Al-Israa 17:109

Al-Israa · from ayah 109

17:109Sajda

وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَیَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا ۟وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ خُشُوۡعًا ۩‏

اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they fall upon their faces weeping, and the Qur'an increases them in humble submission.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 12 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:109

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجده میں گر پڑ تے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کے دلوں کی عاجزی کو اور بڑھا دیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے، (السجدة) ۴

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ٹھوڑیوں کے بل گریہ و زاری کرتے ہوئے گر جاتے ہیں، اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گر جاتے ہیں، روتے ہیں اور وہ (قرآن) انھیں عاجزی میں زیادہ کردیتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرپڑتے ہیں اور یہ قرآن ان کے خشوع کو اور بڑھا دیتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ گرجاتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے اور اس سے ان کے خشوع (اور عاجزی) میں اور اضافہ ہوجاتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ (قرآن) ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ گرپڑتے ہیں اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے اور یہ (قرآن) اضافہ کرتا ہے ان کے خشوع میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور اس سے ان میں اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And they fall down upon their faces, weeping, and their humility increases when (the Qur'an) is recited to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They fall down on their faces weeping, and it increases humbleness in their hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

They fall down on their faces weeping, and it increases humbleness in their hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they fall down on their chins (faces) weeping and it increases their humility.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They fall down on their faces, weeping, and it increaseth humility in them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they fall upon their faces weeping, and the Qur'an increases them in humble submission.

— Saheeh International

They bow down in prostration and weep and it makes them more humble (before the Lord).

— Muhammad Sarwar

And they fall down on their faces weeping, and it adds to their humility.

— Muhammad Habib Shakir

And they fall down on their chins weeping, and it increaseth them in humility.

— Abdul Majid Daryabadi

They fall down on their faces in tears, and it increases their (earnest) humility.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:109

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 107–109

سماعت قرآن عظیم کے بعد فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں تم مانو یا نہ مانو قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک برحق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آ رہا ہے۔ جو اہل کتاب، صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بےچین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلظ نہیں ہوتا۔ آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 122 صالحین اہل کتاب کے اس رویے کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلا آل عمران آیات 113 تا 115، 199۔ اور المائدہ آیات 82۔ 85۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا تفسیر مظہری میں ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت رونا مستحب ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں نہ جاوے گا وہ شخص جو اللہ کے خوف سے رویا جب تک کہ دوہا ہوا دودھ دوبارہ تھنوں میں واپس نہ لوٹ جائے (یعنی جیسے یہ نہیں ہوسکتا کہ تھنوں سے نکالا ہوا دودھ پھر تھنوں میں واپس ڈال دیا جائے اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ کے خوف سے رونے والا جہنم میں چلا جائے اور ایک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام کردی ایک وہ جو اللہ کے خوف سے روئے دوسرے جو اسلامی سرحد کی حفاظت کے لئے رات کو بیدار رہے (بیہقی و حاکم و صحیحہ) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 107–109

صالحین اہل کتاب کا طرز عمل : قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا (108) وَيَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (109)۔ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ سے یہاں مراد، قرینہ دلیل ہے کہ اچھے اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب میں جس طرح اشرار و مفسدین تھے جو اپنا ایڑی چوٹی کا زور قرآن کی مخالفت میں صرف کررہے تھے اسی طرح ایک گروہ ایسے صالحین کا بھی تھا جو اپنے نبیوں اور صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی روشنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑنے کا دوبارہ ذکر کیا، کیونکہ پہلا سجدہ اللہ کی تعظیم کے لئے اور بطور شکر تھا اور قرآن سن کر جو خشیت و رقت ان پر طاری ہوئی اور اس کی تاثیر و اعجاز سے جس درجہ وہ متأثر ہوئے، اس نے دوبارہ انھیں سجدہ ریز کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

55: یہ سجدہ تلاوت کی آیت ہے، یہ آیت جب بھی عربی زبان میں پڑھی جائے سجدہ کرنا واجب ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا دل میں زبان ہلائے بغیر پڑھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویزیدھم خشوعا (71 : 901) ” اور قرآن کو سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے “۔ جبکہ اس سب قتل وہ نہایت ہی خشوع اور عاجزی سے اس کا استقبال کرچکے تھے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو نہایت ہی گہرے شعوری تاثرات کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ فیوض قرآن سے مسفتید ہونے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیتے ہیں ، جو قرآن مجید کی حقیقت ، اس کی قدر و قیمت اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہیں اور جو لوگ قرآن سے قبل کتب الہیہ کے علوم سے واقف ہوتے ہیں ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، اس لئے کہ حقیقی علم وہی ہے جو کتب سماوی نے دیا ہے اور جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یہ منظر یہاں ایسے حالات میں پیش کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی قرآن کو سن کر رقت طاری ہوجاتی ہے سجدہ کرتے ہیں تو اور عاجزی بڑھتی ہے۔ اذقان (ٹھوڑیوں) کے لفظ میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ سجود میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں گویا ٹھوڑیاں بھی زمین سے ملا دیتے ہیں، یا محض سجود علی الوجہ سے کنایہ ہو۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 109 وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا اب وہ دو آخری آیات آرہی ہیں جن کے متعلق آغاز میں بتایا گیا تھا کہ وہ معرفت خداوندی اور توحید ربانی کے عظیم خزانے ہیں۔ اس کے بعد سورة الکہف کے آخر میں بھی دو آیات آئیں گی جو ان آیات کی طرح بہت عظیم ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

127 اہل کتاب میں بھی کچھ منصف مزاج اور اہل علم موجود تھے جن میں بعض ایمان بھی لے آئے قرآن نے ان کا ذکر خیر کئی مقامات پر کیا ہے مثلاً سورة آل عمران کی آیت نمبر 113 تا 115 میں اور 199 میں نیز سورة مائدہ کی آیت نمبر 82 تا 85 میں۔ علاوہ ازیں مشرکین میں بھی معدودے چند ایسے افراد بعثت نبوی کے دور میں تھے جو شرک سے سخت بیزار تھے۔ علاوہ ازیں شراب اور دوسری معاشرتی برائیوں سے بھی متنفر رہتے تھے اور انبیاء سابقین کی خبروں کی وجہ سے نبی آخرالزمان کے منتظر تھے۔ مثلاً زید بن عمرو بن نفیل، ورقہ بن نوفل، سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ، سلمان فارسی اور ابو ذرغفاری وغیرہ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ ایسے منصف مزاج لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

155۔ خشیت حق سے گریہ طاری ہوجانا بہت سے لوگوں کے لئے ایک امر طبعی ہے اس کا محل فضیلت میں بیان ہونا بجائے خود ایک دلیل اس کے محمود ومطلوب ہونے پر ہے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نماز میں خوف خدا سے گریہ طاری ہونے سے نماز ٹوٹتی نہیں۔ فیہ الدلالۃ علی ان البکاء فی الصلوۃ من خوف اللہ لایقطع الصلوۃ لان اللہ تعالیٰ قدمدحھم بلابکاء فی السجود ولم یفرق بین سجود الصلاۃ و سجود التلاوۃ وسجدۃ الشکر (جصاص) حضرت عمر ؓ ایک بار صبح کی نماز میں سورة یوسف پڑھ رہے تھے۔ جب آیت کریمہ انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ پر پہنچے تو شدت گریہ سے سسکیاں لینے لگے۔ یہاں تک کہ آخری صف میں آواز پہنچی۔ نمازیوں میں صحابہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–111

آیت نمبر 101 تا 111 ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ : اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل گرنے کا دوبارہ ذکر اس لئے کیا کہ سجدہ کرنے کے سبب میں اختلاف تھا ‘ پہلا تو سجدۂ شکر تھا کہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور دوسرا سجدہ اس تاثر کا نتیجہ تھا جو قرآنی ہدایات پڑھ کر ان کے دلوں میں پید ہوا تھا۔ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا اور (قرآنی برکات کا جو نزول ان کے دلوں پر ہوتا ہے اس کی وجہ سے) قرآن سننا ان کے اندر خشوع ‘ علم اور یقین بڑھنے کا موجب ہوتا ہے۔ مسئلہ قرآن سننے کے وقت رونا مستحب ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 107–109

(107۔ 108۔ 109) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ تم اس قرآن کریم پر خواہ ایمان لاؤ یا نہ ایمان لاؤ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ چناچہ جن حضرات کو قرآن کے نزول سے قبل رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کا بذریعہ توریت علم دیا گیا تھا یہ قرآن کریم جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اولاد اور شریک سے پاک ہے اور ہمارے پروردگار نے جو رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا اور ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں وہ سجدے میں روتے ہوئے گرتے ہیں اور اس قرآن کریم کا سننا ان کا خشوع اور تواضع اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 107–109

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا : یعنی تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت نہ بڑھتی ہے اور نہ گھٹتی ہے۔ یہ تہدید و انکار کے طور پر ان لوگوں سے خطاب ہے جو قرآن کے واضح دلائل کی موجودگی میں معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ rnۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ : یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، تم سے اچھے اور نیک اہل علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے واقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، جیسے ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی، وہ آپ کو رسول مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی بشارت تورات و انجیل میں دی گئی ہے۔ يُتْلٰى…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 109 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ویخرون للاذقان یبکون یہ ان کی صفت کے بیان میں مبالغہ اور ان کی مدح ہے۔ اور ہر وہ آدمی جس کی پہچان علم کے ساتھ ہے اور اس نے اس سے کچھ حاصل کیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس مرتبہ پر فائز ہو، اور وہ قرآن کریم کے سماع کے وقت خشوع، تواضع اور عاجزی کا اظہار کرے۔ اور مسند دارمی ابو محمد میں تیمی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جسے علم عطا کیا گیا جس نے اسے نہ رلایا تو زیادہ لائق اور مناسب ہے کہ اسے علم عطا نہ ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی صفت یہ بیان فرمائی ہے، پھر یہی آیت تلاوت کی۔ اسے علامہ طبری نے بھی ذکر کیا ہے۔ اور الاذقان،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 106–109

1:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ میں فرقنہ کو شد کے ساتھ پڑھتے تھے فرمایا قرآن نازل کیا گیا آسمان دنیا پر رمضان کی لیلۃ القدر میں ایک ہی مرتبہ (یعنی اکٹھا) اور مشرکین جب کوئی نیا سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں آیات فرماتے تھے پس اللہ نے قرآن مجید کو جدا جدا کرکے اتارا بیس سال میں۔ قرآن کریم کا نزول لوح محفوظ سے یکبارگی ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم محمد بن نصر اور ابن انباری نے مصاحف میں ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن یکبارگی نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوح…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَخِرُّوْنَ : اور وہ گرپڑتے ہیں ] [لِلْاَذْقَان : ٹھوڑیوں پر ] [يَبْكُوْنَ : روتے ہوئے ] [وَيَزِيْدُهُمْ : اور وہ زیادہ کرتا ہے ان کو ] [خُشُوْعًا : بلحاظ فروتنی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 107–109

اس کے بعد فرمایا (قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْ لَاتُؤْمِنُوْا) (الآیۃ) اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، ایمان کا فائدہ تمہیں پہنچے گا اور انکار کا نقصان بھی تمہیں پہنچے گا اور تمہارے ایمان نہ لانے سے میرا کوئی ضرر نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ قرآن کا بقاء اور اس کا دنیا جہان میں آگے بڑھنا اور پھیلنا کوئی تم پر موقوف نہیں، جن لوگوں کو نزول قرآن سے پہلے علم دے دیا گیا تھا انہوں نے اسلام قبول کرلیا جب قرآن مجید ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے وہ وعدہ خلافی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–109

ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔ جس طرح وہ متکبر اور جبار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

93:۔ مزید وصف یعنی ” یبکون و یزیدھم خشوعا “ بیان کرنے کے لیے بعد عہد کی وجہ سے وصف اول کا اعادہ کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–109

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا تذکرہ فرمایا ، جس طرح فرعون کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے نشانیاں طلب کرتی تھی ، اسی طرح مشرکین حضور ﷺ سے اپنیمن مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، دونوں اقوام محض ضد اور عناد کی بنا پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتی تھیں ، ورنہ حقیقت میں وہ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے تھے ، فرعون نے بنی اسرائیل کے زمین سے قدم اکھاڑ کر انہیں ذلیل کرنا چاہا مگر اللہ نے اس کو مع اس کے لاؤلشکر کے غرق کردیا پھر بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ تم اسی زمین میں رہو ، یہاں تک کہ جب قیامت کے وعدے کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا 109؀۞ بكي بَكَى يَبْكِي بُكًا وبُكَاءً ، فالبکاء بالمدّ : سيلان الدمع عن حزن وعویل، يقال إذا کان الصوت أغلب کالرّغاء والثغاء وسائر هذه الأبنية الموضوعة للصوت، وبالقصر يقال إذا کان الحزن أغلب، وجمع البَاكِي بَاكُون وبُكِيّ ، قال اللہ تعالی: خَرُّوا سُجَّداً وَبُكِيًّا [ مریم/ 58] ( ب ک ی ) بکی یبکی کا مصدر بکی وبکاء یعنی ممدود اور مقصور دونوں طرح آتا ہے اور اس کے معنی غم کے ساتھ آنسو بہانے اور رونے کے ہیں اگر آواز غالب ہو تو اسے بکاء ( ممدود ) کہا جاتا ہے جیسے ؎ رغاء وثغاء اور اس نوع کے دیگر اوزاں جو صوت کے لئے وضع کئے گئے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 107–109

ان شبہات کا جواب دے کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے اور شان بےنیازی بھی ظاہر فرمائی جاتی ہے قل آمنوابہ اولا تؤمنوا الخ کہ آپ ان سے کہہ دیں تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ تمہارے ایمان لانے سے اس کی شان نہیں بڑھ جانے کی اور ایمان نہ لانے سے اس کی خوبی میں کوئی فرق نہ آئے گا تم جاہل، بےعقل ہو۔ ہاں جو اہل علم ہیں جن کو پہلے سے علم دیا گیا (یعنی کتاب جیسا کہ زید بن عمرو بن نفیل اور سلمان و ابوذر وغیرہ جو ؓ انبیائِ سابقین کی خبروں کی وجہ سے منتظر تھے کہ کب اخیر نبی آتا ہے یا یہ مراد کہ جن کی روحانیت میں ازل سے علم و ادراک ودیعت رکھا گیا ہے) وہ اس کی بےانتہا خوبیاں دیکھ کر اس پر ایمان ہی لاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 107–109

قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖ اَوْلاَ تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً ۔ وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 107۔ 108۔ 109) (ان سے کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لائو یا نہ لائو، بیشک وہ لوگ جنھیں اس کے پہلے سے علم دیا گیا ہے، جب یہ قرآن ان کو سنایا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرجاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا پروردگار، بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھا۔ اور وہ روتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 107–109

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے اور اس کے احکام، حقائق اور اس کے بیان کردہ واقعات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر منکر اسے کتاب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو انھیں چھوڑدیں جہاں تک حقیقی اہل علم کا تعلق ہے وہ تو ہر وقت اس کے سامنے سر تسلیم خم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو قرآن مجید عطا فرماکر یہ بات واضح کردی کہ آپ کا کام لوگوں تک حق پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ جو حق مان جائیں انہیں خوشخبری پہنچائیں اور جو انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ اسی کے پیش نظر ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں کھلے الفاظ میں اعلان فرمائیں کہ لوگو ! تمہارے پاس حق پہنچ چکا ہے جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

109: وَیخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ (وہ ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں) الخرور للذقن کا معنی چہرے کے بل گرنا ہے۔ ٹھوڑی کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سجدہ میں زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب چہرے کا حصہ ٹھوڑی ہے۔ کہا جاتا ہے خر علی وجھہ وعلی ذقنہ و خرّ لوجھہ ولذقنہٖ ۔ علی ؔ کا معنی تو ظاہر ہے۔ رہا لام کا معنی تو گویا اس نے اپنی ٹھوڑی اور چہرے کو خرور کیلئے مقرر کردیا اور خاص کردیا کیونکہ تخصیص کو ظاہر کرتی ہے۔ یخرونؔ لِلْاَذْ قَانِ کو دوبارہ لائے۔ کیونکہ دونوں حالتیں مختلف ہیں۔ اور وہ دونوں حالتیں یہ ہیں انکا گرنا اس حالت میں کہ وہ سجدہ ریز ہیں۔ نمبر 2۔ انکا گرنا اس حالت میں کہ وہ رونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

109۔” ویخرون للادفان یبکون “ وہ چہروں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں ۔ بکاء مستحب ہے قرأۃ قرآن کے وقت ۔ ” ویزیدھم “ قرآن کے نزول کے وقت ” خشوعا ً “ اپنے رب سے عاجزی کرتے ہوئے ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ” اذا تتلی علیھم آیات الرحمن خروا سجدا ً وب کیا “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویا وہ دوخ میں داخل نہیں ہوگا ۔ یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں لوٹ جائے اور اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں مسلمانوں کے نتھنوں میں جمع نہیں ہوگا ۔ بہزبن حکیم کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 107–109

107۔ 108:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن شریف پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے اس لیے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام وغیرہ لوگ اللہ کے رسول صلعم کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں روتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اگر یہ مشرکین مکہ قرآن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 106–109

(آیت نمبر (106 یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی ‘ حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے (لتقراہ علی الناس علی مکث) ” تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں “ تاکہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں۔ (و نزلنہ تنزیلا ) ” اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ “ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے ‘ ٹکڑوں میں تئیس (23) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ (ولا یا تونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا) (الفرقان (33/25:” اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نماز کی حالت میں گریہ کا بیان قول باری ہے (ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعاً اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اسے سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے) اسی طرح یہ قول باری ہے (خروا سجداً ویکیاً وہ روتے ہوئے سجدے میں گرپڑے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ نماز کے اندر خشیت الٰہی کی بنا پر گریہ کرنے سے نماز منقطع نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور لوگوں کی اس بنا پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ سجدے میں جا کر روتے ہیں۔ اللہ نے سجدئہ صلوۃ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کے درمیان اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ سفیان بن عینیہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن محمد بن سعد نے، انہیں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

200۔ عظمت قرآن کیلئے رونا ایک عظیم الشان سعادت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں روتے ہوئے “۔ جو کہ علامت ہے انتہائی عاجزی اور انتہائی تاثر کی۔ اسی لئے اس کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ یعنی تلاوت قرآن پر رونے کی۔ چناچہ ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” تم لوگ قرآن پڑھتے ہوئے رویا کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو “۔” اتلوا القرآن وابکوافان لم تبکوا فتباکوا “ (ابن ماجہ، تاب الاقاعۃ، باب فی حسن الصوت بالقرآن) سو رونا اور عاجزی کرنا بندے کی شان ہے اور اس کی یہی شان عبدیت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ وباللہ التوفیق اور سنن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–111

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–111

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اور زیادہ عاجزی و تواضح کرتے ہیں اور قرآن اور آنحضرت پر ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس تکرار سے مقصود دو مختلف حالتوں کو ظاہر کرنا ہے یعنی سجدہ ریز ہونا اور قرآن کو سن کر روانا یا یہ تکرار فعل کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : نماز میں سجدہ دوبارہ ہوتا ہے اس واسطے دوبارہ فرمایا پہلی بار قرآن کی اعجازی تاثیر کے نتیجے میں اور دوسری بار خشوع و خضوع کے لئے موضح واضح رہے کہ احادیث قرآن کی تلاوت کے وقت رونے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً یہ کہ رونے والی آنکھ دوزخ میں نہیں جائے گی۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:109) یبکون۔ مضارع جمع مذکر غائب یخرون سے حال ہے۔ روتے ہوئے۔ یزیدہم۔ یزید مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل القرآن کی طرف راجع ہیخشوعا۔ مصدر منصوب خشع یخشع سے فروتنی عاجزی۔ اور یہ قرآن ان کا خشوع اور بڑھا دیتا ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–109

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109 تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 109 انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 107–109

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس لئے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ، اللہ کے رسول کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 108–109

[68] یعنی قرآن کی پیشین گوئی اگلی آسمانی کتابوں میں موجود تھی اور اہل کتاب قرآن اور پیغمبر آخرالزماں کے منتظر تھے۔ تو جو ان میں حق شناس تھے وہ اس کلام کو سن کر سمجھ گئے کہ یہ اسی وعدے کا ایفا ہے اور سجدہ شکر بجا لائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی قرآن حکیم کی خوبیاں مسلم ہیں ، وہ لوگ جو صاحب علم ہیں ، جنہیں اللہ کے کلام سے ذوق ہے ، وہ جب اس کو سنتے ہیں ، تو سر دھنتے ہیں ، اور اظہار تشکر کے لئے بارگاہ الہی میں سربسجود ہوجاتے ہیں ، انہیں خوب معلوم ہے کہ یہ کلام انسانی دماغ کا اختراع نہیں ، تم اگر اس نعمت سے محروم ہو ، اور اس کو نہیں مانتے ، تو اس کی وجہ سے قرآن کے فضائل میں کمی نہیں ہوتی ، کیونکہ ذوق سلیم رکھنے والے لوگوں میں اس کو مقبولیت تامہ حاصل ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 109 اور وہ اپنی ٹھوڑیوں اور مونھوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور قرآن کریم کا سننا ان میں عاجزی اور خشوع کو بڑھا دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے اس واسطے دو بار فرمایا پہلی بار اس کلام کی تاثیر سے تعجب آتا ہے اور دوسری بار عاجزی ہے۔ 21

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 10۔ یہ سجدہ میں گرنا یا بطور شکر کے ہے کہ وعدہ مندرجہ کتب سابقہ پورار ہوا، یا تعظیم و اجلال کے لئے کہ قرآن سن کر ہیبت طاری ہوتی ہے یا مجازا کنایہ ہی کمال انقیاد و خشوع سے۔ اور سجدہ چہرے کے بل ہوتا ہے مگر ٹھوڑی کے بل کہنا مبالغہ کے لئے ہے کہ اپنے چہرے کو زمین اور خاک سے اس قدر لگائے دیتے ہیں کہ ٹھوڑی لگنے کے قریب ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ٹھوڑیوں کے بل گریہ وزاری کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں : 127۔ اہل اللہ کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ وہ جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو ان کے قلوب وارواح پر برکات قرآنی کا اس طرح نزول ہوتا ہے اور ان پر رحمت کے انوار برستے ہیں تو ان پر وجد وکیف کا عالم طاری ہوجاتا ہے اور دل میں عجیب طرح کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور بےساختہ ان کا سربارگاہ رب العزت میں جھک جاتا ہے اور آنکھوں سے سیل رواں جاری ہوجاتا ہے اور جوں جوں قرآن کو پڑھتے اور سنتے ہیں تو ان کی اس کیفیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اہل کتاب کے نیک کردار اور نیک سیرت لوگوں کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

About the last sentence: يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (And they fall down on their faces weeping and it increases them in the humbleness of heart -109), it appears in Tafsir Mazhari that being in tears while reciting the Qur’ an stands as a highly recommended and reward worthy act (mustahabb). Sayyidna Abu Hurairah ؓ narrates that the Holy Prophet ﷺ said, 'a person who wept in fear of Allah shall not go to Hell until milk is returned to the udder after having been milked. (It means, as it is not possible to put milk once milked back into the udder, very similarly, it is also not possible…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

121. That is, when they listen to the Quran, they at once recognize that its bearer is the promised Prophet mentioned in the Books of the former Prophets. 122. This attitude of the righteous people of the Book has been mentioned at several places in the Quran, e.g., (Surah Aal-Imran, Ayats 113-114, 199), (Surah Al-Maidah, Ayats: 83-84).

Read the full tafseer →