Al-Maaida 5:100

Al-Maaida · from ayah 100

5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ ۚ— فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۟۠قُلْ لَّا يَسۡتَوِى الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ‌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِى الۡاَ لۡبَابِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Not equal are the evil and the good, although the abundance of evil might impress you." So fear Allah, O you of understanding, that you may be successful.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 13 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:100

اے پیغمبرؐ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہر حال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتا ت تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے رسول ! لوگوں سے) کہہ دو کہ ناپاک اور پاکیزہ چیزیں برابر نہیں ہوتیں، چاہے تمہیں ناپاک چیزوں کی کثرت اچھی لگتی ہو۔ لہذا اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرمادو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے، تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! کہ تم فلاح پاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: پاک اور ناپاک (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے (اے مخاطب!) اگرچہ تمہیں ناپاک (چیزوں) کی کثرت بھلی لگے۔ پس اے عقلمند لوگو! تم (کثرت و قلت کا فرق دیکھنے کی بجائے) اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے ناپاک اور پاک برابر نہیں، خواہ ناپاک کی کثرت تجھے تعجب میں ڈالے۔ پس اللہ سے ڈرو اے عقلوں والو ! تاکہ تم فلاح پاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ پاک۔ اور ناپاک ایک جیسے نہیں ہوسکتے خواہ ناپاک کی کثرت تمہیں بھلی معلوم ہو، لہذا عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوسکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ ناپاک اور پاک دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔ اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہیں فریفتہ کرنے والی ہو، پس اللہ سے ڈرتے رہو اے اہل عقل تاکہ تم فلاح پاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (اے پیغمبر ! کہ باہم) برابر نہیں ہوسکتے پاک اور ناپاک، اگرچہ ناپاک کی بہتات تمہیں اچھی ہی کیوں نہ لگتی ہو، پس ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے، اے عقل خالص رکھنے والو ! تاکہ تم فلاح پاسکو،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے۔ گوتجھے ناپاک کی کثرت حیرت میں ڈالتی ہو۔ سو اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (پوری) فلاح پاجاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے بنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے چاہے ناپاک شے کی کثرت تمہیں اچھی لگے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو تاکہ تم فلاح پاؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال برابر نہیں ہیں، خواہ ناپاک کی زیادتی تمہیں کتنی ہی بھلی لگے، پس اے لوگو ! جو عقل رکھتے ہو اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پائو

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Messenger!) Say to them: "The bad things and the good things are not equal, even though the abundance of the bad things might make you pleased with them. Men of understanding, beware of disobeying Allah; then maybe you will attain true success.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :The evil and the good are not equal, even though the abundance of (what is) evil may attract you. So, fear Allah, O people of understanding, so that you may be successful.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :The evil and the good are not equal, even though the abundance of (what is) evil may attract you. So, fear Allah, O people of understanding, so that you may be successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Not equal are the bad things and the good things, even though the abundance of the bad may please you. " So have Taqwa of Allah, O men of understanding in order that you may be successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: The evil and the good are not alike even though the plenty of the evil attract thee. So be mindful of your duty to Allah, O men of understanding, that ye may succeed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Not equal are the evil and the good, although the abundance of evil might impress you." So fear Allah, O you of understanding, that you may be successful.

— Saheeh International

(Muhammad), say to them, "The pure and filthy are not the same even though the abundance of filth may attract you. Men of reason, have fear of God so that you may have eternal happiness."

— Muhammad Sarwar

Say: The bad and the good are not equal, though the abundance of the bad may please you; so be careful of (your duty to) Allah, O men of understanding, that you may be successful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: equal are not the foul and the pure, even though the abundance of the foul may astonish thee; wherefore fear Allah, ye men of understanding! that haply ye may fare well.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Not equal are things that are bad and things that are good, even though the abundance of the bad may dazzle thee; so fear Allah, O ye that understand; that (so) ye may prosper."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 100–102

رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 115 یہ آیت قدر و قیمت کا ایک دوسرا ہی معیار پیش کرتی ہے جو ظاہر میں انسان کے معیار سے بالکل مختلف ہے۔ ظاہر بیں نظر میں سو (100) روپے بمقابلہ پانچ (5) روپے کے لازماً زیادہ قیمتی ہیں کیونکہ وہ سو ہیں اور یہ پانچ۔ لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ سو (100) روپے اگر خدا کی نافرمانی کر کے حاصل کیے گئے ہوں تو وہ ناپاک ہیں، اور پانچ روپے اگر خدا کی فرماں برداری کرتے ہوئے کمائے گئے ہوں تو وہ پاک ہیں، اور ناپاک خواہ مقدار میں کتنا ہی زیادہ ہو، بہرحال وہ پاک کے برابر کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے اور پیشاب کی ایک لبریز ناند کے مقابلہ میں پاک پانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں ارشاد فرمایاقُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ ، عربی زبان میں طیّب اور خبیث دو متقابل لفظ ہیں، طیّب ہر چیز کے عمدہ اور جیّد کو اور خبیث ہر چیز کے ردی اور خراب کو کہا جاتا ہے، اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک خبیث سے مراد حرام یا ناپاک ہے، اور طیّب سے مراد حلال اور پاک، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلکہ ہر عقل سلیم کے نزدیک پاک و ناپاک یا حلال و حرام برابر نہیں ہوسکتے۔ اس جگہ لفظ خبیث اور طیّب اپنے عموم کے اعتبار سے حرام و حلال مال و دولت کو بھی شامل ہے، اور اچھے برے انسانوں کو بھی، اور بھلے برے اعمال و اخلاق کو بھی، مطلب آیت کا واضح ہے کہ کسی عقل سلیم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

تفسیر آیات 97۔ 100:۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭوَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۔ قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 خَبِیْثُ (ناپاک) سے مراد حرام، یا کافر یا گناہ گار یا ردی۔ طیب (پاک) سے مراد حلال، یا مومن یا فرماں بردار اور عمدہ چیز ہے یا یہ سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے جس چیز میں خبث (ناپاکی) ہوگی وہ کفر ہو، فسق و فجور ہو، اشیا و اقوال ہوں، کثرت کے باوجود وہ ان چیزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے جن میں پاکیزگی ہو۔ یہ دونوں کسی صورت میں برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے پلیدی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت اور برکت ختم ہوجاتی ہے جب کہ جس چیز میں پاکیزگی ہوگی اس سے اس کی منفعت اور برکت میں اضافہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

68: اس آیت نے بتادیا ہے کہ دنیا میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ناپاک یا حرام چیز کا رواج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ وقت کا فیشن قرار پا جاتا ہے، اور فیشن پرست لوگ اسے اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف کسی چیز کے عام رواج کی وجہ سے اسے اختیار نہ کریں ؛ بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایات کی روشنی میں وہ جائز یا پاک ہے یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 97–100

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اس رکوع سے پہلے رکوع میں فرمایا تھا کہ طیبات کو حرام مت ٹھہراؤ بلکہ ان سے اعتدال کے ساتھ تمتع کرو۔ اس مضمون کی تکمیل کے بعد خمر وغیرہ چند ناپاک اور خبیث چیزوں کی حرمت بیان فرمائی۔ اسی سلسلے میں محرم کے شکار کو حرام کیا۔ یعنی جس طرح خمر سیتہ وغیرہ خبیث چیزیں ہیں اسی طرح محرم کے شکار کو سمجھو محرم کی مناسبت سے چند ضمنی چیزوں کا بیان فرمانے کے بعد اب متنبہ فرماتے ہیں کہ طیب اور خبیث یکساں نہیں ہوسکتے۔ تھوڑی چیز اگر طیب و حلال ہو وہ بہت سی خبیث و حرام چیز سے بہتر ہے۔ عقلمند کو چاہیے کہ ہمیشہ طیب و حلال کو اختیار کرے، گندی اور خراب چیزوں کی طرف خواہ وہ دیکھنے میں کتنی ہی زیادہ ہوں اور بھلی لگیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 100 قُلْ لاَّ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ج انسان تو چاہتا ہے کہ اس کے پاس ہر شے کی بہتات ہو ‘ لیکن ناجائز اور حرام طریقے سے کمایا ہوا مال اگرچہ کثرت سے جمع ہوگیا ہو مگر ہے تو خبیث اور ناپاک ہی۔ بیشک اس کی چکاچوند تمہاری آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہو مگر اس میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ بقول علّامہ اقبالؔ : ؂ نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

148۔ الف خبیث اور طیب کے مختلف معانی :۔ اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاً (1) غلاظت کے ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے یا ایک گندے پانی کے نالہ سے صاف ستھرے پانی کا ایک گلاس زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔ (2) حرام طریقہ سے کمائی ہوئی دولت اگر ایک سو روپیہ ہو تو حلال طریقے سے کمائے ہوئے پانچ روپے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں زیادہ قدر و قیمت رکھتے ہیں اگرچہ تمہیں وہ سو روپے کی حرام کمائی کتنی ہی اچھی نظر آتی ہو۔ (3) بدکار اور نافرمان آدمیوں کے ایک لشکر کے مقابلہ میں اللہ کے نزدیک گنتی کے چند فرمانبردار اور متقی لوگ زیادہ محبوب ہیں اور جو لوگ صاحب عقل و شعور ہیں وہ ان متضاد اشیاء کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

311 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ”(الخبیث) نافرمان یا نافر مانی، ذات وصفات سب کے لئے جامع۔ والصحیح ان اللفظ عام فی جمیع الامور یتصور فی المکاسب والاعمال والناس والمعارف من العلوم وغیرھا (قرطبی) (آیت) ” الطیب “۔ فرمان بردار یا فرمان برداری۔ (آیت) ” لایستوی “۔ اس لئے کہ ایک اللہ کے ہاں محبوب ومحمود ہے اور دوسری مبغوض ومردود۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ عالم روحانیت میں جو چیزیں گندی یا خبیث ہیں، وہ عالم جسمانیات میں بڑی مقداروالی اور بڑی لذت والی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ ظاہری تعداد اور لذت دائمی اور سرمدی لذتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم کردینے والی ہے، اس لئے ان کا اور ان کا کوئی مقابلہ ہی کیا ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قل لا یستوی الخبیث والطیب الخ، الخبیث، کا لفظ نافرمان یا نافرمانی، حرام اور ردی، کفر و شرک وغیرہ سب کو شامل ہے، خواہ ازقبیل ذات یا ازقبیل مال یا اعمال (قرطبی) اور طیب، فرمانبرداری اور فرمانبرداری پاک اور لطیف سب کو شامل ہے، ظاہر بین نظروں میں ہزار روپے سو کے مقابلہ میں یقیناً کم ہیں، مگر خدا کی نافرمانی کرکے، حاصل کئے گئے ہوں تو وہ ناپاک اور خبیث ہیں، اور سو روپے جو خدا کی فرمانبرداری کرتے ہوئے حاصل کئے گئے ہوں وہ پاک اور طیب ہیں، ناپاک مقدار میں خواہ کتنا ہی زیادہ ہو بہرحال وہ پاک قلیل کے برابر نہیں سکتا، غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے لہٰذا دانشمند شخص کو حلال ہی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل لا یستوی الخبیث والطیب ناپاک اور پاک برابر نہیں۔ الفاظ کا عموم دلالت کر رہا ہے کہ اللہ کے نزدیک برا اچھا برابر نہیں خواہ برے اور کھرے آدمی ہوں یا اعمال۔ اس فقرہ میں اچھے عمل اور حلال مال کی ترغیب دی گئی ہے۔ ولو اعجبک کثرۃ الخبیث اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہارے دل کو لبھائے۔ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی بےدلی کے زیادہ عمل سے بہتر ہوتا ہے اور تھوڑا حلال مال راہ خدا میں خرچ کرنا ‘ زیادہ حرام مال خرچ کرنے سے افضل ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چھوارے کا ایک ٹکڑا (پاک کمائی کا) خیرات کیا اور اللہ پاک (مال) کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 99–100

(99۔ 100) اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے، جنھوں نے شریح کے مال پر جو کہ وہ لے کر آئے تھے، دست درازی کی تھی کہ شریح کا مال حرام اور وہ حلال مال جو وہ لے کر آئے تھے برابر نہیں ہوسکتے، لہٰذا عقل والو حرام مال لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ اس کے غصہ اور عذاب سے بچ سکو۔ شان نزول : (آیت) ”قل لا یستوی الخبیث“۔ (الخ) واحدی ؒ اور اصبہانی ؒ نے ترغیب میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے شراب کی حرمت بیان کی تو یہ سن کر ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میری یہی تجارت تھی اور میں نے اس کام میں کافی مال حاصل کیا ہے اگر میں اس مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا وہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ۔۔ : یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ حرام رزق کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی ہی خوش کن کیوں نہ ہو، انسان پر لازم ہے کہ وہ رزق حلال پر قناعت کرے، خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر ہو۔ اسی طرح کافر کتنا بھی اچھا نظر آئے مومن کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ رزق حلال اور مومن طیب ہیں اور رزق حرام اور کافر خبیث ہیں، خبث نے ان کی اچھائی کو ختم کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 100 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) قل لایستوی الخبیث والطیب اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ حسن نے کہا : الخبیث اور الطیب سے مراد حلال اور حرام ہے۔ سدی نے کہا : مومن و کافر ہیں۔ بعض نے کہا : مطیع اور عاصی ہیں۔ بعض نے کہا : ردی اور جید ہے۔ یہ بطور مثال ہے صحیح یہ ہے کہ لفظ ان تمام امور کو شامل ہے مکاسب، اعمال، لوگ، علوم ومعارف وغیرہ سب متصور ہوسکتے ہیں اس میں سے خبیث فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس کا انجام اچھا ہوتا ہے اگرچہ زیادہ بھی ہو اور پاکیزہ تھوڑا بھی نفع بخش ہوتا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہوتا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 244 ) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا خبیث سے مراد مشرک اور طیب سے مراد مؤمن ہے۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حلال کا ایک درہم میں صدقہ کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے دو لاکھ حرام کے صدقہ کرنے سے اگر تم چاہو تو اللہ کی کتاب پڑھ لو لفظ آیت قل لا یستوی الخبیث والطیب (3) امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ہم سے بیان کیا کہ یونس بن عبد الاعلی نے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا ابن رہب نے اس سے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمن اسکندرانی (رح) نے بیان فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) کی طرف ان کے بعض عمال نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّا يَسْتَوِي [ برابر نہیں ہوتیں ] الْخَبِيْثُ [ ناپاک ] وَالطَّيِّبُ [ اور پاکیزہ (چیزیں )] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] اَعْجَبَكَ [ بھلی لگے تجھ کو ] كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ [ ناپاک کی کثرت ] فَاتَّقُوا [ تو تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ [ اے ہوشمندو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد کہ تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ فلاح پاؤ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

خبیث اور طیب برابر نہیں ہیں لباب النقول ص 98 میں اس آیت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے شراب کی حرمت بیان فرمائی تو ایک دیہات کا رہنے والا آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ میں شراب کی تجارت کرتا تھا اس کے ذریعہ میں نے مال حاصل کیا اگر یہ مال اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا یہ مال مجھے نفع دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا اِنَّ اللّٰہَ لا یقبل الا الطیب ( کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ مگر پاکیزہ مال کو) اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ نے کی تصدیق فرماتے ہوئے آیت (قُلْ لاَ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ ) نازل فرمائی۔ اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–100

حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔ قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔ ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

165 خبیث سے برے اعمال مثلاً شرک وغیرہ اور حرام مال مثلاً غیر اللہ کی نذریں وغیرہ مراد ہیں اور طیب سے نیک اعمال اور حلال مال مراد ہے مثلاً اللہ کی نذریں اور منتیں، یعنی نیک اعمال اور برے اعمال اور اسی طرح حلال مال اور حرام مال خدا کے یہاں برابر نہیں ہیں اور دونوں کے احکام و نتائج یکساں نہیں ہیں۔ اگرچہ شرک و بدعت کے اعمال بہت زیادہ ہوں اور حرام کی کمائی نذر غیر اللہ وغیرہ ڈھیروں ہو لیکن اللہ کے یہاں ان کی کوئی قدر نہیں اور شرک و بدعت اور باقی آلائشوں سے پاک اعمال اگرچہ کم ہوں اور مال اگرچہ قلیل ہو خدا کے یہاں وہی پسندیدہ ہے۔ فَاتَّقُوْ اللہَ الخ اے عقل والو ! اللہ سے ڈرو اور عمل طیب اور مال طیب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 97–100

رابط آیات پہلی آیات میں احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تاوان کا بیان تھا جو ایسی حالت میں شکاری کو ادا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ شکار کی حرمت بیت اللہ شریف کی تکریم اور وہاں کے مقصد کے لئے احرام پہننے کی وجہ سے ہے۔ شکار کے یہ احکام بیان کرنے کے بعد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی فضیلت اور اس کی مرکزیت کا ذکر کیا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی حیثیت اور اس میں جہان بھر کے لئے جو مصلحت ہے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ اللہ بیت ذریعہ قیام ہے ارشاد ہوتا ہے جعل اللہ لکعبۃ البیت الحرم قیمۃ للناس۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَۃُ الْخَبِيْثِ۝ 0ۚ فَاتَّقُوا اللہَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝ 100ۧ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے خبث الخُبْثُ والخَبِيثُ : ما يكره رداءة وخساسة، محسوسا کان أو معقولا، وأصله الرّديء الدّخلة الجاري مجری خَبَثِ الحدید، وذلک يتناول الباطل في الاعتقاد، والکذب في المقال،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 97–100

1 ؎ کعبہ میں ذبح ہونے کے لئے ایام حج میں اونٹ وغیرہ قربانی کے گلے میں شناخت کے لئے پٹا باندھ دیتے تھے۔ پھر اس کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا ایسے جانور کو قلائد کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو اور چند مہینوں کو اور قلائد کو لوگوں کے واسطے قیام یعنی امن اور تعظیم کی چیز بنا دیا۔ اس لئے کعبہ میں اور محترم مہینوں میں کوئی کسی کو نہیں چھیڑتا۔ اسی طرح ہدی اور قلائد کو بھی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ لاَّ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ج فَاتَّقُوا اللہ َ یٰٓاُولِی الاْ َلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (المائدہ : 100) ” کہہ دو کہ ناپاک اور پاک دونوں یکساں نہیں ہوسکتے ‘ اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہیں فریفتہ کرنے والی ہو۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اے اہل عقل ! تاکہ تم فلاح پائو “۔ جہاں تک خبیث اور طیب یعنی پاک اور ناپاک اور اچھے اور برے کا تعلق ہے ‘ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسانوں میں ہمیشہ قابل توجہ رہا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ہو ہر آدمی اس سوال سے تعرض کرتا ہے۔ کھانے پینے کی بیشمار چیزیں ہیں ‘ جب ہم انھیں اپنے لیے حاصل کرتے ہیں تو سب سے پہلا سوال جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 99–100

فہم القرآن ربط کلام : رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق و باطل اور اچھے، برے سے آگاہ کرے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ برائی کے رواج اور اسکی کثرت سے مرعوب ہونے کے بجائے رسول کی اطاعت کریں اسی میں کامیابی ہے۔ اس جاری خطاب کی آیت نمبر 92 میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہمارے رسول کا منصب لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے جبراً منوانا نہیں۔ یہاں پھر فرمایا ہے کہ رسول کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کا کام لوگوں کے پیچھے پیچھے رہنا اور ان کی خلوتوں کی نگرانی کرنا نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جو کچھ تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو وہ تمہارے ایک ایک لمحہ اور کام کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ نے خبیث و طیب کو ایک جیسا نہیں بنایا : آیت 100: قُلْ لاَّ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ ۔ (کہہ دیں خبیث اور طیب برابر نہیں) جب اس بات کی اطلاع دے دی کہ وہ جو کچھ چھپاتے ہیں۔ اور ظاہر کرتے ہیں سب کو جاننے والا ہے تو اب ذکر کردیا کہ ان میں خبیث اور طیب برابر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان امتیاز و فرق کر دے گا۔ پس خبیث (کافر) کو سزا دے گا اور طیب (مسلم) کو بدلہ دے گا۔ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُالْخَبِیْثِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ اگرچہ طیب قلیل ہو مگر اس کو ترجیح دو ۔ خبیث پر خواہ ان کی کثرت ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ہر حلال و حرام کے متعلق ہے۔ اور لوگوں میں سے رَدّی اور عمدہ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 99–101

آیت نمبر 101, 100, 99 تفسیر :(ما علی الرسول الا البلغ رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچا دینا تبلیغ کے ذریعے واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر میں کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو) (قل لا یستوی الخبیث والطیب آپ کہہ دیجئے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک) یعنی حلال اور حرام (ولو اعجبک اگرچہ تجھ کو بھلی لگے کثیرۃ الخبیث ناپاک کی کثرت) یہ آیت شریح بن ضبعہ الجکری اور حجاج بن بکر بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ( فاتقوا اللہ سو ڈرتے رہو اللہ سے) اور حاجیوں کو نہ چھیڑو اگرچہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں اور یہ قصہ سورت کی ابتداء میں گزر چکا ہے ( یاولی الالباب لعلکم تفلحون اے عقلمند ! تاکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

تفسیر مقاتل بن سلیمان وغیرہ میں اس آیت کی شان نزول کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ ربیعہ میں کا ایک شخص شریح بن ہند آنحضرت ﷺ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپ کی نصیحت سن کر کہنے لگا کہ آپ کی نصیحت تو اچھی ہے لیکن میری قوم میں کچھ رودار لوگ ہیں جن کے مشورہ کے بغیر میں کوئی کام نہیں کرتا میں اپنے وطن پہنچ کر ان سے مشورہ لوں گا اور ان کو بھی اسلام پر آمادہ کروں گا اور شاید تھوڑے دنوں کے بعد ہم سب آن کر داخل اسلام ہوجاویں گے۔ حدیث کی روایت میں اگرچہ ان مقاتل بن سلیمان کو بعض علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ایک جگہ اس تفسیر میں گذرچکا ہے کہ ان مقاتل کی تفسیر کو امام شافعی (رح) نے معتبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 100–101

آیت 100 (قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے (لا یستوی الخبیث والطیب) ” ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں۔ “ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں۔ (ولو اعجبک کثرۃ الخبیث) ” اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے “ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے (فاتقوا اللہ یا ولی الالباب لعلکم تفلحون) ” پس اے عقل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 97–100

قول باری ہے (جعل اللہ الکعبۃ المبیت الحرام قیاماً للناس۔ ہم نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا) تا آخرت آیت ایک قول ہے کہ اللہ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اس نے کعبہ کو لوگوں کی معیشت کا سہارا اور ستون بنادیا۔ جس طرح یہ محاورہ ہے ۔” ھو قوام الامرو ملا کہ “ (وہ اس معاملہ کا سہارا اور بنیاد ہے) یعنی اس کی ذات کے سہارے یہ معامل ہٹھیک ٹھاک رہتا ہے۔ کبعہ بھی لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی درست رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ سعید بن جبیر کا یہ قول منقول ہے کہ یہ لوگوں کے لئے سہارا اور ان کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ ہے یعنی اس کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

264 پاک اور ناپاک آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ پاک اور ناپاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ ناپاک کی بہتات تم کو اچھے لگے کہ پاک چیز میں جو خیرو برکت ہوتی ہے وہ ناپاک اور خبیث میں بہرحال نہیں ہوسکتی۔ خواہ وہ پاک چیز قول و فعل ہو، یا مال و دولت یا کچھ اور کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ (قرطبی، محاسن وغیرہ) ۔ سو پاک چیز میں جو خیر و برکت ہوتی ہے وہ اس قدر بڑی اور اتنی عظیم الشان چیز ہے کہ ناپاک کی اس کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں پاک چیز ہی نصیب فرمائے اور خبیث و ناپاک کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 97–100

خانہ کعبہ کے بارے میں احکامات تشریح : کعبہ عربی زبان میں چوکور مکان کو کہتے ہیں۔ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ وہ ایک خاص مکان کو ظاہر کرے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام اور امن و سکون کا سبب بتایا ہے۔ یہ چیزیں پہلے بھی اسی طرح محترم تھیں، جس طرح آج ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ رب العزت نے انسانوں کے امن و سکون کے لیے لوگوں کے دلوں میں ان چار چیزوں کی عزت و حرمت ڈال رکھی تھی۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔ خانہ کعبہ، ماہ ذی الحجہ، قربانی کے جانور اور جانوروں کے گلے میں ڈالے ہوئے پٹے یا ہار جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قربانی کے جانور ہیں۔ قبل از اسلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–100

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔ اسرار و معارف : در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 99–100

ف 1 یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن اس میں ترغیب وترہیب ہے (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:101) ان تبد۔ اصل میں تبدی تھا۔ ان کے عمل سے ی حذف ہوگئی۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ، اگر ہو ظاہر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

آیت نمبر 97 تا 100 لغات القرآن : قیما (قائم رہنے (کا سبب) ۔ القلائد (قلادۃ) ۔ پٹے (جو جانور کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں) ۔ تبدون (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تکتمون (تم چھپاتے ہو) ۔ لایستوی (برابر نہیں ہیں) ۔ الخبیث (گندگی۔ برائی) ۔ الطیب (پاکیزگی۔ نیکی) ۔ اعجبک (تجھے بہتر لگے۔ اچھی لگے) ۔ کثرۃ الخبیت (گندگی کی کثرت) ۔ اولو الالباب (لب) عقل۔ سمجھ۔ عقلوں والے) ۔ تشریح : جب سے کعبہ بنا ہے انبیاء اسی کی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے ہیں اور ہر سال اس کا حج بھی کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا گھر نہ کبھی بنا اور نہ بنے گا۔ ابرہہ نے اس کے مدمقابل جب کلیس بنایا تو جس طرح وہ اپنی فوج کے ساتھ تباہ و برباد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز طریقہ سے کمائے ہوئے مال میں جو شخص کچھ صدقہ و خیرات کرے گا وہ صدقہ بارگاہ الہی میں بالکل نامقبول ہے۔ آگے فرمایا کہ ہر ایماندار کو ناجائز کمائی سے بچنا اور خدا سے ڈرنا چاہئے کہ ایماندار شخص کی نجات کی صورت یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[56] یعنی حلال اور حرام، کھرا اور کھوٹا ایک درجے میں نہیں ہوسکتے۔ جو چیز جائز ذریعے سے حاصل کی گئی ہو وہ اللہ کی نظر میں محبوب ہے چاہے وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برخلاف جو چیز ناجائز ذریعے سے حاصل کی گئی ہو وہ اللہ کے نزدیک قابل نفرت ہے چاہے اس کی کثرت اور ظاہری خوشنمائی کتنی ہی دلفریب کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–100

(ف 3) یعنی اللہ تعالیٰ مجرموں اور گنہ گاروں کے لئے جہاں سخت گیر ہے ، وہاں اپنے بندوں کے لئے غفور اور رحیم بھی بدرجہ اتم ہے ، حل لغات : الحرام : عزت ، بیت الحرام ، یعنی عزت کا گھر ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-100 اے پیغمبر آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے کہ ناپاک چیز خواہ دو گنا ہو یا گناہ کرنے والا ہو یا کوئی حرام چیز ہو کسی پاک چیز کے خواہ وہ نیکی ہو یا نیکی کرنیوالا ہو یا کوئی حلال چیز ہو دونوں چیزیں خبیث اور طب برابر نہیں ہوسکتیں اگرچہ اے دیکھنے والے ناپاک کی اکثرت تجھ کو تعجب میں ہی کیوں نہ ڈالتی ہو تب بھی دونوں میں مساوات اور برابری نہیں ہوسکتی یعنی ناپاک کی بہتات اور اکثریت قابل تعجب اور خوش آئند نہیں ہے لیکن اگر کسی کے لئے تعجب انگیز ہو تب بھی طیب ار خبیث میں برابری نہیں ہوسکتی حرام خواہ کتنا ہی زیادہ ہو بہرحال حرام اور خبیث ہے اور حلال کتنا ہی کم ہو بہرحال حلال اور طیب ہے لہٰذا اے عقل مند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 97–100

ف 3۔ کعبہ کے مصالح و برکات دنیویہ میں بعض یہ ہیں اس کا جائے امن ہونا وہاں ہر سال مجمع ہونا جس میں مالی ترقی اور قومی اتحاد بہت سہولت سے میسر ہوسکتا ہے اس کے بقا تک عالم کا باقی رہنا حتی کہ جب کفار اس کو منہدم کردیں گے تو قریب ہی قیامت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ناپاک اور پاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے ناپاک کی کثرت بھی بری ہے : 233: عربی زبان میں طیب اور خبیث دو متقابل لفظ ہیں۔ طیب ہرچیز کے عمدہ ، جید اور حلال کو کہتے ہیں اور خبیث ہرچیز کے ردی ، خراب اور حرام ہونے کو کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے بار بار قرآن کریم میں جہاں یہ لفظ آیا یہ بات کہی ہے کہ ہر طیب کے لئے حلال ہونا لازمی شرط ہے اور ہر خبیث کے لئے حرام ہونا بھی لازم و ضروری ہے لیکن ہر حلال چیز طیب نہیں ہوئی اور اس طرح ہر حرام چیز خبیث بھی نہیں ہوتی گویا طیب حلال سے بھی اوپر ہے اور اس طرح خبیث حرام سے اوپر۔ طیب اللہ کے ہاں محبوب ومحمود ہے اور خبیث اللہ کے ہاں مبغوض و مردود ہے پھر تم ہی بتاؤ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (100), it was said: قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ (Say, "The bad and the good are not equal ... ). In Arabic, the words "Tayyib" and "Khabith" are antonyms. Tayyib refers to what is the best and purest in everything and Khabith to what is the most condemned and evil. In this verse, as held by the majority of commentators, Khabith means حَرَام haram or impure, while Tayyib means Halal and pure. Thus, the verse would come to mean that with Allah Ta` ala, rather with every-one having sound reason and good taste, pure and impure or Halal and haram cannot be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

115. This verse enunciates a standard of evaluation and judgement quite distinct from the standards employed by superficial people. For the latter, for instance, a hundred dollars are worth more than five dollars, since a hundred is more than five. But, according to this verse, if those hundred dollars have been earned in a manner entailing the disobedience of God the entire amount becomes unclean. If, on the contrary, a man earns five dollars while obeying God then this amount is clean; and anything which is unclean, whatever its quantity, cannot be worth that which is clean. A drop of…

Read the full tafseer →