فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 14 of 29

6202Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَائٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُکَلِّمْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ

منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد حسن یعقوب ابن ابراہیم، بن سعد ابی صالح ابن شہاب عبدالحمید ابن عبدالرحمن بن زید محمد بن سعد بن ابی وقاص حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے (اندر داخل ہونے کی) اجازت مانگی اور آپ ﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں موجود تھیں اور وہ عورتیں آپ سے بہت ہی زیادہ باتیں کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں بھی بلند تھیں تو جب حضرت عمر ؓ نے اجازت مانگی تو وہ عورتیں پردے میں دوڑ پڑیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اجازت عطا فرما دی اور رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کو ہنستا رکھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا کہ جو میرے پاس بیٹھی تھیں (اے عمر! ) جب انہوں نے تیری آواز سنی تو وہ پردے میں دوڑ پڑیں، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ عورتیں آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر ؓ نے ان عورتوں سے فرمایا اے اپنی جان کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو؟ وہ عورتیں کہنے لگیں جی ہاں! آپ سخت ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے زیادہ غصہ والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، شیطان جب تجھے کسی راستے پر چلتا ہوا ملتا ہے تو شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے، کہ جس راستے پر (اے عمر! ) تو چلتا ہے۔

Sad bin Waqqas reported that Umar sought permission from Allahs Messenger ﷺ to visit him when some women of the Quraish were busy in talking with him and raising their voices above his Voiee. WhenUmar sought permission they stood up and went hurriedly behind the curtain. Allahs Messenger ﷺ gave him permission smilingly. Thereupon Umar said: Allahs Messenger, may Allah keep you happy all your life. Then Allahs Messenger ﷺ said: I wonder at these women who were with me and no sooner did they hear your voice, they immediately went behind the curtain. Thereupon Umar said: Allahs Messenger, you have more right that they should fear you. Then Umar (addressing the women) said: O ye enemies of yourselves, do you fear me and fear not the Messenger of Allah ﷺ ? They said: Yes, you are harsh and strict as compared to the Messenger of Allah ﷺ . Thereupon, Allahs Messenger (maypeace be upon him) said: By Him in Whose Hand is my life, if satan would encounter you in the way he would certainly take a different way from that of yours.

6203Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ قَدْ رَفَعْنَ أَصْوَاتَهُنَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

ہارون بن معروف، عبدالعزیز بن محمد سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ عورتیں بیٹھیں تھیں، جو رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی آوازوں کو بلند کر رہی تھی تو جب حضرت عمر ؓ نے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو وہ سب عورتیں پردے میں دوڑ پڑیں، پھر آگے زہری کی روایت کی طرح روایت نقل منقول ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Umar bin Khattab came to Allahs Messenger ﷺ while there were some women with him and they were raising their voices above the voice of Allahs Messenger ﷺ and when Umar sought permission to get into the house they went behind the curtain hurriedly. The rest of the hadith is the same.

6204Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَدْ کَانَ يَکُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَکُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهُمْ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح عبداللہ بن وہب، ابراہیم بن سعد سعد بن ابراہیم، سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے (یعنی بغیر ارادہ کے ان کی زبانوں پر بات جاری ہوجاتی تھی) تو اگر میری امت میں ان میں سے کوئی محدث ہے تو وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ ابن وہب محدثین کی تفسیر میں مُلْهَمُونَ فرماتے ہیں، یعنی جن پر الہام کیا جاتا ہے

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar bin Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun).

6205Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

قتیبہ بن سعید، لیث، عمرو ناقد زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن عجلان سعد بن ابراہیم ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نکل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Sad bin Ibrahim with the same chain of transmitters.

6206Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ أَخْبَرَنَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَی بَدْرٍ

عقبہ بن مکرم، سعید بن عامر، جویریہ ابن اسماء، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی (1) مقام ابرہیم میں نماز پڑھنے کی (2) عورتوں کے پردے میں جانے کی (3) بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔

Ibn Umar (RA) reported Umar as saying: My lord concorded with (my judgments) on three occasions. In case of the Station of Ibrahim, in case of the observance of veil and in case of the prisoners of Badr.

6207Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ جَائَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ أَنْ يُکَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاکَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُ عَلَی سَبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا حضرت عبداللہ بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ کا کرتہ مانگا کہ جس میں اس کے باپ کو کفن دیا جائے تو آپ نے اپنا کرتہ اسے دے دیا۔ پھر اس نے عرض کیا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں، تو رسول اللہ ﷺ اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ) 9۔ التوبہ: 80) آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تو ستر مرتبہ سے بھی زیادہ مرتبہ دعائے مغفرت کروں گا، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یہ تو منافق ہے، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی لی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ ) میں سے کوئی مرجائے تو ان پر کبھی نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں۔

Ibn Umar (RA) reported that when Abdullah bin Ubayy bin Salul (the hypocrite) died, his sonAbdullah binAbdullah came to Allahs Messenger (may peace be upon -him) and asked him to give his shirt which should be used for the coffin of his father. He gave that to him. Allahs Messenger ﷺ stood up to say prayer over him Thereupon I Umar caught hold of the clothe of Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, are you going to offer prayer, whereas Allah has forbidden to offer prayer for him, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Allah has given me a choice saying: Ask forgiveness for them or you may not ask for them; even if you ask for them seventy times, I will make an addition to the seventy. He was a hypocrite and Allahs Messenger ﷺ said prayer over him that Allah, the Exalted and Glorious, revealed the verse:" And never pray over any one of them that has died and never should you stand by his grave" (ix. 84).

6208Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَی حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَزَادَ قَالَ فَتَرَکَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ

محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان حضرت عبیداللہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے ان منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitter but with the addition of the words:" He abandoned saying prayer over the hypocrites who had died."

6209Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَائٍ وَسُلَيْمَانَ ابْنَيْ يَسَارٍ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي کَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَکْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ کَذَلِکَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّی ثِيَابَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلَا أَقُولُ ذَلِکَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَکَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِکَةُ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر یحییٰ بن یحیی، اسماعیل یعنی ابن جعفر محمد بن ابی حرملہ عطاء، سلیمان ابنی یسار ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اس حال میں کہ آپ کی رانیں یا پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں (اسی دوران) حضرت ابوبکر ؓ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں لیٹے باتیں کررہے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں باتیں کرتے رہے، پھر حضرت عثمان ؓ نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سیدھا کرلیا، روای محمد کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک دن کی بات ہے، پھر حضرت عثمان ؓ اندر داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے تو جب وہ سب حضرات نکل گئے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا حضرت ابوبکر ؓ آئے تو آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عمر ؓ تشریف لائے تو بھی آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عثمان ؓ آئے تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑو وں کو درست کیا تو آپ نے فرمایا (اے عائشہ! ) کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔

Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ was lying in the bed in my apartment with his thigh or his shank uncovered that Abu Bakr (RA) sought permission to get in. It was given to him and he conversed in the same very state (the Prophets thigh or shank uncovered). Then Umar sought permission for getting in and it was given to him and he conversed in that very state. Then Uthman sought permission for getting in; Allahs Messenger ﷺ sat down and he set right his clothes. Mubammad (one of the narrators) said: I do not say that it happened on the same day. He (Uthman) then entered and conversed and as he went out, Aisha said: Abu Bakr (RA) entered aind you did not stir and did not observe much care (in arranging your clothes), then Umar entered and you did not stir and did not arrange your clothes, then Uthman entered and you got up and set your clothes right, thereupon he said: Should I not show modesty to one whom even the Angels show modesty.

6210Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَکْرٍ وَهُوَ کَذَلِکَ فَقَضَی إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ فَقَضَی إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْکِ ثِيَابَکِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي لَمْ أَرَکَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، بن سعد ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب یحییٰ بن سعید بن عاص حضرت سعید بن عاص ؓ خبر دیتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور حضرت عثمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اس حال میں کہ آپ اپنے بستر پر حضرت عائشہ ؓ کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت پر رہے اور انہوں نے اپنی ضرورت پوری کی اور پھر چلے گئے، پھر حضرت عمر ؓ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت پر رہے اور انہوں نے بھی اپنی ضرورت پوری کی اور پھر وہ چلے گئے، حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے آپ سے اجازت مانگی تو آپ بیٹھ گئے اور آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا اپنے کپڑے درست کرلو اور میں نے بھی اپنی ضرورت بیان کی اور پھر میں بھی چلا گیا، تو حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہوا؟ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے آنے پر میں نے آپ کو اس قدر گھبراتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا کہ آپ حضرت عثمان ؓ کے آنے پر گھبرائے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے بارے میں فرمایا کہ عثمان ایک باحیاء آدمی ہے اور مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے ان کو اسی حالت پر اجازت دے دی تو ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے اپنی ضرورت پوری نہ کروا سکیں۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ (mav peace be upon him), and Uthman both reported that Abu Bakr (RA) sought permission from Allahs Messenger ﷺ for entrance (in his apartment) as he had been lying on his bed covered with the bed-sheet of Aisha, and he gave permission to Abu Bakr (RA) in that very state and he, having his need fulfilled, went back. Then Umar sought permission and it was given to him in that very state and, after having his need fulfilled, he went back. And Uthman reported: Then I sought permission from him and he got up and raid to Aisha: Wrap yourself well with your cloth, then I got my need fulfilled and came back. And Aisha said: Allahs Messenger, why is it that I did not see you feeling any anxiety in case of dressing properly in the presence of Abu Bakr (RA) and Umar (RA) as you showed in case of Uthman. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Verily Uthman is a person who is very modest and I was afraid that if I permitted him to enter in this very state he would not inform me of his need.

6211Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ

عمرو ناقد حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، بن سعد ابوصالح بن کیسان ابن شہاب یحییٰ بن سعید بن عاص سعید بن عاص عثمان حضرت عثمان ؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اور پھر آگے عقیل عن الزہری کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Uthman and Aisha with the same wording.

6212Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّکِئٌ يَرْکُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَائِ وَالطِّينِ إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَإِذَا أَبُو بَکْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی تَکُونُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوْ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ

محمد بن مثنی، عنزی ابن ابی عدی، عثمان ابن غیاث ابی عثمان نہدی حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے اور ایک لکڑی کو کیچڑ میں ڈالے کھرچ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی نے دروازہ کھلوایا تو آپ ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری سنا دو، روای کہتے ہیں کہ وہ ابوبکر ؓ تھے، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی، راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک دوسرے آدمی نے دروازہ کھلوایا تو آپ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو، راوی کہتے ہیں کہ میں گیا، دیکھا تو وہ حضرت عمر ؓ تھے، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری سنا دی، پھر ایک تیسرے آدمی نے دروازہ کھلوایا، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری اس بلویٰ کے ساتھ دے دو کہ جو ان کو پیش آئے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں گیا تو دیکھا تو وہ حضرت عثمان ؓ تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری سنائی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان ؓ سے وہ کہا کہ جو آپ نے فرمایا تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اے اللہ! صبر عطا فرما اور اللہ ہی مددگار ہے۔

Abu Musa al-Ashari reported that while Allahs Messenger ﷺ was in one of the gardens of Madinah, reclining against a pillow and fixing a stick in a mud, that a person came asking for the gate to be opened, whereupon he said: Open it for him and give him glad tidings of Paradise and, lo, it was Abu Bakr. I opened (the gate) for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then another person asked for the door to be opened, whereupon he said: Open it and give him the glad tidings of Piradise. He said: I went away and, lo, it was Umar. I opened it for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then still another man asked for the door to be opened, and thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Open it and give him the glad tidings of Paradise after a trial would afflict him. I went and, lo, it was Uthman bin Affan. 1 opened the door and gave him the glad tidings of Paradise and informed him (what the Holy Prophet ﷺ had said). Thereupon he said: O Allah, grant me steadfastness. Allah is one Whose help is to be sought.

6213Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ

ابوربیع عتکی حماد ایوب ابی عثمان نہدی حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ اس دروازہ پر پہرہ دوں، پھر مذکورہ حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa al-Ashari with a slight variation of wording.

6214Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِينٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَکُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا قَالَ فَجَائَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا قَالَ فَخَرَجْتُ عَلَی أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّی دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ قَالَ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّی قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَی بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَأَکُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ قَالَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَکْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّی قُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُکَ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ کَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَکْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيدُ أَخَاهُ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّکُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ أَذِنَ وَيُبَشِّرُکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ فَجَائَ إِنْسَانٌ فَحَرَّکَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَی تُصِيبُهُ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَيُبَشِّرُکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَی تُصِيبُکَ قَالَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ قَالَ شَرِيکٌ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ

محمد بن مسکین یمامی یحییٰ بن حسان، سلیمان ابن بلال شریک بن ابی نمر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ آج میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہوں گا اور سارا دن آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ مسجد میں آئے اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں پوچھا تو صحابہ کرام ؓ نے کہا کہ آپ ﷺ اس طرف نکلے ہیں، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں اس دروازے پر بیٹھ گیا اور وہ دروازہ لکڑی کا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے اور آپ نے وضو فرمایا تو میں آپ کی طرف گیا، دیکھا کہ آپ بئر اریس پر تشریف فرما ہیں اور اس کے کنارے پر اپنی پنڈلیاں مبارک کھول کر کنوئیں میں لٹکائی ہوئی ہیں، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ پر سلام کیا پھر میں واپس ہو کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ آج میں رسول اللہ ﷺ کا دربان بنوں گا (اسی دوران) حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا کون؟ انہوں نے فرمایا ابوبکر، میں نے کہا، ٹھہریں، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں گیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ ابوبکر ؓ ہیں اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں آیا اور میں نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا تشریف لے آئیں اور رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی خوشبخری دیتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور کنوئیں کے کنارے آپ کے دائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے، جس طرح کے نبی ﷺ نے کیا ہوا تھا اور اپنی پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے، پھر میں واپس لوٹا (اور دروازے پر) بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ آیا تھا اور وہ میرے پاس آنے والا تھا تو میں نے (اپنے دل میں کہا) کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے اس بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے گا تو وہ اسے بھی لے آئے گا، تو میں نے دیکھا کہ ایک انسان نے دروازہ کو ہلایا، میں نے کہا کون؟ انہوں نے کہا عمر بن خطاب میں نے عرض کیا ٹھہریں، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ پر سلام کیا اور میں نے عرض کیا یہ حضرت عمر ؓ آپ سے اجازت مانگتے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی دے دو، پھر میں حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا، آپ کو اجازت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کنوئیں کے کنارے پر آپ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور حضرت عمر ؓ نے بھی اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے پھر میں لوٹ گیا (اور دروازے پر) بیٹھ گیا اور میں نے کہا اگر اللہ فلاں کے ساتھ (ساتھ) میرے بھائی سے بھی بھلائی چاہے گا تو اسے بھی لے آئے گا، پھر ایک انسان آیا اور اس نے دروازے کو ہلایا تو میں نے کہا کون؟ انہوں نے کہا عثمان بن عفان، میں نے عرض کیا ٹھہریں! حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو حضرت عثمان ؓ کے آنے کی خبر دی تو آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو، اس بلویٰ کے ساتھ کہ جو نا کو پہنچے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے کہا آپ تشریف لائیں اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بلویٰ کے ساتھ جنت کی خوشخبری دی ہے کہ جو آپ کو پہنچے گا، حضرت ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کنوئیں کے کنارے اس طرف جگہ نہیں ہے تو وہ آپ کے ساتھ دوسری طرف بیٹھ گئے، شریک کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس سے سمجھا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح سے ہوں گی۔

Abu Musa Ashari reported that he performed ablution in his house and then came out saying: I would remain with Allahs Messenger ﷺ the whole day long. He came to the mosque, and asked about Allahs Apostle ﷺ . They (his Companions) said: He has gone in this direction. He (Abu Musa Ashari) said: I followed his steps asking about him until I came to Bir Aris (it is a well in the suburb of Madinah). I sat by its wooden door until Allahs Messenger ﷺ had relieved himself and then performed ablution. I went to him and he was sitting with his shanks uncovered hp to the knees and his legs dangl- ing in that well. I offered him salutations. I then came back and sat at the door as if I had been a chamberlain at the door of Allahs Messenger ﷺ that day. There came Abu Bakr (RA) and knocked the door and I said: Who is it? He said: This is Abu Bakr. I said: Wait, please. I went and said: Allahs Messenger, here is Abu Bakr (RA) seeking permission. Thereupon he said: Admit him and give him glad tidings of Paradise. I came and I said to Abu Bakr (RA) to get in (and also told him) that Allahs Messenger ﷺ was giving him the glad tidings of Paradise. Abu Bakr (RA) got in and sat on the right side of Allahs Messenger ﷺ and dangled his feet in the well as Allahs Messenger ﷺ had done, and he uncovered his shanks. I then returned and sat there and I had left my brother as he had been performing ablution and he was to meet me and I said: If Allah would intend goodness for such and such he would intend goodness for his brother and He would bring him. I was thinking this that a person stirred the door. I said: Who is it. He said: This is Umar bin , Khattab. I said: Wait. Then I came to Allahs Messenger ﷺ , greeted him and said: Here is Umar seeking your. permission to get in. Thereupon he said: Let him come in and give him glad tid- ings of Paradise. I came to Umar and said: There is permission for you and glad tidings for you from Allahs Messenger ﷺ for Paradise. He got in and sat on the left side of Allahs Messenger ﷺ with his feet dangling in the well. I then returned and sat and said: If Allah would intend goodness for such and such (that is for his brother), He would bring him. And I was contemplat- ing over it that a man stirred the door and I said: Who is it? He said: This is Uthman bin Affan. I said: Wait, please. I then came to Allahs Messenger ﷺ and informed him. and he said: Admit him and give him glad tidings (and inform) him of the turmoil which he shall have to face. I came and said: Get in, Allahs Messenger ﷺ gives you the glad tidings of Paradise along with the trial which you shall have to face. He got in and saw the elevated plan round the well fully occupied. He sat on the other side. Sharik said that Said bin al-Musayyib reported: I drew a conclusion from it that their groves would be (in this very state, the graves of Hadrat Abu Bakr, Umar Faruq by the tide of the Holy Prophet ﷺ [may peace be upon him] and the grave of Hadrat Uthman away from their graves).

6215Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ هَاهُنَا وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَی مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ قَالَ أَبُو مُوسَی خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَکَ فِي الْأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ حَسَّانَ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ

ابوبکر بن اسحاق سعید بن عفید سلیمان بن بلال شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا تو میں نے آپ کو باغوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو میں آپ کے پیچھے چلا تو میں نے آپ کو ایک باغ میں پایا (اور میں نے دیکھا) کہ آپ ایک کنوئیں کے کنارے پر تشریف فرما ہیں اور آپ اپنی پنڈلیاں کھول کر ان کو کنوئیں پر لٹکائے ہوئے ہیں اور پھر باقی روایت یحییٰ بن حسان کی روایت کی طرح ذکر کی ہے اور سعید بن مسیب کا یہ قول ذکر نہیں کیا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی۔

Abu Musa. reported: I set out with the intention (of meeting) Allahs Messenger ﷺ and came to know that he had gone to the gardens (in the suburb of Madinah). I followed him and found him in a garden sitting upon an elevated place round the well with his shanks uncovered which had been dangling in the well. The rest of the hadith is the same but with this variation that there is no mention of the words of Said: all drew a conclusion from it pertaining to their graves."

6216Sahih Muslim

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَی حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَذَکَرَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَتَأَوَّلْتُ ذَلِکَ قُبُورَهُمْ اجْتَمَعَتْ هَاهُنَا وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ

حسن بن علی حلوانی ابوبکر بن اسحاق سعید بن ابر مریم محمد بن جعفر، بن ابی کثیر شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ایک دن اپنی کسی ضرورت کے لئے مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے نکلا اور پھر باقی روایت سلیمان بن بلال کی حدیث کی طرح ذکر کی اور ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ان حضرات کے اس طرح بیٹھنے سے ان کی قبروں کی ترتیب کو سمجھا کہ ان تینوں حضرات کی قبریں ایک ساتھ ہیں اور حضرت عثمان ؓ کی قبر علیحدہ ہے۔

Said bin al-Musayyib reported Abu Musa Ashari having said that Allahs Messenger ﷺ set out one day to the suburbs of Madinah for reliev- ing himself. I followed his steps. The rest of the hadith is the same. Ibn Musayyib said: I concluded (from the manner of their sitting) the (order) of their graves. (The three) would be together (the graves of the Holy Prophet, Hadrat Abu Bakr (RA) and Hadrat Umar) and that of Uthman would be separate (from them).

6217Sahih Muslim

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي قَالَ سَعِيدٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِهَا سَعْدًا فَلَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثْتُهُ بِمَا حَدَّثَنِي عَامِرٌ فَقَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ فَقُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَی أُذُنَيْهِ فَقَالَ نَعَمْ وَإِلَّا فَاسْتَکَّتَا

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوجعفر محمد بن صباح عبیداللہ قواریری سریج بن یونس یونس بن ماجشون ابن صابھ یوسف ابوسلمہ ماجشون محمد بن منکدر سعید بن مسیب حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت علی ؓ سے فرمایا (اے علی) تم میرے لئے اس طرح ہو کہ جس طرح ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں نے چاہا کہ میں خود یہ حدیث حضرت سعد ؓ سے سنوں تو میں نے حضرت سعد ؓ سے ملاقات کی میں نے ان کو وہ حدیث بیان کی کہ جو حضرت عامر ؓ نے مجھ سے بیان کی تھی تو حضرت سعد ؓ کہنے لگے کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے، تو میں نے کہا کیا آپ نے یہ حدیث سنی ہے؟ تو حضرت سعد ؓ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھیں اور کہنے لگے ہاں! میں نے یہ حدیث سنی ہے اور اگر میں نے یہ حدیث سنی نہ ہو تو میرے یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں۔

Amir b Sad bin Abi Waqqas reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ addressing Ali said: You are in the same position with relation to me as Aaron- (Harun) was in relation to Moses (علیہ السلام) but with (this explicit difference) that there is no prophet after me. Sad said: I had an earnest desire to hear it directly from Sad, so I met him and narrated to him what (his son) Amir had narrated to me, whereupon he said: Yes, I did hear it. I said: Did you hear it yourself? Thereupon he placed his fingers upon his ears and said: Yes, and if not, let both my ears become deaf.

6218Sahih Muslim

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، حکم مسعب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کو (مدینہ منورہ پر) حاکم بنایا، جب آپ غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا (اے علی! ) کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا مقام میرے ہاں ایسے ہے کہ جسے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

Sad bin Abi Waqqas reported that Allahs Messenger ﷺ left Ali Ibn Abi Talib (RA) behind him (as he proceeded) to the expedition of Tabuk, whereupon he (Ali) said: Allahs Messenger, are you leaving me behind amongst women 4nd children? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام) but with this exception that there would be no prophet after me.

6219Sahih Muslim

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

عبیداللہ بن معاذ شعبہ، حضرت شعبہ اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated. on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

6220Sahih Muslim

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَکَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَکُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَائِ أَهْلِي

قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل بکیر بن مسمار امر معاویہ بن ابی سفیان، سعد حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے حضرت سعد ؓ کو امیر بنایا اور ان سے فرمایا تجھے ابوالتراب (علی ؓ کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے منع کیا ہے، حضرت سعد ؓ نے کہا مجھے تین باتیں یاد ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمائی ہیں جن کی وجہ سے میں ان کو برا بھلا نہیں کہتا اگر ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بھی مجھے حاصل ہوجائے تو وہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پیاری ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ نے کسی غزوہ میں جاتے ہوئے ان کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑا تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا (اے علی! ) کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مقام میرے ہاں اس طرح ہے جس طرح کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا مقام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور میں نے آپ سے سنا، آپ خیبر کے دن فرما رہے تھے کہ کل میں ایک ایسے آدمی کو جھنڈا عطا کروں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہو اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتا ہوگا، راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر ہم اس انتظار میں رہے کہ ایسا خوش نصیب کون ہوگا؟ ) تو آپ نے فرمایا میرے پاس حضرت علی ؓ کو بلاؤ ان کو بلایا گیا تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں تو آپ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور عَلَم ان کو عطا فرما دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت علی ؓ کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی اور یہ آیت مبارکہ نازل ہوئیں (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَا ءَنَا وَاَبْنَا ءَكُمْ وَنِسَا ءَنَا وَنِسَا ءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ) 3۔ آل عمران: 61) تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا اے اللہ! یہ سب میرے اہل بیت (گھر والے) ہیں۔

This hadith has been narrated. on the authority of Shubah with the same chain of transmitters. Amir bin Sad bin Abi Waqqas reported on the authority of his father that Muawiya bin Abi Sufyan appointed Sad as the Governor and said: What prevents you from abusing Abu Turab (Hadrat Ali), whereupon be said: It is because of three things which I remember Allahs Messenger ﷺ having said about him that I would not abuse him and even if I find one of those three things for me, it would be more dear to me than the red camelg. I heard Allahs Messenger ﷺ say about Ali as he left behind hrin in one of his campaigns (that was Tabuk). All said to him: Allahs Messenger, you leave me behind along with women and children. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said to him: Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام) but with this exception that there is no prophethood after me. And I (also) heard him say on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person who loves Allah and his Messenger and Allah and his Messenger love him too. He (the narrator) said: We have been anxiously waiting for it, when he (the Holy Prophet) said: Call Ali. He was called and his eyes were inflamed. He applied saliva to his eyes and handed over the standard to him, and Allah gave him victory. (The third occasion is this) when the (following) verse was revealed:" Let us summon our children and your children." Allahs Messenger ﷺ called Ali, Fitima, Hasan and Husain and said: O Allah, they are my family.

6221Sahih Muslim

حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، ابراہیم بن سعد حضرت سعد ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا (اے علی! ) کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مقام میرے ہاں ایسا ہو جیسا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا مقام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھا۔

Sad reported Allahs Apostle ﷺ as saying to Ali (RA) : Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام)?