Al-Qaari'a 101:8

Al-Qaari'a · from ayah 8

101:8

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ ۟ۙوَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But as for one whose scales are light,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a

All translations of 101:8

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لیکن وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن کے پلے ہلکے ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس کے (نیک اعمال) کے پلڑے ہلکے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس کسی کا پلہ ہلکا نکلے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

but he whose scales weigh lighter,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But he whose scales are light,

— Muhammad Taqi Usmani

But he whose scales are light,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But as for him whose Balance will be light,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But as for him whose scales are light,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But as for one whose scales are light,

— Saheeh International

but those whose good deeds will be lighter (on the scale).

— Muhammad Sarwar

And as for him whose measure of good deeds is light,

— Muhammad Habib Shakir

And as for him whose balances are light,

— Abdul Majid Daryabadi

But he whose balance (of good deeds) will be (found) light,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 101:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القارعہ 4 اسل میں لفظ موازین استعمال ہوا ہے جو موزون کی جمع بھی ہوسکتا ہے اور میزان کی جمع بھی۔ اگر اس کو موزون کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد وہ اعمال ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وزن نہ ہو، جو اس کے ہاں کسی قدر کے مستحق ہوں۔ اور اگر اسے میزان کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد ترازو کے پلڑے ہوں گے۔ پہلی صورت میں موازین کے بھاری اور ہلکے ہونے کا مطلب نیک اعمال کا برے اعمال کے مقابلے میں بھاری یا ہلکا ہونا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صرف نیکیاں ہی وزنی اور قابل قدر ہیں۔ دوسری صورت میں موازین کے بھاری ہونے کا مطلب اللہ جل شانہ کی میزان عدل میں نیکیوں کے پلڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

یہ ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہو گا۔ حق ان کے پاس ہو گا ہی نہیں یا ہو گا تو ان کے عقیدے اور ان کی نیت نے اس کو بھی بالکل بے وزن کر دیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کا ٹھکانا کھڈ ہو گا۔ اس کھڈ کی وضاحت آگے فرما دی کہ ’نَارٌ حَامِیَۃٌ‘ وہ دوزخ کا کھڈ ہو گا جس میں آگ بھڑک رہی ہو گی۔ ’اُمٌّ‘ کے معنی ماں کے ہیں لیکن یہاں یہ ملجا اور ٹھکانے کے معنی میں ہے اور نہایت بلاغت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ ’مَاھِیَہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو قافیہ کی رعایت سے آئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فامامن ................ موازینہ (8:101) ” جس کے پیمانے ہلکے ہوئے “۔ اللہ کے اعتبار اور معیار کے مطابق۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–11

4 یعنی جو عذاب اس طبقہ میں ہے کچھ آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتا بس اتنا سمجھ لو کہ ایک آگ ہے نہایت گرم دہکتی ہوئی جس کے مقابلہ میں گویا دوسری آگ کو گرم کہنا نہ چاہئے۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر وجوہ العذاب بفضلہ و منہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–11

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–8

5 موازین کے مختلف معنی اور میزان الاعمال کی صورتیں : اس آیت میں نفخہ ئصور ثانی کے بعد میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا جارہا ہے۔ جبکہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ مَوَازِیْنُ کا واحد موزون بھی ہے اور میزان بھی۔ اور ان دونوں کی جمع موازین آتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ صرف موزون یا کچھ وزن رکھنے والی باتوں کو ہی تولا جائے گا۔ اور اللہ کے نزدیک وزن دار یا قابل قدر باتیں صرف نیک اعمال ہیں اور ان کے ساتھ ایمان ہونا بھی شرط اول ہے۔ کیونکہ کافروں کے نیک اعمال کا بھی وزن نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة کہف کی آیت نمبر 105 میں فرمایا کہ (فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–11

4۔ جس کے اعمال و عقائد دونوں خلاف شریعت ہوں گے۔ وہ کافر ہی ہوگا، اور اس کا پلڑا میزان قیامت میں بالکل بےوزن نکلے گا۔ (آیت) ” ھاویۃ “۔ اس کے لفظی معنی عمیق گڑھے کے ہیں۔ (آیت) ” نار حامیۃ “۔ ایسی بھڑکتی ہوئی آگ، جس کے سامنے دنیا کی ہر آگ سرد ہی نظر آئے گی، والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیھا کانھا لیست حامیۃ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–11

فاما من ثقلت یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے کہ جب دوبارہ زندہ ہو کر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ وزن اعمال کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب : قرآن مجید میں بروز قیامت وزن اعمال کا مسئلہ بہت سی آیات میں مختلف عنوانوں سے آیا ہے اور روایات حدیث میں اس کی تفصیلات بیشمار ہیں، وزن اعمال کے متعلق جو تفصیلی بیان آپ ﷺ کی احادیث میں آیا ہے، اس میں ایک بار تو یہ قابل غور ہے کہ متعدد روایات میں آیا ہے کہ محشر کی میزان عدل میں سب سے بھاری وزن کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا ہوگا۔ ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واما من خفت موازینہ . یعنی جس کے اعمال حسنہ یا نیک اعمال کا پلڑہ ہلکا ہوگا ‘ اس آیت کے عموم میں کافر بھی داخل ہے جس کے پاس ایمان نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نیکی نہ ہوگی اور وہ فاسق مؤمن بھی داخل ہے جس کا گناہوں کا پلڑہ نیکیوں کے پلڑہ سے بھاری ہوگا لیکن من ثقلت موازینہ میں صرف وہ مؤمن داخل ہیں جو معصوم ہوں یا ان کے گناہ معاف کردیئے گئے ہوں ‘ یا ان کی نیکیاں گناہوں سے بھاری ہوں۔ قرطبی نے کہا : ہمارے علماء کا قول ہے کہ آخرت میں لوگوں کے تین فرقے ہوں گے ایک فرقہ متقیوں کا ہوگا جن کے کبیرہ گناہ نہ ہوں گے ‘ ان کی نیکیاں روشن پلڑہ میں رکھی جائیں گی اور وہ پلڑہ نہیں اٹھائے گا البتہ دوسرا تاریک پلڑہ (یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–11

(6۔ 11)۔ سو جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا یعنی مون تو وہ دلپسند جنت میں ہوگا اور کافر کا ٹھکانا ایک دہکتی ہوئی آگ ہوگی جس میں وہ گرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

واما من خفت موازینہ…:”ھاویۃ“ ”ھوی یھوی ھویا“ (ض) گرنا۔ ”ھاویۃ“ کا لفظی معنی گڑھا ہے جس میں گرا جائے، مراد جہنم ہے۔ ”فامہ“”اس کی ماں“ مراد اس کا ٹھکانا ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کو گود میں جگہ دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

پھر جس کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند عیش (و مسرت) میں ہوگا اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ ایک دہکتی ہوئی آگ۔ میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَمَا مَنْ : اور وہ جو ہے ][ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ : ہلکے ہوئے جس کے ترازو (پلڑے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗۙ008 فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ009﴾ (اور جن لوگوں کے وزن ہلکے پڑگئے یعنی برائیاں نیکیوں پر بھاری ہوگئیں ان کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا) ۔ ہاویہ کے بارے میں سوال فرمایا اور فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْؕ0010﴾ (اور اے مخاطب تجھے کیا معلوم ہے ہاویہ کیا ہے ؟ یہ سوال دوزخ کی عظیم مصیبت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا، پھر خود ہی جواب میں فرمایا ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ (رح) 0011﴾ (کہ یہ وہ آگ ہے خوب گرم تیز) وزن اعمال کے بارے میں سورة الاعراف کی آیت ﴿وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ 1ۚ ﴾ کے ذیل میں ہم پوری تفصیل لکھ چکے ہیں (انوار البیان، ج 1) ۔ مختلف علمائے تفسیر کے اقوال بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–11

4:۔ ” فاما من ثقلت۔ بشارت اخرویہ۔ قیامت کے دن جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نہایت خوش و خرم ہوں گے اور اپنی پسندیدہ عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ” راضیۃ “ بمعنی مرضیۃ (قرطبی) ۔ ” واما من خفت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” امہ “ ای مستقرہ (قرطبی عن الاخفش) ۔ اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا ان کا ٹھکانہ ہاویہ میں ہوگا۔ ہایہ دوزخ کے ناموں میں سے ہے۔ ” وما ادراک ماھیہ “ تمہیں کیا معلوم ہاویہ کیا چیز ہے وہ نہایت ہی سخت اور تند و تیز آگ ہے۔ ھیہ میں ہاء برائے سکتہ ہے۔ مثنوی میں ہاویہ کا جو معنی ذکر کیا گیا ہے وہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے پس شد جائے دلش در ھاویہ ہیچ میدانی چہ باشد مایہ آتش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُہٗ۝ 8 ۙ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ وزن الوَزْنُ : معرفة قدر الشیء . يقال : وَزَنْتُهُ وَزْناً وزِنَةً ، والمتّعارف في الوَزْنِ عند العامّة : ما يقدّر بالقسط والقبّان . وقوله : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] إشارة إلى مراعاة المعدلة في جمیع ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُـہٗ ۔ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ۔ (القارعۃ : 8، 9) (اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو ان کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا۔ ) یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوا یعنی برائیوں کے مقابلے میں اوپر اٹھ گیا اور برائیوں کا پلڑا جھک گیا، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا۔ دونوں آیتوں میں مَنْ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو لفظ کے اعتبار سے واحد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن کریم نے دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے ہم ترجمے میں واحد سے بھی ترجمہ کرسکتے اور جمع سے بھی۔ الھَاوِیَۃٌ دوزخ کے طبقات میں سے ایک طبقہ کا نام ہے جو اتنا گہرا ہوگا کہ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا) باطل کی اتباع اور پیروی کے باعث۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ ) اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(7) ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو بیان : سو یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جن کے نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے ترازو ہلکے ہوں گے، یعنی ایمان و اخلاص کے فقدان اور نقصان کی بناء پر، والعیاذ باللہ العظیم، سو اس سے ان لوگوں کا حال اور ان کا انجام بیان فرما دیا گیا جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہوگا، حق ان کے پاس ہوگا ہی نہیں، یا اگر کچھ ہوگا بھی تو ان کی نیتوں کی خرابی نے ان کو بھی برباد اور بالکل بےوزن کردیا ہوگا، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے انجام کے ذکر وبیان کے بعد اس سے ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو فرمایا گیا ہے، اور اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(101:8) واما من خفت موازینہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ جملہ شرطیہ ہے۔ خفت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ خفۃ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی ہلکا ہونا۔ اور جس کے اعمال کا تول ہلکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–8

[1] اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جو بڑی بھاری آفت کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–11

ف 6۔ ثقلت موازینہ و خفت موازینہ شروع سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور اس وقت جس کے نیک اعمال کا پلڑا ہلکا ہو گا 8 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جا چکی ہے قرآن کریم نے جہاں بھی اچھے لوگوں کا ذکر کیا ساتھ بروں کا بھی ذکر کردیا اور جہاں بروں کا ذکر کیا وہاں اچھوں کا بھی کر یا گویا ہر جگہ یہ تقابل پایا جاتا ہے ، کیوں ہے ؟ اس لیے کہ صحیح پہچان اور شناخت دو مخالفت چیزوں کو سامنے رکھنے ہی سے ہو سکتی ہے۔ گزشتہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کی نیکیاں زیادہ تھیں اور وہ آخرت میں کامیاب قرار دیئے گئے تھے پھر ان کی عیش و عشرت کی زندگی کا ذکر فرمایا گیا اور اب ان بد بختوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کی نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے کفر و نفاق کے باعث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–11

Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 The word mawazin in the original can be plural of mauzun as well as, of mizan. In the first case, mawazin would imply the deeds which might have some weight in the sight of Allah and be, thus, worthy of appreciation; in the second case, mawazin would imply scales of a balance. In the first case, the meaning of the mawazin's being heavier or lighter is that the good deeds will be heavy or light as ,against the evil deeds, for in the sight of Allah only good deeds have any weight and worth. In the second case. the meaning of the mawazin's being heavy is that the scale of the good deeds will…

Read the full tafseer →