Explained with ayahs 1–11
اعمال کا ترازو :
قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…
Read the full tafseer →سورة القارعہ 2
یہاں تک قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں، اور پہاڑ رنگ برنگ کے ڈھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ رنگ برنگ کے اون سے پہاڑوں کو تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
خلاصہ تفسیر
وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…
Read the full tafseer →اس دن سارے استحکامات ٹوٹ پھوٹ جائیں گے: یعنی خاندانوں اور قبیلوں کی عصبیتوں کی طرح اس دن قلعوں، گڑھیوں اور عمارتوں کے سارے استحکامات بھی درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔ اس دن پہاڑوں تک کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنکی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے۔ یعنی جس طرح دھنکی ہوئی اون کا ریشہ ریشہ الگ ہو جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں کا ذرہ ذرہ بھی پراگندہ ہو جائے گا۔
پہاڑوں کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے ہوا کہ قیامت کے منکرین پہاڑوں کو غیر فانی خیال کر کے بطور استہزاء آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے تھے کہ کیا جب قیامت آئے گی تو وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی؟ ان کے اس سوال کا حوالہ اور اس کا جواب قرآن مجید میں مذکور…
Read the full tafseer →عھن، اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، منفوش، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جسکی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →2 یعنی جیسے دھنیا اون یا روئی کو دھنک کر ایک ایک پھاہا کر کے اڑا دیتا ہے۔ اسی طرح پہاڑ متفرق ہو کر اڑ جائیں گے۔ اور رنگین اون سے شاید اس لئے تشبیہ دی کہ بہت کمزور اور ہلکی ہوتی ہے۔ نیز قرآن میں دوسری جگہ پہاڑوں کے رنگ بھی کئی قسم کے بیان فرمائے ہیں ( ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ) 35 ۔ فاطر :27)
Read the full tafseer →آیت 5{ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ۔ } ”اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔“
العِھْن : رنگ دار اون کو کہتے ہیں اور مَنْفُوْش کے معنی ہیں دھنی ہوئی۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے بلکہ ریزہ ریزہ ہو کر رنگ دار اون کی طرح ہوا میں اُڑ رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →4 یعنی زمین میں پہاڑوں کی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ پھر وہ زمین بوس ہوں گے۔ اس دن گرد و غبار بن کر اڑتے پھریں گے۔ پہاڑوں کے بھی چونکہ مختلف رنگ ہوتے ہیں کوئی لال، کوئی کہیں سے سفید، کوئی کالا اور اسی طرح اون کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس لیے جب پہاڑ ہوا میں اڑیں گے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے دھنکی ہوئی اور رنگی ہوئی اون کے گالے اڑ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2۔ یعنی جس طرح دھنکی ہوئی اون ہلکے پھلکے ہو کر اڑے اڑے پھرتے ہوں گے۔ (آیت) ” یکون ..... المبثوث “۔ وجوہ تشبیہ پروانوں اور مجمع حشر کے درمیان متعدد ہیں۔ مثلا تعداد کا بیشمار ہونا، منتشر ہونا، بےبس ہونا، سب کا ایک ہی طرف بےاختیار کھنچے چلے جانا وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ کھڑا کھڑانے والی یعنی قیامت جو کہ دلوں کو اپنی ہولناکی سے کھڑ کھڑا دے گی کیا ہے وہ کھڑ کھڑا دینے والی ؟ (یہ استفہام) قیامت کی ہولناکی کی شان کو بیان کرنے کے لئے ہے، (مالاقارعۃ) م بتداء خبر ہیں اور مبتداء خبر سے مل کر القارعۃ کی خبر ہے اور تم کیا جانو کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ یہ قیامت کی مزد ہولناکی کا بیان ہے، (ما ادرک ما القارعۃ مبتداء خبر سے مل کر مفعول ثانی ہے، جس دن انسان پریشان پر وانوں کی طرح ہوجائیں گے یوم کا ناصب وہ ہے جس پر القارعۃ دلالت کرتا ہے یعنی تقرع یعنی ٹٹڈی کے منتشر بچے جو حیرانی کی وجہ سے ایک…
Read the full tafseer →و تکون الجبال کالعھن . العھن : رنگارنگ کا اون اور پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح ہوں گے۔ رنگا
رنگی وصف تشبیہ ہے۔
المنفوش . اون بھی دھنکی ہوئی ‘ پہاڑوں کے ذرّات پراگندہ ہوا میں اڑتے ہوں گے اور رنگ برنگ کے ہوں
گے گویا دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون ہوا میں منتشر و پریشان ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) قیامت کیسی کچھ قیامت ہے اور کیوں کہ دلوں کو ہلا دے گی اس لیے اس کو قارعہ بولا گیا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →وتکون الجبال کا لھعھن المنفوش :’ الجھن“ اون یا رنگین اون۔”المنفوش“ ڈھن کی ہوئی۔ قیامت کے دن پہاڑ دھنک کر اون یا روئی کے گالوں کی طرح کردیئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفاً) (طہ : 105)”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ میرا رب انہیں خوب اچھی طرح دھنک کر رکھ دے گا۔“ چونکہ پہاڑ سرخ ، سیاہ ، سفید اور بیشمار رنگوں والے ہیں، اسلئے جب وہ دھنکے جائیں تو رنگی اور دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔ قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال کے لئے دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوں گے۔
ایسی اون جسے ہاتھ سے دھنکا جائے، یعنی پہاڑ باریک ذرات ہوجائیں گے اور اپنی جگہ چھوڑ دیں گے، جس طرح اللہ نے ایک اور موقع پر فرمایا : ھباء منبثا۔ (الواقعہ) اہل لغت کہتے ہیں : العھن سے مراد رنگ دار اون ہے۔ سورة سأل سائل میں یہ بات گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…
Read the full tafseer →[وَتَكُوْنُ الْجبالُ : اور ہوجائیں گے سارے پہاڑ ][ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ : دُھنی ہوئی رنگین اون کی مانند ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة القارعة کا ترجمہ ہے، القارعیہ قرع یقرع اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ہے کھڑکھڑانے والی چیز، جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ اپنے اپنے مشغولوں میں کاروباری دھندوں میں لگے ہوں گے۔ کوئی سور ہا ہوگا، کوئی جاگ رہا ہوگا وہ بغتة یعنی اچانک آجائے گی۔ ساری زمین میں جو زندہ لوگ ہوں گے اور زمین کے اندر جو مردے ہوں گے سب ہی کو کھڑا کر دے گی، ذہنوں میں اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے اول فرمایا : ﴿اَلْقَارِعَةُۙ001﴾ (کھڑکھڑانے والی) اس میں بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں سب انسان اس کی مخاطب ہیں۔
قیامت کی کھڑکھڑاہٹ بیان کرتے ہوئے انسانوں کے اور پہاڑوں کے بعض حالات بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔
حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12)
(ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3:۔ ” یوم یکون “ یہ القارعہ کا بیان ہے۔ قیام کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو خوف و ہراس سے نہایت پریشان ہوں گے اور پروانوں کی طرح ادھر ادھر منتشر ہوں گے جس طرح شمع پر پروانوں کا بےتحاشا اژدہام ہوتا ہے اور ان کی حرکات مختلف ہوتی ہیں گھبراہٹ کی وجہ سے۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے سورة الزلزال میں قیامت کے دن زمین کا حال بیان ہوا اور یہاں پہاڑوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔
موضوع
پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔
قیامت کے مختلف نام
قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…
Read the full tafseer →وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ 5 ۭ
جبل
الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل :
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7]
( ج ب ل )
قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟
عهن
العِهْنُ : الصّوف المصبوغ . قال تعالی: كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ [ القارعة/ 5] ، و تخصیص العِهْنِ لما فيه من اللّون کما ذکر في قوله : فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] ، ورمی بالکلام علی عَوَاهِنِهِ أي : أورده من غير فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ۔ (القارعۃ : 4، 5)
(جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے۔ )
وقوعِ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر
اس آیت میں وقوع قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہورہا ہے کہ جیسے ہی قیامت کے برپا ہونے کا آغاز ہوگا تو لوگ اس کی ہولناکی سے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے، دماغی توازن برقرار نہیں رہے گا، لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جس طرح بکھرے ہوئے پروانے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر پھر رہے ہوتے ہیں۔ اس دن کسی کے ساتھ نہ اس کا خاندان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
فہم القرآن
ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔
عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…
Read the full tafseer →5 : وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ( اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے) آیت میں پہاڑوں کو عھنؔ سے تشبیہ دی اور وہ مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی اون کو کہتے ہیں کیونکہ پہاڑ کئی رنگ کے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا ] فاطر : 27[ اور المنفوش دھنی ہوئی اون سے تشبیہ دی کیونکہ ان کے اجزاء بھی منتشر ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →5 ۔” وتکون الجبال کالعھن المنفوش “ دھنکی ہوئی روئی کی طرح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…
Read the full tafseer →رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ (كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ) دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے جو نہایت کمزورر ہوگئی جسے معمولی سی ہوا بھی اڑائے پھرتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمرالسحاب۔ النمل 88) اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہوجائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے جس کو دیکھا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5) قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کو ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز اکھڑ جائیں گے یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے جو آج اس قدر پختگی اور مضبوطی سے زمین میں گڑھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے عظیم الشان میخیں بن کر زمین کے اس عظیم الشان کرے کو قابو کر رکھا ہے، یہ اس روز روئی کے بےوزن گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، سو اس دن خاندانوں اور قبیلوں کی عصبیتوں کی طرح یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ بھی اکھڑ جائیں گے، جن کو منکر لوگ غیر فانی اور اٹل سمجھ کر آج پیغمبر سے استہزاء کے طور پر سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کا کیا بنے گا ؟ اور جب پہاڑوں کا حال یہ ہوگا تو پھر لوگوں کی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
عظیم حادثہ کیا ہے ؟
تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة القارعہ۔
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
۔4 یعنی نیک اموال کم اور برے اعمال زیادہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →(101:5) وتکون الجبال کالعھن المنفوش : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ العھن وہ رنگین اون جو مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی ہو۔ منفوش : نفش (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ دھنکی ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن :
القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ
تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حالات قیامت ۔
(ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
[1] اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جو بڑی بھاری آفت کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة القارعۃ
اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…
Read the full tafseer →(5) اور پہاڑ کی دھنکی ہوئی رنگین اون کی مثل ہوجائیں گے - چونکہ پہاڑ اڑتے پھریں گے اور ان پہاڑوں میں مختلف رنگ ہیں جیسا کہ سورة فاطر اور سو رہ معارج میں گزرا ہے اس لئے ان کو رنگیں اون کے ساتھ تشبیہہ دی اب آگے نامہ اعمال تولے جانے کے بعد جو تقسیم ہوگی اس کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 5۔ مراد قیامت ہے کہ قلوب کو فزع سے اور اسماع کو شدید سے کھڑ کھڑا دے گی اور اس کا کھڑ کھڑانا اس روز ہوگا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ وجہ تشبیہ ضعف اور کثرت بےتابی ہے گو بعض کو بےتابی نہ ہوگی مگر ضعف اور کثرت سب کے عام ہے۔
Read the full tafseer →اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے
5 ؎ ( العھن) عھن لغت میں رنگین اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں میں رنگی ہو۔ ( المنفوش) اسم مفعول واحد مذکر جس کے معنی ہیں دھنا ہوا ۔ اس کا مادہ نش ہے ۔ نفیش پراگندہ سامان کو کہتے ہیں جو ادھر ادھر بکھرا پڑا ہے۔ نفش اون یا روئی کا دھنکنا ۔ انگلیوں سے کسی چزے کو بکھیر دینا ۔ رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے لیے چھوڑ دینا ہے۔ روئی یا اون کے دھنکنے پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں وہ بھی ایک ایک بار ۔ ایک زیر نظر آت میں ( المنفوش) اور دوسرا سورة الانبیاء کی آیت 78 میں ( نفثت) کا لفظ ۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے حادثہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed
This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds.
We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…
Read the full tafseer →2 This will be the tirst stage of Resurrection, when in consequence of the Great Disaster the whole of the present order of the world will be overthrown; the people then will be running about in confusion and bewilderment like so many scattered moths around a light; and the mountains will be flying about like carded wool of different colours. The mountains have been compared to wool of different colours because of the existence of a variety of colours in them.
Read the full tafseer →