Explained with ayahs 106–108
معتبر گواہی کی شرائط
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
سورة الْمَآىِٕدَة 120
یعنی دیندار، راست باز اور قابل اعتماد مسلمان۔
سورة الْمَآىِٕدَة 121
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ آسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ربط آیات
اوپر مصالح دینیہ کے متعلق احکام تھے، آگے مصالح دنیویہ کے متعلق بعض احکام کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں اشارہ کردیا کہ حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مثل اصلاح معاد کے اپنے بندوں کی معاش کی اصلاح بھی فرماتے ہیں (بیان القرآن)
شان نزول
آیات مذکورہ کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص ”بُدیل“ نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں تمیم و عدی کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے۔ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا، شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا، اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی، اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی، مرض جب زیادہ بڑھا، تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ۔
تمام ابواب شہادت پر میثاق : یہ بھی ایک تکیلی و اتمامی حکم ہے جس کی نوعیت ابتدائے سورة میں بیان کردہ بعض احکام کی وضاحت کی ہے۔ سورة کے شروع، آیت…
Read the full tafseer →16۔ 1 تم میں سے ہوں کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہوں اور بعض نے کہا ہے (وصیت کرنے والے) کے قبیلے سے ہوں، اسی طرح (آخران من غيرکم) میں دو مفہوم ہونگے۔ یعنی من غیرکم سے مراد یا غیر مسلم اہل کتاب ہوں گے یا موصی کے قبیلے کے علاوہ کسی اور قبیلے سے۔
16۔ 2 یعنی سفر میں کوئی ایسا شدید بیمار ہوجائے کہ جسے زندہ بچنے کی امید نہ ہو تو وہ سفر میں دو عادل گواہ بنا کر جو وصیت کرنا چاہے، کر دے۔
16۔ 3 یعنی مرنے والے موصی کے ورثا کو شک پڑجائے کہ ان اوصیا نے مال میں خیانت یا تبدیلی کی ہے تو نماز کے بعد یعنی لوگوں کی موجودگی میں ان سے قسم لیں اور وہ قسم کھا کے کہیں ہم اپنی قسم کے عوض دنیا کا…
Read the full tafseer →73: یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا، وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہوگیا اور اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا ؛ چنانچہ اس نے اپنے دوساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا، ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بناکر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپادی، عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتا نہ چل سکا، انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا، مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(آیت) ” 106 تا 108۔
ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔
اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر…
Read the full tafseer →5 یعنی بہتر یہ ہے۔ باقی اگر دو نہ ہوں یا معتبر نہ ہوں تب بھی " وصی " بنا سکتا ہے اور گواہ سے مراد یہاں وصی ہے اس کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر فرما دیا۔
6 یعنی مسلمانوں میں سے۔
7 یعنی غیر مسلم۔
8 یعنی نماز عصر کے بعد کہ وہ وقت اجتماع اور قبول کا ہے شاید ڈر کر جھوٹی قسم نہ کھائیں۔ یا کسی نماز کے بعد یا وصی جس مذہب کے ہوں ان کی نماز کے بعد۔
1 یعنی جب خدا کے پاس سب کو جانا ہے تو جانے سے پہلے سب کام ٹھیک کرلو۔ اسی میں سے ایک اہم کام ضروری امور کی وصیت اور اس کے متعلقات ہیں۔ ان آیات میں وصیت کا بہترین طریقہ تلقین فرمایا ہے۔ یعنی مسلمان اگر مرتے وقت کسی کو اپنا مال وغیرہ حوالہ کرے تو بہتر ہے…
Read the full tafseer →آیت 106 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ
یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ مرد مقرر کرلو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہوسکتی۔ اگر جائیداد زیادہ ہے تو اس کا ایک تہائی حصہ بھی خاصا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ُ
اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط یا دوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر نکلے ہوئے ہو اور حالت سفر میں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔
یعنی حالت سفر…
Read the full tafseer →154 سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر پر نکلا اور یہ سہمی ایسی جگہ مرگیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ تمیم داری اور عدی اس کا ترکہ لے کر آئے تو سہمی کے وارثوں نے اس میں ایک پیالہ نہ پایا جو چاندی کا تھا اور سونے سے مرصع تھا۔ رسول اللہ نے تمیم اور عدی سے قسم کھانے کو کہا اور وہ قسم کھا گئے کہ (پیالہ ان کے پاس نہیں) پھر وہ پیالہ بازار مکہ سے مل گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تمیم داری اور عدی سے خریدا ہے۔ اب سہمی کے وارثوں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ یہ پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے اور یہ کہ ہماری گواہی ان دونوں سے زیادہ سچی ہے۔…
Read the full tafseer →324 ۔ قرآن محض ایک پند نامہ اخلاق نہیں قانون کی بھی کتاب ہے زندگی میں قانون اخلاق، خطابت سب ہی کی اپنی اپنی جگہ ضرورت پڑتی ہے اور قرآن نے جو ممکن ہدایت نامہ اور زندگی کا مکمل دستور العمل ہے۔ سب میں اپنی اپنی جگہ کام لیا ہے۔ اس جگہ قانون وصیت ووراثت کا بیان مختلف پہلوؤں سے آرہا ہے۔ (آیت) ” بینکم “۔ یعنی تمہارے آپس کے معاملات میں، مثلا موت کے وقت ورثہ کو مال سپرد کرنے کے وقت (آیت) ” شھادۃ بینکم “۔ اصطلاح فن میں انہی کو وصی کہتے ہیں۔ اور انہی کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں کوئی نہیں مل رہا ہے۔ صرف بہ طور مشورۂ مناسب کے ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” اثنن ذوا عدل منکم “۔ منکم “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
شان نزول : یآیُّھَا الَّذِیْنَ آمنُوْا شھادۃُ بینکم اذا حَضَرَ احدکم الموت، مذکورہ آیات کے نزول کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بُدَیل تھا دو شخص کے ساتھ جن کا نام تمیم اور عدی تھا جو اس وقت نصرانی تھے تجارت کیلئے ملک شام گئے شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اپنے سامان میں رکھ دی مگر اس کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو نہ کی جب مرض زیادہ بڑھا تو اس نے اپنے دونوں نصرانی ساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا یہ سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا، انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کے نقش و نگار تھے سامان میں سے نکال لیا، وارثوں نے جب سامان…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا شہادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنن : اے مسلمانو ! تمہارے آپس میں دو آدمیوں کا وصی ہونا مناسب ہے جب کہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے کہ وصیت کے وقت۔ شَہَادۃ بینکممبتدا ہے اور اثنان خبر۔ اثنان سے پہلے لفظ شہادت محذوف ہے۔ الفاظ کے اعتبار سے جملۂ خبریہ ہے لیکن معنی امر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ وصیت کے وقت دو آدمی موجود ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اثنان شہادۃ (مصدر) کا فاعل ہو اور شہادۃ مبتدا ہو اور اس کی خبر اس سے پہلے محذوف ہو یعنی جس چیز کی وصیت مردہ نے کی ہے اس پر دو آدمیوں کی شہادت ہو۔ شہادت سے مراد ہے گواہ بنانا یعنی دو آدمیوں کو بلا لینا تاکہ میّت ان سے کہہ دے۔ قصہ…
Read the full tafseer →(106) حضر ہو یا سفر مرنے والے کی وصیت کے وقت تم میں سے دو آدمیوں کا وصی ہونا جو کہ آزاد ہوں اور تمہاری قوم میں سے ہوں یا غیر دین یا تمہاری قوم کے علاوہ ہوں یا مقیم نہ ہوں، بلکہ کہیں سفر میں ہوں۔
یہ آیت تین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو شام کی طرف سامان تجارت لے کر جارہے تھے ان میں سے ایک بدیل بن ابی ماریہ مولی عمرو بن العاص مسلمان تھے، ان کا انتقال ہوگیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں عدی بن بداء اور تمیم بن اوس جو کہ نصرانی تھے، اپنے انتقال کے وقت وصیت کی، مگر ان دونوں نے وصیت میں خیانت کی تو اللہ تعالیٰ میت کے وارثوں سے فرماتے ہیں کہ ان دونوں نصرانیوں کو عصر کی نماز کے بعد روک لو اور ان سے قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آیت نمبر 106 تا 108
اس میں ستائیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ مکی نے کہا : یہ تین آیات اہل معانی کے نزدیک قرآن میں اعراب، معنی اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ اس کا کلام ہے جس کے لیے اس کی تفسیر میں اطمینان واقع نہیں ہوا یہ ان کی کتاب میں واضح ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 250 ) ۔
میں کہتا ہوں : مکی نے جو ذکر کیا ہے ابو جعفر نحاس نے بھی اس سے پہلے یہ ذکر کیا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی بن بداء کے سبب نازل ہوئیں۔ بخاری، دارقطنی وغیرہمانے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : تمیم داری اور عدی بن بداء مکہ کی طرف جاتے تھے تو ان کے ساتھ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(1) امام ترمذی اور اس کو ضعیف قرار دیا، ابن جریر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے معرفۃ میں ابو المنذر کے طریق سے اور وہ کلبی بادان مولیٰ ام ھانی سے روایت نقل کی اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ تمیم داری ؓ سے اس آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس آیت سے سب لوگ بری ہیں سوائے میرے اور عدی بن براء کے یہ دونوں نصرانی تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ شام کی طرف جاتے تھے یہ دونوں اپنی تجارت کے لئے شام آئے ان کے پاس بنو سلیم کا ایک غلام تجارت کا سامان لے کر آیا جسے بدیل بن ابی مریم کہتے تھے اس…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ] [ گواہ ہونا تم میں سے دو آدمیوں کا ] [ اِذَا [ جب کبھی ] حَضَرَ [ سامنے آئے ] اَحَدَكُمُ [ تمہارے کسی ایک کے ] الْمَوْتُ [ موت ] حِيْنَ الْوَصِيَّةِ [ تو وصیت کے وقت ] اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ [ دو عدل والے ہیں ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَوْ [ یا ] اٰخَرٰنِ [ دوسرے دو ہیں ] مِنْ غَيْرِكُمْ [ تمہارے غیر میں سے ] اِنْ [ اگر ] اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ [ تم لوگ سفر کرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَصَابَتْكُمْ [ پھر آن پہنچے تم کو ] مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ [ موت کی مصیبت ] تَحْبِسُوْنَهُمَا [ تم لوگ روکے رکھوگے دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
حالت سفر میں اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو قبیلہ بنی سہم میں سے تھا اس کو موت نے آگھیرا اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہیں لہذا اس نے اپنے دونوں ساتھیوں یعنی تمیم داری اور عدی بن بداء کو اپنے مال کی حفاظت اور ورثاء تک پہنچانے کے لئے وصی بنا دیا (اس وقت یہ دونوں ساتھی نصرانی تھے) اس نے اپنے مال کی فہرست بنا کر سامان میں رکھ دی اور اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میرا یہ مال میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان دونوں نے مال تو پہنچا دیا لیکن میت کے وارثوں نے جب فہرست سے سامان کا میلان کیا تو اس میں ایک چاندی کا جام غائب پایا اس جام پر سونے کا کام بھی تھا، انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
حکم بست ویکم متعلق بہ وصیت وشہادت۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو شھادۃ بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ لایھدی القوم الفاسقین۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں حفاظت دین کا حکم تھا اس آیت میں حفاظت مال کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں کہ مرتے وقت کسی کو وصی اور گواہ بنالینا چاہیے کہ پہلی آیت میں دینی مصلحت کے متعلق حکم تھا اور اس آیت میں دنیوی مصلحت کے متعلق حکم ہے۔ یا یوں کہو کہ گذشتہ آیت میں یہ بیان تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور مال کا حساب دینا پڑے گا اب اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے سے پہلے تم کو وصیت کردینی چاہیے اور اس پر کسی کو گواہ بنالینا چاہیے تاکہ حق ضائع نہ ہو لہذا اس کے متعلق…
Read the full tafseer →171 یہ مبتداء ہے اور اِثنٰنِ اس کی خبر ہے۔ خبر سے پہلے شَھَادَۃُ مضاف محذوف ہے اصل میں شَھَادَۃُ اثنَیْنِ مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اسی کا اعراب دے کر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ نماز میں مسلمان جمع ہوتے ہیں اس لیے شہادت کے سامنے ہو تو بہتر ہے۔ شرک فعلی کی نفی کے بعد شہادت (گواہی) کے مضمون کا ذکر بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے اللہ کا کلام اس عیب سے پاک ہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ نذور اللہ اور نذور غیر اللہ کے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ غیب دان اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ربط آیات
پہلی آیت اللہ نے کثرت سوال سے منع فرمایا۔ پھر مشرکین کے عقائد باطلہ کا رد فرمایا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف آئو تو وہ اپنے آبائو اجداد کے راستے کو ہی پسند کرتے ہیں ، اللہ نے راستے گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور تسلی بھی دی کہ ایسی باتوں سے یقینا ایمان والوں کو تکلیف ہوتی ہے ظاہر ہے کہ شرکیہ اور جہالت والی باتوں کو سن کر ایمان والوں کا دل دکھتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ نے تسلی دی کہ اگر تم ہدایت کے راستے پر قائم رہے تو کفار و مشرکین تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، پھر فرمایا جب دوسرے لوگ تمہاری دعوت کی طرف توجہ ہی نہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃُ الْمَوْتِ 0ۭ تَحْبِسُوْنَہُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللہِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِہٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى 0ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَہَادَۃَ 0ۙ اللہِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ 106
شهد
وشَهِدْتُ يقال علی ضربین :
أحدهما
جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
1 ؎ خلاصہ یہ کہ وصیت کے وقت جبکہ مرنے لگے تو اپنے مال کے لئے جو اس کو کسی کے سپرد کرنا چاہتا ہو یا اس میں سے کسی کے لئے کچھ وصیت کرنا چاہتا ہو کہ اس میں سے اتنا فلاں کو دیا جاوے آپس کے دو گواہ کرنے چاہییں اور اگر سفر میں موت سامنے آوے تو آپس کے نہ ملیں تو غیر سہی۔ پھر موقع پر نماز کے بعد وہ دو گواہ یہ کہہ کر اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم کو کوئی لالچ نہیں گو جس کے حق میں یہ شہادت ہے ہمارا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور جو ہم ایسا کریں گے تو گنہگار ہیں پھر اگر یہ شہادت ٹھیک ہو تو خیر ورنہ میت کے دو قرابت دار کھڑے ہو کر جن کو میت کے مال اور حال پر پوری طرح واقفیت ہے یہ کہہ کر قسم کھائیں کہ ہماری گواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الاَْرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَیْقْسِمٰنِ بِ اللہ ِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیلا وَلاَ نَکْتُمُ شَھَادَۃَ لا اللہ اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الاْٰثِمِیْنَ ۔ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَھُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَْوْلَیٰنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مخصوص حالات میں مسلمانوں کو اپنے آپ کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس میں بعض لوگوں سے فریضۂ تبلیغ سے کوتاہی کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اسے دور کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ فریضۂ تبلیغ ایک شہادت ہے شہادت کی ایک قسم گواہی ہے۔ مشکل اور نازک وقت میں بھی اسے ٹھیک طور پر ادا کرنا چاہیے۔
آیت کا پس منظر مفسرین نے اس طرح ذکر کیا ہے جو بخاری کتاب الوصایا میں مختصر لیکن احادیث اور سیرت کی دوسری کتب میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا تمیم داری اور عدی کے ساتھ سفر میں تھا تمیم اور عدی اس وقت…
Read the full tafseer →واقعہ تمیم و عدی :
آیت 106: روایت میں آیا ہے کہ عمرو بن عاص کے مولی بدیل ؓ شام کی طرف ایک سفر پر نکلے۔ یہ مہاجرین میں سے تھے۔ تمیم و عدی جو دونوں نصرانی تھے وہ ان کے ساتھ تھے۔ حضرت بدیل ؓ بیمار ہوئے انہوں نے ایک پر چہ لکھا جس میں اپنے سارے سامان کا اندارج کیا۔ اور اس کو سامان میں رکھ دیا۔ اور اس رقعہ کی اطلاع اپنے ساتھیوں کو نہ دی۔ اور ان کو وصیت کی کہ یہ سامان میرے گھر دے دینا۔ وہ فوت ہوگئے انہوں نے ان کے سامان کو ٹٹولا اور ایک چاندی کا پیالہ اس میں سے لے لیا۔ بدیل کے اہل و عیال نے پیالہ نہ پایا تو ان سے پیالہ کا مطالبہ کیا۔ تو انہوں نے انکار کردیا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش…
Read the full tafseer →آیت نمبر 106
تفسیر : (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اے ایمان والو ! گواہ درمیان تمہارے)
یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم کا شان نزول
اس آیت کا شان نزول وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ تمیم بن اوس واری اور عدی بن زید مدینہ سے تجارت کے لیے شام کی طرف گئے ، یہ دونوں نصرانی تھے اور ان دونوں کے ساتھ عمرو بن عاص ؓ کے مولیٰ بدیل تھے جو کہ مسلمان ہوچکے تھے۔ شام پہنچ کر حضرت بدیل ؓ بیمار ہگئے تو انہوں نے ایک خط میں اپنے تمام سامان کی تفصیل لکھ کر اس کو تھیلے میں ڈال دیا اور اپنے دونوں ہم سفروں کو اس بات کی خبر نہیں کی۔ جب مرض نے شدت پکڑی تو حضرت بدیل ؓ نے تمیم اور عدی کو وصیت کی کہ ان کا سامان ان کے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(106 ۔ 108) ۔ ترمذی، ابو داؤد، تفسیر ابن جریر وغیر میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک شخص مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان شخص بیمار ہو کر جب قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کر یہ وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا وہ کٹورا نصرانیوں نے اس مال میں سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمانوں کے وارثوں کو دے دیا اس کٹورے کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
آیات 106
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آجائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ (اواخرن من غیرکم) ” یا دوسرے دو گواہوں تمہارے سوا “ یعنی مسلمانوں کے سوا کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں (ان انتم ضربتم فی الارض) ” جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو “ (فاصابتکم مصیبۃ الموت) ” اور پہنچے تمہیں مصیبت موت کی “ یعنی تم ان دونوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنے کا بیان
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم، اے ایمان لانے والو ! تمہارے درمیان شادت کا نصاب یہ ہے) اس آیت میں شہادت یعنی گواہی کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ ا س سے مراد سفر کے اندر وصیت پر گواہی قائم کرنا ہے ۔ اس بنا پر انہوں نے سفر کے اندر مسلمان کی وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا ہے۔
شعبی نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ ایک مسلمان دقوقا کے مقام پر وفات پا گیا۔ جب موت کا وقت آگیا تو اسے اپنی وصیت پر گواہ بنانے کے لئے کوئی مسلمان نہیں ملا۔ اس نے دو اہل کتاب کو گواہ بنا لیا۔
حضرت ابو موسیٰ نے ان دونوں سے عصر کے بعد حلفاً یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
278 دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنی فکر کرنے کی ضرورت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی فکر کرو دوسرے کسی کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ تم لوگ خود ہدایت پر ہوؤ۔ پس تم لوگوں کو دوسروں کی عیب چینی اور خوردہ گیری کرنے کی بجائے سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ انسان اصل میں اور سب سے پہلے اپنا ہی ذمہ دار ہے۔ اور اپنی ذات ہی کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی۔ پس تم اپنی فکر کرو اور تم سے اسی بارے پوچھ ہوگی۔ زمحشری کہتے ہیں کہ جو لوگ فاسقوں اور فاجروں کے پیچھے پڑنے، ان کی عیب جوئی اور خوردہ گری کرنے ہی کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں وہی اس کے اصل مخاطب ہیں۔ (محاسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
صرف راہ ہدایت پر چلو
تشریح : صاف ظاہر ہے کہ خود نیک اور اچھے کام کرکے دوسروں کو سبق دینا اور زبان سے بھی اچھی بات کہنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور سبق دینے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ رب العالمین یہی حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے کہنے سننے سے نیکی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ تم اپنا خیال کرو کہ کہیں خود بھی اس گمراہ کی راہ اختیار نہ کرلو۔ اس کا اور تمہارا حساب اللہ تعالیٰ خود انصاف سے ضرور لے گا۔ کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور اپنے اعمال خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور پھر ان کے مطابق جزا یا سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
فضول سوالات کی ممانعت :
انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی دو دیندار اور راست باو و قابل اعتماد شخصوں کی۔3 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی کافر کو اپنے معاملہ میں اسی وقت شاہد بنا سکتا ہے جب مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ ہوں بعض صحابہ اور تابعین کا یہی مسلک ہے اور امام ارازی فرماتے ہیں کہ او من غیر کم کی تفسیر غیرک مسلم سے کرنا سیاق آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (کبیر، شوکانی4 یا کسی بھی نماز کے بعد لیکن اکثر علما عصر کی نماز کے بعد ہی کے قائل ہیں کیونکہ اس وقت جھوٹی شہادت دینے والے پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے، (شوکانی)5 خلاصہ یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ مرتے وقت اپنی وصیت پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنائے لیکن سفر کی حالت میں مسلمان…
Read the full tafseer →(5:106) شھادۃ بینکم ذواعدل منکم۔ آپس میں تمہاری گواہی تم میں سے دو معتبر اور صاحب عدل شخص ہیں۔
اواخران یا دو اور شخص من غیرکم غیروں میں سے ۔ غیر قبیلہ۔ غیر مسلم (جمہور)
تحبسوبھما تم ان دونوں کو روک لو۔ ھبس یحبس (ضرب) روکے رکھنا مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب
ان ارتبتم۔ اگر تم شک میں پڑے۔ اگر تمہیں شک پڑجائے۔ ارتاب (افتعال) ریب (مادہ)
لا نشتری بہ ۔۔ لمن الاثمین۔ یہ الفاظ جن گواہان سے قسم لی جارہی ہے وہ کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آیت نمبر 106 تا 108
لغات القرآن : شھادۃ (گواہی) ۔ حضر (آیا۔ حاضر ہوا) ۔ الوصیۃ (وصیت کرنا) ۔ اثنین (دو ) ۔ ذوا عدل (دو انصاف والے) ۔ اخران (دوسرے دو ) ۔ من غیرکم (تمہارے سوا اوروں میں سے) ۔ ضربتم (تم چلے۔ تم نے سفر کیا)
اصابت (پہنچ گئی) ۔ مصیبۃ (مصیبت) ۔ تحسبون (تم روک لو) ۔ یقسمن (وہ دونوں قسم کھائیں) ۔ ارتبتم (تمہیں شبہ ہوا) ۔ لانشتری (ہم نہیں خریدتے۔ نہیں لیتے) ۔ ثمن (قیمت۔ مال) ۔ ذاقربی (رشتہ دار) ۔ الاثمین (الاثم) ۔ گناہ گار عثر (مطلع ہوا۔ واقف ہوا) ۔ استحقا (حق دبا لیا) ۔ یقومن (دو کھڑے ہوں) ۔ مقام (جگہ) ۔ استحق (جس نے حق دبایا) ۔ الاولیین (قریبی رشتہ دار ہوں) ۔ احق (زیادہ حق دار ہے) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص نصرانی اور ایک مسلمان ملک شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر کو گئے اور وہ مسلمان جب بیمار ہوکر قریب المرگ ہوگیا تو اس نے اپنے مال کی ایک فہرست لکھ کر مال کی گٹھڑی میں رکھ دی۔ اور وہ گٹھڑی ان دونوں نصرانیوں کو دے کو وصیت کی کہ تم یہ گٹھڑی میرے وارثوں کو دے دینا۔ اس مال میں ایک چاندی کا کٹورا سونے کے ملمع کا بھی تھا۔ وہ کٹورا ان نصرانیوں نے اس مال سے نکال کر باقی کا مال اس مسلمان کے وارثوں کو دے دیا۔ اس کٹورا کے نکالتے وقت ان نصرانیوں کی نظر اس فہرست پر نہیں پڑی۔ اس مسلمان کے وارثوں نے جب مال کی گٹھڑی اچھی طرح کھولی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
[59] مسلمان کفار کی محرومی پر افسوس کرتے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولت اسلام سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں۔ لیکن اس آیت کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں '' لوگو، تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(ف 2) اس سے پیشتر کی آیت میں حفظ مال کا ،
واقعہ یہ ہے کہ تمیم انصاری اور اس کا بھائی تجارت کی غرض سے ملک شام کی جانب نکلے ، اس کے ساتھ بدیل عمرو بن عاص کا غلام بھی تھا ، جو مسلمان تھا راستے میں بدیل یکایک بیمار ہوگیا ، اس لئے احتیاطا اس نے اپنے سامان کی ایک فہرست مرتب کرلی ، اور وصیت کی کہ اگر میں مرجاؤں تو میری چیزیں میرے گھر پہنچا دینا ، چناچہ وہ مر گیا ، اور ان کی نیت میں فرق آگیا ، کچھ چیزیں انہوں نے دیں اور کچھ رکھ لیں ، اتفاقا چیزوں کی فہرست جو انہوں نے دیکھی تو خیانت ظاہر ہوگئی مقدمہ حضور ﷺ کے روبرو پیش ہوا ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
حل لغات :
شھادۃ : گواہی ، عثر : معلوم ہوجائے ،…
Read the full tafseer →-106 اے اہل ایمان جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور کسی کی موت سامنے آ کھڑی ہو اور وہ شخص وصیت کرنی چاہئے تو وصیت کے وقت آپس کی گواہی کے لئے تم میں سے دو ایسے شخص جو معتبر، امانت دار اور حق و انصاف والے ہوں ان دونوں کو گواہ یا وصی مقرر کرنا مناسب ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور تم کو موت کا حادثہ پیش آجائے تو ان دونوں گواہوں یا وصیوں کا تمہارے غیروں میں سے ہونے کا بھی مضائقہ نہیں یعنی حضر میں ہو تب تو وہ دونوں گواہ یا وصی علی اختلاف الروایات مسلمان ہونے چاہئیں بلکہ اہل قرابت میں سے ہوں تو اور زیادہ بہتر ہے اور اگر سفر میں ہو جیسا کہ ایک صحابی کو یہ واقعہ پیش آیا تھا تب وصی یا گواہ غیر مسلموں کو بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
ف 1۔ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس سے کوئی کام نہ لیتے جیسے اس ملک میں بعض لوگ سانڈ چھوڑتے ہیں اور وصیلہ وہ ناقہ ہے جو پہلے مادہ بچہ جنے پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی نر اونٹ ہے جو ایک خاص شمار سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے یہ سب باطل اور کفر اور شرک ہیں۔
Read the full tafseer →وصیت کے وقت دو گواہوں کی شرعی ضرورت خصوصاً جب موت قریب نظر آئے :
242: ضرورت کے پیش نظر اپنے معاملات میں گواہ مقرر کرنا عالم انسانیت کا مسئلہ ہے اور ہر فکر کے لوگوں کو اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ قرآن کریم چونکہ اسلامی زندگی کا مکمل دستوار العمل ہے اس لئے وہ مسلمانوں کی ہر معاملہ میں راہنمائی کرتا ہے ۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی مزید دو آیات معنی و مطلب متعین کرنے اور اپنے اعراب کے لحاظ سے قرآن کریم کی مشکل ترین آیات ہیں لیکن اس اقرار کے باوجود جو سمجھ میں آئے اس کو دیانتا ً عرض کردینا بھی لازم وضروری ہے ۔ ظاہری الفاظ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو جب گواہ بنانے کی ضرورت پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
Sequence of Verses
Prior to this, there were injunctions relevant to religious considerations. Now some injunctions relevant to worldly considerations have been mentioned. The hint given is that the way Allah Ta` ala, in His mercy, helps His servants with better life in the Hereafter, He also takes care of better sustenance for them in the present world. (Bayan al-Qur'an)
The Background of Revelation
The event in the background of the revelation of the cited verses is that Budayl, a Muslim accompanied by Tamim and ` Adiyy, who were Christians at that time, travelled to Syria on a business…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
120. That is, pious, straightforward and trustworthy Muslims.
That is, non-Muslims - Ed.
121. This shows that the testimony of non-Muslim witnesses in cases involving Muslims is appropriate only when no Muslim is available as a witness.
Read the full tafseer →