Explained with ayahs 110–111
رحمن یا رحیم ؟
کفار اللہ کی رحمت کی صفت کے منکر تھے اس کا نام رحمن نہیں سمجھتے تھے تو جناب باری تعالیٰ اپنے نفس کے لئے اس نام کو ثابت کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ کا نام اللہ ہو رحمن ہو یا رحیم اور بسم ان کے سوا بھی بہت سے بہترین اور احسن نام اس کے ہیں۔ جس پاک نام سے چاہو اس سے دعائیں کرو۔ سورة حشر کے آخر میں بھی اپنے بہت سے نام اس نے بیان فرمائے ہیں۔ ایک مشرک نے حضور ﷺ سے سجدے کی حالت میں یا رحمن یا رحیم سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہیں دو معبودوں کو پکارتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔ پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو۔ اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ مکہ میں پوشیدہ تھے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 123
یہ جواب ہے مشرکین کے اس اعتراض کا کہ خالق کے لیے " اللہ " کا نام تو ہم نے سنا تھا، مگر یہ " رحمان " کا نام تم نے کہاں سے نکالا ؟ ان کے ہاں چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نام رائج نہ تھا اس لیے وہ اس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 124
ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ مکہ میں جب نبی ﷺ یا دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نماز پڑھتے وقت بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو کفار شور مچانے لگتے اور بسا اوقات گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردیتے تھے۔ اس پر حکم ہوا کہ نہ تو اتنے زور سے پڑھو کہ کفار سن کر ہجوم کریں، اور نہ اس قدر آہستہ پڑھو کہ تمہارے اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ فرما دیجئے کہ خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو گے (تو بہتر ہے کیونکہ) اس کے بہت سے اچھے اچھے نام ہیں (اور اس کا شرک سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ ایک ہی ذات کے کئی نام ہونے سے اس کی توحید میں کوئی فرق نہیں آتا) اور اپنی جہری نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھیے (کہ مشرکین سنیں اور خرافات بکیں اور نماز میں قلب مشوش ہو) اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھئیے (کہ مقتدی نمازیوں کو بھی سنائی نہ دے کیونکہ اس سے ان کی تعلیم و تربیت میں کمی آتی ہے) اور دونوں کے درمیان ایک (متوسط) طریقہ اختیار کرلیجئے (تاکہ مصلحت فوت نہ ہو اور مضرت پیش نہ آئے) اور (کفار پر رد کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →قرآن پر ایک اعتراض کا بہانہ : قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا۔
جب کسی چیز کے خلاف شبہ اور بدگانی جڑ پکڑے لے تو اس سے تعلق رکھنے والی ان چیزوں پر بھی شبہ ہونے لگتا ہے جن کے اندر کسی ادنی شبہ کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ اور رحمان دونوں نام استعمال کرتے تھے۔ کلام جاہلیت میں یہ دونوں ہی نام ملتے ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور تھی کہ اسم رحمان زیادہ معروف اہل کتاب کے ہاں تھا۔ عرب کے ذہینوں یہیں سے اس نام کو بھی قرآن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 1 جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کے لئے اللہ کا صفتی نام ' رحمٰن ' یا ' رحیم ' نامانوس تھا اور بعض آثار میں آتا ہے کہ بعض مشرکین نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے یا رحمٰن و رحیم کے الفاظ سنے تو کہا کہ ہمیں تو یہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)
110۔ 2 اس کی شان نزول میں حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ چھپ کر رہتے تھے، جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو آواز قدرے بلند فرما لیتے، مشرکین قرآن سن کر قرآن کو اور اللہ کو گالی گلوچ کرتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اپنی آواز کو اتنا اونچا نہ کرو کہ مشرکین سن کر…
Read the full tafseer →56:: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے مشرکین اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے چنانچہ جب مسلمان یا اللہ یا رحمن کہہ کر دعا کرتے تو وہ مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ ایک طرف تو تم کہتے ہو کہ اللہ ایک ہے، اور دوسری طرف دو خداؤں کو پکار رہے ہو، ایک اللہ کو اور ایک رحمن کو، اس آیت میں ان کے لغو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ اور رحمن دونوں اللہ ہی کے نام ہیں بلکہ اسکے اور بھی اچھے اچھے نام ہیں جنہیں اسمائے حسنی کہا جاتا ہے ان میں سے کسی بھی نام سے اس کو پکارا جاسکتا ہے اس سے عقیدہ ٔ توحید پر کوئی حرف نہیں آتا۔
57:
وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا : نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔
ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔
جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی…
Read the full tafseer →6 سجود و خشوع وغیرہ کی مناسبت سے یہاں دعا، (خدا کو پکارنے) کا اور دعاء کی مناسبت سے اگلی آیت میں صلوٰۃ کا ذکر کیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے ناموں میں سے مشرکین عرب کے یہاں اسم " اَللّٰہ " کا استعمال زیادہ تھا۔ اسم " رحمن " سے چنداں مانوس نہ تھے۔ البتہ یہود کے یہاں اسم " رحمن " بکثرت مستعمل ہوتا تھا۔ عبرانی میں بھی یہ نام اسی طرح تھا جیسے عربی میں۔ دوسری طرف مسیلمہ کذاب نے اپنا لقب " رحمان الیمامہ " رکھ چھوڑا تھا۔ غرض مشرکین حق تعالیٰ پر اسم " رحمن " اطلاق کرنے سے بدکتے اور وحشت کھاتے تھے۔ چناچہ جب حضور ﷺ کی زبان سے " رحمان " سنتے تو کہتے کہ محمد ﷺ ہم کو تو دو خداؤں کا پکارنے سے منع…
Read the full tafseer →اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى
ہرخیر ہر خوبی ہر بھلائی ہر حسن ہر کمال ہر جمال جس کا تم تصور کرسکتے ہو وہ بہ تمام و کمال اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے۔
وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا
تمہاری نمازیں اور دعائیں نہ تو بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری بلکہ ان کے بین بین کی راہ اختیار کرو۔
Read the full tafseer →128 رحمان اللہ کا ذاتی نام ہے قریش کی رحمن سے چڑ اللہ کے دوسرے صفاتی نام :۔ اللہ کے بعد رحمان بھی اللہ تعالیٰ کا دوسرے نمبر پر ذاتی نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مخلوق کا جس طرح اللہ نام یا اس کی صفت نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح رحمان بھی کسی مخلوق کا نام یا صفت نہیں ہوتی لیکن اللہ کا یہ نام عرب میں رائج نہ تھا اور اس نام سے انھیں چڑ بھی تھی اور وہ اللہ پر اس نام کا اطلاق کرنے سے بدکتے تھے اور جب آپ کی زبان سے یہ نام سنتے تو کہتے کہ ہمیں تو اللہ کا شریک بنانے سے منع کرتے ہو۔ جبکہ تم نے خود بھی اللہ کے ساتھ رحمان کو بھی الٰہ بنا رکھا ہے۔ ان کے اسی اعتراض کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ اللہ اور رحمن…
Read the full tafseer →156۔ (تو اسے جس پاکیزہ نام سے بھی پکارو، مقصود ومطلوب وہی رہے گا) عرب میں حق تعالیٰ کے لئے اللہ کا لفظ بطور اسم ذات کے شروع سے چلا آرہا تھا۔ یہود کے ہاں اسم الرحمن کا استعمال جاری تھا۔ اسلام نے دونوں الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو بعض ” دانش مند “۔ مشرکین نے کہنا شروع کیا کہ توحید کامل کے دعوے کے ساتھ یہ دو دو خدا کیسے ؟ جواب ملا کہ دو خدا کیسے ! یہ تو صرف دونام ہیں، ہستی اور ذات تو ایک ہی ہے اور نام اس کے پاک وپاکیزہ دو کیا معنی اور بھی بہت سے ہیں۔
157۔ جس سے نہ کوئی ضروری منفعت فوت ہونے پائے اور نہ کوئی لازمی مضرت مرتب ہونے پائے) شروع شروع میں نماز جہری میں قرآن مجید کی قرأت بلند سے مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
آیت نمبر 101 تا 111
ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ: آپ کہہ دیجئے کہ
تم اللہ کو (لفظ اللہ کہہ کر) پکارو یا رحمن جس سے بھی پکارو (دونوں درست ہیں) کیونکہ اس کے اچھے اچھے نام (بہت سے) ہیں۔ بغوی کے بیان میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے آیا ہے کہ مکہ میں ایک رات کو (نماز کے اندر) سجدے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ یا اللہ یا رحمن۔ ابوجہل بولا محمد ﷺ ہم کو تو ہمارے معبودوں (کو پکارنے) سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی ذات کے دونوں نام ہیں ‘ بولنے میں تعدد ہے مگر یہ تعدد وحدت ذات سے…
Read the full tafseer →(110) اور اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اچھے اچھے نام اور بہت ہی بلند صفات ہیں، خواہ اللہ، اللہ پکارو یا رحمن جس نام اور جس صفت کے ساتھ اس کا پکارو، سو بہتر ہے اور آپ اپنی نمازوں میں نہ تو بہت پکار کر قرآن کریم پڑھیے کہ مشرکین اس کو سن کر اول فول بکیں اور وہ حسد کریں اور نہ قرآن کریم کو اتنا آہستہ پڑھیے کہ آپ کے اصحاب بھی نہ سن سکیں اور دونوں کے درمیان ایک متوسط طریقہ اختیار کرلیجیے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ قل ادعواللہ او ادعوالرحمن“۔ (الخ)
ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں کھڑے ہو کر دعا کی اور اپنی دعا میں…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ۔۔ : کفار مکہ ”رحمان“ نام سے نفرت کرتے تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس نام سے ان کی نفرت کا تذکرہ کئی آیات میں کیا ہے، چناچہ فرمایا : (وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ ۚ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) [ الفرقان : 60 ] ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمٰن کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات بدکنے میں انھیں اور بڑھا دیتی ہے۔“ ان کی اس نفرت کا ذکر سورة انبیاء (36) میں بھی ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 110
قولہ تعالیٰ : قل ادعوا اللہ۔۔۔۔۔ الاسمآء الحسنی اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو یا اللہ یا رحمن پکارتے ہوئے سنا تو کہنے لگے : محمد ﷺ ہمیں تو ایک الٰہ کو پکارنے کا حکم دیتے ہیں اور خود دو کو پکارتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور مکحول نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ نے ایک رات تہجد کی نماز پڑھی اور اپنی دعا میں یہ کہا : یا رحمن یا رحیم اور مشرکین میں سے ایک آدمی نے اسے سن لیا۔ اور یمامہ کا ایک آدمی تھا جس کا نام رحمن تھا، تو اسے سننے والے نے کہا : محمد ﷺ کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یمامہ کے رحمن کو پکار رہے ہیں ؟ پس یہ آیت یہ بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ یہ دونوں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بلند آواز سے دعا مانگا کرتے تھے اور یہ فرماتے ہیں یا اللہ یا رحمان مکہ والوں نے اس کو سن لیا اور آپ کی طرف متوجہ ہوئے (کہ خود خدا وں کو پکارتے ہو اور ہم کو منع کرتے ہو) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “ (الآیۃ)
اللہ تعالیٰ کو رحمن کہہ کر پکارنا :
2:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مکہ میں نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور دعا میں یوں فرمایا یا اللہ یا رحمان مشرکوں نے کہا اس بےدین آدمی کی طرف دیکھو ہم کو دو خدا پکارنے سے منع کرتا ہے…
Read the full tafseer →[قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [اللّٰهَ : اللہ کو ] [اَوِ : یا ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [الرَّحْمٰنَ : رحمن کو ] [اَيًّا مَا : کوئی سا بھی (نام)] [تَدْعُوْا : تم لوگ پکارو ] [فَلَهُ : تو اس کے لئے ہی ہیں ] [الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى: سارے خوبصورت نام ] [وَلَا تَجْـهَرْ : اور آواز نمایاں مت کرو ] [بِصَلَاتِكَ : اپنی نماز میں ] [وَلَا تُخَافِتْ : اور آواز پوشیدہ مت رکھو ] [بِهَا : اس میں ] [وَابْتَغِ : اور تلاش کرو ] [بَيْنَ ذٰلِكَ : اس کے درمیان ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ]
خت
[خُفُوْتًا : (ن) ] آواز کا پست ہونا۔
(مفاعلہ) مَخَافَتَۃً آواز کو پوشیدہ رکھنا۔ پست کرنا۔ زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے بھی پکارو اس کے اچھے اچھے نام ہیں، آپ نماز میں قرأت کرتے وقت درمیانی آواز سے پڑھیے
در منثور ص 606 ج 4 میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں یا اللہ اور یا رحمن کہا تو مشرکین مکہ نے کہا کہ اس نئے دین والے کو دیکھو ہمیں دو معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکار رہا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ) نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رحمن کہہ کر پکارنا دو معبودوں کا پکارنا نہیں ہے معبود تو ایک ہے جو وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
خاتمہ سورت بر توحید و تحمید
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا اللہ اوادعو الرحمن .... الیٰ .... وکبرہ تکبیرا۔
(ربط) سورت کا آغاز اللہ کی تسبیح و تنزیہ سے ہوا اب صورت کا اختتام اللہ کی توحید اور اس کی تحمید اور اس کی تکبیر و تمجید پر ہو رہا ہے جو غایت درجہ لطیف ہے ابتداء کی طرح اخیر میں بھی اللہ تعالیٰ کا تمام نقائص عجز اور ذلت سے مبرا اور منزہ ہونا بیان فرمایا اور چونکہ گزشتہ آیت میں سجود اور خشوع کا ذکر تھا اس لیے اس کی مناسبت سے ان آیات میں یہ دعا یعنی خدا تعالیٰ کو پکارنے کا ذکر فرماتے ہیں واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک بار آنحضرت ﷺ سجدہ میں یہ کہتے تھے یا اللہ یا رحمن تو اس پر مشرکین نے طعن کیا کہ ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
94:۔ آخر میں پوری سورت کا خلاصہ اور لب لباب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو جس نام سے چاہو پکارو مگر جب بھی پکارو اسی کو پکارو کیونکہ تمام صفات کارسازی اور اچھے نام صرف اسی کیساتھ مختص ہیں ” فلہ الاسماء الخ “ تعلیلیہ ہے اور یہ ماقبل کی علت ہے جیسا کہ سورة اعراف رکوع 22 میں فرمایا ” فللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا “ یہاں فاء فصیحہ ہے یعنی چونکہ تمام اسماء حسنی اور صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں اس لیے اس کے ناموں کے ساتھ صرف اسی کو پکارو۔
95:۔ یہ ” قل ادعوا اللہ “ سے متعلق ہے اور اس میں پکارنے کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ اے رسول ! ﷺ نہ تو اللہ کو بلند آواز سے پکارو تاکہ مشرکین استہزاء کریں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، اس کے منجانب اللہ بتدریج کا ذکر تھا ، یہ بھی عرض کیا تھا کہ قرآن کریم ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے روحانی اور مادی دونوں طریقوں سے انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے اللہ نے فرمایا لوگو ! تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جو منصف مزاج لوگ ہیں ، وہ قرآن کی آیا سن کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں ، اس طرح گویا اللہ نے ایک طرف مشرکین کو ان کے انکار پر تنبیہ فرمائی اور دوسری طرف منصف مزاج اہل کتاب کی تعریف بھی فرمائی ۔
(مشرکین کی رحمان سے عداوت)
سورة کی ان آخری آیات میں اللہ نے مشرکین کے ایک بیہودہ اعتراض کا…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 110
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
فقال قل ادعواللہ او ادعوالرحمن الخ کہ اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو خواہ اللہ کے لفظ سے دعا کرو یا رحمن کے ‘ اللہ کہو یا رحمن کہہ کے دعا مانگو جس نام سے اس کو پکارو گے سب اس کے اچھے نام ہیں اللہ کے نام میں جو اسم ذاتی ہے اس کے جلال و جبروت کی تجلی ہے محض ذات کی طرف بلالحاظ صفات متوجہ ہونا اعلیٰ درجہ کے عرفاء کا مرتبہ ہے اور یہ مشکل ہے اور یہ مرتبہ نصیب نہ ہو تو اس کے صفات کے ساتھ اس کو پکارو اور صفات میں صفت رحمت تمہارے حال کے زیادہ تر مناسب ہے اور لفظ رحمن سے وہ زیادہ سمجھی جاتی ہے اسی لیے جس طرح لفظ اللہ عرب میں اس کے لیے مخصوص تھا اسی طرح لفظ رحمن بھی بلا اضافۃ اسی پر اطلاق کیا جاتا ہے اس…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ج وَلاَ تَجْھَرْبِصَلاَ تِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 110)
(کہہ دیجیے ! اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں اور تم اپنی نماز کو نہ زیادہ جہری کرو اور نہ بالکل ہی سِرِّی، اس کے بیچ کا راستہ اختیار کرو۔ )
آیت کا شان نزول اور مفہوم
اس آیت کے شان نزول کے ضمن میں چند واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دیتے تھے اور توحید ہی آپ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کے لیے تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن مجید نازل کیا تاکہ اس پر ایمان لانے والوں کو اس پر عمل کرنا آسان ہو۔ لیکن منکرین قرآن نے اس سہولت کو عیب بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اس کے ساتھ انھوں نے ” الرحمن “ کے نام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس کا جواب دیا گیا ہے۔
مکہ کے لوگ اپنی دعاؤں میں ” اللہ “ کا نام استعمال کرتے تھے۔ مدینہ کے یہودی ” اللہ “ کی بجائے ” الرحمن “ کے نام سے رب تعالیٰ کا ذکر کرتے اور اپنی دعاؤں میں الرحمن کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ رسول کریم نے اسمِ ” اللہ “ کے ساتھ جب ” الرحمن “ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا تو مکہ کے مشرکوں کو آپ کے خلاف…
Read the full tafseer →اللہ کو اس کے اچھے نام سے پکارو :
110: قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ (آپ کہہ دیں کہ تم اللہ تعالیٰ کو پکارو یا رحمان کو پکارو) ! نمبر 1۔ جب ابو جہل نے اس کو سنا تو کہنے لگا محمد کہتا ہے یا اللہ، یا رحمان اور ہمیں دو الہہ کی عبادت سے روکتا ہے۔ اور خود دو کو پکارتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری :
2 : اہل کتاب نے کہا تو رحمن کا ذکر کم کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں کثرت سے اس اسم کو نازل فرمایا ہے۔ پس یہ آیت ان کے جواب میں اتاری۔
الدعاءؔ نام رکھنے کے معنی میں ہے نداء کے معنی میں نہیں اور اَوْ کا لفظ تخییر کیلئے ہے کہ خواہ یہ نام رکھ یا یہ نمبر 2۔ اس نام سے اس کا ذکر کرویا اس نام…
Read the full tafseer →تفسیر 110۔” قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمن “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مکہ میں ایک رات کو سجد میں رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اللہ ! یا رحمن ، ابو جہل نے کہا محمد (ﷺ) ہم کو تو ہمارے معبودوں سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی ذات کے دونوں نام ہیں ، بولنے میں تعدد ہے مگر یہ تعدد وحذت ذات سے مانع نہیں ، وہی ذات مستحق عبادت ہے۔
” ایا ما تدعوا “ ماصلۃ ہے یعنی تم میں کوئی ان دو ناموں سے پکاریں یا تمام اسماء میں کسی نام سے پکاریں۔” فلہ الاسماء الحسنیٰ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا “ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 111:۔ صحیحین میں اس آیت کی شان نزول کے باب میں دو قول ہیں ایک قول امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ غلبہ اسلام سے پہلے جب آنحضرت ﷺ مکہ میں بلند آواز سے نماز میں قرآن شیریف پڑھا کرتے تھے تو مشرکین قرآن کو برا بھلا کہا کرتے تھے یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات نازل فرمائی 1 ؎ اور فرما دیا کہ اوسط درجے کی آواز سے قرآن مجید پڑھا کرو نہ ایسی بلند آواز سے ہو کہ مشرکین سن کر برا بھلا کہیں نہ ایسا ہو کہ قرآن کے سننے کے مشتاق صحابہ بھی قرآن کے سننے سے محروم رہ جائیں دوسرا قول حضرت عائشہ ؓ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دعا اوسط درجہ کی آواز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت نمبر (110 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے : (ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ) ” تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو “ یعنی ان دونوں ناموں میں سے چاہے جس نام سے پکارو (ایا ما تدعو فلہ الاسماء الحسن ) ” جو کہہ کر پکارو گے ‘ پس اسی کے ہیں سب نام اچھے “ یعنی اس کا کوئی اسم مبارک ایسا نہیں جو اچھا نہ ہو اور اس کو اس نام سے پکارنے سے روکا گیا ہو۔ تم جس نام سے بھی اسے پکارو گے اس سے مقصد حاصل ہوجائے گا۔ مگر مناسب یہی ہے کہ اسے ہر مطلوب کی ناسبت سے ‘ مطلوب کے مطابق نام سے پکارا جائے۔ (ولا تجھر بصلاتک ) ” اور پکار کر نہ پڑھیں اپنی نماز “ یعنی بہت بلند آواز سے قراءت نہ کیجیے (ولا تخفت بھا ) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
نماز میں اونچی آواز سے قرأت کرنا اور دعا مانگا
قول باری ہے (ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سجیلاً اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو) حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق، نیز حضرت عائشہ مجاہد اور عطار سے مروی ہے کہ بہت زیادہ بلند آواز سے دعائیں نہ مانگو اور نہ ہی بہت آواز سے۔ “ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ جب اونچی آواز سے قرأت کرتے تو مشرکین آپ کو تنگ کرتے لیکن جب پست آواز سے قرأت کرتے تو مقتدیوں کو آواز سنائی نہ دیتی۔ یہ صورت حال مکہ میں تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت…
Read the full tafseer →201۔ رحمان بھی اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے سبحانہ وتعالیٰ :۔
اس لئے اس بارے میں ہدایت فرمائی گئی کہ ” ان سے کہو کہ تم اللہ کہہ کر پکارویارحمن کہہ کر دونوں میں خیر ہی خیر ہے “۔ اور یہ دونوں اسمائے گرامی حضرت حق جل مجدہ کے انہی اسمائے حسنی میں سے ہیں۔ نہ جیسا کہ مشرکین اپنی، کوڑ مغزی سے سمجھ رہے ہیں کہ یہ دوالگ الگ ہستیاں ہوگئیں۔ مکحول روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ ایک مرتبہ سجدے میں فرما رہے تھے ” یارحمن یارحیم “ تو اس پر ایک مشرک نے کہا ان کو دیکھو دعوی تو کرتے ہیں ایک خدا کو پکارنے کا مگر پکارتے دو کو ہیں تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ ) ۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…
Read the full tafseer →ف 10 مشرکین عرب کے ہاں خدا کے لئے اللہ کا نام تواریخ تھا مگر وہ اس کے نام رحمن سے مانوس نہ تھے بلکہ وہ اس نام سے سخت وحشتک ھاتے حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت نے دعا میں فرمایا :” یا اللہ یا رحمٰن “ تو مشرکین کہنے لگے کہ اس بےدین کی طرف دیکھو ہمیں رئومیودوں کے پکارنے سے منع کرتا ہے اور خود وہ معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازمل فرمائی۔ ابن جریر اللہ تعالیٰ کے اسماء کے حسنیٰ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں حمد وثناء اور تسبیح و تقدیس کے معانی مفہوم ہوتے ہیں۔ کذافی لکبیر (مزید دیکھیے سورة اعراف 18)
Read the full tafseer →(17:110) ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی۔ ایاما۔ ایا۔ جونسا۔ کونسا۔ کس کس۔ جس کیا کیا۔ یہ استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور شرطیہ بھی۔ اور صفت بھی واقع ہوتا ہے لیکن یہاں شرطیہ استعمال ہوا ہے۔ ما زائدہ تاکید کے لئے ہے ایا کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے ای بای اسم تدعوا۔ تدعوا۔ تم بلائو۔ تم پکارو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر دعوۃ مصدر۔ لیکن آیہ ہذا میں الدعاء بمعنی التسمیۃ استعمال ہوا ہے النداء کے معنی میں نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ذات (حق تعالیٰ ) کو اللہ کا نام دو یا الرحمنکا۔
فلہ۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب ان دو اسموں (اللہ۔ الرحمن) کی طرف راجع نہیں بلکہ ان دونوں اسموں کے مسمیٰ کی طرف راجع ہے۔ الفاء جواب شرط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
لغات القرآن آیت نمبر 110 تا 111
ادعوا پکارو، بلاؤ۔ ایام دن۔ لاتجھر نہ بلند کر۔ لاتخافت نہ پست کر۔ ابتغ تلاش کر۔ ولی مددگار۔ الذل عاجزی، کمزوری۔ کبرہ تکبیراً اس کی عظمت خوب بیان کرو۔
تشریح : آیت نمبر 110 تا 111
اللہ تعالیٰ نے سورة الاسراء کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! آپ لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اسے اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر دونوں اللہ ہی کے نام ہیں اور اللہ کے جتنے بھی نام ہیں وہ سب کے سب بہترین نام ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام تو صرف اللہ ہے باقی اس کے صفاتی نام ہیں، رحمٰن، رحیم، قادر، خالق، رازق وغیرہ یہ اللہ کے بہترین صفاتی نام ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →اللہ کے ناموں کا ذکر
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یا اللہ یارحمٰن کہہ کر دعا مانگا کرتے تھے۔ یہ سن کر مشرکین مکہ کہنے لگے کہ ہم کو تو محمد ﷺ اکیلے اللہ کی عبادت کرنے اور اسی سے دعا مانگنے کو کہتے ہیں اور خود دو معبودوں کا نام لے دعا مانگتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے جو نام آچکے ہیں دعا کے وقت لئے جاسکتے ہیں۔ ہاں ان مشرکوں نے لفظ اللہ سے لات اور لفظ منان سے منات تراش کر بتوں کے جو نام رکھے ہیں۔ جن بتوں کو یہ اللہ کا شریک جانتے ہیں اس سے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان مشرکوں کو منع کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
[69] عرب میں اللہ کا لفظ بطور اسم ذات کے شروع سے چلا آ رہا تھا۔ یہود کے ہاں اسم الرحمن کا استعمال رائج تھا۔ اسلام نے دونوں الفاظ استعمال کرنے شروع کئے تو مشرکین نے کہنا شروع کیا کہ توحید کامل کے دعویٰ کے ساتھ یہ دو دو اِلٰہ کیسے ؟ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔
[70] شروع شروع میں نماز جہری میں قرآن مجید کی بلند قرات سے مشرکین چڑتے تھے اور طرح طرح کی خرافات بکنے لگتے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ نماز میں جہر بس اس حد تک رکھیں کہ نمازیوں کے کان تک آواز پہنچ جائے اور ان کی تعلیم میں کمی نہ رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ہر زبان میں خدا کا نام لو !
(ف 3) قرآن حکیم تمام بنی آدم کی مشترکہ کتاب ہے ، اس لئے اس میں یہ التزام ہے کہ تمام اختلاف افگن چیزوں کی مخالفت کرے ، اور روح مذہب کے مرکز پر سب کو جمع کر دے ، اور ان تمام تفریقات کو مٹا دے ، جن کی وجہ سے ردائے انسانیت تار تار ہوجاتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ، کہ اللہ کو پکارو ، یا رحمن کو یاد کرو ، سب جائز ہے ، بشرطیکہ خدا کے جمال و جلال کو ملحوظ رکھا جائے یعنی یہ لفظی اختلاف کہ ” اللہ “ تو ہمارا خدا ہے اور رحمن مسلمانوں کا خدا ہے ، ناقابل التفات ہے ، سارے اچھے نام اور تمام اچھی صفتیں اللہ کے ساتھ متصف ہو سکتی ہیں ، تم خدا کو جس نام کے ساتھ چاہو ، یاد کرو ، یہ لفظی…
Read the full tafseer →- 1 10 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا اس کو رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے چاہے پکارو اچھے اچھے سب نام اسی کے لئے خاص ہیں اور اپنی نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھا کیجیے اور نہ اس نماز میں بالکل چپکے چپکے پڑھا کیجیے بلکہ دونوں کے مابین ایک متوسط طریقہ اختیار کر لیجیے۔
نبی کریم ﷺ کی زبان سے یا اللہ یا رحمٰن سن کر کافر کہتے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دو نام پکارا کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی دو معبودوں کا قائل ہے۔
اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ اس کو کسی نام سے پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں اور جب مسمی ایک ہے تو نام خواہ کتنے ہی ہوں شرک تو جب ہوتا جب…
Read the full tafseer →ف 1۔ ان میں شرک سی کوئی علاقہ نہیں کیونکہ مسمی تو ایک ہی ہے، اسماء متعدد ہیں، شرک جب لازم آتا ہے جب مسمی دوسرا ہوتا۔
Read the full tafseer →اللہ کے نام سے اس کو پکارو یا رحمن کے نام سے اس کے سارے ہی نام اچھے ہیں :
128۔ دنیا کے اس عظیم الشان کارخانے کا ذرہ ذرہ ‘ سمندروں کا قطرہ قطرہ درختوں کا پتا پتا اللہ تعالیٰ کی ہستی کا گواہ ہے ، قرآن کریم میں ہے کہ (آیت) ” ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “۔ کیوں فرمایا ؟ اس لئے کہ کوئی چیز بڑی ہو یا چھوٹی ‘ زمین میں ہو یا آسمان میں ‘ خشکی میں ہو یا تری میں ‘ جاندار ہو یا بےجان اس خوبی اور عمدگی کے ساتھ ہے کہ اس سے بہتر ہونا ممکن نہیں ، آپ سے آپ نہیں بن گئی ، ضرور کسی کے بنانے سے بنی ہے ، ہم نے اس بنانے والے کی جستجو کی اور زمین سے لے کر آسمان تک چھان مارا تو کسی کو اس لائق نہ…
Read the full tafseer →Commentary
These are the last verses of Surah Bani Isra'il (Al-'Isra' ). The Surah began with a declaration of the purity and oneness of Allah Ta’ ala, and this is how it is being concluded. The revelation of these verses was based on some events. The first one came to pass on a certain day when the Holy Prophet ﷺ ، during his supplication, said 'Ya Allah' and 'Ya Rahman.' The Mushriks thought that he was calling two Gods. They said, 'he forbids us to call anyone else other than the One while he himself calls two deities.' The answer to this comment was given in the first part of the verse by…
Read the full tafseer →123. This is the answer to another objection of the disbelievers. They said: We have heard the name Allah for the Creator but where from have you brought the name Rahman? This was because the name "Rahman”was not used for Allah and they did not like it.
124. This instruction was given at Makkah. Ibn Abbas relates that when the Prophet (peace be upon him) or his companions offered their prayers, they recited the Quran in a loud voice. At this the disbelievers would raise a hue and cry and often called them names. Therefore, they were enjoined that they should neither say their prayers in such…
Read the full tafseer →