Explained with ayahs 1–5
مستحق تعریف قرآن مجید
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہم اس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی کوئی کسر کوئی کمی نہیں صراط مستقیم کی رہبر واضح جلی صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے۔ جو عذاب اللہ کی طرف کے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے عذاب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الْكَهْف 1
یعنی اس میں کوئی اینچ پینچ کی بات ہے جو سمجھ میں نہ آسکے، اور نہ کوئی بات حق و صداقت کے خط مستقیم سے ہٹی ہوئی ہے جسے ماننے میں کسی راستی پسند انسان کو تأمل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة کہف کی خصوصیات اور فضائل
مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد میں حضرت ابو الدردا ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے سورة کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور کتب مذکورہ میں حضرت ابوالدردا ؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں یہی مضمون سورة کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرنے کے متعلق منقول ہے اور مسند احمد میں بروایت حضرت سہل بن معاذ ؓ یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی اور آخری آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اس کے قدم سے سر تک ایک نور ہوجاتا ہے اور جو پوری سورت پڑھ لے جو اس کے لئے زمین سے آسمان تک نور ہوجاتا ہے۔
اور حافظ ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب…
Read the full tafseer →قرآن کا مقصد:
لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ : یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار و ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں " للکافرین " یا " للمکذبین " محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں " مومنین " موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کررہا ہے۔ فعل " ینذر " کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور " عبد " یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کردے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا رسول لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 1 مِنْ لَّدنہ، جو اس اللہ کی طرف سے صادر یا نازل ہونے والا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟
لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ…
Read the full tafseer →2 یعنی تکذیب کرنے والوں پر جو سخت آفت دنیا یا آخرت میں خداوند قہار کی طرف سے آنے والی ہے اس سے یہ کتاب آگاہ کرتی ہے۔
(تنبیہ) قَیِّمًا کو بعض نے بمعنی مستقیم لے کر محض مضمون سابق کی تاکید قرار دی ہے یعنی کتنا ہی غور کرو ایک بال برابر کجی نہیں پاؤ گے مگر فراء نے اس لفظ کے معنی کیے ہیں " قیماً علٰی سائر الکتب السماویہ " یعنی تمام کتب سماویہ کی صحت و تصدیق پر مہر کرنے والی اور ان کی اصولی تعلیمات کو دنیا میں قائم رکھنے والی۔ ابو مسلم نے کہا " قیمًا بمصالح العباد " بندوں کی تمام مصالح کی متکفل اور ان کی معاش و معاد کو درست کرنے والی۔ بہرحال جو معنی بھی لیے جائیں اس کی صداقت میں شبہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2 قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ
یعنی نبی اکرم پر نزول قرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کردیں۔ یہاں لفظ بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی مصیبت بھوک تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی : وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۔ چناچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں : ”الْْبَاْسَآءِ“ کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 قرآن سابقہ کتابوں کے لئے معیار :۔ قیما بہت وسیع المعنی لفظ ہے اس کا ایک معنی تو ترجمہ میں بیان ہوا ہے دوسرا معنی یہ ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں کے لیے ایک معیار اور کسوٹی کا کام دیتی ہے ایک تو اس میں سابقہ تعلیمات کا خلاصہ موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ کتاب سابقہ کتب کے صرف صحیح اور منزل من اللہ مضامین کی تصدیق کرتی ہے اور اگر کہیں تضاد ہوگا تو وہ اہل کتاب کی تحریف لفظی یا معنوی کی وجہ سے ہوگا یا پھر ان کا اپنی طرف سے اضافہ ہوگا۔
3 یعنی اس کتاب کا بھی اور اسی طرح جملہ آسمانی کتابوں کی تعلیم کا لب لباب یہی ہے کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے اس دن تمام لوگوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ ضرور ملنے…
Read the full tafseer →2۔ یعنی دوسروں کی زندگیوں کو قائم ومستقیم رکھنے والی) (آیت) ” قیم “۔ دین قیم یا کتاب قیم کے سیاق میں اس کے معنی ہیں، وہ چیز جو نہ صرف خود قائم ہو بلکہ مسائل معاش ومعاد کا بھی پورا حل اپنے اندر رکھتی ہو اور بجائے خود ہی کامل ومکمل نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی تکمیل کرادینے والی ہو۔ قیما اے ثابتا مقویا لامور معاشھم ومعادھم (راغب) قیما بمصالح العباد فیکون وصفا لہ بالتکمیل بعد وصفہ بالکمال (بیضاوی) (آیت) ” لینذرباساشدیدا “۔ یعنی اس غرض سے کہ یہ کتاب کافروں منکروں کو عذاب شدید سے ڈرائے۔” ڈرائے “ کا فاعل کتاب ہے اور مفعول ” کفار ومنکرین “۔ (آیت) ’ ’ یعملون الصلحت “۔ یہاں ایک بحث یہ چھڑ گئی ہے کہ کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
آیت نمبر 2 تا 5
ترجمہ : اور حال یہ ہے کہ وہ بالکل سیدھی مستقیم ہے قَیّمًا کتاب سے حال ثانیہ ہے اور جملہ حالیہ کی تاکید ہے، تاکہ ڈرائے (اللہ) کتاب کے ذریعہ کافروں کو اپنے سخت عذاب سے، جو کہ اس کی طرف سے ہے اور تاکہ ان مومنین کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں یہ کہ ان کے لئے اجر حسن ہے حال یہ ہے کہ وہ اس اجر حسن میں کہ وہ جنت ہے ہمیشہ رہیں گے، اور منجملہ کافروں سے ان کافروں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اس قول کی نہ ان کے پاس کوئی سند ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں اور وہ بھی اسی بات کے قائل تھے اور یہ بات جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے بڑی بھاری ہے، کلمۃً تمیز ہے…
Read the full tafseer →قَـيِّمًا : استقامت کے ساتھ متصف فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ یعنی معتدل جس کے احکام میں نہ افراط
(شدت) ہے نہ تفریط (زیادہ نرمی) فراء نے کہا تمام آسمانی کتابوں کی صحت کا شاہد اور ان کے بعض احکام کو منسوخ کرنے والا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا تمام انسانوں کے مصالح کا درست کرنے والا۔
کجی نہ ہونا اور مستقیم ہونا دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ لیکن کچھ سیدھی مستقیم چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان میں کسی قدر کجی ہوتی ہے (جو محسوس نہیں ہوتی) اس لئے کجی نہ ہونے اور مستقیم ہونے کی تاکیدی صراحت کردی۔
لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2۔ 3) اور بالکل استقامت کے ساتھ موصوف بنایاتا کہ رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کے ذریعے سے ایک سخت عذاب سے ڈرائیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اور بذریعہ قرآن کریم آپ ان اہل ایمان کو جو کہ مخلص ہیں اور نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری سنائیں کہ ان کو جنت میں اچھا اجر ملے گا کہ جس اجر وثواب میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ وہاں سے نکلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
”قَـيِّمًا“ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل سیدھی، پہلے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، اب فرمایا بالکل سیدھی ہے۔ بات ایک ہی ہے مگر اس تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک چیز میں بظاہر کوئی کجی نہیں ہوتی، مگر حقیقت میں اور باریکی سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی کجی ہوتی ہے، اس سے اس کی بھی نفی ہوگئی۔ جیسے ایک جگہ ہموار نظر آتی ہے مگر آلہ رکھ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہموار نہیں۔ ”قَـيِّمًا“ کا معنی نگران بھی ہے، ”مُھَیْمِنٌ“ کا بھی یہی معنی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 48) اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں پر نگران ہے، یعنی ان کے مضامین کا درست یا تحریف شدہ ہونا اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 3
قولہ تعالیٰ : الحمدللہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتٰب و لم یجعل لہ عوجاً ط قیماً ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو یہود کے علماء کی طرف بھیجا اور انہوں نے ان دونوں کو کہا : تم ان سے محمد ﷺ کے بارے میں پوچھو ان کے پاس جا کر آپ کی کیفیت اور حالت بیان کرو اور آپ کے قول کے بارے انہیں اطلاع کرو، کیونکہ ان کے پاس پہلے کتاب ہے اور ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے بارے وہ علم ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، پس وہ دونوں نکلے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے، اور انہوں نے یہودیوں کے علماء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے پوچھا، اور ان کے سامنے آپ کے معاملہ کو بیان کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1ـ:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ میں تقدیم اور تاخیر ہے (اور…
Read the full tafseer →[قَـيِّمًا : سیدھی (کتاب) ہوتے ہوئے ] [لِيُنْذِرَ : تاکہ وہ خبردار کریں (لوگوں کو)] [بَاْسًا شَدِيْدًا : ایک ایسی شدید سختی سے جو ] [مِّنْ لَّدُنْهُ : اس (اللہ) کے پاس سے ہوگی ] [وَيُبَشِّرَ : اور تاکہ وہ بشارت دیں ] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ : ان ایمان لانے والوں کو جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ان : کہ ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَجْرًا حَسَـنًا : ایک خوبصورت اجر ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 2) گزشتہ آیت میں اَلْکِتٰبَ کا حال ہونے کی وجہ سے قَیِّمًا حالت نصب میں ہے۔ بَاْسًا شَدِیْدًا نکرہ مخصوصہ ہے۔ یُشِّرَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
پھر فرمایا (قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ) تاکہ وہ قرآن کافروں کو ایک سخت عذب سے ڈرائے جو اللہ کی طرف سے ہوگا۔
(وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا) (اور تاکہ ایمان والوں کو بشارت دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ انہیں اچھا اجر ملے گا۔ ) (مَّاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
اجرا حسنا سے جنت مراد ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا) (اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد بنالی ہے) پہلے تمام کافروں کو ڈرانے کا تذکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔
(ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
5:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” لینذر باسا شدیدا الخ “ میں لام ” انزل “ سے متعلق ہے۔ قرآن مجید نازل کرنے کے یہاں دو مقصد بیان کیے گئے ہیں۔ اول تخویف وانذار۔ دوم تبشیر۔ پہلے ” لینذر “ سے تخویف۔ پھر ” یبشر “ سے بشارت اس کے بعد پھر ” وینذر “ سے تخویف کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے تخویف کے بیان میں مفعول (منکرین) کا ذکر نہیں کیا گیا اور عذاب شدید کا ذکر کیا گیا ہے بشارت کے سلسلے مفعول (المومنین) اور اجر دونوں مذکور ہیں۔ اس سورت میں چونکہ مقصود منکرین کے شبہات کا ازالہ ہے اس لیے بعد عہد کی وجہ سے ” و ینذر “ کا اعادہ کر کے منکرین کا ذکر کیا گیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ کون سے منکرین ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ میں اصحاب کہف والرقیم کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس سورة کا نام ہی سورة الکہف ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی قریب قریب وہی ہے جو سورة بنی اسرائیل کا ہے گویا یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی اس سورة مبارکہ کی ایک 110 سو دس آیات اور بارہ رکوع ہیں ، یہ سورة 1567 کلمات اور 6460 حروف پر مشتمل ہے ۔
(گذشتہ سورة کے ساتھ ربط)
یہ سورة مبارکہ گذشتہ سورة بنی اسرائیل کے ساتھ مربوط ہے گذشتہ سورة کی آیت روح کے متعلق مفسرین کرام کا یہ بیان نقل کیا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، جن میں سے ایک روح ، دوسرا اصحاب کہف اور…
Read the full tafseer →قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَـنًا ۙ
قيم
دِيناً قِيَماً [ الأنعام/ 161] ، أي : ثابتا مُقَوِّماً لأمور معاشهم ومعادهم . وقرئ : قيما «2» مخفّفا من قيام . وقیل : هو وصف، نحو : قوم عدی، ومکان سوی، ولحم زيم «3» ، وماء روی، وعلی هذا قوله تعالی: ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ [يوسف/ 40] ، وقوله : وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً [ الكهف/ 1- 2] ، وقوله : وَذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ [ البینة/ 5] فَالْقَيِّمَةُ هاهنا اسم للأمّة القائمة بالقسط المشار إليهم بقوله : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ
ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّـہٗ عِوَجًا۔ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاسًاشَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْـہُ وَیُبَشِّرَالْمُوْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا۔ مَّا کِـثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا۔ وَّیُنْذِرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا۔ (الکہف : 1 تا 4)
(ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔ بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور بشارت دے دے ایمان لانے والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تضاد اور تعارض نہیں پایا جاتا۔ ناصرف اس میں الجھاؤ اور تعارض نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی یہ بھی صفت ہے کہ اس کے ارشادات سادہ اور ٹھوس ہیں جن پر عمل پیرا ہونا آسان ہے اور اس کے بدلے دنیا اور آخرت کی کا میابی نصیب ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ حقیقی تعریفات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
2۔ قرآن مجید میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی۔
4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا موثر ذریعہ ہے۔
5۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے باعث رحمت اور بشارت ہے۔
6۔ اعمال صالحہ کرنے والے مومنین کے لیے بہترین اجر اور خوشیوں کا پیغام ہے۔
تفسیر بالقرآن
عمل صالح کا صلہ :
1۔ عمل…
Read the full tafseer →قرآن قیم ہے :
2: قَیِّمًا (استقامت کے ساتھ) یہ فعل مضمر جَعَلَہٗ سے منصوب ہے۔ ای جعلہ قیمًا کیونکہ جب کجی کی اس سے نفی کردی تو گویا استقامت اس کے لئے خودثابت ہوگئی عِوَج کی نفی اور اثبات استقامت دونوں کو اسلئے جمع کردیا۔ باوجودیکہ ایک دوسرے سے مستغنی ہے۔ تاکہ تاکید ہوجائے بہت سے سیدھے لوگ جن کی استقامت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جانچ پڑتال کے وقت تھوڑی بہت ٹیڑھ سے خالی نہیں ہوتے۔ (اس لئے دونوں صفات لاکرا دنی کی بھی نفی کردی) نمبر 2۔ تمام کتابوں کا قرآن قیم ہے۔ ان کی تصدیق کرنے والا اور ان کی صحت کا گواہ ہے۔
لِّیُنْذِرَ (تاکہ وہ ڈرائے) ان لوگوں کو جو کفر کرنیوالے ہیں۔ بَاْسًا شَدِیْدًا (سخت پکڑ) یعنی…
Read the full tafseer →تفسیر 2۔” فیما “ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہیں ۔ ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے، عدل سے فراء کا بیان ہے کہ یہ کتاب ما قبل تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ اپنے بندے پر نازل فرمایا اس میں کوئی کجی نہیں لیکن اللہ نے اس کتاب کو راہ ہدایت بنایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولم یعجل لہ عوجاً “ اس میں اختلاف نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ولو کان من عند غیر اللہ لو جدو ا فیہ اختلافا ً کثیرا ً “ بعض نے کہا کہ اس کو مخلوق نہیں بنایا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5:۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے سمرہ بن جندب کی حدیث سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ الحمد للہ کا کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی بعض سورتوں کے اول میں اور بعض کے آخر میں یہ کلمہ اس لیے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا پیارا کلمہ اس کے نیک بندوں کے منہ سے نکلے اور ان کا عقبے کا بھلا ہوجائے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے انزل علی عبدہ الکتب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹلایا اور فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(آیت نمبر (1
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ نعمت قرآن اور اس کی عظمت شان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا۔ یعنی قرآن حکیم کو جو کہ ایسی کامل اور بےمثال کتاب ہے جس کے مقابلے میں کوئی بھی کتاب درحقیقت کتاب کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتی اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جس کے مقابلے میں اور کوئی نعمت نعمت ہی نہیں کہ یہ انسان کو طرح طرح کی گمراہیوں کے اتھاہ اندھیروں سے نکال کر ایمان و ہدایت کی روشنی اور عظیم دولت سے نوازتی اور سرفراز کرتی ہے اور اس کو دارین کی سعادتوں اور حقیقی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ پس ہر طرح کی تعریف اور حمد وثناء اسی ذات وحدہ لاشریک کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن کی شان اور غلط اعتقاد
تشریح : قرآن پاک اور اس کے نازل کرنے والے کی تعریف اور جس پر نازل کی گئی ان سب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں :
نزول قرآن کا اصل مقصد نفس انسانی کی تہذیب، باطل عقائد (جھوٹے عقیدے) اور فاسد اعمال (برے کام) کی تردید ہے قرآنی نقطہ نظر سے حیات ایک وحدت ہے۔ اس لیے تعلیمات قرآنی جسم و روح کے تمام تقاضوں پر محیط (گھیرے ہوئے) ہے۔ تمام کائنات میں خدائی قانون (اللہ کے قانون) کی بالا دستی ایک بنیادی حقیقت ہے اور اس کا اطلاق (جاری ہونا) تمام انسانوں پر رتبہ، قوت، رنگ، زبان اور جغرافیائی تفریق کے باوجود یکساں طور پر ہوتا ہے۔ (از الفوز الکبیر)
شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
سورة الکہف :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 1 مراد ہیں نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا مشرکین عرب بھی جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں قرار دیتے ہیں اور یہود جو حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(18:2) قیما۔ درست کرنے والے۔ یعنی ایسی کتاب جو (نہ صرف بذاتہٖ ہر قسم کی کجی یا خامی سے مبرّا ہے بلکہ) دوسروں کی کجیوں اور خامیوں کی اصلاح کرتی ہے۔ ای ثابتا ومقوما لامور معاشہم ومعادہم یعنی کود کجی سے بالاتر اور دوسروں کے معاش ومعاد کو درست کرنے والی۔ حروف مادہ ق و م۔
ولم یجعل لہ عوجا قیما۔ صاحب کشاف نے وائو کو حرف عطف اور ولم یجعل لہ کو انزل پر معطوف لیا ہے۔ ان کے نزدیک قیما کو الکتب کا حال ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ فعل مضمر کی وجہ سے ہے اور تقدیر کلام یوں ہے ولم یجعل لہ عوجا جعلہ قیما۔ لیکن بعض کے نزدیک ولم یجعل لہ عوجا میں وائو حالیہ ہے گویا ولم یجعل لہ عوجا اور قیمادونوں حال ہیں جب دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
لم یجعل نہیں بنایا۔ عوج ٹیڑہ پن۔ کجی۔ قیم بالکل درست، صحیح۔ باس شدید سخت عذاب۔ ما کثین ٹھیرنے والے، جمنے والے۔ ابداً ہمیشہ کبرثت بڑی۔ کلمۃ بات، کلمہ افواہ (فوہ) منہ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 5
سورۃ الکہف کے ابتدائی تعارف میں آپ نے ملاحظہ کرلیا ہے کہب عض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوالات کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب والے ان باتوں سے ناواقف ہیں جب ہم سوال کریں گے اور ان کا جواب نہ مل سکے گا تو ہمیں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے اور یہ کہنے کا موقع ہاتھ آجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ (نعوذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قرآن مجید نازل ہونے کا سبب
پھر فرمایا کہ قرآن مجید ہم نے اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اللہ کے عذاب سے ڈریں اگر اس کے عذاب سے ڈریں گے تو ان کاموں سے بچیں گے جو عذاب کا موجب ہیں۔ جیسے عادوثمود وغیرہ کے حالات مذکور ہیں اور جہنم اور اس عذاب کی کیفیتیں مذکور ہیں۔ اور قرآن شریف کو اس لئے نازل فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اچھے عمل بھی کرتے ہیں ان کی سعادت کا بدلہ بہشت تیار ہے اور وہ بہشت چند روز کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ راحت کے ساتھ وہاں رہیں گے۔
Read the full tafseer →-2 بالکل سیدھی اور ٹھیک اتاری اس لئے نازل کی اور اتاری تاکہ وہ ایک سخت عذاب سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا لوگوں کو ڈرائے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری اور بشارت دے کہ ان کو اچھا اجر ملے گا۔
Read the full tafseer →وہ بالکل سیدھی بات ہے تاکہ برائی سے روکے اور نیکی کی طرف ترغیب دے :
2۔ اس آیت میں قرآن کریم کے نزول کا مقصد مزید واضح کردیا کہ وہ تبشیر وتنذیر ہے کیونکہ ہدایت وحی جب کبھی ظاہر ہوئی ہے اس لئے ظاہر ہوئی ہے کہ ایمان وعمل کے نتائج کی بشارت دے اور انکار و بدعملی کے نتائج سے متنبہ کرے ، قرآن کریم کی صفت جو اس جگہ بیان ہوئی وہ (قیما) ہے قیام کے معنی ہی کسی چیز کی نگہداشت اور حفاظت کرنے کے ہیں ” قیم “ مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی یہ کتاب ایسی ہے جو بہت ہی نگہداشت اور بہت ہی حفاظت کرنے والی ہے یا یہ کہ اس کی بہت ہی نگہداشت اور حفاظت کی گئی ہے اس طرح دین اسلام کو بھی (آیت) ” ذلک دین القیمۃ “۔ کہا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
The properties and merits of Surah al-Kahf
According to a narration of Sayyidna Abu al-Darda' ؓ appearing in Muslim, Abu Dawud, Tirmidhi, al-Nasa'i and the Musnad of Ahmad, one who has memorized the first ten verses of Surah al-Kahf will remain protected from the ill effects of Dajjal (imposter). In another report in the same books and from the same authority, the same thing has been said about having memorized the last ten verses of Surah al-Kahf.
And it has been reported in the Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Sahl ibn Mu` adh ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, "One who recites…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1. That is, there is nothing intricate or complicated in it that may be beyond anyone’s understanding nor is there anything that deviates from the straight path of the truth and thus cause hesitation in the mind of a truth loving person.
Read the full tafseer →