فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ ۟ؕفَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ
اس کا مرجع ہاویہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
His refuge will be an abyss.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz
فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ ۟ؕفَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ
اس کا مرجع ہاویہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
His refuge will be an abyss.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a
اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی
اس کا مرجع ہاویہ ہے
اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے
تو اس کا ٹھکانا ایک گہرا گڑھا ہوگا۔
وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے
تو اس کا ٹھکانا ہاویہ (جہنم کا گڑھا) ہوگا،
تو اس کی ماں ہاویہ ہے۔
تو اس کا ٹھکانا یہ گہری کھائی ہوگا
تو اس کا ٹھکانا کھڈ ہوگا۔
تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا
اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا
تو اس کا ٹھکانہ ایک گڑھا ہوگا۔
تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہوگا
his shall be the deep pit for a dwelling.
__his abode will be Abyss.
__his abode will be Abyss.
His mother will be Hawiyah.
A bereft and Hungry One will be his mother,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
His refuge will be an abyss.
will have hawiyah as their dwelling.
His abode shall be the abyss.
His dwelling shall be the Abyss.
Will have his home in a (bottomless) Pit.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة القارعہ 5 اصل الفاظ ہیں اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ " اس کی ماں ھاویہ ہوگی " ھاویہ ھوی سے ہے جس کے معنی اونچی جگہ سے نیچی جگہ گرنے کے ہیں، اور ھاویہ اس گہرے گڑھے کے لیے بولا جاتا ہے جس میں کوئی چیز گرے۔ جہنم کو ھاویہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ وہ بہت عمیق ہوگی اور اہل جہنم اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ اس کی ماں جہنم ہوگی، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے، اسی طرح آخرت میں اہل جہنم کے لیے جہنم کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
یہ ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہو گا۔ حق ان کے پاس ہو گا ہی نہیں یا ہو گا تو ان کے عقیدے اور ان کی نیت نے اس کو بھی بالکل بے وزن کر دیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کا ٹھکانا کھڈ ہو گا۔ اس کھڈ کی وضاحت آگے فرما دی کہ ’نَارٌ حَامِیَۃٌ‘ وہ دوزخ کا کھڈ ہو گا جس میں آگ بھڑک رہی ہو گی۔ ’اُمٌّ‘ کے معنی ماں کے ہیں لیکن یہاں یہ ملجا اور ٹھکانے کے معنی میں ہے اور نہایت بلاغت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ ’مَاھِیَہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو قافیہ کی رعایت سے آئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →9۔ 1 ہاویہ جہنم کا نام ہے اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سرکے بل ڈالے جائیں گے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →فامہ ھاویة (9:101) ” تو اس کی ماں گہرائی کھائی ہے “۔ ماں دراصل بچے کی جائے پناہ ہوتی ہے ، تو ایسے لوگوں کی جائے پناہ جہنم کی گہری کھائی ہوگی اس لئے یہ ان کی ماں ہوئی۔ کیا ہی خوب انداز تعبیر ہے جو موقع ومقام کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ یہاں عذاب کو مجمل رکھا گیا ہے تاکہ آیت مابعد میں اس کی وضاحت ایسے انداز میں کی جائے جو بہت ہی موثر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4 یعنی جو عذاب اس طبقہ میں ہے کچھ آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتا بس اتنا سمجھ لو کہ ایک آگ ہے نہایت گرم دہکتی ہوئی جس کے مقابلہ میں گویا دوسری آگ کو گرم کہنا نہ چاہئے۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر وجوہ العذاب بفضلہ و منہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
6 ھاویۃ : ھوی یھوی بمعنی بلندی سے زمین پر گرنا۔ اُھویۃ گہرے کنوئیں کو بھی کہتے ہیں اور گہرے گڑھے کو بھی اور ھاویۃ سے مراد جہنم کی گہرائی یا گہری جہنم بھی ہوسکتا ہے۔ اور دوزخ میں ایک گہرے گڑھے کا نام بھی۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیوں کا پلڑا اوپر اٹھ گیا، اسے جہنم کی گہرائی میں یا جہنم کے گہرے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا اور اُمّ کا لغوی معنی ماں یعنی جس طرح بچہ کا ملجا و ماویٰ ماں اور اس کی گود ہی ہوتی ہے اسی طرح ایسے شخص کا ملجا و ماویٰ یہی ھاویہ ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور ٹھکانہ میسر نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4۔ جس کے اعمال و عقائد دونوں خلاف شریعت ہوں گے۔ وہ کافر ہی ہوگا، اور اس کا پلڑا میزان قیامت میں بالکل بےوزن نکلے گا۔ (آیت) ” ھاویۃ “۔ اس کے لفظی معنی عمیق گڑھے کے ہیں۔ (آیت) ” نار حامیۃ “۔ ایسی بھڑکتی ہوئی آگ، جس کے سامنے دنیا کی ہر آگ سرد ہی نظر آئے گی، والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیھا کانھا لیست حامیۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
فاما من ثقلت یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے کہ جب دوبارہ زندہ ہو کر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ وزن اعمال کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب : قرآن مجید میں بروز قیامت وزن اعمال کا مسئلہ بہت سی آیات میں مختلف عنوانوں سے آیا ہے اور روایات حدیث میں اس کی تفصیلات بیشمار ہیں، وزن اعمال کے متعلق جو تفصیلی بیان آپ ﷺ کی احادیث میں آیا ہے، اس میں ایک بار تو یہ قابل غور ہے کہ متعدد روایات میں آیا ہے کہ محشر کی میزان عدل میں سب سے بھاری وزن کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا ہوگا۔ ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ…
Read the full tafseer →فامہ ھاویۃ . یعنی اس کا مسکن دوزخ ہوگا ‘ مسکن کو ماں اس لیے کہا کہ اولاد کے سکون کا مقام ماں ہی ہوتی ہے۔ ہاویہ : جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ہاویہ ایسا غار ہے جس کی گہرائی سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں۔ قتادہ نے کہا : امہٗ ھاویۃٌ (اُس کی ماں گرنے والی ہے) عربی کا ایک محاورہ ہے ‘ جب کوئی شخص کسی سخت مصیبت میں پڑجاتا ہے تو کہتے ہیں : ھوت امہٗ : اس کی ماں گرگئی۔ بعض نے کہا کہ امّ سے مراد ہے سر یعنی وہ سر کے بل دوزخ میں گریں گے۔ بغوی نے کہا : اسی تفسیر کی جانب قتادہ اور ابوصالح گئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت انس کی روایت کردہ حدیث میں متقیوں کے مقابلہ میں جن لوگوں کا ذکر آیا ہے ‘ ان سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
(6۔ 11)۔ سو جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا یعنی مون تو وہ دلپسند جنت میں ہوگا اور کافر کا ٹھکانا ایک دہکتی ہوئی آگ ہوگی جس میں وہ گرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
واما من خفت موازینہ…:”ھاویۃ“ ”ھوی یھوی ھویا“ (ض) گرنا۔ ”ھاویۃ“ کا لفظی معنی گڑھا ہے جس میں گرا جائے، مراد جہنم ہے۔ ”فامہ“”اس کی ماں“ مراد اس کا ٹھکانا ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کو گود میں جگہ دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
پھر جس کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند عیش (و مسرت) میں ہوگا اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ ایک دہکتی ہوئی آگ۔ میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…
Read the full tafseer →[فَاُمُّهٗ : تو اس کی ماں (گود)][ هَاوِيَةٌ: ایک نیچے اترنے والی (جگہ۔ گڑھا) ہے ]
Read the full tafseer →اہل دوزخ کے لیے ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ﴾ فرمایا یعنی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا ﴿ام﴾ عربی میں ماں کو کہتے ہیں اس میں یہ بتادیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ذوق رکھنے والے دنیا میں گناہوں سے ہی چپکے رہتے ہیں جیسے ماں اپنے بچوں سے چمٹی رہتی ہے اسی طرح دوزخ ان سے چمٹ جائے گی لفظ ھاویہ ھویٰ یھوی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے گہرائی میں گرنے والی چیز دوزخ کی گہرائی میں تو انسان گریں گے لیکن دوزخ کو ہاویہ سے تعبیر فرمایا یہ استعمال مجازی ہے جو ظرف کے معنی میں ہے۔ حضرت عتبہ بن غزوان ؓ نے بیان فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ پتھر کو دوزخ کے منہ سے اندر پھینکا جائے گا تو وہ ستر سال تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
4:۔ ” فاما من ثقلت۔ بشارت اخرویہ۔ قیامت کے دن جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نہایت خوش و خرم ہوں گے اور اپنی پسندیدہ عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ” راضیۃ “ بمعنی مرضیۃ (قرطبی) ۔ ” واما من خفت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” امہ “ ای مستقرہ (قرطبی عن الاخفش) ۔ اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا ان کا ٹھکانہ ہاویہ میں ہوگا۔ ہایہ دوزخ کے ناموں میں سے ہے۔ ” وما ادراک ماھیہ “ تمہیں کیا معلوم ہاویہ کیا چیز ہے وہ نہایت ہی سخت اور تند و تیز آگ ہے۔ ھیہ میں ہاء برائے سکتہ ہے۔ مثنوی میں ہاویہ کا جو معنی ذکر کیا گیا ہے وہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے پس شد جائے دلش در ھاویہ ہیچ میدانی چہ باشد مایہ آتش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…
Read the full tafseer →فَاُمُّہٗ ہَاوِيَۃٌ 9 ۭ أمّ الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته . ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي : (أنّ الدنیا دحیت من تحتها) وقال تعالی: لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَها [ الأنعام/ 92] ، وأمّ النجوم : المجرّة . قال : 23 ۔ بحیث اهتدت أمّ النجوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاھِیَہْ ۔ نَارٌحَامِیَۃٌ۔ (القارعۃ : 10، 11) (اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ دہکتی ہوئی آگ۔ ) ھاویہ میں عذاب کی شدت کو مزید واضح کرتے ہوئے سوال کی شکل دی گئی ہے۔ کیونکہ کسی ہولناک چیز کو بیان کرنے کے بعد جب اس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو اس کی ہولناکی متشکل ہو کر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ تو پھر خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ ایک دہکتی ہوئی اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ یعنی ایک ایسی گہری کھائی ہے جو بھڑکتی ہوئی اور دہکتی ہوئی آگ سے بھری ہوئی ہے۔ مَاھِیَہْ میں ” ھ “ سکتہ کی ہے جو قافئے کی رعایت سے آئی ہے۔ اصل لفظ مَاھِیَ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…
Read the full tafseer →9 : فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ (اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے) اس کا مسکن اور رہائش گاہ آگ ہے۔ اور ٹھکانہ کو ام بطور مشابہت کہتے ہیں۔ کیونکہ ماں اولاد کا ماوی اور پناہ گاہ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →9 ۔” فامہ ھاویۃ “ اس کا مسکن آگ ہے۔ مسکن کا نام ام رکھا گیا ہے یا تو اس لئے کہ اصل سکون میں مائوں کی طرف ہے اور ھاویہ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ ھواۃ اس کی گہرائی کو نہیں پہنچا جاسکتا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ عربی کلمہ ہے جب کوئی آدمی کسی سخت کام میں واقع ہو تو کہا جاتا ہے ” ھوت امہ “ اور کہا گیا ہے اس کے سر کی جڑ مراد ہے ۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے سروں کے بل گریں گے اور اسی تاویل کی طرف قتادہ اور ابو صالح رحمۃ علیہما گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…
Read the full tafseer →(فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ) تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہوگا۔ جس کے ناموں میں سے ایک نام الھاویہ ہے جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہوگا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ان عذابھا کان غراما) الفرقان 65) بیشک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(8) ناکام لوگوں کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ناکام لوگوں کے انجام کے بارے میں ذکر فرمایا گیا کہ ایسوں کی ماں دوزخ ہوگی، والعیاذ باللہ۔ دوزخ کے اس ٹھکانے کو ام ( ماں) کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت و استعارہ ہے کہ جس طرح ایک بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہی پناہ ملتی ہے، اسی طرح ان دوزخیوں کو دوزخ کے اس ہولناک گڑھے کے سوا اور کہیں پناہ نہیں ملے گی، اور اس کے سوا کوئی اور جگہ ان کو میسر نہیں آئے گی، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ بہرکیف ایسے بدبختوں کا ماوی وملجا اور دائمی ٹھکانہ دوزخ ہوگا جس سے نہ یہ کبھی چھٹکارا پاس کیں گے، اور نہ ان کی وہ ماں ان کو کبھی چھوڑے گی۔ پس یہ کبھی چھٹکارا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 5 ” ھاویۃ “ کے لفظی معنی گڑھے کے ہیں جس میں گرا جائے۔ مراد دوزخ کا گڑھا ہے۔
Read the full tafseer →(101:9) فامہ ھاویۃ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط میں ہے۔ امہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ماں۔ اس کا ٹھکانا۔ مسکن۔ ماں کو مسکن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اولاد کے سکون کا مقام ماں ہی ہوتی ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ ھاویۃ دوزخ میں ایک درجہ کا نام ہے یہ ایک نہایت ہی گہرا گڑھا ہے جس کی گہرائی خدا ہی کو معلوم ہے۔ پس اس کا ٹھکانا ھاویۃ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[2] اصل الفاظ ہیں اُمُّہ ھاویہ جس کے لفظی معنی ہیں کہ اس کی ماں گڑھا ہوگی۔ گڑھے سے مراد ہے دوزخ کا گڑھا جو بہت گہرا ہوگا اور دوزخی اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں مجرموں کے لئے دوزخ کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…
Read the full tafseer →(9) تو اس کا ٹھکانا ہادیہ ہوگا - بہرحال وزن اعمال کے بعد جس کا پلہ ایمان و اخلاص کے اعتبار سے بھاری ہوگا تو وہ جنت میں چلا جائے گا جہاں من مانی زندگی اور خاطر خواہ آرام میسرہوگا اور جس کا ایمان و اخلاص کے اعتبار سے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا یعنی دین حق کا منکر ہوگا تو اس کا ٹھکانا ہاویہ یعنی جہنم کے سب سے نیچے درجے میں ہوگا جہاں زندگی کی مثل زندگی نہ ہونیکے ہے۔ بہرحال معلوم ہوا کہ عمل خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اگر ایمان اور اخلاص نہ ہو تو اس کا کچھ وزن ہی نہیں آمد مال کو کہتے ہیں کیونکہ ماں کی گود اصل سکون کی چیز ہے اس لئے یہاں ترجمہ مسکن اور ٹھکانا کیا گیا ہے کیونکہ ان کا اصل مسکن ہاویہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 6۔ ثقلت موازینہ و خفت موازینہ شروع سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا 9 ؎ ( امہ) ام ماں کو کہتے ہیں خواہ وہ حقیقی ماں ہو یعنی والدہ یا دور کی ماں ہو یعنی ماں ۔ ماں کی ماں یا باپ کی ماں اور باپ کے باپ کی ماں سب کو ام کہتے ہیں یہاں تک کہ حضرت حواعلیہا السلام کو بھی ماں کہتے ہیں ۔ دراصل کسی شے کی اصل یا اس کی تربیت و اصلاح کے ذریعے اور سبب کے لیے بھی ام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ہر وہ شے ام سے موسوم کی جاسکتی ہے جس کی طرف اس سے تمام متعلق چیزیں ملا دیں جائیں یہی وجہ ہے کہ اس جگہ بد کاروں اور بد بختوں کے لیے دوزخ کو ان کی ماں قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ اس قابل تھے کہ دوزخ کے ساتھ ملا دیئے جائیں ۔ ( ھاویۃ) دوزخ کے ایک حصہ کا نام ہے۔ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5 The words in the original a"re: ammu hu hawiyah: "his mother will be hawiyah. " Hawiyah is from hawa, which means to fall from a height to a depth, and bawiyah is the deep pit into which something falls. Hell has been called Hawiyah because it will be very deep and the culprits will be thrown into it from the height. As for the words, "his mother will be Hawiyah ", they mean: Just as the mother's lap is the child's abode, so Hell will be the culprits' only abode in the Hereafter.
Read the full tafseer →