو دراصل اپنے رب کے حضور دست دعا وسوال بلند کرنا ہوتا ہے اور بس۔ آگے اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ پاک کی مشیت کے تابع اور اس کی مرضی پر موقوف ہوتا ہے جس کی دعا وہ چاہے قبول کرے اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے۔ اپنے پیغمبروں کی دعا وہ عام طور پر اپنے فضل و کرم سے قبول ہی فرماتا ہے۔ لیکن اگر چاہے تو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
سیدنا (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اللہ کی طرف سے وعید
تشریح : اس کی آیات میں ہی موجود ہے یعنی اللہ سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے مائدہ کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ وعید بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–115
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 109 ۔ تا ۔ 115 ۔
اسرار و معارف :
سفارش : اور ہاں اسی پر خوش ہونا کہ باوجود گناہ کے گذارہ چل ہی رہا ہے یا لوٹ کا مال بہت جمع کرلیا ہے دانشمندی کی بات نہین اس لیے کہ ایک دن ایسا آ رہا ہے جب ساری مخلوق کو ایک وقت میں اور ایک جگہ جمع کیا جائے گا اور یہ میدان حشر ہوگا دنیا اور اس کی زندگی اپنی لذتوں اور رنگینیوں سمیت ختم ہوچکی ہوگی کچھ لوگ تو وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نافرمانی کا راستہ اپنایا اور غلط کار تھے عقیدے میں کافر ، عمل میں بدکار ، کچھ دوسرے جنہوں نے عقیدے میں بھی حق کو اختیار کیا اور عمل میں بھی کھرے رہے دو اقسام اور بھی ہوں گی ایک قسم کافروں کی جو دل سے کافر تھے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی تیری توحید نبی کی صحت رسالت پر دلیل قائم ہو۔ (کبیر) امام رازی (رح) لکھتے ہیں : وہ خوان یکشنبہ کو اترا۔ وہ نصاری ٰ کی عید ہے جسے ہمارے لیے یوم جمعہ (کذافی المو ضح) یعنی تیرے سوا کوئی روزی دینے والا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
(5:112) ہل یستطیع ربک۔ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ یستطیع مضارع واحد مذکر غائب استنطاع استفعال مصدر۔ حواری تو قبل ازیں دل میں مسلمان ہوچکے تھے اس لئے ان کا یہ کہنا کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے۔ کسی شک پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ جیسا کہ کلام ما بعد وتطمئن قلوبنا سے واضح ہے۔ محض مزید اطمینان قلب اور تقویت ایمان کی خاطر انہوں نے مائدہ طلب کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ رب ارنی کیف تحی الموتی اور خدا تعالیٰ کے ارشاد اولم نؤمن پر فرمایا تھا۔ بلی ولکن لیطمئن قلبی (2:260) لیکن میں دیکھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ میرا دل اطمینان حاصل کرے۔
مائدۃ۔ کھانا جو دستر خوان پر چنا ہوا ہو۔ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
آیت نمبر 111 تا 115
لغات القرآن : اوحیت (میں نے وحی کی) ۔ الحواریین (الحواری) ۔ مددگار۔ دوست۔ صحابی) ۔ امنوابی (مجھ پر ایمان لاؤ) ۔ اشھد (تو گواہ رہنا) ۔ مسلمون (مسلم) ۔ فرماں بردار) ۔ ھل یستطیع (کیا طاقت ہے ؟ ) ۔ مآئدۃ (دستر خوان (جس میں ہر طرح کے کھانے ہوں) ۔ ناکل (ہم کھائیں گے) ۔ تطمئن (اطمینان ہوجائے گا) ۔ صدقت (تو نے سچ کہا) نکون (ہم ہوجائیں گے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ اللھم (اے میرے اللہ) ۔ انزل (اتاردے۔ نازل کر دے) ۔ عید (خوشی کا دن) ۔ ارزقنا (روزی دے دے) ۔ خیر الرازقین (بہترین رزق دینے والا) ۔ انی منزل (میں اتارنے والا ہوں) ۔ من یکفر (جو ناشکری کرے گا) ۔ اعذب (میں عذاب دوں گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ خواہش کی کہ وہ کھانے سے بھرا ہوا ایک خوان آسمان سے اترنے کی دعا اللہ تعالیٰ سے کریں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ اس شرط پر خوان کے اتارنے کا وعدہ فرمایا کہ خوان کے اترنے کے بعد اس دن کو عید منائیں، جس کا مطلب عیدمیلاد سے ہے اور اس کی تعظیم کریں خوشیاں منائیں، عبادت کریں، شکر بجالائیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو ان لوگوں پر سخر عذاب آجاوے گا۔ چناچہ آسمان سے خوان نازل ہوا اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کفر کیا ان کی صورتیں مسخ کرکے سور بنا دئے گئے اور تین روز میں سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[63] یعنی اپنے تہوار کا دن۔ عید اس خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
مائدہ :
(ف 2) معجزہ طلبی کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوراق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کی عادت قدیم سے بنی اسرائیل میں موجود ہے یہی وجہ ہے انہوں نے اکثر انبیاء سے خوارق ومعجزات طلب کئے ،
اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر یہ ذہنیت اسے پسند نہیں کہ بات بات پر معجزہ طلب کیا جائے ، اسی لئے جب ان لوگوں نے مائدہ کے نزول کی خواہش کی تو (آیت) ” اتقوا اللہ “ کی تلقین کی گئی یعنی راسخ العقیدہ انسانوں کے لئے زیبا نہیں کہ عجائب پسندی اور کرشمہ آرائی کو مذہب کا احصل قرار دے لیں ،
نزول مائدہ کے لئے مسیح (علیہ السلام) نے دعا کی ،…
Read the full tafseer →-114 اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے یوں دعا کی اے ہمارے معبود اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان نازل فرماتا کہ وہ خوان ہمارے موجودہ اور ہمارے بعد کے آنے والوں کے لئے خوشی کا دن ہوجائے … یعنی وہ ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید کا دن مقرر ہوجائے اور آپ کی قدرت کاملہ کا یہ مائدہ ایک نشان ہوجائے اور ہم کو روزی اور روزی پر توفیق شکر عطا فرما اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
ف 4۔ مطلب یہ کہ تم تو ایماندار ہو اس لیے خدا سے ڈرو اور معجزات کی فرمائش سے کہ بےضرورت ہونے کی وجہ سے خلاف ادب ہے بچو۔
Read the full tafseer →نزول مائدہ کے متعلق عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بارگاہ قاضی الحاجات :
261: سمجھ لینا چاہئے کہ ” مائدہ “ اصل میں چیز کیا ہے ؟ مائدہ اس خوان کو کہتے ہیں جس پر کھانے رکھے جاتے ہیں اور اس کھانے کو بھی جو دستر خوان پر رکھا گیا ہو۔ (راغب) اس جگہ (مائدہ) سے مراد وہ کھانا ہی لیا گیا ہے جو کھانے کے لیے دستر خوان پر رکھا گیا ہو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں کے سوال پر پہلے تو ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تنبیہہ فرمائی لیکن جب انہوں نے اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے اور اطمینان قلب کا ذریعہ بننے کا ذکر کیا اور نبوت کی صداقت کے طور پر ” نشان نبوت ‘ ‘ بھی کہا اور دوسروں کے لئے راہ ہدایت کی طرف دعوت دینے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
Commentary
A True Believer Should Not Demand Miracles
When the disciples of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) asked him to make ` Ma'idah' (food-spread) come down from the heavens, he replied by saying: قَالَ اتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين (Fear Allah if you are believers). This tells us that it does not behove a faith-bearing servant of Allah that he should test Him by making such requests. Rather than demand what is supernatural, he should seek things, like sustenance, through sources naturally appointed for him.
The Better the Blessing, the Worse the Curse of Ingratitude
From the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
128. Since the disciples have been mentioned here, the continuity of the subject is interrupted momentarily in order to introduce another incident connected with the disciples. This clearly shows that those who had been directly instructed by Jesus considered him merely a human being and a slave of God; they had no conception of their master either being God or a partner of God or the son of God. Jesus had, rather, presented himself to them as a slave of God with no claims to divine authority.
One might feel inclined here to raise the question: What is the occasion for this parenthetical…
Read the full tafseer →