Explained with ayahs 96–99
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
سورة الْمَآىِٕدَة 113
عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدس عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پورے ملک کی معاشی و تمدنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عمرے کے لیے سارا ملک اس کی طرف کھنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدنی روابط قائم کرتے، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی، اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا پورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہوجاتا تھا۔ بس یہی زمانہ ایسا تھا جس…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں ارشاد فرمایامَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ، یعنی ”ہمارے رسول ﷺ کے ذمہ تو اتنا ہی کام ہے کہ ہمارے احکام مخلوق کو پہنچادیں، پھر وہ مانیں نہ مانیں اس کا نفع و ضرر انہی کو پہنچتا ہے، ان کی نافرمانی سے ہمارے رسول ﷺ کا کچھ نقصان نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دیا جاسکتا، وہ تمہارے ظاہر و باطن اور کھلے اور چھپے ہر کام سے واقف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
تفسیر آیات 97۔ 100:۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭوَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۔ قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
97۔ 1 کعبہ کو البیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔ اسی طرح اس میں اگر باپ کے قاتل سے بھی سامنا ہوجاتا تو اس سے بھی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے قیاما للناس (لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث) قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کا نظم و انصرام بھی صحیح ہے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح حرمت والے مہینے (رجب، ذوالحجہ اور محرم) اور حرم میں جانے والے جانور ہیں کہ تمام چیزوں سے بھی اہل مکہ مزکورہ فوائد حاصل ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
67: کعبے شریف اور حرمت والے مہینے کا باعث امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے، اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے ان کے گلے میں پٹے ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتا چل جائے کہ یہ جانور حرم جارہے ہیں ؛ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے، کعبے کے قیام امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا قیامت نہیں آئے گی، قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اٹھالیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)
” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا)…
Read the full tafseer →5 پیغمبر (علیہ السلام) نے خدا کا قانون اور پیام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا اور خدا کی حجت بندوں پر تمام ہوچکی اب ظاہر و باطن میں جیسا عمل کرو گے وہ سب خدا کے سامنے ہے۔ حساب و جزا کے وقت ذرہ ذرہ تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 99 مَا عَلَی الرَّسُوْلِ الاَّ الْبَلٰغُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ
جب رسول اللہ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا تو باقی ساری ذمہ داری اب تمہاری ہے۔
Read the full tafseer →148 یعنی رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کے احکام پہنچا دینے تک ہے آگے ان احکام کی فرمانبرداری کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نافرمانی کرو گے تو رسول تمہاری اس نافرمانی سے بری الذمہ ہے اور اللہ تمہارے ظاہری اعمال و اقوال کے علاوہ باطنی خیالات تک سے واقف ہے کہ تم میں اس کی اطاعت کا جذبہ کیسا ہے ؟
Read the full tafseer →310 ۔ اللہ اور اس کے رسول کی جداگانہ حیثیتوں کی یہ تشریح منش مخاطبین کیلئے بار بار ضروری ہوئی، اور بار بار بتانا پڑا کہ رسول کے ہاتھ میں ہدایت یا تقسیم عذاب وثواب کچھ بھی نہیں، صرف تبلیغ ہے۔ ای لیس لہ الھدایۃ والتوفیق ولا الثواب وانما علیہ البلاغ (قربطی) البلاغ۔ یعنی تبلیغ احکام کی اور پیام کی۔ (آیت) ” ماتبدون “۔ یعنی تمہارے اقوال اور تمہارے اعمال۔ (آیت) ” ما تکتمون “۔ یعنی تمہارے اسرار اور محرکات عمل۔ اللہ کی ان دونوں صفات کو یاد دلا کر گویا یہ بتا دیا کہ اطاعت ظاہری بھی ہونا چاہیے اور اطاعت باطنی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیٰماً الخ، کعنہ کو البیت الحرام اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا درخت وغیرہ کاٹنا حرام ہے قیاماً للناس بیت الحرام لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث قرار دیا، مطلب یہ ہے کہ کعبہ اور اس کے متعلقات لوگوں کی دینی و دنیوی بقا کے اسباب اور ذریعہ ہیں، الناس اگرچہ عام انسانوں کیلئے بولا جاتا ہے مگر قرینہ کی وجہ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں یا اہل عرب بھی مراد ہوسکتے ہیں اور عام دنیا کے انسان بھی، اسلئے کہ حج بیت اللہ کا پورے عالم کی اقتصادیات سے گہرا تعلق ہے۔
کعبہ کی مرکزی حیثیت : عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس…
Read the full tafseer →ما علی الرسول الا البلاغ پیغمبر ﷺ : کی ذمہ داری صرف (اللہ کا پیام) پہنچانے کی ہے اور وہ اپنا فرض تبلیغ ادا کرچکے اور تمہارے خلاف حجت تمام ہوگئی اب تعمیل میں کوتاہی کرنے کا تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ رسول اللہ ﷺ : کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر پابند ہونے کی اس آیت میں پُر زور تاکید ہے۔
واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون تم لوگ جو کچھ ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو اللہ سب سے بخوبی واقف ہے خواہ تصدیق ہو یا تکذیب عمل ہو یا ارادہ۔
اصبہانی نے ترغیب میں نیز واحدی نے حضرت جابر ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کی حرمت کا ذکر کیا۔ یہ سن کر ایک اعرابی نے عرض کیا ‘ میری تو یہی تجارت تھی ‘ اسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
(99۔ 100) اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے، جنھوں نے شریح کے مال پر جو کہ وہ لے کر آئے تھے، دست درازی کی تھی کہ شریح کا مال حرام اور وہ حلال مال جو وہ لے کر آئے تھے برابر نہیں ہوسکتے، لہٰذا عقل والو حرام مال لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ اس کے غصہ اور عذاب سے بچ سکو۔
شان نزول : (آیت) ”قل لا یستوی الخبیث“۔ (الخ)
واحدی ؒ اور اصبہانی ؒ نے ترغیب میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے شراب کی حرمت بیان کی تو یہ سن کر ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میری یہی تجارت تھی اور میں نے اس کام میں کافی مال حاصل کیا ہے اگر میں اس مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا وہ…
Read the full tafseer →مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭ: یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کردیا اور تم پر حجت قائم ہوگئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
آیت نمبر 98 تا 99
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ما علی الرسول الا البلغ ہدایت دینا، توفیق بخشنا اور ثواب دینا اس کے ذمہ نہیں اس پر تو صرف پیغام پہنچانا ہے اس میں قدریہ کا رد ہے جیسا کہ گزرچکا ہے۔ البلاغ کی اصل البلوغ ہے جس کا معنی پہنچنا ہے۔ بلغ یبلغ بلوغا ابلغہ ابلاغا وتبلغ تبلغا۔ بالغہ مبالغۃ بلغہ تبلیغا اور اسی سے البلاغۃ ہے کیونکہ اس کا معنی ہے لفظ کی خوبصورتی میں نفس تک معنی کو پہنچانا۔ تبالغ الرجل جب کوئی بلاغت کو استعمال کرے اور وہ بلیغ نہ ہو اس میں بلاغ ہے جس کا معنی کفایہ ہے، کیونکہ وہ حاجت کی مقدار کو پہنچاتا ہے (آیت) واللہ یعلم ماتبدون یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(1) جسن ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کو جب وصال کا وقت قریب ہوا تو فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سہولت والی آیت کو سختی والی آیت کے ساتھ ملا کر ذکر فرماتے ہے تاکہ مؤمن رغبت کرنے والا اور ڈرنے والا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر ناحق کی تمنا کرے اور نہ ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالے۔
Read the full tafseer →مَا [ نہیں ہے ] عَلَي الرَّسُوْلِ [ ان رسول پر ] اِلَّا [ مگر ] الْبَلٰغُ ۭ [ پہنچانا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُبْدُوْنَ [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تَكْتُمُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچانا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو) اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ تمام احکام کی پابندی کرو رسول ﷺ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے آگے عمل کرنا تمہارا پنا کام ہے۔
ہر طرح کے اعمال ظاہرہ اور باطنہ کو صحیح طریقہ پر انجام دو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ارادوں سے اور تمام اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ سے باخبر ہے وہ ہی حساب لے گا اور جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔
قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
164 یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو خود ساختہ تحریمات اور غیر اللہ کی نیازوں سے باز نہ آئیں وَاَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو ان سے باز آجائیں۔ مَا عَلیَ الرَّسُولِ الخ ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے ذمے صرف ان مسائل کی تبلیغ ہے جسے اس نے احسن طریقے سے سر انجام دیدیا۔ خواہ تم لوگ مانو یا نہ مانو۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہارے نیک و بد اعمال کی تم کو پوری پوری جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
رابط آیات
پہلی آیات میں احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تاوان کا بیان تھا جو ایسی حالت میں شکاری کو ادا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ شکار کی حرمت بیت اللہ شریف کی تکریم اور وہاں کے مقصد کے لئے احرام پہننے کی وجہ سے ہے۔ شکار کے یہ احکام بیان کرنے کے بعد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی فضیلت اور اس کی مرکزیت کا ذکر کیا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی حیثیت اور اس میں جہان بھر کے لئے جو مصلحت ہے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔
اللہ بیت ذریعہ قیام ہے
ارشاد ہوتا ہے جعل اللہ لکعبۃ البیت الحرم قیمۃ للناس۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ 0ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ 99
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
1 ؎ کعبہ میں ذبح ہونے کے لئے ایام حج میں اونٹ وغیرہ قربانی کے گلے میں شناخت کے لئے پٹا باندھ دیتے تھے۔ پھر اس کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا ایسے جانور کو قلائد کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو اور چند مہینوں کو اور قلائد کو لوگوں کے واسطے قیام یعنی امن اور تعظیم کی چیز بنا دیا۔ اس لئے کعبہ میں اور محترم مہینوں میں کوئی کسی کو نہیں چھیڑتا۔ اسی طرح ہدی اور قلائد کو بھی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ ط وَ اللہ ُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (المائدہ : 99)
” رسول پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اللہ جانتا ہے ‘ جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو “۔
جو ذمہ داری اللہ کے رسول کی تھی ‘ وہ انھوں نے بلا کم وکاست ادا کردی۔ اب آگے ذمہ داری تمہاری ہے۔ تم مانو یا نہ مانو ‘ عمل کرو یا نہ کرو۔ مانو گے تو اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے ‘ نہ مانو گے تو اس کا انجام خود دیکھ لو گے۔ البتہ ! اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہ ہونا کہ تم اپنا کوئی عمل یا کوئی خیال اللہ سے چھپا سکتے ہو۔ وہ تمہارے ان اعمال سے بھی واقف ہے ‘ جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان اعمال سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق و باطل اور اچھے، برے سے آگاہ کرے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ برائی کے رواج اور اسکی کثرت سے مرعوب ہونے کے بجائے رسول کی اطاعت کریں اسی میں کامیابی ہے۔
اس جاری خطاب کی آیت نمبر 92 میں یہ مضمون بیان ہوا تھا کہ ہمارے رسول کا منصب لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے جبراً منوانا نہیں۔ یہاں پھر فرمایا ہے کہ رسول کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس کا کام لوگوں کے پیچھے پیچھے رہنا اور ان کی خلوتوں کی نگرانی کرنا نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ جو کچھ تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو وہ تمہارے ایک ایک لمحہ اور کام کو…
Read the full tafseer →رسول کا فریضہ پیغام کو مکمل پہنچانا ہے :
آیت 99: مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ ۔ (رسول پر صرف پہنچا دینا ہے) جس بات کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کے لزوم پورا پورا کرنے میں تشدید کی گئی ہے۔ کہ رسول تو اپنے ذمہ جو تبلیغ تھی اس سے فارغ ہوچکا اور تم پر حجت تام ہوچکی اور اطاعت فرض ہوگئی اب اس میں کوتاہی کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ : اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
آیت نمبر 101, 100, 99
تفسیر :(ما علی الرسول الا البلغ رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچا دینا تبلیغ کے ذریعے واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر میں کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو)
(قل لا یستوی الخبیث والطیب آپ کہہ دیجئے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک) یعنی حلال اور حرام (ولو اعجبک اگرچہ تجھ کو بھلی لگے کثیرۃ الخبیث ناپاک کی کثرت) یہ آیت شریح بن ضبعہ الجکری اور حجاج بن بکر بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ( فاتقوا اللہ سو ڈرتے رہو اللہ سے) اور حاجیوں کو نہ چھیڑو اگرچہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں اور یہ قصہ سورت کی ابتداء میں گزر چکا ہے ( یاولی الالباب لعلکم تفلحون اے عقلمند ! تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
(96 ۔ 99) ۔ اوپر ذکر تھا کہ احرام کی حالت میں جنگلی جانوروں کا شکار منع ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ معنوں میں یہاں ندیاں نالے تالاب سب داخل ہیں کیونکہ ان سب جگہ کا مچھلی کا شکار احرام کی حالت میں جائز ہے۔ دریائی جانوروں میں سے کون کون سے جانور حلال ہیں یہ بڑا اختلافی مسئلہ ہے جس کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں ہے 2 ؎۔ جو مچھلی کسی طرح کے شکار میں مری ہوئی ہاتھ آوے اس کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف نہیں ہے ہاں جو مچھلی خود مر کر پانی کے اوپر آجاتی ہے اس کے حلال ہونے میں اختلاف ہے جس کی تفصیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے 3 ؎۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
آیت 97
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ (جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیماً للناس) ” اس نے کعبہ یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔ “ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کئے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں، مصالح عامہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
قول باری ہے (جعل اللہ الکعبۃ المبیت الحرام قیاماً للناس۔ ہم نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا) تا آخرت آیت ایک قول ہے کہ اللہ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اس نے کعبہ کو لوگوں کی معیشت کا سہارا اور ستون بنادیا۔
جس طرح یہ محاورہ ہے ۔” ھو قوام الامرو ملا کہ “ (وہ اس معاملہ کا سہارا اور بنیاد ہے) یعنی اس کی ذات کے سہارے یہ معامل ہٹھیک ٹھاک رہتا ہے۔ کبعہ بھی لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی درست رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ سعید بن جبیر کا یہ قول منقول ہے کہ یہ لوگوں کے لئے سہارا اور ان کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ ہے یعنی اس کے ذریعے…
Read the full tafseer →262 رسول کی ذمہ داری ہے کلمہ حق پہنچا دینا اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ رسول کے ذمے تو پہنچادینا ہے اور بس۔ اور وہ انہوں نے کردیا۔ اور اس سے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ آگے منوا لینا نہ تو رسول کے بس میں ہے اور نہ ہی ان کی ذمہ داری۔ اب تبلیغِ حق کے بعد اگر تم لوگوں نے نہ مانا تو اس کی تمام تر ذمہ داری خود تم ہی لوگوں پر ہوگی اور اس کا بھگتان بھی تم ہی لوگوں کو بھگتنا ہوگا اور بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس اپنے مآل و انجام کی فکر تم خود کرو قبل اس سے کہ فرصت عمر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ اور پھر تدارک و تلافی کی کوئی صورت تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
خانہ کعبہ کے بارے میں احکامات
تشریح : کعبہ عربی زبان میں چوکور مکان کو کہتے ہیں۔ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ وہ ایک خاص مکان کو ظاہر کرے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام اور امن و سکون کا سبب بتایا ہے۔ یہ چیزیں پہلے بھی اسی طرح محترم تھیں، جس طرح آج ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ رب العزت نے انسانوں کے امن و سکون کے لیے لوگوں کے دلوں میں ان چار چیزوں کی عزت و حرمت ڈال رکھی تھی۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔ خانہ کعبہ، ماہ ذی الحجہ، قربانی کے جانور اور جانوروں کے گلے میں ڈالے ہوئے پٹے یا ہار جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قربانی کے جانور ہیں۔ قبل از اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
ف 1 یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن اس میں ترغیب وترہیب ہے (کبیر )
Read the full tafseer →(5:99) ما تبدون۔ جو تم ظاہر کرتے ہو۔ یا جو تم ظاہر کرو گے۔ ابداء (افعال) سے ۔
ما تکتمون۔ جو تم چھپاتے ہو۔ جو تم چھپاؤ گے۔ کتم سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
آیت نمبر 97 تا 100
لغات القرآن : قیما (قائم رہنے (کا سبب) ۔ القلائد (قلادۃ) ۔ پٹے (جو جانور کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں) ۔ تبدون (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تکتمون (تم چھپاتے ہو) ۔ لایستوی (برابر نہیں ہیں) ۔ الخبیث (گندگی۔ برائی) ۔ الطیب (پاکیزگی۔ نیکی) ۔ اعجبک (تجھے بہتر لگے۔ اچھی لگے) ۔ کثرۃ الخبیت (گندگی کی کثرت) ۔ اولو الالباب (لب) عقل۔ سمجھ۔ عقلوں والے) ۔
تشریح : جب سے کعبہ بنا ہے انبیاء اسی کی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے ہیں اور ہر سال اس کا حج بھی کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا گھر نہ کبھی بنا اور نہ بنے گا۔ ابرہہ نے اس کے مدمقابل جب کلیس بنایا تو جس طرح وہ اپنی فوج کے ساتھ تباہ و برباد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ کے معنوں میں یہاں ندیاں، نالے، تالاب سب میں داخل ہیں، ان سب جگہ کا شکار جائز ہے دریائی جانور وہ ہیں جو دریاؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور نفع پاتے ہیں یہاں حرم واحرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ پھر فرمایا ظاہر پوشیدہ نیک بد لوگوں کے سب عمل اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں، اور نیک بد کی سزا کا حال اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیا ہے۔ اب ہر ایماندار شخص کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ نافرمانی کے جرم میں جس کسی کی پکڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور جس کسی پر فرمانبرداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
[55] یعنی اس کے علم میں بیشمار مصلحتیں اور برکتیں ہیں جو تمہیں اس انتظام سے حاصل ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
(ف 3) یعنی اللہ تعالیٰ مجرموں اور گنہ گاروں کے لئے جہاں سخت گیر ہے ، وہاں اپنے بندوں کے لئے غفور اور رحیم بھی بدرجہ اتم ہے ،
حل لغات :
الحرام : عزت ، بیت الحرام ، یعنی عزت کا گھر ۔
Read the full tafseer →-99 پیغمبر ﷺ کے ذمہ پر تو صرف پیام خداوندی کا پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان تمام اعمال کو جانتا ہے جو تم ظاہری طور پر کرتے ہو اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو اور اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہو یعنی خواہ اعمال جوارح ہوں خواہ افعال قلب ہوں وہ سب سے بخوبی واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ف 3۔ کعبہ کے مصالح و برکات دنیویہ میں بعض یہ ہیں اس کا جائے امن ہونا وہاں ہر سال مجمع ہونا جس میں مالی ترقی اور قومی اتحاد بہت سہولت سے میسر ہوسکتا ہے اس کے بقا تک عالم کا باقی رہنا حتی کہ جب کفار اس کو منہدم کردیں گے تو قریب ہی قیامت آجائے گی۔
Read the full tafseer →اللہ کے رسول کے ذمہ کیا ہے ؟ یہی کہ وہ تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دے :
232: اللہ اور اس کے رسول کی جداگانہ حیثیتوں کی یہ تشریح جو اس جگہ کی گئی قرآن کریم کے صفحات میں باربار ملتی ہے۔ معلوم ہے کیوں ؟ اس لئے کہ مشرک منش انسانوں کے لئے یہ باربار ضروری تھی۔ ان کو باربار یہ بتانا پڑا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہدایت دینا یا تقسیم عذاب وثواب میں سے کچھ نہیں۔ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ (قرطبی) جب وہ اس نے بخوشی اور بطریق احسن انجام دے دیا تو اب اس کے ذمہ کیا رہا ؟ کچھ بھی نہیں ، اب تو تمہارا کام ہے کہ اس کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنے آپ کو سنوار لویا ان احکام کی خلاف ورزی کر کے تباہی اور…
Read the full tafseer →In the third verse (99), it was said: مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ﴿99﴾that is, the duty of Our Messenger is only to convey Our Ahkam (injunctions) to people created by Us. After that, whether they accept and believe, or reject and disbelieve, its profit and loss reaches only them. That they disbelieve brings no loss to Our Messenger. And let this be understood that Allah cannot be deceived for He knows every-thing done by anybody, openly or secretly.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
113. In Arabia, the Ka'bah was not merely a sacred place of worship. Thanks to its central position and its sanctity, it nurtured the economic and cultural life of the whole peninsula. Since the entire populace was drawn towards the Ka'bah for the performance of Hajj and 'Umrah, their coming together brought about a measure of unity in the life of the Arabs which was otherwise rent with disunity. This enabled the people of various regions and tribes to establish social and cultural ties among themselves. Moreover, the security which reigned in the vicinity of the Ka'bah provided an impetus to…
Read the full tafseer →