Explained with ayahs 103–104
بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام ؟
صحیح بخاری شریف میں حضرت سعید بن مسیب ؒ سے مروی ہے کہ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کردیتے تھے اسے کوئی دوہتا نہ تھا سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کردیتے تھے، حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ وصیلہ وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
سورة الْمَآىِٕدَة 118
جس طرح ہمارے ملک میں گائے، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے، اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو ین کرکے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔
بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا، نہ اسے ذبح کیا جاتا،…
Read the full tafseer →بحیرہ سائبہ وغیرہ کی تعریف
بحیرہ، سائبہ وصیلہ، حامی، یہ سب زمانہ جاہلیت کے رسوم و شعائر سے متعلق ہیں، مفسرین نے ان کی تفسیر میں بہت اختلاف کیا ہے، ممکن ہے ان میں سے ہر ایک لفظ کا اطلاق مختلف صورتوں پر ہوتا ہو، ہم صرف سعید بن المسیب کی تفسیر صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں۔
بحیرہجس جانور کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے، کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔
سائبہجو جانور بتوں کے نام پر ہمارے زمانہ کے سانڈ کی طرح چھوڑ دیا جاتا تھا۔
حامینر اونٹ جو ایک خاص عدد سے جفتی کرچکا ہو، اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔
وصیلہجو اونٹنی مسلسل مادہ بچہ جنے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اسے بھی بتوں کے نام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
تفسیر آیات 103 تا 105:۔ مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
13۔ 1 یہ ان جانوروں کی قسمیں ہیں جو اہل عرب اپنے بتوں کی نذر کردیا کرتے تھے۔ ان کی مختلف تفسریں کی گئی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ سے صحیح بخاری میں اس کی تفسیر حسب ذیل نقل کی گئی ہے وہ جانور جس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بتوں کے لئے ہے۔ چناچہ کوئی شخص اس کے تھنوں کو ہاتھ نہ لگاتا، وہ جانور، جسے بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے اسے نہ سواری کے لئے استعمال کرتے اور نہ بار برداری کے لئے، جس سے پہلی دفعہ مادہ پیدا ہوتی اور اس کے بعد دوبارہ بھی مادہ ہی پیدا ہوتی یعنی ایک مادہ کے بعد دوسری مادہ مل گئی، ان کے درمیان کسی نر سے تفریق نہیں ہوئی، ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے لئے آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
71: یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانہ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اس کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کردیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو لگاتار مادہ بچے جنے، بیچ میں کوئی نر نہ ہو۔ ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ اور حامی وہ نر اونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کرچکا ہو۔ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔
انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات…
Read the full tafseer →1 بحیرہ، صائبہ، وسیلہ، حامی یہ سب زمانہ جاہلیت کے رسوم و شعائر سے متعلق ہیں۔ مفسرین نے ان کی تفسیر میں بہت اختلاف کیا ہے ممکن ہے ان میں سے ہر ایک لفظ کا اطلاق مختلف صورتوں پر ہوتا ہو ہم صرف سعید بن المسیب کی تفسیر صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں۔ " بحیرہ " جس جانور کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ " سائبہ " جو جانور بتوں کے نام پر ہمارے زمانے کے سانڈھ کی طرح چھوڑ دیا جاتا تھا۔ " وصیلہ " جو اونٹنی مسلسل مادہ بچہ جنے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ " حامی " نر اونٹ جو ایک خاص عدد سے جفتی کرچکا ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑتے تھے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →آیت 103 مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّلاَ سَآءِبَۃٍ وَّلاَ وَصِیْلَۃٍ وَّلاَحَامٍ
ان چیزوں کے تقدس کی اللہ کے طرف سے کوئی سند نہیں۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ‘ لیکن جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب رض نے ان الفاظ کی جو تفصیل بیان کی ہے ‘ وہ صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن میں وارد ہوئی ہے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی اسے اپنے حواشی میں نقل کیا ہے۔ بحیرہ : ایسا جانور جس کا دودھ بتوں کے نام کردیا جاتا تھا اور کوئی اسے اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ سائبہ : وہ جانورجو بتوں کے نام پر ‘ ہمارے زمانے کے سانڈ کی طرح ‘ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وصیلہ : جو اونٹنی مسلسل…
Read the full tafseer →151 بحیرہ سائبہ وصیلہ حام کی رسوم :۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بحیرہ وہ دودھ دینے والا جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام پر روک دیا جائے کہ کوئی اس کا دودھ نہ دوہے۔ سائبہ وہ جانور ہے جسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس پر کوئی نہ بوجھ لادتا نہ سواری کرتا (یعنی سانڈ) وصیلہ وہ اونٹنی ہے جو پہلی بار بھی مادہ جنے اور دوسری بار بھی ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حام وہ نر اونٹ ہے جس کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ اسے بھی بتوں کے نام پر بطور سانڈ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ آپ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں…
Read the full tafseer →317 ۔ (آیت) ” ما جعل اللہ “۔ یعنی اللہ نے ان چیزوں کو مشروع نہیں کیا۔ والمعنی ما سمی اللہ ولا سن ذلک حکما ولا تعبدبہ شرعا (قرطبی) یہ سب اصطلاحیں عرب جاہلیت کی ہیں۔ (آیت) ” بحیرۃ “۔ وہ اونٹنی ہے جو دس بچہ جنتی اور ان میں کا آخری نرہوتا۔ اس کا کان چیر کر اسے سانڈ کی طرح آزاد چھوڑ دیا جاتا اور کوئی کام اس سے نہ لیا جاتا (آیت) ” سآئبۃ “۔ وہ اونٹنی ہے جو کسی دیوتا کے نام پر سانڈ کی طرح آزاد چھوڑ دی جاتی اور اسے چارہ پانی سے نہ روکا جاتا۔ (آیت) ” وصیلۃ “۔ یہ بھی اونٹنی ہی کی ایک قسم ہے مادہ بچہ جننے والی۔ اسے بھی دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ (آیت) ’ حامی “۔ نراونٹ کی ایک قسم ہے جس کو آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
آیت 101 تا 107
ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف…
Read the full tafseer →ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سآئبۃ ولا وصیلۃ ولاحام اللہ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے نہ سائبہ کو نہ وصیلہ کو نہ حامی کو۔ یعنی اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی نہ ان کا حکم جاری کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو اونٹنی پانچ مرتبہ بیاہ چکتی تھی اس کا کان چیر کر آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا نہ کوئی اس پر سوار ہوتا تھا نہ اس کا اون کاٹا جاتا تھا نہ کسی پانی اور چراگاہ سے اس کو روکا جاتا تھا۔ اگر پانچویں گیا ب میں نر بچہ پیدا ہوتا تو بچہ کو ذبح کر کے مرد عورتیں سب مل کر کھا سکتے اور اگر بچہ مادہ ہوتا تو اس کا بھی کان چیر دیتے تھے ایسی سانڈھنی کو بحیرہ کہا جاتا تھا۔
ابو عبیدہ نے کہا…
Read the full tafseer →(103) اور اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو شرع کے موافق کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو۔
بحیرہ اونٹوں سے ہوتی تھا کہ جس وقت اونٹنی بچے جن دیتی تو پانچویں بچہ کو دیکھتے اگر وہ نر ہوتا تو اس کو ذبح کردیتے تھے اور مرد و عورت مل کر سب اس کا گوشت کھاتے اور اگر وہ پانچواں بچہ مادہ ہوتی تو اس کا کان چاک کردیتے اور اسے بحیرہ بولتے تھے اور اس کے منافع اور دودھ صرف مردوں کے لیے ہوتے تاوقتیکہ یہ مرتی اور جب یہ مرجاتی تو مرد و عورت سب مل کر اس کا گوشت کھاتے۔
سائبہ، آدمی اپنے مال میں سے جو چاہتا بتوں کے نام کردیتا اور اسے لے جا کر بتوں کی دیکھ بھال کرنیوالے کے سپرد کردیتا تو اگر وہ مال…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ۔۔ : اوپر کی آیات میں ایسی باتوں کو کرید کرنے اور ایسے سوال کرنے سے منع فرمایا جو لوگوں پر لازم نہیں کی گئیں، اب اس آیت میں ایسے کام اپنے اوپر لازم کرلینے سے منع فرمایا جو اللہ کی طرف سے لازم نہ ہوں۔ (کبیر)
اہل عرب زمانۂ جاہلیت میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے، پھر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھتے۔ یہاں چار قسم کے جانور بیان کیے ہیں، سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں : 1 ”بحیرہ“ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا، پھر لوگوں میں سے کوئی اسے نہیں دوھتا تھا۔ 2 ”سائبہ“ وہ جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے کھلا چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ 3…
Read the full tafseer →آیت نمبر 103
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ماجعل اللہ یہاں جعل بمعنی سمی (نام رکھنا) ہے جیسے ارشاد فرمایا : (آیت) انا جعلنہ قرآنا عربیا (الزخرف : 3) یعنی ہم نے اس کا نام قرآن عر بی رکھا۔ اس آیت میں معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نام نہیں رکھا نہ حکم بنایا ہے اور نہ اس کا شرعا مکلف بنایا ہے مگر اس نے اپنے علم سے فیصلہ کیا ہے اور اپنی قدرت و ارادہ سے مخلوق کو پیدا کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خیر و شر، نفع وضرر، طاعت و معصیت میں سے ہر چیز کا خالق ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) من بحیرۃ ولاسائبۃ، من زائدہ ہے بحیرہ فعلیۃ کے وزن پر بمعنی مفعولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
سائبہ وصیلہ اور حام کی حرمت
(1) امام بخاری، مسلم، عبدالرزاق، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کے لئے روکا جاتا تھا اور لوگوں میں سے اس کو نہ دوہتا تھا۔ اور سائبہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جسے لوگ اپنے بیوی کے لئے مختص کرلیتے اور ان پر کوئی چیز نہ لادی جاتی اور ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمر بن عامر خزاعی کو دیکھا جو دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹے پھر رہا تھا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے اونٹنی کو سائبہ کیا تھا۔ ابن المسیب (رح) نے فرمایا وصیلہ اس با کرہ اونٹنی…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ [ نہیں بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْۢ بَحِيْرَةٍ [ کسی قسم کا کوئی بحیرہ ] وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی سائبہ ] وَّلَا وَصِيْلَةٍ [ اور نہ کسی قسم کا کوئی وصیلہ ] وَّلَا حَامٍ ۙ [ اور نہ ہی کوئی حامی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن (یعنی بلکہ )] الَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر وا ] انکار کیا ] يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ ۭ [ جھوٹ ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Read the full tafseer →مشرکین عرب کی تردید جنہوں نے بعض جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا اور ان کے نام تجویز کر رکھے تھے، اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے
دنیا میں جو گمراہیاں پھیلیں ان میں سب سے بڑی گمراہی شرک ہے اور شرک کی بہت سی انواع و اقسام ہیں جن میں سے بعض اقسام ایسی ہیں کہ ان میں جانوروں کو ذریعہ شرک بنایا گیا۔ جیسا کہ سورة نساء (20) میں گذرا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ کہا تھا۔
(لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا وَّ لَاُضِلَّنَّھُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
حکم نوز دہم ابطال بعض رسوم شرکیہ واقوال کفریہ۔
قال اللہ تعالی، ماجعل اللہ من بحیرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ یھتدون۔
ربط) ۔ شروع پارہ میں نذر اور قسم کے ذریعہ حلال اور طیب کو اپنے اوپر حرام کرنے کی ممانعت فرمائی اور گزشتہ رکوع میں لایعنی سوالات کی ممانعت فرمائی کہ مبادا لوگوں کے سوال کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہ کردی جائے ان آیات میں رسول جاہلیت کا ابطال فرماتے ہیں اور اہل جاہلیت کی گمراہی کو بیان کرتے ہیں کہ ان جاہلوں مشرکوں نے بغیر حکم خداوندی اپنی طرف سے بہت سی چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں اور پھر ان کی دلیری دیکھو کہ ان کو اللہ کی طرف منسوب کردیا یہ محض افتراء ہے اور ان بےعقلوں کی جہالت اس درجہ تک پہنچ چکی…
Read the full tafseer →167 یہ مضمون تحریمات غیر اللہ کا اعادہ ہے بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کو طواغیت کی خاطر چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ استعمال نہیں کرتے تھے۔ سائبہ وہ جانور جس کو طواغیت کی خاطر بار برداری کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے وصیلۃ اس نو عمر اونٹنی کو کہتے ہیں جو یکے بعد دیگر دو مادہ بچے جنے اور ان کے درمیان نر بچہ پیدا نہ ہوا ہو۔ ایسی اونٹنی کو مشرکین اپنے معبودوں کی خوشنودی کے لیے آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ حام اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی پشت سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں۔ مشرکین اس کو طواغیت کے لیے چھوڑ دیتے۔ قال ابن المسیب انھا (البحیرۃ) التی منع لبنہا للطواغیت فلا تحلب۔۔۔ (السائبۃ) ھی الناقۃ تبطن عشرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بہت سے دینی احکام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ دین میں غلو اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ یہود و نصاریٰ نے حد سے تجاوز کیا تو وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ پھر فرمایا طیبات اور محرمات میں تغیر و تبدل نہ کرو۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے انہیں حرام نہ بنائو اور جو چیزیں ناپاک اور خبیث ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ اسی میں دنیوی اور اخروی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی مرکزیت ، اس کے عز و شرف اور اس کے احکام بیان فرمائے پھر قلت و کثرت کا مسئلہ واضح کیا اور فرمایا کہ پاک اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے۔ خباثت کی کثرت اس کے مفید ہونے کی دلیل نہیں بلکہ پاک اور طیب چیز ہی…
Read the full tafseer →مَا جَعَلَ اللہُ مِنْۢ بَحِيْرَۃٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَۃٍ وَّلَا وَصِيْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ 0ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ 0ۭ وَاَكْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ 103
بحر
أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته
المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ترکیب : ان تبد شرط تسؤکم جواب جملہ محل جر میں ہے صفت اشیاء کی ہو کر من قبلکم سالہا سے متعلق ہے۔ من بحیرۃ من زائدہ اور جعل بمعنی وضع سو یہ اس کا ایک ہی مفعول ہوگا اور بمعنی سمی ہو تو ایک مفعول محذوف ہوگا۔ اے ماسمی حیوانا بحیرۃ۔ حسبنا مصدر بمعنی اسم الفاعل مبتداء ما وجد نا جملہ خبر اولو کان وصیلہ واذا قیل شرط قالوا جواب۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ما علی الرسول الا البلاغ جس میں صاف اشارہ اس بات کا تھا کہ امر شریعت میں تم کو از حد تکلیفات کرنا اور بال کی کھال نکالنا اور رسول سے دریافت نہ کرنا چاہیے اور حاجت سے زیادہ پوچھنا نہ چاہیے۔ چناچہ اولاً مشرکین نے رسول کو جانے کیا سمجھ کر بات بات پر…
Read the full tafseer →مَاجَعَلَ اللہ ُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّ لاَ سَآئِبَۃٍ وَّلاَ وَصِیْلَۃٍ وَّلاَ حَامِ لا وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ط وَاَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (المائدہ : 103)
” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں (کہ ایسے اوہام کو مان رہے ہیں) “۔
جس طرح ہمارے ملک میں گائے ‘ بیل اور بکرے اللہ کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انھیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے ‘ اسی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سلسلۂ کلام کے درمیان ادب سکھلانے کے بعد اب پھر مزید حرام چیزوں کی نشا ندہی کی جارہی ہے۔
اس سے پہلی آیات میں کثرت سوال سے منع فرمایا تھا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرکوں نے از خود بعض جانوروں کو حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں کیا بلکہ وہ بدستور حلال ہیں۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کیا ہو اس کو حرام قرار دے کر شریعت سازی نہ کرو۔
بحیرہ : وہ جانور ہوتا تھا جس کا دودھ بتوں کی نذر کردیا جاتا تھا کوئی شخص اس کو دوہ نہیں سکتا تھا۔ اس کے کان چیر کر اس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ اس پر سواری کی جاتی نہ اس پر سامان لادا جاتا اور نہ ہی اس کا دودھ دوہا…
Read the full tafseer →محرمات جاہلیت کی تردید :
آیت 103: مَاجَعَلَ اللّٰہُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّلَاسَآپبَۃٍ وَّلَا وَصِیْلَۃٍ وَّلَاحَامٍ ۔ (اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ سائبہ ‘ وصیلہ و حام مقرر نہیں کئے) اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب کوئی اونٹنی پانچ بچے جن لیتی جن میں آخری نر ہو تو اس اونٹنی کا کان چیر کر اس کو بحیرہ بنا دیتے (بحیرہ کان چیری ہوئی) اور نہ اس کو کسی چراگاہ یا پانی سے ہٹایا جاتا۔ ایسی اونٹنی کا نام بحیرہ تھا۔ ان کا رواج یہ تھا۔ آدمی کہتا کہ اگر میں سفر سے واپس لوٹ آیا یا مرض سے صحت یاب ہوگیا تو میری اونٹنی سائبہ ہے اس کو بحیرہ کی طرح کردیتے۔ نہ سواری کرتے نہ نفع اٹھاتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
آیت نمبر 103, 102
تفسیر : (قدس سالھا قوم من قلبکم ایسی باتیں پوچھ چکی ہے ایک جماعت تم سے پہلے) جیسے قوم ثمود نے اونٹنی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے دستر خوان کا سوال کیا ( ثم اصبحوا بھا کفرین پھر ہوگئے ان باتوں سے منکر) پس ہلاک کیے گئے۔ ابوثعلبہ خشنی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں ان کو ضائع نہ کرو اور کئی اشیاء سے منع کیا۔ ان کو نہ کرو اور کئی حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کئی چیزوں سے بغیر نسیان کے درگزر کیا ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔
(ماجعل اللہ من م بحیرۃ نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ) نہ اللہ نے اتارا اور نہ اس کا حکم دیا ( ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا خام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(103 ۔ 104) ۔ مسند سعید بن منصور اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیت میں یہ ذکر جو گذرا کہ لوگ طرح طرح کے سوال آنحضرت سے کرتے تھے ان سوالوں میں ایک سوال بعض لوگوں نے ان جانوروں کی بابت بھی کیا تھا جن جانروں کا اس آیت میں ذکر ہے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎ حاصل آیت کا یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں فرمایا قریش میں جو یہ رسم ہے کہ بکری یا اونٹنی پانچ جھول جب جن چکے تھے اس کے کان چیر کر اس اور بتوں کے نام سانڈہ جانوروں اور جس اونٹ کی نطفہ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں اس کو ان لوگوں نے حرام ٹھہرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت 103
یہ مشرکین کی مذمت ہے جنہوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا۔ چناچہ انہوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیئے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں۔ بنا بریں فرمایا : (ماجعل اللہ من بحیرۃ) ” نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ “ (بحیرۃ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کرلیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ (ولاسآئبۃ) ” اور نہ سائبہ “ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہوجاتی تو اس یسائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
قول باری ہے (ماجعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام) زہری کا قول ہے کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ خدائوں کے نام کردیا جاتا تھا۔ سائبہ اس اونٹنی یا اونٹ کو کہتے تھے جسے خدائوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیاجاتا تھا۔
وصیلہ اس اونٹنی کا نام تھا جو پہلی دفعہ مادہ بچہ جنتی پھر دوسری دوسری بار بھی مادہ بچہ جنتی، ایسی اونٹنی کا نام وصیلہ رکھتے اور کہتے کہ اس نے پے در پے دو دفعہ مادہ بچہ جنا ہے جن کے درمیان کوئی نر بچہ نہیں جنا گیا پھ روہ اسے اپنے خدائوں کے نام ذبح کردیتے۔ حامی اس نر اونٹ کو کہتے تھے جو ایک خاص عدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
270 بَحِیْرَۃ اور اس کا مفہوم ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے کوئی " بحیرہ " مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ مشرکین عرب کے یہاں رواج تھا کہ جو اونٹنی پانچ بچے جنتی اور اس کا پانچواں بچہ نر ہوتا تو وہ لوگ اس کے کان چیر کر اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ اس سے وہ لوگ کوئی فائدہ نہ لیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے نہ بوجھ لادتے۔ نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ اس کو کہیں چرنے یا پانی پینے سے روکتے۔ وہ آزادانہ جہاں چاہتی جاتی، چرتی، پانی پیتی۔ اس کو کوئی روک ٹوک نہ ہوتی۔ اس کو یہ لوگ " بحیرہ " کہتے تھے۔ اور " بحیرہ "، " بحر " سے بنا ہے جسکے معنیٰ چیرنے کے آتے ہیں۔ سو " بَحِیْرَہ "، " فَعِیْلَہ " بمعنیٰ مفعول ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
سوالات کرنے سے بچیں
تشریح : ان آیات میں آداب کا ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ان لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں جو خواہ مخواہ کی میں میخ نکالتے ہیں۔ اس بات سے منع کیا گیا ہے خاص طور پر رسول اللہ ﷺ سے بےکار قسم کے سوالات نہ کئے جائیں۔ قرآن مجید کا نزول جاری ہے ہوسکتا ہے ان لوگوں کے فضول سوالات کے جواب میں کوئی ایسا کام فرض کردیا جائے جس کو پورا کرنا مشکل ہو۔ پھر بتایا گیا کہ پچھلی قوموں نے بھی اپنے نبیوں سے فضول اور بےمعنی سوالات کئے جس کے جواب میں ان کی شریعت کے قانون سخت اور مشکل ہوتے چلے گئے، جن پر عمل کرنا آسان بات نہ تھی، لہٰذا نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور یوں کافر شمار ہونے لگے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
فضول سوالات کی ممانعت :
انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…
Read the full tafseer →ف 7 اوپر کی آیتوں میں ایسی باتوں کے متعلق کرید اور سوال سے منع فرمایا ہے جن کے لوگ مکلف نہ ہوں اب اس آیت میں ایسے امور اپنے اوپر لازم کرلینے سے منع فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم نہ ہوں (کبیر) اہل عرب زمانہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑدیتے پھر ان سے انتفاع حرام سمجھتے یہاں چارقسم کے جانور بیان کئے ہیں بحیرہ۔ وہ اونٹنی جو پانچ جو پانچ بچے دے چکنے کے بعد چھٹی مرتبہ نہ بچے کہ جنم دیتی تو اس کا کان چیر کر چھوڑ دیتے۔ سائبہ وہ اونٹنی جو کسی بیمار سے شفا یاب ہونے یا کسی مراد کے کے پورا ہونے پر بطور نذرانہ بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاتی۔ وصیلہ وہ بکری جو نر اور مادہ کو جنم دیتی تو نر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(5:103) بحیرۃ۔ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولۃ کان پھٹا۔
یحرث العیر۔ میں نے اونٹ کے کان اچھی طرح کاٹ ڈالے۔ اہل عرب کی کفر کی رسموں میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کسی بت کے لئے کسی مویشی کی نذر مانتے تو اس کے کان پھاڑ دیتے نشان کے لئے اور اس کو بحیرہ کہتے۔
سائبۃ۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں وہ جانور جو بت کے نام کرکے چھوڑ دیا جاتا تو اسے سائبہ کہتے تھے۔ ساب یسیب (ضرب) بےمقصد گھومنا۔ جانور کا آزاد کرنا۔ سائبہ وہ اونٹنی جو تمام مشقت سے آزاد کردی گئی ہو۔
یہ جانور سائبہ بھی بےروک ٹوک جدھر چاہے پھرتا رہتا۔ کوئی اس کو روکتا نہ تھا ۔
وصیلۃ۔ وہ نوخیز اونٹنی جس کے سب سے پہلے حمل میں مادہ بچہ ہو اور دوسرے حمل میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
آیت نمبر 103 تا 105
لغات القرآن : بحیرۃ (وہ اونٹنی جس کے دودھ کو چھوڑ دیا جاتا اور استعمال نہ کیا جاتا ہو) ۔ سآئبۃ (سانڈ) ۔ وہ اونٹ جو چرنے کھانے کیلئے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے) ۔ وصیلۃ (وہ اونٹنی جس نے مسلسل مادہ بچے پیدا کئے اور کوئی نر پیدا نہ کیا ہو) ۔ حام (سانڈ۔ جس نے دس بچے جنوائے ہوں) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں) ۔ الکذب (جھوٹ) ۔ لایعقلون (وہ عقل نہیں رکھتے ہیں) ۔ تعالوا (آؤ) ۔ حسبنا (ہمیں کافی ہے) ۔ وجدنا (ہم نے پایا) ۔ اباءنا (اپنے باپ دادا) ۔ لایھتدون (وہ ہدایت نہیں رکھتے ہیں) ۔ علیکم (تمہارے اوپر) ۔ انفسکم (تمہارے اپنے نفس۔ تمہاری جانیں) ۔ لایضر (نقصان نہ دے گا) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ راستہ بھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھ کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نر پیدا ہوتا تو اس کا کان چیر دیتے۔ پھر نہ اس پر سواری کرتے نہ اس کو ذبح کرتے نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے۔ اور سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں تو تندرست ہوجاؤں گا میری اونٹنی سائبہ یعنی سانڈ ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ یعنی سانڈ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے۔ اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن چکتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا تو اس کو مرد کھاتے، اور اگر مادہ ہوتا تو اس کو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسا ہی اگر نر مادہ دونوں ہوتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
[58] یہاں مشرکین عرب کے توہمات کا بیان ہے اور یہ سب اصطلاحیں عرب جاہلیت کی ہیں۔ '' بحیرہ '' اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس سے کوئی کام نہ لیا جاتا تھا۔ یہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس سے پانچ بچے پیدا ہوجاتے۔ '' سائبہ '' اس اونٹنی کو کہتے تھے جو اوپر تلے دو مادہ بچے جنے۔ ایسی اونٹنی کو بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ وصیلہ وہ اونٹنی جو مسلسل مادہ بچے جنے اور درمیان میں نر بچہ نہ ہو۔ اسے بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ '' حام '' اس اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہوئے ہوں۔ اسے بھی چھوڑ دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اسے ذبح کرنا یا کام میں لانا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(ف 1) یہ مشرکانہ رسوم ہیں ، عرب ان مواشی کو مقدس سمجھنے اور بربنائے عظمت نہ ان کو ذبح کرتے اور انہ اپنے استعمال میں لاتے ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کی تردید کی ہے ، اور فرمایا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب جانور یکساں ہیں ، اور ان میں قطعا تقدیس موجود نہیں ، ہر جانور بہرحال جانور ہے ، اور کوئی خوبی ان میں ایسی نہیں ، جس کی وجہ سے ان میں سے کسی کو قابل تعظیم سمجھا جائے ،
مصیبت یہ تھی کہ وہ محض آباؤ و اجداد کی پیروی کرتے تھے ، جب انہیں غور وفکر کی دعوت دی گئی ، انکار کردیا ، اور کہہ دیا ، ہم تو قدیم روایات کو نہیں چھوڑیں گے ،
حل لغات :
بحیرۃ : جب اونٹنی پانچ بچے جنے ، اور آخری بچہ…
Read the full tafseer →-103 اللہ تعالیٰ نے نہ تو بحیرہ کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹنی جو پانچ بچے دے دے اس کا کان چیر کر بتوں کے نام پر چھوڑ دو اور اس کو قابل احترام سمجھو ورنہ اللہ تعالیٰ نے سائبہ کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹنی جو دیوتائوں کے نام پر چھوڑ دی جائے اور اس کو متبرک سمجھ کر اس کی سواری یا اس کے بال کترنے کو ترک کردیا جائے نہ اس کا دودھ دوہا جائے اور نہ اللہ تعالیٰ نے وصیلہ کو شرعی طور پر مقرر کیا یعنی وہ بکری جو اوپر تلے دو مادہ بچے دے دے اس کو متبرک سمجھ کر چھوڑ دیا جائے اور اس کے دودھ یا اس کی اون کو استعمال نہ کیا جائے اور نہ اللہ تعالیٰ نے حامی کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹ جس کی نسل سے دس بچے ہوجائیں اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
ف 1۔ بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا اور سائبہ وہ جانور ہے جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اس سے کوئی کام نہ لیتے جیسے اس ملک میں بعض لوگ سانڈ چھوڑتے ہیں اور وصیلہ وہ ناقہ ہے جو پہلے مادہ بچہ جنے پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی نر اونٹ ہے جو ایک خاص شمار سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے یہ سب باطل اور کفر اور شرک ہیں۔
Read the full tafseer →” بحیرہ “ ” سائبہ “ ” وصیلہ “ اور ” حام “ کیا ہیں ؟
237: زیر نظر آیت میں عربوں اور خصوصاً قریش کی بعض رسومات کا بیان ہے جو انہوں نے جانوروں یعنی چوپایوں کے متعلق بنا رکھی تھیں۔ چونکہ ان سب سے شرک کی بودباس آتی تھی اس لئے قرآن کریم نے ان کو ان رسومات سے باز رہنے کا حکم دیا ۔ لیکن وہ ان رسومات میں اس قدر گم ہوچکے تھے کہ انہوں نے یعنی ان کے علماء نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان باتوں کا حکم ہم کو اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے اور یہ ان کی جہالت کی کھلی دلیل تھی کہ جو چیزیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد انہوں نے ایجاد کرلی تھیں ان کو خواہ مخواہ ان کے ناموں کے…
Read the full tafseer →The Definition of Bahirah and Sa'ibah
The names Bahirah, Sa'ibah, WasiIah and Hami are connected with customs prevailing during the days of Jahiliyyah. Commentators differ in their exegesis. It is possible that all these words were applied each to a different situation. We limit ourselves to the explanation given by Sayyidna Said ibn al-Musaiyyib ؓ as it appears in the Sahih of Al-Bukhari:
BAHIRAH, an animal the milk from which was dedicated in the name of idols, and was not used by anyone personally.
SA'IBAH, an animal which was released in the name of idols, like a bull in some rural areas…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
118. Just as, in the Indian subcontinent, cows, oxen and goats are set free after being consecrated either to God or to some idol or shrine or to some saintly person, and just as people consider it prohibited either to put them to work, to slaughter them or to derive any other kind of benefit from them, so the Arabs of the Jahiliyah period also let loose certain animals after consecrating them. Such animals were variously named.
Bahirah was the name of a female camel which had already borne five young, the last of which was a male. The practice was to slit the ear of such a camel and then let…
Read the full tafseer →