Al-Maaida 5:104

Al-Maaida · from ayah 104

5:104

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ؕ— اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَهْتَدُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا‌ ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ شَيۡـئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Come to what Allah has revealed and to the Messenger," they say, "Sufficient for us is that upon which we found our fathers." Even though their fathers knew nothing, nor were they guided?

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:104

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبرؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا، کیا اگر چہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے، اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے جس (دین پر) اپنے باپ دادوں کو پایا ہے، ہمارے لیے وہی کافی ہے۔ بھلا اگر ان کے باپ دادے ایسے ہوں کہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہو، اور نہ کوئی ہدایت تو کیا پھر بھی (یہ انہی کے پیچھے چلتے رہیں گے ؟)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس (قرآن) کی طرف جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے اور رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں: ہمیں وہی (طریقہ) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ (دین کا) علم رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو کہتے ہیں، ہمیں تو وہی کچھ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔ خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ راہ راست پر ہوں ؟ (تو بھی یہ ان کی ہی پیروی کریں گے ؟)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس چیز کی طرف آؤ جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف آؤ تو جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے رہے ہوں نہ ہدایت پر رہے ہوں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تم لوگ ان تعلیمات (مقدسہ) کی طرف جن کو نازل فرمایا ہے اللہ نے، اور (آؤ تم) اس کے رسول کی طرف، تو یہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں کافی ہے (وہی کچھ) جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، تو کیا (یہ لوگ اپنے باپ دادا کے طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے) اگرچہ وہ نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ ہی انہیں سیدھی راہ کی کوئی خبر ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ۔ تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ تو کہنا چاہئے کہ انکے بڑے نہ کسی شے کا علم رکھتے ہوں نہ ہدایت ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور آؤ اللہ کے رسول کی طرف وہ کہتے ہیں ہمارے لیے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا خواہ ان کے آباء و اَجداد ایسے رہے ہوں کہ نہ انہیں کوئی علم حاصل ہوا ہو نہ ہی وہ ہدایت پر ہوں (پھر بھی) ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آئو پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی پیروی کئے چلے جائیں گے، خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں نہ سیدھی راہ پر ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they are asked: 'Come to what Allah has revealed, and come to the Messenger', they reply: 'The way of our refathers suffices us.' (Will they continue to follow their forefathers) even though their forefathers might have known nothing, and might have been on the wrong way?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them, :Come to what Allah has sent down, and to the Messenger; they say, :Sufficient for us is that on which we have found our forefathers. Is it so, even though their forefathers knew nothing, and had no guidance either?

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them, :Come to what Allah has sent down, and to the Messenger; they say, :Sufficient for us is that on which we have found our forefathers. Is it so, even though their forefathers knew nothing, and had no guidance either?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is said to them: "Come to what Allah has revealed and unto the Messenger." They say: "Enough for us is that which we found our fathers following," even though their fathers had no knowledge whatsoever and no guidance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: Come unto that which Allah hath revealed and unto the messenger, they say: Enough for us is that wherein we found our fathers. What! Even though their fathers had no knowledge whatsoever, and no guidance?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Come to what Allah has revealed and to the Messenger," they say, "Sufficient for us is that upon which we found our fathers." Even though their fathers knew nothing, nor were they guided?

— Saheeh International

When they are told to refer to the guidance of God and to the Messenger, they say, "The tradition of our fathers is sufficient for our guidance," even though, in fact, their fathers had neither knowledge nor proper guidance.

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them, Come to what Allah has revealed and to the Apostle, they say: That on which we found our fathers is sufficient for us. What! even though their fathers knew nothing and did not follow the right way.

— Muhammad Habib Shakir

And when it is said unto them: come to that which Allah hath sent down and to the apostle, they say: enough for us is that whereon we found our fathers. What! even though their fathers knew not aught nor were guided.

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them: "Come to what Allah hath revealed; come to the Messenger": They say: "Enough for us are the ways we found our fathers following." what! even though their fathers were void of knowledge and guidance?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 103–104

بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام ؟ صحیح بخاری شریف میں حضرت سعید بن مسیب ؒ سے مروی ہے کہ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کردیتے تھے اسے کوئی دوہتا نہ تھا سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کردیتے تھے، حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ وصیلہ وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 103–104

سورة الْمَآىِٕدَة 118 جس طرح ہمارے ملک میں گائے، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے، اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو ین کرکے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا، نہ اسے ذبح کیا جاتا،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات اوپر رسم پرست کفار کی ایک جہالت کا ذکر تھا، اور ایسی ایسی جہالتیں ان کی بہ کثرت تھیں، جن کو سن کر مؤمنین کو رنج اور افسوس ہوتا تھا، اس لئے آگے مؤمنین کو اس کے متعلق ارشاد ہے کہ تم کیوں اس غم میں پڑے ہو، تم کو اپنی اصلاح کا اور دوسرے کی اصلاح میں بقدر وسعت وقدرت کوشش کرنے کا حکم ہے، باقی کوشش پر ثمرہ مرتب ہونا تمہارے اختیار سے خارج ہے، اس لئے ”کار خودکن کار بےگانہ مکن“ پر عمل کرو۔ خلاصہ تفسیر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول ﷺ کی طرف (جن پر وہ احکام نازل ہوئے ہیں) رجوع کرو (جو امر اس سے حق ثابت ہو حق سمجھو اور جو باطل ہو باطل سمجھو)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 103–105

تفسیر آیات 103 تا 105:۔ مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 103–104

13۔ 1 یہ ان جانوروں کی قسمیں ہیں جو اہل عرب اپنے بتوں کی نذر کردیا کرتے تھے۔ ان کی مختلف تفسریں کی گئی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ سے صحیح بخاری میں اس کی تفسیر حسب ذیل نقل کی گئی ہے وہ جانور جس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بتوں کے لئے ہے۔ چناچہ کوئی شخص اس کے تھنوں کو ہاتھ نہ لگاتا، وہ جانور، جسے بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے اسے نہ سواری کے لئے استعمال کرتے اور نہ بار برداری کے لئے، جس سے پہلی دفعہ مادہ پیدا ہوتی اور اس کے بعد دوبارہ بھی مادہ ہی پیدا ہوتی یعنی ایک مادہ کے بعد دوسری مادہ مل گئی، ان کے درمیان کسی نر سے تفریق نہیں ہوئی، ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے لئے آزاد…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–104

71: یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانہ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اس کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کردیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو لگاتار مادہ بچے جنے، بیچ میں کوئی نر نہ ہو۔ ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ اور حامی وہ نر اونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کرچکا ہو۔ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–104

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔ انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 جاہلوں کی سب سے بڑی حجت یہ ہی ہوتی ہے کہ جو کام باپ دادا سے ہوتا آیا ہے اس کا خلاف کیسے کریں۔ ان کو بتلایا گیا کہ اگر تمہارے اسلاف بےعقلی یا بےراہی سے قعر ہلاکت میں جا گرے ہوں تو کیا پھر بھی تم ان ہی کی راہ چلو گے ؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " باپ کا حال معلوم ہو کہ حق کا تابع اور صاحب علم تھا تو اس کی راہ پکڑے نہیں تو عبث ہے " یعنی کیف ما اتفق ہر کسی کی کو رانہ تقلید جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 104 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ اس حکم کہ آؤ اللہ کے رسول کی طرف کی ترجمانی علامہ اقبال نے کیا خوبصورت الفاظ میں کی ہے : ؂ بمصطفیٰ ﷺ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر باو نرسیدی تمام بولہبیست قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا ط یعنی ہمارے آباء و اجداد جو اتنے عرصے سے ان چیزوں پر عمل کرتے چلے آ رہے تھے تو کیا وہ جاہل تھے ؟ یہی باتیں آج بھی سننے کو ملتی ہیں۔ کسی رسم کے بارے میں آپ کسی کو بتائیں کہ اس کی دین میں کوئی سند نہیں ہے اور صحابہ رض کے ہاں اس کا کوئی وجود نہ تھا تو اس کا جواب ہوگا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

152 تقلید آباد کی مذمت :۔ تقلید آباء بھی دراصل شرک ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ ایسی صورت میں اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں دین آباء کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ہر شخص فطرتاً اپنے بزرگوں سے اچھا گمان رکھتا ہے اور ان سے محبت کی بنا پر اس کا یہ گمان عقیدہ کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے بزرگ ہم سے بہت زیادہ نیک، عالم اور دین کو سمجھنے والے تھے۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی شخص معصوم نہیں ہوتا۔ اور ہر شخص سے دانستہ یا نادانستہ طور پر غلطی کا صدور ممکن ہے اور تقلید آباء کی صورت میں یہ غلطی نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے چناچہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

319 ۔ یعنی حق و باطل کا معیار محض احکام اخدا و رسول کو قرار دو ، اپنے مزعومات ومظنونات کو شریعت کی کسوٹی پر کسو، پرکھو، جانچو ، 320 ۔ (اور ہمیں کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں) تقلید جامد جاہلوں کا سہارا ہر ملک اور ہر دور میں رہا ہے کسی صاحب علم کی تقلید اگر اس اعتماد پر کی جائے کہ وہ احکام شریعت کا ماہر ہے۔ تو یہ ممنوع نہیں بلکہ عین مطلوب ہے۔ لیکن آنکھ بند کر کے باپ دادا کی راہ پر اس لئے چلتے رہنا کہ وہ باپ دادا تھے۔ یہ اندھی تقلید محض معصیت ہی نہیں بلکہ بعض اوقات شرک تک پہنچا دیتی ہے۔ اوار اسی کا نام رسم پرستی ہے۔ آج ہندوستان کی بڑی آبادی کے پاس نہ کوئی ” کتاب “ ہے نہ کسی ” رسول “ کی تعلیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–105

آیت 101 تا 107 ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا قلیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (حلت و حرمت کے متعلق) اللہ نے جو حکم نازل کیا اور رسول نے جو کچھ فرمایا اس کی طرف آؤ (اس کو مانو اور عمل کرو) قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ ابآئنا تو کہتے ہیں جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے یہ کافروں کی کوتاہ فہمی کا اظہار ہے اور اس امر کی صراحت ہے کہ سوائے باپ دادا کی تقلید کے ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ او لو کان ابآء ہم لا یعلمون شیئا ولا یہتدون کیا اس حالت میں بھی تقلید اسلاف ان کے لئے کافی ہوگی جبکہ ان کے باپ دادا کچھ (صحیح) علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہدایت یافتہ تھے۔ اَوْ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) اور جس وقت رسول اکرم ﷺ ان مشرکین مکہ سے کہتے ہیں، کہ جن چیزوں کی حلت (جائز ہوتا) اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں بیان کی ہے اور جن کی حلت رسول اکرم ﷺ نے تم سے بیان کی، اس کی طرف رجوع کرو تو جوابا اپنے بڑوں کی حرمت کا ثبوت دیتے ہیں، اور جب کہ ان کے آباؤ اجداد دین کی کسی چیز سے واقف نہیں تھے اور نہ کسی نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے تو پھر کیسے یہ لوگ ان کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۔۔ : اس آیت میں اگرچہ عرب کے مشرکین کی بات ہو رہی ہے مگر لفظ عام ہیں جن میں ان تمام لوگوں کی مذمت کی جا رہی ہے جو حق بات پر غور و فکر کرنے اور اسے مان لینے کے بجائے اپنے باپ دادا کے رسم و رواج یا مذہبی پیشواؤں کی تقلید کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (170)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 104 اس آیت کریمہ کا معنی اور اس پر کلام سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 103–104

سائبہ وصیلہ اور حام کی حرمت (1) امام بخاری، مسلم، عبدالرزاق، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کے لئے روکا جاتا تھا اور لوگوں میں سے اس کو نہ دوہتا تھا۔ اور سائبہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جسے لوگ اپنے بیوی کے لئے مختص کرلیتے اور ان پر کوئی چیز نہ لادی جاتی اور ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمر بن عامر خزاعی کو دیکھا جو دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹے پھر رہا تھا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے اونٹنی کو سائبہ کیا تھا۔ ابن المسیب (رح) نے فرمایا وصیلہ اس با کرہ اونٹنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب بھی ] قِيْلَ [ کہا جاتا ہے ] لَهُمْ [ ان سے ] تَعَالَوْا [ کہ تم لوگ آؤ ] اِلٰى مَآ [ اس کی طرف جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَاِلَى الرَّسُوْلِ [ اور ان رسول کی طرف ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] حَسْبُنَا [ کافی ہے ہم کو ] مَا [ وہ ] وَجَدْنَا [ ہم نے پایا ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اٰبَاۗءَنَا ۭ [ اپنے آباؤاجداد کو ] اَوَ [ تو کیا ] لَوْ [ اگر ] كَانَ [ تھے ] اٰبَاۗؤُهُمْ [ ان کے آباؤاجداد ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ کہ نہیں جانتے تھے ] شَـيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلَا يَهْتَدُوْنَ [ اور نہ ہدایت پاتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل جاہلیت کہتے تھے کہ ہم نے جس دین پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے وہ ہمیں کافی ہیں اہل جاہلیت نے جو شرک اور کفر کے کام اختیار کر رکھے تھے اور جو تحلیل و تحریم کے احکام جاری کر رکھے تھے ان کے بارے میں ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ سند نہ تھی۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ یہ کام تم کیوں کرتے ہو تو یوں کہہ دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی پر پایا ہے اور ہمیں اور کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کے سامنے پیش کی جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ انہیں دعوت حق دیتا تھا تو وہ اس کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے تھے اور یہ جاہلانہ جواب دے دیتے کہ ہمیں باپ دادوں کا اقتداء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–104

حکم نوز دہم ابطال بعض رسوم شرکیہ واقوال کفریہ۔ قال اللہ تعالی، ماجعل اللہ من بحیرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ یھتدون۔ ربط) ۔ شروع پارہ میں نذر اور قسم کے ذریعہ حلال اور طیب کو اپنے اوپر حرام کرنے کی ممانعت فرمائی اور گزشتہ رکوع میں لایعنی سوالات کی ممانعت فرمائی کہ مبادا لوگوں کے سوال کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہ کردی جائے ان آیات میں رسول جاہلیت کا ابطال فرماتے ہیں اور اہل جاہلیت کی گمراہی کو بیان کرتے ہیں کہ ان جاہلوں مشرکوں نے بغیر حکم خداوندی اپنی طرف سے بہت سی چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں اور پھر ان کی دلیری دیکھو کہ ان کو اللہ کی طرف منسوب کردیا یہ محض افتراء ہے اور ان بےعقلوں کی جہالت اس درجہ تک پہنچ چکی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

169 جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اپنی طرف سے تحری میں مت کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ مان لو کہ یہ چیزیں حرام نہیں ہیں۔ ای ھلموا الی حکم اللہ ورسولہ بان ھذہ الاشیاء غیر محرمۃ (مدارک ص 237 ج 1) تو وہ کہتے ہیں ہمیں اللہ و رسول کے حکم کی ضرورت نہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو دیکھا۔ ہمارے اسلاف و اکابر یہ تحریمات کرتے چلے آئے ہیں۔ لہذا ہم بھی کرتے رہیں گے۔ اَوَلَوْکَانَ اٰبَا ء ھُمْ الخ باپ دادا کی تقلید و اقتدا تو صرف اسی وقت کرنی چاہئے جب کہ وہ عالم ہوں اور ہدایت پر ہوں اور ان کی ہر بات دلیل وحجت پر مبنی ہو۔ لیکن اگر وہ جاہل اور گمراہ ہوں تو پھر ان کی اقتدا جائز نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیات میں فضول اور لایعنی باتوں کے متعلق سوال کرنے سے منع فرمایا گیا تھا ، کیونکہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں ایسی باتوں کے متعلق پوچھا جائے تو ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا جواب قرآن پاک میں نازل کر دے اور پھر وہ تمہیں ناگوار گزرے اور تم اس پر عمل نہ کرسکو۔ اگر ایسا ہی ہوا تو تمہارے لئے سخت بدنامی کا باعث ہوگا۔ فرمایا تم سے پہلی قوموں نے بھی بعض بیہودہ سوالات کئے اور پھر ان پر عمل نہ کرسکے اور سخت مشکل میں مبتلا ہوئے ، لہٰذا تم بھی کہیں ان کی روش پر نہ چل نکلنا پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خود ساختہ محرمات کی تردید بھی فرمائی کہ انہوں نے اپنے باطل خیالات کے ذریعے بعض حلال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝ 0ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَہْتَدُوْنَ۝ 104 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

ترکیب : ان تبد شرط تسؤکم جواب جملہ محل جر میں ہے صفت اشیاء کی ہو کر من قبلکم سالہا سے متعلق ہے۔ من بحیرۃ من زائدہ اور جعل بمعنی وضع سو یہ اس کا ایک ہی مفعول ہوگا اور بمعنی سمی ہو تو ایک مفعول محذوف ہوگا۔ اے ماسمی حیوانا بحیرۃ۔ حسبنا مصدر بمعنی اسم الفاعل مبتداء ما وجد نا جملہ خبر اولو کان وصیلہ واذا قیل شرط قالوا جواب۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ما علی الرسول الا البلاغ جس میں صاف اشارہ اس بات کا تھا کہ امر شریعت میں تم کو از حد تکلیفات کرنا اور بال کی کھال نکالنا اور رسول سے دریافت نہ کرنا چاہیے اور حاجت سے زیادہ پوچھنا نہ چاہیے۔ چناچہ اولاً مشرکین نے رسول کو جانے کیا سمجھ کر بات بات پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلیٰ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اَبَآئَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (المائدہ : 104) ” جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس چیز کی طرف آئو ‘ جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف آئو تو جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے وہی کافی ہے ‘ جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘ کیا اس صورت میں بھی ‘ جبکہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے رہے ہوں اور نہ ہدایت پر رہے ہوں “۔ آباء کی اندھی تقلید عرب کے جاہل معاشرے میں جس چیز نے ان کو جہالت پر ثابت قدم رکھا ہوا تھا اور جس کی وجہ سے وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کسی دلیل کی بنیاد پر اپنے آپ پر حرام نہیں کی تھیں بلکہ اس کا سبب آباؤ اجداد کی تقلید تھا جس وجہ سے یہاں تقلید کا رد بھی کردیا ہے۔ ساتھ مسلمانوں کو اطمینان دلایا ہے کہ تم ہدایت پر پکے رہوگے تو دوسروں کی گمراہی کا تم پر چنداں اثر نہیں پڑے گا۔ اور نہ تم ان کے مسؤل بنائے گئے ہو۔ بس تم اپنی فکر کرو۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پیش آنے والی پانچ رکاوٹیں : 1۔ لوگوں کا پرانے نظریات پر جمے رہنا۔ 2۔ ادیان باطلہ کے تعصبات و تحفظات 3۔ انبیاء کرام کی ذات سے حسد و بغض۔ 4۔ حبّ جاہ اور دنیا پرستی 5۔ بزرگوں اور آباؤ اجداد کی تقلید یہ تقلید کا ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آبائی تقلید میں وحی سے انکار : آیت 104: وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ ۔ (جب ان کو کہا جاتا ہے آئو اس کی طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف) یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف آئو۔ اس طرح کہ یہ چیزیں حرام نہیں ہیں۔ اور اس کے رسول کی طرف آئو۔ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا یعنی ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ : حسبنا مبتداء اور ماوجدنا خبر ہے۔ اور ما، الذی کے معنی میں ہے۔ اور وائو اَوَلَوْکَانَ ٰابَآؤُ ہُمْ میں حال کے لیے ہے۔ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَہْتَدُوْنَ اقتداء اس عالم کی درست ہے۔ جو صحیح راہ پانے والا ہو۔ اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 104–105

آیت نمبر 105, 104 تفسیر : (واذا قیل لھم تعالو الی ماانزل اللہ والی الرسول اور جب کہا جاتا ہے ان کو آئو اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف) کھیتی اور چوپایوں کے حلال کرنے اور شرائع اور احکام کے بیان کرنے میں (قالوا حسبنا ما رجلنا علیہ اباء نا تو ہم کہتے ہیں ہم کو کافی ہے وہ جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو) یعنی دین (اولو کان ابائوھم لایعلمون شیئا والا یھتدون بھلا اگر ان کے باپ دادے نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ راہ جانتے ہوں تو بھی ایسا ہی کریں گے ؟ ) (یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–104

(103 ۔ 104) ۔ مسند سعید بن منصور اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیت میں یہ ذکر جو گذرا کہ لوگ طرح طرح کے سوال آنحضرت سے کرتے تھے ان سوالوں میں ایک سوال بعض لوگوں نے ان جانوروں کی بابت بھی کیا تھا جن جانروں کا اس آیت میں ذکر ہے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎ حاصل آیت کا یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں فرمایا قریش میں جو یہ رسم ہے کہ بکری یا اونٹنی پانچ جھول جب جن چکے تھے اس کے کان چیر کر اس اور بتوں کے نام سانڈہ جانوروں اور جس اونٹ کی نطفہ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں اس کو ان لوگوں نے حرام ٹھہرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–104

آیت 103 یہ مشرکین کی مذمت ہے جنہوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا۔ چناچہ انہوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیئے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں۔ بنا بریں فرمایا : (ماجعل اللہ من بحیرۃ) ” نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ “ (بحیرۃ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کرلیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ (ولاسآئبۃ) ” اور نہ سائبہ “ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہوجاتی تو اس یسائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 103–105

قول باری ہے (ماجعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام) زہری کا قول ہے کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ خدائوں کے نام کردیا جاتا تھا۔ سائبہ اس اونٹنی یا اونٹ کو کہتے تھے جسے خدائوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیاجاتا تھا۔ وصیلہ اس اونٹنی کا نام تھا جو پہلی دفعہ مادہ بچہ جنتی پھر دوسری دوسری بار بھی مادہ بچہ جنتی، ایسی اونٹنی کا نام وصیلہ رکھتے اور کہتے کہ اس نے پے در پے دو دفعہ مادہ بچہ جنا ہے جن کے درمیان کوئی نر بچہ نہیں جنا گیا پھ روہ اسے اپنے خدائوں کے نام ذبح کردیتے۔ حامی اس نر اونٹ کو کہتے تھے جو ایک خاص عدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 103–104

270 بَحِیْرَۃ اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے کوئی " بحیرہ " مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ مشرکین عرب کے یہاں رواج تھا کہ جو اونٹنی پانچ بچے جنتی اور اس کا پانچواں بچہ نر ہوتا تو وہ لوگ اس کے کان چیر کر اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ اس سے وہ لوگ کوئی فائدہ نہ لیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے نہ بوجھ لادتے۔ نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ اس کو کہیں چرنے یا پانی پینے سے روکتے۔ وہ آزادانہ جہاں چاہتی جاتی، چرتی، پانی پیتی۔ اس کو کوئی روک ٹوک نہ ہوتی۔ اس کو یہ لوگ " بحیرہ " کہتے تھے۔ اور " بحیرہ "، " بحر " سے بنا ہے جسکے معنیٰ چیرنے کے آتے ہیں۔ سو " بَحِیْرَہ "، " فَعِیْلَہ " بمعنیٰ مفعول ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

غلط عقائد تشریح : ان آیات میں بت پرستوں کی ایک بری رسم کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے حلال چیزوں کو حرام کرلیا جاتا تھا، مثلاً کسی جانور کا دودھ پینا اس لیے چھوڑ دیتے کہ یہ دودھ کسی بت کے نام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جیسا کہ آج کل بھی کسی پیر، فقیر اور دیوتا کے نام پر جانور چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح اسلام سے پہلے اہل عرب بھی کچھ جانور آزاد چھوڑ دیا کرتے تھے اور انہوں نے ان کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے، مثلاً بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے، جسے ہر قسم کی خدمت سے آزاد کرکے کھلا چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ اپنے بتوں کے نام پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–108

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔ اسرار و معارف : فضول سوالات کی ممانعت : انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–105

ف 1 یعنی شرائع و احکام کی اس قدر و ضاحت اور باربار ترغیب و ترہیب کے باوجود اگر یہ لوگ جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو خود کو ٹھیک رکھو تو ان لوگوں کی جہا لت کا تم پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (کبیر) بعض نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کروے دوسروں کی اصلاح ضرورت نہیں ہے چناچہ اس غلظ فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لتیے ہو میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ برائی کو دیکھیں ارا سے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو بصید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عذاب میں سب کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 103–104

(5:103) بحیرۃ۔ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولۃ کان پھٹا۔ یحرث العیر۔ میں نے اونٹ کے کان اچھی طرح کاٹ ڈالے۔ اہل عرب کی کفر کی رسموں میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کسی بت کے لئے کسی مویشی کی نذر مانتے تو اس کے کان پھاڑ دیتے نشان کے لئے اور اس کو بحیرہ کہتے۔ سائبۃ۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں وہ جانور جو بت کے نام کرکے چھوڑ دیا جاتا تو اسے سائبہ کہتے تھے۔ ساب یسیب (ضرب) بےمقصد گھومنا۔ جانور کا آزاد کرنا۔ سائبہ وہ اونٹنی جو تمام مشقت سے آزاد کردی گئی ہو۔ یہ جانور سائبہ بھی بےروک ٹوک جدھر چاہے پھرتا رہتا۔ کوئی اس کو روکتا نہ تھا ۔ وصیلۃ۔ وہ نوخیز اونٹنی جس کے سب سے پہلے حمل میں مادہ بچہ ہو اور دوسرے حمل میں بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 103–105

آیت نمبر 103 تا 105 لغات القرآن : بحیرۃ (وہ اونٹنی جس کے دودھ کو چھوڑ دیا جاتا اور استعمال نہ کیا جاتا ہو) ۔ سآئبۃ (سانڈ) ۔ وہ اونٹ جو چرنے کھانے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے) ۔ وصیلۃ (وہ اونٹنی جس نے مسلسل مادہ بچے پیدا کئے اور کوئی نر پیدا نہ کیا ہو) ۔ حام (سانڈ۔ جس نے دس بچے جنوائے ہوں) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں) ۔ الکذب (جھوٹ) ۔ لایعقلون (وہ عقل نہیں رکھتے ہیں) ۔ تعالوا (آؤ) ۔ حسبنا (ہمیں کافی ہے) ۔ وجدنا (ہم نے پایا) ۔ اباءنا (اپنے باپ دادا) ۔ لایھتدون (وہ ہدایت نہیں رکھتے ہیں) ۔ علیکم (تمہارے اوپر) ۔ انفسکم (تمہارے اپنے نفس۔ تمہاری جانیں) ۔ لایضر (نقصان نہ دے گا) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ راستہ بھول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 103–104

زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھ کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نر پیدا ہوتا تو اس کا کان چیر دیتے۔ پھر نہ اس پر سواری کرتے نہ اس کو ذبح کرتے نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے۔ اور سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں تو تندرست ہوجاؤں گا میری اونٹنی سائبہ یعنی سانڈ ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ یعنی سانڈ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے۔ اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن چکتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا تو اس کو مرد کھاتے، اور اگر مادہ ہوتا تو اس کو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسا ہی اگر نر مادہ دونوں ہوتے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–104

[58] یہاں مشرکین عرب کے توہمات کا بیان ہے اور یہ سب اصطلاحیں عرب جاہلیت کی ہیں۔ '' بحیرہ '' اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس سے کوئی کام نہ لیا جاتا تھا۔ یہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس سے پانچ بچے پیدا ہوجاتے۔ '' سائبہ '' اس اونٹنی کو کہتے تھے جو اوپر تلے دو مادہ بچے جنے۔ ایسی اونٹنی کو بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ وصیلہ وہ اونٹنی جو مسلسل مادہ بچے جنے اور درمیان میں نر بچہ نہ ہو۔ اسے بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ '' حام '' اس اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہوئے ہوں۔ اسے بھی چھوڑ دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اسے ذبح کرنا یا کام میں لانا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 103–104

(ف 1) یہ مشرکانہ رسوم ہیں ، عرب ان مواشی کو مقدس سمجھنے اور بربنائے عظمت نہ ان کو ذبح کرتے اور انہ اپنے استعمال میں لاتے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کی تردید کی ہے ، اور فرمایا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب جانور یکساں ہیں ، اور ان میں قطعا تقدیس موجود نہیں ، ہر جانور بہرحال جانور ہے ، اور کوئی خوبی ان میں ایسی نہیں ، جس کی وجہ سے ان میں سے کسی کو قابل تعظیم سمجھا جائے ، مصیبت یہ تھی کہ وہ محض آباؤ و اجداد کی پیروی کرتے تھے ، جب انہیں غور وفکر کی دعوت دی گئی ، انکار کردیا ، اور کہہ دیا ، ہم تو قدیم روایات کو نہیں چھوڑیں گے ، حل لغات : بحیرۃ : جب اونٹنی پانچ بچے جنے ، اور آخری بچہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-104 اور جب ان منکرین سے کہا جائے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان احاکم کی طرف اور رسول اللہ ﷺ کی طرف آئو تو کہتے ہیں ہم نے جسے طریقے پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ہمارے لئے وہی طور طریقے کافی ہیں اپنے بڑوں کی رسم و راہ چھوڑ کر ہمیں اور راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں کیا ایسی حالت میں بھی ان کے بڑوں کا طریقہ ان کے لئے کافی ہے جبکہ ان کے بڑے اور ان کے باپ دادا نہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں اور نہ وہ راہ یافتہ ہوں اور نہ کبھی ہدایت پر رہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–106

ف 1۔ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس سے کوئی کام نہ لیتے جیسے اس ملک میں بعض لوگ سانڈ چھوڑتے ہیں اور وصیلہ وہ ناقہ ہے جو پہلے مادہ بچہ جنے پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی نر اونٹ ہے جو ایک خاص شمار سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے یہ سب باطل اور کفر اور شرک ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو سر پھیر دیتے ہیں : 239: اگر ان لوگوں کو ان بیہودہ رسموں سے باز آنے اور قرآن و سنت کی اطاعت کے لئے کہا جاتا ہے تو سر پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تمہاری راہنمائی کی ضرورت نہیں ہم تو صرف اس راہ پر گامزن رہیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلا کرتے تھے ۔ یاد رہے کہ اس بات کو ” تقلدی شخصی “ ” اندھی تقلید “ اور ” تقلید جامد “ جیسے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تقلید ہے جس نے انبیائے کرام (علیہم السلام) کے دیئے گئے پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور یہی وہ تقلید ہے جس کے لئے ہر قوم کے علماء نے اپنی قوم کے روسا کو ابھارا اور اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence of Verses Mentioned earlier was one ignorant habit of the disbelievers who were very rigid in their customs. There were many more of such habits which made Muslims grieve. Therefore, the text now addresses Muslims asking them not to worry about others. They have been asked to correct themselves first - and then try to reform others within the limit of what they can do. Onward from there, that their efforts bear fruit is something beyond their control. Therefore, for them the best course is: Do your own job and not the job of others. Commentary The Background of the Revelation of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 103–104

118. Just as, in the Indian subcontinent, cows, oxen and goats are set free after being consecrated either to God or to some idol or shrine or to some saintly person, and just as people consider it prohibited either to put them to work, to slaughter them or to derive any other kind of benefit from them, so the Arabs of the Jahiliyah period also let loose certain animals after consecrating them. Such animals were variously named. Bahirah was the name of a female camel which had already borne five young, the last of which was a male. The practice was to slit the ear of such a camel and then let…

Read the full tafseer →