Ayah 101:2(101:2) مالقارعۃ : ما مبتدا۔ القارعۃ خبر۔ مبتدا۔ اور خبر مل کر مبتدا (ا) کی خبر۔
Ayah 101:3(101:3) وما ادرک ما القارعۃ : ما استفہامیہ مبتداء ادراک خبر۔ ما القارعۃ : ما مبتدائ۔ القارعۃ خبر۔ مبتدا اور خبر مل کر ادرک کا مفعول ثانی (مفعول اول ک ضمیر واحد مذکر حاضر)
القارعۃ اسم فاعل واحد مؤنث قارعات وقوارع جمع۔ مصیبت، بلا، حادثہ، یا ۔ اچانک آجانے والی مصیبت۔ اصل مادہ قرع ہے۔ اس میں (باب فتح) کے معنی ہیں کھٹکھٹانا۔ مثلا قرع الباب۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ یا قرع راسہ بالعصا۔ اس کے سرکو لاٹھی سے کھٹکھٹایا۔ یعنی لاٹھی سر پر ماری۔ قرع زید سنہ۔ زید نے اپنے دانت پسے یعنی پشیمان ہوا۔ قرع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث قارعۃ ہے۔
ساعت قیامت بھی ناگہاں آجانے والی مصیبت اور حادثہ عظیم ہے اس لئے قیامت کو القارعۃ کہا گیا ہے۔ اصل میں یہ صیغہ صفت تھا۔ پھر قیامت کا وصفی نام بنادیا گیا۔
ما استفہامیہ ہے بمعنی کیا ہے۔ ادراک ادری ماضی واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے جس کے معنی واقف کرنے اور بتانے کے ہیں۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ما ادرک۔ تجھے کون بتائے۔ تجھے کون خبردار کرے۔ محاورۃ تجھے کیا معلوم تجھے کیا خبر۔ تو کیا جانے۔ (کہ کھٹکھٹا دینے والی چیز کیا ہے)
Ayah 101:4(101:4) یوم یکون الناس کالفراش المبثوث : یوم ظرف منصوب ہے اس کا فعل محذوف مضمر ہے جس پر القارعۃ کا لفظ دلالت کر رہا ہے یعنی وہ ساعت اس روز کھٹکھٹائے گی جب لوگ اس طرح ہوں گے (یعنیکالفراش المبثوث) ۔
یا لفظ یوم کا نصب اس وجہ سے ہے کہ اس جگہ جملہ کی طرف مضاف ہے۔ ورنہ اس کا مرفوع ہونا چاہیے۔ کیونکہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی وہ ساعت ایسا دن ہوگا جس میں لوگ کالفراش المبثوث ہوں گے۔ (تفسیر مظہری)
کالفراز المبثوث : ک حرف تشبیہ۔ الفراش جمع۔ الفراشۃ واحد پتنگے، پروانے، موصوف۔
المثوث : بث (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، پراگندہ، بکھرے ہوئے۔ صفت۔ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح۔ (جس روز لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے) ۔
Ayah 101:5(101:5) وتکون الجبال کالعھن المنفوش : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ العھن وہ رنگین اون جو مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی ہو۔ منفوش : نفش (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ دھنکی ہوئی۔
Ayah 101:6(101:6) فاما من ثقلت موازنہ : (یعم یکون الناس میں انسانوں کی حالت مجمل بیان کی گئی تھی یہاں سے تفصیل شروع ہے)
یہ جملہ شرطیہ ہے۔بمعنی پھر۔ اما حرف شرط ہے اکثر تفصیل کے لئے آتا ہے۔ بمعنی سو ہے۔ من شرطیہ استعمال ہوا ہے۔ بمعنی جس کا۔ ثقلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ثقل (باب کرم) مصدر سے ہے جس کا معنی گراں بار ہونے کے ہیں۔
موازینہ جمع ہے موزون کی یا میزان کی جو وزن سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ وزن کیا ہوا۔
موازین وہ اعمال جو ترازو میں تولے گئے ہوں جو وزن کئے گئے ہوں۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع من ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر تو جس کے اعمال تول میں بھاری ہوں گے۔
Ayah 101:7(101:7) فھو فی عیشۃ راضیۃ۔ جواب شرط۔جواب شرط کے لئے ہے۔
عیشۃ موصوف۔ زندگی ۔ زندگانی۔ عاش یعیش (باب ضرب) کا مصدر ہے۔
راضیۃ : رضی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ بمعنی پسند کرنے والئ۔ پس وہ پسند کرنے والی زندگی میں ہوگا۔ عیشۃ کی طرف پسند کی نسبت مجازی ہے۔ اصل میں پسند کرنے والا زندگی والا ہوتا ہے نہ کہ خود زندگی۔
Ayah 101:8(101:8) واما من خفت موازینہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ جملہ شرطیہ ہے۔ خفت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ خفۃ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی ہلکا ہونا۔ اور جس کے اعمال کا تول ہلکا ہوگا۔
Ayah 101:9(101:9) فامہ ھاویۃ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط میں ہے۔ امہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ماں۔ اس کا ٹھکانا۔ مسکن۔ ماں کو مسکن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اولاد کے سکون کا مقام ماں ہی ہوتی ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ ھاویۃ دوزخ میں ایک درجہ کا نام ہے یہ ایک نہایت ہی گہرا گڑھا ہے جس کی گہرائی خدا ہی کو معلوم ہے۔ پس اس کا ٹھکانا ھاویۃ ہوگا۔
Ayahs 101:10–11(101:10) وما ادرک ماھیۃ : واؤ عاطفہ ما استفہامیہ ۔ ھاویۃ کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ ہی کی ضمیر ھاویۃ کی طرف راجع ہے۔ ماہیۃ میں ۃ سکتہ کے لئے ہے۔ حمزہ نے اس کو وصل کی حالت میں بغیر ہ کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ۃ کو ہر حالت میں سکتہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ماھینا وہ کیا ہے۔