Explained with ayahs 100–102
رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات
مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 116
نبی ﷺ سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ ﷺ سے پوچھ بیٹھے کہ ”میرا اصلی باپ کون ہے ؟“ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی ﷺ سے دریافت کیا ”کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ایسی (فضول) باتیں مت پوچھو (جن میں احتمال ہو کہ) اگر تم سے ظاہر کردی جاویں تو تمہاری ناگواری کا سبب ہو (یعنی یہ احتمال ہو کہ جواب تمہاری منشاء کے خلاف آیا تو تمہیں ناگوار ہوگا) اور (جن میں یہ احتمال ہو کہ) اگر تم زمانہ نزول قرآن (اور وحی) میں ان باتوں کو پوچھو تو تم سے ظاہر کردی جاویں (یعنی سوال کرنے میں تو یہ دوسرا احتمال ہو کہ جواب مل جائے اور جواب ملنے میں وہ پہلا احتمال ہو کہ ناگوار گذرے، اور یہ دونوں احتمال جو مجموعی طور پر علّت نہی سوال کی ہیں واقعی ہیں پس ایسا سوال ممنوع ہے، خیر) سوالات گذشتہ (جو اس وقت تک کرچکے ہو وہ تو) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیئے، (مگر آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
تفیسر آیات 101 تا 102: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ۚ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ۭعَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔
غیر ضروری سوالوں کی ممانعت : یہ بھی برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اوپر ان سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں جو ابتدائے سورة میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اب یہ تنبیہ فرمائی کہ مفید سوال تھے ان کے جواب دے دیے گئے لیکن ایسے سوال نہ کرو…
Read the full tafseer →11۔ 1 یہ ممانعت نزول قرآن کے وقت تھی۔ خود نبی ﷺ بھی صحابہ ؓ کو زیادہ سوالات کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا ' مسلمانوں میں وہ سب سے بڑا مجرم ہے جس کے سوال کرنے کی وجہ سے کوئی چیز حرام کردی گئی درآں حالیکہ اس سے قبل وہ حلال تھی۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
Read the full tafseer →69: مطلب یہ ہے کہ اول تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کرلیا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریم ﷺ کی سنت کے ذریعے کردیتا، اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آجائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں، چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرت ﷺ نے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔
بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔
روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی…
Read the full tafseer →7 پچھلے دو رکوع کا حاصل احکام دینیہ میں غلو اور تساہل سے روکنا تھا یعنی جو طیبات خدا نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام مت ٹھہراؤ اور جو چیزیں خبیث و حرام ہیں خواہ دائمی طور پر یا خاص احوال و اوقات میں ان سے پوری طرح اجتناب کرو۔ ان آیات میں تنبیہ فرما دی کہ جو چیزیں شارع نے تصریحاً بیان نہیں فرمائیں ان کے متعلق فضول اور دوراز کار سوالات مت کیا کرو جس طرح تحلیل و تحریم کے سلسلہ میں شارع کا بیان موجب ہدایت و بصیرت ہے۔ اس کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے۔ خدا نے جس چیز کو کمال حکمت و عدل سے حلال یا حرام کردیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس سے سکوت کیا اس میں گنجائش اور توسیع رہی۔ مجتہدین کو…
Read the full tafseer →آیت 101 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَسْءَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ ج r
ُیہ ایک خاص قسم کی مذہبی ذہنیت کا تذکرہ ہے۔ بعض لوگ بلا ضرورت ہر بات کو کھودنے ‘ کریدنے اور بال کی کھال اتارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اگر کسی چیز کے بارے میں اللہ ‘ تعالیٰ نے خود خاموشی اختیار فرمائی ہے تو اس بارے میں خواہ مخواہ سوال کرنا اپنی ذمہ داری کو بڑھانے والی بات ہے۔ چناچہ حج کے بارے میں جب سورة آل عمران آیت 97 میں حکم نازل ہوا تو ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے سوال سن لیا لیکن رُخِ مبارک دوسری طرف کرلیا۔ اب وہ صاحب ادھر تشریف لے آئے اور پھر عرض کیا ‘ حضور…
Read the full tafseer →149 یعنی ایسے سوال رسول اللہ سے نہ کیا کرو جن میں نہ تمہارا کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیوی کیونکہ خواہ مخواہ سوال پوچھنے سے انسان کو نقصان ہی ہوتا ہے یا اس پر کوئی پابندی عائد ہوجاتی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ کثرت سوال کی ممانعت :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں نے آپ سے ایسی باتیں پوچھیں کہ آپ کو برا معلوم ہوا۔ جب بہت سوال جواب ہوئے تو آپ کو غصہ آگیا۔ آپ نے فرمایا اب جو چاہو پوچھتے جاؤ۔ ایک شخص (عبداللہ بن حذافہ، جسے لوگ متہم کرتے تھے) نے کہا : میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر دوسرا شخص (سعد بن سالم) کہنے لگا : یا رسول اللہ ! میرا باپ…
Read the full tafseer →313 ۔ ممانعت ایسے سوالات سے ہورہی ہے جو سرتاسر فضول اور لایعنی ہوں مثلا لوگوں کے جزئیات زندگی کی بابت سوالات کرتے رہنا۔ سوال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کوئی معاشی یا معادی ضرورت واقعی پیش آجائے یا اس کے پیش آجانے کا احتمال قوی ہو اور صاحب شریعت سے ادب واحترام کے ساتھ اس کی بابت پوچھ لیا جائے، دوسرے یہ کہ غرض ومقصد صحیح کچھ بھی نہ ہو اور دور دور کے احتمالات پیدا کرکے سوال محض سوال کرنے کی نیت سے کیا جائے تشقیقات اپنے دل سے گڑھے جائیں اور گویا رسول کا امتحان لینے کو سوالات اس کے سامنے پیش کئے جائیں۔ یہاں ذکر اسی آخری قسم کا ہے اور اسی سوال بازی کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے۔ (آیت) ان تبدلکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
آیت 101 تا 107
ترجمہ : لوگوں نے جب آپ ﷺ سے کثرت سے سوالات کرنے شروع کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ایسی (فضول) باتوں کا سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اس لئے کہ اس میں دشواری ہو، اور اگر تم نزول قرآن کے دوران یعنی آپ ﷺ کے زمانہ حیات میں ان باتوں کا سوال کرو گے تو تم کو جواب دیدیا جائیگا، مطلب یہ کہ جب تم آپ کے زمانہ حیات میں چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے تو قرآن (ان کا جواب) ظاہر کرنے کے بارے میں نازل ہوگا اور جب قرآن ان چیزوں کا جواب ظاہر کر دے گا تو تمہیں ناگواری ہوگی، لہٰذا ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو، اللہ نے تمہارے (ماضی میں) سوال کرنے کو معاف…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء اے ایمان والو ! ایسی فضول باتیں مت پوچھو۔ یعنی ایسی باتیں مت پوچھا کرو جن کا کرنا تم پر دشوار ہو جیسے ہر سال حج کرنے کا سوال حج کے متعلق سوال کرنے والے حضرت عکاشہ بن محصن تھے ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے یہی لکھا ہے۔
خلیل ‘ سیبویہ اور جمہور اہل بصرہ کے نزدیک لفظ اشیاء اسم جمع ہے یعنی لفظاً مفرد اور معنی جمع ہے اس لفظ کی اصل شیئاءٌ تھی بروزن فَعْلَاءٌ جیسے حمراء دونوں ہمزوں کے درمیان الف تھا اور چونکہ دوسری ہمزہ تانیث کی ہے اس لئے یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ دو ہمزوں کا اجتماع چونکہ ثقیل تھا اس لئے اوّل ہمزہ کو (جو لام کلمہ کی جگہ پر تھی) اس کی جگہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101۔ 102) یہ آیت حارث بن یزید کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کے حج کو فرض کردیا ہے تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہر ایک سال حج کرنا فرض ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرما دی کہ ایسی باتیں مت دریافت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت معاف کردیا ہے کیوں کہ اگر ان باتوں کا تمہیں حکم دے دیا جائے تو تمہیں ناگوار گزرے اور جن باتوں کو تم سے معاف کردیا گیا ہے اگر تم زمانہ نزول وحی میں ان باتوں کو دریافت کرو تو تم پر فرض کردی جائیں اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے لیے غفور اور فضول باتوں کے سوال پر حلیم ہیں۔
ایسی باتیں دیگر…
Read the full tafseer →لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ۔۔ : یعنی اگر بلا ضرورت سوال کرو گے اور اس کا جواب تمہاری آسانی کے خلاف اتر آیا تو خواہ مخواہ مشکل میں پڑجاؤ گے اور پھر بجا نہ لانے کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمان قرار پاؤ گے۔ اب جب کہ قرآن اتر رہا ہے، تمہارے سوالوں کا جواب بھی اتر سکتا ہے، تو تم بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر فرض یا حرام قرار دلوا لو گے۔ اس بنا پر متعدد روایات میں رسول اللہ ﷺ نے زیادہ سوال کرنے سے منع فرمایا۔ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت نمبر ا 0 ا تا 102
ان آیات میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ بخاری اور مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ کا ترجمہ ہے۔ حضرت انس سے مروی ہے ایک شخص نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا :” تیرا باپ فلاں ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 665) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) یایھا الذین امنوا لاتسئلو عن اشیاء ان تبد لکم تسوء کم۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی قسم ! تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمہیں اس کے متعلق بتائوں گا جب تک کہ میں اس جگہ میں ہوں (2) (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 263 ) “ ایک شخص اٹھا اور پوچھا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
بےموقع سوالات کی ممانعت
(1) امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں نے اس جیسا کبھی نہیں سنا ایک آدمی نے کہا میرا باپ کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے قتادہ ؓ کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یہاں تک کہ سوالوں سے آپ کو گھیر لیا۔ ایک دن آپ ﷺ باہر…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ مت پوچھو ] عَنْ اَشْيَاۗءَ [ ایسی چیزوں کے بارے میں ] اِنْ [ کہ اگر ] تُبْدَ [ وہ ظاہر کردی جائیں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] تَسُؤْكُمْ ۚ [ تو وہ بری لگے تم کو ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَسْــــَٔـلُوْا [ تم لوگ پوچھو گے ] عَنْهَا [ ان کے بارے میں [ حِيْنَ اس وقت کہ ] يُنَزَّلُ [ اتارا جاتا ہے ] الْقُرْاٰنُ [ قرآن ] تُبْدَ [ تو وہ ظاہر کردی جائیں گی ] لَكُمْ ۭ [ تمہارے لیے ] عَفَا [ درگزر کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْهَا ۭ [ اس سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] حَلِيْمٌ [ بردبار…
Read the full tafseer →بےضرورت سوالات کرنے کی ممانعت
مفسر ابن کثیر نے ج 2 ص 105 بحوالہ جریر حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اس وقت غصے کی حالت میں تھے چہرہ انور سرخ ہو رہا تھا، آپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں ہے پھر ایک اور آدمی کھڑا ہو اس نے کہا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔
یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور (آپ کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور آپ کو راضی کرنے کے لئے) یہ پڑھنے لگے رَضِیْنَا بِا للّٰہِ رَبًّا وَّ بالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ نَبِیّاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ممانعت از سوالات غیرضروریہ۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنو لاتسئلوا۔۔۔۔ الی۔۔۔ کافرین۔
ربط) ۔ پچھلے دو رکوع میں احکام منزلہ میں غلو اور تساہل سے منع فرمایا اب ان آیات میں غیرضروریہ اور لایعنی سوالات کی ممانعت فرماتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین رسول کا فریضہ ہے شریعت کے نازل کرنے سے مقصود ہی بیان احکام ہے پس جن امور کا شریعت نے صراحت کے ساتھ کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کے متعلق فضول اور دوراز کار سوالت مت کرو جس طرح شریعت کا بیان موجب ہدایت وبصیرت ہے اسی طرح شریعت کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے معاذ اللہ اللہ کا سکوت، سہو اور نسیان کی بناء پر نہیں بلکہ کمال حکمت پر مبنی ہے جس چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
166 نفی شرک فعلی اور نفی شرک فی التصرف کے بیان کے بعد ایمان والوں کو بیجا اور بےمحل سوالات پوچھنے سے منع فرمایا۔ ماقبل سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب مسئلہ توحید کے اصول و مبادی بیان ہو رہے ہوں س وقت ایسے جزوی مسائل دریافت نہ کیا کرو۔ جو لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکے ہو کیونکہ ایسے جزوی مسائل اگر قبل از وقت اور بےموقع بیان کردئیے جائیں تو اس سے ماننے کے بجائے لوگ الٹا ان کا انکار کردیں گے اور اس طرح اشاعت توحید میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ جیسا کہ پہلی امتوں میں ایسا ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر آج کل اگر توحید کے ابتدائی اصول بیان کیے جا رہے ہوں تو گیارویں وغیرہ کے مسائل دریافت نہ کیے جائیں کیونکہ ابتداء میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بہت سے دینی احکام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ دین میں غلو اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ یہود و نصاریٰ نے حد سے تجاوز کیا تو وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ پھر فرمایا طیبات اور محرمات میں تغیر و تبدل نہ کرو۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے انہیں حرام نہ بنائو اور جو چیزیں ناپاک اور خبیث ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ اسی میں دنیوی اور اخروی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی مرکزیت ، اس کے عز و شرف اور اس کے احکام بیان فرمائے پھر قلت و کثرت کا مسئلہ واضح کیا اور فرمایا کہ پاک اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے۔ خباثت کی کثرت اس کے مفید ہونے کی دلیل نہیں بلکہ پاک اور طیب چیز ہی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْـيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ 0ۚ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْہَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ 0ۭ عَفَا اللہُ عَنْہَا 0ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ 101
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ترکیب : ان تبد شرط تسؤکم جواب جملہ محل جر میں ہے صفت اشیاء کی ہو کر من قبلکم سالہا سے متعلق ہے۔ من بحیرۃ من زائدہ اور جعل بمعنی وضع سو یہ اس کا ایک ہی مفعول ہوگا اور بمعنی سمی ہو تو ایک مفعول محذوف ہوگا۔ اے ماسمی حیوانا بحیرۃ۔ حسبنا مصدر بمعنی اسم الفاعل مبتداء ما وجد نا جملہ خبر اولو کان وصیلہ واذا قیل شرط قالوا جواب۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ما علی الرسول الا البلاغ جس میں صاف اشارہ اس بات کا تھا کہ امر شریعت میں تم کو از حد تکلیفات کرنا اور بال کی کھال نکالنا اور رسول سے دریافت نہ کرنا چاہیے اور حاجت سے زیادہ پوچھنا نہ چاہیے۔ چناچہ اولاً مشرکین نے رسول کو جانے کیا سمجھ کر بات بات پر…
Read the full tafseer →تمہید
یہ بات اس سے پہلے بھی کہی جا چکی ہے کہ سورة المائدہ کے آخری چند رکوع توضیحی آیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سورة المائدہ میں جو اساسی امور بیان کیے گئے ہیں یا جو احکام ذکر کیے گئے ہیں ‘ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں ضرورت محسوس کی گئی کہ ان مجمل احکام کی وضاحت کی جائے اور اساسی امور کو کسی حد تک کھول کر بیان کردیا جائے اور بعض دفعہ اس صورتحال سے جنم لینے والے سوالات ‘ زبانوں پر بھی آئے یا ذہنوں میں مچلتے رہے تو پروردگار نے ان آخری رکوعوں میں ایسے تمام سوالات کے جوابات دیئے ہیں اور اساسی امور کے لیے جہاں وضاحت کی ضرورت تھی ‘ وضاحت بھی کی گئی ہے اور جن احکام کی تکمیل کے لیے مزید آیات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
جب رسول ﷺ اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھاتے ہوئے اچھائی اور برائی میں فرق واضح کر رہے ہیں تو تمہیں بےوجہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب کے منا فی ہونے کے ساتھ تمہارے لیے مشکل کا با عث ہوگا۔
نزول قرآن کے وقت سوال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ جب رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نا زل کردہ وحی من وعن لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جس میں حلال و حرام، خبیث اور طیّب، جائز اور ناجائز کے درمیان پوری طرح فرق کیا جارہا ہے تو پھر خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنا جائز نہیں۔ اس میں ایک طرف گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے لیے…
Read the full tafseer →بیجا سوالات کی ممانعت :
آیت 101: : لوگ امتحاناً رسول اللہ ﷺ سے بعض چیزوں کا سوال کرتے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ ۔ (اے ایمان والو ! مت سوال کرو ان چیزوں کے متعلق اگر وہ ظاہر کردی جائیں تمہیں بری لگیں)
نحو وصرف :
خلیل و سیبویہ اور جمہور بصریین نے کہا کہ اصل اشیاء کی شیئاء دو ہمزہ جن کے درمیان الف ہے اور وہ فعلاء کا وزن بنا۔ لفظ شیٌٔ اس کا ہمزہ تانیث کا ہے۔ اس لئے یہ حمراء کی طرح منصرف نہیں ہے یہ لفظاً مفرد ہے۔ معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ جب دو جمع ہونے والے ہمزہ ثقیل ہوئے تو لام کلمہ والا ہمزہ مقدم کردیا۔ اور شین سے پہلے لائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
آیت نمبر 101, 100, 99
تفسیر :(ما علی الرسول الا البلغ رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچا دینا تبلیغ کے ذریعے واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر میں کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو)
(قل لا یستوی الخبیث والطیب آپ کہہ دیجئے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک) یعنی حلال اور حرام (ولو اعجبک اگرچہ تجھ کو بھلی لگے کثیرۃ الخبیث ناپاک کی کثرت) یہ آیت شریح بن ضبعہ الجکری اور حجاج بن بکر بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ( فاتقوا اللہ سو ڈرتے رہو اللہ سے) اور حاجیوں کو نہ چھیڑو اگرچہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں اور یہ قصہ سورت کی ابتداء میں گزر چکا ہے ( یاولی الالباب لعلکم تفلحون اے عقلمند ! تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101 ۔ 102) ۔ اگرچہ بخاری ترمذی اور مستدرک حاکم اور مسند امام احمد بن حنبل اور مسند سعید بن منصور اور تفسیر ابن جریر میں جدا جدا شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے 3 ؎ لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے اس اختلاف کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ سب قصوں کی حالت مجموعی پر یہ آیت نازل ہوئی ہے 4 ؎ حاصل ان قصوں کا یہ ہے کہ جب حج کی آیت اتری تو بعض صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ کیا ہر سال کے لئے حج فرض ہوا ہے آپ نے فرمایا نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ اگر میں تمہارے اس سوال کے جواب ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لئے فرض ہوجاتا اور ہرگز تم میں طاقت نہ تھی کہ ہر سال کے حج کو تم ادا کرسکتے اور باوجود فرض ہوجانے کے تم ہر سال حج ادا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
آیت 100
(قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے (لا یستوی الخبیث والطیب) ” ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں۔ “ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں۔ (ولو اعجبک کثرۃ الخبیث) ” اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے “ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے (فاتقوا اللہ یا ولی الالباب لعلکم تفلحون) ” پس اے عقل…
Read the full tafseer →قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لاتسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم وتسوکم اے ایمان لانے والو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں) قیس بن الربیع نے ابو حصین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ غصے کی حالت میں گھر سے برآمد ہوئے آپ کا چہرہ تمتا رہا تھا۔ پھر منبر پر تشریف فرما ہوگئے، کہا ” لوگو، تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ “ ایک شخص نے اٹھ کر پوچھا :” میں کہاں ہوں گا “ جواب ملا ” جہنم میں۔ “
ایک دوسرے شخص نے سوال : ” میرا باپ کون ہے ؟ “ جواب دیا گیا :” تیرا باپ حذافہ ہے “ اس پر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور عرض کیا :” ہم نے…
Read the full tafseer →266 غیر ضروری اور نامناسب سوالات سے ممانعت : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مت پوچھا کرو ایسی چیزوں کے بارے میں جو اگر تم لوگوں پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو بری لگیں۔ مثلاً تمہاری ایسی کوئی حرکت ظاہر ہوجائے جس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ تو اس سے تم کو شرمندہ ہونا پڑے۔ یا ایسا کوئی حکم اور عمل تم پر فرض ہوجائے جو کہ پہلے فرض نہ تھا تو اس سے تم مشقت میں پڑجاؤ۔ جیسا کہ بعض واقعات میں ہوا۔ سو اس طرح کے غیر ضروری اور نامناسب سوالات نہیں پوچھنے چاہئیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آنحضرت ﷺ سے استہزاء اور آزمائش کے طور پر مختلف قسم کے غیر ضروری سوالات کرتے۔ کوئی پوچھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
سوالات کرنے سے بچیں
تشریح : ان آیات میں آداب کا ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ان لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں جو خواہ مخواہ کی میں میخ نکالتے ہیں۔ اس بات سے منع کیا گیا ہے خاص طور پر رسول اللہ ﷺ سے بےکار قسم کے سوالات نہ کئے جائیں۔ قرآن مجید کا نزول جاری ہے ہوسکتا ہے ان لوگوں کے فضول سوالات کے جواب میں کوئی ایسا کام فرض کردیا جائے جس کو پورا کرنا مشکل ہو۔ پھر بتایا گیا کہ پچھلی قوموں نے بھی اپنے نبیوں سے فضول اور بےمعنی سوالات کئے جس کے جواب میں ان کی شریعت کے قانون سخت اور مشکل ہوتے چلے گئے، جن پر عمل کرنا آسان بات نہ تھی، لہٰذا نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور یوں کافر شمار ہونے لگے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 101 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
فضول سوالات کی ممانعت :
انسان سیکھنے کے لیے سوال کرتا ہے اگر پوچھے گا نہیں تو عمل کیسے ممکن ہے ؟ کہ عمل کے لیے جاننا شرط ہے اور جاننے کے لیے پوچھنا پڑتا ہے لیکن فضول کرید کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرتے رہنا درست نہیں خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے آپ سوال کریں گے تو اس کا جواب ضرور آئے گا ممکن ہے تمہاری منشاء کے مطابق نہ ہو اور تمہیں بات پسند نہ آئے تو اس سے بہتر ہے کہ سوال ضرور کریں مگر جس کی ضرورت ہو اور جو بات آپ کی رہنمائی کرسکے نیز نزول قرآن کا تعلق ایک خاص زمانے سے ہے یہاں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد وحی کا سلسلہ ختم…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی رزق حرام کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی خوش کن کیوں نہ ہو مگر انسان کو چاہیے کہ رزق حلال پر قناعت کرے خواہ وہ طاہر میں کتنا ہی حقیر ارکم کیوں نہ ہو، ج3 یعنی بلا ضرورت سوال کرو گے اور تمہاری مصلحت کے خلاف اس کا حکم اتر آیا ہے تو خواہ مشکل میں پڑ جاو گے اور پھر بجا نہ لانے کی صور میں اللہ تعالیٰ کے رسول کے نافرمان قرار پاو گے۔4 اور اسی طرح تم بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر فرض قرار دے لوگے اس بنا پر متعدد روایات میں آنحضرت ﷺ کی کثرت سوال سے منع فرمایا ہے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس کے سوال کے سبب کوئی ایسی چیز حرم ہوگئی جو پہلے حرام نہ تھی۔…
Read the full tafseer →ابدائ۔ مصدر۔ بدء مادہ۔
تسؤکم۔ وہ تم کو بری لگے۔ وہ تم کو ناخوش کرتی ہے۔ مضارع واحد مؤنث غائب ساء یسوء (نصر) سوء ۔ سوء سے مادہ سوئ۔ السوء ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں مبتلا کر دے۔ خواہ وہ امور دنیوی کے قبیل سے ہو یا اخروی کے اور عام ہے اس سے کہ اس کا تعلق احوال نفسانیہ سے ہو یا مدنیہ سے یا ان امور خارجہ سے جن کا تعلق جاہ و جلال کے چلے جانے یا کسی قریبی رشتہ دار یا دوست کے فوت ہوجانے سے ہوتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ یا اس کے مشتقات بمعنی بیماری۔ رسوائی۔ برائی بھی آیا ہے۔
اس آیت کے ترجمے میں بعض نے ان تبدلکم تسؤکم۔ وان تسئلوا عنھا حین ینزل القرآن تبدلکم کو اکٹھا لیا ہے اور اسے اشیاء کی صفت لکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت نمبر 101 تا 102
لغات القرآن : لاتسئلوا (تم نہ پوچھو) ۔ اشیآء (شیئ) ۔ چیزیں) ۔ تبدلکم (تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں) ۔ تسؤکم (تمہیں بری لگیں) ۔ حین (وقت۔ زمانہ) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔ سال (پوچھا) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔
تشریح : بےکار اور اوٹ پٹانگ سوالات پوچھنے کا شوق ان دنوں بھی تھا اور آج بھی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ عاقلانہ سوالات عاقلانہ جوابات سے بہتر ہیں۔ بےکار سوالات جہالت اور حماقت کا ثبوت ہیں مگر پوچھنے والا اپنی علمیت اور عقلیت جمانا چاہتا ہے۔ یا پھر ایمان نہ لانے کا بہانہ ہے۔ یہ خلل اندازی ہے۔ یہ الجھنا بھی ہے اور الجھانا بھی۔ یہ محفل کو بدمزہ کرنا ہے اور سب کا وقت ضائع کرنا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آنحضرت ﷺ سے فضول سوال کرنے کی ممانعت
شان نزول : بعض آنحضرت ﷺ سے بےفائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ حضور کو گراں گزرتا تھا۔ ایک روز فرمایا کہ :'' جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کو جواب دوں گا ''۔ ایک شخص نے دریافت کیا :'' میرا انجام کیا ہے '' فرمایا :'' جہنم '' دوسرے نے دریافت کیا کہ : میرا باپ کون ہے، آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتادیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے، باوجودیکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ بیٹا کہلاتا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اسی باتیں نہ پوچھو کہ جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ (تفسیر احمدی) اور خود آنحضرت ﷺ نے آئندہ اس طرح کے فضول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
[57] لوگ رسول اللہ ﷺ سے لایعنی اور فضول سوالات کیا کرتے تھے۔ یہاں اس سے روکا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
غیر ضروری موشگافیاں ممنوع ہیں !
(ف 1) اسلام دین فطرت ہے ، اسے نہایت سادہ اور جامع قرار دیا گیا ہے ، اس میں اصول ومعانی کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے ، زندگی کے ان ابواب سے بحث کی ہے جو ضروری اور واقعی ہیں ۔ اور غیر ضروری تفصیلات کو ترک کردیا گیا ہے ، تاکہ قوائے عمل بیکار نہ ہوجائیں ۔
اس آیت میں اسی تفصیل طلبی کے جذبہ سے روکا ہے ، بات یہ تھی کہ بعض لوگوں نے ایسے سوالات پوچھے ، جن کا جواب ان کے لئے تکلیف دہ تھا ، مثلا عبداللہ بن حذافہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون ہے ؟ یہ مشکوک النسب تھے آپ ﷺ نے فرمایا ، حذافہ بن قیس ، ایک صاحب بول اٹھے ، میرے ابا کہاں ہیں ، حضور نے جواب دیا…
Read the full tafseer →-101 اے اہل ایمان تم احکام یا واقعات کے متعلق ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جن کا ظاہر کرنا اور جواب دنیا تمہارے لئے ناگواری خاطر کا موجب ہو۔ مثلاً سراقہ بن مالک کا سوال یا اپنے مرے ہوئے باپ کے متعلق سوال وغیرہ اور اگر ایسے زمانہ میں جبکہ قرآنی وحی کا نزول جاری ہے اس قسم کے سوالات کرو گے اور بےموقعہ باتیں دریافت کرو گے تو یہ بہت ممکن ہے کہ ان کو ظاہر کردیا جائے اور ان کا جواب دے دیا جائے اور اگر جواب دیدیا جائیتو تم کو برا معلوم ہوا اور تمہاری دل آزاری کا سبب ہو۔ گزشتہ حالات میں جو غیر محتاط سوال کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور بڑے حلم والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 4۔ قید فضول کی اس لیے لگائی کہ ضرورت کی بات پوچھنے کا مضائقہ نہیں مثلا جب بعض عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا اور بعض کا بعض نہیں ہوا اور ضرورت سب کی پڑتی ہے اس کو صحابہ نے پوچھا تو بلاعتاب اس آیت میں جواب نازل ہوا۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ سے بےت کے سوال پوچھنے کی ممانعت :
234: جن سوالوں میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو ان کو بےت کے سوال ہی کہا جاتا ہے اور اسی مضمون کو ” لا یعنی “ کے الفاظ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جس بات کی کوئی ضرورت نہ ہو اس کے متعلق سوال کر کے اپنا اور دوسرے کا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن ذہنی عیاشی کے عادی ایسے ایسے سوالات کر کے اپنی ذہنی عیاشی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ ایک عالم سے سوال کریں گے اور پھر وہی سوال دوسرے کے سامنے دہرائیں گے۔ ذرا اختلاف پایا جس کا امکان موجود ہے تو دونوں عالموں کو تیار کر کے مناظرہ کا بازار گرم کردیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
Commentary
The Prohibition of Asking Unnecessary Questions
These verses warn people who keep investigating unnecessarily into Divine injunctions. So fond and bent are they in this exercise that they would go to the outer limit of asking questions even about in-junctions which have not been prescribed at all and for which there is really no genuine need that they be asked. In this verse, such people have been instructed not to ask questions lest they are subjected to some trial, or they have to face disgrace as a result of the disclosure of their secrets.
The Background of the Revelation
As…
Read the full tafseer →116. People used to ask the Prophet (peace be on him) many questions which were of no practical relevance to either religious or day-to-day affairs. Once, for instance, a person asked the Prophet (peace be on him) in the presence of a crowd: 'Who is my real father?' Likewise, many people used to ask unnecessary questions about legal matters. By these uncalled for inquiries they sought knowledge of matters which had for good reasons, been deliberately left undetermined by the Law-giver. In the Qur'an, for example. Pilgrimage had been declared obligatory. A person who became aware of this came…
Read the full tafseer →