فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 13 of 29

6182Sahih Muslim

خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مِسْکِينًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ

محمد بن ابی عمر مکی، مروان ابن معاویہ یزید ابن کیسان ابی حازم اشجعی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے روزہ کی حالت میں صبح کی (یعنی روزہ رکھا؟ ) حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے روزہ رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا آج کے دن تم میں سے کون کسی جنازے کے ساتھ گیا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ میں گیا ہوں، آپ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے، آپ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی بیمار کی تیمار داری کی ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے، آپ نے فرمایا جس میں یہ ساری چیزیں جمع ہوگئیں وہ جنت میں داخل ہوگیا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Who amongst you is observing fastthis day? Abu Bake said: It is I. He (again) said: Who amongst you has followed the bier today? Abu Bakr (RA) said: It is I. He (the Holy Prophet) again said: Who amongst you has served food to the needy? Abu Bakr (RA) said: It is I. He (again) said: Who amongst you has today visited the sick? Abu Bakr (RA) said: It is I. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He must get into Paradise who combines in himself (all these noble qualities and virtues).

6183Sahih Muslim

خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَکِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا أَبَقَرَةٌ تَکَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّی اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ لَهُ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِکَ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی بیل پر بوجھ ڈالے ہوئے اسے ہانک رہا تھا کہ اس بیل نے اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، لوگوں نے حیرانگی اور گھبراہٹ میں سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اور کہا کیا بیل بھی بولتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو اس بات پر یقین کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی یقین کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بکری پکڑی اور لے گیا تو اس چرواہے نے اس بھیڑیے کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس بھیڑیے سے بکری کو چھڑا لیا تو بھیڑیے نے اس چرواہے کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس دن بکری کو کون بچائے گا جس دن میرے علاوہ کوئی چرواہا نہیں ہوگا؟ لوگوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو اس پر بھی یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر ؓ اور عمر ؓ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A person had been driving an ox loaded with luggage. The ox looked towards him and said: I have not been created for this but for lands (i. e. for ploughing the land and for drawing out water from the wells for the purpose of irrigating the lands). The people said with surprise and awe: Hallowed be Allah, does the ox speak? Allahs Messenger ﷺ said: I believe it and so do Abu Bakr (RA) and Umar. Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A shepherd was tendirig the flock when a wolf came there and took away one goat. Tile shepherd pursued it (the wolf) and rescued it (the goat) from that (wolf). The wolf looked towards him and said: Who would save it on the day when there will be no shepherd except me? Thereupon people said: Hallowed be Allah I Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I believe in it and so do Abu Bakr (RA) and Umar believe.

6184Sahih Muslim

خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جعی عقیل بن خالد حضرت ابن شہاب ؓ سے ان سندوں کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے لیکن اس میں بیل کے واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but there is no mention of the story pertaining to the ox.

6185Sahih Muslim

خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِکْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ

محمد بن عباد سفیان بن عیینہ، محمد بن رافع ابوداؤد حفری سفیان، ابوزناد اعرج ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یونس عن الزہری کی روایت کی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں بیل اور بکری دونوں کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو اس پر یقین رکھتا ہوں اور (حضرت) ابوبکر ؓ اور (حضرت) عمر ( ؓ بھی اور (اس وقت) یہ دونوں حضرات وہاں موجود نہیں تھے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri, and there is a clear mention of the stories of ox and goat (and the words are): I believe in it and so do Abu Bakr (RA) and Umar, but they were not at that time present there.

6186Sahih Muslim

خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ كِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن عباد سفیان بن عیینہ، مسعر سعد بن ابراہیم، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transrritters.

6187Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی سَرِيرِهِ فَتَکَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْکِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَی عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَی اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْکَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَکَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْکَ وَذَاکَ أَنِّي کُنْتُ أُکَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَکَ اللَّهُ مَعَهُمَا

سعید بن عمرو اشعثی ابوربیع عتکی ابوکریب محمد بن علاء، ابی کریب ابوربیع ابن مبارک عمر بن سعید ابی حسین ابن ابی ملیکہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو جب تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے اور ان کے لئے دعا کی اور ان کی تعریف کرنے لگے اور ان کا جنازہ اٹھانے سے پہلے ان کی نماز جنازہ پڑھ رہے تھے اور میں بھی انہی لوگوں میں تھا، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نہیں گھبرایا سوائے ایک آدمی سے کہ جس نے میرے پیچھے سے آ کر میرا کندھا پکڑا، میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ حضرت علی ؓ تھے، تو حضرت علی ؓ نے حضرت عمر ؓ کے لئے رحم کی دعا فرمائی اور پھر فرمایا (اے عمر! ) آپ نے اپنے پیچھے کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا جس کے اعمال ایسے ہوں کہ ان اعمال پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا پسند ہو، آپ سے زیادہ اور اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کا ساتھ فرمائے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں زیادہ تر رسول اللہ ﷺ سے سنا کرتا تھا کہ آپ فرماتے تھے کہ میں آیا اور ابوبکر ؓ اور عمر ؓ آئے اور میں اندر داخل ہوا اور حضرت ابوبکر و عمر ؓ اندر داخل ہوئے، میں نکلا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ بھی نکلے اور میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ (یعنی نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ کر دے گا۔

Ibn Abu Mulaikah reported: I heard Ibn Abbas as saying: When Umar bin Khatab was placed in the coffin the people gathered around him. They praised him and supplicated for him before the bier was lifted up, and I was one amongst them. Nothing attracted my attention but a person who gripped my shoulder from behind. I saw towards him and found that he was Ali. He invoked Allahs mercy upon Umar and said: You have left none behind you (whose) deeds (are so enviable) that I love to meet Allah with them. By Allah, I hoped that Allah would keep you and your two associates together. I had often heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I came and there came too Abu Bakr (RA) and Umar; I entered and there entered too Abu Bakr (RA) and Umar; I went out and there went out too Abu Bakr (RA) and Umar, and I hope and think that Allah will keep you along with them.

6188Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت عمر بن سعید ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Umar bin Said with the same chain of transmitters.

6189Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِکَ وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ

منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم، بن سعد صالح بن کیسان زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابرہیم صالح ابن شہاب ابوامامہ بن سہل حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پیش کئے جاتے ہیں اور ان کے (بدنوں پر) کُرتے ہیں، ان میں سے کچھ کے کرتے چھاتی تک ہیں اور کچھ کے کرتے اس سے نیچے تک ہیں اور پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ گزرے اور وہ اتنا لمبا کرتا پہنے ہوئے ہیں کہ وہ زمین پر گھسیٹتا چلا جا رہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دین۔

Abu Said Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as say ing: While I was asleep I saw people being presented to me (in a dream) and they wore shirts and some of these reached up to the breasts and some even beyond them. Then there happened to pass Umar bin Khattab and his shirt had been trailing. They said: Allahs Messeneer, how do you interpret the dream? He said: (As strength of) faith.

6190Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّی إِنِّي لَأَرَی الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمَ

حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر خطاب ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میری طرف لایا گیا، اس پیالے میں دودھ تھا، میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ تازگی اور سیرابی میرے ناخنوں میں سے نکلنے گلی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو دے دیا، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا علم۔

Hamza binAbdullah bin Umar bin Khattab reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said: While I was asleep I saw (in a dream) a cup containing milk bein. presented to me. I took out of that until I perceived freshness being reflected through my nails. Then I presented the leftover to Umar bin Khattab. They said: Allahs Messenger: Fow do you interpret it? He said: This implies knowledge.

6191Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ

قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، ابن سعد حضرت صالح ؓ سے یونس کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has beer. narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.

6192Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَی قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ

حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں سو رہا تھا میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا کہ جس پر ڈول پڑا ہوا ہے تو میں نے اس ڈول کے ذریعے کنوئیں میں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی کھینچا، پھر اسے ابوقحافہ کے بیٹے حضرت ابوبکر ؓ نے پکڑا اور اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں اللہ ان کی مغفرت فرمائے کمزوری تھی، پھر وہ ڈول بڑا ہوگیا اور اسے ابن خطاب (یعنی حضرت عمر ؓ نے پکڑا تو میں نے لوگوں میں سے ایسا بہادر نہیں دیکھا کہ جو حضرت عمر ؓ کی طرح پانی کھینچتا ہو، (حضرت عمر ؓ نے اس قدر پانی نکالا) یہاں تک کہ لوگ اپنے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنی آرام کی جگہ پر چلے گئے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: While I was asleep I saw myself on a well with a leathern bucket on a pulley. I drew (water) out of that as Allah wished me (to draw). Then the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) drew from it one bucketful or two and there was some weakness in drawing that (may Allah forgive him). Then that bucket (changed into a large bucket) and Ibn Khattab drew it. I did not see any strongest man drawing it like Umar bin Khattab. He brought out so much water that the camels of the people had enough to drink and then laid down (for rest).

6193Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد عمرو ناقد حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، بن سعد حضرت ابوصالح ؓ سے یونس کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yunus through another chain of transmitters.

6194Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

حلوانی عبد بن حمید یعقوب ابوصالح اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ابوقحافہ کے بیٹے (حضرت ابوبکر ؓ کو دیکھا کہ وہ (ڈول) کھینچ رہے ہیں اور باقی حدیث زہری کی حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I saw Ibn Abu Quhafa drawing (water) ; the rest of the hadith is the same.

6195Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَی حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ فَجَائَنِي أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ فَجَائَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَی مِنْهُ حَتَّی تَوَلَّی النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ

احمد بن عبدالرحمن بن وہب عمی عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس مولیٰ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے سونے کی حالت میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض میں سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، اسی دوران میرے پاس حضرت ابوبکر ؓ آئے اور انہوں نے مجھ سے ڈول پکڑ لیا تاکہ وہ مجھے آرام پہنچائیں، تو حضرت ابوبکر ؓ نے دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، پھر (اس کے بعد) خطاب کے بیٹے (حضرت عمر ؓ آئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کے ہاتھ سے ڈول پکڑا تو میں نے حضرت عمر ؓ سے زیادہ قوت سے پانی کھینچنا اور کسی آدمی کا نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگ (پانی سے سیراب ہو کر) واپس چلے گئے اور حوض کا پانی بھر کر بہہ رہا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: While I was asleep I saw myself drawing water from my tank in order to quench the thirst of the people that there came to me Abu Bakr. He took hold of the leathern bucket from my hand so that he should serve water to the people. He drew two bucketfuls and there was some weakness in his drawing (Allah may forgive him). Then there came Ibn Khattab and he took hold of that, and I did not see a person stronger than he (drawing water) until the people went away with their thirst quenched and the tank filled with water.

6196Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ کَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَةٍ عَلَی قَلِيبٍ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَقَی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّی رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی بکر، محمد بن بشر، حضرت عبیداللہ بن عمر ؓ، ابوبکر بن سالم، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے (خواب) میں دکھایا گیا کہ میں ایک ڈول کے ساتھ ایک کنوئیں میں سے صبح کے وقت پانی کھینچ رہا ہوں تو اسی دوران حضرت ابوبکر ؓ آگئے تو انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے کھینچے اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے کہ ان کے ڈول کھینچنے میں کمزوری تھی پھر حضرت عمر ؓ آئے اور انہوں نے ڈول کے ذریعے پانی نکالا تو میں نے لوگوں میں سے ایسی زبردست بہادری کے ساتھ پانی نکالنے والا حضرت عمر ؓ کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (پانی پی کر سیراب ہوگئے) اور انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر آرام کی جگہ بٹھا دیا۔

Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I saw (in a dream) as if I was drawing water with a leathern bucket on a wooden pulley. There came Abu Bakr (RA) and he drew out a bucketful or two and as he drew out, some weakness (was perceived in it) (may Allah, the Exalted and Glorious, forgive him). Then Umar came in order to serve water -and the bucket was changed into a large leather bucket and I did not see such a wonderful man amongst persons (drawing water) and he went on serving water to the people until they were fully satisfied and then went to their resting places.

6197Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

احمد بن عبداللہ بن یونس زہیر موسیٰ بن عقبہ حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ سے رسول اللہ ﷺ کا حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے بارے میں خواب مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح نقل کیا ہے۔

Salim bin Abdullah reported on the authority of his father some of the dreams of Allahs Messenger ﷺ pertaining to Abu Bakr (RA) and Umar bin Khattab (RA) and a hadith like this.

6198Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَا جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ وَعَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَذَکَرْتُ غَيْرَتَکَ فَبَکَی عُمَرُ وَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ عَلَيْکَ يُغَارُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، عمرو بن منکدر جابر، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن منکدر عمرو، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جنت میں ایک گھر یا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ (وہاں موجود حاضرین) نے کہاں یہ محل حضرت عمر ؓ کا ہے، میں نے چاہا کہ میں اس میں داخل ہوجائیں، مگر (اے عمر ؓ! ) مجھے تیری غیرت کا خیال آگیا، حضرت عمر ؓ (یہ سن کر) رو پڑے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ کیا میں آپ کے داخل ہونے پر غیرت کرتا؟

Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I entered Paradise and saw in it a house or a palace. I said: For whom is it resersred? They (the Angels) said: It is for Umar bin Khattab. (The Holy Prophet ﷺ said to Umar bin Khattab): I intenied to get into it but I thought of your feelings. Thereupon Umar wept and said: Apostle of Allah ﷺ , could I feel any jealousy in your case?

6199Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ح و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرٍ

اسحاق بن ابراہیم، سفیان، عمرو بن منکدر جابر، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو جابر، عمرو ناقد سفیان، ابن منکدر حضرت جابر ؓ سے نبی ﷺ کی ابن نمیر اور زہیر کی کسی روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.

6200Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَی جَانِبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَکَی عُمَرُ وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِکَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْکَ أَغَارُ

حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی، میں نے کہا یہ محل کس کا ہے؟ (وہاں موجود لوگوں) نے کہا یہ محل حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے (آپ نے فرمایا کہ یہ سن کر) مجھے حضرت عمر ؓ کی غیرت یاد آگئی تو میں پشت پھیر کر چل پڑا، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ یہ سن کر رو پڑے اور ہم سب اس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Whilel was asleep I saw myself in Paradise and a woman performing ablution by the side of a palace. I said: For whom is it meant? They said: It is meant for Umar bin Khattab. (The Holy Prophet) said: There came across my mind the feeling of Umar and so I turned back and went away. Abu Hurairah (RA) said: Umar wept as we were present in that meeting with Allahs Messenger ﷺ amongst us and Umar said: Allahs Messenger, may my father and mother be taken as ransom for you. Could I at all feel any jealousy about you?

6201Sahih Muslim

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید یعقوب ابن ابراہیم، ابوصالح حضرت ابن شہاب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.