Al-Qaari'a 101:10

Al-Qaari'a · from ayah 10

101:10

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا هِیَهْ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا هِيَهۡ

اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what that is?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a

All translations of 101:10

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گہرا گڑھا کیا چیز ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تو نے کیا جانا، کیا نیچا دکھانے والی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ ہاویہ کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا جانیں کہ وہ کیا چیز ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ وہ کیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا چیز ہے وہ (ہاویہ) ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ ہے کیا چیز

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ گڑھا کیا چیز ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what that is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what may let you know what that (Abyss) is?

— Muhammad Taqi Usmani

And what may let you know what that (Abyss) is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know what it is

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, what will convey unto thee what she is! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what that is?

— Saheeh International

Would that you knew what hawiya his?

— Muhammad Sarwar

And what will make you know what it is?

— Muhammad Habib Shakir

And what shall make thee know that which she is?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee what this is?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 101:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة القارعہ 5 اصل الفاظ ہیں اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ " اس کی ماں ھاویہ ہوگی " ھاویہ ھوی سے ہے جس کے معنی اونچی جگہ سے نیچی جگہ گرنے کے ہیں، اور ھاویہ اس گہرے گڑھے کے لیے بولا جاتا ہے جس میں کوئی چیز گرے۔ جہنم کو ھاویہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ وہ بہت عمیق ہوگی اور اہل جہنم اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ اس کی ماں جہنم ہوگی، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے، اسی طرح آخرت میں اہل جہنم کے لیے جہنم کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

یہ ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہو گا۔ حق ان کے پاس ہو گا ہی نہیں یا ہو گا تو ان کے عقیدے اور ان کی نیت نے اس کو بھی بالکل بے وزن کر دیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کا ٹھکانا کھڈ ہو گا۔ اس کھڈ کی وضاحت آگے فرما دی کہ ’نَارٌ حَامِیَۃٌ‘ وہ دوزخ کا کھڈ ہو گا جس میں آگ بھڑک رہی ہو گی۔ ’اُمٌّ‘ کے معنی ماں کے ہیں لیکن یہاں یہ ملجا اور ٹھکانے کے معنی میں ہے اور نہایت بلاغت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ ’مَاھِیَہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو قافیہ کی رعایت سے آئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یہ استفہام اس کی ہولناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ انسان کے وہم و تصور سے بالا ہے انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما ادرک ماھیہ (10:101) ” اور آپ کو کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے “۔ یہ قرآن کریم کا معروف انداز بیان ہے کہ کسی چیز کو ہولناک بنانے کے لئے یہ کہ دینا کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ کیا ہے ؟ اور پھر اس کے بعد ایک جواب آتا ہے اور یہ آخری نچ ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–11

4 یعنی جو عذاب اس طبقہ میں ہے کچھ آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتا بس اتنا سمجھ لو کہ ایک آگ ہے نہایت گرم دہکتی ہوئی جس کے مقابلہ میں گویا دوسری آگ کو گرم کہنا نہ چاہئے۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر وجوہ العذاب بفضلہ و منہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–11

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

6 ھاویۃ : ھوی یھوی بمعنی بلندی سے زمین پر گرنا۔ اُھویۃ گہرے کنوئیں کو بھی کہتے ہیں اور گہرے گڑھے کو بھی اور ھاویۃ سے مراد جہنم کی گہرائی یا گہری جہنم بھی ہوسکتا ہے۔ اور دوزخ میں ایک گہرے گڑھے کا نام بھی۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیوں کا پلڑا اوپر اٹھ گیا، اسے جہنم کی گہرائی میں یا جہنم کے گہرے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا اور اُمّ کا لغوی معنی ماں یعنی جس طرح بچہ کا ملجا و ماویٰ ماں اور اس کی گود ہی ہوتی ہے اسی طرح ایسے شخص کا ملجا و ماویٰ یہی ھاویہ ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور ٹھکانہ میسر نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–11

4۔ جس کے اعمال و عقائد دونوں خلاف شریعت ہوں گے۔ وہ کافر ہی ہوگا، اور اس کا پلڑا میزان قیامت میں بالکل بےوزن نکلے گا۔ (آیت) ” ھاویۃ “۔ اس کے لفظی معنی عمیق گڑھے کے ہیں۔ (آیت) ” نار حامیۃ “۔ ایسی بھڑکتی ہوئی آگ، جس کے سامنے دنیا کی ہر آگ سرد ہی نظر آئے گی، والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیھا کانھا لیست حامیۃ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–11

فاما من ثقلت یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے کہ جب دوبارہ زندہ ہو کر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ وزن اعمال کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب : قرآن مجید میں بروز قیامت وزن اعمال کا مسئلہ بہت سی آیات میں مختلف عنوانوں سے آیا ہے اور روایات حدیث میں اس کی تفصیلات بیشمار ہیں، وزن اعمال کے متعلق جو تفصیلی بیان آپ ﷺ کی احادیث میں آیا ہے، اس میں ایک بار تو یہ قابل غور ہے کہ متعدد روایات میں آیا ہے کہ محشر کی میزان عدل میں سب سے بھاری وزن کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا ہوگا۔ ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک . امر ھاویہ کو عظیم الشان سمجھنے کے لیے استفہام کیا گیا۔ ماھیۃ . حمزہ نے وصل کی حالت میں ھی بغیر ہ کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہر حالت میں ھا کو سکتہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ھی ضمیر ھاویہ کی طرف راجع ہے اور ما ھِیَ میں استفہام ھاویہ کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–11

(6۔ 11)۔ سو جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا یعنی مون تو وہ دلپسند جنت میں ہوگا اور کافر کا ٹھکانا ایک دہکتی ہوئی آگ ہوگی جس میں وہ گرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وما ادرک ماھیۃ :”مادرک“ کے ساتھ سوال اس کی ہولناکی نمایاں کرنے کے لئے ہے۔ (2)”ماھیہ“ اصل میں ”ماھی“ ہے، وہ کیا ہے ؟ یاء کے فتحہ کی حفاظت کیلئے وقف کے وقت اس کے بعد ساکن باء لگا دیتے ہیں، اسے ہائے وقف کہتے ہیں جو ملا کر پڑھیں تو گرجاتی ہے۔ بعض قراء ملا کر پڑھنے کی صورت میں بھی اسے باقی رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

پھر جس کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند عیش (و مسرت) میں ہوگا اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ ایک دہکتی ہوئی آگ۔ میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

﴿وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْؕ0010﴾ یہ اسم فاعل کا صیغہ نہیں ہے بلکہ ماھی میں ہائے سکتہ ملحق کردی گئی ہے اور ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ (رح) 0011﴾ جو فرمایا ہے یہ ﴿حمی یحمی﴾ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو سخت گرمی پر دلالت کرتا ہے۔ ادخلنا اللہ تعالیٰ جنتہ واعاذنا من نارہ

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–11

4:۔ ” فاما من ثقلت۔ بشارت اخرویہ۔ قیامت کے دن جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نہایت خوش و خرم ہوں گے اور اپنی پسندیدہ عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ” راضیۃ “ بمعنی مرضیۃ (قرطبی) ۔ ” واما من خفت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” امہ “ ای مستقرہ (قرطبی عن الاخفش) ۔ اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا ان کا ٹھکانہ ہاویہ میں ہوگا۔ ہایہ دوزخ کے ناموں میں سے ہے۔ ” وما ادراک ماھیہ “ تمہیں کیا معلوم ہاویہ کیا چیز ہے وہ نہایت ہی سخت اور تند و تیز آگ ہے۔ ھیہ میں ہاء برائے سکتہ ہے۔ مثنوی میں ہاویہ کا جو معنی ذکر کیا گیا ہے وہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے پس شد جائے دلش در ھاویہ ہیچ میدانی چہ باشد مایہ آتش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَاہِيَہْ۝ 10 ۭ دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–11

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاھِیَہْ ۔ نَارٌحَامِیَۃٌ۔ (القارعۃ : 10، 11) (اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ دہکتی ہوئی آگ۔ ) ھاویہ میں عذاب کی شدت کو مزید واضح کرتے ہوئے سوال کی شکل دی گئی ہے۔ کیونکہ کسی ہولناک چیز کو بیان کرنے کے بعد جب اس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو اس کی ہولناکی متشکل ہو کر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ تو پھر خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ ایک دہکتی ہوئی اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ یعنی ایک ایسی گہری کھائی ہے جو بھڑکتی ہوئی اور دہکتی ہوئی آگ سے بھری ہوئی ہے۔ مَاھِیَہْ میں ” ھ “ سکتہ کی ہے جو قافئے کی رعایت سے آئی ہے۔ اصل لفظ مَاھِیَ ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاھِیَہْ (اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ کیا چیز ہے) نحو : ضمیر ہاویہ کی طرف راجع ہے۔ اور ھاء سکتہ کی ہے۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” وما ادراک ماھیہ “ یعنی ہاویہ اور اس کی اصل ماھی ہے ھاء کو وقف کے لئے اس میں داخل کردیا گیا ہے پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–11

(وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا هِيَهْ ) اور تم کیا سمجھو کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کر کے دکھاتا ہے پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی (نَارٌ حَامِيَةٌ) سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی ہم اس آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

(8) ناکام لوگوں کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ناکام لوگوں کے انجام کے بارے میں ذکر فرمایا گیا کہ ایسوں کی ماں دوزخ ہوگی، والعیاذ باللہ۔ دوزخ کے اس ٹھکانے کو ام ( ماں) کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت و استعارہ ہے کہ جس طرح ایک بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہی پناہ ملتی ہے، اسی طرح ان دوزخیوں کو دوزخ کے اس ہولناک گڑھے کے سوا اور کہیں پناہ نہیں ملے گی، اور اس کے سوا کوئی اور جگہ ان کو میسر نہیں آئے گی، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ بہرکیف ایسے بدبختوں کا ماوی وملجا اور دائمی ٹھکانہ دوزخ ہوگا جس سے نہ یہ کبھی چھٹکارا پاس کیں گے، اور نہ ان کی وہ ماں ان کو کبھی چھوڑے گی۔ پس یہ کبھی چھٹکارا نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–10

ف 5 ” ھاویۃ “ کے لفظی معنی گڑھے کے ہیں جس میں گرا جائے۔ مراد دوزخ کا گڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 10–11

(101:10) وما ادرک ماھیۃ : واؤ عاطفہ ما استفہامیہ ۔ ھاویۃ کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ ہی کی ضمیر ھاویۃ کی طرف راجع ہے۔ ماہیۃ میں ۃ سکتہ کے لئے ہے۔ حمزہ نے اس کو وصل کی حالت میں بغیر ہ کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ۃ کو ہر حالت میں سکتہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ماھینا وہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[2] اصل الفاظ ہیں اُمُّہ ھاویہ جس کے لفظی معنی ہیں کہ اس کی ماں گڑھا ہوگی۔ گڑھے سے مراد ہے دوزخ کا گڑھا جو بہت گہرا ہوگا اور دوزخی اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں مجرموں کے لئے دوزخ کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–11

ف 6۔ ثقلت موازینہ و خفت موازینہ شروع سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور تجھے کیا معلوم کہ وہ ہایہ کیا چیز ہے ؟ 10 ؎ اس طرح کے سوال کی اہمیت ہم پیچھے بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس سورة کی آیت تین میں بھی اس کی وضاحت کردی گئی ہے اس لیے جو مطلب آیت تین میں ہے وہی اس جگہ بھی مان لیا جائے۔ ( ماھیہ) ما ما الگ ہے ھی الگ ہے وہ ضمیر الگ ہے۔ مخاطب منکرین و معاندین ہیں جو قیامت کے آنے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ لوگ جو منہ سے تو نام لیتے ہیں لیکن ان کے اعمال اس بات کا ثبوت پیش نہیں کرتے کہ یہ لوگ قیامت کے ماننے والے ہیں بلکہ ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس طرح کے سب لوگ مخاطب ہیں تو آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ جس کو ہاویہ کہا جا رہا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–11

Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

5 The words in the original a"re: ammu hu hawiyah: "his mother will be hawiyah. " Hawiyah is from hawa, which means to fall from a height to a depth, and bawiyah is the deep pit into which something falls. Hell has been called Hawiyah because it will be very deep and the culprits will be thrown into it from the height. As for the words, "his mother will be Hawiyah ", they mean: Just as the mother's lap is the child's abode, so Hell will be the culprits' only abode in the Hereafter.

Read the full tafseer →