فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 16 of 29

6242Sahih Muslim

حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالُوا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا

محمد بن ابی بکر مقدمی حامد بن عمر بکراوی محمد بن عبدالاعلی معتمر ابن سلیمان حضرت ابوعثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان دنوں میں کہ جن دنوں میں رسول اللہ ﷺ قتال (جہاد) کر رہے تھے سوائے حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے کوئی بھی نہیں رہا۔

Abu Uthman reported on one of the days when Allahs Messenger ﷺ was fighting and none remained with him save Talha and Sad.

6243Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

عمرو ناقد سفیان بن عیینہ، محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو جہاد کی ترغیب فرمائی حضرت زبیر ؓ نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے پھر جہاد کی ترغیب فرمائی پھر حضرت زبیر ؓ ہی نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ نے پھر ترغیب فرمائی تو پھر حضرت زبیر ؓ ہی نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں پھر نبی ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے کچھ خصوصی معاون ہوتے ہیں اور میرے خصوصی معاون زبیر ہے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ exhorting people on the Day of the Battle of the Ditch to fight. Zubair said: I am ready (to participate). He then again exhorted and he again said: I am ready to participate. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Behold. for every Prophet ﷺ there is a helper and my helper is Zubair.

6244Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

ابوکریب ابواسامہ ہشام عروہ ابوکریب اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، محمد بن منکدر حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔

Jabir reported this hadith through another chain of transmitters.

6245Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ قَالَ إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ فَکَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً فَيَنْظُرُ فَکُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي إِذَا مَرَّ عَلَی فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَبِي فَقَالَ وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ فَقَالَ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي

اسمعیل بن خلیل سوید بن سعدی ابن مسہر اسماعیل علی بن مسہر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اور حضرت عمرو بن ابی سلمہ غزوہ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان کے قلعہ ہی میں تھے تو کبھی وہ میرے لئے جھک جاتا تو وہ مجھے دیکھ لیتا اور کبھی میں اپنے باپ کو پہچان جاتا جب وہ مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہو کر بنی قریظہ کی طرف جاتے راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے حوالہ سے خبر دی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ سے کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے کیا تو نے مجھے دیکھا تھا میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اس دن رسول اللہ ﷺ نے میر لئے اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا اور آپ ﷺ نے فرمایا (فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي) میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔

Abdullah bin Zubair reported on the Day of the Battle of the Trench: I and Umar bin Abu Salama were with women folk in the fort of Hassan (b. Thabit). He at one time leaned for me and I cast a glance and at anothertime I leaned for him and he would see and I recognised my father as he rode on his horse with his arms towards the tribe of Quraizah. Abdullah bin Urwa reported fromAbdullah bin Zubair: I made a mention of that to my father, whereupon he said: My son, did you see me (on that occasion)? He said: Yes. Thereupon he said: By Allah, Allahs Messenger ﷺ addressed me saying: I would sacrifice for thee my father and my mother.

6246Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ کُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ فِي الْحَدِيثِ وَلَکِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ

ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عبداللہ بن زیبر ؓ سے روایت ہے کہ جب خندق ہوا تو میں اور حضرت عمرو بن ابی سلمہ اس قلعہ میں تھے کہ جس میں عورتیں تھیں یعنی نبی ﷺ کی ازواج مطہرات تھیں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں حضرت عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں ہے لیکن اس واقعہ کو ہشام عن ابیہ عن ابن الزیبر کی حدیث میں ملا دیا ہے۔

Abdullah bin Zubair reported: When it was the Day of the Battle of the Ditch I and Umar bin Salama were in the fort in which there were women, i. e. the wives of Allahs Apostle ﷺ ; the rest of the hadith is the same.

6247Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَی حِرَائٍ هُوَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتْ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْدَأْ فَمَا عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حرا پر تھے حضرت ابوبکر ؓ عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زیبر ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے تو وہ پتھر حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر سوائے نبی یا صدیق یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ was upon the mountain of Hira, and there were along with him Abu Bakr, Umar, Uthman. Ali, Talha, Zubair, that the mountain stirred; thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Be calm, there is none upon you but a Prophet, a Fiddle (the testifier of truth) and a Martyr.

6248Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَی جَبَلِ حِرَائٍ فَتَحَرَّکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْکُنْ حِرَائُ فَمَا عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

عبیداللہ بن محمد بن یزید بن خنیس احمد بن یوسف ازدی اسماعیل بن ابی اویس سلیمان بن بلال یحییٰ بن سعید سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے حرا ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر سوائے نبی یا صدیق یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے اور اس پہاڑ پر نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was on the mountain of Hira that it stirred; thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Hira! be calm, for there is none upon you but a Prophet, a Siddiq, a Shahid, and there were upon it Allahs Prophet ﷺ , Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Talha, Zubair, Sad bin Abi Waqqas (Allah be pleased witli them).

6249Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدَةُ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَبَوَاکَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمْ الْقَرْحُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبدہ حضرت ہشام ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ؓ نے مجھ سے فرمایا اللہ کی قسم تیرے دونوں باپ (یعنی زبیر اور ابوبکر ؓ ان لوگوں میں سے تھے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور اس کے رسول کا بعد اس کے کہ پہنچ چکے تھے ان کو زخم (ابوبکر عروہ کے باپ نہیں تھے بلک نانا تھے۔ نانا کو باپ بھی کہتے ہیں)۔

Hisham reported on the authority of his father (Urwa bin Zubair) that Aisha said: BY Allah, both fathers of yours are amongst those who have been mentioned in this verse:" Those who responded to the call of Allah and the Messenger after the misfortune had fallen upon them"

6250Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَکْرٍ وَالزُّبَيْرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ ابوبکر زبیر حضرت ہشام ؓ اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں صرف یہ الفاظ زائد ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت زبیر ہیں

This hadith has been narrated on the authority of Hisham through the same chain of transmitters but with this addition (that by both fathers of yours) he meant Abu Bakr (RA) and Zubair.

6251Sahih Muslim

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ کَانَ أَبَوَاکَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمْ الْقَرْحُ

ابوکریب محمد بن علاء، وکیع، اسماعیل حضرت عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ صدیقہ نے مجھ سے فرمایا تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے زخمی ہوجانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی۔

Urwa reported: Aisha said to me: Your fathers (Zubair and Abu Bakr) were amongst those about whom (it has been revealed):" Those who responded to the call of Allah and His Messenger after the misfortune had fallen upon them."

6252Sahih Muslim

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ خالد زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، خالد، حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ہمارے اس امت کے امین حضرت ابوعبیدہ بن جراح ہیں (اگرچہ اور صحابہ ؓ بھی امین تھے مگر ابوعبیدہ ؓ اوروں سے ممتاز تھے)۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: For every Umma there is a man of trust and the man of trust of this Umma is Abu Ubaida bin Jarrah.

6253Sahih Muslim

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

عمرو ناقد عفان حماد ابن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یمن کے علاقہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہمارے ساتھ کوئی ایسا آدمی بھیجیں کہ جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور آپ ﷺ نے فرمایا یہ اس امت کا امین ہے۔

Anas reported that the people of Yemen came to Allahs Messenger ﷺ and said: Send with us a person who should teach us Sunnah and al-Islam, whereupon he (the Holy Prophet) caught hold of the hand of Ubaida and said: He is a man of trust of this Umma.

6254Sahih Muslim

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَائَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْکُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق صلہ بن زفر حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نجران کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہماری طرف کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرف ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیج رہا ہوں کہ جو یقینا امانت دار ہے یقینا امانت دار ہے حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس طرف اپنی نظروں کو جما لیا راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو بھیجا۔

Hudhaifa reported that the people of Najran came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, send along with us a man of trust; whereupon he said: I would definitely send to you a man of trust, a man of trust in the true sense of the term. Thereupon his Companions looked up eagerly and he sent Abu Ubaida bin Jarrah.

6255Sahih Muslim

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

اسحاق بن ابراہیم، ابوداؤد جفری سفیان، حضرت ابواسحاق سے اس سند کے ساتھ مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Ishaq with the same chain of transmitters.

6256Sahih Muslim

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِحَسَنٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ

احمد بن حنبل سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی برید نافع بن جبیر حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن کے لئے فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying to Hasan: O Allah, behold, I love him. Thou too love him and love one who loves him.

6257Sahih Muslim

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ النَّهَارِ لَا يُکَلِّمُنِي وَلَا أُکَلِّمُهُ حَتَّی جَائَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّی أَتَی خِبَائَ فَاطِمَةَ فَقَالَ أَثَمَّ لُکَعُ أَثَمَّ لُکَعُ يَعْنِي حَسَنًا فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لِأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَائَ يَسْعَی حَتَّی اعْتَنَقَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ

ابن ابی عمر سفیان، عبداللہ بن ابی یزید نافع بن جبیر بن مطعم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دن کے کسی وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا نہ تو آپ ﷺ مجھ سے کوئی بات کرتے تھے اور نہ ہی میں نے آپ سے کوئی بات کی یہاں تک کہ ہم بنی قینقاع کے بازار میں آگئے پھر آپ ﷺ واپس ہوئے اور حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا کیا بچہ ہے؟ کیا بچہ ہے؟ یعنی حضرت حسن۔ تو ہم نے خیال کیا کہ ان کی ماں نے ان کو غسل کروانے کے لئے اور ان کو خوشبوں کا ہار پہنانے کے لئے روک رکھا ہے لیکن تھوڑی سی دیر کے بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ وہ دونوں یعنی آپ ﷺ اور حضرت حسن ایک دوسرے سے گلے ملے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported: I went along with Allalhs Messenger ﷺ at a time during the day but he did not talk to me and I did not talk to him until he reached Bazar of Bani Qainuqa. He came back to the tent of Fatima and said: Is the little chap (meaning Hasan) there? We were under the impression that his mother had detained him in order to bathe him and dress him and garland him with a sweet garland. Not much time had passed that he (Hasan) came running until both of them embraced each other, thereupon Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, I love him; love him Thou and love one who loves him (Hasan).

6258Sahih Muslim

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَی عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ

عبیداللہ بن معاذ ابی شیعبہ عدی ابن ثابت حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی ؓ کو نبی ﷺ کے کندھے پر دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: I saw Hasan bin Ali upon the shoulders of Allahs Apostle ﷺ and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou.

6259Sahih Muslim

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَی عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ

محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع ابن نافع غندر شعبہ، عدی ابن ثابت، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی ؓ کو اپنے کندھوں پر بٹھایا ہوا ہے اور آپ ﷺ فرما رہے ہیں اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔

Al-Bara b. Azib reported: I saw the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) with Al-Hasan b. Ali placed upon his shoulders and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou.

6260Sahih Muslim

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيُّ الْيَمَامِيُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَائَ حَتَّی أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ

عبداللہ بن رومی یمامی عباس بن عبدالعظیم عنبری نضر بن محمد عکرمہ ابن عمار حضرت ایاس ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اس سفید گدھے کو کھینچا کہ جس پر اللہ کے نبی ﷺ اور حضرت حسن اور حضرت حسین سوار ہیں یہاں تک کہ میں اسے کھینچ کر نبی ﷺ کے حجرہ تک لے گیا ان میں سے ایک آپ ﷺ کے آگے ایک پیچھے تھا۔

Iyas reported on the authority of his father: I (had the honour of) leading the white mule on which rode Allahs Apostle ﷺ and with him were Hasan and Husain, till it reached the apartment of Allahs Apostle ﷺ . The one amongst them was seated before him and the other one was seated behind him.

6261Sahih Muslim

اہل بیت عظام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ جَائَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَائَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر محمد بن بشر زکریا، مصعب بن شیبہ صفیہ بنت شیبہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کے وقت اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ اپنے اوپر ایک ایسی چادر اوڑھے ہوئے تھے کہ جس پر کجاو وں یا ہانڈیوں کے نقش سیاہ بالوں سے بنے ہوئے تھے اسی دوران میں حضرت حسن ؓ آگئے تو آپ ﷺ نے ان کو اپنی اس چادر کے اندر کرلیا پھر حضرت حسین ؓ بھی آگئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کرلیا پھر حضرت فاطمہ ؓ آئیں تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر میں کرلیا پھر حضرت علی ؓ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر میں کرلیا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33) 33۔ الاحزاب: 33)

Aisha reported that Allahs Apostle ﷺ went out one norning wearing a striped cloak of the black camels hair that there came Hasan bin Ali. He wrapped hitn under it, then came Husain and he wrapped him under it along with the other one (Hasan). Then came Fatima and he took her under it, then came Ali and he also took him under it and then said: Allah only desires to take away any uncleanliness from you, O people of the household, and purify you (thorough purifying)