Al-Maaida 5:102

Al-Maaida · from ayah 102

5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ ۟قَدۡ سَاَ لَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ

اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

A people asked such [questions] before you; then they became thereby disbelievers.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:102

تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسی باتیں تم سے پہلے اور لوگوں نے بھی پوچھی تھیں، پھر ان باتوں کے منکر ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کیے تھے، پھر ان (کے جو جوابات دیے گئے ان) سے منکر ہوگئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا پھر ان سے منکر ہو بیٹھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تم سے پہلے ایک قوم نے ایسی (ہی) باتیں پوچھی تھیں، (جب وہ بیان کر دی گئیں) پھر وہ ان کے منکر ہوگئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے سوال کیا، پھر وہ ان سے کفر کرنے والے ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم سے پہلے کچھ لوگوں نے ایسے ہی سوال کئے تھے پھر انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے ایک قوم نے پوچھیں تو وہ ان کے منکر ہو کے رہ گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم سے پہلے ایک گروہ ایسی باتیں پوچھ چکا ہے، پھر (جواب ملنے پر) وہی ان کے منکر ہوگئے،

— مولانا اسحاق مدنی

لوگ تم سے قبل بھی ایسی ہی پوچھ پاچھ کرچکے ہیں پھر ان سے منکر ہوگئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم سے پہلے ایک قوم (اہل کتاب) نے اس قسم کے سوالات کیے تھے اور پھر وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed some people before you had asked such questions and in consequence fell into unbelief.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

People before you asked such questions, and then, as a result, became disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

People before you asked such questions, and then, as a result, became disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Before you, a community asked such questions, then on that account they became disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A folk before you asked (for such disclosures) and then disbelieved therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A people asked such [questions] before you; then they became thereby disbelievers.

— Saheeh International

People living before you had asked about such things, but then rejected them.

— Muhammad Sarwar

A people before you indeed asked such questions, and then became disbelievers on account of them.

— Muhammad Habib Shakir

Surely people have asked questions before you, and were then found disbelievers therein.

— Abdul Majid Daryabadi

Some people before you did ask such questions, and on that account lost their faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 100–102

رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 117 یعنی پہلے انہوں نے خود ہی عقائد اور احکام میں موشگافیاں کیں اور ایک ایک چیز کے متعلق سوال کر کر کے تفصیلات اور قیود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرایا، پھر خود ہی اس میں الجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمانیوں میں مبتلا ہوگئے۔۔ اس گروہ سے مراد یہودی ہیں جن کے نقش قدم پر چلنے میں، قرآن اور محمد ﷺ کی تنبیہات کے باوجود، مسلمانوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–102

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو ایسی (فضول) باتیں مت پوچھو (جن میں احتمال ہو کہ) اگر تم سے ظاہر کردی جاویں تو تمہاری ناگواری کا سبب ہو (یعنی یہ احتمال ہو کہ جواب تمہاری منشاء کے خلاف آیا تو تمہیں ناگوار ہوگا) اور (جن میں یہ احتمال ہو کہ) اگر تم زمانہ نزول قرآن (اور وحی) میں ان باتوں کو پوچھو تو تم سے ظاہر کردی جاویں (یعنی سوال کرنے میں تو یہ دوسرا احتمال ہو کہ جواب مل جائے اور جواب ملنے میں وہ پہلا احتمال ہو کہ ناگوار گذرے، اور یہ دونوں احتمال جو مجموعی طور پر علّت نہی سوال کی ہیں واقعی ہیں پس ایسا سوال ممنوع ہے، خیر) سوالات گذشتہ (جو اس وقت تک کرچکے ہو وہ تو) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیئے، (مگر آئندہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 101–102

تفیسر آیات 101 تا 102: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ۚ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ۭعَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔ غیر ضروری سوالوں کی ممانعت : یہ بھی برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اوپر ان سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں جو ابتدائے سورة میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اب یہ تنبیہ فرمائی کہ مفید سوال تھے ان کے جواب دے دیے گئے لیکن ایسے سوال نہ کرو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 کہیں اس کوتاہی کے مرتکب تم بھی ہوجاؤ۔ جس طرح ایک مرتبہ نبی نے فرمایا اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص نے سوال کیا ' کیا ہر سال ـ' آپ خاموش رہے، اس نے تین مرتبہ سوال دہرایا پھر آپ نے فرمایا ' اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوجاتا تو ہر سال حج کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہوتا ' تمہیں جن چیزوں کی بابت نہیں بتایا گیا، تم مجھ سے ان کی بابت سوال مت کرو، اس لئے کہ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا کثرت سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف بھی تھا '۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

70: اس سے غالباً یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو شریعت کے احکام میں اسی قسم کی بال کی کھال نکالتے تھے، اور جب ان کے اس عمل کے نتیجے میں ان پر پابندیاں بڑھتی تھیں تو انہیں پورا کرنے سے عاجز ہوجاتے، اور بعض اوقات ان کی تعمیل سے صاف انکار بھی کر بیٹھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 101–102

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔ بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔ روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حدیث صحیح میں ہے کہ پہلی قومیں کثرت سوال اور انبیاء سے اختلاف کرنے کی بدولت ہلاک ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 102 قَدْ سَاَلَہَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِہَا کٰفِرِیْنَ اب یہاں ان چار چیزوں کا ذکر آ رہا ہے جو ان کے ہاں خواہ مخواہ بہت زیادہ مقدس ہوگئی تھیں۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ان چار شعائر کے مقابلے کی چار چیزیں ہیں جن کا ذکر پیچھے آیت 97 میں ہوا ہے : جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلَآءِدَ ط وہاں ان چار چیزوں کی توثیق کی گئی تھی کہ وہ واقعتاً اللہ کی شریعت کے اجزاء ہیں ‘ ان کا احترام اور ان کی حرمت کو ملحوظ رکھنا اہل ایمان پر لازم ہے۔ لیکن یہاں توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کچھ چیزیں تمہارے ہاں ایسی رائج…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

150 شریعت کے اجمالی حکم کی جزئیات کا قیاس نہ کیا جائے :۔ یہ یہود تھے جنہوں نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کر کر کے انہیں پریشان کر رکھا تھا جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 108 سے واضح ہوتا ہے۔ کہ جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے پے در پے سوالات شروع کردیئے کہ ہمیں اللہ سے پوچھ کر بتاؤ کہ اس گائے کی عمر کیا ہو، اس کا رنگ کیسا ہو اس کی کیفیت کیسی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اگر وہ کوئی بھی سوال نہ کرتے تو کوئی سی گائے ذبح کرنے میں آزاد تھے۔ مگر پے در پے سوال کرنے سے اپنے آپ پر پابندی ہی بڑھاتے گئے اور یہی زیادہ سوال کرنے کا نقصان ہوتا ہے۔ شریعت اگر ایک حکم اجمالاً بیان کرے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

316 ۔ اس کفر و انکار کی دو صورتیں ممکن ہیں اور دونوں واقع ہوچکی ہیں۔ ایک یہ کہ جو احکام دیئے گئے ان کا حق ادا نہ کیا، یہ کہ جو واقعات بیان کئے گئے ان سے متاثر نہ ہوئے۔ (آیت) ” قوم من قبلکم “۔ یہ کن لوگوں کی طرف اشارہ ہے ؟ عام طور سے بنی اسرائیل سے مراد لی گئی ہے کہ سابق انبیاء کی امتوں میں وہی کھود کھود کر اور کرید کرید کر سب سے زیادہ سوال کرنے کے عادی رہے ہیں۔ گنجائش دوسری امتوں کے مراد ہونے کی بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–105

آیت 101 تا 107 ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد سالہا قوم من قبلکم : تم (1) [ حضرت ابی ؓ بن کعب کی قرأت میں اس طرح آیا ہے قد سالہا قوم بینت لہم فاصبحوا بہا کافرین۔ اخرجہ ابن جریر وابن المنذر ] سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے ایسے سوال کئے تھے۔ (2) [ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غضب ناک حالت میں باہر تشریف لائے غصہ سے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا پھر جا کر ممبر پر تشریف فرما ہوگئے اس وقت ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا میرے باپ دادا کہاں ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخ میں۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا میرا باپ کون ہے فرمایا تیرا باپ فلاں شخص ہے حضرت عمر ؓ بن خطاب نے (ناراضگی کی یہ کیفیت دیکھی تو) کھڑے ہو کر عرض کیا ہم اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 101–102

(101۔ 102) یہ آیت حارث بن یزید کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کے حج کو فرض کردیا ہے تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہر ایک سال حج کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرما دی کہ ایسی باتیں مت دریافت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت معاف کردیا ہے کیوں کہ اگر ان باتوں کا تمہیں حکم دے دیا جائے تو تمہیں ناگوار گزرے اور جن باتوں کو تم سے معاف کردیا گیا ہے اگر تم زمانہ نزول وحی میں ان باتوں کو دریافت کرو تو تم پر فرض کردی جائیں اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے لیے غفور اور فضول باتوں کے سوال پر حلیم ہیں۔ ایسی باتیں دیگر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ۔۔ : یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیاء سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو بجا نہ لاتے، اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہرتے۔ یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرت سوال سے پیش آتی۔ ان کی اس روش کی متعدد مثالیں سورة بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ”لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ تو ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا ہر سال ؟“ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے تین بار یہی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 101–102

آیت نمبر ا 0 ا تا 102 ان آیات میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ بخاری اور مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ کا ترجمہ ہے۔ حضرت انس سے مروی ہے ایک شخص نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا :” تیرا باپ فلاں ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 665) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) یایھا الذین امنوا لاتسئلو عن اشیاء ان تبد لکم تسوء کم۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی قسم ! تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمہیں اس کے متعلق بتائوں گا جب تک کہ میں اس جگہ میں ہوں (2) (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 263 ) “ ایک شخص اٹھا اور پوچھا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–102

بےموقع سوالات کی ممانعت (1) امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں نے اس جیسا کبھی نہیں سنا ایک آدمی نے کہا میرا باپ کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے قتادہ ؓ کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یہاں تک کہ سوالوں سے آپ کو گھیر لیا۔ ایک دن آپ ﷺ باہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَدْ سَاَلَهَا [ پوچھ چکی ہے ان کو ] قَوْمٌ [ ایک قوم ] مِّنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے ] ثُمَّ [ پھر ] اَصْبَحُوْا [ وہ لوگ ہوگئے ] بِهَا [ اس کا ] كٰفِرِيْنَ [ انکار کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

گزشتہ قوموں نے سوال کئے پھر منکر ہو گئے پھر فرمایا (قَدْ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اصْبَحُوْا بِھَا کٰفِرِیْنَ ) کہ تم سے پہلے لوگوں نے سوال کئے تھے پھر ان کے منکر ہوگئے یعنی جب ان سوالات کا جواب دیا گیا تو ان جوابوں سے منتفع نہ ہوئے اور جو حکم ملا اس پر عمل نہ کیا۔ یہود و نصاریٰ کی ایسی عادت تھی پوچھتے تھے پر عمل نہیں کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا یہ سوال کرنا کہ آسمان سے مائدہ نازل ہو۔ یہ تو مشہور ہی ہے مائدہ نازل ہوا تو ان لوگوں سے کہا گیا تھا کہ جو کھا سکتے ہو کھالو۔ اس سے اٹھا کر نہ رکھنا لیکن وہ لوگ نہ مانے اور گنہگار ہوئے۔ اسی طرح قوم ثمود نے پہاڑ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–102

ممانعت از سوالات غیرضروریہ۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو لاتسئلوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ کافرین۔ ربط) ۔ پچھلے دو رکوع میں احکام منزلہ میں غلو اور تساہل سے منع فرمایا اب ان آیات میں غیرضروریہ اور لایعنی سوالات کی ممانعت فرماتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین رسول کا فریضہ ہے شریعت کے نازل کرنے سے مقصود ہی بیان احکام ہے پس جن امور کا شریعت نے صراحت کے ساتھ کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کے متعلق فضول اور دوراز کار سوالت مت کرو جس طرح شریعت کا بیان موجب ہدایت وبصیرت ہے اسی طرح شریعت کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے معاذ اللہ اللہ کا سکوت، سہو اور نسیان کی بناء پر نہیں بلکہ کمال حکمت پر مبنی ہے جس چیز کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 101–102

166 نفی شرک فعلی اور نفی شرک فی التصرف کے بیان کے بعد ایمان والوں کو بیجا اور بےمحل سوالات پوچھنے سے منع فرمایا۔ ماقبل سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب مسئلہ توحید کے اصول و مبادی بیان ہو رہے ہوں س وقت ایسے جزوی مسائل دریافت نہ کیا کرو۔ جو لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکے ہو کیونکہ ایسے جزوی مسائل اگر قبل از وقت اور بےموقع بیان کردئیے جائیں تو اس سے ماننے کے بجائے لوگ الٹا ان کا انکار کردیں گے اور اس طرح اشاعت توحید میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ جیسا کہ پہلی امتوں میں ایسا ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر آج کل اگر توحید کے ابتدائی اصول بیان کیے جا رہے ہوں تو گیارویں وغیرہ کے مسائل دریافت نہ کیے جائیں کیونکہ ابتداء میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–103

ربط آیات گزشتہ دروس میں بہت سے دینی احکام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ دین میں غلو اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ یہود و نصاریٰ نے حد سے تجاوز کیا تو وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ پھر فرمایا طیبات اور محرمات میں تغیر و تبدل نہ کرو۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے انہیں حرام نہ بنائو اور جو چیزیں ناپاک اور خبیث ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ اسی میں دنیوی اور اخروی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی مرکزیت ، اس کے عز و شرف اور اس کے احکام بیان فرمائے پھر قلت و کثرت کا مسئلہ واضح کیا اور فرمایا کہ پاک اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے۔ خباثت کی کثرت اس کے مفید ہونے کی دلیل نہیں بلکہ پاک اور طیب چیز ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ سَاَلَہَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِہَا كٰفِرِيْنَ۝ 102 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

ترکیب : ان تبد شرط تسؤکم جواب جملہ محل جر میں ہے صفت اشیاء کی ہو کر من قبلکم سالہا سے متعلق ہے۔ من بحیرۃ من زائدہ اور جعل بمعنی وضع سو یہ اس کا ایک ہی مفعول ہوگا اور بمعنی سمی ہو تو ایک مفعول محذوف ہوگا۔ اے ماسمی حیوانا بحیرۃ۔ حسبنا مصدر بمعنی اسم الفاعل مبتداء ما وجد نا جملہ خبر اولو کان وصیلہ واذا قیل شرط قالوا جواب۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ما علی الرسول الا البلاغ جس میں صاف اشارہ اس بات کا تھا کہ امر شریعت میں تم کو از حد تکلیفات کرنا اور بال کی کھال نکالنا اور رسول سے دریافت نہ کرنا چاہیے اور حاجت سے زیادہ پوچھنا نہ چاہیے۔ چناچہ اولاً مشرکین نے رسول کو جانے کیا سمجھ کر بات بات پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَدَ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِھَا کٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 102) ” تم سے پہلے ایک قوم نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے ‘ پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے “۔ انھوں نے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے مسلسل سوالات کے ذریعہ ‘ جب اپنے لیے آسانیاں تلاش کرنا شروع کیں تو سوالات کے نتیجے میں تفصیلات اور قیود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرلیا۔ پھر خود ہی اس میں الجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمایوں میں مبتلا ہوگئے۔ انھوں نے تو اپنے لیے چور دروازے تلاش کیے تھے ‘ لیکن ان کی نادانیوں کے نتیجے میں مزید احکام نازل ہوتے گئے اور احکام میں شدت آتی گئی۔ لیکن اصل چیز جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–102

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جب رسول ﷺ اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھاتے ہوئے اچھائی اور برائی میں فرق واضح کر رہے ہیں تو تمہیں بےوجہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب کے منا فی ہونے کے ساتھ تمہارے لیے مشکل کا با عث ہوگا۔ نزول قرآن کے وقت سوال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ جب رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نا زل کردہ وحی من وعن لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جس میں حلال و حرام، خبیث اور طیّب، جائز اور ناجائز کے درمیان پوری طرح فرق کیا جارہا ہے تو پھر خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنا جائز نہیں۔ اس میں ایک طرف گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایسے مسائل انکار پر منتج ہوتے ہیں : آیت 102: قَدْ سَاَلَہَا اس میں ضمیر اشیاء کی طرف نہیں لوٹتی۔ تاکہ عن سے متعدی کرنا پڑے۔ بلکہ اس مسئلہ کی طرف راجع ہے یعنی اس مسئلہ کا سوال کیا۔ قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ تم سے پہلوں نے۔ ثُمَّ اَصْبَحُوْابِہَا پھر اس کے سبب سے ہوگئے۔ کٰفِرِیْنَانکاری جیسا کہ بنی اسرائیل کے متعلق معروف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 102–103

آیت نمبر 103, 102 تفسیر : (قدس سالھا قوم من قلبکم ایسی باتیں پوچھ چکی ہے ایک جماعت تم سے پہلے) جیسے قوم ثمود نے اونٹنی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے دستر خوان کا سوال کیا ( ثم اصبحوا بھا کفرین پھر ہوگئے ان باتوں سے منکر) پس ہلاک کیے گئے۔ ابوثعلبہ خشنی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں ان کو ضائع نہ کرو اور کئی اشیاء سے منع کیا۔ ان کو نہ کرو اور کئی حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کئی چیزوں سے بغیر نسیان کے درگزر کیا ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔ (ماجعل اللہ من م بحیرۃ نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ) نہ اللہ نے اتارا اور نہ اس کا حکم دیا ( ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا خام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–102

(101 ۔ 102) ۔ اگرچہ بخاری ترمذی اور مستدرک حاکم اور مسند امام احمد بن حنبل اور مسند سعید بن منصور اور تفسیر ابن جریر میں جدا جدا شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے 3 ؎ لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے اس اختلاف کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ سب قصوں کی حالت مجموعی پر یہ آیت نازل ہوئی ہے 4 ؎ حاصل ان قصوں کا یہ ہے کہ جب حج کی آیت اتری تو بعض صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ کیا ہر سال کے لئے حج فرض ہوا ہے آپ نے فرمایا نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ اگر میں تمہارے اس سوال کے جواب ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لئے فرض ہوجاتا اور ہرگز تم میں طاقت نہ تھی کہ ہر سال کے حج کو تم ادا کرسکتے اور باوجود فرض ہوجانے کے تم ہر سال حج ادا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 102 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کردیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کی غمزدہ کردیں گی مثلاً بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی مثلاً غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا، یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہوجاتی ہے یا کوئی اور لا یعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (قدسا لھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کافرین ، تم سے پہلے ایک گروہ نے اس قسم کے سوالات کئے تھے پھر وہ لوگ ان ہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے ) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مائدہ یعنی کھانوں سے بھرے ہوئے دستر خوان کا معجزہ طلب کیا تھا پھر اس کے ظہور کے بعد اس کا انکار کر بیٹھے تھے۔ دوسرے حضرات کو قول ہے کہ اس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے۔ انہوں نے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا تھ اپھر جب اونٹنی ظاہر ہوگئی تو اسے ہلاک کردیا اور اس معجزے کا انکار کر بیٹھے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ بات اس وقت پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

268 غیر ضروری سوالات باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اسی طرح کی باتوں کے بارے میں پوچھا لیکن [ جواب ملنے پر ] پھر وہی لوگ ان کے منکر ہو گیے۔ یعنی اس سے مقصود بعینہ یہی سوالات نہیں بلکہ انہی کی جنس سے تعلق رکھنے والے اسی طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات ہیں۔ (تفسیر القاسمی و تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ یعنی پہلی امتوں نے جو سوالات پوچھے تھے وہ بھی اسی طرح کے غیر ضروری اور لایعنی سوالات تھے اور ان کے نتیجے میں ان قوموں پر ایسے ہی وبال اور مصائب آئے تھے۔ یہاں تک کہ وہی لوگ ان کے منکر ہوگئے۔ چناچہ بنی اسرائیل اپنے پیغمبروں سے اسی طرح کے غیر ضروری اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 101–103

سوالات کرنے سے بچیں تشریح : ان آیات میں آداب کا ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ان لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں جو خواہ مخواہ کی میں میخ نکالتے ہیں۔ اس بات سے منع کیا گیا ہے خاص طور پر رسول اللہ ﷺ سے بےکار قسم کے سوالات نہ کئے جائیں۔ قرآن مجید کا نزول جاری ہے ہوسکتا ہے ان لوگوں کے فضول سوالات کے جواب میں کوئی ایسا کام فرض کردیا جائے جس کو پورا کرنا مشکل ہو۔ پھر بتایا گیا کہ پچھلی قوموں نے بھی اپنے نبیوں سے فضول اور بےمعنی سوالات کئے جس کے جواب میں ان کی شریعت کے قانون سخت اور مشکل ہوتے چلے گئے، جن پر عمل کرنا آسان بات نہ تھی، لہٰذا نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور یوں کافر شمار ہونے لگے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–108

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔ اسرار و معارف : فضول سوالات کی ممانعت : انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیا سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو اس سے باز نہ آتے اور فرض قرار دے جاتی تو یحانہ لاتے اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہر تے یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرت سوال سے آتی اس کی اس روش کی متعدد مثالیں سورة بقرہ میں گزرچکی ہیں بعض روایات میں ہے کہ جب آیت وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا آل عمران 97) نازل ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر سواک کیا کہ اے اللہ کے رسول کیا حج ہر سال فرض ہے اس نے یہی سوال دو تین مرتبہ کیا مگر آنحضرت ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا پھر فرمایا کہ اتر میں نعم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:102) سئالہا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع اشیاء نہیں بلکہ المسئلۃ (پوچھ ۔ دریافت۔ سوال و جواب) محذوف ہے۔ یعنی ایسا ہی مسئلہ اٹھایا تھا ایک قوم نے تم سے پہلے بھی (یہاں قوم سے مراد کسی ایک خاص نبی کی قوم نہیں بلکہ سوال کرنے والوں کی ایک جماعت یعنی کئی سوال کرنے والوں نے ایسے سوال کئے تھے مثلاً حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اونٹنی کے متعلق اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ تعالیٰ کو بالجہر دیکھنے کے متعلق ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے المائدہ کے متعلق) ثم اصبحوا بھا کفرین۔ بھا بمعنی بترکہم العمل بھا مراد ہے پھر وہ منکر ہوگئے اس وضاحت پر عدم عمل کی وجہ سے۔ پھر وہ ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–102

آیت نمبر 101 تا 102 لغات القرآن : لاتسئلوا (تم نہ پوچھو) ۔ اشیآء (شیئ) ۔ چیزیں) ۔ تبدلکم (تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں) ۔ تسؤکم (تمہیں بری لگیں) ۔ حین (وقت۔ زمانہ) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔ سال (پوچھا) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔ تشریح : بےکار اور اوٹ پٹانگ سوالات پوچھنے کا شوق ان دنوں بھی تھا اور آج بھی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ عاقلانہ سوالات عاقلانہ جوابات سے بہتر ہیں۔ بےکار سوالات جہالت اور حماقت کا ثبوت ہیں مگر پوچھنے والا اپنی علمیت اور عقلیت جمانا چاہتا ہے۔ یا پھر ایمان نہ لانے کا بہانہ ہے۔ یہ خلل اندازی ہے۔ یہ الجھنا بھی ہے اور الجھانا بھی۔ یہ محفل کو بدمزہ کرنا ہے اور سب کا وقت ضائع کرنا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 101–102

آنحضرت ﷺ سے فضول سوال کرنے کی ممانعت شان نزول : بعض آنحضرت ﷺ سے بےفائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ حضور کو گراں گزرتا تھا۔ ایک روز فرمایا کہ :'' جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کو جواب دوں گا ''۔ ایک شخص نے دریافت کیا :'' میرا انجام کیا ہے '' فرمایا :'' جہنم '' دوسرے نے دریافت کیا کہ : میرا باپ کون ہے، آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتادیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے، باوجودیکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ بیٹا کہلاتا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اسی باتیں نہ پوچھو کہ جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ (تفسیر احمدی) اور خود آنحضرت ﷺ نے آئندہ اس طرح کے فضول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–102

[57] لوگ رسول اللہ ﷺ سے لایعنی اور فضول سوالات کیا کرتے تھے۔ یہاں اس سے روکا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–102

غیر ضروری موشگافیاں ممنوع ہیں ! (ف 1) اسلام دین فطرت ہے ، اسے نہایت سادہ اور جامع قرار دیا گیا ہے ، اس میں اصول ومعانی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے ، زندگی کے ان ابواب سے بحث کی ہے جو ضروری اور واقعی ہیں ۔ اور غیر ضروری تفصیلات کو ترک کردیا گیا ہے ، تاکہ قوائے عمل بیکار نہ ہوجائیں ۔ اس آیت میں اسی تفصیل طلبی کے جذبہ سے روکا ہے ، بات یہ تھی کہ بعض لوگوں نے ایسے سوالات پوچھے ، جن کا جواب ان کے لئے تکلیف دہ تھا ، مثلا عبداللہ بن حذافہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے ؟ یہ مشکوک النسب تھے آپ ﷺ نے فرمایا ، حذافہ بن قیس ، ایک صاحب بول اٹھے ، میرے ابا کہاں ہیں ، حضور نے جواب دیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-102 بلاشبہ تم سے پہلے بھی بعض لوگوں نے اسی قسم کے بےموقعہ سوالات اپنے پیغمبروں سے کئے تھے پھر جواب ملنے پر عمل نہ کرسکے اور ان کا حق بجا لانے سے منکر ہوگئے یعنی سوال کا جب جواب دیا گای تو اس پر عمل نہ کرسکے اور منکر ہوگئے اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ بےموقع سوال نہ کیا کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 101–102

ف 4۔ قید فضول کی اس لیے لگائی کہ ضرورت کی بات پوچھنے کا مضائقہ نہیں مثلا جب بعض عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا اور بعض کا بعض نہیں ہوا اور ضرورت سب کی پڑتی ہے اس کو صحابہ نے پوچھا تو بلاعتاب اس آیت میں جواب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بےسوچے سمجھے سوال کرنے والے تم سے پہلے بھی ایسے سوال کرچکے ان کا نتیجہ کیا ہوا ؟ : 236: تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اس طرح کی پوچھ پاچھ کی تھی پھر ان کی اس پوچھ پاچھ کا نتیجہ کیا نکلا ؟ جو احکام ان کو دیئے گئے تھے ان کا حق انہوں نے ادا نہ کیا اور جو واقعات بیان کئے گئے ان سے وہ بالکل متاثر نہ ہوئے۔ ” تم سے پہلے ایک گروہ نے ایسی ہی باتیں پوچھی تھیں۔ “ یہ گروہ کونسا گروہ ہے ؟ مفسرین نے اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہی مراد لی ہے اور یہی صحیح بھی ہے اسلئے کہ سابق انبیاء کرام کی امتوں میں وہی کھود کھود کر اور کرید کرید کر سب سے زیادہ سوال کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان کے اس طرح سوال در سوال کرنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–102

Commentary The Prohibition of Asking Unnecessary Questions These verses warn people who keep investigating unnecessarily into Divine injunctions. So fond and bent are they in this exercise that they would go to the outer limit of asking questions even about in-junctions which have not been prescribed at all and for which there is really no genuine need that they be asked. In this verse, such people have been instructed not to ask questions lest they are subjected to some trial, or they have to face disgrace as a result of the disclosure of their secrets. The Background of the Revelation As…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

117. Some people first indulged in hair-splitting arguments about their laws and dogma, and thereby wove a great web of credal elaborations and legal minutiae. Then they became enmeshed in this same web and thus became guilty of dogmatic errors and the violation of their own religious laws. The people referred to here are the Jews, and the Muslims who followed in their footsteps and left no stone unturned, despite the warnings contained in the Qur'an and in the sayings of the Prophet Muhammad (peace be on him).

Read the full tafseer →