حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا کُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّی نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری موسیٰ بن مقبہ حضرت سالم بن عبداللہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن حارثہ ؓ کو زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے (کیونکہ زید ؓ آپ ﷺ کے متبنیٰ تھے) یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوا کہ تم لوگ ان کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو تو یہ اللہ کے ہاں زیادہ بہتر ہے۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father: We were in the habit of calling Zaid bin Harith as Zaid bin Muhammad until it was revealed in the Quran:" Call them by the names of their fathers. This is more equitable with Allah" (This hadith has been transmitted on the authority of Qutaiba bin Sad)
حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ
احمد بن سعید دارمی حبان وہیب موسیٰ بن عقبہ سالم حضرت عبداللہ ؓ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority Abdullah through another chain of transmitters.
حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ کُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ وَإِنْ کَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ
یحییٰ بن یحیی، و یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر یحییٰ بن یحیی، اسماعیل یعنی ابن جعفر عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس لشکر پر حضرت اسامہ بن زید کو سردار مقرر فرمایا تو لوگوں نے حضرت اسامہ کی سرداری کے بارے میں نکتہ چینی کی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اگر تم حضرت اسامہ ؓ کی سرداری پر طعن کرتے ہو تو تم لوگ اس سے پہلے حضرت اسامہ کے باپ کی سرداری میں بھی نکتہ چینی کرچکے ہو اور اللہ کی قسم! اسامہ کا باپ بھی سرداری کے لائق تھا اور وہ سب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب تھا اور اب ان کے بعد یہ اسامہ بھی مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ sent an expedition and appointed Usama bin Zaid as its chief. The people objected to his command, whereupon Allahs Messenger ﷺ stood up and said: You object to his command and before this you objected to the command of his father (Zaid). By Allah, he was fit as the commander and he was one of the dearest of persons to me and after him, behold! this one (Usama) is one of the dearest of persons to me.
حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِيقًا لَهَا وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوصِيکُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيکُمْ
ابوکریب محمد بن علا ابواسامہ عمر ابن حمزہ حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ اگر تم لوگ اسامہ کی سرداری پر نکتہ چینی کرتے ہو تو تم لوگ اس سے پہلے ان کے باپ کی سرداری پر بھی نکتہ چینی کرچکے ہو اور اللہ کی قسم! وہ سرداری کے لائق تھے اور اللہ کی قسم وہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھے اللہ کی قسم اسامہ بن زید بھی سرداری کے لائق ہے اور حضرت زید کے بعد مجھے یہ سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے اسی وجہ سے میں تم لوگوں کو حضرت اسامہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہیں۔
Salim reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said on the pulpit: You object to the command of Usima bin Zaid as you had objected before to the command of his father (Zaid). By Allah, he was most competent for it and, by Allah, he was dearest to me amongst people and, by Allah, the same is the case with Usama bin Zaid. He is most dear to me after him and I advise you to treat him well for he is pious amongst you.
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَتَذْکُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنَا وَتَرَکَکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ حبیب ابن شہید حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ نے حضرت ابن زیبیر ؓ سے فرمایا کیا آپ کو یاد ہے کہ جب میں نے اور آپ نے اور حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی تھی انہوں نے فرمایا جی ہاں تو آپ ﷺ نے ہمیں سوار کرلیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔
Abdullah bin Abu Mulaikah reported thatAbdullah bin Jafar said to Ibn Zubair: Do you remember (the occasion) when we three (i. e. I, you and ibn Abbas) met Allahs Messenger ﷺ and he mounted us (on his camel) but left you? He said: Yes.
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَإِسْنَادِهِ
اسحاق بن ابراہیم، ابواسامہ حضرت حبیب بن شہید سے ابن علیہ کی حدیث اور ان کی سند کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Habib bin Ash-Shahid.
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جِيئَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَی دَابَّةٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ ابوبکر یحییٰ ابومعاویہ عاصم، احول مورق عجلی حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو گھر کے بچے آپ ﷺ سے جا کر ملتے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے تو میں آپ ﷺ سے ملنے کے لئے آ گے بڑھا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا پھر حضرت فاطمہ ؓ کے لخت جگر آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم تینوں ایک ہی سواری پر بیٹھے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
Abdullah bin Jafar reported that when Allahs Messenger (may peace be, upon him) came back from a journey, the children of his family used to accord him welcome. It was in this way that once he came back from a journey and I went to him first of all. He mounted me before him. Then there came one of the two sons of Fatima and he mounted him behind him and this is how we three entered Madinah riding on a beast.
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا قَالَ فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرَ خَلْفَهُ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان عاصم، مورق عجلی حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ ﷺ ہم سے ملتے راوی کہتے ہیں مجھ سے اور حضرت حسن ؓ سے یا حضرت حسین ؓ سے ملے تو آپ ﷺ نے ہم میں سے ایک کو اپنے سامنے بٹھایا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
Abdullah bin Jaafar reported that when Allahs Messenger ﷺ came back from a journey he met us. Once he met me, Hasan or Husain, and he mounted one of us before him and the other one behind him until we entered Madinah.
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ
شیبان بن فروخ مہدی بن میمون محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب حسن بن سعد مولیٰ حسن بن علی حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور خاموشی سے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی جس کو میں لوگوں میں سے کسی سے بیان نہیں کروں گا۔
Abdullah bin Jafar reported that one day Allahs Messenger ﷺ mounted me behind him and narrated to me something in secret which I would narrate to none amongst people.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَوَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَاللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا بِالْکُوفَةِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ وَأَشَارَ وَکِيعٌ إِلَی السَّمَائِ وَالْأَرْضِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابوسامہ ابوکریب ابواسامہ بن نمیر وکیع، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان ہشام بن عروہ ابواسامہ، ابوکریب اسامہ ہشام حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے کوفہ میں سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ تمام عورتوں میں سب سے افضل عورت مریم بنت عمران ہے اور سب عورتوں سے افضل عورت حضرت خدیجہ ؓ بنت خویلد ہیں ابوکریب کہتے ہیں کہ حضرت وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔
Abdullah bin Jafar reported that he heard All say in Kulfa that Allahs Messenger ﷺ said: The best of the women of her time was Mary, daughter of Imran, and the best of the women of her time was Khadija, daughter of khuwailid. Abu Kuraib said that Wakil pointed towards the sky and the earth
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِيرٌ وَلَمْ يَکْمُلْ مِنْ النِّسَائِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، عمرو بن مروہ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے بہت سے مرد کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں سے کوئی عورت بھی کامل نہیں ہوئی سوائے حضرت مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ فرعون کی بیوی کے سیدہ عائشہ ؓ کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔
Abu Musa reported Allalis Messenger ﷺ as saying: There are many persons amongst men who are quite perfect but there are not perfect amongst women except Mary, daughter of Imran, Asiya wife of Pharaoh, and the excellence of Aisha as compared to women is that of Tharid over all other foods.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْکَ مَعَهَا إِنَائٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ وَمِنِّي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ابن فضیل عمارہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ حضرت خدیجہ ؓ ہیں آپ ﷺ کے پاس جو ایک برتن لے کر آئیں ہیں اس برتن میں سالن ہے یا کھانا ہے یا پینے کی کوئی چیز (شربت وغیرہ) تو جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ ان کو اپنے پروردگار عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام فرمائیں اور ان کو جنت میں ایک ایسے محل کی خوشخبری دے دیں کہ جو خول دار موتیوں کا بنا ہوا ہے جس محل میں نہ کسی قسم کی گونج ہوگی اور نہ کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوگی۔
Abu Hurairah (RA) reported that Gabriel (علیہ السلام) came to Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, lo. Khadija (RA) is coming to you with a vessel of seasoned food or drink. When she comes to you, offer her greetings from her Lord, the Exalted and Glorious, and on my behalf and give her glad tidings of a palace of jewels in Paradise wherein there is no noise and no toil. This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی محمد بن بشر حضرت اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دی ہے انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں آپ نے حضرت خدیجہ ؓ کو جنت میں ایک خول دار موتیوں کے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی ہے جس گھر میں نہ کسی قسم کا شور ہوگا اور نہ ہی کوئی تکلیف۔
Ismail reported: I said to Abdullah bin Abi Aufa: Did Allahs Messenger ﷺ give glad tidings of Paradise to Khadija? He said: Yes. He did give glad tidings to her of a palace of jewels in Paradise wherein there would be no noise and no toil.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَجَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، معتمر بن سلیمان جریر، ابن ابی عمر سفیان، اسماعیل بن ابی خالد، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the a tliority of Ibn Abi Aufa through other chains of transmitters.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد ؓ کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری عطا فرمائی ہے۔
Aisha reported that Allalis, Messenger ﷺ gave grid tidings to Khadija (RA) int Khuwailid of a palace in Paradise.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْکُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ کَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِيهَا إِلَی خَلَائِلِهَا
ابوکریب محمد علاء، ابواسامہ، ہشام سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی عورت پر اس قدر رشک نہیں کیا جس قدر کہ میں نے حضرت خدیجہ ؓ پر رشک کیا اور حضرت خدیجہ میری شادی سے تین سال پہلے وفات پاچکی تھیں کہ جب آپ ﷺ حضرت خدیجہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ کو آپ کے پروردگار نے حکم فرمایا کہ حضرت خدیجہ ؓ کو جنت میں خولدار موتیوں سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دے دو اور جب بھی بکری ذبح کرتے تھے تو حضرت خدیجہ ؓ کی سہلیوں کو گوشت بھیجا کرتے تھے۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of any woman as I was jealous of Khadija. She had died three years before he (the Holy Prophet) married me. I often heard him praise her, and his lord, the Exalted and Glorious, had commanded him to give her the glad tidings of a palace of jewels in Paradise: and whenever he slaughtered a sheep he presented (its meat) to her female companions.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَی خَدِيجَةَ وَإِنِّي لَمْ أُدْرِکْهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ فَيَقُولُ أَرْسِلُوا بِهَا إِلَی أَصْدِقَائِ خَدِيجَةَ قَالَتْ فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا فَقُلْتُ خَدِيجَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا
سہل بن عثمان حفص بن عیاث ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ ؓ کے اور میں نے حضرت خدیجہ ؓ کو نہیں پایا سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں کو بھیج دو سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت خدیجہ ؓ کی محبت مجھے عطا کی گئی ہے۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of the wives of Allahs Apostle ﷺ but in case of Khadija, although I did no, (have the privilege to) see her. She further added that whenever Allahs Messenger ﷺ slaughtered a sheep, he said: Send it to the companions of Khadija (RA) I annoyed him one day and said: (It is) Khadija (RA) only who always prevails upon your mind. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Her love had been nurtured in my heart by Allah Himself.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِلَی قِصَّةِ الشَّاةِ وَلَمْ يَذْکُرْ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا
زہیر بن حرب، ابوکریب ابومعاویہ، حضرت ہشام اس سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں لیکن اس میں بکری کے واقعہ تک کا ذکر نہیں اور اس کے بعد کی زیادتی کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Usama up to the slaughtering of a sheep, but he. did not make mention of the subsequent words.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِيجَةَ لِکَثْرَةِ ذِکْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطُّ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا کہ میں نے حضرت خدیجہ ؓ پر رشک کیا ہے کیونکہ نبی ﷺ ان کا کثرت سے ذکر کرتے تھے اور میں ان کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of any wife amongst the wives of Allahs Apostle ﷺ as I feel in case of Khadija (RA) (though I had never seen her), for he praised her very often.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَتَزَوَّجْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی خَدِيجَةَ حَتَّی مَاتَتْ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ پر (دوسری) شادی نہیں کی یہاں تک کہ حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال ہوگیا۔
Aisha reported that Allahs Apostle ﷺ did not marry any other woman till her (Khadijas) death.