نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّی کَانَ کَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ
محمد بن حاتم، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، عثمان بن ابی سلیمان، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے رحلت نہیں فرمائی یہاں تک کہ آپ ﷺ کثرت کے ساتھ بیٹھ کر نمازیں پڑھنے لگے۔ (وصال سے پہلے آپ ﷺ نے کثرت سے بیٹھ کر نمازیں پڑھیں)
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ died (in this very state) that he observed most of his (Nafl) prayers in a sitting position.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ زَيْدٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ کَانَ أَکْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا
محمد بن حاتم، حسن حلوانی، زید بن حباب، ضحاک بن عثمان، عبداللہ بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک بھاری اور ثقیل ہوگیا تو آپ ﷺ کثرت سے بیٹھ کر نمازیں پڑھتے تھے۔
Aisha reported: When the Messenger of Allah ﷺ grew bulky and heavy he would observe (most of his Nafl) prayers sitting.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّی کَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَکَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَکَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّی تَکُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سائب بن یزید، مطلب بن ابی وداعہ، حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیٹھ کر نمازیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی رحلت سے ایک سال پہلے آپ ﷺ بیٹھ کر نفل پڑھنے لگے اور سورت اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ سورت لمبی سے لمبی ہوجاتی۔
Hafsa reported: Never did I see the Messenger of Allah ﷺ observing supererogatory prayer sitting till one year before his death when he would observe Nafl prayer in a sitting position, and he would recite the Surah (of the Quran) in such a slow-measured tone (that duration of its recital) became more lengthy than the one longer than this.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا بِعَامٍ وَاحِدٍ أَوْ اثْنَيْنِ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، اسحاق بن وہب، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Zuhri reported this hadith with the same chain of transmitters, except this that he made a mention of one year or two years.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّی صَلَّی قَاعِدًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، حسن بن صالح، سماک جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا وصال نہیں ہوا جب تک کہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز نہ پڑھ لی ہو۔
Jabir bin ahadeeth reported that the Apostle of Allah ﷺ observed (Nafl) prayer sitting before his death.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَی رَأْسِهِ فَقَالَ مَا لَکَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قُلْتُ حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّکَ قُلْتَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَی نِصْفِ الصَّلَاةِ وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ أَجَلْ وَلَکِنِّي لَسْتُ کَأَحَدٍ مِنْکُمْ
زہیر بن حرب، جریر، منصور، ہلال بن یساف، ابی یحیی، عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ مجھ سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہے تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ کو میں نے بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا میں نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے سر مبارک پر رکھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تجھے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہے اور آپ ﷺ بھی تو بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ صحیح ہے لیکن میں تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں۔
Abdullah bin Amr reported: It was narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ had said: The prayer observed by a person sitting is half of the prayer. I came to him ﷺ and found him praying in a sitting position. I placed my hand on his head. He said: O Abdullah bin Amr, what is the matter with you? I said: Messenger of Allah, it has been narrated to me that you said: The prayer of a man in a sitting position is half of the prayer, whereas you are observing prayer sitting. He (the Holy Prophet) said: Yes, it is so, but I am not like anyone amongst you.
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے اور ایک رکعت میں کچھ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي يَحْيَی الْأَعْرَجِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یحییٰ بن سعید، سفیان اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Yahya al-Araj with the same chain of transmitters.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے کہ اس میں سے ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے تو جب اس سے فارغ ہوتے تو دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آتا پھر آپ ﷺ ہلکی ہلکی دو رکعات پڑھتے۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ used to pray eleven rakahs at night, observing the Witr with a single rakah, and when he had finished them, he lay down on his right side, till the Muadhdhin came to him and he (the Holy Prophet) then observed two short rakahs (of Sunan of the dawn prayer).
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا تو فجر ظاہر ہوجاتی اور مؤذن آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ ﷺ دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔
Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , said that between the time when the Messenger of Allah ﷺ finished the Isha prayer which is called Atama by the people, he used to pray eleven rakahs, uttering the salutation at the end of every two rakahs, and observing the Witr with a single one. And when the Muadhdhin had finished the call (for the) dawn prayer and he saw the dawn clearly and the Muadhdhin had come to him, he stood up and prayed two short rakahs. Then he lay down on his right side till the Muadhdhin came to him for lqama.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْإِقَامَةَ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍو سَوَائً
حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ کچھ لفظی ردوبدل کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
(This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn Shihab, but in it no mention has been made of Iqama )
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِکَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْئٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، عبداللہ بن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان میں سے پانچ کو وتر بنا لیتے کسی میں نہ بیٹھتے سوائے اس کے آخر میں۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ used to observe thirteen rakahs of the night prayer. Five out of them consisted of Witr, and he did not sit, but at the end (for salutation).
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابوکریب، وکیع، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً بِرَکْعَتَيْ الْفَجْرِ
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک بن مالک، عروہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو رکعت کے ساتھ تیرہ رکعتیں نماز پڑھا کرتے تھے۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night including the two rakahs (Sunan) of the dawn prayer.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
یحییٰ بن یحیی، مالک، سعید بن ابی سعید، ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں نماز کس طرح پڑھتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رمضان ہو یا رمضان کے علاوہ آپ ﷺ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو اس طرح پڑھتے کہ ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ! پھر آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے، حضرت عائشہ ؓ عرض کرتی ہیں، اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ میری آنکھیں تو سوتی ہیں پر میرا دل نہیں سوتا۔
Abu Salama bin Abdul Rahman asked Aisha about the (night) prayer of the Messenger of Allah ﷺ during the month of Ramadan. She said: The Messenger of Allah ﷺ did not observe either in Ramadan or in other months more than eleven rakahs (of the night prayer). He (in the first instance) observed four rakahs. Ask not about their excellence and their length (i. e. these were matchless in perfection and length). He again observed four rakahs, and ask not about their excellence and their length. He would then observe three rakahs (of the Witr prayer). Aisha again said: I said: Messenger of Allah, do you sleep before observing the Witr prayer? He said: O Aisha, my eyes sleep but my heart does not sleep.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَائِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ہشام، یحیی، ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں اور پھر وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تو جب رکوع کا ارادہ ہوتا تو کھڑے ہوجاتے، پھر آپ ﷺ صبح کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت (سنت) پڑھتے۔
Abu Salama asked Aisha about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ She said: He observed thirteen rakahs (in the night prayer). He observed eight rakahs and would then observe Witr and then observe two rakahs sitting, and when he wanted to bow he stood up and then bowed down, and then observed two rakahs in between the Adhan and lqama of the dawn prayer.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا تِسْعَ رَکَعَاتِ قَائِمًا يُوتِرُ مِنْهُنَّ
زہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، یحییٰ بن بشر، معاویہ بن سلام، یحییٰ بن ابی کثیر، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا، باقی حدیث اسی طرح سے بیان فرمائی اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نو رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھتے وتر انہی میں سے ہوتے۔
Abu Salama reported that he asked Aisha about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) (during the night). The rest of the hadith is the same but with this exception that he (the Holy Prophet) observed nine rakahs including Witr.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَيْ أُمّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَتْ صَلَاتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً بِاللَّيْلِ مِنْهَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسلمہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، اے اماں جان! مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں خبر دیجئے، تو انہوں نے فرمایا آپ کی نماز رمضان اور رمضان کے علاوہ رات کو تیرہ رکعتیں ہوتی تھیں انہی میں سے دو رکعات فجر کی بھی ہوتیں۔
Abu Salama is reported to have said. I came to Aisha. I said: O mother, inform me about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: His (night prayer) in Ramadan and (during other months) was thirteen rakahs at night including two rakahs of Fajr.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ عَشَرَ رَکَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْکَعُ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَتْلِکَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
ابن نمیر، حنظلہ، قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز میں دس رکعتیں پڑھتے تھے اور ان کو ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنالیتے اور فجر کی دو رکعت پڑھتے تو یہ تیرہ رکعتیں ہوگئیں۔
It is reported on the authority of Aisha that the prayer of Allahs Messenger ﷺ in the night consisted of ten rakahs. He observed a Witr and two rakahs (of Sunan) of the dawn prayer, and thus the total comes to thirteen rakahs.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ کَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَی أَهْلِهِ قَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا کَانَ عِنْدَ النِّدَائِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَائَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوئَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّی الرَّکْعَتَيْنِ
احمد بن یونس، زہیر، ابواسحاق، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے اسود بن یزید سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بیان کی ہیں، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شروع رات میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں جاگتے پھر اگر آپ ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات کی طرف کوئی حاجت ہوتی تو اس حاجت کو پورا فرما لیتے پھر آپ ﷺ سو جاتے اور جب پہلی اذان ہوتی تو فورا اٹھ جاتے، اللہ کی قسم! حضرت عائشہ صدیقہ نے یہ نہیں فرمایا کہ کھڑے ہو کر اپنے اوپر پانی بہاتے اور نہ اللہ کی قسم یہ فرمایا کہ آپ ﷺ غسل فرماتے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ ﷺ کیا چاہتے اور اگر آپ ﷺ جنبی نہ ہوتے تو آپ ﷺ نماز کے لئے وضو فرماتے پھر دو رکعات نماز پڑھتے۔
Aisha thus reported about the (night prayer) of the Messenger of Allah ﷺ : He used to sleep in the early part of the night, and woke up in the latter part. If he then wished intercourse with his wife, he satisfied his desire, and then went to sleep; and when the first call to prayer was made he jumped up (by Allah, she, i. e. Aisha, did not say "he stood up" ), and poured water over him (by Allah she, i. e. Aisha, did not say that he took a bath but I know what she meant) and if he did not have an intercourse, he performed ablution, just as a man performs ablution for prayer and then observed two rakahs.
رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ حَتَّی يَکُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوِتْرُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحییٰ بن آدم، عمار بن زریق، ابواسحاق، اسود، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی نماز کے آخر میں وتر پڑھتے۔
Aisha observed that the Messenger of Allah ﷺ used to observe prayer in the night and the last of his (night) prayer was Witr.