Al-Qaari'a 101:4

Al-Qaari'a · from ayah 4

101:4

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۟ۙيَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِۙ‏

(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is the Day when people will be like moths, dispersed,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a

All translations of 101:4

وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن سارے لوگ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اس سے مراد) وہ یومِ قیامت ہے جس دن (سارے) لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن لوگ منتشر پتنگوں کے مانند ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن ہوجائیں گے لوگ بکھرے ہوئے (پتنگوں اور) پروانوں کی طرح

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی مانند ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day human beings shall be like scattered moths,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will happen) on a day when people will be like scattered moths,

— Muhammad Taqi Usmani

(It will happen) on a day when people will be like scattered moths,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is a Day whereon mankind will be like moths scattered about.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day wherein mankind will be as thickly-scattered moths

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is the Day when people will be like moths, dispersed,

— Saheeh International

On that day, people will be like scattered moths

— Muhammad Sarwar

The day on which men shall be as scattered moths,

— Muhammad Habib Shakir

A Day whereon mankind shall become as moths scattered,

— Abdul Majid Daryabadi

(It is) a Day whereon men will be like moths scattered about,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 101:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–4

سورة القارعہ 1 اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے " ٹھونکنے والی " قرع کے معنی کسی چیز کو کسی چیز پر زور سے مارنے کے ہیں جس سے سخت آواز نکلے۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں قرعتہم القارعہ یعنی فلاں قبیلے یا قوم کے لوگوں پر سخت آفت آگئی ہے۔ قرآن مجید میں بھی ایک جگہ یہ لفظ کسی قوم پر بڑی مصیبت نازل ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورة رعد میں ہے وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ۔ " جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت نازل ہوتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دن کوئی کسی کا ساتھ نہیں دے گا: اس دن جس صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے کہ اس دن لوگ پراگندہ پتنگوں کے مانند ہوں گے۔ نہ کسی کے ساتھ اس دن اس کا خاندان و قبیلہ ہو گا، نہ کسی کی کوئی جماعت و جمعیت ہو گی اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ہی ہوں گے جن کے اعتماد پر لوگ نچنت ہیں۔ بلکہ لوگ قبروں سے متفرق نکلیں گے اور ہر ایک کو سابقہ صرف اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ سورۂ زلزال میں فرمایا ہے: یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّیُرَوْا أَعْمَالَہُمْ (الزلزال ۹۹: ۶) ’’اس دن لوگ قبروں سے متفرق ہو کر نکلیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔‘‘ سورۂ مومنون میں فرمایا ہے: فَإِذَا نُفِخَ فِی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

4۔ 1 فراش، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مبثوث، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–5

یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 کہ ہر ایک ایک طرف کو بےتابانہ چلا جاتا ہے۔ گویا پروانوں کے ساتھ تشبیہ ضعف، کثرت بیتابی اور حرکت کی بےانتظامی میں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–4

آیت 2{ مَا الْقَارِعَۃُ۔ } ”کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !“ قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور عظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چناچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں : قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ۔۔۔۔ یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹا ڈالے گی اور دنیا کی ہرچیز کو تہ وبالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے اور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 یہ کیفیت نفخہ صور اول کے وقت ہوگی۔ یعنی اس دن لوگ اس قدر بدحواس اور گھبراہٹ کا شکار ہوجائیں گے کہ نہایت بدنظمی کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے ہوں گے۔ جیسے پروانے اپنی کثرت، ضعف اور بدنظمی کی وجہ سے شمع تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں۔ ان کا ہدف شمع ہوتی ہے جو گرمی کی وجہ سے انہیں بھون ڈالتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ موت کے منہ میں جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

2۔ یعنی جس طرح دھنکی ہوئی اون ہلکے پھلکے ہو کر اڑے اڑے پھرتے ہوں گے۔ (آیت) ” یکون ..... المبثوث “۔ وجوہ تشبیہ پروانوں اور مجمع حشر کے درمیان متعدد ہیں۔ مثلا تعداد کا بیشمار ہونا، منتشر ہونا، بےبس ہونا، سب کا ایک ہی طرف بےاختیار کھنچے چلے جانا وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ کھڑا کھڑانے والی یعنی قیامت جو کہ دلوں کو اپنی ہولناکی سے کھڑ کھڑا دے گی کیا ہے وہ کھڑ کھڑا دینے والی ؟ (یہ استفہام) قیامت کی ہولناکی کی شان کو بیان کرنے کے لئے ہے، (مالاقارعۃ) م بتداء خبر ہیں اور مبتداء خبر سے مل کر القارعۃ کی خبر ہے اور تم کیا جانو کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ یہ قیامت کی مزد ہولناکی کا بیان ہے، (ما ادرک ما القارعۃ مبتداء خبر سے مل کر مفعول ثانی ہے، جس دن انسان پریشان پر وانوں کی طرح ہوجائیں گے یوم کا ناصب وہ ہے جس پر القارعۃ دلالت کرتا ہے یعنی تقرع یعنی ٹٹڈی کے منتشر بچے جو حیرانی کی وجہ سے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم یکون الناس . یوم ظرف منصوب ہے ‘ اس کا فعل محذوف مضمر ہے جس پر القارعۃ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ یعنی وہ ساعت اس روز کھٹ کھٹائے گی جب لوگ اس طرح ہوں گے یا لفظ یوم کا نصب اس وجہ سے ہے کہ اس جگہ جملہ کی طرف مضاف ہے ‘ ورنہ اس کو مرفوع ہونا چاہیے کیونکہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ ساعت ایسا دن ہوگا جس میں لوگ ہوں گے۔ کالفراش المبثوث . منتشر پتنگوں کی طرح جو ٹوٹ کر آگ میں گرتے ہیں۔ کثرت حقارت ‘ شدت ہول کے سبب ایک کا دوسرے پر چڑھ جانا اور مجمع کا لہریں مارنا وصف مشترک ہے جس کی بناء پر آگ میں گرنے والے پتنگوں سے میدان حشر میں جمع ہونے والے آدمیوں کو تشبیہ دی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قیامت کیسی کچھ قیامت ہے اور کیوں کہ دلوں کو ہلا دے گی اس لیے اس کو قارعہ بولا گیا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یوم یکون الناس کالفراش المبثوث :”الفراش“ اسم جنس ہے، مفرد کے لئے ”فراشہ“ آتا ہ، پروانے۔ یعنی جس طرح پروانے بیشمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرداڑتے ، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے آگ کی طرف تیزی سے جا رہے ہوتے ہیں اسی طرح سب لوگ ایس ہی پریشانی اور تیزی کے ساتھ میدان محشر میں بلانے والے کی طرف جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(خشعاً ابصارھم یخرجون من الاجاث کانھم جراد منتشر، مطعین الی الذاع) (القمر : 8، 8)”ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔ پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے۔“ اور فرمایا :”مھطعین مقنعی رؤسھم لایرتد الیھم طرفھم و افدتھم ھوآئ)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ یوم یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی : تکون القارعۃ یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ قتادہ نے کہا : فراش سے مراد وہ پتنگ ہے جو آگ اور دیئے میں گرتا ہے اس کا واحد فراشہ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : اس سے مراد مچھر وغیرہ ہے اسی معنی میں مکڑی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے ؛ ھو اطیش من فراشۃ وہ پتنگ سے بھی زیادہ بےعقل ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وقد کان اقوام رددت قلوبھم۔۔۔ الیھم وکانوا کالفراش من الجھل وہ ایسے لوگ تھے تو نے جن کے دلوں کو ان کی طرف پھیر دیا جبکہ وہ جہالت کی وجہ سے پتنگوں کی مانند تھے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَوْمَ يَكُوْنُ النَاسُ : جس دن ہوجائیں گے لوگ ][ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ : بکھیرے ہوئے پتنگوں کی مانند ] یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کا ایک مطلب یہ بھی لیا گیا ہے کہ یہ اس وقت کی کیفیت کا بیان ہے جب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے۔ لیکن اگلی آیت میں پہاڑوں کی جس کیفیت کا بیان ہے اس کی بنیاد پر یہ رائے زیادہ قرین قیاس نہیں ہے۔ (مرتب) اعمال کے وزن کی وضاحت الاعراف کی آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ کے نوٹ۔ 2 میں کی جا چکی ہے۔ مورخہ 13 ۔ صفر 1432 ھ بمطابق 18 ۔ جنوری 2011 ئ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة القارعة کا ترجمہ ہے، القارعیہ قرع یقرع اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ہے کھڑکھڑانے والی چیز، جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ اپنے اپنے مشغولوں میں کاروباری دھندوں میں لگے ہوں گے۔ کوئی سور ہا ہوگا، کوئی جاگ رہا ہوگا وہ بغتة یعنی اچانک آجائے گی۔ ساری زمین میں جو زندہ لوگ ہوں گے اور زمین کے اندر جو مردے ہوں گے سب ہی کو کھڑا کر دے گی، ذہنوں میں اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے اول فرمایا : ﴿اَلْقَارِعَةُۙ001﴾ (کھڑکھڑانے والی) اس میں بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں سب انسان اس کی مخاطب ہیں۔ قیامت کی کھڑکھڑاہٹ بیان کرتے ہوئے انسانوں کے اور پہاڑوں کے بعض حالات بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3:۔ ” یوم یکون “ یہ القارعہ کا بیان ہے۔ قیام کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو خوف و ہراس سے نہایت پریشان ہوں گے اور پروانوں کی طرح ادھر ادھر منتشر ہوں گے جس طرح شمع پر پروانوں کا بےتحاشا اژدہام ہوتا ہے اور ان کی حرکات مختلف ہوتی ہیں گھبراہٹ کی وجہ سے۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے سورة الزلزال میں قیامت کے دن زمین کا حال بیان ہوا اور یہاں پہاڑوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ۝ 4 ۙ كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له قلیل الانفکاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ۔ (القارعۃ : 4، 5) (جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے۔ ) وقوعِ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر اس آیت میں وقوع قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہورہا ہے کہ جیسے ہی قیامت کے برپا ہونے کا آغاز ہوگا تو لوگ اس کی ہولناکی سے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے، دماغی توازن برقرار نہیں رہے گا، لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جس طرح بکھرے ہوئے پروانے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر پھر رہے ہوتے ہیں۔ اس دن کسی کے ساتھ نہ اس کا خاندان اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ (جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے) نحو : یومؔ یہ تقرع فعل جس پر القارعہؔ دلالت کرتا ہے اس کی وجہ سے منصوب ہے۔ پھسلنے اور ضعف میں مشابہت دی ہے : یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ انسانوں کو کثرت میں پروانوں سے تشبیہ دی ہے اور پھیلنے اور ضعف اور ذلت و عاجزی اور بلانے والے کی طرف فوراً جانے میں بھی مشابہت دی ہے۔ کہ جس طرح پروانے آگ کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ یہ داعی کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ فراشاؔ کو فراش انتشا رو تفرق کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔ یوم یکون الناس کالفراش المبثوث “ فراش ووہ پرندے جن کو تو دیکھتا ہے کہ وہ آگ میں گرتے ہیں یعنی پروانے اور مبثوث جدا اور فراء (رح) فرماتے ہیں ٹڈیوں کے لشکر لوگوں کو بعث کے وقت ان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے میں ملے ہوئے ہوں گے اور ہولناکی کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہوں گے۔ جیسا کہ فرمایا : ” کانھم جراد منتشر “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–4

(اَلْقَارِعَةُ ) قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کردے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلْقَارِعَةُ ۝ۙمَا الْقَارِعَةُ ۝ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ ۝ۭيَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ ) کھڑ کھڑا دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی ؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑا کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ جس دن ہوجائیں گے لوگ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ( كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ) بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) قیامت کے روز لوگوں کے حال کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے، یعنی کثرت تعداد کی بناء پر اور وہاں کی ہولناکی و نفسا نفسی اور فزع اکبر ( بڑا گھبراہٹ) کی وجہ سے والعیاذ باللہ جل وعلا،۔ سو اس روز نہ کسی کے ساتھ اس کا قبیلہ و خاندان ہوگا، اور نہ کوئی جمعیت اور جماعت اور نہ ان کے ا شرکاء و شفاء میں سے کوئی ہوگا، جن کے سہارے پر آج دنیا کے اسا دار الغرور میں یہ لوگ نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں، بلکہ اس روز یہ سب اپنی قبروں سے متفرق نکلیں گے، ہر ایک یکا و تنہا پیش ہوگا، اور ہر کسی کو خود اپنے ہی اعمال اور کیے کرائے سے سابقہ اور واسطہ پیش آئے گا، نفسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی سخت گھبرائے ہوئے اور پریشان حال ہونگے۔ جدھر کسی کا منہ اٹھے گا چل کھڑا ہوگا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(101:4) یوم یکون الناس کالفراش المبثوث : یوم ظرف منصوب ہے اس کا فعل محذوف مضمر ہے جس پر القارعۃ کا لفظ دلالت کر رہا ہے یعنی وہ ساعت اس روز کھٹکھٹائے گی جب لوگ اس طرح ہوں گے (یعنیکالفراش المبثوث) ۔ یا لفظ یوم کا نصب اس وجہ سے ہے کہ اس جگہ جملہ کی طرف مضاف ہے۔ ورنہ اس کا مرفوع ہونا چاہیے۔ کیونکہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی وہ ساعت ایسا دن ہوگا جس میں لوگ کالفراش المبثوث ہوں گے۔ (تفسیر مظہری) کالفراز المبثوث : ک حرف تشبیہ۔ الفراش جمع۔ الفراشۃ واحد پتنگے، پروانے، موصوف۔ المثوث : بث (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، پراگندہ، بکھرے ہوئے۔ صفت۔ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح۔ (جس روز لوگ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–8

[1] اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جو بڑی بھاری آفت کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جس دن لوگ پر اندہ اور پریشا ن ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پروانے - فراش ان پر دار جانوروں کو کہتے ہیں جو روشنی پر آتے ہیں اور چراغ میں گرکر مرجاتے ہیں خواہ وہ ٹڈے ہوں، تیتریاں ہوں اور زہریلے اور بدبودا کیڑے ہوں۔ یہ کیڑے چونکہ کمزور اور بکثرت ہوتے ہیں اس لئے ان کے ضعف اور کثرت سے تشبیہ دی۔ نیز یہ کہ یہ پروانے مضطرب ہوتے ہیں کہ ایک جگہ قرار نہیں پاتے اسی طرح اس دن انسان مضطرب اور بےقرار و بےچین ہوں گے ایک جگہ آرام و اطمینان سے ن بیٹھ سکیں گے سورة قمر میں گزر چکا ہے کانھم جراد منتشر۔ بہرحال ان تین حالتوں کی وج سے پروانوں کے ساتھ تشبیہہ فرمائی آگے پہاڑوں کی تشبیہہ فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–7

ف 5۔ مراد قیامت ہے کہ قلوب کو فزع سے اور اسماع کو شدید سے کھڑ کھڑا دے گی اور اس کا کھڑ کھڑانا اس روز ہوگا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ وجہ تشبیہ ضعف اور کثرت بےتابی ہے گو بعض کو بےتابی نہ ہوگی مگر ضعف اور کثرت سب کے عام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس وقت لوگ پریشان پر وانوں کی طرح ہوجائیں گے 4 ؎ ( الفراش) جمع فراشۃ واحد ۔ پروانے ۔ پر دار چیونٹیاں ۔ چشت اور سبک آدمی ۔ اس جگہ مرا پر وانے ہیں اور زیر نظر آیت میں الفراش کو بطور اسم جنس استعمال کیا گیا ہے اور بجائے المبثوتۃ کے ( المبثوت) فرمایا جس طرح السحاب اگرچہ السحابۃ کی جمع ہے لیکن اسم جنس بھی ہے اس لیے سحاب مرکوم کہا جاتا ہے۔ ( المبثوث) اسم مفعول واحد مذکر منتشر پراگندہ ہے ، پھیلے ہوئے بث مصدر ( نصر و ضرب ) اس کا مادہ ب ت ث ہے۔ اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں اور بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے بث ، مبثوثۃ ، منبثا اور بثی وغیرہ ۔ پیچھے کھڑے کھڑانے ، کھٹکھٹانے کا ذکر تھا یعنی وقوع قیامت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–11

Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

1 "Qari'ah " literally means the "striking one" . Qar `is to strike one thing upon another so severely as to produce a noise. In view of this literal meaning, the word qari'ah is used for a dreadful disaster and a great calamity. At another place in the Qur'an this word has been used for a great affliction befalling a nation. In Surah Ar-Ra`d 31, it has been said: "As for the disbelievers, because of their misdeeds, one affliction or the other dces not cease to visit them every now and then." But, here the word al-Qari'ah has been for the Resurrection and in Surah AI-Haaqqah too the…

Read the full tafseer →