حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَائَ أَنْ أُدْعَی لَهَا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا وَقَالَ امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّی يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْکَ قَالَ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ فَصَرَخَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَی مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ قَالَ قَاتِلْهُمْ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْکَ دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جھنڈا میں ایک ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوگا، اللہ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی امارت کی آرزو نہیں کی، حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں اس امید کو لے کر آپ کے سامنے آیا کہ آپ مجھے اس کام کے لئے بلا لیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا تو آپ نے جھنڈا حضرت علی ؓ کو عطا فرمایا اور آپ نے فرمایا جاؤ اور کسی طرف توجہ نہ کرو یہاں تک کہ اللہ تجھے (تیرے ہاتھوں) فتح عطا فرما دے، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی ؓ کچھ چلے اور پھر ٹھہر گئے اور کسی طرف توجہ نہیں کی پھر چیخ کر بولے، اے اللہ کے رسول! میں لوگوں سے کس بات پر قتال کروں؟ آپ نے فرمایا تم ان لوگوں سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ وہ لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللَّهِ ﷺ کی گواہی نہ دیں تو جب وہ لوگ اس بات کی گواہی دے دیں تو انہوں نے اپنا خون اور مال تم سے محفوظ کرلیا، سوائے کسی حق کے بدلہ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔
Suhail reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that Allahs Messenger ﷺ said on the Day of Khaibar: I shall certainly give this standard in the hand of one who loves Allah and his Messenger and Allah will grant victory at his hand. Umar bin Khattab said: Never did I cherish for leadership but on that day. I came before him with the hope that I may be called for this, but Allahs Messenger ﷺ called Ali bin Abu Talib and he conferred (this honour) upon him and said: Proceed on and do not look about until Allah grants you victory, and Ali went a bit and then halted and did not look about and then said in a loud voice: Allahs Messenger, on what issue should I fight with the people? Thereupon he (the Prophet) said: Fight with them until they bear testimony to the fact that there is no god but Allah and Muhammad is his Messenger, and when they do that then their blood and their riches are inviolable from your hands but what is justified by law and their reckoning is with Allah.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ هَذَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوکُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ يَکُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ يَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم سہل بن سعد قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن ابی حازم حضرت سہل بن سعد ؓ خبر دیتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا میں یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو عطا کروں گا کہ جس کے ہاتھوں پر اللہ فتح عطا فرمائیں گے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ لوگ ساری رات اسی بات کا تذکرہ کرتے رہے کہ جھنڈا کس (خوش نصیب) کو عطا کیا جائے گا؟ راوی کہتے ہیں جب صبح ہوئی اور سب لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ان میں سے ہر ایک آدمی کی یہ آرزو تھی کہ یہ جھنڈا اسے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا علی ؓ بن ابی طالب کہاں ہیں؟ تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا وہ ہیں، اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لئے دعا فرمائی، حضرت علی ؓ بالکل صحیح ہوگئے گویا کہ ان کو کوئی تکلیف ہی نہیں تھی، پھر آپ نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا فرمایا تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لوگ ہماری طرح ہوجائیں، تو آپ نے فرمایا آہستہ آہستہ چل یہاں تک کہ تو ان کے میدان میں اتر جائے پھر تو ان کو اسلام کی دعوت دے اور ان کو خبر دے کہ ان پر اللہ کا جو حق واجب ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ تیری وجہ سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تیرے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔
Sahl bin Sad reported that Allahs Messenger ﷺ said on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person at whose hand Allah would grant victory and who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him also. The people spent the night thinking as to whom it would be given. When it was morning the people hastened to Allahs Messenger ﷺ all of them hoping that that would be given to him. He (the Holy Prophet) said: Where is Ali bin Abu Talib? They said: Allahs Messenger, his eyes are sore. He then sent for him and he was brought and Allahs Messenger ﷺ applied saliva to his eyes and invoked blessings and he was all right, as if he had no ailment at all, and coraferred upon him the standard. Ali said: Allahs Messenger, I will fight them until they are like us. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Advance cautiously until you reach their open places, thereafter invite them to Islam and inform them what is obligatory for them from the rights of Allah, for, by Allah, if Allah guides aright even one person through you that is better for you than to possess the most valuable of the camels.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ کَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَکَانَ رَمِدًا فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ بِالرَّايَةِ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل برید بن ابی عبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ غزوہ خیبر میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، پھر حضرت علی ؓ فرمانے لگے کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہوں؟ پھر حضرت علی ؓ نکلے اور جا کر نبی ﷺ سے مل گئے تو جب اس رات کی شام ہوئی کہ جس کی صبح کو اللہ نے فتح عطا فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کل یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا یا یہ جھنڈا کل وہ آدمی لے گا کہ جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں یا آپ نے فرمایا وہ آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہو، اللہ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، پھر اچانک ہم نے حضرت علی ؓ کو دیکھا اور ہمیں اس کی امید نہیں تھی کہ یہ جھنڈا حضرت علی ؓ کو عطا کیا جائے گا، تو لوگوں نے عرض کیا یہ حضرت علی ؓ ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرما دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائی۔
Salama bin Akwa reported that it was Ali whom Allahs Apostle ﷺ left behind him (in the charge of his family and the Islamic State) on the occasion of the campaign of Khaibar, and his eyes were inflamed and he said: Is it for me to remain behind Allahs Messenger ﷺ ? So he went forth and rejoined Allahs Apostle ﷺ and on the evening of that night (after which) next morning Allah granted victory. Allahs Messenger ﷺ said: I will certainly give this standard to a man whom Allah and His Messenger love. or he said: Who loves Allah or His Messenger and Allah will grant him victory through him, and, lo, we saw Ali whom we least expected (to be present on that occasion). They (the Companions) said: Here is Ali. Thereupon Allahs Messenger (may peace be upon hin) gave him the standard. Allah granted victory at his hand.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَی زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي کُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُکَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَائٍ يُدْعَی خُمًّا بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِکٌ فِيکُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا کِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَی وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِکُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَکِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ کُلُّ هَؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ
زہیر بن حرب، شجاع بن مخلد ابن علیہ، زہیر اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان حضرت یزید بن حیان ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلمہ ؓ، حضرت زید بن ارقم ؓ کی طرف چلے تو جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو حضرت حصین ؓ نے حضرت زید ؓ سے کہا اے زید! تو نے بہت بڑی نیکی حاصل کی ہے کہ تو نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ سے یہ حدیث سنی ہے اور تو نے آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا ہے اور تو نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، اے زید! آپ نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنی ہیں، وہ ہم سے بیان کرو، حضرت زید بن ارقم ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم میری عمر بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے اور ایک زمانہ گزر گیا (جس کی وجہ سے) میں بعض وہ باتیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کو یاد رکھی تھیں، بھول گیا ہوں، اس وجہ سے میں تم سے بیان کروں تو تم اسے قبول کرو اور جو میں تم سے بیان نہ کروں تو تم اس کے بارے میں مجھے مجبور نہ کرنا، حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ایک پانی کہ جسے خم کہہ کر پکارا جاتا ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے پر ہمیں خطبہ ارشا فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا بعد حمد و صلوٰہ! آگاہ رہو اے لوگو! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا میرے پاس آئے تو میں اسے قبول کروں اور میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں، حضرت حصین ؓ نے حضرت زید ؓ سے عرض کیا اے زید! آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات ؓ اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا آپ کی ازواج مطہرات ؓ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں اور وہ سب اہل بیت میں سے ہیں کہ جن پر آپ کے بعد صدقہ (زکوٰہ، صدقہ و خیرات وغیرہ) حرام ہے، حضرت حصین ؓ نے عرض کیا وہ کون ہیں؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا حضرت علی ؓ کا خاندان، حضرت عقیل کا خاندان، آل جعفر، آل عباس، حضرت حصٰین نے عرض کیا ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا ہاں! ان سب پر صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے۔
Yazid bin Hayyan reported, I went along with Husain bin Sabra and Umar bin Muslim to Zaid bin Arqam and, as we sat by his side, Husain said to him: Zaid. you have been able to acquire a great virtue that you saw Allahs Messenger ﷺ listened to his talk, fought by his side in (different) battles, offered prayer behind me. Zaid, you have in fact earned a great virtue. Zaid, narrate to us what you heard from Allahs Messenger ﷺ . He said: I have grown old and have almost spent my age and I have forgotten some of the things which I remembered in connection with Allahs Messenger ﷺ , so accept whatever I narrate to you, and which I do not narrate do not compel me to do that. He then said: One day Allahs Messenger ﷺ stood up to deliver sermon at a watering place known as Khumm situated between Makkah and Madinah. He praised Allah, extolled Him and delivered the sermon and. exhorted (us) and said: Now to our purpose. O people, I am a human being. I am about to receive a messenger (the angel of death) from my Lord and I, in response to Allahs call, (would bid good-bye to you), but I am leaving among you two weighty things: the one being the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it. He exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said: The second are the members of my household I remind you (of your duties) to the members of my family. He (Husain) said to Zaid: Who are the members of his household? Arent his wives the members of his family? Thereupon he said: His wives are the members of his family (but here) the members of his family are those for whom acceptance of Zakat is forbidden. And he said: Who are they? Thereupon he said: Ali and the offspring of Ali, Aqil and the offspring of Aqil and the offspring of Jafar and the offspring of Abbas. Husain said: These are those for whom the acceptance of Zakat is forbidden. Zaid said: Yes.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ
محمد بن بکار بن ریان حسان بن ابراہیم، سعید بن مسروق، برید بن حیان حضرت زید بن ارقم ؓ نبی کریم ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam through another chain of transmitters.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ کِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَی وَالنُّورُ مَنْ اسْتَمْسَکَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ کَانَ عَلَی الْهُدَی وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت ابوحیان اس سند کے ساتھ اسماعیل کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں اور جریر کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے، جو اسے پکڑے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hayyan but with this addition:" The Book of Allah contains right guidance, the light, and whoever adheres to it and holds it fast, he is upon right guidance and whosoever deviates from it goes astray.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا وَإِنِّي تَارِکٌ فِيکُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا کِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنْ اتَّبَعَهُ کَانَ عَلَی الْهُدَی وَمَنْ تَرَکَهُ کَانَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَفِيهِ فَقُلْنَا مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لَا وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَکُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنْ الدَّهْرِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَی أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ
محمد بن بکار ابن ریان حسان ابرہیم سعید ابن مسروق، حضرت یزید بن حیان ؓ حضرت زید بن ارقم ؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ نے بہت خیر دیکھی ہے، رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل کی ہے اور آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور آگے حدیث ابوحیان کی روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ نے فرمایا آگاہ رہو! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ عزوجل کی کتاب ہے اور وہ اللہ کی رسی ہے، جو اس کی اتباع کرے گا، وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر رہے گا اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے کہا اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات ؓ اہل بیت ہیں؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم! ایک عورت ایک زمانے تک مرد کے ساتھ رہتی ہے پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف لوٹ جاتی ہے، اہل بیت سے مراد آپ کی ذات تھی اور آپ کے وہ عصبات کے جن پر آپ کے بعد صدقہ وغیرہ لینا حرام کردیا گیا ہے۔
Yazid bin Hayyan reported: We went to him (Zaid bin Arqam) and said to him. You have found goodness (for you had the honour) to live in the company of Allahs Messenger ﷺ and offered prayer behind him, and the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that lie said: Behold, for I am leaving amongst you two weighty things, one of which is the Book of Allah, the Exalted and Glorious, and that is the rope of Allah. He who holds it fast would be on right guidance and he who abandons it would be in error, and in this (hadith) these words are also found: We said: Who are amongst the members of the household? Arent the wives (of the Holy Prophet) included amongst the members of his house hold? Thereupon he said: No, by Allah, a woman lives with a man (as his wife) for a certain period; he then divorces her and she goes back to her parents and to her people; the members of his household include his ownself and his kith and kin (who are related to him by blood) and for him the acceptance of Zakat is prohibited.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اسْتُعْمِلَ عَلَی الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ فَأَبَی سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ مَا کَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ وَإِنْ کَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا فَقَالَ لَهُ أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ قَالَ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّکِ فَقَالَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْئٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ مروان کے خاندان میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ پر حاکم مقرر ہوا، اس حاکم نے حضرت سہل بن سعد ؓ کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی ؓ کو برا کہیں، تو حضرت سہل بن سعد ؓ نے (اس طرح کرنے سے) انکار کردیا تو اس حاکم نے حضرت سہل ؓ سے کہا اگر تو حضرت علی ؓ کو (اَلعَیَاذُ بِاللہِ ) برا کہنے سے انکار کرتا ہے تو تُو اس طرح کہہ (اَلعَیَاذُ بِاللہِ ) ابوالتراب ؓ پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت سہل ؓ فرمانے لگے حضرت علی ؓ کو تو ابوالتراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہیں تھا اور جب حضرت علی ؓ کو اس نام سے پکارا جاتا تھا تو وہ خوش ہوتے تھے، وہ حاکم حضرت سہل ؓ سے کہنے لگا ہمیں اس واقعہ کے بارے میں باخبر کرو کہ حضرت علی ؓ کا نام ابوالتراب کیوں رکھا گیا؟ حضرت سہل ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ) حضرت فاطمہ ؓ کے گھر تشریف لائے تو آپ نے گھر میں حضرت علی ؓ کو موجود نہ پایا، آپ نے فرمایا (اے فاطمہ! ) تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ تو حضرت فاطمہ ؓ نے عرض کیا میرے اور حضرت علی ؓ کے درمیان کچھ بات ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ غصہ میں آ کر باہر نکل گئے ہیں اور وہ میرے یہاں نہیں سوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا علی کو دیکھو کہ وہ کہاں ہیں؟ تو وہ آدمی (دیکھ) کر آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! حضرت علی ؓ مسجد میں سو رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ (مسجد میں) حضرت علی ؓ کے پاس تشریف لائے اور حضرت علی ؓ لیٹے ہوئے تھے اور ان کی چادر ان کے پہلو سے دور ہوگئی تھی اور ان کے جسم کو مٹی لگی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کے جسم سے مٹی صاف کرنا شروع کردی اور آپ فرمانے لگے ابوتراب! اٹھ جاؤ، ابوتراب اٹھ جاؤ۔
Sahl bin Sad reported that a person from the offspring of Marwan was appointed as the governor of Madinah. He called Sahl bin Sad and ordered him to abuse All Sahl refused to do that. He (the governor) said to him: If you do not agree to it (at least) say: May Allah curse Abu Turab. Sahl said: There was no name dearer to All than Abu Turab (for it was given to him by the Holy Prophet ﷺ himself) and he felt delighted when he was called by this name. He (the governor) said to him: Narrate to us the story of his being nanied as Abu Turab. He said: Allahs Messenger ﷺ came to the house of Fatima and he did not find Ali in the house; whereupon he said: Where is your uncles son? She said: (There cropped up something) between me and him which had annoyed him with me. He went out and did not rest here. Allahs Messenger ﷺ said to a person to find out where he was. He came and said: Allahs Messenger, he is sleeping in the mosque. Allahs Messenger ﷺ came to him and found him lying in the mosque and saw that his mantle had slipped from his back and his back was covered with dust and Allahs Messenger ﷺ began to wipe it away from him (from the body of Hadrat Ali) saying: Get up, covered with dust; get up, covered with dust.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَسَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُکَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَمِعْتُ غَطِيطَهُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب سلیمان بن بلال یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی ایک رات آنکھ کھل گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ میرے صحابہ میں سے کوئی ایسا نیک آدمی ہو جو رات بھر میری حفاظت کرے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے اسلحہ کی آواز سنی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے عرض کیا سعد بن ابی وقاص اے اللہ کے رسول میں آپ ﷺ کی خدمت میں پہرہ دینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ lay on bed during one night and said: Were there a pious person from amongst my companions who should keep a watch for me during the nightt? She said: We heard the noise of arms, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Who is it? And Sad bin Abi Waqqas said: Allahs MesseDger. I have come to serve as your sentinel. Aisha said: Allah s Messenger ﷺ slept (such a sound sleep) that I heard the noise of his snoring.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلَاحٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَائَ بِکَ قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے زمانے میں ایک رات آپ ﷺ جاگتے رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ میرے صحابہ ؓ میں سے کوئی ایسا نیک آدمی ہوتا جو رات بھر میری حفاظت کرتا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم نے اسلحہ کی کچھ جھنجھناہٹ سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے؟ عرض کیا سعد بن ابی وقاص رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا تو کس وجہ سے آیا ہے حضرت سعد نے عرض کیا کہ میرے دل میں رسول اللہ کی ذات اقدس کے بارے میں کچھ خوف سا محسوس ہوا اس لئے میں پہرہ دینے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو دعا دی پھر آپ ﷺ سو گئے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ ہم نے کہا یہ کون ہے؟
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ laid down on bed during one night on his arrival at Madinah and said: Were there a pious person from amongst my Companions who should keep a watch for me durin. the night? She (Aisha) reported: We were in this state that we heard the clanging noise of arms. lie (the Holy Prophet) said: Who is it? He said: This is Sad bin Abi Waqqas. Allahs Messenger ﷺ said to him: What brings you here? Thereupon he said: I harboured fear (lest any harm should come to) Allahs Messenger ﷺ , so I came to serve as your sentinel. Allahs Messenger ﷺ invoked blessings upon him. He then slept.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات جاگے سلیمان بن بلال کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Rumh with a slight variation of wording.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُا مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي
منصور بن ابر مزاحم ابراہیم، ابن سعد عبداللہ بن شداد حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ماں باپ کے لئے کسی کو جمع نہیں فرمایا سوائے حضرت سعد بن مالک ؓ یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص کے لئے آپ ﷺ نے احد کے دن حضرت سعد سے فرمایا اے سعد تیر پھینک میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔ (سبحان اللہ! کیا شان ہے حضرت سعد کی کہ جن پر اللہ کے نبی ﷺ اپنے ماں باپ کو قربان کر رہے ہیں، مترجم)۔
Abdullah bin Shaddad reported that he heard Allahs saying: Allahs Messenger ﷺ did not gather his parents except in case of Sad bin Malik that he said to him on the Day of Uhud: Shoot an arrow, may my father and mother be taken as ransom for you.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب اسحاق حنظلی محمد بن بشر مسعر ابن ابی عمر سفیان، مسعر سعد بن ابراہیم، عبداللہ بن حضرت علی ؓ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ali through another chain of transmitters.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ
عبداللہ بن مسلمہ قعنب سلیمان ابن بلال ابن سعید حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔
Sad b Abi Waqqas said: Allahs Messenger ﷺ gathered his parents for me on the Day of Uhud.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
قتیبہ بن سعید، ابن رمح لیث، سعد ابن مثنی عبدالوہاب حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Yabyl bin Said with the same chain of transmitters.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ فَسَقَطَ فَانْکَشَفَتْ عَوْرَتُهُ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی نَوَاجِذِهِ
محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل بکیر بن مسمار حضرت عامر بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے لئے احد کے دن اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا حضرت سعد فرماتے ہیں کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا کہ جس نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا اے سعد (ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي) تیر پھینک میرے ماں باپ تجھ پر قربان حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں نے بغیر پرکھے تیر کھینچ کر اس کے پہلو پر مارا جس سے وہ گرپڑا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک دیکھیں۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ gathered for him on the Day of Uhud his parents when a polytheist had set fire to (i. e. attacked fiercely) the Muslims. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said to him: (Sad), shoot an arrow, (Sad), may my mother and father be taken as ransom for you. I drew an arrow and I shot a featherless arrow at him aiming his side that lie fell down and his private parts were exposed. Allahs Messenger ﷺ laughed that I saw his front teeth.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُکَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّی يَکْفُرَ بِدِينِهِ وَلَا تَأْکُلَ وَلَا تَشْرَبَ قَالَتْ زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاکَ بِوَالِدَيْکَ وَأَنَا أُمُّکَ وَأَنَا آمُرُکَ بِهَذَا قَالَ مَکَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّی غُشِيَ عَلَيْهَا مِنْ الْجَهْدِ فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَی سَعْدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاکَ عَلَی أَنْ تُشْرِکَ بِي وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ فَقَالَ رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَعْطِنِيهِ قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قَالَ وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ قَالَ فَأَبَی قُلْتُ فَالنِّصْفَ قَالَ فَأَبَی قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ فَسَکَتَ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا قَالَ وَأَتَيْتُ عَلَی نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ فَقَالُوا تَعَالَ نُطْعِمْکَ وَنَسْقِکَ خَمْرًا وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ قَالَ فَأَکَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَذَکَرْتُ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ فَقُلْتُ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيْ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، موسیٰ زہیر سماک بن حرب، حضرت مصعب بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید میں سے کچھ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس سے کبھی بات نہیں کرے گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین کا انکار کریں اور وہ نہ کھائے گی اور نہ پئے گی وہ کہنے لگی اللہ نے تجھے اپنے والدین کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اور میں تیری والدہ ہوں اور میں تجھے اس بات کا حکم دیتی ہوں راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تین دن تک اسی طرح رہی یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوگئی تو اس کا ایک بیٹا کھڑا ہوا جسے عمارہ کہا جاتا ہے اس نے اپنی والدہ کو پانی پلایا تو حضرت سعد کو بد دعا دینے لگی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ تجھ سے اس بات پر جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بہت سا غنیمت کا مال آیا جس میں ایک تلوار بھی تھی تو میں نے وہ تلوار پکڑی اور اسے رسول اللہ کی خدمت میں لے کر آیا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے انعام کے طور پر عنایت فرما دیں اور میں کون ہوں اس کا آپ ﷺ کو علم ہی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جہاں سے تو نے لیا ہے وہیں لوٹا دے تو میں چلا یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس تلوار کو گودام میں رکھ دوں لیکن میرے دل نے مجھے ملامت کی اور پھر میں آپ ﷺ کی طرف لوٹا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں آپ نے مجھے اپنی آواز کی سختی سے فرمایا جہاں سے تو نے یہ تلوار لی ہے اس کو وہیں لوٹا دے تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ نال فرمائی آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں مال غنیمت کے حکم کے بارے میں حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا تو میں نے نبی ﷺ کی طرف پیغام بھیجا تو آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں اپنے مال جس طرح چاہوں تقسیم کروں حضرت سعد کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انکار کردیا میں نے عرض کیا آدھا مال تقسیم کر دوں آپ ﷺ نے اس سے بھی انکار فرما دیا میں نے عرض کیا تہائی مال تقسیم کر دوں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے پھر اس کے بعد یہی حکم ہوا کہ تہائی مال تقسیم کرنے کی اجازت ہے حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے کہا آئیں ہم آپ کو کھانا کھلاتے ہیں اور ہم آپ کو شراب پلاتے ہیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا تو میں نے دیکھ کہ ان کے پاس اونٹ کے سر کا گوشت بھنا ہوا پڑا ہے اور شراب کی ایک مشک بھی رکھی ہوئی ہے حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ گوشت بھی کھایا اور شراب بھی پی حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ان کے ہاں مہاجرین اور انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا مہاجر لوگ انصار سے بہتر ہیں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ایک آدمی نے سری کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے مجھے مارا تو میری ناک زخمی ہوگئی پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺ کا اس سارے واقعہ کی خبر دی تو اللہ عزوجل نے میری وجہ سے شراب کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ( اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ) 5۔ المائدہ: 90) شراب، جُوا، بت اور تیر یہ سب گندے اور شیطان کے کام ہیں۔
Musab bin Sad reported on the authority of his father that many verses of the Quran had been revealed in connection with him. His mother Umm Sad had taken oath that she would never talk with him until he abandoned his faith and she neither ate nor drank and said: Allah has commanded you to treat well your parents and I am your mother and I command you to do this. She passed three days in this state until she fainted because of extreme hunger and at that time her son whose name was Umara stood up and served her drink and she began to curse Sad that Allah, the Exalted and Glorions, revealed these verses of the Holy Quran:" And We have enjoined upon a person goodness to his parents but if they contend with thee to associate (others) with Me of which you have no knowledge, then obey them not" (xxix. 8) ; Treat thein with customary good in this world" (xxxi. 15). He also reported that there fell to the lot of Allahs Messenger ﷺ huge spoils of war and there was one sword in them. I picked that up and came to Allahs Messenger ﷺ and said: Bestow this sword upon me (as my share in the spoils of war) and you know my state. Thereupon he said: Return it to the place from where you picked it up. I went back until I decided to throw it in a store but my soul repulsed me so I came back and asked him to give that sword to me. He said in a loud voice to return it to the place from where I had picked it up. It was on this occasion that this verse was revealed:" They asked about the spoils of war" (viii. 1). He further said: I once fell ill and sent a message to Allahs Apostle ﷺ . He visited me and I said to him: Permit me to distribute (in charity) my property as much as I like. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) half of it. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) the third part, whereupon he kept quiet and it was after this (that the distribution of ones property in charity) to the extent of one-third was held valid. He further said: I came to a group of persons of the Ansir and Muhajirin and they said: Come, so that we may serve you wine, and it was before the use of wine had been prohibited. I went to them in a garden and there had been with them the roasted head of a camel and a small water-skin containing wine. I ate and drank along with them and there came under discussion the Ansr (Helpers) and Muhajirin (immigrants). I said: The immigrants are better than the Ansar, that a person picked up a portion of the head (of the camel and struck me with it that my nose was injured. I came to Allahs Messenger ﷺ and informed him of the situation that Aliah, the Exalted and Glorious, revealed verses pertaining to wine:" Intoxicants and the games of chance and (sacrificing to) stones set up and (divining by) arrows are only an uncleanliness, the devils work" (v. 90).
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ سِمَاکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ فَکَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ وَکَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، بن سماک بن حرب، حضرت مصعب بن سعد ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا میرے بارے میں چار آیات کریمہ نازل کی گئیں ہی زہیر عن سماک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ کی روایت میں یہ الفاظ زائدہ ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا لوگ جب چاہتے ہیں وہ میری والدہ کو کھانا کھلائیں تو اس کا منہ لکڑی سے کھولتے پھر اس کے منہ میں کچھ ڈالتے اور اس روایت میں ہے کہ حضرت سعد کے ناک پر انہوں نے مارا جس سے ان کی ناک چر گئی اور پھر چری ہی رہی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Simak and the hadith transmitted on the authority of Shubah (the words are): When they intended to feed her (Sad. s mother), they opened her mouth with the help of a stick and then put the feed in her mouth, and in the same hadith the words are: He struck the nose of Sad and it was injured and Sad had (the mark) of wound on his nose.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ فِيَّ نَزَلَتْ وَلَا تَطْرُدْ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ قَالَ نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَائِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن سفیان، مقدام بن شریح حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ اور نہ دور کرو ان لوگوں کو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں اور حضرت ابن مسعود ؓ انہی میں سے تھے اور مشرک کہتے تھے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے قریب رکھتے ہیں۔
Sad reported: This verse was revealed in relation to six persons and I and Ibn Masud were amongst them. The polytheists said to him (the Holy Prophet): Do not keep such persons near you. It was upon this that (this verse was revealed):" Drive not away those who call upon their Lord morning and evening desiring only His pleasure" (vi. 52).
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطْرُدْ هَؤُلَائِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا قَالَ وَکُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلَالٌ وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَطْرُدْ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ اسدی اسرائیل مقدام بن شریح حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ ہم چھ آدمی نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو مشرک لوگوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو یہ ہم پر جرات نہیں کرسکیں گے حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابن مسعود ؓ اور ہذیل کا ایک آدمی اور حضرت بلال اور دو آدمی جن کا نام نہیں جانتا تھا تو رسول اللہ کے دل میں جو اللہ نے چاہا واقع ہوا اور آپ ﷺ نے اپنے دل ہی میں باتیں کیں تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ان لوگوں کو دور نہ کرو جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔
Sad reported: We were six men in the company of Allahs Messenger ﷺ that the polytheists said to Allahs Apostle ﷺ : Drive them away so that they may not be overbold upon us. He said: I, Ibn Masud and a person from the tribe of Hudhail, Bilal (RA) and two other persons, whose names I do not know (were amongst such persons). And there occurred to Allahs Messenger ﷺ what Allah wished and he talked with himself that Allah, the Exalted and Glorious, revealed:" Do not drive away those who call their Lord morning and evening desiring to seek His pleasure."