مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 7 · 267 hadiths · Page 9 of 14

1730Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ قَالَ قُلْتُ أَيَّ حِينٍ کَانَ يُصَلِّي فَقَالَتْ کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّی

ہناد بن سری، ابواحوص، اشعث، مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ہمیشگی کو اگرچہ تھوڑا ہو پسند فرماتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نماز کس وقت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا جب مرغ کا چیخنا سنتے تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔

Masruq is reported to have asked Aisha about the action (most pleasing to) the Messenger of Allah ﷺ . She said: He (the Holy Prophet) loved (that action) which one keeps on doing regularly. I said (to Aisha): When did he pray (at night)? She replied: When he heard the cock crow, he got up and observed prayer.

1731Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْفَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرُ الْأَعْلَی فِي بَيْتِي أَوْ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا

ابوکریب، ابن بشر، مسعر، سعد بن ابراہیم، ابی سلمہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے آخری حصہ میں اپنے گھر میں یا اپنے پاس سوتے ہوئے ہی پایا (یعنی آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھ کر سو جاتے)۔

Aisha reported: Never did the earlier part of the dawn find the Messenger of Allah ﷺ but sleeping in my house or near me.

1732Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَإِنْ کُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، نصر بن علی، ابن ابی عمر، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابونضر، ابوسلمہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے باتیں فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔

Aisha reported: When the Apostle of Allah ﷺ had prayed the two rakahs (Sunan) of the dawn prayer, he would talk to me if I was awake, otherwise he would lie down.

1733Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

ابن ابی عمر، سفیان، زیاد بن سعد، ابی عتاب، ابوسلمہ، حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کرتی ہیں۔

A hadith like this has been narrated by Aisha by another chain of transmitters.

1734Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا أَوْتَرَ قَالَ قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ

زہیر بن حرب، جریر، اعمش، تمیم بن سلمہ، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ رات کی نماز پڑھ لیتے اور وتر پڑھنے لگتے تو مجھے فرماتے اے عائشہ اٹھو اور وتر پڑھو۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pray in the night and when he observed Witr, he said to me: O Aisha, get up and observe Witr.

1735Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے اور وہ عائشہ ؓ آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتیں تو جب وتر پڑھنے باقی رہ جاتے تو آپ ﷺ ان کو جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں۔

Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ used to offer prayer at night while she lay in front of him, and when the Witr prayer was yet to be observed, he would awaken her and she observed Witr.

1736Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ وَاسْمُهُ وَاقِدٌ وَلَقَبُهُ وَقْدَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ

یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، ابویعفور، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم مسروق، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ سحر کے وقت آپ ﷺ کے وتر کی نماز پہنچ گئی۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ observed the Witr prayer every night and he completed Witr at the time of dawn.

1737Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حصین، یحییٰ بن وثاب، مسروق، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر کی نماز رات کے ہر حصہ میں سے ابتدائی رات اور درمیانی رات اور رات کے آخر میں پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وتر (کی نماز) سحر کے وقت تک پہنچ گئی۔

Masruq reported on the authority of Aisha that she said that the Messenger Of Allah ﷺ used to observe the Witr prayer every night, maybe in the early part of night, at midnight and in the latter part, finishing his Witr at dawn.

1738Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ قَاضِي کِرْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی آخِرِ اللَّيْلِ

علی بن حجر، حسان قاضی، کرمان، سعید بن مسروق، ابی ضحی، مسروق، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وتر کی نماز رات کے آخر تک پہنچ گئی۔

Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe Witr every night, and he would (at times) complete his Witr at the end of the night.

1739Sahih Muslim

جب آپ ﷺ سوئے رہتے یا کوئی تکلیف وغیرہ ہوتی تو آپ ﷺ تہجد کی نماز (دن کو پڑھتے)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْکُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّی يَمُوتَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِکَ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِکَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ لَکُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِکَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ کَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَی رَجْعَتِهَا فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْکَ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَی حَکِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا قَالَ فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَائَ فَانْطَلَقْنَا إِلَی عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَحَکِيمٌ فَعَرَفَتْهُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ مَنْ مَعَکَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ خَيْرًا قَالَ قَتَادَةُ وَکَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْآنَ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أَمُوتَ ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا وَأَمْسَکَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَائِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاکَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّکُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَکَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا سَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الْأَوَّلِ فَتِلْکَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَکَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَکَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّی لَيْلَةً إِلَی الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا کَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ لَوْ کُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّی تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُکَ حَدِيثَهَا

محمد بن مثنی، محمد بن ابی عدی، سعید بن قتادہ، زرارہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر ؓ نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی حیاہ طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں بھی ایسا کرنے سے روک دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد ؓ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنالیا پھر وہ حضرت ابن عباس ؓ کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں جانتا ہے! حضرت سعد ؓ نے کہا وہ کون ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: حضرت عائشہ ؓ، تو ان کی طرف جا اور ان سے پوچھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا، حضرت سعد ؓ نے کہا کہ میں پھر حضرت عائشہ ؓ کی طرف چلا، حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ کی طرف لے کر چلو، وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ ؓ کی طرف لے کر نہیں جاسکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں (علی اور معاویہ) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں، حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی حضرت عائشہ ؓ نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عائشہ ؓ نے حکیم بن افلح کو پہنچان لیا اور فرمایا: کیا یہ حکیم ہیں؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں! حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: تیرے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ نے فرمایا ہشام کون ہے؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ ؓ نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے، حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ عامر غزوہ احد میں شہید کر دئے گئے تھے، تو میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے! حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا ہاں، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوجاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام کے بارے میں بتائیے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو نے (یَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ) نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کے قیام کو فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا، حضرت سعد ؓ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اے ام المومنین مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز وتر کے بارے میں بتائیے! تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کو جب چاہتا بیدار کردیتا تو آپ ﷺ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ ﷺ اٹھتے اور سلام نہ پھیر تے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ ﷺ بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ ﷺ سلام پھیرتے سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں، اے میرے بیٹے! پھر جب اللہ کے نبی کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ ﷺ کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح کہ پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں اے میرے بیٹے! اور اللہ کے نبی ﷺ جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام کیا جائے اور جب آپ ﷺ پر نیند کا غلبہ ہوتا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کو قیام نہ ہوسکتا ہو تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے، حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا، راوی کہتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں ان کی حدیث آپ کو بیان نہ کرتا۔

Sad bin Hisham bin Amir decided to participate in the expedition for the sake of Allah, so he came to Madinah and he decided to dispose of his property there and buy arms and horses instead and fight against the Romans to the end of his life. When he came to Madinah, he met the people of Madinah. They dissuaded him to do such a thing, and informed him that a group of six men had decided to do so during the lifetime of the Apostle of Allah ﷺ and the Apostle of Allah ﷺ forbade them to do it, and said: Is there not for you a model pattern in me? And when they narrated this to him (Sad bin Hisham), he returned to his wife, though he had divorced her and made (people) witness to his reconciliation. He then came to Ibn Abbas and asked him about the Witr of the Messenger of Allah ﷺ . Ibn Abbas said: Should I not lead you to one who knows best amongst the people of the world about the Witr of the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Who is it? He (Ibn Abbas) said: It is Aisha. So go to her and ask her (about Witr) and then come to me and inform me about her answer that she would give you. So I came to Hakim bin Aflah and requested him to take me to her. He said: I would not go to her, for I forbade her to speak anything (about the conflict) between the two groups, but she refused (to accept my advice) and went (to participate in that conflict). I (requested) him (Hakim) with an oath to lead me to her. So we went to Aisha and we begged permission to meet her. She granted us permission and we went in. She said: Are you Hakim? (She recognised him.) He replied: Yes. She said: Who is there with you? He said: He is Sad bin Hisham. She said: Which Hisham? He said: He is Hisham bin Amir. She blessed him (Amir) with mercy from Allah and spoke good of him (Qatada said that he died as a martyr in Uhud). I said: Mother of the Faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah ﷺ . She said: Dont you read the Quran? I said: Yes. Upon this she said: The character of the Apostle of Allah ﷺ was the Quran. He said: I felt inclined to get up and not ask anything (further) till death. But then I changed my mind and said: Inform me about the observance (of the night prayer) of the Messenger of Allah ﷺ . She said: Did you not recite:" O thou wrapped up"? He said: Yes. She said: Allah, the Exalted and the Glorious, made the observance of the night prayer at the beginning of this Surah obligatory. So the Apostle of Allah ﷺ and his Companions around him observed this (night prayer) for one year. Allah held back the concluding portion of this Surah for twelve months in the Heaven till (at the end of this period) Allah revealed the concluding verses of this Surah which lightened (the burden of this prayer), and the night prayer became a supererogatory prayer after being an obligatory one. I said: Mother of the Faithful, inform me about the Witr of the Messenger of Allah ﷺ . She said: I used to prepare a tooth stick for him and water for his ablution, and Allah would rouse him to the extent He wished during the night. He would use the tooth stick, and perform ablution, and would offer nine rakahs, and would not sit but in the eighth one and would remember Allah, and praise Him and supplicate Him, then he would get up without uttering the salutation and pray the ninth rakah. He would then sit, remember, praise Him and supplicate Him and then utter a salutation loud enough for us to hear. He would then pray two rakahs sitting after uttering the salutation, and that made eleven rakahs. O my son, but when the Apostle of Allah ﷺ grew old and put on flesh, he observed Witr of seven, doing in the two rakahs as he had done formerly, and that made nine. O my son, and when the Apostle of Allah ﷺ observed prayer, he liked to keep on observing it, and when sleep or pain overpowered him and made it impossible (for him) to observe prayer in the night, he prayed twelve rakahs daring the day. I am not aware of Allahs Prophet ﷺ having recited the whole Quran during one single night, or praying through the night till morning, or fasting a complete month, except Ramadan. He (the narrator) said: I then went to Ibn Abbas and narrated to him the hadith (transmitted from her), and he said: She says the truth. If I went to her and got into her presence, I would have listened to it orally from her. He said: If I were to know that you do not go to her. I would not have transmitted this hadith to you narrated by her.

1740Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ بن ہشام ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی جائیداد بیچنے کے لئے مدینہ منورہ کی طرف چلے گئے اس کے بعد آگے حدیث اسی طرح ذکر کی۔

Zurara bin Aufa said that Sad bin Hisham divorced his wife, and then proceeded to Madinah to sell his property, and the rest of the hadith is the same.

1741Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں پوچھا اور پوری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ہشام کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابن عامر، وہ کہنے لگیں وہ کتنے اچھے آدمی تھے یہ عامر غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔

Sad bin Hisham reported: I went to Abdullah bin Abbas and asked him about the Witr prayer, and the rest of the hadith is the same as recorded in this event. She (Hadrat Aisha) said: Who is that Hisham? I said: Son of Amir. She said: What a fine man Amir was! He died as a martyr in the Battle of Uhud.

1742Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ کَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سَعِيدٍ وَفِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَفِيهِ فَقَالَ حَکِيمُ بْنُ أَفْلَحَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُکَ بِحَدِيثِهَا

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ہشام ؓ ان کے ہمسائے تھے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہشام کون ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ابن عامر، حضرت عائشہ ؓ فرمانے لگیں کہ وہ کیا ہی اچھے آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا کہ اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ تو ان کے پاس نہیں جاتا تو میں ان کی حدیث تیرے سامنے بیان نہ کرتا۔

Zurara bin Aufa reported that Sad bin Hisham was his neighbour and he informed him that he had divorced his wife and he narrated the hadith like the one transmitted by Sad. She (Aisha) said: Who is Hisham? He said: The son of Amir. She said: What a fine man he was; he participated in the Battle of Uhud along with the Messenger of Allah ﷺ . Hakim bin Aflah said: If I ever knew that you do not go to Aisha, I would not have informed you about her hadith (So that you would have gone to her and heard it from her orally).

1743Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنْ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابی عوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کسی درد یا کسی اور وجہ سے فوت ہوجاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے۔

Aisha reported that when the Messenger of Allah ﷺ missed the night prayer due to pain or any other reason, he observed twelve rakahs during the daytime.

1744Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ وَکَانَ إِذَا نَامَ مِنْ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّی الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ

علی بن خشرم، عیسی، ابن یونس، شعبہ، قتادہ، زرارہ ابن اوفی، سعد بن ہشام انصاری، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر دوام فرماتے اور جب رات کو سو جاتے یا بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعات نماز پڑھ لیتے تھے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ ساری رات بیدار رہے ہوں اور نہ ہی رمضان کے علاوہ پورا مہینہ رو زے رکھے ہوں۔

Aisha reported that when the Messenger of Allah ﷺ decided upon doing any act, he continued to do it, and when he slept at night or fell sick he observed twelve rakahs during the daytime. I am not aware of Allahs Messenger ﷺ observing prayer during the whole of the night till morning, or observing fast for a whole month continuously except that of Ramadan.

1745Sahih Muslim

رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ کُتِبَ لَهُ کَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ

ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سائب بن یزید، عبیداللہ بن عبدللہ، عبدالرحمن، بن عبدالقاری، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی وظیفہ سے یا اس میں سے کسی عمل سے سو جائے تو فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان کرلے تو اس کے لئے اس طرح لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اس نے رات کو ہی پڑھ لیا۔

Umar bin Khattab reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Should anyone fall asleep and fail to recite his portion of the Quran, or a part of it, if he recites it between the dawn prayer and the noon prayer, it will be recorded for him as though he had recited it during the night.

1746Sahih Muslim

صلوة الاوابین چاشت کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَی قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنْ الضُّحَی فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ

زہیر بن حرب، ابن نمیر، اسماعیل ابن علیہ، ایوب، قاسم شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت زید ؓ بن ارقم ؓ نے ایک جماعت کو دیکھا کہ وہ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ اس وقت ہے جس وقت اونٹ کے بچوں کے پیر گرم ہوجائیں۔

Zaid bin Arqam, on seeing some people praying in the forenoon, said: They well know that prayer at another time than this is more excellent, for Allahs Messenger ﷺ said: The prayer of those who are penitent is observed when your weaned camels feel the heat of the sun.

1747Sahih Muslim

صلوة الاوابین چاشت کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَهْلِ قُبَائَ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ہشام بن ابی عبداللہ، قاسم شیبانی، زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبا والوں کی طرف نکلے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ کا وقت اس وقت ہے کہ جب اونٹ کے بچوں کے پیر جلنے لگ جائیں۔

Zaid bin Arqam reported that the Messenger of Allah ﷺ went out to the people of Quba and saw them observing prayer; upon this he said: The prayer of the penitent should be observed when the young weaned camels feel heat of the sun.

1748Sahih Muslim

رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت رات کے آخری حصہ میں ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُکُمْ الصُّبْحَ صَلَّی رَکْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّی

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، عبداللہ بن دینار، ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں ہیں تو جب تم میں سے کسی آدمی کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت اور پڑھ لے اس ساری نماز کو جو اس نے پڑھی ہے طاق کر دے گی۔

Ibn Umar reported that a person asked the Messenger of Allah ﷺ about the night prayer. The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer during the night should consist of pairs of rakahs, but if one of you fears morning is near, he should pray one rakah which will make his prayer an odd number for him.

1749Sahih Muslim

رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت رات کے آخری حصہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَةٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، سالم روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں ہے جب صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر آخری دو رکعتوں کو وتر (طاق) بنا لے۔

Salim reported on the authority of his father that a person asked the Apostle of Allah ﷺ about the night prayer. He said: It consists of pairs of rakahs, but if one fears morning is near, he should make it an odd number by praying one rakah.