Al-Maaida 5:106

Al-Maaida · from ayah 106

5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ ؕ— تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰی ۙ— وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙ— اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا شَهَادَةُ بَيۡنِكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ حِيۡنَ الۡوَصِيَّةِ اثۡـنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ اَوۡ اٰخَرَانِ مِنۡ غَيۡـرِكُمۡ اِنۡ اَنۡـتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ‌ ؕ تَحۡبِسُوۡنَهُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِىۡ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌ ۙ وَلَا نَـكۡتُمُ شَهَادَةَ ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ‏

مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, testimony [should be taken] among you when death approaches one of you at the time of bequest - [that of] two just men from among you or two others from outside if you are traveling through the land and the disaster of death should strike you. Detain them after the prayer and let them both swear by Allah if you doubt [their testimony, saying], "We will not exchange our oath for a price, even if he should be a near relative, and we will not withhold the testimony of Allah. Indeed, we would then be of the sinful."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:106

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائں پھر اگر کوئی شک پڑ جائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں) روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے یسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا گواه ہونا مناسب ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وه دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواه تم میں سے ہوں یا غیر لوگوں میں سے دو شخص ہوں اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور تمہیں موت آ جائے اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز روک لو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے اگر چہ کوئی قرابت دار بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کی بات کو ہم پوشیده نہ کریں گے، ہم اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! جب تم میں سے کوئی مرنے کے قریب ہو تو وصیت کرتے وقت آپس کے معاملات طے کرنے کے لیے گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ تم میں سے دو دیانت دار آدمی ہوں (جو تمہاری وصیت کے گواہ بنیں) یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیروں (یعنی غیر مسلموں) میں سے دو شخص ہوجائیں۔ پھر اگر تمہیں کوئی شک پڑجائے تو ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک سکتے ہو، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس گواہی کے بدلے کوئی مالی فائدہ لینا نہیں چاہتے، چاہے معاملہ ہمارے کسی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ نے ہم پر جس گواہی کی ذمہ داری ڈالی ہے، اس کو ہم نہیں چھپائیں گے، ورنہ ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والوں تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، ان دونوں کو نماز کے بعد روکو وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو وصیت کرتے وقت تمہارے درمیان گواہی (کے لئے) تم میں سے دو عادل شخص ہوں یا تمہارے غیروں میں سے (کوئی) دوسرے دو شخص ہوں اگر تم ملک میں سفر کر رہے ہو پھر (اسی حال میں) تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے تو تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو، اگر تمہیں (ان پر) شک گزرے تو وہ دونوں اللہ کی قَسمیں کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی قیمت حاصل نہیں کریں گے خواہ کوئی (کتنا ہی) قرابت دار ہو اور نہ ہم اللہ کی (مقرر کردہ) گواہی کو چھپائیں گے (اگر چھپائیں تو) ہم اسی وقت گناہگاروں میں ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہاری آپس کی شہادت، جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچے، وصیت کے وقت، دو عدل والے آدمی ہوں گے، جو تم میں سے ہوں، یا دو اور تمہارے غیر سے ہوں، اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، پھر تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے، تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو گے، اگر تم شک کرو، پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم اس کے ساتھ کوئی قیمت نہیں لیں گے، اگرچہ وہ قرابت والا ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت چھپائیں گے، بیشک ہم اس وقت یقینا گنہگاروں سے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وصیت کے وقت اپنے (مسلمانوں) میں سے دو صاحب عدل گواہ بنالے۔ اور اگر تم حالت سفر میں ہو اور تمہیں موت آلے تو دو غیر مسلموں کو بھی گواہ بنا سکتے ہو۔ اگر تمہیں کچھ شک پڑجائے تو ان دونوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو۔ پھر وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہیں کہ ہم (کسی ذاتی مفاد کی خاطر) شہادت کو بیچنے والے نہیں خواہ ہمارا کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور نیز یہ کہ ہم اللہ (کی خاطر) گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور اگر ایسا کریں تو ہم مجرم ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، تمہارے درمیان گواہی بوقت وصیت جب کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچا ہو اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں یا دو دوسرے تمہارے غیروں میں سے اگر تم سفر میں ہو اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے۔ تم ان کو نماز کے بعد روک لو۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو کہ ہم اس کے بدلے میں کوئی قیمت قبول نہیں کریں گے اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم گنہگار ٹھہریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے درمیان گواہی (کا نصاب) جب کہ آپہنچے تم میں سے کسی کو موت، وصیت کے وقت (یہ ہے کہ) دو معتبر آدمی ہوں تم میں سے، یا دوسروں سے (یعنی غیر مسلم ہوں) اگر تم کہیں سفر پر ہوؤ، اور (اس دوران) آپہنچے تم کو موت کی مصیبت اور تم کو مسلمان گواہ میسر نہ آسکیں) تم ان کو روکے رکھو (اے وارثو !) نماز کے بعد، اگر تمہیں ان کے بارے میں شک پڑجائے، پھر وہ دونوں اللہ (کے نام) کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس قسم کے بدلے میں کوئی مال نہیں چاہتے، اگرچہ وہ شخص ہمارا قریبی ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہی ہم چھپاتے ہیں اللہ کی (فرض کردہ) گواہی کو، ورنہ ہم یقینی طور پر گناہ گاروں میں شمار ہوں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو ! جب کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے وصیت کے وقت تمہارے آپس میں گواہ دو شخص تم میں سے معتبر ہوں۔ یا دو گواہ تم میں سے کے علاوہ ہوں۔ جب تم زمین پر سفر کررہے ہو اور تم پر موت کا واقعہ آپہنچے تو اگر تم کو شبہ ہوجائے۔ تو دونوں (گواہوں) کو بعد نماز روک رکھو اور وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے خواہ کسی قرابت دار (ہی کیلئے) ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی چھپائیں گے ورنہ ہم بیشک گنہہ گار ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان تمہارے درمیان شہادت (کا نصاب) ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو تم میں سے دو معتبر اشخاص (بطور گواہ) موجود ہوں تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو اور نہ ہم چھپائیں گے اللہ کی گواہی کو اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کی شرط یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو معتبر آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر مسلموں میں ہی سے دو گواہ لے لیے جائیں۔ پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی بھی ذاتی فائدہ کے لیے گواہی کو بدلنے والے نہیں ہیں، اور چاہے کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہی ہم اللہ کی گواہی چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گار ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! When death approaches you, let two men of equity among you act as witnesses when you make your bequest; or let two of those from others than yourselves act as witnesses if you are on a journey when the affliction of death befalls you. Then if any doubt occurs you shall detain both of them (in the mosque) after the Prayer, and they shall swear by Allah: 'We shall neither sell our testimony in return for any gain even though it concerns any near of kin nor shall we conceal our testimony which we owe to Allah, for then we should become among sinners.'.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when death draws near one of you, that is, at the time of making a will, the evidence (recognized) between you shall be of two witnesses from among you, or of two others not from you, if you are travelling on the earth and the trauma of death visits you. (Then) you shall detain them after the prayer, if you have some doubt, and they shall swear by Allah, :We shall not take a price for it, even if there be a relative; and we shall not conceal the evidence (as due) of Allah, otherwise we should certainly be among the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when death draws near one of you, that is, at the time of making a will, the evidence (recognized) between you shall be of two witnesses from among you, or of two others not from you, if you are travelling on the earth and the trauma of death visits you. (Then) you shall detain them after the prayer, if you have some doubt, and they shall swear by Allah, :We shall not take a price for it, even if there be a relative; and we shall not conceal the evidence (as due) of Allah, otherwise we should certainly be among the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! When death approaches any of you, and you make a bequest, then take the testimony of two just men of your own folk or two others from outside, if you are traveling through the land and the calamity of death befalls you. Detain them both after the Salah (the prayer), (then) if you are in doubt (about their truthfulness), let them both swear by Allah (saying): "We wish not for any worldly gain in this, even though he (the beneficiary) be our near relative. We shall not hide the testimony of Allah, for then indeed we should be of the sinful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Let there be witnesses between you when death draweth nigh unto one of you, at the time of bequest - two witnesses, just men from among you, or two others from another tribe, in case ye are campaigning in the land and the calamity of death befall you. Ye shall empanel them both after the prayer, and, if ye doubt, they shall be made to swear by Allah (saying): We will not take a bribe, even though it were (on behalf of) a near kinsman nor will we hide the testimony of Allah, for then indeed we should be of the sinful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, testimony [should be taken] among you when death approaches one of you at the time of bequest - [that of] two just men from among you or two others from outside if you are traveling through the land and the disaster of death should strike you. Detain them after the prayer and let them both swear by Allah if you doubt [their testimony, saying], "We will not exchange our oath for a price, even if he should be a near relative, and we will not withhold the testimony of Allah. Indeed, we would then be of the sinful."

— Saheeh International

Believers, when death approaches any one of you, let two just men from your own people (Muslims) or any two other men (People of the Book) if death befalls you on a journey, bear witness to the bequest. If you have any doubts as to their honesty, detain them and let them take an oath after the prayer, each one of them saying, "I swear by God that my testimony is true. I am not selling the Truth for a paltry price even though the beneficiary would be one of my relatives. I do not hide the testimony which is the right of God, for then I would be one of the sinners."

— Muhammad Sarwar

O you who believe! call to witness between you when death draws nigh to one of you, at the time of making the will, two just persons from among you, or two others from among others than you, if you are travelling in the land and the calamity of death befalls you; the two (witnesses) you should detain after the prayer; then if you doubt (them), they shall both swear by Allah, (saying): We will not take for it a price, though there be a relative, and we will not hide the testimony of Allah for then certainly we should be among the sinners.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! the testimony amongst you, when death presenteth itself to you, at the making of a bequest shall be that of two equitable persons from amongst you, or two others from amongst those not of you, if ye be journeying in the earth and the affliction of death afflicteth you. O Ye shall detain the twain after the prayer, if ye be in doubt, and they shall swear by Allah affirming: we shall not barter it for a price, even though he be a kinsman, and we shall not hide the testimony of Allah, for then verily we shall be of the sinners.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! When death approaches any of you, (take) witnesses among yourselves when making bequests,- two just men of your own (brotherhood) or others from outside if ye are journeying through the earth, and the chance of death befalls you (thus). If ye doubt (their truth), detain them both after prayer, and let them both swear by Allah: "We wish not in this for any worldly gain, even though the (beneficiary) be our near relation: we shall hide not the evidence before Allah: if we do, then behold! the sin be upon us!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 106–108

معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة الْمَآىِٕدَة 120 یعنی دیندار، راست باز اور قابل اعتماد مسلمان۔ سورة الْمَآىِٕدَة 121 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ آسکے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–108

ربط آیات اوپر مصالح دینیہ کے متعلق احکام تھے، آگے مصالح دنیویہ کے متعلق بعض احکام کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ کردیا کہ حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مثل اصلاح معاد کے اپنے بندوں کی معاش کی اصلاح بھی فرماتے ہیں (بیان القرآن) شان نزول آیات مذکورہ کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص ”بُدیل“ نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں تمیم و عدی کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے۔ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا، شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا، اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی، اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی، مرض جب زیادہ بڑھا، تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ۔ تمام ابواب شہادت پر میثاق : یہ بھی ایک تکیلی و اتمامی حکم ہے جس کی نوعیت ابتدائے سورة میں بیان کردہ بعض احکام کی وضاحت کی ہے۔ سورة کے شروع، آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 تم میں سے ہوں کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہوں اور بعض نے کہا ہے (وصیت کرنے والے) کے قبیلے سے ہوں، اسی طرح (آخران من غيرکم) میں دو مفہوم ہونگے۔ یعنی من غیرکم سے مراد یا غیر مسلم اہل کتاب ہوں گے یا موصی کے قبیلے کے علاوہ کسی اور قبیلے سے۔ 16۔ 2 یعنی سفر میں کوئی ایسا شدید بیمار ہوجائے کہ جسے زندہ بچنے کی امید نہ ہو تو وہ سفر میں دو عادل گواہ بنا کر جو وصیت کرنا چاہے، کر دے۔ 16۔ 3 یعنی مرنے والے موصی کے ورثا کو شک پڑجائے کہ ان اوصیا نے مال میں خیانت یا تبدیلی کی ہے تو نماز کے بعد یعنی لوگوں کی موجودگی میں ان سے قسم لیں اور وہ قسم کھا کے کہیں ہم اپنی قسم کے عوض دنیا کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

73: یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا، وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہوگیا اور اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا ؛ چنانچہ اس نے اپنے دوساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا، ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بناکر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپادی، عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتا نہ چل سکا، انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا، مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 106–108

(آیت) ” 106 تا 108۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی بہتر یہ ہے۔ باقی اگر دو نہ ہوں یا معتبر نہ ہوں تب بھی " وصی " بنا سکتا ہے اور گواہ سے مراد یہاں وصی ہے اس کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر فرما دیا۔ 6 یعنی مسلمانوں میں سے۔ 7 یعنی غیر مسلم۔ 8 یعنی نماز عصر کے بعد کہ وہ وقت اجتماع اور قبول کا ہے شاید ڈر کر جھوٹی قسم نہ کھائیں۔ یا کسی نماز کے بعد یا وصی جس مذہب کے ہوں ان کی نماز کے بعد۔ 1 یعنی جب خدا کے پاس سب کو جانا ہے تو جانے سے پہلے سب کام ٹھیک کرلو۔ اسی میں سے ایک اہم کام ضروری امور کی وصیت اور اس کے متعلقات ہیں۔ ان آیات میں وصیت کا بہترین طریقہ تلقین فرمایا ہے۔ یعنی مسلمان اگر مرتے وقت کسی کو اپنا مال وغیرہ حوالہ کرے تو بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 106 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ مرد مقرر کرلو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہوسکتی۔ اگر جائیداد زیادہ ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ بھی خاصا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ُ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط یا دوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر نکلے ہوئے ہو اور حالت سفر میں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔ یعنی حالت سفر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

154 سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر پر نکلا اور یہ سہمی ایسی جگہ مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ تمیم داری اور عدی اس کا ترکہ لے کر آئے تو سہمی کے وارثوں نے اس میں ایک پیالہ نہ پایا جو چاندی کا تھا اور سونے سے مرصع تھا۔ رسول اللہ نے تمیم اور عدی سے قسم کھانے کو کہا اور وہ قسم کھا گئے کہ (پیالہ ان کے پاس نہیں) پھر وہ پیالہ بازار مکہ سے مل گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تمیم داری اور عدی سے خریدا ہے۔ اب سہمی کے وارثوں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے اور یہ کہ ہماری گواہی ان دونوں سے زیادہ سچی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

324 ۔ قرآن محض ایک پند نامہ اخلاق نہیں قانون کی بھی کتاب ہے زندگی میں قانون اخلاق، خطابت سب ہی کی اپنی اپنی جگہ ضرورت پڑتی ہے اور قرآن نے جو ممکن ہدایت نامہ اور زندگی کا مکمل دستور العمل ہے۔ سب میں اپنی اپنی جگہ کام لیا ہے۔ اس جگہ قانون وصیت ووراثت کا بیان مختلف پہلوؤں سے آرہا ہے۔ (آیت) ” بینکم “۔ یعنی تمہارے آپس کے معاملات میں، مثلا موت کے وقت ورثہ کو مال سپرد کرنے کے وقت (آیت) ” شھادۃ بینکم “۔ اصطلاح فن میں انہی کو وصی کہتے ہیں۔ اور انہی کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں کوئی نہیں مل رہا ہے۔ صرف بہ طور مشورۂ مناسب کے ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” اثنن ذوا عدل منکم “۔ منکم “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 106–107

شان نزول : یآیُّھَا الَّذِیْنَ آمنُوْا شھادۃُ بینکم اذا حَضَرَ احدکم الموت، مذکورہ آیات کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بُدَیل تھا دو شخص کے ساتھ جن کا نام تمیم اور عدی تھا جو اس وقت نصرانی تھے تجارت کیلئے ملک شام گئے شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اپنے سامان میں رکھ دی مگر اس کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو نہ کی جب مرض زیادہ بڑھا تو اس نے اپنے دونوں نصرانی ساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا یہ سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا، انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کے نقش و نگار تھے سامان میں سے نکال لیا، وارثوں نے جب سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا ایہا الذین امنوا شہادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنن : اے مسلمانو ! تمہارے آپس میں دو آدمیوں کا وصی ہونا مناسب ہے جب کہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے کہ وصیت کے وقت۔ شَہَادۃ بینکممبتدا ہے اور اثنان خبر۔ اثنان سے پہلے لفظ شہادت محذوف ہے۔ الفاظ کے اعتبار سے جملۂ خبریہ ہے لیکن معنی امر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ وصیت کے وقت دو آدمی موجود ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اثنان شہادۃ (مصدر) کا فاعل ہو اور شہادۃ مبتدا ہو اور اس کی خبر اس سے پہلے محذوف ہو یعنی جس چیز کی وصیت مردہ نے کی ہے اس پر دو آدمیوں کی شہادت ہو۔ شہادت سے مراد ہے گواہ بنانا یعنی دو آدمیوں کو بلا لینا تاکہ میّت ان سے کہہ دے۔ قصہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(106) حضر ہو یا سفر مرنے والے کی وصیت کے وقت تم میں سے دو آدمیوں کا وصی ہونا جو کہ آزاد ہوں اور تمہاری قوم میں سے ہوں یا غیر دین یا تمہاری قوم کے علاوہ ہوں یا مقیم نہ ہوں، بلکہ کہیں سفر میں ہوں۔ یہ آیت تین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو شام کی طرف سامان تجارت لے کر جارہے تھے ان میں سے ایک بدیل بن ابی ماریہ مولی عمرو بن العاص مسلمان تھے، ان کا انتقال ہوگیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں عدی بن بداء اور تمیم بن اوس جو کہ نصرانی تھے، اپنے انتقال کے وقت وصیت کی، مگر ان دونوں نے وصیت میں خیانت کی تو اللہ تعالیٰ میت کے وارثوں سے فرماتے ہیں کہ ان دونوں نصرانیوں کو عصر کی نماز کے بعد روک لو اور ان سے قسم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 106–108

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 106–108

آیت نمبر 106 تا 108 اس میں ستائیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ مکی نے کہا : یہ تین آیات اہل معانی کے نزدیک قرآن میں اعراب، معنی اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ اس کا کلام ہے جس کے لیے اس کی تفسیر میں اطمینان واقع نہیں ہوا یہ ان کی کتاب میں واضح ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 250 ) ۔ میں کہتا ہوں : مکی نے جو ذکر کیا ہے ابو جعفر نحاس نے بھی اس سے پہلے یہ ذکر کیا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی بن بداء کے سبب نازل ہوئیں۔ بخاری، دارقطنی وغیرہمانے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : تمیم داری اور عدی بن بداء مکہ کی طرف جاتے تھے تو ان کے ساتھ بنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 106–108

(1) امام ترمذی اور اس کو ضعیف قرار دیا، ابن جریر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے معرفۃ میں ابو المنذر کے طریق سے اور وہ کلبی بادان مولیٰ ام ھانی سے روایت نقل کی اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ تمیم داری ؓ سے اس آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس آیت سے سب لوگ بری ہیں سوائے میرے اور عدی بن براء کے یہ دونوں نصرانی تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ شام کی طرف جاتے تھے یہ دونوں اپنی تجارت کے لئے شام آئے ان کے پاس بنو سلیم کا ایک غلام تجارت کا سامان لے کر آیا جسے بدیل بن ابی مریم کہتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ] [ گواہ ہونا تم میں سے دو آدمیوں کا ] [ اِذَا [ جب کبھی ] حَضَرَ [ سامنے آئے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کے ] الْمَوْتُ [ موت ] حِيْنَ الْوَصِيَّةِ [ تو وصیت کے وقت ] اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ [ دو عدل والے ہیں ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَوْ [ یا ] اٰخَرٰنِ [ دوسرے دو ہیں ] مِنْ غَيْرِكُمْ [ تمہارے غیر میں سے ] اِنْ [ اگر ] اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ [ تم لوگ سفر کرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَصَابَتْكُمْ [ پھر آن پہنچے تم کو ] مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ [ موت کی مصیبت ] تَحْبِسُوْنَهُمَا [ تم لوگ روکے رکھوگے دونوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–108

حالت سفر میں اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو قبیلہ بنی سہم میں سے تھا اس کو موت نے آگھیرا اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہیں لہذا اس نے اپنے دونوں ساتھیوں یعنی تمیم داری اور عدی بن بداء کو اپنے مال کی حفاظت اور ورثاء تک پہنچانے کے لئے وصی بنا دیا (اس وقت یہ دونوں ساتھی نصرانی تھے) اس نے اپنے مال کی فہرست بنا کر سامان میں رکھ دی اور اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میرا یہ مال میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان دونوں نے مال تو پہنچا دیا لیکن میت کے وارثوں نے جب فہرست سے سامان کا میلان کیا تو اس میں ایک چاندی کا جام غائب پایا اس جام پر سونے کا کام بھی تھا، انہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–108

حکم بست ویکم متعلق بہ وصیت وشہادت۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو شھادۃ بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لایھدی القوم الفاسقین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں حفاظت دین کا حکم تھا اس آیت میں حفاظت مال کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں کہ مرتے وقت کسی کو وصی اور گواہ بنالینا چاہیے کہ پہلی آیت میں دینی مصلحت کے متعلق حکم تھا اور اس آیت میں دنیوی مصلحت کے متعلق حکم ہے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت میں یہ بیان تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور مال کا حساب دینا پڑے گا اب اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے سے پہلے تم کو وصیت کردینی چاہیے اور اس پر کسی کو گواہ بنالینا چاہیے تاکہ حق ضائع نہ ہو لہذا اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

171 یہ مبتداء ہے اور اِثنٰنِ اس کی خبر ہے۔ خبر سے پہلے شَھَادَۃُ مضاف محذوف ہے اصل میں شَھَادَۃُ اثنَیْنِ مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اسی کا اعراب دے کر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ نماز میں مسلمان جمع ہوتے ہیں اس لیے شہادت کے سامنے ہو تو بہتر ہے۔ شرک فعلی کی نفی کے بعد شہادت (گواہی) کے مضمون کا ذکر بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے اللہ کا کلام اس عیب سے پاک ہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ نذور اللہ اور نذور غیر اللہ کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 106–108

ربط آیات پہلی آیت اللہ نے کثرت سوال سے منع فرمایا۔ پھر مشرکین کے عقائد باطلہ کا رد فرمایا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف آئو تو وہ اپنے آبائو اجداد کے راستے کو ہی پسند کرتے ہیں ، اللہ نے راستے گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور تسلی بھی دی کہ ایسی باتوں سے یقینا ایمان والوں کو تکلیف ہوتی ہے ظاہر ہے کہ شرکیہ اور جہالت والی باتوں کو سن کر ایمان والوں کا دل دکھتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ نے تسلی دی کہ اگر تم ہدایت کے راستے پر قائم رہے تو کفار و مشرکین تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، پھر فرمایا جب دوسرے لوگ تمہاری دعوت کی طرف توجہ ہی نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃُ الْمَوْتِ۝ 0ۭ تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِہٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى۝ 0ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَہَادَۃَ۝ 0ۙ اللہِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ۝ 106 شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–108

1 ؎ خلاصہ یہ کہ وصیت کے وقت جبکہ مرنے لگے تو اپنے مال کے لئے جو اس کو کسی کے سپرد کرنا چاہتا ہو یا اس میں سے کسی کے لئے کچھ وصیت کرنا چاہتا ہو کہ اس میں سے اتنا فلاں کو دیا جاوے آپس کے دو گواہ کرنے چاہییں اور اگر سفر میں موت سامنے آوے تو آپس کے نہ ملیں تو غیر سہی۔ پھر موقع پر نماز کے بعد وہ دو گواہ یہ کہہ کر اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم کو کوئی لالچ نہیں گو جس کے حق میں یہ شہادت ہے ہمارا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور جو ہم ایسا کریں گے تو گنہگار ہیں پھر اگر یہ شہادت ٹھیک ہو تو خیر ورنہ میت کے دو قرابت دار کھڑے ہو کر جن کو میت کے مال اور حال پر پوری طرح واقفیت ہے یہ کہہ کر قسم کھائیں کہ ہماری گواہی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–108

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الاَْرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَیْقْسِمٰنِ بِ اللہ ِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیلا وَلاَ نَکْتُمُ شَھَادَۃَ لا اللہ اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الاْٰثِمِیْنَ ۔ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَھُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَْوْلَیٰنِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 106–108

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔ آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واقعہ تمیم و عدی : آیت 106: روایت میں آیا ہے کہ عمرو بن عاص کے مولی بدیل ؓ شام کی طرف ایک سفر پر نکلے۔ یہ مہاجرین میں سے تھے۔ تمیم و عدی جو دونوں نصرانی تھے وہ ان کے ساتھ تھے۔ حضرت بدیل ؓ بیمار ہوئے انہوں نے ایک پر چہ لکھا جس میں اپنے سارے سامان کا اندارج کیا۔ اور اس کو سامان میں رکھ دیا۔ اور اس رقعہ کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو نہ دی۔ اور ان کو وصیت کی کہ یہ سامان میرے گھر دے دینا۔ وہ فوت ہوگئے انہوں نے ان کے سامان کو ٹٹولا اور ایک چاندی کا پیالہ اس میں سے لے لیا۔ بدیل کے اہل و عیال نے پیالہ نہ پایا تو ان سے پیالہ کا مطالبہ کیا۔ تو انہوں نے انکار کردیا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 106 تفسیر : (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اے ایمان والو ! گواہ درمیان تمہارے) یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم کا شان نزول اس آیت کا شان نزول وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ تمیم بن اوس واری اور عدی بن زید مدینہ سے تجارت کے لیے شام کی طرف گئے ، یہ دونوں نصرانی تھے اور ان دونوں کے ساتھ عمرو بن عاص ؓ کے مولیٰ بدیل تھے جو کہ مسلمان ہوچکے تھے۔ شام پہنچ کر حضرت بدیل ؓ بیمار ہگئے تو انہوں نے ایک خط میں اپنے تمام سامان کی تفصیل لکھ کر اس کو تھیلے میں ڈال دیا اور اپنے دونوں ہم سفروں کو اس بات کی خبر نہیں کی۔ جب مرض نے شدت پکڑی تو حضرت بدیل ؓ نے تمیم اور عدی کو وصیت کی کہ ان کا سامان ان کے گھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 106–108

(106 ۔ 108) ۔ ترمذی، ابو داؤد، تفسیر ابن جریر وغیر میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک شخص مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان شخص بیمار ہو کر جب قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کر یہ وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا وہ کٹورا نصرانیوں نے اس مال میں سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمانوں کے وارثوں کو دے دیا اس کٹورے کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 106–109

آیات 106 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آجائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ (اواخرن من غیرکم) ” یا دوسرے دو گواہوں تمہارے سوا “ یعنی مسلمانوں کے سوا کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں (ان انتم ضربتم فی الارض) ” جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو “ (فاصابتکم مصیبۃ الموت) ” اور پہنچے تمہیں مصیبت موت کی “ یعنی تم ان دونوں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 106–107

سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنے کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم، اے ایمان لانے والو ! تمہارے درمیان شادت کا نصاب یہ ہے) اس آیت میں شہادت یعنی گواہی کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ ا س سے مراد سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنا ہے ۔ اس بنا پر انہوں نے سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے۔ شعبی نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ ایک مسلمان دقوقا کے مقام پر وفات پا گیا۔ جب موت کا وقت آگیا تو اسے اپنی وصیت پر گواہ بنانے کے لئے کوئی مسلمان نہیں ملا۔ اس نے دو اہل کتاب کو گواہ بنا لیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ان دونوں سے عصر کے بعد حلفاً یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–106

278 دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنی فکر کرنے کی ضرورت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی فکر کرو دوسرے کسی کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ تم لوگ خود ہدایت پر ہوؤ۔ پس تم لوگوں کو دوسروں کی عیب چینی اور خوردہ گیری کرنے کی بجائے سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ انسان اصل میں اور سب سے پہلے اپنا ہی ذمہ دار ہے۔ اور اپنی ذات ہی کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی۔ پس تم اپنی فکر کرو اور تم سے اسی بارے پوچھ ہوگی۔ زمحشری کہتے ہیں کہ جو لوگ فاسقوں اور فاجروں کے پیچھے پڑنے، ان کی عیب جوئی اور خوردہ گری کرنے ہی کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں وہی اس کے اصل مخاطب ہیں۔ (محاسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–107

صرف راہ ہدایت پر چلو تشریح : صاف ظاہر ہے کہ خود نیک اور اچھے کام کرکے دوسروں کو سبق دینا اور زبان سے بھی اچھی بات کہنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور سبق دینے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ رب العالمین یہی حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے کہنے سننے سے نیکی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تم اپنا خیال کرو کہ کہیں خود بھی اس گمراہ کی راہ اختیار نہ کرلو۔ اس کا اور تمہارا حساب اللہ تعالیٰ خود انصاف سے ضرور لے گا۔ کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور اپنے اعمال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور پھر ان کے مطابق جزا یا سزا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–108

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔ اسرار و معارف : فضول سوالات کی ممانعت : انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی دو دیندار اور راست باو و قابل اعتماد شخصوں کی۔3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی کافر کو اپنے معاملہ میں اسی وقت شاہد بنا سکتا ہے جب مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ ہوں بعض صحابہ اور تابعین کا یہی مسلک ہے اور امام ارازی فرماتے ہیں کہ او من غیر کم کی تفسیر غیرک مسلم سے کرنا سیاق آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (کبیر، شوکانی4 یا کسی بھی نماز کے بعد لیکن اکثر علما عصر کی نماز کے بعد ہی کے قائل ہیں کیونکہ اس وقت جھوٹی شہادت دینے والے پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے، (شوکانی)5 خلاصہ یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ مرتے وقت اپنی وصیت پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنائے لیکن سفر کی حالت میں مسلمان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:106) شھادۃ بینکم ذواعدل منکم۔ آپس میں تمہاری گواہی تم میں سے دو معتبر اور صاحب عدل شخص ہیں۔ اواخران یا دو اور شخص من غیرکم غیروں میں سے ۔ غیر قبیلہ۔ غیر مسلم (جمہور) تحبسوبھما تم ان دونوں کو روک لو۔ ھبس یحبس (ضرب) روکے رکھنا مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ان ارتبتم۔ اگر تم شک میں پڑے۔ اگر تمہیں شک پڑجائے۔ ارتاب (افتعال) ریب (مادہ) لا نشتری بہ ۔۔ لمن الاثمین۔ یہ الفاظ جن گواہان سے قسم لی جارہی ہے وہ کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 106–108

آیت نمبر 106 تا 108 لغات القرآن : شھادۃ (گواہی) ۔ حضر (آیا۔ حاضر ہوا) ۔ الوصیۃ (وصیت کرنا) ۔ اثنین (دو ) ۔ ذوا عدل (دو انصاف والے) ۔ اخران (دوسرے دو ) ۔ من غیرکم (تمہارے سوا اوروں میں سے) ۔ ضربتم (تم چلے۔ تم نے سفر کیا) اصابت (پہنچ گئی) ۔ مصیبۃ (مصیبت) ۔ تحسبون (تم روک لو) ۔ یقسمن (وہ دونوں قسم کھائیں) ۔ ارتبتم (تمہیں شبہ ہوا) ۔ لانشتری (ہم نہیں خریدتے۔ نہیں لیتے) ۔ ثمن (قیمت۔ مال) ۔ ذاقربی (رشتہ دار) ۔ الاثمین (الاثم) ۔ گناہ گار عثر (مطلع ہوا۔ واقف ہوا) ۔ استحقا (حق دبا لیا) ۔ یقومن (دو کھڑے ہوں) ۔ مقام (جگہ) ۔ استحق (جس نے حق دبایا) ۔ الاولیین (قریبی رشتہ دار ہوں) ۔ احق (زیادہ حق دار ہے) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 106–108

شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان جب بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی۔ اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کو وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا۔ اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا۔ وہ کٹورا ان نصرانیوں نے اس مال سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمان کے وارثوں کو دے دیا۔ اس کٹورا کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی۔ اس مسلمان کے وارثوں نے جب مال کی گٹھڑی اچھی طرح کھولی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–108

[59] مسلمان کفار کی محرومی پر افسوس کرتے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولت اسلام سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں۔ لیکن اس آیت کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں '' لوگو، تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 106–108

(ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں حفظ مال کا ، واقعہ یہ ہے کہ تمیم انصاری اور اس کا بھائی تجارت کی غرض سے ملک شام کی جانب نکلے ، اس کے ساتھ بدیل عمرو بن عاص کا غلام بھی تھا ، جو مسلمان تھا راستے میں بدیل یکایک بیمار ہوگیا ، اس لئے احتیاطا اس نے اپنے سامان کی ایک فہرست مرتب کرلی ، اور وصیت کی کہ اگر میں مرجاؤں تو میری چیزیں میرے گھر پہنچا دینا ، چناچہ وہ مر گیا ، اور ان کی نیت میں فرق آگیا ، کچھ چیزیں انہوں نے دیں اور کچھ رکھ لیں ، اتفاقا چیزوں کی فہرست جو انہوں نے دیکھی تو خیانت ظاہر ہوگئی مقدمہ حضور ﷺ کے روبرو پیش ہوا ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ حل لغات : شھادۃ : گواہی ، عثر : معلوم ہوجائے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-106 اے اہل ایمان جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور کسی کی موت سامنے آ کھڑی ہو اور وہ شخص وصیت کرنی چاہئے تو وصیت کے وقت آپس کی گواہی کے لئے تم میں سے دو ایسے شخص جو معتبر، امانت دار اور حق و انصاف والے ہوں ان دونوں کو گواہ یا وصی مقرر کرنا مناسب ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور تم کو موت کا حادثہ پیش آجائے تو ان دونوں گواہوں یا وصیوں کا تمہارے غیروں میں سے ہونے کا بھی مضائقہ نہیں یعنی حضر میں ہو تب تو وہ دونوں گواہ یا وصی علی اختلاف الروایات مسلمان ہونے چاہئیں بلکہ اہل قرابت میں سے ہوں تو اور زیادہ بہتر ہے اور اگر سفر میں ہو جیسا کہ ایک صحابی کو یہ واقعہ پیش آیا تھا تب وصی یا گواہ غیر مسلموں کو بنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–106

ف 1۔ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس سے کوئی کام نہ لیتے جیسے اس ملک میں بعض لوگ سانڈ چھوڑتے ہیں اور وصیلہ وہ ناقہ ہے جو پہلے مادہ بچہ جنے پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی نر اونٹ ہے جو ایک خاص شمار سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے یہ سب باطل اور کفر اور شرک ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وصیت کے وقت دو گواہوں کی شرعی ضرورت خصوصاً جب موت قریب نظر آئے : 242: ضرورت کے پیش نظر اپنے معاملات میں گواہ مقرر کرنا عالم انسانیت کا مسئلہ ہے اور ہر فکر کے لوگوں کو اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ قرآن کریم چونکہ اسلامی زندگی کا مکمل دستوار العمل ہے اس لئے وہ مسلمانوں کی ہر معاملہ میں راہنمائی کرتا ہے ۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی مزید دو آیات معنی و مطلب متعین کرنے اور اپنے اعراب کے لحاظ سے قرآن کریم کی مشکل ترین آیات ہیں لیکن اس اقرار کے باوجود جو سمجھ میں آئے اس کو دیانتا ً عرض کردینا بھی لازم وضروری ہے ۔ ظاہری الفاظ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو جب گواہ بنانے کی ضرورت پیش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

Sequence of Verses Prior to this, there were injunctions relevant to religious considerations. Now some injunctions relevant to worldly considerations have been mentioned. The hint given is that the way Allah Ta` ala, in His mercy, helps His servants with better life in the Hereafter, He also takes care of better sustenance for them in the present world. (Bayan al-Qur'an) The Background of Revelation The event in the background of the revelation of the cited verses is that Budayl, a Muslim accompanied by Tamim and ` Adiyy, who were Christians at that time, travelled to Syria on a business…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

120. That is, pious, straightforward and trustworthy Muslims. That is, non-Muslims - Ed. 121. This shows that the testimony of non-Muslim witnesses in cases involving Muslims is appropriate only when no Muslim is available as a witness.

Read the full tafseer →