Al-Maaida 5:105

Al-Maaida · from ayah 105

5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ— لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ ؕ— اِلَی اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌ۚ لَا يَضُرُّكُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اهۡتَدَيۡتُمۡ‌ ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا فَيُـنَـبِّـئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, upon you is [responsibility for] yourselves. Those who have gone astray will not harm you when you have been guided. To Allah is you return all together; then He will inform you of what you used to do.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:105

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والوں! اپنی فکر کرو، جب تم راه راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراه رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وه تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو، تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت یافتہ ہو چکے ہو، تم سب کو اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان کاموں سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمہیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پاچکے، اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! تمہیں اپنی فکر کرنا لازم ہے۔ جب تم خود راہ راست پر ہوگے تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تم سب کی اللہ ہی کی طرف باز گشت ہے وہ تمہیں بتلا دے گا جو تم کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو، اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا پلٹنا ہے، وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، (اصل میں اور سب سے پہلے تو) تم اپنی فکر کرو دوسرے کسی کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جب کہ تم خود ہدایت پر ہو (اور یاد رکھو کہ) بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو، پھر وہ بتادے گا تم کو وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے (زندگی بھر)

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو ! تم اپنی ہی فکر میں لگے رہو کوئی بھی گمراہ ہوجائے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں جب کہ تم راہ پر چل رہے ہوف۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کی واپسی ہے وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر ذمہ داری ہے صرف اپنی جانوں کی جو کوئی گمراہ ہوجائے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا جبکہ تم ہدایت پر ہو اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو اور اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Take heed of your own selves. If you are rightly guided, the error of he who strays will not harm you. To Allah will all of you return; then He will let all of you know what you did.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, take care of your own selves. The one who has gone astray cannot harm you, if you are on the right path. To Allah all of you have to return. Then He will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, take care of your own selves. The one who has gone astray cannot harm you, if you are on the right path. To Allah all of you have to return. Then He will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Take care of yourselves. If you follow the right guidance, no hurt can come to you from those who are in error. The return of you all is to Allah, then He will inform you about (all) that you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Ye have charge of your own souls. He who erreth cannot injure you if ye are rightly guided. Unto Allah ye will all return; and then He will inform you of what ye used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, upon you is [responsibility for] yourselves. Those who have gone astray will not harm you when you have been guided. To Allah is you return all together; then He will inform you of what you used to do.

— Saheeh International

Believers, save your own souls, for if you have the right guidance, no one who strays can harm you. You will all return to God who will tell you about what you have done.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! take care of your souls; he who errs cannot hurt you when you are on the right way; to Allah is your return, of all (of you), so He will inform you of what you did.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! on you resteth the case of yourselves; it can hurt you not as to whosoever strayeth so long as ye keep yourselves guided. Unto Allah is the return of you all; then He shall declare unto you that which ye were wont to work.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Guard your own souls: If ye follow (right) guidance, no hurt can come to you from those who stray. the goal of you all is to Allah: it is He that will show you the truth of all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اپنی اصلاح آپ کرو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہوجائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 119 یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے۔ اسے فکر اپنے خیالات کی، اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے، اور راست روی و راست بازی کے مقتضیات پورے کر رہا ہے، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی۔ اس آیت کا یہ منشاء ہرگز نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اصلاح خلق کی فکر کرنے والوں کو ایک تسلی دوسری آیت میں اصلاح خلق کی فکر میں سب کچھ قربان کرنے والے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ جب تم نے حق کی تبلیغ وتعلیم میں مقدوربھر کوشش کرلی، اور نصیحت و خیر خواہی کا حق ادا کردیا، تو پھر بھی اگر کوئی گمراہی پر جما رہے تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو، اس حالت میں دوسروں کی گمراہی یا غلط کاری سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا، ارشاد فرمایا يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ، یعنی اے مسلمانوں تم اپنی فکر کرو، جب تم راہ پر چل رہے تو جو شخص گمراہ رہے تو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر انسان کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 103–105

تفسیر آیات 103 تا 105:۔ مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اپنی اصلاح اگر کرلی جائے تو کافی ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے۔ لیکن یہ مطلب صحیح نہیں ہے کیونکہ امر بالمعروف کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے گا تو اسکا تارک ہدایت پر قائم رہنے والا کب رہے گا ؟ جب کہ قرآن نے (جب تم خود ہی ہدایت پر چل رہے ہو) کی شرط عائد کی ہے۔ اس لئے جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا ' لوگو ! تم آیت کو غلط جگہ استعمال کر رہے ہو، میں نے تو نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ، جب لوگ برائی ہوتے ہوئے دیکھ لیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو قریب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

72: کفار کی جو گمراہیاں پیچھے بیان ہوئی ہیں ان کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ ہوتا تھا کہ اپنی ان گمراہیوں کے خلاف واضح دلائل آجانے کے بعد اور آنحضرت ﷺ کی طرف سے بار بار سمجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی گمراہیوں پر جمے ہوئے ہیں، اس آیت نے ان حضرات کو تسلی دی ہے کہ تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد تمہیں ان کی گمراہیوں پر زیادہ صدمہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب زیادہ فکر خود اپنی اصلاح کی کرنی چاہیے، لیکن جس بلیغ انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے اس میں ایک تو ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے جو ہر وقت دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کے عیب تلاش کرنے میں تو بڑے شوق سے مشغول رہتے ہیں، مگر خود اپنے گریبان میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر : 105۔ یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (5 : 105) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اگر کفار رسوم شرکیہ اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید سے باوجود اس قدر نصیحت و فہمائش کے باز نہیں آتے تو تم زیادہ اس غم میں مت پڑو۔ کسی کی گمراہی سے تمہارا کوئی نقصان نہیں بشرطیکہ تم سیدھی راہ پر چل رہے ہو۔ سیدھی راہ یہ ہی ہے کہ آدمی ایمان وتقویٰ اختیار کرے، خود برائی سے رکے اور دوسروں کو روکنے کی امکانی کوشش کرے پھر بھی اگر لوگ برائی سے نہ رکیں تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت سے یہ سمجھ لینا کہ جب ایک شخص اپنا نماز روزہ ٹھیک کرلے تو " امر بالمعروف " چھوڑ دینے سے اسے کوئی مضرت نہیں ہوتی، سخت غلطی ہے۔ لفظ " اہتدائ " امربالمعروف وغیرہ تمام وظائف ہدایت کو شامل ہے۔ اس آیت میں گو روئے سخن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 105 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ ط اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس کا ایک غلط مطلب اور مفہوم دور صحابہ رض میں ہی بعض لوگوں نے نکال لیا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے ‘ ہر ایک پر اپنی ذات کی ذمہ داری ہے ‘ کوئی کیا کرتا ہے اس سے کسی دوسرے کو کچھ غرض نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن جو کہہ رہا ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی جانوں کی ہے۔ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ لہٰذا ہر کسی کو بس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

153 سب سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے :۔ یعنی تمہیں سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔ بلکہ اپنے عقائد، اپنے کردار، اخلاق و اعمال کی اصلاح کتاب و سنت کی روشنی میں کرنی چاہیے۔ دوسروں کی کجروی اور گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یعنی سب سے پہلے تمہیں اپنی دینی بنیادیں اس قدر مضبوط بنانا چاہئیں کہ دوسرے لوگوں کی ضلالت تم پر کسی طرح اثر انداز نہ ہو سکے۔ پھر اس کے بعد تمہیں بگڑے ہوئے دوسرے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے جو کچھ بھی کرتے رہیں، تمہیں ان سے بےنیاز ہو کر بس اپنی ہی فکر کرنا چاہئے۔ کیونکہ (اَمَرْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

322 ۔ حکم افراد کو ہے کہ دوسروں کی فکر میں اتنا زیادہ کیوں گھلے جاتے ہو۔ مقدم فکر اپنی ہے۔ اپنے مطالبات دین ادا کئے جاؤ تم پر دوسروں کی ذمہ داری نہیں تم سے پرسش تمہارے ہی احوال کی ہوگی، آیت میں ایک زبردست اصول یعنی شخصی ذمہ داری کا اثبات ہے۔ اور ان لوگوں کا ابطال ہے جو انفرادیت کو اجتماعیت میں گم رکھنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” علیکم انفسکم “۔ یعنی اپنے نفس کی نگرانی اپنے اوپر لازم کرلو۔ معناہ احفظوا انفسکم من المعاصی (قرطبی) (آیت) ” علیکم “۔ محاورہ میں جب صیغہ مخاطب میں آتا ہے تو اس کے معنی لازم پکڑ لینے کے ہوتے ہیں۔ صیغہ غائب وغیرہ میں نہیں آتا۔ تقول علیک زیدا بمعنی الزم زیدا ولا یجوز علیہ زیدا بل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–105

آیت 101 تا 107 ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا ایہا الذین امنوا علیکم انفسکم : (1) [ عفرہ کے آزاد کردہ غلام عمر کی روایت سے ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ آیت یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم کی وجہ نزول یہ ہے کہ بعض لوگ خود تو مسلمان ہوجاتے تھے مگر ان کے باپ بھائی کافر رہتے تھے ایسے مسلمانوں کو جب ایمان کی چاشنی مل گئی تو انہوں نے باپ اور بھائیوں کو بھی اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو باپ دادا کا طریقہ کافی ہے اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔] اے ایمان والو ! اپنی فکر رکھو۔ یعنی اصلاح کو لازم قرار دو ۔ لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم جب تم راہ راست پر قائم رہو گے تو جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) اپنے نفسوں کی فکر کرو کیوں کہ جب تم ایمان پر قائم ہوگے تو کسی گمراہ کی گمراہی جب تم ان سے اس گمراہی کو بیان کر دو گے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، مرنے کے بعد وہ رب کریم تمہاری نیکیاں اور سب تمہیں جتلا دیں گے، یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس وقت اہل کتاب نے جزیہ دینا قبول کرلیا تھا اور ان لوگوں نے نہیں قبول کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ۔۔ : یعنی توحید اور شریعت کے احکام کی اس قدر وضاحت اور بار بار ترغیب دلانے اور اللہ کے احکام کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو، خود سیدھے راستے پر رہو گے تو ان لوگوں کی جہالت کا تم پر کوئی وبال نہیں ہوگا۔ یعنی اپنی اصلاح کی سب سے پہلے فکر کرو، ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی غلطیوں اور عیوب کی فکر میں لگ کر اپنی اصلاح کو بھول ہی جاؤ۔ اگر تم سیدھے راستے پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہارا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے۔ خود سیدھے راستے اور ہدایت پر رہنے میں یہ بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 105 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اس آیت کا ماقبل سے تعلق یہ ہے کہ اس سے ڈرانا ہے جس سے ڈراناواجب ہے۔ یہ اس کی حالت ہے جس کی صفت گزرچکی ہے ان لوگوں میں سے جو اپنے دین میں آباء اور اپنے اسلاف کی تقلید کی طرف مائل ہو اس آیت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قائم کرنا واجب نہیں جب انسان درست ہو اور کسی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑا نہیں جائے گا اگر اس کی سنت میں اور اقاویل صحابہ وتابعین میں اس کی تفسیر وارد نہ ہوتی، جیسا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ذکر کریں گے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) علیکم انفسکم اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، عدنی، ابن منیع اور حمیدی شعبی نے اپنی مسا نید میں، ابو داؤد، ترمذی (اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن ماجہ، ابو یعلی اور کچھ نے سنن میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان اور دار قطنی نے الافراد میں ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور ضیاء نے المختارہ میں قیس (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا اے لوگو تم یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم پڑھتے ہو۔ جبکہ تم اس کو اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں کرتے۔ اور میں نے رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر (ذمہ داری ) ہے ] اَنْفُسَكُمْ ۚ [ اپنے نفوس کی ] لَا يَضُرُّكُمْ [ نقصان نہیں دے گا تم کو ] مَّنْ [ وہ ، جو [ ضَلَّ [ گمراہ ہوا ] اِذَا [ جبکہ ] اهْتَدَيْتُمْ [ تم ہدایت پر ہو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تم کو لوٹنا ہے ] جَمِيْعًا [ سب کو ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ آگاہ کردے گا تم کو ] بِمَا [ اس سے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کی فکر کریں اعمال صالحہ میں لگے رہیں اور گناہ سے بچتے رہیں۔ اگر خود ہدایت پر ہوں گے تو دوسرا کوئی شخص جو گمراہ ہوگا وہ ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ الفاظ کے عموم سے یہ ابہام ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں، لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس وہم کو دور فرما دیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ) پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو کہ نہی عن المنکر ضروری نہیں تمہارا یہ سمجھنا صحیح نہیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم بستم متعلق بحفاظت دین خود۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو علیکم انفسکم۔۔ الی۔۔۔ تعملون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں کفار اور مشرکین کی جہالتوں کو بیان فرمایا اب اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ تم ان معاندین کی فکر میں نہ پڑو تم اپنی ہدایت کی کفر کرو تم ان کی اصلاح کی جو کوشش کرسکتے ہو وہ کرچکے اب اگر یہ لوگ تمہارا کہنا نہیں مانتے اور تمہاری نصیحتوں کو نہیں سنتے اور اپنے عناد اور ضد اور جہالتوں اور ضلالتوں سے باز نہیں آتے تو تمہارا کچھ نقصان نہیں اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو برا کام کرتے دیکھا جائے تو اس کو منع نہ کیا جائے کہ ہمیں اس کی برائی کیا نقصان کرے گی بلکہ مطلب یہ کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

170 اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی جان کی فکر کرنی چاہئے اور دوسروں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے حالانکہ قرآن وسنت سے ثابت ہے کہ ہر شخص اپنی بساط اور اپنے علم کے مطابق تبلیغ فرض ہے۔ یہ الجھن اس وقت پیش آتی ہے جب انفسکم سے ہر آدمی کی اپنی جان مراد لی جائے۔ لیکن محقق مفسرین کی رائے یہ ہے۔ کہ یہاں انفسکم سے تمام اہل اسلام مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے تمام اہل اسلام کو ہلاکت اور اللہ کے عذاب سے بچاؤ۔ جب تم سب ہدایت یافتہ ہوجاؤ گے اور تمہارا ایمان و عمل درست ہوجائے گا تو کفار و مشرکین تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں ان جاہل مشرکوں کا رد فرمایا تھا جنہوں نے محض رسم و رواج کی بناء پر بعض جانوروں کو خود پر حرام قرار دے رکھا تھا اور الٹا اللہ پر افترا باندھتے تھے اس کے بعد گزشتہ درس میں اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ جب ان لوگوں کو قرآن پاک اور پیغمبر (علیہ السلام) کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے آبائو اجداد کا طریقہ ہی کافی ہے ہم اسی پر قائم رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کیا وہ اپنے اجداد ہی کی اتباع کرتے رہیں گے خواہ وہ بےعلم اور گمراہ ہی کیوں نہ ہوں ؟ یہ بڑی بےسمجھی کی بات ہے اور اس سے ایمان والوں کو یقینا صدمہ پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو وہ کفر و شرک کا راستہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ۝ 0ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَيْتُمْ۝ 0ۭ اِلَى اللہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 105 نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( نس ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : علیکم یہاں اسم فعل ہے جس سے انفسکم کو نصب ہوا والتقدیراحفظوا انفسکم ‘ شہادۃ مبتداء مضاف بینکم مجازا مفعول مضاف الیہ۔ اذا حضر اس کا ظرف حین الوصیتہ موت کا یا حضر کا ظرف او جاز ذلک اذا کان المعنی حضر اسباب الموت۔ اثنان خبر ذواعدل منکم اس کی صفت او آخران خبر پر معطوف من غیرکم اس کی صفت اور اسی طرح تحبسونہما مگر ان کے درمیان ان انتم الخ جملہ معترضہ آگیا۔ لانشتری الخ جواب قسم جو یقسمان ہے ان ارتبتم جملہ معترضہ ولوکان ولا نکتم بھی جواب قسم میں داخل ہے استحق کو معروف پڑھا جاوے تو الا ولیان فاعل ہوگا اور مفعول محذوف اے وصیھما اور جو مجہول پڑھا جاوے تو فاعل ضمیر اثم ہے لتقدم ذکرہ و علیھم یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ط اِلَی اللہِ مَرْجِعُکُمْ جِمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ (المائدہ : 105) ” اے ایمان والو ! تم اپنی فکر رکھو ‘ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا ‘ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اللہ کی ہی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو “۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری اور اس کی نوعیت اس آیت کریمہ کا ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے۔ جیسے جیسے اس میں غور کریں نئے نئے مفاہیم ذہن میں آتے ہیں۔ سب سے پہلے اس کے پہلے لفظ کو دیکھئے کہ اے مسلمانو ! تم اپنی فکر رکھو۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ایک مخلص داعی دلائل کے ساتھ جب کسی شخص کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے۔ اور سامع اس کے مقابلے میں بوسیدہ نظریات پیش کرتے ہوئے اپنی جہالت پر اصرار کرے۔ تو داعی کا اس پر دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے اسی کیفیت سے صحابہ کرام ؓ دو چار ہوا کرتے تھے جس پر انھیں تسلی دی گئی ہے۔ صحابہ کرام ؓ اپنے اخلاص اور جدوجہد کے مقابلے میں کفار اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی دیکھتے تو انھیں اس بات پر سخت رنج پہنچتا۔ دل گرفتگی کے عالم میں بار بار سوچتے کہ یہ لوگ کس قدر نا عاقبت اندیش ہیں کہ ہم ان کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی بات کرتے ہیں اور یہ اسے قبول کرنے کے بجائے ہماری جان کے درپے ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اہل عناد کے متعلق خود کو گھلانے (غمگین ہونے) کی ضرورت نہیں : آیت 105: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ۔ (اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو) انفسکم منصوب ہے علیکم کی وجہ سے اور علیکم اسمائے افعال میں سے ہے یعنی اپنے نفوس کی اصلاح کو لازم پکڑو۔ اس میں کاف اور میم موضع جر میں ہیں۔ کیونکہ اسم فعل وہ جار مجرور ہے۔ فقط عَلٰی اکیلا نہیں۔ لَا یَضُرُّکُمْ یہ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یا جواب او کی وجہ سے مجزوم ہے۔ اور راء کا ضمہ تو ضمہ ضاد کی اتباع میں دیا گیا ہے مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ مومن اپنی جانیں اہل عناد کفار پر گھلاتے اور ان کے اسلام میں داخل ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 104–105

آیت نمبر 105, 104 تفسیر : (واذا قیل لھم تعالو الی ماانزل اللہ والی الرسول اور جب کہا جاتا ہے ان کو آئو اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف) کھیتی اور چوپایوں کے حلال کرنے اور شرائع اور احکام کے بیان کرنے میں (قالوا حسبنا ما رجلنا علیہ اباء نا تو ہم کہتے ہیں ہم کو کافی ہے وہ جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو) یعنی دین (اولو کان ابائوھم لایعلمون شیئا والا یھتدون بھلا اگر ان کے باپ دادے نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ راہ جانتے ہوں تو بھی ایسا ہی کریں گے ؟ ) (یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر ذکر تھا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو باوجود وعظ و نصیحت کے بھی راہ راست پر نہیں آتے اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنی ذات سے حلال و حرام کے پابند ہیں اور اپنے بس کے موافق دوسرے کو وعظ و نصیحت بھی کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بد لوگوں کی بدی سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا ہاں جو علماء اور نیک لوگ بدکار لوگوں سے میل پیدا کر کے وعظ و نصیحت بالکل چھوڑ بیٹھیں گے ان سے اس بات کی پرستش ہوگی کہ انہوں نے و عظ و نصیحت کے احکام کی تعمیل میں بےپروائی کیوں کی معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وابن ماجہ میں حذیفہ بن الیمان ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس بستی کے تمام علماء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 105 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے (یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم) ” اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا “ یعنی اپنے نفوس کی اصلاح، ان کو منزل کمال تک پہنچانے اور ان کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی تو وہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو راہ راست سے بھٹک گیا ہے اور دین قیم کے راستے کو اختیار نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیونکہ خود بندے کی ہدایت بھی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ امر بالمعروف اور نہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 103–105

قول باری ہے (ماجعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام) زہری کا قول ہے کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ خدائوں کے نام کردیا جاتا تھا۔ سائبہ اس اونٹنی یا اونٹ کو کہتے تھے جسے خدائوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیاجاتا تھا۔ وصیلہ اس اونٹنی کا نام تھا جو پہلی دفعہ مادہ بچہ جنتی پھر دوسری دوسری بار بھی مادہ بچہ جنتی، ایسی اونٹنی کا نام وصیلہ رکھتے اور کہتے کہ اس نے پے در پے دو دفعہ مادہ بچہ جنا ہے جن کے درمیان کوئی نر بچہ نہیں جنا گیا پھ روہ اسے اپنے خدائوں کے نام ذبح کردیتے۔ حامی اس نر اونٹ کو کہتے تھے جو ایک خاص عدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–106

278 دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنی فکر کرنے کی ضرورت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی فکر کرو دوسرے کسی کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ تم لوگ خود ہدایت پر ہوؤ۔ پس تم لوگوں کو دوسروں کی عیب چینی اور خوردہ گیری کرنے کی بجائے سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ انسان اصل میں اور سب سے پہلے اپنا ہی ذمہ دار ہے۔ اور اپنی ذات ہی کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی۔ پس تم اپنی فکر کرو اور تم سے اسی بارے پوچھ ہوگی۔ زمحشری کہتے ہیں کہ جو لوگ فاسقوں اور فاجروں کے پیچھے پڑنے، ان کی عیب جوئی اور خوردہ گری کرنے ہی کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں وہی اس کے اصل مخاطب ہیں۔ (محاسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–107

صرف راہ ہدایت پر چلو تشریح : صاف ظاہر ہے کہ خود نیک اور اچھے کام کرکے دوسروں کو سبق دینا اور زبان سے بھی اچھی بات کہنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور سبق دینے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ رب العالمین یہی حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے کہنے سننے سے نیکی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تم اپنا خیال کرو کہ کہیں خود بھی اس گمراہ کی راہ اختیار نہ کرلو۔ اس کا اور تمہارا حساب اللہ تعالیٰ خود انصاف سے ضرور لے گا۔ کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور اپنے اعمال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور پھر ان کے مطابق جزا یا سزا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–108

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔ اسرار و معارف : فضول سوالات کی ممانعت : انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–105

ف 1 یعنی شرائع و احکام کی اس قدر و ضاحت اور باربار ترغیب و ترہیب کے باوجود اگر یہ لوگ جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو خود کو ٹھیک رکھو تو ان لوگوں کی جہا لت کا تم پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (کبیر) بعض نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کروے دوسروں کی اصلاح ضرورت نہیں ہے چناچہ اس غلظ فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لتیے ہو میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ برائی کو دیکھیں ارا سے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو بصید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب میں سب کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:105) علیکم انفسکم۔ اپنے نفسوں کی حفاظت کرو۔ تم پر اپنی جانوں کا فکر لازمی ہے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 103–105

آیت نمبر 103 تا 105 لغات القرآن : بحیرۃ (وہ اونٹنی جس کے دودھ کو چھوڑ دیا جاتا اور استعمال نہ کیا جاتا ہو) ۔ سآئبۃ (سانڈ) ۔ وہ اونٹ جو چرنے کھانے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے) ۔ وصیلۃ (وہ اونٹنی جس نے مسلسل مادہ بچے پیدا کئے اور کوئی نر پیدا نہ کیا ہو) ۔ حام (سانڈ۔ جس نے دس بچے جنوائے ہوں) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں) ۔ الکذب (جھوٹ) ۔ لایعقلون (وہ عقل نہیں رکھتے ہیں) ۔ تعالوا (آؤ) ۔ حسبنا (ہمیں کافی ہے) ۔ وجدنا (ہم نے پایا) ۔ اباءنا (اپنے باپ دادا) ۔ لایھتدون (وہ ہدایت نہیں رکھتے ہیں) ۔ علیکم (تمہارے اوپر) ۔ انفسکم (تمہارے اپنے نفس۔ تمہاری جانیں) ۔ لایضر (نقصان نہ دے گا) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ راستہ بھول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نصیحت اور بروقت موت وصیت پر شہادت کا ذکر اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنی ذات سے حلال و حرام کے پابند ہیں اور اپنے بس کے موافق دوسروں کو نصیحت بھی کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بد لوگوں کی بدی سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں جو علماء اور نیک لوگ بدکاروں سے میل جول پیداکرکے وعظ و نصیحت بالکل چھوڑدیں گے ان سے اس بات کی پرسش ہوگی کہ انہوں نے بےپروائی کیوں کی

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–108

[59] مسلمان کفار کی محرومی پر افسوس کرتے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولت اسلام سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں۔ لیکن اس آیت کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں '' لوگو، تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

علیکم انفسکم : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ اصلاح سے قبل صلاح وتقوی کی ضرورت ہے ، اگر ہر شخص بجائے خود نیک اور متقی ہوجائے تو تبلیغ و اشاعت کی قطعا ضرورت نہیں ، سب سے پہلے خود پرہیزگار اور صالح بننے کی حاجت ہے نہ یہ کہ اصلاح اور قیادت کے میدان میں آجائے اور ذاتی طور پر تقوی اور اصلاح نفس کے اسرار سے نامحرم ہو ، وہ شخص جو عامل نہیں ہے ، کتاب وسنت کی پروا نہیں کرتا فرائض میں سست وکاہلی ہے ، معاملات میں اچھا نہیں تھا ایک کو چنداں اہمیت نہیں دیتا ، اس سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں ، وہ جو کچھ کہے گا اور جو کچھ کرے گا ، ریا کاری اور دکھلاوے کے لئے جس کا بالکل اثر نہیں ہوتا ، لہذا قرآن کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-105 اے اہل ایمان تم اپنی اصلاح کو لازم پکڑو اور اپنی جانوں کا فکر تم کو ضروری ہے اگر کوئی شخص باوجود تمہارے سمجھانے اور امر با لا معروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرنے کے بعد بھی نصیحت نہیں قبول کرتا اور گمراہی پر جما رہتا ہے تو تم کو اس کی گمراہی سے کوئی نقصان نہیں پہونچ سکتا جب کہ تم ہدایت پر قائم رہوتم سب لوگوں کی بازگشت اور تم سب کی واپسی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے سو وہ تم کو ان تمام اعمال سے آگاہ اور باخبر کر دے گا جو تم یہاں کیا کرتے تھے یعنی ہدایت پر قائم رہنے والوں کو ان کا پھل ملے گا اور باوجود سمجھانے کے نہ ماننے والوں کو ان کے کئے کا بدلہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–106

ف 1۔ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس سے کوئی کام نہ لیتے جیسے اس ملک میں بعض لوگ سانڈ چھوڑتے ہیں اور وصیلہ وہ ناقہ ہے جو پہلے مادہ بچہ جنے پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی نر اونٹ ہے جو ایک خاص شمار سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے یہ سب باطل اور کفر اور شرک ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والو ! اپنے نفسوں کی نگرانی اپنے پر لازم کرلو اسی میں تمہاری خیر ہے : 241: مخالفین و معاندین اسلام کا کفر پر اصرار دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت کبیدہ خاطر ہوتے تھے۔ اگرچہ نیک فطرت لوگوں کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ دوسروں کا نقصان برداشت نہیں کرسکتے بلکہ وہ ان کے اپنے نقصان سے بھی ان کو زیادہ تکلیف وہ نظر آتا ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ تم اپنی اصلاح اور سلامت روی کے ذمہ دار ہو۔ اگر تم راہ راست پر ثابت قدم رہے تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی ۔ ہر شخص اپنے اعمال کی جزاء و سزاء خود بھگتے گا۔ مقدم فکر اپنی ہے اپنے مطالبات دین ادا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Criterion of Leadership This sentence of the Qur'an gives two clear criterions of choosing a leader. These are having Knowledge (` Ilm) and Guidance (Ihtida' ). Knowledge means the knowing of the desired purpose or destination and the knowing of the methods to reach it, while having Guidance means moving towards the chosen objective. Combined together, it would mean constant effort based on sound knowledge. To explain, it can be said that it is necessary to first find out - before making the choice of a leader - if he is fully conversant with the objectives and methods chosen to be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

119. What is stressed here is that rather than occupying himself unduly with examining faults in the belief and conduct of others, a man should pay greater attention to a critical examination of his own conduct. His primary concern should be with his own faith and conduct. If a man is himself obedient to God, observes his duties to Him and to His creatures including his duty to promote what is good and forbid what is evil, and lives according to the dictates of righteousness and honesty, he has fulfilled his obligation and if others persist either in false beliefs or in moral corruption their…

Read the full tafseer →