Al-Qaari'a 101:6

Al-Qaari'a · from ayah 6

101:6

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ ۟ۙفَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ

تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then as for one whose scales are heavy [with good deeds],

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a

All translations of 101:6

پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب جس شخص کے پلڑے وزنی ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ شخص کہ جس (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو لیکن وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جس کے پلے بھاری ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جس کسی کا پلہ بھاری نکلے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جن لوگوں کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he whose scales weigh heavier

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, as for him whose scales (of good deeds) are heavy,

— Muhammad Taqi Usmani

Then, as for him whose scales (of good deeds) are heavy,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then as for him whose Balance will be heavy,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, as for him whose scales are heavy (with good works),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then as for one whose scales are heavy [with good deeds],

— Saheeh International

Those whose good deeds will weigh heavier (on the scale)

— Muhammad Sarwar

Then as for him whose measure of good deeds is heavy,

— Muhammad Habib Shakir

Then as for him whose balances are heavy,

— Abdul Majid Daryabadi

Then, he whose balance (of good deeds) will be (found) heavy,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 101:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة القارعہ 3 یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے جب دوبارہ زندہ ہو کر لوگ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دن صرف نیک اعمال کام آئیں گے: اس دن واحد کام آنے والی چیز آدمی کے نیک اعمال ہوں گے۔ ہر شخص کے اعمال تولے جائیں گے۔ جس کی میزان بھاری ہو گی وہ تو فلاح پائے گا اور جس کی میزان ہلکی رہ جائے گی وہ نامراد ہو گا۔ اس دن جو میزان نصب ہو گی وہ خاص میزان ہو گی جو لوگوں کے اعمال ہی کے تولنے کے لیے نصب کی جائے گی۔ سورۂ انبیاء میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ (الانبیاء ۲۱: ۴۷) ’’اور ہم قیامت کے دن کے لیے خاص میزان عدل مقرر کریں گے۔‘‘ اس دن اور اس میزان کا خاص وصف سورۂ اعراف میں یہ بیان ہوا ہے کہ اس دن وزن صرف حق کے اندر ہو گا، باطل کے اندر سرے سے کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 موازین، میزان کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر (وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۝) 7۔ الاعراف :8) (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 15۔) 18۔ الکہف :15) اور (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47؀) 21۔ الانبیاء :47) میں بھی گزرا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ترازو کے پلڑوں کے بھاری ہونے اور خفیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں اعتبار ہے اور وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں ہے ، یہی بات قرآن کریم کے مجموعی انداز بیان سے معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم ! رہے وہ عقلی اور لفظی مباحث جو ان امور کے بارے میں مفسرین ومتکلمین کرتے ہی۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ مباحث وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن کریم کی حقیقی ترجیحات اور اہتمامات سے واقف نہیں ہوتے۔ فاما من ................ موازینہ (6:101) ” پھر جس کی قدریں اہم ہوں گی “ اور اللہ کے ہاں وہ درست ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

3 یعنی جس کے اعمال وزنی ہوں گے وہ اس روز خاطر خواہ عیش وآرام میں رہے گا اور اعمال کا وزن اخلاص و ایمان کی نسبت سے ہوگا۔ دیکھنے میں کتنا ہی بڑا عمل ہو مگر اخلاص کی روح نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں کچھ وزن نہیں رکھتا۔ (فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا) 18 ۔ الکہف :105)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–11

آیت 6{ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ۔ } ”تو جن لوگوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک ہی قسم کے وزن یا میزان کے ایک ہی پلڑے کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ”مَوَازین“ سے مراد یہاں نیکیوں کا وزن ہے۔ یعنی حساب کے وقت ہر شخص کی نیکیوں کا وزن کر کے دیکھا جائے گا کہ یہ وزن ”مطلوبہ معیار“ کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور یہ ”مطلوبہ معیار“ بھی ہر شخص کا الگ الگ اس کے ”شاکلہ“ کے مطابق ہوگا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی استطاعت پیدائشی صلاحیتوں اور ماحول کے منفی و مثبت اثرات کے مطابق دوسرے شخص کی استطاعت سے مختلف ہوگی اور ہر شخص اپنی استطاعت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–8

5 موازین کے مختلف معنی اور میزان الاعمال کی صورتیں : اس آیت میں نفخہ ئصور ثانی کے بعد میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا جارہا ہے۔ جبکہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ مَوَازِیْنُ کا واحد موزون بھی ہے اور میزان بھی۔ اور ان دونوں کی جمع موازین آتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ صرف موزون یا کچھ وزن رکھنے والی باتوں کو ہی تولا جائے گا۔ اور اللہ کے نزدیک وزن دار یا قابل قدر باتیں صرف نیک اعمال ہیں اور ان کے ساتھ ایمان ہونا بھی شرط اول ہے۔ کیونکہ کافروں کے نیک اعمال کا بھی وزن نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة کہف کی آیت نمبر 105 میں فرمایا کہ (فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

3۔ یعنی جنت کے دائمی عیش میں۔ (آیت) ” ثقلت موازینہ “۔ یعنی جس کے اعمال وزنی نکلیں گے، اعمال میں وزن جبھی پیدا ہوتا ہے، جب وہ مومن سے شریعت کے موافق صادر ہوں، منکر کے اعمال، اور مسلم کے خلاف شریعت اعمال سب بےوزن رہ جاتے ہیں۔ (آیت) ” راضیۃ “۔ یہاں مرضیۃ (پسندیدہ) کے معنی میں ہے۔ قال المفسرون تفسیر ھا مرضیۃ علی معنی یرضاھا صاحبھا (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–11

فاما من ثقلت یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے کہ جب دوبارہ زندہ ہو کر انسان اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ وزن اعمال کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب : قرآن مجید میں بروز قیامت وزن اعمال کا مسئلہ بہت سی آیات میں مختلف عنوانوں سے آیا ہے اور روایات حدیث میں اس کی تفصیلات بیشمار ہیں، وزن اعمال کے متعلق جو تفصیلی بیان آپ ﷺ کی احادیث میں آیا ہے، اس میں ایک بار تو یہ قابل غور ہے کہ متعدد روایات میں آیا ہے کہ محشر کی میزان عدل میں سب سے بھاری وزن کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا ہوگا۔ ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاما من ثقلت موازینہ . یوم یکون الناس میں انسانوں کی حالت مجمل بیان کی گئی تھی۔ یہاں سے تفصیل شروع کردی۔ موازین ‘ موزون کی جمع ہے اس سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو انسان کے سامنے تولا جائے گا اور اعمال سے مراد بھی اعمال صالحہ ہیں کیونکہ وجود اعمال کا اصل مقصد ہی اعمال صالحہ کا وجود ہے ‘ یا موازین میزان کی جمع ہے اور اس سے مراد ہے نیکیوں والا پلڑہ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ میزان عدل کی زبان بھی ہوگی اور دو پلڑے بھی (جیسے عموماً ترازو کے ہوتے ہیں) ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے اور ابن مبارک نے زبد میں اور ابو الشیخ نے تفسیر میں نیز اجری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–11

(6۔ 11)۔ سو جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا یعنی مون تو وہ دلپسند جنت میں ہوگا اور کافر کا ٹھکانا ایک دہکتی ہوئی آگ ہوگی جس میں وہ گرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاما من ثقلت موازینہ :”موازین“ ”میزان“ کی جمع ہے ، ترازو۔ مراد ترازو کے پلڑے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (8، 9) کی تفسیر۔ اس کے بعد اعمال کا وزن ہوگا۔”من ثقلت موازینہ“ (جس کے پلڑے بھاری ہوگئے) سے مراد نیکیوں کے پلڑے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

پھر جس کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند عیش (و مسرت) میں ہوگا اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ ایک دہکتی ہوئی آگ۔ میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَمَا مَنْ : پس وہ جو ہے ][ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ : بھاری ہوئے جس کے ترازو (پلڑے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

ارشاد فرمایا :﴿فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗۙ006 فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍؕ007﴾ (پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا وہ خاطر خواہ آرام میں ہوگا یعنی جنت میں جائے گا) ایسے حضرات کو ایسی زندگی ملے گی جس سے راضی اور خوش ہوں گے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ راضیۃ بمعنی مرضیۃ ہے جیسا کہ ورضواعنہ کی تفسیر میں بیان کیا گیا کہ اہل جنت اپنی نعمتوں سے پوری طرح دل و جان سے راضی ہوں گے اور وہ اپنی زندگی کو بہت ہی عمدہ طیبہ جانتے اور مانتے ہوں گے کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف اور ناگواری انہیں محسوس نہ ہوگی اپنے احوال اور نعمتوں میں خوش اور مگن ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–11

4:۔ ” فاما من ثقلت۔ بشارت اخرویہ۔ قیامت کے دن جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نہایت خوش و خرم ہوں گے اور اپنی پسندیدہ عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوں گے۔ ” راضیۃ “ بمعنی مرضیۃ (قرطبی) ۔ ” واما من خفت “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” امہ “ ای مستقرہ (قرطبی عن الاخفش) ۔ اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا ان کا ٹھکانہ ہاویہ میں ہوگا۔ ہایہ دوزخ کے ناموں میں سے ہے۔ ” وما ادراک ماھیہ “ تمہیں کیا معلوم ہاویہ کیا چیز ہے وہ نہایت ہی سخت اور تند و تیز آگ ہے۔ ھیہ میں ہاء برائے سکتہ ہے۔ مثنوی میں ہاویہ کا جو معنی ذکر کیا گیا ہے وہ ظاہر قرآن کے خلاف ہے پس شد جائے دلش در ھاویہ ہیچ میدانی چہ باشد مایہ آتش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَمَّا مَنْ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُہٗ۝ 6 ۙ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُـہٗ ۔ فَھُوَا فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ (القارعۃ : 6، 7) (پھر جس شخص کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ وہ دلپسند عیش میں ہوگا۔ ) قیامت روزجزا بھی ہے اور روزعدل بھی آیتِ کریمہ میں مَوَازِیْنُ کا لفظ جمع ہے جس کا واحد موزون بھی ہوسکتا ہے اور میزان بھی۔ پہلی صورت میں مَوَازِیْنُسے مراد نیک اعمال ہوں گے۔ اور دوسری صورت میں مَوَازِیْنُ کا معنی ترازو کے دو پلڑے ہوں گے جن میں ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ میزان کا لفظ وزن کے معنی میں ہے۔ تینوں صورتوں میں مدعا اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیاں زیادہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدر والا وزن : 6 : فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ (پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا) حق کی پیروی کے سبب۔ موازین یہ موزون کی جمع ہے۔ وہ ایسے عمل کو کہتے ہیں۔ جس کا وزن اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر ہو۔ نمبر 2۔ جمع میزان ہے بمعنی ترازو۔ اور ثقل سے مراد اس کا جھک جانا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس وقت ترازو نصب کردی جائیں گی اور لوگو دو قسموں میں منقسم ہوجائیں گے خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ (فَاَمَّا مَنْ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ ) پس جس کے اعمال کے وزن بھاری نکلیں گے۔ یعنی جس کی نیکیاں برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

(5) قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کو ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز اکھڑ جائیں گے یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے جو آج اس قدر پختگی اور مضبوطی سے زمین میں گڑھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے عظیم الشان میخیں بن کر زمین کے اس عظیم الشان کرے کو قابو کر رکھا ہے، یہ اس روز روئی کے بےوزن گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، سو اس دن خاندانوں اور قبیلوں کی عصبیتوں کی طرح یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ بھی اکھڑ جائیں گے، جن کو منکر لوگ غیر فانی اور اٹل سمجھ کر آج پیغمبر سے استہزاء کے طور پر سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کا کیا بنے گا ؟ اور جب پہاڑوں کا حال یہ ہوگا تو پھر لوگوں کی اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(101:6) فاما من ثقلت موازنہ : (یعم یکون الناس میں انسانوں کی حالت مجمل بیان کی گئی تھی یہاں سے تفصیل شروع ہے) یہ جملہ شرطیہ ہے۔بمعنی پھر۔ اما حرف شرط ہے اکثر تفصیل کے لئے آتا ہے۔ بمعنی سو ہے۔ من شرطیہ استعمال ہوا ہے۔ بمعنی جس کا۔ ثقلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ثقل (باب کرم) مصدر سے ہے جس کا معنی گراں بار ہونے کے ہیں۔ موازینہ جمع ہے موزون کی یا میزان کی جو وزن سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ وزن کیا ہوا۔ موازین وہ اعمال جو ترازو میں تولے گئے ہوں جو وزن کئے گئے ہوں۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع من ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر تو جس کے اعمال تول میں بھاری ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–8

[1] اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جو بڑی بھاری آفت کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–7

ف 5۔ مراد قیامت ہے کہ قلوب کو فزع سے اور اسماع کو شدید سے کھڑ کھڑا دے گی اور اس کا کھڑ کھڑانا اس روز ہوگا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ وجہ تشبیہ ضعف اور کثرت بےتابی ہے گو بعض کو بےتابی نہ ہوگی مگر ضعف اور کثرت سب کے عام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس وقت جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا 6 ؎ (موازینہ) مازین جمع مضاف ہے اور واحد اس کی میزان اور موذون ہے ۔ ہٗ ضمیر مضاف الیہ ۔ ترازو یا وزن کیے جانے والے اعمال ۔ مختلف اعمال ہونے کے باعث جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔ وزن کسی چیز کا مقدار کی پہچان ہے۔ عوام کے نزدیک کسی چیز کو ترازو سے تولنے کو وزن کرنا کہتے ہیں ۔ ( راغب) اور حقیقت میں وزن کے معنی تولنا ہے اور تولنے سے چیز کی صحیح مقدار معلوم ہوجاتی ہے اور یہی وزن کی اصل غرض وغایت ہے اس لیے وزن کے معنی جانچنے اور مقدار کے پہنچاننے کے ہوگئے۔ موزون چیز تو وہی ہوتی ہے جس کی کوئی جسمانیت ہو لیکن اکثر غیر جسمانی چیزوں کے لیے بھی وزن کا استعمال کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–11

Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

3 From here begins description of the second stage of Resurrection when after having been resurrected men will appear in the Court of God.

Read the full tafseer →