اس آدمی کے لئے سخت وعید کے بیان میں جو لوگوں کو ناحق عذاب دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَکِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَی حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنْ النَّبْطِ فِي أَدَائِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا
ابوطاہر ابن وہب، یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر، ہشام بن حکیم حضرت عروہ ؓ بن زیبر سے روایت ہے کہ حضرت ہشام بن حکیم نے ایک آدمی کو دیکھا جو کہ ملک حمص کا حاکم ہے اس نے کچھ نبطی لوگوں کو جزیہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں دھوپ میں کھڑا کر رکھا ہے تو انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔
Urwa bin Zubair reported that Hisham bin Hakim found a person (the ruler of Homs) who had been detaining some Nabateans in connection with the dues of Jizya. He said: What is this? I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah would torment those persons who torment people in the world.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بِسِهَامٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِکْ بِنِصَالِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ابوبکر سفیان بن عیینہ، عمرو حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کچھ تیر لے کر مسجد کے اندر سے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا اپنے تیروں کے پیکان پکڑ لو۔
Amr heard Jabir as saying: A person happened to come to the mosque with an arrow; thereupon Allahs Messenger ﷺ said to him: Take hold of its pointed head.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ قَدْ أَبْدَی نُصُولَهَا فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا کَيْ لَا يَخْدِشَ مُسْلِمًا
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع یحییٰ حماد بن زید عمرو بن دینا، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کچھ تیر لے کر مسجد کے اندر سے گزرا جن کے پیکان کھلے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا ان کی پیکانیں پکڑ لو تاکہ کسی مسلمان کو چبھ نہ جائیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that a person happened to come to the mosque with arrows and their iron-ends were exposed, so he was commanded that he should grasp the pointed heads so that these might not do any harm to a Muslim.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا کَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا و قَالَ ابْنُ رُمْحٍ کَانَ يَصَّدَّقُ بِالنَّبْلِ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کو حکم فرمایا کہ جو مسجد میں تیر صدقہ کر رہا تھا کہ جب تو مسجد کے اندر سے تیر لے کر گزرے تو تو ان کی پیکان پکڑ لیا کر۔
Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ commanded a person who had been distributing arrows freely in the mosque that he should not move about in the mosque but by catching hold of their iron-heads. Ibn Rumh narrated this with a slight variation of wording.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِي مَجْلِسٍ أَوْ سُوقٍ وَبِيَدِهِ نَبْلٌ فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو مُوسَی وَاللَّهِ مَا مُتْنَا حَتَّی سَدَّدْنَاهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ
ہداب بن خالد حماد بن سلمہ ثابت حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ہاتھ میں تیرلے کر کسی مجلس یا بازار میں سے گزرے تو وہ ان کے پیکان پکڑ لیا کرے پھر ان کے پیکان پکڑ لے پھر ان کے پیکان پکڑ لے حضرت ابوموسی ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اس وقت تک ہماری موت نہیں آئی جب تک ہم نے تیروں کو ایک دوسرے کے چہروں پر نہیں لگایا۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said: When any one of you happens to go to a meeting or the bazar with an arrow in his hand he must grasp its pointed head; then (he again said): He must grasp its pointed head. Abu Musa said: By Allah, we did not court death until some of us had flung arrows upon the faces of one another.
جو آدمی مسجد میں یا بازار میں ان دونوں کے علاوہ لوگوں کے مجمع میں اسلحة ساتھ گزرے تو اس کے پیکان پکڑ لینے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِکْ عَلَی نِصَالِهَا بِکَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْئٍ أَوْ قَالَ لِيَقْبِضَ عَلَی نِصَالِهَا
عبداللہ بن براد اشعری محمد بن علاء، عبداللہ ابواسامہ برید ابوبردہ حضرت ابوموسی ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ساتھ تیر لے کر ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے تو اسے چاہے کہ اپنے ہاتھ سے ان کے پیکان پکڑ لے تاکہ مسلمانوں میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے یا آپ ﷺ نے فرمایا ان کے پیکان اپنے قبضے میں رکھ لے۔
Abu Musa reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who amongst you moves in the mosque or in the bazar and there is an arrow with him he should take hold of its iron-head in his palm, so that none amongst the Muslims should receive any injury from it, or he said, should catch its iron-head.
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
عمرو ناقد ابن ابی عمر عمرو سفیان بن عیینہ، ایوب ابن سیرین حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اپنے کسی بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ کیا تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اشارہ کرنا چھوڑ نہیں دیتا اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Abul-Qasim (the kunya of Allahs Messenger, may peace be upon him), said: He who pointed a weapon towards his brother the angels invoke curse upon him even if he is his real brother so long as he does not abandon it (the pointing of weapon towards ones brother Muslim).
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ابن عون محمد حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ through another chain of transmitters.
کسی مسلمان کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
محمد بن رافع عبدالرازق معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے جو چند احادیث نقل کی ہیں ان میں سے ذکر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔
Abu Hurairah (RA) reported a hadith from Allahs Messenger ﷺ ; (one of them was this) that Allahs Messenger ﷺ said: None amongst you should point a weapon towards his brother, for he does not know that Satan might cause the weapon (to slip) from his hand and (he may injure anyone) and thus he may fall into Hell-Fire.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابوبکر ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی چل رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک خار دار شاخ ملی تو اس آدمی نے راستے میں سے اس شاخ کو ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے (اس کی اس نیکی کی) قدر کی اور مغفرت فرما دی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: While a person was going along the path he found a thorny branch upon it. He pushed it to a side and Allah approved (this action) of his and (as a mark of appreciation) granted him pardon.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَی ظَهْرِ طَرِيقٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنْ الْمُسْلِمِينَ لَا يُؤْذِيهِمْ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ
زہیر بن حرب جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایسے راستے سے گزرا کہ ایک خار دار شاخ اس پر تھی وہ کہنے لگا اللہ کی قسم میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے پھر وہ آدمی جنت میں داخل کردیا گیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A person while walking along the path saw the branches of a tree lying there. He said: By Allah, I shall remove these from this so that these may not do harm to the Muslims, and he was admitted to Paradise.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ کَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ شیبان اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کو جنت میں دیکھا کہ جس آدمی نے راستے میں ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا (جسکی وجہ سے) لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that he saw a person enjoying himself in Paradise because of the tree that he cut from the path which was a source of inconvenience to the people.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شَجَرَةً کَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِينَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَطَعَهَا فَدَخَلَ الْجَنَّةَ
محمد بن حاتم، بہز حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک درخت مسلمانوں کو تکلیف دیتا تھا تو ایک آدمی آیا اور اس نے اس درخت کو کاٹ دیا وہ آدمی جنت میں داخل ہوگیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that there was a tree which caused inconvenience to the Muslims; a person came there and cut that (tree) (and thus entered) Paradise).
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَازِعِ حَدَّثَنِي أَبُو بَرْزَةَ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلْ الْأَذَی عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید ابان بن صمعہ ابو وازع حضرت ابوبرزہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جس کے ذریعے مجھے نفع حاصل ہو آپ ﷺ نے فرمایا راستے میں سے مسلمانوں کو تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کر۔
Abu Barza reported: I said: Allahs Messenger, teach me something so that I may derive benefit from it. He said: Remove the troublesome thing from the paths of the Muslims.
راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَسَی أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَی بَعْدَکَ فَزَوِّدْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلْ کَذَا افْعَلْ کَذَا أَبُو بَکْرٍ نَسِيَهُ وَأَمِرَّ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن شعیب بن ححاب ابی وازع راسبی ابی برزہ اسلمہ حضرت ابوبرزہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نہیں جانتا شاید کہ آپ ﷺ اس دنیائے فانی سے چلے جائیں اور میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں تو آپ ﷺ مجھے (آخرت کے لئے) کوئی ایسا توشہ عطا فرما دیں جس کے ذریعہ مجھے نفع حاصل ہو آپ ﷺ نے فرمایا ایسے کرو ایسے کرو ابوبکر ؓ نے اس کا نسب بھی بیان کیا (اور فرمایا) کہ راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کرو۔
Abu Barza reported that he said to Allahs Messenger ﷺ : Allahs Messenger, I do not know whether I would survive after you, so confer upon me something by which Allah should benefit me. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Do this and that and remove the troublesome things from the paths.
بلی اور وہ جانور وغیرہ جو کوئی تکلیف دیتے ہوں ان کو عذاب دینے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَکَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
عبداللہ بن محمد بن اسماء عبید ضبعی جویریہ ابن اسماء نافع حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو اس وجہ سے عذاب دیا گیا ہے کہ اس نے بلی کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ بلی مرگئی اس وجہ سے اس عورت کو دوزخ میں داخل کیا گیا اس عورت نے بلی کو نہ کچھ کھلایا اور نہ پلایا جب اس نے اسے باندھا اور نہ کہیں اس عورت نے اس بلی کو چھوڑا کہ وہ زمین میں کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ said: A woman was tormented because of a cat which she had confined until it died and she had to get into Hell. She did not allow it either to eat or drink as it was confined, nor did she free it so that it might eat the insects of the earth.
بلی اور وہ جانور وغیرہ جو کوئی تکلیف دیتے ہوں ان کو عذاب دینے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَالِدٍ جَمِيعًا عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَی عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ
ہارون بن عبداللہ عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ بن خالد معن بن عیسیٰ مالک بن انس، حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
بلی اور وہ جانور وغیرہ جو کوئی تکلیف دیتے ہوں ان کو عذاب دینے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
نصر بن علی عبدالاعلی عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا کہ اس نے بلی کو باندھا پھر اس نے اسے نہ کھلایا اور نہ ہی کچھ پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman was tormented because of a cat which she had tied and thus allowed it neither to eat or drink nor set it free so that it might eat the insects of the earth.
بلی اور وہ جانور وغیرہ جو کوئی تکلیف دیتے ہوں ان کو عذاب دینے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
نصر بن علی عبدالاعلی عبیداللہ سعید مقبری حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
بلی اور وہ جانور وغیرہ جو کوئی تکلیف دیتے ہوں ان کو عذاب دینے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ مِنْ جَرَّائِ هِرَّةٍ لَهَا أَوْ هِرٍّ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تُرَمْرِمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ هَزْلًا
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کردہ احادیث میں سے ذکر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت اپنی بلی کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوگئی کیونکہ اس عورت نے اس بلی کو باندھا ہوا تھا اسے کچھ نہیں کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی چبا لیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ A hadith out of which one was this that Allahs Messenger ﷺ said: A woman got into Hell-Fire because of a cat whom she had tied, and thus it could not eat, and she did not let it free so that it could devour the insects of the earth, until it died.