Explained with ayahs 1–5
مستحق تعریف قرآن مجید
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہم اس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی کوئی کسر کوئی کمی نہیں صراط مستقیم کی رہبر واضح جلی صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے۔ جو عذاب اللہ کی طرف کے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے عذاب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الْكَهْف 1
یعنی اس میں کوئی اینچ پینچ کی بات ہے جو سمجھ میں نہ آسکے، اور نہ کوئی بات حق و صداقت کے خط مستقیم سے ہٹی ہوئی ہے جسے ماننے میں کسی راستی پسند انسان کو تأمل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة کہف کی خصوصیات اور فضائل
مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد میں حضرت ابو الدردا ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے سورة کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور کتب مذکورہ میں حضرت ابوالدردا ؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں یہی مضمون سورة کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرنے کے متعلق منقول ہے اور مسند احمد میں بروایت حضرت سہل بن معاذ ؓ یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی اور آخری آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اس کے قدم سے سر تک ایک نور ہوجاتا ہے اور جو پوری سورت پڑھ لے جو اس کے لئے زمین سے آسمان تک نور ہوجاتا ہے۔
اور حافظ ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ۔ سابق سورة بنی اسرائیل جس مضمون پر ختم ہوئی تھی (ملاحظہ ہوں آیات 105 تا 111) اسی مضمون سے اس سورة کا آغاز فرمایا۔ قرآن کی صورت میں جو نعمت عظمی اہل عرب پر نازل ہوئی تھی یہ اس کے حق کا اظہار ہے کہ یہ نعمت شکر کی موجب ہونی چاہیے نہ کہ کفر کی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی ناقدری کریں اور اس کی تکذیب کے لیے نت نئے بہانے تلاش کریں۔
قرآن کی سنت : وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا۔ قَيِّمًا، یہ اس کتاب کی صفت ہے کہ اس کتاب میں خدا نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ نہ بیان کے اعتبار سے نہ معنی کے اعتبار سے۔ زبان اس کی عربی مبین ہے اور رہنمائی اس کی…
Read the full tafseer →کہف کے معنی غار کے ہیں۔ اس میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس لئے اسے سورة کہف کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی دس آیات اور آخری دس آیات کی فضیلت حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ جو ان کو یاد کرے اور پڑھے گا وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا (صحیح مسلم) اور اس کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا تو آئندہ جمعے تک اس کے لئے خاص نور کی روشنی رہے گی، اور اس کے پڑھنے سے گھر میں سکون و برکت نازل ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سورة کہف پڑھی گھر میں ایک جانور بھی تھا، وہ بدکنا شروع ہوگیا، انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے ؟ تو انھیں ایک بادل نظر آیا، جس نے انھیں ڈھانپ رکھا تھا، صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟
لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ…
Read the full tafseer →1 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ تعریف اور شکر کا مستحق وہ ہی خدا ہوسکتا ہے جس نے اپنے مخصوص و مقرب ترین بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر سب سے اعلیٰ و اکمل کتاب اتاری اور اس طرح زمین والوں کو سب سے بڑی نعمت سے مشرف و ممتاز فرمایا۔ بیشک اس کتاب میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں۔ عبارت انتہائی سلیس و فصیح، اسلوب بیان نہایت موثر و شگفتہ، تعلیم نہایت متوسط و معتدل جو ہر زمانہ اور ہر طبیعت کے مناسب اور عقل سلیم کے بالکل مطابق ہے۔ کسی قسم کی افراط وتفریط کا اس میں شائبہ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 1 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ
رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق اور نسبت ہے اسے یہاں لفظ ”عبد“ سے نمایاں فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →1 سورة کہف کی فضیلت میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو گھر میں یہ سورت پڑھ رہا تھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہوا تھا گھوڑا بدکنے لگا۔ اس نے اوپر جو سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا جو بادل کی طرح سایہ کیے ہوئے تھا صبح اس نے یہ واقعہ رسول اللہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ (نور اطمینان) ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوئی تھی۔ (ترمذی، ابو اب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فی سورة کہف) اس واقعہ کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔
2۔ سیدنا ابو الدرداء کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اس سورة کی ابتدائی تین آیات پڑھتا رہے وہ فتنہ دجال سے…
Read the full tafseer →1۔ (نہ لفظی نہ معنوی) (آیت) ” لم یجعل لہ عوجا “۔ اس میں ہر قسم اور ہر درجہ کے عیب سے نفی آگئی، یعنی ایسی کتاب جو ہر پہلو اور ہر جہت سے کامل وجامع، پاکیزہ واجمل ہے۔ نہ کہیں مبالغہ شاعرانہ، نہ عبارت میں کہیں سے تناقص، نہ عقائد میں کوئی پہلو رمزیت اور پراسرار ہونے کا۔ ہر بیان مدلل، ہر حکم واضح۔ اس حقیقت پر اپنوں ہی کی نہیں غیروں کی شہادتیں موجود ہیں کہ دین اسلام کے اندر کسی قسم کا انیچ پینچ، کوئی کجی اور انحراف اور افراط وتفریط نہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” عبدہ “۔ بندۂ خاص سے مراد رسول اللہ ﷺ کا ہونا اور (آیت) ” الکتب “۔ سے قرآن کا ہونا بالکل ظاہر ہے (آیت) ” انزل علی عبدہ “۔ سے…
Read the full tafseer →بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سُورۃُ الکَھْفِ مکِّیَّۃ اِلاَّوَاصْبِرْ نَفْسَکَ الآیۃ مائۃ وعشر آیاتاو خمس عشرۃ آیۃ
سورة کہف مکی ہے، سوائے وَاصْبِرْ نفْسَکَ (الآیہ) کے ایک سو دس یا ایک سو پندرہ آیات ہیں
آیت نمبر 1
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، حمد صفات کمالیہ بیان کرنے کو کہتے ہیں، ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے، اَیا جملہ خبریہ کے استعمال سے ثبوت حمد پر ایمان کی خبر دینا مقصود ہے یا (انشاء) ثناء مقصود ہے یا دونوں مقصود ہیں یہ کل تین احتمالات ہیں، ان میں تیسرا احتمال زیادہ مفید ہے جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر کتاب قرآن نازل فرمائی اور اس میں…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ : تعریف ہے اس اللہ کو جس نے اپنے (خاص) بندے
پر قرآن مجید اتارا۔ قرآن اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے یہ بندوں کو تکمیل انسانیت کا راستہ بتاتا ہے ‘ معاش و معاد کو درست کرنے والی تعلیم دیتا ہے اور اللہ ہی نے بندوں کو یہ نعمت عطا فرمائی ہے اس لئے اس نے انعام قرآن کا ذکر کر کے خود اپنی ثناء کی اور اس میں بندوں کو حمد خداوندی کرنے کی (درپردہ) تعلیم بھی دے دی۔
وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا : اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی 1 ۔
معانی میں کجی کو عوج بکسر عین اور خارجی چیزوں کی کجی کو عوج بفتح عین کہا جاتا ہے فِی رَأیِہٖ عِوَجٌاور فِی عَصَاہُ…
Read the full tafseer →(1) تمام خوبیاں اور شکر والوہیت اس اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جس نے رسول اکرم ﷺ کو بذریعہ جبریل امین قرآن کریم نازل فرمایا توحید اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کے بیان میں توریت وانجیل اور تمام آسمانی کتب کے بیان سے اس قرآن کریم میں کوئی مخالفت نہیں کی، یہ آیت مبارکہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ قرآن کریم تمام تمام آسمانی کتب کے مخالف ہے تمام کتابوں پر اس کو غالب بنایا۔
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ۔۔ : یہ سورت ان پانچ سورتوں میں شامل ہے جن کی ابتدا ”اَلْحَمْدُ“ کے ساتھ ہوئی ہے، دوسری چار سورتیں فاتحہ، انعام، سبا اور فاطر ہیں۔ پچھلی سورت کا خاتمہ بھی ”اَلْحَمْدُ“ کے ساتھ ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا اور انتہا اللہ کے پاکیزہ نام کے ساتھ یا اس کی حمد کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ان تمام سورتوں میں سے ہر سورت کا طریقہ اگرچہ مختلف ہے مگر مقصود لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ حمد کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، اور کوئی نہیں، کیونکہ کسی میں کوئی خوبی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔
الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ : سورة فاتحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 3
قولہ تعالیٰ : الحمدللہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتٰب و لم یجعل لہ عوجاً ط قیماً ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو یہود کے علماء کی طرف بھیجا اور انہوں نے ان دونوں کو کہا : تم ان سے محمد ﷺ کے بارے میں پوچھو ان کے پاس جا کر آپ کی کیفیت اور حالت بیان کرو اور آپ کے قول کے بارے انہیں اطلاع کرو، کیونکہ ان کے پاس پہلے کتاب ہے اور ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے بارے وہ علم ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، پس وہ دونوں نکلے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے، اور انہوں نے یہودیوں کے علماء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے پوچھا، اور ان کے سامنے آپ کے معاملہ کو بیان کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1ـ:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ میں تقدیم اور تاخیر ہے (اور…
Read the full tafseer →[اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [للّٰهِ الَّذِيٓ: اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [انزَلَ : اتارا ] [عَلٰي عَبْدِهِ : اپنے بندے پر ] [الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [وَلَمْ يَجْعَلْ : اور اس نے نہیں بنائی ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [عِوَجًا : کوئی کجی ]
Read the full tafseer →سورة کہف کو اللہ تعالیٰ نے حمد سے شروع فرمایا ہے جیسا کہ سورة فاتحہ اور سورة انعام اور سورة سبا اور سورة فاطر بھی اسی سے شروع فرمائی ہیں۔ چونکہ یہود نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی تکذیب کرنے کے لیے مشرکین کو یہ سوال سمجھایا تھا کہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ معلوم کرو اور رسالت کی تکذیب قرآن مجید کی تکذیب کو مستلزم ہے اس لیے سورة کی ابتداء میں یوں فرمایا (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا) کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے بندہ پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی نہ اس کے لفظوں میں کوئی خلل ہے اور نہ فصاحت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔
(ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…
Read the full tafseer →3:۔ ” الحمد للہ “ سورة فاتحہ کی تفسیر میں بالتفصیل گذر چکا ہے کہ قرآن مجید جہاں کہیں یہ جملہ (الحمد للہ) واقع ہوا ہے۔ وہاں حمد (تعریف) سے اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت یا بالفاظ دیگر صفاتِ کارسازی مراد ہیں۔ مثلا ً خالق ومالک اور رزق ہونا، عالم الغیب کارساز اور متصرف و مختار ہونا۔ مافوق الاسباب حاجت روا اور مشکلکشا ہونا وغیرہ تو اس جملے کا حاصل یہ ہے۔ کہ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کی ذات مفیض برکات کے ساتھ خاص ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صفت بھی اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سے کسی ایک میں بھی نہیں پائی جاتی۔ اور ” من فی السموات والارض “ (آسمان میں رہنے والوں، زمین بسنے والوں اور زیر خاک فروکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ میں اصحاب کہف والرقیم کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس سورة کا نام ہی سورة الکہف ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی قریب قریب وہی ہے جو سورة بنی اسرائیل کا ہے گویا یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی اس سورة مبارکہ کی ایک 110 سو دس آیات اور بارہ رکوع ہیں ، یہ سورة 1567 کلمات اور 6460 حروف پر مشتمل ہے ۔
(گذشتہ سورة کے ساتھ ربط)
یہ سورة مبارکہ گذشتہ سورة بنی اسرائیل کے ساتھ مربوط ہے گذشتہ سورة کی آیت روح کے متعلق مفسرین کرام کا یہ بیان نقل کیا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، جن میں سے ایک روح ، دوسرا اصحاب کہف اور…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ
ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّـہٗ عِوَجًا۔ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاسًاشَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْـہُ وَیُبَشِّرَالْمُوْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا۔ مَّا کِـثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا۔ وَّیُنْذِرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا۔ (الکہف : 1 تا 4)
(ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔ بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور بشارت دے دے ایمان لانے والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة بنی اسرائیل کا اختتام اس حکم کے ساتھ ہوا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ کی حمد وثناء کیجیے۔ جس کا کسی حوالے سے بھی کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات اور شان کے اعتبار سے ہر کسی سے بلند وبالا ہے۔ سورة الکھف کی ابتداء اللہ کی حمد سے ہورہی ہے جس نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس میں کوئی نقص اور جھول نہیں ہے۔
تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ جس میں کسی قسم کی جھول، تضاد اور پچیدگی نہیں پائی جاتی۔ جس کے فرمان واضح، ٹھوس، سیدھے سادھے، صراط مستقیم کے ترجمان اور ہر قسم کے الجھاؤ، عیب اور نقصان سے پاک ہیں۔ قرآن مجید…
Read the full tafseer →قرآن و صاحب قرآن کی عظمت :
1: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ (تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کیلئے جس نے اپنے بندے پر کتاب کو اتارا) ۔ عبدہؔ سے حضرت محمد ﷺ مراد ہیں۔ الکتابؔ سے قرآن مجید مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود تلقین فرمائی اور خود بتلایا کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں اور کیسے اس کی کثیر وجزیل نعمت پر شکریہ ادا کریں۔ وہ سب سے بڑی نعمت اسلام ہے اور وہ کتاب ہے جو اس نے حضرت محمد ﷺ پر اتاری جو کہ ان کے لئے سبب نجات ہے۔ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا (اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی) ذرہ بھر بھی کجی نہیں۔ عوج کا لفظ معانی میں وہی مفہوم ادا کرتا ہے۔ جوعَوْج کا…
Read the full tafseer →تفسیر 1۔” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب “ اللہ تعالیٰ نے قرآن کا انعام کر کے اپنی ثناء کی اور اس میں بندوں کو حمد خداوندی کرنے کی تعلیم بھی دے دی ۔ یہاں خاص طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا کیونکہ قرآن کا نزول خصوصی طور پر نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا کیونکہ قرآن کا نزول خصوصی طور پر نبی کریم ﷺ پر نعمت ہے اور باقی امت پر عمومی طور پر نعمت ہے۔” ولم یجعل لہ عوجاً “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5:۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے سمرہ بن جندب کی حدیث سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ الحمد للہ کا کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی بعض سورتوں کے اول میں اور بعض کے آخر میں یہ کلمہ اس لیے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا پیارا کلمہ اس کے نیک بندوں کے منہ سے نکلے اور ان کا عقبے کا بھلا ہوجائے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے انزل علی عبدہ الکتب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹلایا اور فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(آیت نمبر (1
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ نعمت قرآن اور اس کی عظمت شان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا۔ یعنی قرآن حکیم کو جو کہ ایسی کامل اور بےمثال کتاب ہے جس کے مقابلے میں کوئی بھی کتاب درحقیقت کتاب کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتی اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جس کے مقابلے میں اور کوئی نعمت نعمت ہی نہیں کہ یہ انسان کو طرح طرح کی گمراہیوں کے اتھاہ اندھیروں سے نکال کر ایمان و ہدایت کی روشنی اور عظیم دولت سے نوازتی اور سرفراز کرتی ہے اور اس کو دارین کی سعادتوں اور حقیقی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ پس ہر طرح کی تعریف اور حمد وثناء اسی ذات وحدہ لاشریک کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن کی شان اور غلط اعتقاد
تشریح : قرآن پاک اور اس کے نازل کرنے والے کی تعریف اور جس پر نازل کی گئی ان سب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں :
نزول قرآن کا اصل مقصد نفس انسانی کی تہذیب، باطل عقائد (جھوٹے عقیدے) اور فاسد اعمال (برے کام) کی تردید ہے قرآنی نقطہ نظر سے حیات ایک وحدت ہے۔ اس لیے تعلیمات قرآنی جسم و روح کے تمام تقاضوں پر محیط (گھیرے ہوئے) ہے۔ تمام کائنات میں خدائی قانون (اللہ کے قانون) کی بالا دستی ایک بنیادی حقیقت ہے اور اس کا اطلاق (جاری ہونا) تمام انسانوں پر رتبہ، قوت، رنگ، زبان اور جغرافیائی تفریق کے باوجود یکساں طور پر ہوتا ہے۔ (از الفوز الکبیر)
شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
سورة الکہف :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 1 مراد ہیں نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا مشرکین عرب بھی جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں قرار دیتے ہیں اور یہود جو حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔
Read the full tafseer →(18:1) عبدہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ عبد سے مراد ذات اقدس نبی اکرم ﷺ ہے اور ضمیر واحد مذکر غائب ہ کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہے۔ الکتب۔ ای القران۔
عوجا۔ العوج (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے سیدھا کھڑا ہونے کی حالت سے ایک طرف جھک جانا کے ہیں۔ العوج اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو آنکھ سے بسہولت دیکھا جاسکے۔ مثلاً لکڑی وغیرہ کا ٹیڑھا پن۔ اور العوج اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو صرف عقل اور بصیرت سے دیکھا جاسکے۔ مثلاً معاشرہ میں دینی اور معاشی ناہمواریاں ۔ یا فہم و ادراک میں کجی۔
اور جگہ قرآن کی تعریف میں ارشاد ہے قرانا عربیا غیر ذی عوج (39:28) یہ قرآن عربی جس میں کوئی عیب واختلاف (لفظی یا معنوی ناہمواری) نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
لم یجعل نہیں بنایا۔ عوج ٹیڑہ پن۔ کجی۔ قیم بالکل درست، صحیح۔ باس شدید سخت عذاب۔ ما کثین ٹھیرنے والے، جمنے والے۔ ابداً ہمیشہ کبرثت بڑی۔ کلمۃ بات، کلمہ افواہ (فوہ) منہ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 5
سورۃ الکہف کے ابتدائی تعارف میں آپ نے ملاحظہ کرلیا ہے کہب عض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوالات کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب والے ان باتوں سے ناواقف ہیں جب ہم سوال کریں گے اور ان کا جواب نہ مل سکے گا تو ہمیں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے اور یہ کہنے کا موقع ہاتھ آجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ (نعوذ…
Read the full tafseer →خواص سورة کہف : اس سورت کو جمعہ کے دن پڑھے تو دوسرے جمعہ تک خوف و خطرہ سے امن میں رہے گا۔ جو کوئی روزانہ اس سورت کو پڑھے گا اگر وہ قرض دار ہے تو اس کا قرض ادا ہوجائے گا اور عزیز و اقارب میں عزت وآبرو پائے گا۔
فضائل سورة کہف
یہ سورة مکی ہے جو شخص اس سورة کو جمعہ کے دن پڑھے گا دو جمعوں تک اس کے ایمان کی روشنی بڑھ جائے گی۔ اور بڑی برکت اور ثواب کا باعث ہے اور سختی کے دور کرنے کے لئے یہ سورة اکسیر ہے۔ اور یہ سورة چوری کے امن وامان کے لئے بھی ہے۔ اس سورة کے پڑھنے سے سستی دور ہوجاتی ہے اور نیک کاموں کا شوق ہوتا ہے۔ اس سورة کو لکھ کر اپنے گھر میں رکھے وہ محتاجی اور قرضہ سے بےخوف رہے گا۔ جو شخص اس…
Read the full tafseer →- 1 سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی اور اس کتاب میں ذرا سی بھی کوئی کجی نہیں رکھی اور اس کو کسی طرح کی کجی سے موصوف نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →سب اچھی تعریفوں کے لائق ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن کریم نازل کیا :
1۔ گزشتہ سورت کو حمد و ستائش پر ختم کیا گیا تھا اور اس سورة کو اسی حمد و ستائش سے شروع کیا جارہا ہے تاکہ مضمون کی مناسبت قائم رہے اور انسان اللہ کی حمد و ستائش کرتا رہے کام کے شروع میں بھی اور اختتام میں بھی ، اسی طرح مضمون کے شروع ہی میں یہ بات بھی واضح فرما دی کہ جس شخص پر یہ قرآن کریم نازل کیا جارہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص بندہ ہے نہ وہ اللہ ہے اور نہ ہی اللہ کا بیٹا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا تیسرا جز ہے بلکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے اور جو کچھ اس پر اتارا گیا ہے اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
The properties and merits of Surah al-Kahf
According to a narration of Sayyidna Abu al-Darda' ؓ appearing in Muslim, Abu Dawud, Tirmidhi, al-Nasa'i and the Musnad of Ahmad, one who has memorized the first ten verses of Surah al-Kahf will remain protected from the ill effects of Dajjal (imposter). In another report in the same books and from the same authority, the same thing has been said about having memorized the last ten verses of Surah al-Kahf.
And it has been reported in the Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Sahl ibn Mu` adh ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, "One who recites…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1. That is, there is nothing intricate or complicated in it that may be beyond anyone’s understanding nor is there anything that deviates from the straight path of the truth and thus cause hesitation in the mind of a truth loving person.
Read the full tafseer →