Explained with ayahs 110–111
رحمن یا رحیم ؟
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لئے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بسم ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔ سورة حشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ ایک مشرک نے حضور ﷺ سے سجدے کی حالت میں یا رحمن یا رحیم سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں دو معبودوں کو پکارتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ مکہ میں پوشیدہ تھے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 125
اس فقرے میں ایک لطیف طنز ہے ان مشرکین کے عقائد پر جو مختلف دیوتاؤں اور بزرگ انسانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ میاں نے اپنی خدائی کے مختلف شعبے یا اپنی سلطنت کے مختلف علاقے ان کے انتظام میں دے رکھے ہیں۔ اس بیہودہ عقیدے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی خدائی کا بار سنبھالنے سے عاجز ہے اس لیے وہ اپنے پشتیباں تلاش کر رہا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا کہ اللہ عاجز نہیں ہے کہ اسے کچھ ڈپٹیوں اور مددگاروں کی حاجت ہو۔
Read the full tafseer →اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ بنی عبد المطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ یہ آیت سکھا دیتے تھے (آیت) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا (مظہری)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ایک روز میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کردیا آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کا اعلان : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا۔
یہ سورة کے آخر میں آپ کو خدا ہی کی حمد و تکبیر اور اس کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کے اعلان کی ہدایت ہوئی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس وادی میں چاہیں ٹھوکریں کھاتے پھریں لیکن تم یہ اعلان کردو کہ شکر کا سزاوار حقیقی وہ اللہ ہے جس نے نہ تو اپنے لیے کوئی اولاد بنائی، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کو کبھی ذلت و مقہوریت لاحق ہوتی ہے کہ اس سے بچانے کے لیے اس کو کسی حمایتی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 1 جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کے لئے اللہ کا صفتی نام ' رحمٰن ' یا ' رحیم ' نامانوس تھا اور بعض آثار میں آتا ہے کہ بعض مشرکین نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے یا رحمٰن و رحیم کے الفاظ سنے تو کہا کہ ہمیں تو یہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)
110۔ 2 اس کی شان نزول میں حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ چھپ کر رہتے تھے، جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو آواز قدرے بلند فرما لیتے، مشرکین قرآن سن کر قرآن کو اور اللہ کو گالی گلوچ کرتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اپنی آواز کو اتنا اونچا نہ کرو کہ مشرکین سن کر…
Read the full tafseer →58:: بہت سے کافروں کا یہ خیال تھا کہ جس ذات کا نہ کوئی بیٹا ہو اور نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہو، وہ تو بڑی کمزور ذات ہوگی، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ اولاد اور مددگاروں کی حاجت اس کو ہوتی ہے جو کمزور ہو، اور اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی قوی ہے کہ اسے کمزوری دور کرنے کے لئے نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے نہ کسی مددگار کی حاجت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔
ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔
جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی…
Read the full tafseer →8 نماز کے بعد توحید خالص کا ذکر فرما کر سورت کو ختم کیا۔ یعنی ساری خوبیاں اور تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو اپنی ہر صفت و کمال میں یگانہ ہے اور ہر قسم کے عیب و قصور اور نقص و فتور سے بکلی منزہ ہے۔ یا مساوی سے جیسے ایک شریک کو دوسرے شریک سے مدد پہنچتی ہے۔ یا بڑے سے۔ جس طرح کمزور آدمی ذلت و مصیبت کے وقت بڑے آدمیوں سے مدد لیتے ہیں۔ اس آیت میں تینوں کی نفی کردی۔ گویا " لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا " میں پہلے احتمال کی " لَمْ یَکُن لَّہ، شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ " میں دوسرے کی، اور " لَمْ یَکُن لَّہ، وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ " میں تیسرے کی نفی کرنے کے بعد " کَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا " میں اس کی عظمت وکبریائی کی…
Read the full tafseer →آیت 111 وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة الاخلاص کی ہم وزن ہے۔ اس میں پانچ مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کا بیان ہے۔ اس ضمن میں یہ پہلی بات ہے یعنی حضور کی زبان مبارک سے یہ اعلان کہ تمام تعریفیں اور ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔
الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا
یہ دوسری بات ہے جسے سورة الاخلاص میں لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ
تیسری بات اقتدار و اختیار سے متعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ تنہا ہرچیز کا مالک و مختار اور مالک الملک ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار…
Read the full tafseer →130 کیا اللہ کو کسی اور مددگار کی ضرورت ہے ؟ اس آیت میں مشرکین کے اس بنیادی عقیدے کی تردید کی گئی ہے جس کی بنا پر کئی قسم کا شرک رائج ہوگیا ہے۔ اور پھر عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لئے امیروں وزیروں اور کئی طرح کے مددگاران کی احتیاج ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ کو اتنی بڑی سلطنت کا کاروبار چلانے کے لئے کارکنوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ہماری یہ دیویاں اور دیوتا غوث قطب ابدال وغیرہ سب اس انتظام کے مختلف شعبے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی گمراہی جس نے بیشمار قسموں کے شرک کو جنم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بےہودہ عقیدہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ اسے اس وقت کسی…
Read the full tafseer →158۔ (جیسا کہ مسیحیوں نے اور بہت سے مشرکوں نے سمجھ رکھا ہے)
159۔ (نہ کوئی دیوی نہ دیوتا، جیسا کہ جاہلی مذہبوں نے قرار دے رکھا ہے)
160۔ (جیسا کہ بعض جاہل قوموں نے فرض کر رکھا ہے) غرض یہ کہ حق تعالیٰ کی نہ کوئی اولاد ہے، نہ کوئی اس کا شریک، سہیم و مساوی ہے، اور نہ کوئی اس کا حافظ وناصر ہے۔ شرک کی ہر ممکن صورت اس سے منتفی ہے۔
161۔ اسی کے دین توحید کو پھیلائے، اسی کی ذات وصفات کی تبلیغ کرتے رہیے، محققین نے کہا ہے کہ عربی زبان میں مفہوم تعظیم واجلال کیلئے لفظ تکبیر سے بڑھ کر اور جامع تر کوئی لفظ نہیں اور جب اس فعل کا امر مصدر اور پھر صیغہ نکرہ کے ساتھ مؤکد ہو کر آئے تو زور اور وسعت کی انتہاہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
آیت نمبر 101 تا 111
ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا
اور کہو کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے خاص ہیں جو نہ اولا درکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی
سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیا کرو۔
(حضرت مفسر (رح) کے نزدیک) الملک سے مراد ہے الوہیت۔ مذلۃ کمزوری ‘ ولی ‘ حامی ‘ مددگار ‘ یعنی اس کے اندر کوئی کمزوری نہیں کہ اس کو اپنی کمزوری دفع کرنے کے لئے مددگار کی ضرورت ہو۔ اوّل جنسی اور غیر جنسی شریک کی نفی کی اور اختیاری شریک (یعنی اولاد)…
Read the full tafseer →(111) اور فرما دیجیے کہ تمام خوبیاں اور شکر اور خدائی اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کہ جو نہ فرشتوں اور نہ انسانوں میں سے کوئی اولاد رکھتا ہے کہ اس کی بادشاہت کا نعوذ باللہ وہ مالک بنے اور نہ اس کا سلطنت میں کوئی شریک ہے کہ اس کی معاذ باللہ مخالفت کرسکے اور نہ ان ذلیلوں یعنی یہود و نصاری میں سے کوئی اس کا مددگار ہے کیوں کہ یہ ذلیل ترین لوگ ہیں یا یہ کہ نہ کمزوری کی وجہ سے اب یہود نصاری اور مشرکین وغیرہ میں سے کوئی اس کا مددگار ہے اور یہود و نصاری اور مشرکین وغیرہ کی جو کہ احکم الحاکمین کے شریک اور اس کے دربار میں سفارشی تجویز کرتے ہیں، علیحدگی اختیار کیجیے اور اس ذات کی خوب بڑائیاں بیان…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا۔۔ : یعنی ہر خوبی جس کی تعریف ہوسکتی ہے، خواہ وہ صفت جمال ہو یا جلال یا کمال، صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے سوا کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہ بھی اسی کی خوبی ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے سوا کوئی خواہ کتنا ہی بڑا ہے یا تو اولاد کا محتاج ہے، کیونکہ اسے بوڑھا ہونا اور فوت ہونا ہے، اس لیے زندگی میں اسے مدد کے لیے اور مرنے کے بعد وارث کے طور پر اولاد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی سب کا وارث ہے، وہ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے۔ پھر والد اور اولاد ایک جنس سے ہوتے ہیں، اگر اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ : وقل الحمدللہ الذی لم یتخذ ولدا یہ آیت یہود و نصاریٰ اور عربوں کے مختلف اقوال کا رد کر رہی ہے : کہ حضرت عزیر، حضرت عیسیٰ اور ملائکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذریت اور اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ایسے اقوال سے پاک اور برتر ہے : ولم یکن لہ شریک فی الملک چونکہ وہ واحد اور یکتا ہے لہٰذا اس کی حکومت اور اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں۔ ولم یکن لہ ولی من الذل حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اس نے کسی کو حلیف نہیں بنایا اور نہ کسی کی مدد چاہی ہے، یعنی اس کا کوئی مددگار نہیں جو اسے درماندگی سے پناہ دیتا ہو کہ وہ اس کا دفاع کرنے والا ہو۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : یہود…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہود و نصاری نے کہا (آیت) ” اتخذ اللہ ولدا “ (البقرۃ : 116) ( یعنی اللہ کی اولاد ہے) اور عرب کے لوگوں نے کہا ” لبیک لا شریک لک لبیک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک “ (اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں مگر جو شریک ہے وہ تیرے لئے اس کا بھی مالک ہے اور جس کا مالک ہے اس کا بھی مالک ہے) اور صابئوں اور مجوس نے کہا اگر اللہ کے اولیاء نہ ہوتے تو وہ کمزور ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا “ نازل فرمائی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَقُلِ : اور آپ ﷺ کہیے ] [الْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [للّٰهِ الَّذِي : اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [لَمْ يَتَّخِذْ : بنائی ہی نہیں ] [وَلَدًا : کوئی اولاد ] [وَّلَمْ يَكُنْ : اور ہے ہی نہیں ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [شَرِيْكٌ: کوئی شریک ] [فِي الْمُلْكِ : بادشاہت میں ] [وَلَمْ يَكُنْ : اور ہے ہی نہیں ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [وَلِيٌّ: کوئی کارساز ] [مِّنَ الذُّلِ : کمزوری (کے سبب) سے ] [وَكَبِرْهُ : اور بڑائی تسلیم کرائو اس کی ] [تَكْبِيْرًا : جیسا بڑائی تسلیم کرانے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →اللہ کی حمد بیان کیجیے جس کا کوئی شریک اور معاون نہیں ہے اور اس کی بڑائی بیان کیجیے
در منثور ص 208 ج 4 میں حضرت محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور مشرکین عرب اللہ کے لیے یوں شریک تجویز کرتے تھے کہ حج میں جو تلبیہ پڑھا جاتا ہے اس میں لا شریک لک کے ساتھ الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک بھی جوڑ دیتے تھے اور صابئین اور مجوس یوں کہتے تھے کہ اگر اللہ کی مدد کرنے والے نہ ہوتے تو وہ عاجز ہو کر رہ جاتا ان سب کی تردید میں اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت بالا (وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا) آخر تک نازل فرمائی (رواہ البخاری) جس میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
خاتمہ سورت بر توحید و تحمید
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا اللہ اوادعو الرحمن .... الیٰ .... وکبرہ تکبیرا۔
(ربط) سورت کا آغاز اللہ کی تسبیح و تنزیہ سے ہوا اب صورت کا اختتام اللہ کی توحید اور اس کی تحمید اور اس کی تکبیر و تمجید پر ہو رہا ہے جو غایت درجہ لطیف ہے ابتداء کی طرح اخیر میں بھی اللہ تعالیٰ کا تمام نقائص عجز اور ذلت سے مبرا اور منزہ ہونا بیان فرمایا اور چونکہ گزشتہ آیت میں سجود اور خشوع کا ذکر تھا اس لیے اس کی مناسبت سے ان آیات میں یہ دعا یعنی خدا تعالیٰ کو پکارنے کا ذکر فرماتے ہیں واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک بار آنحضرت ﷺ سجدہ میں یہ کہتے تھے یا اللہ یا رحمن تو اس پر مشرکین نے طعن کیا کہ ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
94:۔ آخر میں پوری سورت کا خلاصہ اور لب لباب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو جس نام سے چاہو پکارو مگر جب بھی پکارو اسی کو پکارو کیونکہ تمام صفات کارسازی اور اچھے نام صرف اسی کیساتھ مختص ہیں ” فلہ الاسماء الخ “ تعلیلیہ ہے اور یہ ماقبل کی علت ہے جیسا کہ سورة اعراف رکوع 22 میں فرمایا ” فللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا “ یہاں فاء فصیحہ ہے یعنی چونکہ تمام اسماء حسنی اور صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں اس لیے اس کے ناموں کے ساتھ صرف اسی کو پکارو۔
95:۔ یہ ” قل ادعوا اللہ “ سے متعلق ہے اور اس میں پکارنے کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ اے رسول ! ﷺ نہ تو اللہ کو بلند آواز سے پکارو تاکہ مشرکین استہزاء کریں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، اس کے منجانب اللہ بتدریج کا ذکر تھا ، یہ بھی عرض کیا تھا کہ قرآن کریم ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے روحانی اور مادی دونوں طریقوں سے انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے اللہ نے فرمایا لوگو ! تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جو منصف مزاج لوگ ہیں ، وہ قرآن کی آیا سن کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں ، اس طرح گویا اللہ نے ایک طرف مشرکین کو ان کے انکار پر تنبیہ فرمائی اور دوسری طرف منصف مزاج اہل کتاب کی تعریف بھی فرمائی ۔
(مشرکین کی رحمان سے عداوت)
سورة کی ان آخری آیات میں اللہ نے مشرکین کے ایک بیہودہ اعتراض کا…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا 111ۧ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
فقال قل ادعواللہ او ادعوالرحمن الخ کہ اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو خواہ اللہ کے لفظ سے دعا کرو یا رحمن کے ‘ اللہ کہو یا رحمن کہہ کے دعا مانگو جس نام سے اس کو پکارو گے سب اس کے اچھے نام ہیں اللہ کے نام میں جو اسم ذاتی ہے اس کے جلال و جبروت کی تجلی ہے محض ذات کی طرف بلالحاظ صفات متوجہ ہونا اعلیٰ درجہ کے عرفاء کا مرتبہ ہے اور یہ مشکل ہے اور یہ مرتبہ نصیب نہ ہو تو اس کے صفات کے ساتھ اس کو پکارو اور صفات میں صفت رحمت تمہارے حال کے زیادہ تر مناسب ہے اور لفظ رحمن سے وہ زیادہ سمجھی جاتی ہے اسی لیے جس طرح لفظ اللہ عرب میں اس کے لیے مخصوص تھا اسی طرح لفظ رحمن بھی بلا اضافۃ اسی پر اطلاق کیا جاتا ہے اس…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 111)
(اور کہہ دیجیے کہ ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس کے نہ کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی حکمرانی میں اس کا کوئی ساجھی ہے، اور نہ اس کو ذلت سے بچانے کے لیے کسی مددگار کی ضرورت ہے، اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ )
حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ بنی عبدالمطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ ﷺ یہ آیت سکھا نے کی ترغیب دیتے تھے۔
اتمامِ حجت اور اعلانِ حق
حضرت ابوہریرہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی ابتداء ” سُبْحَانَ الَّذِیْ “ کے الفاظ سے ہوئی۔ جس کا معنیٰ ہے وہ ذات جو ہر قسم کے عیب، کمزوری اور شرک سے پاک ہے۔ سورة کا اختتام بھی اسی بات پر ہورہا ہے کہ اللہ وہ ہے جو ہر قسم کے شرک اور کمزوری سے پاک ہے۔
عربی گرائمر سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ لفظ ” حمد “ کے ساتھ ” ال “ شامل ہو تو یہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ جس کا معنیٰ ہے کہ تمام قسم کی تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔” حمد “ میں دوسرے کی ذات کی بڑائی اور اس کے احسانات کا احساس اور اعتراف پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ابتداء میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے۔ کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی تعریف اور حمدو شکر…
Read the full tafseer →اور نہ اس کو بالکل آہستہ کریں :
111: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا (اور کہہ دو : تمام تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس نے بیٹا نہیں بنایا) جیسا کہ یہود و نصاری بنوملیح کا خیال ہے۔ وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (اور نہ ہی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے) جیسا مشرکین نے خیال کیا۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ اور نہ اس کا کوئی مددگار ہے کمزوری کی وجہ سے (کیونکہ وہ کمزوریوں سے پاک ہے) یعنی اس پر کمزوری آہی نہیں سکتی کہ کسی مددگار کی ضرورت پڑے نمبر 2۔ وہ کسی سے دوستی کمزوری کی وجہ سے نہیں کرتا تاکہ وہ اس کی طرف سے مدافعت کرے۔ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا…
Read the full tafseer →111۔” وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا ً “ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو فرمایا کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی تعریف بیان کریں ۔ حمدکا معنی ہے تعریف و بزرگی کرنا اس ذات کی جو اس کی اہل ہے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ الحمد للہ سے معلوم ہوتا ہوے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ۔” ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیرا ً “ وہ تعظیم عظمت والا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی ولی۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، قیامت کے دن جن کو جنت کی طرف سب سے پہلے بلایا جائے گا وہ وہی لوگ ہوں گے جو دکھ سکھ ہر حالت میں اللہ کی بہت زیادہ حمد کرتے ہیں۔ ( رواہ الطبر انی والبیقہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 111:۔ صحیحین میں اس آیت کی شان نزول کے باب میں دو قول ہیں ایک قول امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ غلبہ اسلام سے پہلے جب آنحضرت ﷺ مکہ میں بلند آواز سے نماز میں قرآن شیریف پڑھا کرتے تھے تو مشرکین قرآن کو برا بھلا کہا کرتے تھے یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات نازل فرمائی 1 ؎ اور فرما دیا کہ اوسط درجے کی آواز سے قرآن مجید پڑھا کرو نہ ایسی بلند آواز سے ہو کہ مشرکین سن کر برا بھلا کہیں نہ ایسا ہو کہ قرآن کے سننے کے مشتاق صحابہ بھی قرآن کے سننے سے محروم رہ جائیں دوسرا قول حضرت عائشہ ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دعا اوسط درجہ کی آواز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت نمبر (110 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے : (ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ) ” تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو “ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو (ایا ما تدعو فلہ الاسماء الحسن ) ” جو کہہ کر پکارو گے ‘ پس اسی کے ہیں سب نام اچھے “ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہوجائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی ناسبت سے ‘ مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ (ولا تجھر بصلاتک ) ” اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز “ یعنی بہت بلند آواز سے قراءت نہ کیجیے (ولا تخفت بھا ) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
نماز میں اونچی آواز سے قرأت کرنا اور دعا مانگا
قول باری ہے (ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سجیلاً اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو) حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق، نیز حضرت عائشہ مجاہد اور عطار سے مروی ہے کہ بہت زیادہ بلند آواز سے دعائیں نہ مانگو اور نہ ہی بہت آواز سے۔ “ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ جب اونچی آواز سے قرأت کرتے تو مشرکین آپ کو تنگ کرتے لیکن جب پست آواز سے قرأت کرتے تو مقتدیوں کو آواز سنائی نہ دیتی۔ یہ صورت حال مکہ میں تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت…
Read the full tafseer →205۔ رب کی حمد وثناء اور اسی کی تعظیم وتکبیر کی تعلیم و تلقین :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کہوسب تعریف اور حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کی ہے “ کہ وہی وحدہ لاشریک اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور رب ہے۔ اور اسی کی بڑائی بیان کرو کمال درجے کی بڑائی۔ یعنی مصدر یہاں پر تاکید کیلئے ہے۔ اور اپنے رب کی یہ بڑائی، قول و اقرار، اعلان واظہار اور اطاعت و بندگی ہر طرح سے کرو کہ بڑائی کا حقدار و سزاوار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ ہر نقص وعیب اور ہر شائبہ شرک سے پاک اور ہر خوبی و کمال سے موصوف و متصف ہے۔ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے اور اس کائنات میں جو بھی کوئی خوبی و کمال ہے وہ سب اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…
Read the full tafseer →ف 11 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب نبی ﷺ مکہ میں چھپ کر رہے تھے چناچہ جب آپ اپنی صحابہ کو نماز پڑھتے تو مشرکین قرآن کو اس کے اتارنے اور اس کے لانے والے کو گلیاں دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ بیچ کا لہجہ اختیار کیجیے تاکہ آپ کے ساتھی سن بھی سکیں اور مشرکین کو گالیاں دینے کا موقع نہ مل سکے۔ (بخاری مسلم) حضرت عائشہ نے اس آیت میں ’ دصلاۃ “ مراد دعا ہے۔ (بخاری)112 اس میں مشریکن کے اس بہبود عقیدہ کی تردید ہے کہ جس طرح دنیا کے بادشاہوں کو وزیروں، گورنروں اور مصاحبوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ان کی سلطنت برقرار نہیں رہ سکتی اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت کو…
Read the full tafseer →(17:111) من الذل اس میں من تعلیلیہ ہے۔ یعنی بوجہ ۔ بسبب۔ الذل۔ عاجزی کمزوری، تواضع۔ ذلت۔ جب دوسرے کے دبائو اور قہر کی بنا پر عاجزی ہو تو اس کو ذل کہتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ۔ (17:24) یعنی ان کے سامنے مقہورو مجبور ہو کر رہو۔
اور اگر بغیر کسی قہر وجبر کے خود اپنی سرکشی اور سخت گیری کے بعد جو ذلت حاصل ہو وہ ذل کہلاتی ہے کہتے ہیں۔ ذلت الدابۃ ذلا۔ منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 111
ادعوا پکارو، بلاؤ۔ ایام دن۔ لاتجھر نہ بلند کر۔ لاتخافت نہ پست کر۔ ابتغ تلاش کر۔ ولی مددگار۔ الذل عاجزی، کمزوری۔ کبرہ تکبیراً اس کی عظمت خوب بیان کرو۔
تشریح : آیت نمبر 110 تا 111
اللہ تعالیٰ نے سورة الاسراء کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اسے اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر دونوں اللہ ہی کے نام ہیں اور اللہ کے جتنے بھی نام ہیں وہ سب کے سب بہترین نام ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام تو صرف اللہ ہے باقی اس کے صفاتی نام ہیں، رحمٰن، رحیم، قادر، خالق، رازق وغیرہ یہ اللہ کے بہترین صفاتی نام ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول اللہ کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جس اللہ نے عزیر علیہ السلام، عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان مشرکوں کے بتوں کو سب کو پیدا کیا ہے، بڑائی اسی ذات کو سزاوار ہے کہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے نہ اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک ہے اور وہ ایسا زبردست ہے کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
[69] عرب میں اللہ کا لفظ بطور اسم ذات کے شروع سے چلا آ رہا تھا۔ یہود کے ہاں اسم الرحمن کا استعمال رائج تھا۔ اسلام نے دونوں الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو مشرکین نے کہنا شروع کیا کہ توحید کامل کے دعویٰ کے ساتھ یہ دو دو اِلٰہ کیسے ؟ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔
[70] شروع شروع میں نماز جہری میں قرآن مجید کی بلند قرات سے مشرکین چڑتے تھے اور طرح طرح کی خرافات بکنے لگتے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ نماز میں جہر بس اس حد تک رکھیں کہ نمازیوں کے کان تک آواز پہنچ جائے اور ان کی تعلیم میں کمی نہ رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ہر زبان میں خدا کا نام لو !
(ف 3) قرآن حکیم تمام بنی آدم کی مشترکہ کتاب ہے ، اس لئے اس میں یہ التزام ہے کہ تمام اختلاف افگن چیزوں کی مخالفت کرے ، اور روح مذہب کے مرکز پر سب کو جمع کر دے ، اور ان تمام تفریقات کو مٹا دے ، جن کی وجہ سے ردائے انسانیت تار تار ہوجاتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ، کہ اللہ کو پکارو ، یا رحمن کو یاد کرو ، سب جائز ہے ، بشرطیکہ خدا کے جمال و جلال کو ملحوظ رکھا جائے یعنی یہ لفظی اختلاف کہ ” اللہ “ تو ہمارا خدا ہے اور رحمن مسلمانوں کا خدا ہے ، ناقابل التفات ہے ، سارے اچھے نام اور تمام اچھی صفتیں اللہ کے ساتھ متصف ہو سکتی ہیں ، تم خدا کو جس نام کے ساتھ چاہو ، یاد کرو ، یہ لفظی…
Read the full tafseer →- 1 1 1 اور یوں کہئے تمام تعریفیں اور سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ ایسا کمزور اور حقیر ہے کہ اس کا کوئی مددگار ہے اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کیا کیجیے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کوئی مددگار نہیں ذلت کے وقت یعنی اس پر کبھی ذلت ہی نہیں کہ مددگار چاہئے بادشاہوں کے ہاں امیر اس سے زیر پڑجاتے ہیں کہ برے وقت میں ان کی رفاقت ضرور ہوتی ہے وہاں یہ مذکور ہی نہیں یہاں جس سے تقویت حاصل ہوتی ہے وہ یا تو اولاد ہے یا کوئی برابر کا ساجھی اور شریک یا کوئی بڑا جو قوت میں زیادہ ہوا اور وہ حمایتی اور مددگار ہو ۔ اللہ تعالیٰ کو ان تینوں قسموں…
Read the full tafseer →ف 2۔ سورت کو تسبیح سے شروع کیا اور تمجید اور تکبیر پر ختم کیا۔ پس سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر کے معانی پر فاتحہ اور خاتمہ ہوا۔
Read the full tafseer →سب اچھی تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے کسی کو اولاد نہیں بنایا ‘ نہ اس کا کوئی شریک ہے ۔
130۔ اس آیت پر سورت بنی اسرائیل کا اختتام ہو رہا ہے گیا سورة مبارکہ (سبحان اللہ) سے شروع ہوئی تھی اور (الحمد للہ) پر ختم ہو رہی ہے اور احادیث میں اس آیت کو آیت عزت قرار دیا گیا ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل (رح) نے مسند میں معاذ جہنمی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الحمد للہ) سے آخر آیت تک آیت عزت ہے اور اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ بندہ اللہ کی کتنی ہی تنزیہ اور تمجید بیان کرے اور حمد وثناء کے گیت گائے اور کتنی عبادت کرے پھر بھی اس کو اقرار کرنا چاہئے کہ وہ حق ادا کرنے سے قاصر ہے ،…
Read the full tafseer →And Sayyidna Anas ؓ has said that a child from the tribe of Bani ` Abd al-Muttalib, when able to say meaningful words, was taught to recite this verse by the Holy Prophet ﷺ . Then he recited the verse:
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا
And say, "Praise belongs to Allah who has neither taken to Him a son, nor is there any partner to Him in His kingdom, nor is anyone [ needed ] to protect Him because of [ any ] weak-ness. And proclaim His greatness, an open…
Read the full tafseer →125. A subtle sarcasm is implied in the sentence. The mushriks believed that Allah had appointed assistants and deputies for the administration of His kingdom. Obviously this meant that Allah was helpless and powerless to carry out the administration of His kingdom. Therefore, He needed supporters to help Him in the work of His Godhead. This sentence negates their false creeds, saying: He does not stand in need of any gods and saints in order to delegate to them the different departments of His Godhead or make them governors in different parts of His kingdom.
Read the full tafseer →