Explained with ayahs 107–109
سماعت قرآن عظیم کے بعد
فرمان ہے کہ تمہارے ایمان پر صداقت قرآن موقوف نہیں تم مانو یا نہ مانو قرآن فی نفسہ کلام اللہ اور بیشک برحق ہے۔ اس کا ذکر تو ہمیشہ سے قدیم کتابوں میں چلا آ رہا ہے۔ جو اہل کتاب، صالح اور عامل کتاب اللہ ہیں، جنہوں نے اگلی کتابوں میں کوئی تحریف و تبدیلی نہیں کی وہ تو اس قرآن کو سنتے ہی بےچین ہو کر شکریہ کا سجدہ کرتے ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری موجودگی میں اس رسول کو بھیجا اور اس کلام کو نازل فرمایا۔ اپنے رب کی قدرت کاملہ پر اس کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، غلظ نہیں ہوتا۔ آج وہ وعدہ پورا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اپنے رب کی تسبیح بیان…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 121
یعنی قرآن کو سن کر وہ فورا سمجھ جاتے ہیں کہ جس نبی کے آنے کا وعدہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے صحیفوں میں کیا گیا تھا وہ آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
صالحین اہل کتاب کا طرز عمل : قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا (108) وَيَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (109)۔
الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ سے یہاں مراد، قرینہ دلیل ہے کہ اچھے اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب میں جس طرح اشرار و مفسدین تھے جو اپنا ایڑی چوٹی کا زور قرآن کی مخالفت میں صرف کررہے تھے اسی طرح ایک گروہ ایسے صالحین کا بھی تھا جو اپنے نبیوں اور صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی روشنی…
Read the full tafseer →18۔ 1 مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ جو ہر چیز سے ناواقف ہیں اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو آپ پروانہ کریں اس لیے کہ جو اہل علم ہیں اور وحی و رسالت کی حقیقت سے آشنا ہیں وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں بلکہ قرآن سن کر وہ بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوگئے ہیں اور اس کی پاکیزگی بیان کرتے اور رب کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →54: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں تورات اور انجیل کا علم دیا گیا تھا۔ چونکہ ان کتابوں میں نبی آخر الزماں ﷺ کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اس لیے ان کے مخلص لوگ قرآن کریم کو سن کر یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آخر زمانے میں جس کتاب کے نازل کرنے اور جس پیغمبر کو بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔
یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
4 یعنی مانو یا نہ مانو، قرآن کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی تصدیق وہ منصف مزاج اہل علم کر رہے ہیں جنہیں کتب سابقہ کی بشارات سے آگاہی ہے، وہ اس کلام کو سن کر ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں کہ سبحان اللہ کیا عجیب و غریب کلام ہے۔ بیشک خدا کا وعدہ پورا ہونا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی تورات کتاب استثناء میں کیا گیا تھا کہ " (اے بنی اسرائیل) میں تمہارے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے ایک نبی اٹھاؤں گا جس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا، بلاشبہ وہ یہ ہی کلام ہے جو محمد ﷺ کے دہن مبارک میں ڈالا گیا۔ جب اہل علم کو قرآن کی تصدیق سے چارہ نہیں رہا، تب انکار کرنا جاہل کا کام ہے۔
Read the full tafseer →آیت 108 وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا
جب قرآن کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ علمائے یہود میں لازماً کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس طرح کے خیالات کے حامل ہوں گے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہ کی نبوت کے بارے میں اطلاعات تو یہود مدینہ کو ملتی رہتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کی کچھ آیات بھی ان تک ضرور پہنچ چکی ہوں گی۔ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ان کے بعض اہل علم نہ صرف قرآن کو پہچان کر اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوں بلکہ ان کی زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ بھی آگئے ہوں کہ اللہ نے جو آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا وہ تو آخر پورا ہونا ہی تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
126 منصف مزاج اہل کتاب کا قرآن اور نبی کی تصدیق کرنا :۔ اے قریش مکہ ! تم قرآن کو منزل من اللہ تسلیم کرو یا نہ کرو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سابقہ امتوں میں سے بھی جو لوگ اہل علم اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن کے انداز بیان سے ہی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ واقعی کلام الٰہی ہے کیونکہ اس میں سابقہ آسمانی کتابوں کے طرز بیان سے بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ لہذا اس کی آیات سنتے ہیں تو ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور انھیں یہ یقین ہوجاتا ہے اور پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تو وہی نبی ہے جس کے متعلق تورات و انجیل میں بشارتیں مذکور ہیں اور یہ نبی اللہ کا وہی وعدہ ہے جو اب پورا ہو کے رہا۔
Read the full tafseer →154۔ (سوجس کتاب کے نازل کرنے کا وعدہ اس نے جس نبی پر کیا تھا، اس کو پورا کردیا) (آیت) ” سبحن ربنا “۔ یعنی ہر عیب سے پاک ہے۔ وعدہ خلافی کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ (آیت) ” یقولون سبحن ربنا “۔ قرآن مجید نے اس تسبیح سجودی کو محل مدح میں بیان کیا ہے اور یہیں سے فقہاء نے یہ استدلال کرلیا ہے کہ سجدہ میں ذکر مسنون تسبیح ہی کا ہے۔ فھم بھذا القول عند السجود فدل علی ان المسنون فی السجود من الذکر ھو التسبیح (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
آیت نمبر 101 تا 111
ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…
Read the full tafseer →ۙوَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا : اور کہتے ہیں ہمارا رب (وعدہ خلافی سے)
پاک ہے ‘ ہمارے رب کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔ یعنی کتب سابقہ میں اللہ نے جو وعدہ کیا تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجنے اور قرآن نازل کرنے کی بشارت دی تھی ‘ لامحالہ اس کو پورا ہونا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
(107۔ 108۔ 109) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ تم اس قرآن کریم پر خواہ ایمان لاؤ یا نہ ایمان لاؤ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے مجھے کچھ پرواہ نہیں۔
چناچہ جن حضرات کو قرآن کے نزول سے قبل رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کا بذریعہ توریت علم دیا گیا تھا یہ قرآن کریم جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اولاد اور شریک سے پاک ہے اور ہمارے پروردگار نے جو رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا اور ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں وہ سجدے میں روتے ہوئے گرتے ہیں اور اس قرآن کریم کا سننا ان کا خشوع اور تواضع اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا : یعنی تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت نہ بڑھتی ہے اور نہ گھٹتی ہے۔ یہ تہدید و انکار کے طور پر ان لوگوں سے خطاب ہے جو قرآن کے واضح دلائل کی موجودگی میں معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ rnۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ : یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، تم سے اچھے اور نیک اہل علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے واقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، جیسے ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی، وہ آپ کو رسول مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی بشارت تورات و انجیل میں دی گئی ہے۔
يُتْلٰى…
Read the full tafseer →آیت نمبر 108
یہ سجود میں تسبیح کے جواز پر دلیل ہے۔ اور صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے یہ کہتے تھے : سبحانک اللھم (ربنا) وبحمدک اللھم اغفرلی (تیری ذات پاک ہے اے اللہ (اے ہمارے رب) اور حمد تیرے ہی لئے ہے اے اللہ ! میری مغفرت فرما) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
1:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ “ میں فرقنہ کو شد کے ساتھ پڑھتے تھے فرمایا قرآن نازل کیا گیا آسمان دنیا پر رمضان کی لیلۃ القدر میں ایک ہی مرتبہ (یعنی اکٹھا) اور مشرکین جب کوئی نیا سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں آیات فرماتے تھے پس اللہ نے قرآن مجید کو جدا جدا کرکے اتارا بیس سال میں۔
قرآن کریم کا نزول لوح محفوظ سے یکبارگی ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم محمد بن نصر اور ابن انباری نے مصاحف میں ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن یکبارگی نازل ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوح…
Read the full tafseer →[وَّيَـقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [سُبْحٰنَ رَبِنَآ : پاکیزگی ہمارے رب کی ہے ] [ان : بیشک ] [كَان : ہے ] [ وَعْدُ رَبِنَا : ہمارے رب کا وعدہ ] [لَمَفْعُوْلًا : لازماً پورا کیا جانے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
اس کے بعد فرمایا (قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْ لَاتُؤْمِنُوْا) (الآیۃ) اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، ایمان کا فائدہ تمہیں پہنچے گا اور انکار کا نقصان بھی تمہیں پہنچے گا اور تمہارے ایمان نہ لانے سے میرا کوئی ضرر نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ قرآن کا بقاء اور اس کا دنیا جہان میں آگے بڑھنا اور پھیلنا کوئی تم پر موقوف نہیں، جن لوگوں کو نزول قرآن سے پہلے علم دے دیا گیا تھا انہوں نے اسلام قبول کرلیا جب قرآن مجید ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے وہ وعدہ خلافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔
جس طرح وہ متکبر اور جبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
91:۔ آپ مشرکین سے کہہ دیں قرآن سراپا حق اور اللہ کی سچی کتاب ہے جو تمام احکام شریعت کو دلائل سے واضح اور ثابت کر رہی ہے۔ حق واضح ہوچکا ہے اور مسئلہ توحید مدلل ہوچکا ہے اب تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی۔ مومنین اہل کتاب تو اس قرآن اور اس کے تمام مضامین پر ایمان لاچکے ہیں۔
92:۔ یہ توحید پر تیسری نقلی دلیل ہے۔ از علماء اہل کتاب۔ ” الذین اوتوا العلم “ سے یہود و نصاری کے وہ علماء مراد ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے وھ مومنوا اھل الکتاب (قرطبی ج 10 ص 340) یعنی انکا حال تو یہ ہے کہ جب وہ قرآن کی آیتیں سنتے ہیں تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ خدایا تو نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا تذکرہ فرمایا ، جس طرح فرعون کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے نشانیاں طلب کرتی تھی ، اسی طرح مشرکین حضور ﷺ سے اپنیمن مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، دونوں اقوام محض ضد اور عناد کی بنا پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتی تھیں ، ورنہ حقیقت میں وہ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے تھے ، فرعون نے بنی اسرائیل کے زمین سے قدم اکھاڑ کر انہیں ذلیل کرنا چاہا مگر اللہ نے اس کو مع اس کے لاؤلشکر کے غرق کردیا پھر بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ تم اسی زمین میں رہو ، یہاں تک کہ جب قیامت کے وعدے کا…
Read the full tafseer →وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا 108
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة .
( س ب ح ) السبح
۔ سبحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
ان شبہات کا جواب دے کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے اور شان بےنیازی بھی ظاہر فرمائی جاتی ہے قل آمنوابہ اولا تؤمنوا الخ کہ آپ ان سے کہہ دیں تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ تمہارے ایمان لانے سے اس کی شان نہیں بڑھ جانے کی اور ایمان نہ لانے سے اس کی خوبی میں کوئی فرق نہ آئے گا تم جاہل، بےعقل ہو۔ ہاں جو اہل علم ہیں جن کو پہلے سے علم دیا گیا (یعنی کتاب جیسا کہ زید بن عمرو بن نفیل اور سلمان و ابوذر وغیرہ جو ؓ انبیائِ سابقین کی خبروں کی وجہ سے منتظر تھے کہ کب اخیر نبی آتا ہے یا یہ مراد کہ جن کی روحانیت میں ازل سے علم و ادراک ودیعت رکھا گیا ہے) وہ اس کی بےانتہا خوبیاں دیکھ کر اس پر ایمان ہی لاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖ اَوْلاَ تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً ۔ وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 107۔ 108۔ 109)
(ان سے کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لائو یا نہ لائو، بیشک وہ لوگ جنھیں اس کے پہلے سے علم دیا گیا ہے، جب یہ قرآن ان کو سنایا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرجاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا پروردگار، بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھا۔ اور وہ روتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے اور اس کے احکام، حقائق اور اس کے بیان کردہ واقعات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر منکر اسے کتاب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو انھیں چھوڑدیں جہاں تک حقیقی اہل علم کا تعلق ہے وہ تو ہر وقت اس کے سامنے سر تسلیم خم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو قرآن مجید عطا فرماکر یہ بات واضح کردی کہ آپ کا کام لوگوں تک حق پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ جو حق مان جائیں انہیں خوشخبری پہنچائیں اور جو انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ اسی کے پیش نظر ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں کھلے الفاظ میں اعلان فرمائیں کہ لوگو ! تمہارے پاس حق پہنچ چکا ہے جس…
Read the full tafseer →مصدقین کے اقوال :
108: وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا (اور وہ کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے) اسلئے کہ دوسرے مقام پر فرمایا اٰمنوا بہ اولا تؤمنوا یعنی ان سے تم منہ موڑ لو۔ بیشک اگر وہ ایمان نہ لائیں اور قرآن کی تصدیق نہ کریں پس بیشک ان میں سے بہتر وہ علماء ہیں جنہوں نے کتاب کو پڑھا اور اس پر ایمان لائے۔ اور اس کی تصدیق کی جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اللہ کے حٰکم کی تعظیم کیلئے اسکی تسبیح کرتے ہیں اور اس وعدے کے پورا ہونے پر جو پچھلی کتابوں میں بعثت محمد ﷺ کے متعلق کیا گیا اور قرآن کے ان…
Read the full tafseer →108۔” ویقولون۔۔ تا۔۔ لمفعولا “ یعنی یہ واقعہ ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
107۔ 108:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن شریف پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے اس لیے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام وغیرہ لوگ اللہ کے رسول صلعم کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں روتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اگر یہ مشرکین مکہ قرآن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
(آیت نمبر (106
یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی ‘ حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے (لتقراہ علی الناس علی مکث) ” تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں “ تاکہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں۔ (و نزلنہ تنزیلا ) ” اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔ “ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے ‘ ٹکڑوں میں تئیس (23) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ (ولا یا تونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا) (الفرقان (33/25:” اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو…
Read the full tafseer →سجدے میں کیا پڑھا جائے
قول باری ہے (ویقولون سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولاً اور پکار اٹھتے ہیں ” پاک ہے ہمارا رب، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔ “) سجدے میں یہ فقرہ کہنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ا ن کی تعریف کی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ سجدے کی حالت میں مسنون ذکر تسبیح ہے۔ موسیٰ بن ایوب نے اپنے چچا سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ جب آیت (فسبح باسم ربک العظیم اپنے رب عظیم کی تسبیح کر) نازل ہوئی تو حضو ر ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں کہا کرو، جب آیت (سبح اسم ربک الاعلی۔ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح کرو) تو حضور ﷺ نے فرمایا :” اسے اپنے سجدے میں کہا کرو۔ “) ابن ابی لیلیٰ نے…
Read the full tafseer →199۔ قرآن حکیم کا نزول عہد خداوندی کا ایفاء :۔
سو اہل علم نزول قرآن سے خوش ہو کر کہتے ہیں کہ ” بیشک ہمارے رب کے وعدے نے پورا ہوکررہنا تھا “ جو اس نے اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں فرمایا تھا کہ وہ نبی آخرالزمان کو مبعوث فرمائے گا اور اس پر اپنا آخری کلام نازل فرمائے گا۔ (المحاسن، المراغی، المعارف وغیرہ) سو یہ پیغمبر وہی پیغمبر ہیں اور یہ کتاب وہی کتاب ہے جس کے بارے میں ایسی پیشینگوئیاں پہلی آسمانی کتابوں میں موجود و مذکور تھیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے نے بہرحال پورا ہونا تھا سو وہ پورا ہوگیا اور جس آخری اور کامل کتاب نے نازل ہونا تھا وہ نازل ہوگئی۔ جس کی ہدایت و راہنمائی قیامت تک کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی قرآن کو سن کر وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہہ یہ وہی نبی آخر الزامات اور وہی آخری کتاب ہے جس کے بھتیجنے اور توڑنے کا پچھلی کتابوں میں وعدہ فرمایا تھا۔ (کذا فی شکانی)
Read the full tafseer →(17:108) ان کان۔ میں ان مخففہ ہے ان سے۔
لمفعولا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔ ان کان وعد ربنا لمفعولا۔ لام فارقہ ہے۔ بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109
تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 109
انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس لئے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ، اللہ کے رسول کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
[68] یعنی قرآن کی پیشین گوئی اگلی آسمانی کتابوں میں موجود تھی اور اہل کتاب قرآن اور پیغمبر آخرالزماں کے منتظر تھے۔ تو جو ان میں حق شناس تھے وہ اس کلام کو سن کر سمجھ گئے کہ یہ اسی وعدے کا ایفا ہے اور سجدہ شکر بجا لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(ف 1) قرآن حکیم بتدریج نازل ہوا ہے ، واقعات کے مطابق اترا ہے تاکہ سینوں میں محفوظ رہے ، اور لوگ اپنی ضروریات کا حل اس میں دیکھ کر اس کی صداقت کے قائل ہوں ، کیونکہ کلام جو باموقع اور برمحل ہو زیادہ موثر اور زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →- 108 اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک اور بےعیب ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے۔ یعنی اگر تم اس پر ایمان نہ لائو گے تو میرا کیا نقصان ہوگا آخر اہل کتاب میں منصف سمجھدار اور اہل علم ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سن کر منہ کے بل سجدے میں گرتے اور یوں کہتے ہیں تو نے جو کتب سابقہ میں آخری کلام اور آخری کتاب کا وعدہ کیا تھا وہ پروا ہو کر رہا اور یہ قرآن کریم نازل ہوا۔
حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ فرماتے ہیں یعنی اگلے پہچاننے والے اس کو پہچانتے ہیں اور وہ وعدہ جو تھا کہ آخر زمانے میں ایک کلام اترنے کا ٹھیک پاتے ہیں۔ 21
Read the full tafseer →ف 9۔ سو جس کتاب کا جس نبی پر نازل کرنے کا وعدہ کتب سابقہ میں کیا تھا اس کو پورا فرمایا۔
Read the full tafseer →سجدہ میں گرنے والوں کی زبان کا ورد کیا ہے ؟ اللہ کی پاکیزگی اور ایفائے عہد کا تذکرہ :
126۔ ایسے لوگ جب سربسجود ہوتے ہیں تو ان کے دلوں اور دماغوں کی آواز اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ ہمارے پروردگار کا وعدہ پوراہو کر رہتا ہے اور ہمارے رب کی ہر بات جھوٹ کی آمیزش سے بالکل پاک ہے ۔ (سبحان ربنا) یعنی ہمارا رب ہر عیب سے پاک ہے ۔ وعدہ خلافی کا اس کے ہاں گزر نہیں ، سو جس کتاب کے نازل کرنے کا وعدہ اس نے جس نبی سے کیا تھا اس کو پورا کردیا ۔ اسلام میں عہد کی پابندی کو لازم اور ضروری قرار دیا گیا اور کہا کہ کسی سے جو وعدہ یا کسی قسم کا قول وقرار کرلیا جائے اس کو پورا کرنا ایک راست باز کا شعار ہے خود اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
Commentary
The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
120. This refers to those people of the Book who were well versed in the Scriptures and could judge them from their themes and wording.
Read the full tafseer →